Ads Top

ﻧﺎﻭﻝ رکھیل از ریاض_عاقب_کوہلر قسط نمبر 26

ﻧﺎﻭﻝ  رکھیل

  از 

 ریاض_عاقب_کوہلر


#رکھیل
#قسط 26(سیکینڈ لاسٹ)
#ریاض_عاقب_کوہلر
ناشتے کے برتن میز پر رکھتے ہوئے وہ کبیر دادا کے ساتھ جڑ کر بیٹھتے ہوئے بولی ۔ ”ایک بات کرنا تھی ۔“
”جی فرمائیں ۔“اس کے انداز سے کبیر دادا سمجھ گیا تھا کہ وہ پھر کوئی الٹی سیدھی ہانکنے والی ہے ۔
”وہ آپ کا محافظ امتیاز ہے نا ،اسے ساحل والے اڈے کا انچارج لگا دیں ۔اس کا گھر بھی وہاں قریب ہے تو....“کبیر دادا کی ناراضی بھری نظروں کو دیکھتے ہوئے اس نے فقرہ ادھورا چھوڑ دیا تھا ۔
”یہ تمھیں اس الو کے پٹھے نے کہا ہے ۔“کبیردادا کا لہجہ کافی تپا ہوا تھا ۔”یہ ساروں نے تمھیں گینگ کا سردار سمجھ لیا ہے کیا۔“
”نن....نہیں ایسی بات نہیں ہے ....“تناوش نے صفائی دینا چاہی ۔
”تمھیں پہلے بھی منع کیا ہے کہ ان معاملات میں دخل نہ دیا کرو ۔“کبیردادا نے اسے ہلکے سے ڈانٹا۔
”جب کہہ دیا کہ ایسا ہو گا، تو بس ہوگا۔“تناوش ایک دم ہٹ دھرمی پر اتر آئی ۔
”یار ،تمھاری سمجھ میں میری بات نہیں آرہی ۔“اس مرتبہ کبیر دادا کا لہجہ کافی سخت تھا ۔
” زیادہ ڈانٹنے کی ضرورت نہیں میں نے رونا شروع کر دینا ہے ۔“تناوش نے دھمکی دی ۔
”ہر بات پر ضد ٹھیک ہوتی تناوش ،تم ان معاملات کو نہیں جانتی ہو ۔میں پاگل یا بے وقوف نہیں ہوں جو اسے محافظ کی جگہ پر رکھا ہوا ہے ۔“کبیر دادا نے اسے سمجھانا چاہا ۔
”ہاں یا ناں میں جواب دیں ۔“وہ سمجھنے پر تیار نہیں تھی ۔
”نہیں ،نہیں ،نہیں ۔“کبیر دادا نے انکار میں سر ہلایا۔”اور اس کے بعد تم کاروباری معاملات میں بالکل دخل اندازی نہیں کرو گی ۔“
اس مرتبہ تناوش نے کچھ کہے بغیر خاموشی اختیار کر تے ہوئے ناشتے سے ہاتھ کھینچ لیا۔
”اب ناشتا کرنا کیوں چھوڑ دیا ۔“
”آپ کریں ،مجھے بھوک لگی تو بعد میں کھالوں گی ۔“ناراضی بھرے لہجے میں کہتے ہوئے اس نے پیچھے ہو کر صوفے کی پشت سے ٹیک لگا لی ۔البتہ کبیر دادا سے دور ہٹنے کی کوشش اس نے نہیں کی تھی ۔
چند لمحے اسے خفگی بھری نظروں سے گھورنے کے بعد کبیر دادا ناشتے کی طرف متوجہ ہو گیا ۔بڑی کوشش کے بعد وہ چند نوالے لے سکا تھا ۔تناوش کا ناشتا چھوڑ دینا اسے تکلیف دے رہا تھا ۔جوس کا گلاس خالی کر کے وہ جانے کے ارادے سے کھڑا ہوگیا ۔تناوش اٹھ کر اس کی ٹائی باندھنے لگی ،مگر ایسا کرتے ہوئے وہ اس کے چہرے کی طرف نہیں دیکھ رہی تھی ۔ٹائی باندھ کر اس نے حسب عادت کچھ پڑھ کر کبیر دادا پر پھونک ماری اور خاموشی سے پیچھے ہٹ گئی ۔کبیر دادا دروازے کی طرف بڑھ گیا تھا۔گاڑیاں اس کے لیے تیار کھڑی تھیں ۔عظیم نے کار کا دروازہ کھولا۔ اندر بیٹھنے سے پہلے اس نے مڑ کر دیکھا تناوش دروازے پر کھڑی اسی کی جانب متوجہ تھی ، لیکن اس کے مڑ کر دیکھتے ہی سر جھکا کر نیچے دیکھنے لگی ۔ایک لمحہ اسے گھورنے کے بعد وہ عظیم کو ۔ ”امتیاز کو میرے پاس کمرے میں بھیجو۔“کہہ کر واپس مڑ گیا ۔تناوش نے خاموشی سے ایک طرف ہو کر اسے رستا دیا اور اس کے پیچھے چل پڑی ۔اس کے صوفے پر بیٹھتے ہی امتیاز اجازت مانگ کر اندر داخل ہوا ۔اس کے چہرے کی رنگت اڑی ہوئی تھی ۔
”اوئے گدھے ،یہ کیا تم لوگوں نے میری بیگم سے الٹی سیدھی سفارشات کرانا شروع کر دی ہیں ۔“
”دد....دادا....وہ میں ....“
”بکواس بند کرو یا ر۔“وہ اسے خاموش کراتاہوا بولا ۔”جاﺅ آج کا دن اڈہ انچارج اسد سے سب کچھ سمجھ لو اور کل اسے اپنی جگہ پر بھیج دینا ،تم وہیں مرو ۔“
”شکریہ دادا۔“
”وہ اس کا ادا کرو ۔“کبیر دادا نے منھ پھلائے بیٹھی تناوش کی طرف اشارہ کیا ۔
امتیاز جلدی سے بولا۔”شکریہ باجی ۔“
تناوش کے ہونٹوں پر مسکراہٹ نمودار ہوئی ۔”اگر اس کے بعد کبیر آپ کو ڈانٹے ہیں تو مجھے ضرور بتا نا ۔“
اس کی بات پر کبیر اسے گھور کر رہ گیا تھا ۔جبکہ امتیاز سر ہلاتے ہوئے باہر نکل گیا ۔
”اب ٹھونسو ناشتا ،ورنہ تھپڑ کھا لو گی ۔“امتیاز کے نکلتے ہی کبیردادا غصے میں بولا۔
”اپنے ہاتھ سے کرائیں گے تو کرلوں گی ۔“وہ لاڈ بھرے لہجے میں بولی ۔
کبیر دادا نے گہرا سانس لیتے ہوئے اپنی حالت کو قابو کیا اور پھر بے بسی بھرے انداز میں نوالہ توڑ کر اسے ناشتا کرانے لگا ۔وہ آنکھوں میں شوخی لیے اسے محبت بھرے انداز سے گھورتی رہی ۔صحیح کہتے ہیں طاقت ور سے طاقت ور مرد پر بھی عورت حکمرانی کرتی ہے ۔رکھیل بن کر آنے والی رانی کی طرح حکم جما رہی تھی ۔
”اب چاے کی پیالی تھام لو گی یا وہ بھی اپنے ہاتھ سے پکڑ کر تمھارے ہونٹوں سے لگانا پڑے گی ۔“پراٹھا اور انڈہ ختم ہوتے ہی کبیردادا نے طنزیہ لہجے میں پوچھا ۔
تناوش نے منھ بسورا۔”آپ اب تک غصے میں ہیں ۔ بتا رہی ہوں میں سچ میں رونا شروع کر دوں گی۔“
”یار ،تمھاری دھونس دینے کی عادت کب ختم ہو گی ۔“کبیر دادا بے بس انداز میں مسکرایا ۔
تناوش اطمینان سے بولی ۔”جب آپ کے دل میں میری محبت ختم ہو جائے گی ۔“
کبیردادا نے گہرا سانس لے کر کہا ۔”مطلب کبھی ختم نہیں ہو گی ۔“
”اچھا آپ جائیں ،میں چاے پی لیتی ہوں اور جلدی لوٹ کر آنا ۔“ کبیر دادا سر ہلاتا ہوا دروازے کی طرف بڑھ گیا ۔کار میں بیٹھتے ہوئے اس نے مڑ کر دیکھا ۔وہ ہونٹوں پر خوب صورت مسکان لیے اپنی مخصوص جگہ پر کھڑی تھی ۔
”دیکھ لو یار ،کبیر دادا سے اس کی ایک منٹ ناراضی برداشت نہیں ہوئی ۔“باقر، رخسار کو مخاطب تھا ۔
رخسار بولا۔”امتیاز کے تو مزے ہو گئے ،جانے کب سے اس کوشش میں مصروف تھا۔ میں نے کل مشورہ دیا کہ اگر کام کروانا ہے تو باجی کو بتا دو ۔اور ابھی باجی ناشتا تیار کرنے نکلی تو محترم پہنچ گیا اور دیکھو کتنی آسانی سے اس کا کام ہوگیا ۔“
باقر نے کہا ۔”سچ کہوں تو پہلے پہلے مجھے باجی بالکل بھی اچھی نہیں لگتی تھی ۔ا ب تو اپنی سابقہ سوچ پر ندامت ہوتی ہے ۔“
”صحیح کہہ رہے ہو یار ،اتنی مخلص ،اتنی عزت احترام دینے والی اور ہمدرداسے بہت پہلے کبیر دادا کی زندگی میں آجانا چاہیے تھا ۔“رخسار نے اس کی تائید میں سر ہلایا۔
”پہلے کب آتی یار ۔“باقر ہنسا ۔”وہ تو اب کچھ پہلے ہی آگئی ہے ،عمر دیکھی ہے چھوٹی سی گڑیا لگتی ہے ۔“
رخسار نے کہا ۔”چھوٹی ہے ،مگر سمجھ دار بہت زیادہ ہے ۔یاد ہے جس دن آئی تھی ،کبیر دادا نے اسے اپنے ساتھ کمرے تک لے جانا گوارا نہیں کیا تھاحالانکہ پہلے دن کی دلھن تھی اور اب اس کے لیے خود کار کا دروازہ کھول کر بٹھاتا ہے ۔بلکہ آج کی بات لے لو جب پہلے کبیر دادا کو رخصت کرنے آئی تو صاف معلوم ہو رہا تھا کہ کبیردادا سے خفا ہے ۔لیکن خفا ہونے کے باوجود اس نے نہ شوہر کا خیال رکھنا چھوڑااورنہ اپنی روزمرہ ترک کی ۔اگر خفا ہو کر کمرے میں بیٹھی رہتی تو شاید کبیر دادا واپس نہ مڑتا ۔ناراض رہ کر بھی شوہر پر اپنی توجہ نچھاو رکرنے پرکبیردادا کیسے بھاگ کر واپس گیا اور اس نے اپنی بات منوا لی ۔“
”یقینا امتیاز کی وجہ سے وہ کبیر دادا سے ناراض تھی ۔“باقر نے اندازہ لگایا۔
”اس کے علاوہ کیا بات ہو سکتی ہے ۔“رخسار نے اس کی تائید میں سر ہلا دیا تھا ۔
٭٭٭
رات کو کبیردادا کے سینے پر سر دھرے وہ چاہت بھرے لہجے میں پوچھ رہی تھی ۔ ”میرے لیے کیا قربان کر سکتے ہو ؟“
”تم جانتی ہوں ۔“کبیردادا کا جواب حسبِ منشا تھا ۔
”کیا یہ سارا ٹھاٹ باٹ ،یہ گاڑیاں بنگلے ،عیش و آرام کی زندگی یہ سب کچھ چھوڑ سکتے ہو ؟“
وہ بے بسی بھرے لہجے میں بولا۔”ہاں ،مگر یہ زندگی ایک ایسا کمبل ہے جو چاہ کر بھی میں خود سے دور نہیں کر سکتا ۔“
”جانتے ہیں ،عیش و آرام کی زندگی ہر لڑکی کا خواب ہوتا ہے ۔خوب صورت لباس ، قیمتی زیورات ،حکم ماننے کے لیے نوکروں کی قطار ،سونے کو پرتعیش خواب گاہ ،سفر کے لیے آرام دہ گاڑیاں یہ سپنوں کی دنیا ہے ،زمین ہی پر جنت کے مزے دینے والی مراعات ۔مگر کبیرمیری جان! حرام کی دولت پر یہ عیش و آرام ہم کب تک کرپائیں گے ۔ایک دن مرنا تو ہے ۔کیا ہمارے پاس احکم الحاکمین کی بارگاہ میں پیش کرنے کے لیے کوئی جوا زکوئی بہانہ موجود ہے ۔“
کبیر ہنسا ۔”لگتا ہے میری زندگی سے تنگ آ گئی ہو ۔“
”اگر میں کہوں ہاں ،میرے لیے کبیر دادا کو قتل کر دیں تو کیا جواب ملے گا ؟“
اس کے ہونٹوں پر محبت بھری مسکراہٹ نمودار ہوئی ۔”کم از کم ناں میں جواب نہیں ملے گا۔“
اس کا چہرہ ملائم ہاتھوں کے پیالے میں بھرتی ہوئی وہ وارفتگی سے بولی ۔”اب پیچھے نہ ہٹنا ۔“
وہ پرعزم لہجے میں بولا۔”کیا کبیر دادا تمھیں پیچھے ہٹنے والا لگتا ہے ۔“
”تو سنیں ۔“وہ اسے اپنا منصوبہ بتانے لگی ۔
اس کی بات کے اختتام پر کبیر دادا نے ہنستے ہوئے کہا ۔”یاد ہے ایک دن عظیم کے بیگم صاحبہ کہنے پر تم نے کہا تھا کہ تمھیں تناوش دادی کہا کریں ۔“
”ایسے ہی مسخری کر رہی تھی ۔“اس کے ہونٹوں پر حیا آلود مسکراہٹ ابھری ۔” ویسے آپ تو کمرے میں گئے تھے پھر کس نے بتایا ۔“
”خود سنا تھا اوربڑی مشکل سے قہقہہ روکا تھا ۔“
تناوش وارفتگی سے بولی ۔”اور پھر یاد بھی رکھا ۔“
”تمھاری کوئی بات بھول سکتی ہے کیا ۔“کبیردادا نے حسب عادت اس کی ناک کی پھننگ کو مروڑا۔
”ویسے ابھی کیوں یاد دلایا۔“
”تمھاری تجویز سن کر مجھے لگا تمھارے ساتھ تناوش دادی والا نام خوب جچے گا ۔ گینگ کے ارکان یوں بھی تمھاری سفارش سے اپنے کام نکلوانے لگے ہیں ۔“
”میں سب کی باجی ٹھیک ہوں ۔خواہ مخواہ میرا مذاق نہ بنوائیں ۔“
”باجی بھی تو بڑی بہن کو کہتے ہیں ۔اور تم اتنی سی ہو ۔“کبیردادا نے انگوٹھے اور شہادت کی انگلی کے درمیان ذرا سا فاصلہ رکھ کر اشارہ کیا ۔
”آپ مجھے تنگ نہ کریں اور یہ بتائیں کہ میری تجویز پسند آئی کہ نہیں ۔“
”جو خود پسند ہو اس کی ہر بات ہی پسند ہوتی ہے ۔“
”مطلب پکا ہو گیا ۔“
”کہہ تو دیا ٹھیک ہے یار ۔“کبیر دادا نے کہا اور تناوش نے مطمئن ہو کر آنکھیں بند کر لیں ۔
٭٭٭
کبیردادا کے خفیہ ٹھکانے پر تمام موجود تھے ۔اس نے پہلی بار تمام گینگز کے بڑوں کو اپنے پاس بلایا تھا ۔تمام کے بیٹھتے ہی کبیر دادا نے گفتگو کی ابتداءکی ۔
”پچھلے دنوں کچھ ناپسندیدہ اور برے واقعات کا سامنا رہا ہے ۔جو کچھ ہوا اس کے بارے تمام کو معلوم ہے تفصیل دہرانا وقت کا ضیاع ہو گا۔غلطی کس کی تھی، قصور وار کون تھا ان سب باتوں کو ماضی کا قصہ سمجھیں ۔ہماری کامیابی اتفاق و اتحاد کے ساتھ رہنے میں ہے ۔تمام گینگز کو ان کا علاقہ بانٹا ہوا ہے اور ہر ایک کو اس حد بندی کا لحاظ رکھتے ہوئے اپنا کام کرنا ہو گا ۔باقی شمشیر دادا کے زمانے میں تمام گینگز اپنی کمائی کا مخصوص حصہ شمشیر دادا کے حوالے کرتے تھے جو شہاب قصوری صاحب کے اقتدار میں ختم ہو گیا تھا ۔میں بھی شہاب قصوری صاحب کی طرح آپ لوگوں سے کوئی حصہ طلب نہیں کرﺅں گا ،مگر ایک بات دھیان میں رہے کہ اس کے بعد اگر کسی نے کوئی سازش وغیرہ کی تو مجھ سے خیر کی امید نہ رکھے ۔کسی کواگر کسی سے شکایت ہے تو مجھے بتائے ، تمام مل بیٹھ کر اس مسئلے کا حل نکالیں گے ۔یقین مانیں ہمارے آپس کے جھگڑے اور لڑائیاں ہمیں کمزور کر دیں گی ۔اب اگر کسی کو میری بات سے اختلاف ہے تو اپنا نقطہ نظربیان کر سکتا ہے۔“
”کبیردادا ،آپ کی باتیں بجا ہیں ، پچھلے دنوں جو واقعات ہوئے انھیں زیر بحث لائے بغیر صرف ایک عرض کروں گا کہ بات بڑھانے میں زیادہ کردار آپ کا رہا ہے ۔ایک لڑکی ، گو میں اسے اپنی بہن سمجھتا ہوں مگر اس کے لیے کسی کو قتل کرتے وقت کم از کم صفائی کا موقع دینا چاہیے تھا ۔ایس پی نے اپنی کرنی کا پھل پایاہے لیکن فاصی بے گناہ قتل ہوا ہے ۔اگر آپ اپنی بیوی کے لیے یوں جذباتی نہ ہوتے تو شاید بات اتنا آگے نہ بڑھتی ۔“پاشا کی بات نے تمام کو ششدر کر دیا تھا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ وہ کبیر دادا کو اس طرح مطعون بھی کر سکتا ہے ۔
کبیر دادا اسے ڈانٹتے ہوئے بولا ۔”اوئے گدھے ،جب کہہ دیا کہ ماضی کو نہ کریدو تو پھر ایسی بکواس کا مقصد ۔“
پاشا احتجاج کرتے ہوئے بولا ۔”کبیر دادا ،میں ایک گینگ کا بڑا ہوں ،آپ کسی بیٹھک میں مجھے یوں مخاطب نہیں کر سکتے ۔باقی آپ کا یہ کہنا کہ ماضی کو نہ کریدا جائے تو گستاخی معاف ماضی کی غلطیوں ہی سے آدمی سیکھتا ہے ۔نوشاد آفریدی اور اخلاق حسین نے غلطی کی اورجرمانہ ادا کیا ،آپ نے غلطی کی اس کا کیا ؟ اگر آپ شمشیر دادا کی طرح کے بڑے نہیں ہیں تو جواب دیں ۔“
”دیتا ہوں جوا ب۔“کبیردادا ،کرسی سے اٹھ کر جارحانہ انداز میں اس کی طرف بڑھا اور اسے گریبان سے پکڑ کر اٹھاتے ہوئے اس کے چہرے پر تھپڑ رسید کرنا چاہا ۔
پاشانے فوراََ اس کی کلائی تھام لی تھی ۔
کبیردادا نے ایک جھٹکے سے اپنا ہاتھ چھڑاتے ہوئے اسے پیچھے کی طرف دھکا دیا ۔ ”بیٹھک برخاست کی جاتی ہے ۔“کہہ کر وہ لمبے قدم رکھتا ہوا باہر نکل گیا ۔
”پاشا یہ کیا بے وقوفی ہے ۔“کاشف راجپوت نے اسے ڈانٹا ۔
”یہ بے وقوفی نہیں حقیقت ہے دادا۔“تلخ لہجے میں کہتے ہوئے پاشا بھی باہر نکل گیا ۔
”اسے کیا ہوا ہے ؟“پاشا کے باہر جاتے ہی شہاب قصوری نے حیرت کا اظہار کیا تھا۔
”جہاں تک میں سمجھا ہوں اصل بات کوئی اور ہے ۔“اخلاق حسین نے معنی خیز انداز میں سرہلایا۔باقی بھی اپنی اپنی رائے دینے لگے تھے ۔
٭٭٭
”یار ،پاشا مسئلہ کیا ہے ؟“نوشاد اور اخلاق حسین وہاں سے سیدھا پاشا کے خفیہ اڈے پر پہنچے تھے ۔دونوں کو پاشا کے رویے کی کرید لگی ہوئی تھی ۔
”کچھ نہیں یار ،“پاشا گہرا سانس لیتے ہوئے بولا ۔”آپ لوگ یونھی پریشان ہو گئے ہو ۔“
”پریشان تو ہوں گے نا یار ۔“اخلاق حسین مصنوعی پریشانی ظاہر کرتا ہوا بولا ۔”مشکل سے پہلے والے جھگڑوں سے نبٹے ہیں ،اب تازہ جھگڑا کھڑا ہو گا تو برا تو لگے گا نا ۔“
پاشا کے چہرے پر کش مکش کے آثار ابھرے یوں جیسے وہ اصل بات کہنے نہ کہنے کی سوچ میں ہو ۔اور پھر ایک نتیجے پر پہنچتے ہوئے وہ بولا۔”کبیردادا زیادتی کر رہا ہے ۔“
”کیسی زیادتی ۔“اخلاق حسن نے لہجے میں ہمدردی سموتے ہوئے پوچھا ۔”آپ ہم سے بات کریں شاید اس مسئلے کا کوئی بہتر حل نکل آئے ۔“
”وہ مجھے گینگ ختم کر کے اپنے گینگ میں شامل ہونے کا حکم دے رہے ہیں ۔ایک گینگ کا سربراہ ہونے کے بعد میں نمبر دو کے درجے پر تنزلی کیسے برداشت کر سکتا ہوں ۔“پاشا نے بادل نخواستہ ساری بات اگل دی تھی ۔
”مگر اس نے تو بڑے شوق سے تمھیں اپنے گینگ سے علاحدہ کر کے دوسرا گینگ بنانے کی اجازت دی تھی ،پھر اب کیا ہو گیا ہے ؟“اخلاق حسین نے حیرانی ظاہر کی ۔
”شاہ جی صحیح کہہ رہا ہے ۔“نوشاد کے دماغ میں بھی وہی سوال اٹھا تھا ۔
پاشا بیزاری سے بولا ۔”اس کی وجہ بھی وہی مصیبت ہے جسے میں اپنی بہن بنا بیٹھا ہوں ۔“
”کیا مطلب ؟“دو نوں کے منھ سے بیک وقت ایک ہی سوال نکلا تھا ۔
”گڑیا کی حفاظت کے لیے کبیر دادا مجھے واپس اپنے گینگ میں لا رہا ہے ۔اس کا ارادہ ہے کہ میں گڑیا کا محافظ بن کر رہوں ۔یہ کوئی طریقہ نہیں ہے یار ،بے شک وہ میری بہن جیسی ہے ، مجھے عزیز بھی ہے۔ لیکن میں ایک گینگ کا سربراہ ہو کر کسی لڑکی کا محافظ بن کر تو نہیں رہ سکتا نا ۔“
”بات تو صحیح ہے آپ کی ۔“اخلاق نے فوراََ اس کی ہاں میں ہاں ملائی تھی ۔نوشاد بھی اثبات میں سر ہلانے لگا تھا ۔
پاشا نے اشتیاق بھرے لہجے میں پوچھا ”اب آپ مشورہ دیں کیا کرنا چاہیے ؟“
اخلاق حسین نے گلا کھنکھارکر معنی خیز انداز میں کہا ۔”ویسے ،کبیر دادا اور آپ کا رشتا ایسا ہے کہ ہم کچھ کہتے ہوئے اچھے نہیں لگتے ۔“
”بھاڑ میں گیا رشتا یار،سب سے پہلے انسان کی اپنی ترجیحات ہوتی ہیں ۔میں بے وقوف تھا جو کبیر دادا کے لیے جان دینے کی سوچا کرتا تھا ۔اور اس کے دل میں میری اتنی عزت ہے کہ اپنی بیوی کا محافظ بنا دیا ۔اور خود اس کا ظرف دیکھو ایک لڑکی کے لیے اپنے استاد کی گردن توڑ دی۔حقیقت تو یہ ہے کہ یہاں سب کو اپنی پڑی ہے۔ہر ایک کا اپنا فائدہ اور اپنا نقصان ہے۔ جھوٹے اخلاقیات ،منافقانہ عزت و احترام میں ڈوب کر میں اپنا مستقبل نہیں گنوا سکتا ۔اگر کسی کو اپنے فائدے کے لیے دوسرے کی جان کی قربانی دینا پڑ جائے تو کون قدم پیچھے ہٹاتا ہے۔نہ آپ نے اور نوشاد آفریدی نے اپنے فائدے کے لیے ایس پی کی جان کا خیال کیا اور نہ کبیر دادا نے اپنے فائدے کے لیے استاد کو بخشا۔پھر میں کیوں جھوٹے خلوص اور نقلی عزت و احترام کی چادر اوڑھ کر خود کو استاد کا فرماں بردار بنائے پھرتا رہوں ۔کیا میری اپنی ذات کوئی حیثیت نہیں رکھتی ۔میری کوئی عزت احترام نہیں ہے ۔“پاشا نے کھل کر اپنے خیالات کا اظہار کر دیا تھا ۔
”تم سو فیصد حق پر ہو پاشا ۔“اخلاق حسین نے چہرے پر منافقانہ ہمدردی سجاتے ہوئے کہا ۔”کبیردادا زیادتی کر رہا ہے ۔“
”میرا بھی یہی خیال ہے ۔“نوشاد کہاں پیچھے رہنے والا تھا ۔بڑی مشکل سے انھیں کبیردادا کے خلاف اتنا مضبوط سہارا ملا تھا وہ یہ موقع ہاتھ سے کب گنوا سکتے تھے ۔
”تو پھر کیا کروں ،اگر بغاوت کرتا ہوں تو کبیر دادا سے تو مجھے بھلائی کی کوئی امید نہیں ہے ،جس شخص نے اپنے استاد کو معاف نہ کیا وہ شاگرد کو کہاں بخشے گا ۔“پاشا کے لہجے میں خوف کی جھلک واضح تھی ۔
اخلاق حسین نے کہا ۔”ہم دونوں آپ کے ساتھ ہیں پاشا ۔“
”اسی لیے تو پوچھ رہا ہوں کیا کروں ۔اور آپ دونوں کے سامنے میں نے اسی لیے کھل کر بات کی ہے کہ آپ دونوں کبیر دادا کی اصلیت جانتے ہو ۔“پاشا نے ان پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انھیں کھل کر مشورہ دینے کی ترغیب دی ۔
اخلاق حسین معنی خیز لہجے میں بولا ۔”ہمارا مشورہ تو یہی ہے کہ کبیر دادا کی بات مان کر اس کے گینگ میں شامل ہو جاﺅ اور جو وہ کہتے ہیں اس پر عمل کرو ۔اس میں تمھارا فائدہ اور بھلائی ہے ۔“
”کیا ۔“پاشا حیرانی سے چلایا۔”اس میں میرا فائدہ کہاں سے آگیا ۔“
”لازمی بات ہے اگر کبیر دادا کو کچھ ہو گیا تو گینگ کی سربراہی آپ کو ملے گی ،بلکہ آپ تمام گینگز کے سربراہ بن جائیں گے ۔“اخلاق حسین اسے کوئی بات سمجھنے کا اشارہ دے رہا تھا۔
”مگر ،کبیر دادا ٹھیک ٹھاک صحت مند ہے اسے کیا ہو سکتا ہے ۔“پاشا اب تک اخلاق حسین کے مقصد کو نہیں پہنچا تھا ۔
”انسان کو کوئی حادثہ بھی پیش آسکتا ہے ۔اللہ پاک کے کاموں کی کس کو خبر ہے ۔“ اس مرتبہ اخلاق حسین نے پہلے سے بھی واضح اشارہ کیا ۔
پاشا کے چہرے پر بشاشت نمودار ہوئی یقینا اس کی سمجھ میں اخلاق حسین کے اشارے آگئے تھے ۔”صحیح کہہ رہے ہو شاہ جی ،زندگی کا کیا بھروسا ۔وہ کیا کہتے ہیں انسان تو بس پانی کا بلبلہ ہے ۔اور موت تو ہر کسی کو آنا ہے کسی کو پہلے ،کسی کو بعد میں ،کسی کو بستر پر اور کسی کو حادثے کی صورت میں ۔بہ ہر حال شکریہ مجھے لگتا ہے کہ کبیر دادا کا حکم ٹالنا بری بات ہو گی ۔اور اپنی بہن کا محافظ بننے میں کون سی شرم ۔کبیر دادا کے گینگ کے لوگ تو مجھے پاشا دادا ہی کہتے ہیں نا اور میرا خیال ہے اتنی عزت کافی ہے ۔“
اخلاق حسین اور نوشاد نے بناوٹی قہقہہ لگا یا ۔اخلاق کہنے لگا ۔”بس یہی بات ہم بھی آپ کو سمجھانا چاہتے تھے کہ اپنے استاد کی بات ٹالنا مناسب نہیں ہے ۔استا د کی بات مان کر ہی کوئی مرتبہ اور عزت ملتی ہے ۔“
پاشا نشست سے اٹھتا ہوا بولا ۔”میرا خیال ہے مجھے جا کر کبیر دادا کو منانا چاہیے ۔اور آپ لوگوں سے مشورے لینے کے لیے کبھی کبھار زحمت دینے آتا رہوں گا ۔“
اخلاق حسین چاپلوسانہ لہجے میں بولا ۔”ہمارے لیے مستقبل کے سربراہ کو مشورہ دینا باعثِ سعادت ہو گا ۔“وہ دونوں پاشا کے ساتھ ہی کھڑے ہو گئے تھے ۔
٭٭٭
کبیر دادا کے پاس شہاب قصوری اور بابر حیات بیٹھے تھے جب پاشا وہاں پہنچا ۔
اسے دیکھ کر کبیر دادا نے رخ پھیر لیا تھا ۔
”معذرت خواہ ہوں دادا!....میں نے نازیبا کلمات منھ سے نکالے تھے ۔مگر بہ خدا میرا ارادہ آپ کی توہین کرنے کا نہیں تھا ۔“پاشا نے وہاں جاتے ہی ندامت ظاہر کی ۔
کبیر دادا اس کی بات کا جواب دیے بغیر خاموش بیٹھا رہا ۔
پاشا دوبارہ بولا۔”میں نے اپنے گینگ کے تمام ارکان کو آپ کے گینگ کے ساتھ مل جانے کے احکامات دے دیے ہیں ۔“
اس مرتبہ کبیر دادا کے چہرے پرمدہم سی مسکراہٹ نمودار ہوئی ۔”ٹھیک ہے جاﺅ اپنی ذمہ داری سنبھال لو ۔“
پاشا اثبات میں سر ہلاتے ہوئے باہر نکل گیا ۔
شہاب قصوری پوچھنے لگا ۔”کچھ سمجھ میں نہیں آرہا کبیر دادا یہ کیا معاملہ ہے ۔پہلے آپ نے خود پاشا کو اپنا آدھا علاقہ دے کر علاحدہ کیا تھا اور اب دوبارہ اپنے ساتھ شامل کر لیا ہے ۔“
کبیر دادا تفصیل بتاتے ہوئے بولا ۔”یار!.... سچ کہوں تو پچھلے دنوں ،جو کچھ اخلاق حسین اور نوشاد آفریدی نے کیا ہے اس کے بعد مجھے اپنی بیگم کے بارے احتیاط برتنا پڑ رہی ہے ۔ اس کی حفاظت کے لیے کسی ایسے آدمی کی ضرورت تھی جو اس ذمہ داری کو اچھے طریقے سے سر انجام دے سکے اور اس کام کے لیے مجھے پاشا بہترین لگا ،کیوں کہ ایک تو لڑائی بھڑائی کا ماہر ہے ، دوسرا میرے ساتھ مخلص بھی ہے اور سب سے بڑھ کر میری بیگم کو اپنی چھوٹی بہن سمجھتا ہے ۔اس بات پر پاشا تھوڑا خفا تو تھا مگر ا ب لگتا ہے اسے اپنی غلطی کا احساس ہو گیا ہے ۔“
”ایک گینگ کے سربراہ کو اپنی بیوی کا محافظ مقرر کر دینا کچھ جچتا نہیں ہے دادا ۔“بابر حیات کے لہجے میں تشویش جھلک رہی تھی ۔
کبیردادا بے پروائی سے بولا ۔”اپنا برخوردار ہے یار !....سال ڈیڑھ کے بعد دوبارہ اسے گینگ بنا کر دے دوں گا ۔“
”ویسے مجھے بھی پاشا کے تیور کچھ بدلے بدلے دکھائی دے رہے تھے ۔“جہاں دیدہ شہاب قصوری اسے تنبیہ کیے بغیر نہیں رہ پایا تھا ۔
”عارضی اثر ہے کل پرسوں تک ٹھیک ہو جائے گا ۔“کبیر دادا اپنے موقف پر قائم تھا ۔ ان دونوں نے بھی زیادہ تکرار کی کوشش نہیں کی تھی کہ فائدہ نقصان میں وہ شامل نہیں تھے ۔
وہ تھوڑی دیر بیٹھ کر اجازت لے کر چلے گئے ۔بعد میں کاشف راجپوت کی بھی کال آئی وہ پاشا کے رویے پر حیرانی کا اظہار کر رہا تھا ۔کبیر دادا نے اسے اصل بات بتا کر پاشا کے رویے کی توجیح کر دی ۔کاشف نے بھی کبیردادا کو اپنے موقف سے رجوع کرنے کا کہا ،مگر کبیر دادا تناوش کی حفاظت کے لیے کسی حد تک بھی جا سکتا تھا ۔
٭٭٭
صبح کبیر دادا کو رخصت کرتے وقت تناوش نے ماں کے گھر جانے کی اجازت مانگ لی تھی ۔
”ٹھیک ہے ،اپنے بھائی پاشا کو ساتھ لے کر چلی جانا ۔“کبیر دادا نے فوراََ اجازت دے دی تھی ۔کبیر دادا کے رخصت ہونے کے بعد وہ پاشا کو ساتھ لے کر گھر چلی گئی ۔پاشا نے اس کی ماں کے ہاتھ کی بنی ہوئی چاے وغیرہ پی اور پھر یہ کہہ کر وہاں سے نکل آیا کہ۔” جب ضرورت ہو مجھے بلا لینا ۔“
پاشا کو رخصت کر کے وہ ماں سے راز و نیاز میں مصروف ہو گئی ۔ماں کے سامنے کبیر دادا کی محبت کا ذکر کرتے ہوئے وہ پھولے نہیں سما رہی تھی ۔
بشریٰ بولی ۔”ہم عورتیں ہوتی ہی بے وقوف اور احمق ہیں ۔ شوہر نے ذرا سی توجہ کیا دی، خود کو دنیا کا خوش قسمت فرد سمجھنے لگتی ہیں اور شوہر کی بے توجہی دیکتھے ہی خود سے بڑا بد نصیب کوئی نہیں لگتا۔“
”آپ کو میری خوشی اچھی نہیں لگتی یا میرے شوہر ۔“تناوش بگڑ گئی تھی ۔
بشریٰ کھل کھلا کر ہنسی ۔”یہ بھی خوب کہی ،میری شہزادی کی خوشی اگر مجھے عزیز نہیں ہو گی تو اور کسے ہوگی ۔“
”اور میرے شوہر ۔“
”اگر اس کے اعمال کو نظر انداز کر دوں تو بہت اچھے ہیں ۔“
”آپ سیاسی جواب دے رہی ہیں ۔“تناوش لڑائی پر آمادہ تھی ۔
بشریٰ نے پوچھا ۔”اچھا تمھیں اس کے کام اچھے لگتے ہیں ؟“
وہ بے باکی سے بولی ۔”ان کی ذات کے آگے کچھ نظر آئے تو کہوں نا ۔“
”تم تو ہو ہی پاگل ۔“بیٹی کی دیوانگی پر پھیکے انداز میں مسکرا پڑی تھی ۔
”امی جان ،جتنی محبت وہ مجھ سے کرتے ہیں شاید ہی کوئی اپنی بیوی سے کرتا ہوگا ۔“
”تو پھر اسے کہہ دو نا کہ جرم کا رستا چھوڑ دے ۔کوئی محنت مزدوری کر ئے ۔یا پھر تم بھی عیاشی کی زندگی گزارنے کی عادی ہو گئی ہو ۔“
”اسی کوشش میں لگی ہوں ،جلد ہی آپ کو خوش خبری سناﺅں گی ۔“
”کوشش کا کیا مطلب ،جب اتنی محبت کرتا ہے تو فوراََ مان جانا چاہیے تھا ۔“
تناوش نے منھ بنایا ۔”ماں جی ،بات ان کے ماننے کی نہیں ،اس دلدل سے صحیح سلامت نکلنے کی ہے ۔آپ کاکیا خیال ہے وہ کوئی پرچون فروش ہے کہ میرے کہنے پر اپنی دکان بند کر کے آلو چھولے کی ریڑھی لگا لے گا۔“
”کیا مطلب؟“بشریٰ نے حیرانی ظاہر کی ۔
”مطلب یہ ہے میری بھولی امی جی ،کہ وہ اکیلے اس کام میں ملوث نہیں ہیں ،کئی بڑی بڑی شخصیات جرم کی دنیا میں ان کے ساتھ شامل ہیں ۔اب وہ اتنی آسانی سے تو انھیں یہ کام نہیں چھوڑنے دیں گے ۔آخر وہ کیسے برداشت کر سکتے ہیں کہ ان کے تمام خفیہ طریقہ کار اور راز جاننے والا ان کے دھندے سے نکل کر شرافت کی زندگی گزارنا شروع کر دے ۔کیونکہ ایسا آدمی ان کے لیے سر پرلٹکنے والی ننگی تلوار کی طرح ہوتا ہے ۔“
بشریٰ نے کہا ۔”تو صاف کہو نا ،نہ وہ یہ کام چھوڑنا چاہتا ہے اور نہ تمھیں ہی اس بات کی کوئی فکر ہے۔“
”مجھے آرام کرنے دیں ماں جی ۔“وہ ماں کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گئی ۔جب اس کا تکرار نہ کرنے کا ارادہ ہوتا تو وہ یونھی کیا کرتی ۔
بشریٰ اپنی مسکراہٹ روکتے ہوئے بیٹی کا سر دبانے لگی ۔
٭٭٭
”تم تو تناوش کے ساتھ گئے تھے ۔“پاشا کو اڈے پر دیکھتے ہی کبیر دادا مستفسر ہوا تھا ۔
پاشا نے کہا ۔”اسے گھر چھوڑ آیا ہوں ۔واپس آنا ہو گا تو مجھے کال کر لے گی ۔“
”تمھارا دماغ جگہ پر ہے احمق آدمی !“کبیردادا کا غصہ دیدنی تھا ۔”تمھیں اس کی حفاظت کے لیے ساتھ رکھا ہے اور تم یہاں پھر رہے ہو اگر اس کے ساتھ پھر کوئی حادثہ پیش آگیا تو ۔“
پاشا نے ہونٹ بھینچتے ہوئے سر جھکا لیا ۔یہ منظر دیکھنے والے کافی افراد وہاں موجود تھے ۔
”فوراََ وہاں دفع ہو جاﺅ ۔“کبیردادا نے اگلا حکم صادر کیا اور وہ سر جھکائے باہر نکل گیا۔
وہاں سے وہ اخلاق حسین کے پاس پہنچا ۔اخلاق حسین نے اس کا پر تپاک استقبال کیا تھا ۔آدھا گھنٹا اس سے ضروری گفتگو کر کے وہ اخلاق حسین سے اجازت لے کر وہاں سے نکل آیا ۔ تھوڑی دیر بعد وہ خفیہ اڈے پر اپنے چارقریبی ساتھیوں کے ساتھ مل کر نہایت ضروری بات کر رہا تھا ۔چاروں اس کے نہایت اعتماد کے ساتھی تھے اور پاشا کے لیے کچھ بھی کرنے پر تیار ہو سکتے تھے ۔
وہ بہ مشکل ان سے بات چیت ختم کر پایا تھا کہ تناوش کی کال آنے لگی ۔بیزاری بھرے انداز میں کال وصول کرنے کا بٹن دبا کر اس نے موبائل فون کان سے لگالیا ۔لیکن بات کرتے وقت اس کے لہجے سے بیزاری عنقا تھی ۔
”جی گڑیا ۔“
”بھیا آجائیں نا۔“تناوش کے لہجے میں شامل مان کسی سگے بھائی سے بات کرنے کا سا تھا ۔
”میں بس آدھے گھنٹے میں تمھارے پاس ہوں گا ۔“رابطہ منقطع کر کے وہ اپنے ساتھیوں کی طرف متوجہ ہوا ۔تمام کوکارروائی کی ترتیب واضح ہے نا ۔“
”جی دادا ۔“سارے نے اثبات میں سر ہلادیا۔
اور وہ تناوش کے پاس جانے کے ارادے سے اٹھ گیا ۔
٭٭٭
”خان صاحب ،خوش ہو جاﺅ ایک دو دن میں ہمیں بہت بڑی خوش خبری ملنے والی ہے۔“اخلاق حسین ،نوشاد آفریدی کو مخاطب تھا ۔
”کچھ پتا بھی چلے ۔“نوشاد آفریدی نے اشتیاق بھرے لہجے میں پوچھا ۔
”پاشا کو مکمل طور پر سارا طریقہ کار سمجھا دیا ہے ۔اب بس اس کے عمل کرنے کی دیری ہے ۔اور اس کا انحصار کبیردادا پرہے کہ وہ کب کوئی بہتر موقع فراہم کرتا ہے ۔“
”منصوبہ ناکام ہونے کی صورت میں کہیں ہم پر بات نہ آجائے ۔“نوشاد نے تشویش ظاہر کی ۔
”اس بارمیں محتاط ہوں ،ناکامی کا نتیجہ پاشا ہی بھگتے گا ۔اور سچ کہوں تو اس کی کامیابی اور ناکامی ہر دو صورتوں میں ہمیں تو فائدہ ہی پہنچے گا ۔استاد اور شاگرد دونوں میں سے ایک کی کمی بھی ہمارے لیے باعثِ اطمینان ہو گی ۔“
نوشاد پریشانی سے بولا ۔”لیکن شاہ جی ،اصل مصیبت تو کبیر دادا ہے نا ۔“
”یار امکانی بات کی ہے ،فکر نہ کرو اصل مصیبت ہی سے جان چھوٹے گی ۔“اخلاق حسین نے پر اعتماد لہجے میں اسے تسلی دی ۔اور نوشاد آفریدی نے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے رابطہ منقطع کر دیا ۔
جینے کا بھی عجیب فلسفہ ہے ایک کی خواہشات کی تکمیل دوسرے کی تمناﺅں کا گلا گھونٹ کر ہوتی ہے ۔ہرن کی جان جاتی ہے اور شیر کا پیٹ بھرتا ہے ،شیر زندگی کی بازی ہارتا ہے اور شکاری اپنے کیرئیر میں ایک کارنامے کے اضافے کی خوشی مناتا ہے ۔مرنے والے کے گھر صف ماتم بچھا ہوتا ہے تو مارنے والا خوشی کے شادیانے بجا رہا ہوتا ۔
٭٭٭
پاشا کے گینگ کو کبیر دادا کے گینگ میں ضم ہوئے پانچواں دن تھا ۔پاشا زیادہ تر وقت کبیر دادا کی کوٹھی ہی میں گزارتا تھا ۔البتہ کبیردادا کی گھر آمد کے بعد وہ آوارہ گردی کرنے نکل جاتا تھا۔ایک دن اپنی کار کے خراب ہونے کی وجہ سے وہ کبیر دادا کی کار ساتھ لے گیا تھا ۔اس رات کو وہ خاصی دیر لگا کر واپس لوٹا تھا ۔کار گیراج میں کھڑی کر کے وہ کمرے میں سونے چلا گیا ۔ رات گئے سونے کے بعد باوجود وہ صبح سویرے ہی جاگ گیا تھا ۔کبیردادا کے جانے کا وقت قریب آیا تو وہ باہر لان میں آگیا ،مگر مقررہ وقت پر کبیر دادا باہر نہ نکلا تھوڑی دیر انتظار کر نے کے بعد وہ بے چین ہو کر کبیر دادا کے دروازے پر دستک دے رہا تھا ۔
”آجاﺅ ۔“کی آواز سنتے ہی وہ اندر داخل ہوا ۔کبیر دادا شب خوابی کے لباس میں صوفے پر بیٹھا خبریں سن رہا تھا ۔اس کا موڈ کافی خوشگوار تھا ۔تناوش اس کے ساتھ ہی بیٹھی تھی ۔
”آئیں بھیا ۔“پاشا کو دیکھتے ہی وہ محبت پاش لہجے میں بولی ۔
”آج دیر سے جانے کا ارادہ ہے دادا ۔“پاشا نے نشست سنبھالتے ہوئے پوچھا ۔ تناوش اس کے لیے تھرماس سے چاے انڈیلنے لگی تھی ۔
کبیردادا نے منھ بناتے ہوئے کہا ۔”کہاں یار ،تمھاری بہن کے نرالے منصوبے ہوتے ہیں ۔آج جمعہ کا دن ہے اور پورا دن محترمہ نے میرے ساتھ گزارنا ہے ۔“
”ایسے ضد تو نہیں کرتے گڑیا ۔“پاشا فوراََ تناوش کو سمجھانے لگ گیا تھا ۔
”ضد تو نہیں کی بھیا ،آپ خود انصاف کریں ہفتے میں ایک دن تو میرا بھی بنتا ہے نا ۔“
”اچھا ٹھیک ہے ۔“پاشا کے کچھ کہنے سے پہلے کبیردادانے کہا ۔”اس کی بات مان لی، مگر اس نے کافی دن پہلے ایک وعدہ کیا تھا اب وہ پورا نہیں کر رہی ۔“
”کوئی وعدہ وغیرہ نہیں کیا تھا ۔“تناوش نے انکار میں سر ہلایا ۔اس کے چہرے پر حیا کی سرخی دوڑ گئی تھی ۔
پاشا نے بادل نخواستہ پوچھا ۔”کیسا وعدہ کچھ مجھے بھی پتا چلے ۔“
”یاد ہے اخلاق حسین کے گھر تقریب میں محترمہ میرے ساتھ گئی تھی ۔اس وقت اس نے مجھے موبائل فون پرپیغام بھیجا تھا کہ اسی وقت واپس گھر چلنے پر یہ کسی لونگ لائچی والے گانے پر مجھے رقص کر کے دکھائے گی ۔اب کل ہی میں نے بخش کو موبائل میں یہ گانا سنتے دیکھا ۔بس اسے کہا کہ میرے موبائل میں بھی وہ گانا ڈال دے ۔اب صبح سے اسے وہی کہہ رہا ہوں کہ گانا میں لے کے آگیا ہوں رقص اس نے کرنا ہے ۔“
وہ حیا آلود لہجے میں بولی ۔”بھیا ،ایسے ہی تنگ کر رہے ہیں مجھے ۔“
کبیر دادا ترنت بولا۔”کھاﺅ قسم تم نے ایسا پیغام نہیں لکھا تھا ۔“
”وہ تو ....وہ تو....بس مذاق کیا تھا ۔“تناوش جواب دیتے ہو ئے ہکلا گئی تھی ۔
”یہ مسئلہ آپ لوگ خود نبٹائیں ۔میں چلتا ہوں ۔“پاشا مایوس اندا زمیں وہاں سے باہر نکل آیا ۔اسی دوران ڈرائیور شہزاد اس کے پاس پہنچ گیا ۔
”دادا ،کار کی چابی تو دیں ،عظیم صاحب بتا رہا ہے کہ آج کبیر دادا نے کہیں نہیں جانا تو میں نے سوچا کا رکی سروس ہی کرا لوں ۔“
”کل وقت نکال کر کرا لینا فی الحال چابی میرے پاس رہنے دو مجھے ضرورت پڑ سکتی ہے ۔“پاشا نے چابی اس کے حوالے نہیں کی تھی ۔
”وہ جی دادا ۔“کہہ کر واپس مڑ گیا ۔
شام کو کبیر دادا، تناوش کو اس کی ماں سے ملوانے لے گیا ۔اس وقت پاشا ڈرائینگ روم ہی میں بیٹھا تھا ۔انھیں تیار ہو کر جاتے دیکھ کر پاشا فوراََ کار کو گیراج سے نکال کر لے آیا تھا ۔کبیر دادا نے محافظوں کو ساتھ لے جانے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی ۔ان کے گھر سے نکلتے ہی پاشا بھی اپنی کار لے کے نکل آیا ۔پتا نہیں خراب کھڑی کار کیسے ٹھیک ہو گئی تھی ۔اس کا رخ ساحل والے اڈے کی طرف تھا ۔ایک مخصوص جگہ پر پہنچ کر اس نے موبائل فون نکال کر کبیر دادا کا نمبر ملایا۔
”کیا بات ہے پاشا ؟“اس نے کال وصول کرتے ہی پوچھا ۔
وہ تیز تیز لہجے میں بولا ۔”دادا، بہت بڑی گڑ بڑ ہو گئی ہے آپ فوراََ ساحل والے اڈے پر پہنچیں ۔“
”مگر ....“
کبیر داداکی بات کو کاٹتے ہوئے اس نے بے صبری کا اظہارکیا۔”آپ جلدی تشریف لائیں ۔پھر واپس چلے جانا ،اب تفصیل بتانے کا وقت نہیں ہے ۔“
”اچھا میں آرہا ہوں ۔“کبیر دادا نے رابطہ منقطع کر دیا ۔
آدھے گھنٹے بعد اسے دور سے کبیر دادا کی کار آتی دکھائی دی ۔اس جگہ لوگوں کی آمدورفت نہ ہونے کے برابر تھی ۔وہ تیار ہو کر بیٹھ گیا ۔کبیر دادا کی کار لمحہ بہ لمحہ قریب آرہی تھی ۔ دوربین نکال کر اس نے کار میں کبیر دادا کے اکیلا ہونے کی تسلی کر لی تھی ۔
اور پھر وہاں موجود لوگ ایک ہولناک دھماکے کی آواز سن رہے تھے ۔کالے رنگ کی مرسڈیز کئی گز فضا میں اچھل کر ٹکڑے ٹکڑے ہو گئی تھی ۔کار میں موجود اکیلا وجود گوشت کے ٹکڑوں کی صورت میں کار کے ٹکڑوں کے ساتھ ہی بکھر گیا تھا ۔پاشا نے افسردہ نظروں سے کار کو دیکھا اور موبائل فون نکال کر اخلاق حسین کا نمبر ملانے لگا ۔اس نے کال وصول کرنے میںذرا بھی دیر نہیں لگائی تھی ۔
”بہت افسوس ناک خبر ہے شاہ جی ،کبیر دادا کی کار دھماکے سے اڑا دی گئی ہے اور بد قسمتی سے وہ اس وقت کار ہی میں موجود تھے ۔جیسے ہی یہ خبر آپ تک پہنچتی ہے فوراََ میرے پاس آکر مجھے بہ ذات خود مطلع کرنا ۔“
”سچ ۔“خوشی سے اخلاق حسین کی باچھیں کھل رہی تھیں ۔
”ہاں شاہ جی ،میرا سر پرست ،میرا استاد اور میرا بڑا نہیں رہا ۔“پاشا نے رابطہ منقطع کیا اور کار کا رخ ایک مخصوص جانب موڑ دیا ۔
جاری ہے

No comments:

غازی از ابو شجاع ابو وقار قسط نمبر60 Ghazi by Abu Shuja Abu Waqar

Ghazi  by  Abu Shuja Abu Waqar  غازی از ابو شجاع ابو وقار  پیشکش محمد ابراہیم 60 آخری قسط نمبر  Ghazi by Abu Shuja Abu...

Powered by Blogger.