اول جنت کے پتے قسط 54
جنت کے پتے
از
نمرہ احمد
ناول؛ جنت کے پتے
قسط 54
جب ادھر بیٹھے حیا نے اس سے کبھی جلنے کا زخم محسوس کرنے کا پوچھا تو لمحے بھر میں جیل میں بیتے وہ تاریک دن اور اندھیری راتیں اس کے ذہن میں امڈ آئیں مگر وہ بات ٹال گیا۔ اسے اپنے زخم دکھا کر ہمدردی حاصل کرنے کا شوق ہرگز نہیں تھا۔ وہ اس سے باتیں کرتے ہوئے دور الاؤ کے پاس بیٹھے لڑکوں کے گروپ کو دیکھ رہا تھا۔ اسی میں ایک لڑکا اس کا دوست تھا۔ابھی ملاقات میں وقت تھا مگر وہ وہیں سے اسے پہچان گیا تھا اس لڑکے کی عمر کم تھی شاید پچیس برس اس کے لیے وہ ایک جونیئر ایجنٹ ہی تھا۔ جونیئر مگر بہادر اور ذہین۔ اس کو پاکستان جانا تھا اور جہان سے کچھ چیزیں لے کر جانا تھا۔ دو ایک کام وہ پہلے بھی ساتھ کر چکے تھے اور اپنے سنیئر ایجنٹ کی وہ لڑکا بہت عزت کرتا تھا۔ اس کو عمر کا اصل نام معلوم نہ تھا اور نہ کبھی وہ اپنے ملک کی باتیں کرتے تھے اجازت ہی نہیں تھی مگر وہاں بیٹھے حیا سے اس کی رپورٹ کا پوچھتے ہوئے بھی وہ عمر کی موجودگی سے ہی بہت اچھا محسوس کر رہا تھا۔ اپنے ملک کی تو ہوا بھی اپنی لگتی ہے یہ تو پھر بھی ہم پیشہ ہم وطن تھا۔
میں عبدالرحمن پاشا کے گمشدہ بھائی پہ رپورٹ لکھ رہی ہوں۔ کسی اور دھیان میں اس نے حیا کی بات سنی اور اگلے ہی لمحے وہ سیدھا ہو بیٹھا۔ وہ کیا کہہ رہی تھی۔ جب جب فون پہ حیا نے کہا تھا کہ وہ کچھ لکھ رہی ہے تو وہ اسے یونہی خالی خوبی سی دھونس سمجھتا تھا مگر اب جو کچھ وہ بتا رہی تھی اس نے لمحے بھر کو تو جہان کا سانس ہی روک دیا۔
بات رپورٹ کی نہیں تھی، اس کی رپورٹ نہ کبھی لکھی جانی تھی نہ کسی نے شائع کرنی تھی۔ بات یہ تھی کہ اس کو یہ ساری باتیں کون بتا رہا تھا۔ اگر عائشے نے بتایا تو پھر یہ خطرے کی علامت تھی کہ عبدالرحمن کے گھر سے باتیں باہر نکل رہی تھیں۔ پاشا بے نئی زندگی شروع کرنے جا رہا تھا۔ ذاتی اختلاف ایک طرف وہ ان کا ایجنٹ تھا اور اس کی حفاظت کو یقینی بنانا ان کا فرض۔ اب اس کے گھر سے اس کی بیوی کی طرف سے کوئی ایسی بات باہر نکلے جو پاشا بے کو نقصان پہنچائے یہ اس کو مضطرب کر دینے کے لیے کافی تھا۔ حیا اور عائشے پھر یہ باتیں اور لوگوں سے بھی کہتی ہوں گی۔ ایک صرف جہان سے تو ذکر نہیں کیا ہو گا نا۔ دنیا ویسے تو چھوٹی تھی ہی مگر بیوک ادا تو بہت چھوٹا تھا۔
بہت مشکل سے اس نے بات کا رخ پھیرا۔ چونکہ وہ حیا سے ایسی بات کی توقع نہیں کر رہا تھا اس لیے وہ خود بھی ذرا سا پریشان ہو گیا تھا۔ وہ اس کے ساتھ پہاڑی کے نیچے تک آیا تھا اور پھر وہ سامان لینے چلی گئی تو وہ واپس اوپر آیا عمر سے ملا امانت پہنچائی اور واپس بندرگاہ پہ آ گیا۔
کل وہ دوبارہ بیوک ادا آئے گا پھر عائشے سے نپٹے گا مگر آج کل اسے وہ ویڈیو لاکر میں رکھ دینی چاہیے۔ ہو سکتا ہے وہ پزل باکس کھول چکی ہو اور اب جب کہ وہ استنبول جا ہی رہی تھی تو وہ جلد یا بدیر لاکر ڈھونڈ ہی لے گی۔
اگلے روز وہ بیوک ادا آ ٓگیا۔وہ ہوٹل میں تھا جب عائشے نے اسے میسج کیا کہ حیا کل چلی گئی تھی اور وہ گھر آسکتا ہے۔ عائشے جانتی تھی کہ وہ اسی کے ساتھ گئی ہے مگر اسے اطلاع دینے کا مقصد اسے گھر بلانا تھا۔ آنے بھی گزشتہ رات آ گئی تھیں۔وہ زیادہ دیر تک ان کو ادلار سے دور نہیں رکھ سکتا تھا سو اچھا ہوا حیا ان کے آنے سے قبل جا چکی تھی۔
عائشے کو اس نے گھر میں داخل ہوتے ہوئے سلام بھی نہیں کیا نہ ہی اس کے مخاطب کرنے پہ ٹھیک سے بات کی۔ عائشے کو موتیوں والی بات معلوم ہو چکی تھی اور اس نے یہی قیاس کیا کہ عبدالرحمن اس سے اسی تھپڑ پہ ابھی تک خفا تھا تب ہی سوائے اس رات کے اس نے عائشے سے ٹھیک سے بات نہیں کی تھی۔ وہ پھر سے معذرت کرنے آئی تھی مگر، جہان کے حیا کو پاشا بے کے متعلق بتانے پہ جھڑکنے پہ وہ خفا ہو کر واپس چلی گئی۔ ہ اسٹڈی سے مطلوبہ اشیاء لے کر پلٹنے لگا تھا کہ اس کی نظر میز پہ رکھے پزل باکس پہ پڑی۔ وہ ایک دم ٹھہر گیا پھر باکس اٹھا کر دیکھا۔ جلی ہوئی اطراف ابھری ہوئی سطور چھے چوکھنے الٹ پلٹ کر دیکھنے سے ہی وہ جان گیا تھا کہ یہ وہی پزل باکس ہے۔
جب اس نے عائشے سے باکس منگوایا تھا تو اس کی شکل یہ نہ تھی اور اس کا کوڈ عائشے پہ سیٹ تھا۔ چونکہ وہ انگریزی حروف تہجی پہ بنایا گیا تھا اس لیے عائشے کے نام کے ہجے انگریزی کے حساب سے تھے۔ورنہ مرک میں اس کا نام Aysegul لکھا جاتا تھا۔ (اس میں انگریزی حرف S کے نیچے ننھی سی لکیر ہوتی تھی۔ ترک اگر عام S لکھتے تو اسے سین کی آواز میں پڑھتے لیکن اگر ایس تلے لکیر ہوتی تو اسے شین کی طرح پڑھا جاتا۔)
بعد میں جہان نے اس کو کھول لینے کے بعد اس کا کوڈ ٹاقسم سیٹ کر دیا تھا۔ وہیں اسٹڈی میں کھڑے کھڑے اس نے کوڈ کو اوپر نیچے کیا، ٹاقسم پہ باکس کھل گیا۔ اندر اس کے لاکر کی سلپ، چابی اور کاغذ ویسے ہی پڑے تھے اس نے پھر سے باکس بند کیا، سلائیڈز آگے پیچھے کیں اور وہیں کھڑے کھْڑے سوچنا چاہا کہ اس لاپروائی کی وہ اپنی بیوی کو کیا سزا دے۔ حد ہو گئی، جو چیز اس نے بہت احتیاط سے اس تک پہنچائی تھی، اس کو یوں ادھر بھول کر چلی گئی تھی۔ اسے غصہ بہت آیا مگر دبا گیا۔
اب وہ کیا کرے۔ یہ باکس یہیں پڑے رہنے دے۔ مگر ایسی صورت میں یہ باکس ملازمہ یا عائشے کے ہاتھ لگ سکتا تھا اور عائشے سے وہ ویسے ہی ذرا محتاط رہتا تھا۔ تو پھر کیا کرے۔ عائشے کو دے دے کہ اسے بحفاظت حیا تک پہنچا دے۔ جو بھی تھا عائشے ایک ایمانت دار لڑکی تھی امانت کو کھول کر نہیں دیکھے گی۔
مگر نہیں۔ ہاشم نے باکس بنواتے وقت یہی کہا تھا کہ عبدالرحمن کو اس بات کی خبر نہیں ہونی چاہیے۔
پھر عبدالرحمن جو کہ اس کام میں ملوث ہی نہیں تھا وہ باکس کیوں حیا تک پہنچائے گا۔ اس کی کور اسٹوری میں جھول آرہا تھا۔
وہ کچھ دیر وہیں کھڑا سوچتا رہا پھر ایک دم سے اسے خیال آیا۔
بہارے گل۔ وہ ہر کسی سے راز رکھ سکتی تھی سوائے اپنی بہن کے۔ وہ اپنا سارا کھایا پیا اپنی بہن کو ضرور بتاتی تھی۔ اس نے ذہن میں ایک لائحہ عمل ترتیب دیا اور باکس پکڑے باہر آیا۔
یہ تو حیا کا ہے۔ اس کے استفسار پر بہارے نے حیرت سے باکس کو دیکھتے ہوئے بتایا۔ وہ یہیں بھول گئی؟ کل اس کا کزن اسے لینے آیا تو اسے جلدی میں جانا پڑا تمہیں پتا ہے اس کا کزن بہت ہینڈسم ہے۔ اس نے بڑے اشتیاق سے بتایا۔
بہارے نے حیا کے کزن کو کہاں دیکھا۔ اسے اچنبھا ہوا مگر جان بوجھ کر اس کی بات نظر انداز کرتے ہوئے بہارے سے سوالات پوچھنے شروع کیے۔ باکس کس نے حیا کو دیا اور کس نے بنایا وغیرہ۔ وہ جاننا چاہتا تھا کہ کیا پکڑا جا سکتا ہے یا نہیں۔ مگر لگتا تھا کہ حیا کو صرف باکس کھولنے بیں دلچسپی تھی اس نے بھیجنے والے کی زیادہ تحقیق نہیں کی تھی۔
اس نے بہارے سے کہہ دیا کہ اب وہ باکس اس کے پاس رہے گا اور وہ جانتا تھا بہارے زیادہ دیر تک یہ راز نہیں رکھ سکے گی۔ وہ عائشے کو ضرور بتائے گی۔ آنے کہتی تھیں یہ دونوں آنے گل کی بیٹیاں ہیں ان کی ماں نے ان کو تب تک کچھ نہیں کھلایا جب تک کہ اللہ کا نام نہیں اس پہ پڑھ لیا اس لیے یہ نہ کبھی خیانت کر سکتی ہیں نہ ہی کسی کو دھوکہ دے سکتی ہیں۔ بہارے کو لاکھ عائشے کے درس سے چڑ ہو وہ آخر میں تھی تو عائشے کی بہن۔ وہ حیا کی امانت مہمان کی امانت اس تک ضرور پہنچائے گی۔ ساتھ میں یہ بھی بتائے گی کہ عبدالرحمن یہ باکس اس سے دور کرنا چاہتا تھا شاید یہی سن کر حیا اسے اگلی دفعہ کہیں رکھ کر نہیں بھولے گی۔
جب وہ واپس پلٹا تو جانتا تھا کہ بہار ے بھی دبے قدموں اس کے پیچھے آئے گی۔ اس کو میز کے نیچے دروازوں کے چابی کے سوراخوں اور دیواروں کے پیچھے سے باتیں سننے کا بہت شوق تھا۔ اس لئے اس نے کمرے میں داخل ہو کر دروازہ ذرا سا کھلا رہنے دیا
اور بہارے کے سامنے الماری لاک کر کے چابی دراز میں رکھ دی۔
اب وہ پہلی فرصت میں یہ بات عائشے کو بتائے گی اور عائشے فورا سے بیشتر وہ باکس حیا تک پہنچائے گی۔ اور کم از کم اس سے وہ یہ تو جان لے گا کہ بہارے گل راز رکھ سکتی ہے یا نہیں۔ شاید اپنی بہن سے تو بالکل نہیں۔
اسی رات اس نے اپنے کمرے میں وہ ویڈیو ریکارڈ کی اور اس میں وہ سب کہہ دیا جو وہ کہنا چاہتا تھا۔ اگر نہیں کہا تو ابا کے ہاتھوں جاسوس کو مارنے کا قصہ کہ وہ ابا کا راز تھا اور فریحہ کی جاسوسی کا قصہ کہ وہ فریحہ کا راز تھا اور اپنے سر درد کا قصہ کہ وہ اس کا اپنا راز تھا اور اسے راز نبھانے بہت اچھے سے آتے تھے۔
اس رات وہ سو نہیں سکا۔ صبح جب وہ واپس استنبول آیا تو سر درد سے پھٹا جا رہا تھا۔ جواہر جا کر اس نے اپنے لاکر میں یو ایس بی فلیش رکھی اور واپس ریسٹورنٹ آگیا۔ پوری رات کی بیداری کے بعد اب پچھلے کمرے میں صوفے پہ بیٹھا اور سر صوفے کی پشت سے لگایا ہی تھا کہ آنکھیں بند ہونے لگیں۔ ابھی اسے نیند میں گئے چند منٹ ہی گزرے تھے کہ موبائل بجنے لگا۔ وہ بدقت اس نے آنکھیں کھولیں، سیدھا ہوا اور جیب سے موبائل نکال کر دیکھا۔ ایکسچینج اسٹوڈنٹ کال کر رہی تھی۔ ایک تو یہ ایکسچینج اسٹوڈنٹ ٹھیک سے چین بھی نہیں لینے دیتی۔ ایک لمحے کے لیے جہان نے سوچا کہ نظر انداز کر دے پھر پتا نہیں کیوں وہ کر نہیں سکا اور کال اٹھا لی۔
*****
آپ کا مطلوبہ نمبر اس وقت سو رہا ہے براہ مہربانی کافی دیر بعد رابطہ کریں۔ شکریہ! وہ بولا تو اس کی آواز خمار آلود تھی۔
جہان! اٹھو اور میری بات سنو۔ وہ بہت جھلا کر کہہ رہی تھی۔ وہ چاہتی تھی جہان ابھی اسی وقت ٹاقسم میں مرمرا ہوٹل پہنچے، سلیمان ماموں کے کوئی دوست آئے ہوئے تھے۔ وہ سخت کبیدہ خاطر ہوا۔
میں نہیں آ رہا، مجھے آرام کرنے دو۔ جواب میں وہ بے حد خفا ہوئی اور اپنا پسندیدہ ”جہنم میں جاؤ“ بول کر فون رکھ دیا۔
جہان نے پھر سے سر صوفے کی پشت سے ٹکا کر آنکھیں موند لیں مگر اب نیند کا آنا ناممکن تھا۔ کچھہ دیر بعد حیا کا پھر میسج آیا۔ وہ اسے بلیو موسق بلا رہی تھی۔ اس کو جوابی ٹیسکٹ کر کے وہ اٹھا، شرٹ بدلی، منہ پہ چھینٹے مارے اور چابی اٹھا کر ریسٹورنٹ سے باہر آ گیا۔
حیا نے میسج پہ بلیو موسق کا کہا تھا اور نیلی مسجد کے باہر سبزہ زار پہ نصب بنچوں پہ ہی وہ سے دور سے نظر آ گئی۔ ایک لمحے کے لیے تو وہ اسے واقعی پہچان نہیں پایا تھا۔
حیا نے سر پہ دوپٹہ لے رکھا تھا۔ گہرے سبز رنگ کا دوپٹا جس کو وہ مستقل چہرے کے گرد ٹھیک کر رہی تھی۔ چونکہ اسے دوپٹہ لینے کی عادت نہیں تھی اس لیے وہ بار بار سر سے پھسل جاتا تھا۔
نیلی مسجد کے باہر کبوتو پر پھڑپھڑاتے ہوئے اڑ رہے تھے۔ کتنی ہی دیر تو وہ اس منظر کو ٹھہر کر دیکھے گیا۔ ایک دم سے اسے کچھ یاد آیا تھا۔
جب وہ انڈیا میں تھا، اور اس بک اسٹال کے ساتھ وہ لڑکی ملی تھی جسے ظاہر ہے کہ اس کے اپنوں نے ہی بھیجا تھا۔ اور وہ اسے اس آفیسر کا نام دکھا گئی تھی۔ جو اس کی مدد کرے گا اور بعد میں اسی کی مدد سے وہ جیل سے فرار ہوا تھا اس لڑکی کے سر پہ بھی ایسے ہی سفید دوپٹا تھا۔ خوبصورت، بہت خوبصورت جیسی علی کرامت کی ممی تھیں، جیسے آنے گل کی بیٹیاں تھیں، اور جیسی اب اس کی بیوی تھی۔
یہی تو چاہا تھا اس نے کہ اس کی بیوی ایسی ہو۔ بھلے وہ چہرہ نہ ڈھکے مگر باقی ہر طرح سے خود کو ڈھکے اور آج اس کی ساری خواہشیں پوری ہو گئی تھیں۔ اس کو بھی ایک مرمرا جمیلہ مل گئی تھی۔
اور تب ہی اس کی نگاہ حیا کے مقابل بیٹھے نوجوان پہ پڑی۔ اوہ ریسٹورنٹ سے وہ فرائنگ پان کیوں نہیں لایا۔آخر یہ شخص یہاں کیا کر رہا تھا۔ ایک لمحے کو اسے شدید غصہ چڑھا مگر جب اس نے دوبارہ حیا کو دیکھا تو جیسے بہت سے مناظر اس ایک منظر کی روشنی میں غائب ہو گئے۔
داور کی مہندی کی ویڈیو، حیا کا اس کار میں بیٹھنا، بارش میں سرخ کوٹ میں ٹاقسم پہ چلتی لڑکی۔
سارے منظر غائب ہو گئے ایسے جیسے وہ کبھی تھے ہی نہیں۔ پیچھے صرف ایک منظر بچا۔ بار بار چہرے کے گرد ڈوپٹہ ٹھیک کرتی خفا اور اداس سی بیٹھی لڑکی جو ذرا غصے سے سامنے بیٹھے شخص کو کچھ کہہ رہی تھی۔
جب وہ ان کے قریب آیا تو وہ چونکی اور ایک دم اس کا چہرہ جیسے کھل اٹھا۔ وہ حیران تھی اور خوش بھی۔ وہ اتنی بے اختیار ہو کر اٹھی کہ موبائل جو شاید اس کی گود میں تھا زور سے نیچے جا گرا۔
جہان! یہ ابا کے دوست کے بیٹے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ تعارف کروانے لگے، اب وہ کیا بتاتا کہ وہ اس آدمی کو پہلے سے جانتا ہے، مگر ولید کو وہ ضرور کچھ بتانا چاہتا تھا۔ سلیمان ماموں اور حیا سے بہت ہی اپنائیت سے بات کرنے کے بعد اس نے لغاری صاحب کی سوالیہ نگاہوں کے جواب میں مسکراتے ہوئے ہی اپنائیت سے سارے رشتوں کی وضاحت ایک فقرے میں کر دی۔
میں جہان سکندر ہوں، سلیمان ماموں کا بهانجا اور حیا کا ہزبینڈ۔ اور اس ایک فقرے نے اس کے اپنوں کو جو حیرت بهری خوشی عطا کی، اس سے سلیمان ماموں کا بھانجا اور حیا کا ہیزبینڈ بلآخر یہ بات جان گیا کہ وہ سب یہ رشتہ چاہتے تهے۔ ساری ناراضگیاں دور ہوئیں سارے گلے ختم ہوئے۔ اس نے اپنی بیوی کو اس شخص کے سامنے مان دیا جس کے اور اس کی بیوی کے درمیان کبھی کچھ نہیں رہا تھا، ہو ہی نہیں سکتا تها۔
شام کو جب ماموں اور ممی لاؤنچ میں تهے وہ کچن میں حیا کی مدد کروا رہا تها۔ تب اس نے حیا کا پلان جاننے کی کوشش کی۔ وہ اسے ترکی سے بهیجنا چاہتا تها مگر حیا نے ابهی کچھ طے نہیں کیا تها کہ اسے ترکی میں رہنا ہے یا دوسرے ملک۔ ممی اور ابا کو وہ لندن میں سیٹل کر رہا تها، اگر حیا لندن جانے پہ راضی ہو گئی تو وہ اسے ان کے ساته لندن بھیج دے گا، لیکن اگر وہ نہیں راضی ہوتی تو وہ دوسرا طریقہ استعمال کرے گا۔
شام میں ان کی منگنی ہوئی۔ ممی کو جیسے پتا چلا کہ اس نے سب کے سامنے یہ اعتراف کیا ہے وہ بہت خوشی سے دو انگوٹهیاں نکال لائیں جو انہوں نے اس موقع کے لیے بہت عرصے سے سنبھال رکهی تھیں۔
وہ واقعی اس روز مطمئن تها۔ جب رات میں وہ ماموں کو چھوڑ کر گھر واپس آیا تو اس کا ارادہ اپنی بیوی کے ساتھ اچھی سی کافی پینے اور کوئی اچھی سی مووی دیکھنے کا تها۔ فیملی والا احساس بہت عرصے بعد دل میں جاگا تها اور وہ اس احساس کو جینا چاہتا تها۔
مگر اس سے قبل حیا نے اسے بری خبر سنا دی۔
تمہارے لیے فون آیا تھا کوئی لڑکی تھی، نام تو نہیں بتایا مگر کہہ رہی تھی کہ تمہارا پارسل اسے نہیں ملا، کسی غلط ایڈریس پہ چلا گیا ہے۔
اور کسی نے وقعتا اس کا سانس روک دیا۔ اس کا گھر ایک سیف ہاؤس کے طور پہ استعمال ہوتا تھا۔ وہ جانتا تھا وہاں شام سے ایک کانٹیکٹ کی کال ہی آ سکتی تھی، اور اس کو پارسل نہ ملنے کا مطلب بہت واضع تھا۔ جو کچھ اس نے یہاں سے بھیجا تھا، واپس نہیں پہنچا تھا، بلکہ کسی غلط ایڈریس پہ چلا گیا تھا۔ اس نے ایک سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں پیغام کو ڈی کوڈ کیا۔ اس کا بھیجا ہوا لڑکا، عمر واپس نہیں پہنچا تھا۔ بلکہ گرفتار ہو گیا تھا تو یقینا بہت ایمرجنسی سچویشن تھی، اس لیے پیغام اس کے گھر چھوڑ دیا گیا تھا۔ عین ممکن تھا کہ پیغام جس نے بھیجا ہو، وہ بھی جلدی جلدی اپنی جگہ سے پیک اپ کر کے نکل رہی ہو۔ خدایا یہ کیا ہو گیا تھا۔
اس کا لڑکا پکڑا گیا تھا۔ جیل تشدد، اذیت اس کی ہر طرف وہی تنگ و تاریک سیل چھانے لگا۔ ایسے میں کافی، مووی، سب فضول تھا۔
پوری رات وہ اسی صوفے پہ بیٹھا ہینڈلر کی کال کا انتظار کرتا رہا، مگر کال نہیں آئی۔ دو راتوں کی بےخوابی کے باعث صبح تک اس کی آنکھیں سرخ پڑنے لگی تھیں، مگر وہ وہیں بیٹھا رہا۔ ہر کوئی جیل سے فرار نہیں ہو پاتا۔ لوگ برسوں جیل میں سزا اور تشدد کاٹ کر وہیں خاموشی سے جان دے دیتے ہیں۔ ایک اور اسپائی ضائع ہو گیا۔ ایک اثاثہ ضائع ہو گیا۔ اس کی اذیت کی کوئی حد نہیں تھی۔
اس سارے میں حیا کا خیال اس کے ذہن سے بالکل نکل گیا۔ صبح ہوتے ہی وہ واپس چلی گئی۔ جہان نے روکا بھی نہیں۔ اس کے پاس کرنے کو بہت سے دوسرے کام تھے۔
اگلے روز وہ بیوک ادا چلا گیا۔ حیا، پزل باکس، جواہر کا لاکر، اس نے سب کچھ ذہن سے جھٹک کر خود کو ہوٹل گرینڈ میں مصروف کر لیا۔ ریسٹورنٹ میں اس نے بتا دیا تھا کہ اگر اس کی دوست (حیا) شام میں آئے تو کہنا، جہان جلدی اٹھ کر چلا گیا ہے، اگر صبح آئے تو کہنا، وہ آج آیا ہی نہیں۔ چند روز وہ واقعی نہیں آئی۔ عمر کی گرفتاری کی تصدیق ہو گئی۔ پھر انہی دنوں وہ بلآخر خود کو راضی کر کے انقرہ لے آیا۔ یہاں اسے اپنا چیک اپ کرانا تھا، سر کا بدترین درد جو سر سے ہوتا ہوا گردن تک جاتا، اسے اب اس کا علاج چاہیے تھا۔ جیل سے رہا ہونے کے بعد اس نے گردن کے ایک طرف کا ایم آر آئی کروایا تھا، مگر برین ایم آر آئی اس نے نہیں کروایا تھا۔ اپنا درد اس نے ہر جگہ چھپایا تھا، تب اتنی تکلیف ہوتی بھی نہیں تھی۔ یہ وقت کے ساتھ ساتھ بڑھی تھی۔ پانچ سال جہان نے اس اذیت کے ساتھ گزارے تھے، اب بلآخر وہ اس کا سامنا کرنا چاہتا تھا۔
ایم آر آئی سے قبل، سادہ ایکسرے سے ہی سارا معاملہ صاف ہو گیا۔ اس کو ایکسرے دکھانے سے قبل ڈاکٹر نے پوچھا تھا۔
کیا کبھی تمہیں سر پہ کوئی چوٹ آئی تھی۔ کوئی ایکسیڈنٹ جس میں سر کسی چیز سے ٹکرایا ہو؟
ہاں! میری لڑائی ہو گئی تھی کچھ لوگوں سے، انہوں نے میرے سر پر کوئی تلے کی طرح کی چیز سے مارا تھا جس سے سر سے خون بھی نکلا تھا۔ مگر خون اتنا زیادہ نہیں تھا۔ آنکھ کے قریب زخم سا ہوا تھا جس سے تھوڑا سا خون نکل کر کنپٹی تک ہی گرا تھا۔
مجھے افسوس ہے، لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ساتھ ہی ڈاکٹر نے اس کا ایکسرے اس کے سامنے رکھا۔ شاید جس چیز سے ان لوگوں نے تمہیں مارا تھا اس پہ چھوٹی سی کیل لگی ہوئی تھی۔ ایک اشاریہ ایک انچ کی کیل جو تمہاری آنکھ کے قریب گھس گئی تھی۔
اس نے بے اختیار آنکھ کے قریب چہرے پہ ہاتھ رکھا، وہ ایک Object Foregin کے ساتھ پچھلے پانچ برس سے رہ رہا تھا اور اسے کبھی پتا نہیں چل سکا۔
اب کیا ہو گا۔ اسے سمجھ نہیں آیا کہ وہ ماضی کا افسوس کرے یا مستقبل کے لئے فکر مند ہو۔ اسے واقعی کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔
ہمیں سرجری کے ذریعے یہ فارن آبجیکٹ ریموو کرنا پڑے گا، مگر، ڈاکٹر متذبذب سا رک گیا۔
آپ بتا دیں جو بھی بتانا چاہتے ہیں۔ میں تیار ہوں۔ بمشکل اس نے خود کو کمپوز کر لیا تھا۔
دیکھو! میڈیکل ہسٹری میں بہت سے ایسے کیسز آئے ہیں جس میں لوگ برسوں فارن آبجیکٹ کے ساتھ رہتے ہیں اور انہیں علم بھی نہیں ہوتا۔ وہ آدمی جس کے گلے کے قریب چاقو کا پھل، اور میرا مطلب ہے واقعی چاقو کا پھل گھس گیا تھا، چار برس تک اس کو علم ہی نہ ہو سکا کہ اس کے گلے میں کچھ ہے اور جرمنی کی ایک عورت تیس پینتیس برس تک اپنے برین میں آٹھ سینٹی میٹر لمبی پینسل لیے رہی۔ سرجری سے ایسی بہت سی چیزیں نکالی جاتی رہی ہیں، مگر، وہ پھر رکا۔ یہ ننھی سی کیل تمہاری Optic Nerve کے بالکل ساتھ پھنسی ہے۔ چند ملی لیٹر بھی آگے پیچھے ہوتی تو تم اندھے ہو جاتے۔ اب اس سرجری کا کم از کم میں رسک نہیں لوں گا، اس کی کامیابی کا چانس کم اور تمہارے اندھے ہونے کا چانس زیادہ ہے۔
جاری ھے

No comments: