حیا از فاخرہ وحید قسط نمبر 10 Haya By Fakhira Waheed Episode No
حیا
از
فاخرہ وحید
حیا از فاخرہ وحید
قسط نمبر 10
Haya By Fakhira Waheed
Episode No 10
" حیا "
از فاخرہ وحید (فری)
قسط 10
دو سال پہلے حمزہ اور رانیہ کی منگنی ہوئی تھی. دونوں بچپن کے دوست تھے اور ان کے والدین نے ان کی رضامندی سے یہ رشتہ طے کیا تھا. دوستی کو منگنی نے پیار میں بدل دیا تھا. سب جلد از جلد شادی کر دینا چاہتے تھے. لیکن حمزہ ہفتے دو ہفتے بعد بمشکل ایک دن کے لیے آتا. یوں شادی منسوخ ہوتی جا رہی تھی. اور رانیہ کا صبر جواب دے رہا تھا.
اب کے وہ بضد تھی.
اگلےاتوار دونوں کا نکاح تھا. جانے سے پہلے حمزہ نے اس کے لیے ڈنر پلان کیا تھا. ڈنر کے بعد حمزہ اسے اپنے گھر لایا تھا جہاں نکاح کے بعد رانیہ کو آنا تھا. وہ حمزہ کے والدین کا گھر نہیں تھا. حمزہ کا گھر تھا.
وہ دونوں بالکونی میں بیٹھے تھے.
"اپنا وعدہ مت بھول جانا. قسم اٹھائی ہے تم نے میری." رانیہ اسے چوتھی بار یاد دلا رہی تھی.
"ارے یار. تم کیوں اتنا سوچتی ہو. " حمزہ نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر دبایا.
"مجھے پتا ہے تم مصروف ہوتے ہو. دو منٹ میری کال سن لیا کرو. پلیز." حمزہ کے ساتھ ٹیک لگاتے اس نے منت کی تھی.
"اوکے سن لوں گا. " وہ اب اس کا سر تھپتھپا رہا تھا.
"اور جب میسج کروں تو بس ہاں, نا کر دینا.. مجھے تسلی رہے گی. " وہ اس سے ساری باتیں منوا رہی تھی.
"اچھا. " وہ بس اتنا کہہ سکا. پھر کتنی دیر وہ یوں ہی خاموش بیٹھے رہے.
"کیا سوچ رہی ہو." حمزہ نے خاموشی توڑی.
"جلدی آجانا. " حمزہ کے بازو میں اپنا بازو ڈالے اور اسکے بازو پر ٹھوڑی ٹکائے وہ حمزہ کو ہی دیکھ رہی تھی.
"آجاؤں گا. " رانیہ کے چہرے سے بال ہٹاتے وہ دھیمے سے مسکرایا.
"دیر مت کر دینا." وہ اب بھی ویسی ہی باتیں کر رہی تھی.
"کیا ہو گیا ہے تمہیں رانیہ. پہلے تو تم ایسی کبھی نہیں تھی. وہ اب بھی اس کے بالوں سے کھیل رہا تھا. "
"پہلے تم میرے دل کے اتنے قریب بھی تو نہیں تھے. "
"کتنا قریب؟ " حمزہ نے اپنی مسکراہٹ دبائی.
"مان لو تمہیں ہمیشہ سے مجھ پر کرش تھا. "
رانیہ ہنسی.
"تم مان لو کہ تمہیں مجھ سے سیکریٹ محبت تھی." وہ اسی کی بات اس پر ڈال رہی تھی.
"تم اچھے سے جانتی ہو. مجھے تو وہ کالج میں تھی نا چشمش کیا نام تھا اس کا.. آاںں.. ہاں نام پتا نہیں کیا تھا بٹ شی واز لو. " وہ اسے چھیڑ رہا تھا.
"کون؟" وہ سیدھی ہو کر بیٹھ گئی.
"تمہیں نہیں پتا؟ جسے میں ڈیٹ پر لے جایا کرتا تھا. "
"نہیں مجھے نہیں پتا. کون تھی وہ نام یا ڈیپارٹمنٹ بتاؤ." اب وہ جاننا چاہتی تھی.
"تھی کوئی. " حمزہ نے گہرا سانس لیا.
" حمزہ سیدھے سے مجھے بتاؤ کون تھی وہ. "
"بتا دوں؟ "
"ہاں. "
"کان پاس لاؤ. " وہ آگے کو کھسکی. حمزہ اس کی طرف جھکا.
اس ایک لمحے نے اس کے دل کی دھڑکن بڑھا دی تھی. پھر کئی منٹ وہ یوں ہی بیٹھی رہی. اس نے سر اٹھا کر حمزہ کو دیکھا. وہ سنجیدہ تھا.
"تم بدتمیز ہو. " رانیہ نے اس کے بازو پر ہاتھ مارا.
ویسے تم چاہو تو بدلہ لے سکتی ہو" وہ اپنا گال آگے کر کے بیٹھ گیا.
"چل اوئے." رانیہ نے ہاتھ سے اس کا گال پیچھے کیا.
"ویسے مجھے نہیں پتا تھا میری منگیتر بن کر تم ایسی ہو جاؤ گی. " اس کا اشارہ رانیہ کا اس کو لے کر ہر وقت پریشان رہنا تھا.
"اور ایک بات بتاؤ ذرا تم. " حمزہ نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے خود سے الگ کیا.
"جب میں فورسز جوائن کرنے جارہا تھا. تب تو تم مجھے بڑا موٹیویٹ کرتی تھی. اب تم مجھے روکتی ہو." حمزہ نے اپنی چھوٹی آنکھیں اور سکیڑی تھیں.
"ہاں کیوں کہ تب مجھے پتا نہیں تھا کہ تم میرے لائف پارٹنر بن جاؤ گے. " وہ اسی ردھم سے بولی.
"واہ. مطلب دوست مر مک جائے. اپنے لائف پارٹنر کی پرواہ ہے.. کمال.." حمزہ نے بازو ہوا میں اٹھائے.
"نہیں. لیکن تمہیں خود سے دور جاتا دیکھ کر میرا دل ڈوبتا ہے." وہ سر جھکائے اپنی انگلیاں مروڑ رہی تھی.
"تبھی میں تم سے مل کر نہیں جاتا. تمہارے آنسو مجھے روکتے ہیں. " وہ رانیہ کا گاڑی میں مل کر نہ جانے والا شکوہ دور کر رہا تھا.
🌸🌸🌸🌸🌸🌸
وہ چلا گیا تھا. پہلی بار وہ رانیہ سے مل کر جا رہا تھا.
"میری قسم اٹھائی ہے تم نے. توڑ مت دینا. " وہ اب بھی اسے اس کا وعدہ یاد دلانا نہیں بھولی تھی.
لیکن وہ کسی وعدے کا بار اٹھا کر لے جا ہی کہاں رہا تھا. سارے وعدہ یہیں چھوڑ گیا تھا بس کچھ ساتھ تھا تو اپنے وطن کی مٹی سے کیا گیا وعدہ. مرتے دم تک اس کی حفاظت کا وعدہ.
اس کا فون ڈیڈ تھا. وہ میسجز کا جواب نہیں دے سکا تھا. نہ ہی کال اٹھا سکا تھا. دشمن کے روپ میں دشمن کی ہی صف میں کھڑا تھا وہ. اللہ اکبر کے نعرے کے ساتھ دشمن کا قلع قمع کر دیا گیا تھا. حمزہ کو بحفاظت ہیڈ کوارٹر پہنچا دیا گیا.
وہ واپس جا رہا تھا. رانیہ اس کا انتظار کر رہی تھی. اس نے فون چارج کیا. رانیہ کے 61 وائس میسجز. 124 ٹیکسٹ میسج اور مختلف دنوں میں کی گئی جانے کتنی کالز اس کا انتظار کر رہی تھیں.
اس نے نہ میسج پڑھے نا ہی کال کی. وہ اسے سر پرائز دینا چاہتا تھا. اسے پتا تھا وہ خفا ہو گی. لیکن خود پر یقین تھا کہ وہ ہر بار کی طرح اس بار بھی اسے منا لے گا. لیکن اسے کہاں معلوم تھا کہ وہاں وہ اس کے لیے سرپراز لیے ہوئے تھی ایسا سرپرائز جس کے شاک سے وہ ساری زندگی نہ نکل پاتا.
🌸🌸🌸🌸🌸🌸
وہ ساری رات یوں ہی بالکونی میں بیٹھا رہا تھا. اس کے زخم تازہ ہو گئے تھے. کمرے کی حالت یوں تھی جیسے کوئی طوفان آکر گزر گیا ہو. ہر چیز فرش پر تھی. بیڈ کی چادر سمٹی پڑی تھی. پرفیوم کی شیشیاں ٹوٹی ہوئی تھیں. دیوار پر جہاں وہ تصویریں لٹکی تھیں اب کچھ مدھم نشان تھے.
وہ پھر اپنی سوچوں کے کٹہرے میں آ کھڑا ہوا تھا. وہ اسے کہتی رہی کہ وہ اسے کھو دے گا. وہ نہ آیا تو وہ مر جائے گی. وہ نہیں آیا تھا اور وہ مر گئی تھی.
حمزہ وہاں دشمن کی تباہی کے منصوبے بنا رہا تھا اور یہاں اس کی اپنی تباہی اس کی منتظر تھی. انسان کتنا بھی مضبوط ہو اپنے سے جڑے لوگوں کے لیے وہ موم ہو جاتا ہے. حمزہ تو ٹوٹ گیا تھا.
حمزہ نے چند دن پہلے جس ڈرگ سمگلنگ گروہ کو پکڑا تھا. وہ اپنا بدلہ لینے آپہنچے تھے.
رانیہ کے جسم میں ڈرگ کی بھاری مقدار انجیکشنز کے ذریعے بھری گئی تھی. اور پھر اسے اپنی حوس کا نشانہ بنایا گیا تھا. حمزہ کی للکار کو رانیہ کی چیخوں میں بدل دیا گیا تھا. اس کے جسم پر جگہ جگہ حمزہ کے لیے نفرت بھرے الفاظ گاڑے گئے تھے. اور غضب یہ اس تکلیف دہ عمل کو کیمرے میں ریکارڈ کر کے حمزہ کو بھیجا گیا تھا.
دیکھنے والوں کی روح کانپ اٹھی تھی. حمزہ تو جیسے بولنا ہی بھول گیا تھا. وڈیو میں رانیہ کی چیخیں رہے سہے حمزہ پر آخری ضربیں لگا رہی تھیں.
"تم نہ آئے تو میں مر جاؤں گی." رانیہ کی آواز اس کے کانوں میں گونجتی رہتی.
میں نے اپنی قسم توڑ دی. وہ اب اپنا سر ہاتھوں میں گرائے خود کو کوس رہا تھا. میں نے ایک میسج کھول کر دیکھا ہوتا. ایک کال سنی ہوتی. وہ پچھتا رہا تھا.
"حمزہ مجھے کچھ اچھا محسوس نہیں ہوتا. مجھے عجیب عجیب خواب آتے ہیں. کوئی مجھے کھینچ رہا ہے. میں چیخ رہی ہوں. تم کھڑے ہو لیکن مجھے بچانے آگے نہیں بڑھ رہے
حمزہ." وہ پریشان تھی.
"تم ہمیشہ میرے ساتھ رہنا پلیز. " آخری وائس میسج حمزہ نے سنا.
کئی دن وہ کمرے سے باہر نہیں نکلا تھا. بار بار وہ رانیہ کے میسج پڑھتا. اس کے وائس میسج سنتا. وہ خود کو ذمہ دار سمجھتا تھا. . وہ اپنے ضمیر کے کٹہرے میں خود کو سزا کا حق دار کہہ چکا تھا. وہ خود کو اذیت دینا چاہتا تھا. اور وہ دے رہا تھا.
وہ آنکھیں بند کرتا تو رانیہ کا چہرہ اسے سکون نہیں لینے دیتا. وہ آنکھیں کھولتا تو اس کی آواز اسے اپنے کانوں میں گونجتی محسوس ہوتی.
(جاری ہے)

No comments: