Ads Top

حیا از فاخرہ وحید قسط نمبر12 Haya By Fakhira Waheed Episode No

 حیا
  از 
فاخرہ وحید


 حیا  از فاخرہ وحید
 12قسط نمبر  
Haya By Fakhira Waheed 
Episode No 12
" حیا "
از
فاخرہ وحید (فری)

قسط 12
" کہاں جاؤں میں. کس سے مدد مانگوں. مجھے کوئی تو رستہ دکھا میرے مالک. کوئی مسیحا کوئی مدد گار. کوئی تو ہو. " وہ جائے نماز پر گڑگڑا رہی تھی.
بھیڑیوں کی دنیا میں وہ اکیلی تھی. یہاں ہر کوئی اپنے فائدے کے لیے جی رہا تھا. وہ کہاں جائے اسے سمجھ نہیں آرہا تھا. گھر سے باہر نکلتی ہے تو انسان نما بھیڑیے اس پر جھپٹنے کو تیار بیٹھے ہیں. اس گھر میں رہتی ہے تو حمزہ کے احسانوں تلے روندی جارہی تھی.
" میرے بابا کو بھیج دیں اللہ جی پلیز. " اس کی التجائیں بڑھتی جا رہی تھی.
" مجھے میری پہلے والی زندگی لٹا دیں."
"بابا. آپکی حیا اکیلی ہے. آپ آجائیں. " اس کے جسم کی جان نکلتی جا رہی تھی. وہ جائے نماز پر نیچے نیچے جاتی جا رہی تھی.
" مجھ. مجھے م. .م م . میرے بابا.. بابا.. کے پاس.. پاس.. جانا ہے. " سسکیوں میں الفاظ دم توڑ رہے تھے. حواس کھو گئے تھے.
آنکھوں کے سامنے گھپ اندھیرا تھا. اس کے سر پر پھر کسی نے ہاتھ رکھا تھا. اس نے تڑپ کر آنکھیں کھولی.
" بابا.. بابا. آپ آگئے. " اس کی دعا اتنی جلدی سن لی گئی تھی. اسے یقین نہیں آرہا تھا.
" آپ کہاں چلے گئے تھے بابا. آپکی حیا اکیلی رہ گئی ہے بابا. آپ واپس آجائیں. مجھے اپنے ساتھ لے جائیں. " اس نے آنے والے کے ہاتھ پکڑے ہوئے تھے.

سفید کپڑوں میں کھڑے شخص کے ہونٹوں پر ہلکی مسکراہٹ تھی. وہ رو رہی تھی. وہ مسکرا رہا تھا.
" ماما تو چلی گئی تھیں. آپ بھی مجھے چھوڑ کر چلے گئے. بابا. مجھے.. اپنے.اپنے.. ساتھ لے.. لے.. جائیں." آنسوؤں میں ضبط ٹوٹ رہا تھا.
" بیٹا. وہ جو رب ہے اس نے تیرے لیے بہت بہتر سوچا ہوا ہے. " آنے والے نے آسمان کی طرف اشارہ کیا.
"مجھ.. مجھے اپنے ساتھ.. ساتھ لے جائیں." رو رو کر اسکی ہچکی بندھ چکی تھی.
"بیٹی واپس اپنی دنیا میں چلی جا.. تیرا مسیحا تیرا انتظار کر رہا ہے." اندھیرا پھیلتا جا رہا تھا. دوبارہ گھپ اندھیرا تھا. آنے والا جا چکا تھا.
"حیا.. حیا.. "
"حیا.."
"حیا.."
کوئی اسے آواز دے رہا تھا.

وہ گھبرا کر اٹھی تھی.
رو رو کر اسکی آنکھیں درد کر رہی تھیں. آنکھوں کی سفیدی پر سرخ لکیریں واضح تھی. اس نے بمشکل آنکھیں کھولیں. جگانے والے کو بغور دیکھا. یہ پینتیس چھتیس سال کی خاتون تھی.
"باہر آؤ." وہ کہہ کر چلی گئی تھی.
حیا نے منہ پر پانی کے چھینٹے مارے اور باہر آگئی.

"تو تم ہو. جس سے حمزہ نے نکاح کیا ہے؟ " خاتون کا انداز قدرے معیوب تھا.
"جی." اس نے اثبات میں سر ہلایا.
"اتنا سب ہو گیا تم اب بھی ڈھیٹ بنے یہیں پڑی ہو.؟"
"میں خود یہاں نہیں آئی تھی. " حیا نے وضاحت کی.
"لے جانے کو تو تم اس کوٹھے پر بھی لے جائی گئی تھی. وہاں کیوں نہیں رہی؟ " اب وہ اس کی تذلیل کر رہی تھی.

حیا کی آنکھوں کی جلن اور بڑھ گئی تھی.
"اپنا سامان اٹھاؤ اور نکلو یہاں سے. " خاتون نے اس کے جواب کا انتظار نہیں کیا تھا.
"م. میں کہاں جاؤں گی. "حیا نے سہمے انداز میں کہا.
"جہاں سے آئی ہو وہیں چلی جاؤ. " وہ سخت دلی سے بولی.

حیا کو اس جہنم میں واپس نہیں جانا تھا. وہ یہاں جیسے بھی رہ رہی تھی لیکن باہر کے درندوں سے تو محفوظ تھی.
"تمہارا مسیحا تمہارا انتظار کر رہا ہے. " اسے اپنا خواب یاد آیا.
"مسیحا." وہ بڑبڑائی.
اس نے ادھر ادھر دیکھا شاید وہ مسیحا نظر آجائے. جو اسے روک لے. لاؤنج خالی تھا وہاں کوئی نہیں تھا.
" میں کہاں جاؤں گی." اس نے ڈرتے ہوئے سامنے صوفے پر بیٹھی عورت سے کہا.
" میرے بچے کی زندگی سے باہر." اس نے ہر لفظ پر زور دیا تھا.

🌸🌸🌸🌸🌸

"ماسی! حمزہ سر کی آنکھوں میں میرے لیے نفرت تھی." شیری ابھی ردابہ کو ائیرپورٹ سے لے کر آیا تھا. وہ صوفے پر بیٹھی تھی. شیری نیچے کارپیٹ پر اس کے گھٹنے پر سر رکھے بیٹھا تھا.
"نہیں بچہ! وہ بس ڈسٹرب ہو گا. بھلا تم سے وہ کیوں نفرت کرے گا. " وہ اس کے بال سہلا رہی تھی.
"وہ مجھ پر چلائے. " شیری کو یہ ہی دکھ تھا. حمزہ اسے بہت لاڈ سے رکھتا تھا.

"بیٹا. زندگی میں بہت کچھ ہوتا ہے. جس سے انسان ساری عمر بھاگتا ہے. اگر وہ تکلیفیں کسی اور رستے سے سامنے آکر کھڑی ہو جائیں تو اسکا ری ایکشن ایسا ہی ہوتا ہے. تمہیں تکلیف ہوئی ہے پر بھائی کتنی تکلیف میں ہو گا یہ بھی تو سوچو. " وہ اس کے بالوں کو سہلاتے اسے سمجھا رہی تھی.
شیری حمزہ کو لے کر بہت پریشان تھا تبھی اس نے رات ہی ردابہ کو ساری صورتحال کا بتا کر اسلام آباد سے بلوا لیا تھا.
سب لوگ دو گھنٹے پہلے ہی نکل گئے تھے. حمزہ نے فائنل پلان ترتیب دینا تھا جسے مکمل کر کے وہ ابھی بیسمنٹ سے آیا تھا. ردابہ کو وہاں دیکھ کر وہ چونکا.
"ماسی آپ کب آئیں. " وہ دھیمے قدم اٹھاتا ان کے پاس آیا.
"میرا بچہ. ماسی کی جان ." ردابہ حمزہ کو دیکھتے ہی کھل اٹھی تھی.
شیری سیدھا ہو گیا. ردابہ نے حمزہ کو گلے لگایا. اس کے دونوں گال چومے. وہ سعادت مند بچے کی طرح کھڑا رہا.
وہ اس کے پاس ہی صوفے پر بیٹھ گیا. شیری نے دوبارہ ردابہ کے گھٹنے پر سر رکھ لیا.

"کیسا ہے میرا پیارا بچہ. " ردابہ حمزہ پر واری جا رہی تھی.
"بہتر ہوں. " حمزہ کا سر ردابہ کے کندھے پر تھا. اور وہ ایک ہاتھ اس کے گال پر رکھے ہوئے تھی.

"آپ مجھے بتا دیتی میں. اپ کو پک کر لیتا." حمزہ ردابہ سے کہہ رہا تھا.
"ارے نہیں. شیری ہے نا. یہ ہی لے آیا تھا مجھے." ردابہ نے حمزہ کو نہیں بتایا کہ اس کو بلانے والا بھی شیری ہی تھا.
حمزہ کی نظریں کسی کو ڈھونڈ رہی تھیں.
"کچھ چاہئیے؟ " ردابہ نے اس کی بے چینی دیکھتے ہوئے ہوچھا.

"نہیں. "
"صبح سے کہاں تھے تم. ؟" حمزہ نے شیری کےبالوں میں ہاتھ مارا.حمزہ کا لہجہ رات کی نسبت کافی بدلہ ہوا تھا.
شیری نے اسکا ہاتھ پیچھے کیا اور منہ دوسری طرف پھیر لیا.
حمزہ نے بے بسی سے ردابہ کی طرف دیکھا. اس نے حمزہ کو ہاتھ سے اشارہ کیا کہ سمجھ جائے گا.
"شیری بھائی کچھ کہہ رہا ہے. " ردابہ نے اسے بلایا.
"مجھے بات نہیں کرنی. " وہ انگلی سے کارپیٹ پر لکیریں کھینچ رہا تھا.

"شیری ی ی ی.." ردابہ نے اسے تنبیہہ کی.
"ہاں تو ماسی یوں نہیں ہوتا. آپ اس وقت ان کو دیکھتیں. کس طرح سے انہوں نے بھابھی کو جکڑا ہوا تھا. وہ تو ہل بھی نہیں پا رہی تھیں. مجھے ان سے خوف آرہا تھا. " وہ سیدھا ہو کر بیٹھ گیا تھا. حمزہ اسے بغور سن رہا تھا لیکن شیری نے اس سے نظریں نہیں ملائی.
وہ واقعی آپے سے باہر تھا اس وقت.
"پہلے کبھی اس نے یوں کیا. ؟ نہیں نا؟" ردابہ نے سنجیدگی سے شیری کو دیکھا.
"نہیں پر. اب بھی کیوں؟ ماسی. مجھے بہت ڈر لگا اس وقت. انہوں نے کہا ان کو کسی کی ضرورت نہیں. میری بھی نہیں. میری. " شیری نے خود کی طرف اشارہ کرتے ہوئے آخرے لفظ پر زور دیا.
"بس میں نے بھی فیصلہ کر لیا ہے اگر ان کو میری ضرورت نہیں تو میں بھی یہاں نہیں رہوں گا. آپ مجھے اپنے ساتھ لے جائیں. " وہ دوبارہ ردابہ کے گھٹنے پر سر رکھ کر بیٹھ گیا تھا.
حمزہ کو شیری کے اس کے ساتھ نہ رہنے والے فیصلے نے تکلیف دی تھی. لیکن اس نے ظاہر نہیں کیا تھا.

"تم جانا چاہتے ہو تو چلے جاؤ. میں روکوں گا نہیں." اس نے پتھر دلی سے کہا. حمزہ کے الفاظ شیری پر سخت گزرے تھے.
شیری نے سر اٹھا کر حمزہ کو دیکھا جیسے وہ یقین کرنا چاہتا ہو کہ یہ الفاظ حمزہ کے ہی تھے. ردابہ نے حمزہ کو قدرے تنبیہی انداز سے دیکھا.
"چلا جاؤں؟ " شیری نے حمزہ کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا.
"میرے بغیر رہ سکتا ہے؟" حمزہ نے اس کے سوال کے جواب میں سوال کیا. لہجے میں اعتماد اور شیری کے لیے محبت تھی.

شیری زیادہ دیر حمزہ سے ناراض نہیں رہ سکتا تھا. اس کو چھوڑ کر جانا تو بہت دور کی بات تھی. اور ایسا ہی ہوا تھا. کافی دیر شیری یوں ہی خاموش بیٹھا رہا پھر وہ اٹھ کر صوفے پر آگیا.
"حمزہ سر آج میں جو ہوں آپ کی وجہ سے ہوں. اتنے پیارے رشتے آپ نے ہی مجھے دیے ہیں." وہ ردابہ کی طرف دیکھ رہا تھا. حمزہ نے اس کے گال پر ہاتھ رکھا جو جھٹ سے شیری نے اپنے ہاتھوں میں لے لیا تھا.
" آپ یوں چیختے چلاتے کسی کو تکلیف دیتے اچھے نہیں لگتے." اس کی آنکھیں جھلملا رہی تھیں.
"اب تو روئے گا؟ سب کو پتا چلے گا تو وہ ہنسیں گے." حمزہ اس کا دھیان بھٹکا رہا تھا.
"آپ بات نہیں بدلیں. ماسی آپ کہیں ان سے. "
وہ دوبارہ نیچے آکر بیٹھ گیا.

"ہاں کہہ دوں گی اور سمجھا بھی دوں گی. تم فکر نہیں کرو. بس بھائی کا خیال رکھو. " ردابہ نے شیری کے سر پر پیار دیا.
"اب چلو شاباش اٹھو اور گلے لگاؤ بھائی کو. "
"آپ ان سے کہیں پہلے کہ دوبارہ یوں نہیں کریں گے. اور آپ ڈانٹیں بھی تو. آپ نے ان کو کچھ بھی نہیں کہا. "
وہ صحیح کہہ رہا تھا. ردابہ جب سے آئی تھی وہ شیری کو ہی سمجھائے جا رہی تھی. اس نے ایک بار بھی حمزہ سے اس کے رویے کی وجہ جاننا نہیں چاہی.
"سمجھاؤں گی بھی اور ڈانٹوں گی بھی. لیکن اچھا تھوڑی لگتا چھوٹے بھائی کے سامنے اسے ڈانٹوں. ہاں؟"
"اب شاباش اٹھو. "وہ شیری کو پچکار رہی تھیں.
حمزہ باقاعدہ اس کے بدلتے تاثرات کا جائزہ لے رہا تھا. شیری منہ بنائے بیٹھا تھا. اور اب بات کرتے وہ حمزہ کو بھی اپنی خفگی دکھا رہا تھا.
"مجھے پتا ہے آپ ان کی سائڈ پر ہی ہیں." وہ ابھی بھی منہ بنا کربیٹھا تھا.
"اب تم کھڑے ہوتے ہو کہ نہیں. " ردابہ نے اسے ڈانٹا.
"مجھے ڈر لگتا ہے. پہلے آپ ان سے کہیں کہ یہ مسکرائیں. "شیری اتنی جلدی کہاں ماننے والا تھا.

"حمزہ بھئی مسکرا دو میرے بچے کے لیے. " ردابہ نے حمزہ کو دیکھتے ہوئے کہا.
"کھڑا ہو ڈرامے باز. "حمزہ ردابہ سے الگ ہو کر کھڑا ہو گیا تھا اور ہاتھ سے شیری کو بھی کھڑے ہونے کا اشارہ کیا.
"آئندہ آپ نے یوں کیا تو بات نہیں کروں گا آپ سے میں. "
وہ بھی کھڑا ہو گیا تھا.

اب وہ ایک دوسرے کے گلے لگے کھڑے تھے.
"آااوو.. لولی پوز. " ردابہ کھڑی ہو چکی تھی. اس نے اپنے فون میں دونوں کی اسی طرح تصویر لی.
" ایوری باڈی لوز دس حمزہ. " حمزہ سے الگ ہوتے شیری نے اسے بتایا.
لیکن حمزہ جانتا تھا وہ ایسا نہیں تھا. اصل حمزہ وہ ہی تھا جسے وہ رات دیکھ چکا تھا. جس کی تکلیف اتنی تھی کہ وہ کسی سے ملنا نہیں چاہتا تھا. لیکن کام ایسا کہ وہ خود کو کمرے میں بند کر کے نہیں بیٹھ سکتا تھا. لوگوں میں بیٹھا وہ ایک سنجیدہ اور دھیمی طبیعت کا معلوم ہوتا تھا. لیکن اس کے ماضی کا شور اسے رات کی خاموشی میں ہر رات مارتا تھا اور ہر صبح وہ پر سکون حمزہ بن کر کمرے سے باہر نکلتا.
"کیا ماسی. ابھی بھی آپ کو اسی طرح فوٹوگرافی کا شوق ہے." شیری نے اپنی اور حمزہ کی تصویر دیکھتے ہوئے کیا. حمزہ اپنے خیالوں سے باہر آیا.
"اپنے بچوں کو ایسے ایک دوسرے سے محبت کرتے دیکھ کر کون سی ماں خوش نہیں ہوتی. " وہ اب حمزہ کو دوبارہ پیار کر رہی تھی.
"بچوں کو؟ یہ کہیں صرف حمزہ سر کو. " وہ منہ بنا کر کھڑا ہو گیا.
"ادھر آو زراتم. کتنی بار سمجھایا ہے کہ بھائی کہا کرو." ردابہ نے شیری کا کان کھینچا.
اچھا اچھا. درد ہو رہا ہے. چھوڑ دیں. وہ درد سے کراہا.
گڈ بوائے. ردابہ ہنسی.

حمزہ کے ہونٹوں پر بھی مسکراہٹ پھیل گئی.
ردابہ حمزہ کی ماں کی چھوٹی بہن تھی. اس کی عمر لگ بھگ انتالیس چالیس ہو گی. لیکن اپنے پہننے اوڑھنے سے وہ تیس پینتیس کی ہی لگتی تھی. پیشے سے وہ ڈاکٹر تھی. اور شادی بھی انہوں نے ڈاکٹر سے ہی کی تھی.
حمزہ ہمیشہ سے ہی ردابہ کے قریب رہا تھا. تبھی حمزہ کو ایک سوئی بھی چبھ جاتی تو ردابہ سب کچھ چھوڑ کر اس کے پاس آجاتی. وہ اپنی ہر بات حمزہ سے شیئر کرتی. ہر معاملے میں اس سے مشورہ لیتی. اور یہ ہی حال حمزہ کا تھا. ردابہ اس کے لیے خالہ سے زیادہ اچھی دوست تھی. اب بھی وہ سب کچھ چھوڑ کر راتوں رات حمزہ کے پاس آگئی تھی.

ردابہ نے دونوں کے لیے ان کا پسندیدہ کھانا بنایا. وہ تینوں اب ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھے لنچ کر رہے تھے. سامنے کرسی پر حمزہ تھا اور اس کے داہنے طرف شیری اور اس کے سامنے ردابہ بیٹھے تھے.
" ماسی آپ یہیں کیوں نہیں رہ جاتیں؟ " یہ شیری تھا. ."کیوں تم مجھے مس کرتے ہو. ؟" ردابہ کو اس سے کسی الٹی بات کی ہی توقع تھی.
نہیں حمزہ بھائی مس کرتے ہیں آپکو. میں بھی کرتا ہوں. لیکن جب بی اماں کا بنایا پھیکا کھانا کھانا پڑتا ہے تب.
اس نے سنجیدگی سے کہا.
ردابہ مسکرائی.
"اس لڑکی کو بھی بلا لیتے." حمزہ حیا سے اس لڑکی پر آگیا تھا..
"کس کو؟" ردابہ حیران ہوئی.
حمزہ نے شیری کی طرف دیکھا. وہ اپنی پلیٹ پر جھکا ہوا تھا.
"شیری حیا کو بلا لو." جب اس نے سر نہیں اٹھایا تو حمزہ نے اسے مخاطب کیا.
"وہ نہیں آئیں گی. " شیری نے اوپر دیکھے بغیر کہا.
"تو اندر ہی دے آؤ." حمزہ نے بظاہر لا پرواہی دکھائی.
"اندر بھی نہیں کھا سکتیں. " شیری بد ستور پلیٹ کی طرف دیکھ رہا تھا.
حمزہ نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے پہلے ردابہ پھر شیری کو دیکھا.

"میں نے اسے گھر سے نکال دیا ہے. " کہنے والی ردابہ تھی. حمزہ کی آنکھوں میں حیرت تھی. منہ مہیں جاتی چمچ رک گئی تھی. اس نے ہاتھ نیچے گرایا.
" لیکن کیوں؟ "
"جو کوئی میرے بچے کو تکلیف دے گا. وہ یہاں نہیں رہ سکتا." ردابہ نے حمزہ کے گال کو پیار سے چھوا.
ہا ہا ہا.. اس کے دماغ میں کوئی ہنسا تھا.
ایک اور زندگی تمہاری وجہ سے تباہ ہو گئی. ہنسنے والے کی آواز آئی تھی.

حمزہ کی چمچ پر گرفت مضبوط ہو گئی تھی. اس کے ہاتھ کی رگیں نمایاں ہوتی جا رہی تھیں. اس کے چہرے کی سختی بڑھ گئی تھی.
بھائی.؟ شیری اس کے بدلتے تاثر دیکھ کر پریشان ہو گیا تھا.
"ہاں. " حمزہ کو اپنے حلق میں کچھ اٹکتا محسوس ہوا.

" آئی تھنک آئی ایم ڈن."
وہ کھانا یوں ہی چھوڑ کر چلا گیا تھا.

(جاری ہے)

No comments:

غازی از ابو شجاع ابو وقار قسط نمبر60 Ghazi by Abu Shuja Abu Waqar

Ghazi  by  Abu Shuja Abu Waqar  غازی از ابو شجاع ابو وقار  پیشکش محمد ابراہیم 60 آخری قسط نمبر  Ghazi by Abu Shuja Abu...

Powered by Blogger.