Ads Top

ﻧﺎﻭﻝ رکھیل از ریاض_عاقب_کوہلر قسط نمبر 25

ﻧﺎﻭﻝ  رکھیل

  از 

 ریاض_عاقب_کوہلر


رکھیل#
قسط نمبر25#
ریاض_عاقب_کوہلر#
تناوش کا سر نفی میں ہلا اور اس کے ساتھ ہی اس نے ہاتھ میں پکڑا کبیردادا کا کوٹ جس کی جیب میں پستول پڑا تھا ایک جانب پڑے صوفے کی طرف اچھال دیا ۔کبیردادا کا دماغ بھک سے اڑ گیا تھا ۔وہ ہکا بکا اسے گھورتا رہ گیا ۔جانے تناوش کے دماغ میں کیا چل رہا تھا ۔
”تت....تناوش پلیز ۔“وہ منمنایا۔
”نہیں ۔“اس کی آواز سرگوشی سے بلند نہیں تھی ،مگر کبیردادا کو یوں صاف سنائی دے رہی تھی جیسے وہ اس کے کانوں میں بول رہی ہو ۔”حفاظت کا وعدہ کیا تھا نا ،تو پورا کریں ۔آپ کی دلھن ،آپ کی گڑیا ،آپ کی چندا ،صرف اور صرف آپ کی تناوش کو آپ کی ضرورت ہے ۔اگر حفاظت نہیں کر سکتے تو اس کا انجام بھی اپنی آنکھوں سے دیکھتے جائیں ۔“
اسی وقت شمشیر دادا نخوت سے چلتا ہوا تناوش کے قریب پہنچ گیا تھا۔اس کی طرف توجہ دیے بغیر وہ کبیر دادا کو گھورتی رہی ۔اسے بازور سے پکڑ کر شمشیر دادا نے اوپر اٹھایا ۔وہ چھوٹی سی لڑکی اس دیو کے سامنے نظر بھی نہیں آرہی تھی ۔
”یہ ہے وہ فاحشہ ،جس کی وجہ سے یہ سب کھٹ راگ پھیلا ہے ۔“شمشیر دادا کے لہجے میں غصہ اور نفرت ابل رہی تھی ۔تناوش کی وجہ سے کبیر دادا کا خودسے مقابلہ کرنا اسے ہضم نہیں ہو رہا تھا ۔”بڑی آئی دوپٹے والی ۔“اس نے ایک ہاتھ سے تناوش کے سر پر اوڑھا دوپٹا کھینچ کر اتارا اور دور اچھال دیا ۔اس کے کالے سیاہ بال بکھر کر رہ گئے تھے ۔
”لے بھئی ،اس اپسرا کو مکمل دیکھنے کا خواب تو ابھی پورا ہو جائے گا ۔“نوشاد نے اخلاق حسین کی طرف جھکتے ہوئے غلیظ زبان کھولی ۔
”شرم کرو ،تمھاری محبوبہ کو شمشیر دادا یوں بے عزت کر رہا ہے ۔“اخلاق حسین نے مزاحیہ انداز میں جواب دیا ۔
نوشاد فکر مندی سے بولا ۔”یار ،کہیں مار ہی نہ دے بے چاری کو ،باقی تو خیر ہے میرے جشن منانے کی ساری تیاری دھری کی دھری رہ جائے گی ۔“
”کچھ نہیں ہوتا فاحشہ کو ۔“نفرت بھرے لہجے میں کہہ کر اخلاق حسین وہ دل پسند تماشا دیکھنے لگا ۔
تناوش منھ سے کوئی آواز نکالے بغیر کبیر دادا کی طرف دیکھ رہی تھی ۔نہ کوئی رونا پیٹنا اور نہ شمشیر دادا سے بچنے کی کوشش کرنا۔اس کا مان ،اس کا ہیرو ،اس کا محافظ زمین پر لہو لہان پڑا تھا تو وہ کمزور ،نرم و نازک لڑکی کیا کرسکتی تھی ۔اور پھر کبیردادا کے جسم کے اندر ایک انجانی قوت نے سر ابھارا۔ ایک ایسی قوت جس کا تعلق جسمانی طاقت سے نہیں ہوتا ۔یہ جان بچانے کی جبلت سے بھی کوئی آگے کی چیز تھی ۔ چھاتی کے سامنے بازو ٹیکتے ہوئے وہ لرزتے ہوئے اٹھا ،مگر جب کھڑا ہوا تو اس کے جسم میں لرزش ختم ہو گئی تھی ۔
شمشیر دادا کا ہاتھ تناوش کے گریبان کی طرف بڑھ رہا تھا جب اس نے زوردار آواز میں پکارا ۔
”شمشیر علی !....لڑائی ختم نہیں ہوئی ۔“
شمشیردادا کو حیرت کا جھٹکا لگا تھا ۔زندگی میں پہلی بار کبیر دادا نے اس انداز میں آواز دی تھی ۔تناوش کا بازو چھوڑ کر وہ غضب ناک انداز میں اس کی جانب بڑھا ۔قریب پہنچتے ہی اس نے دائیں ہاتھ کی مٹھی بند کی اس کا ہتھوڑا نما مکا پوری قوت سے کبیردادا کے چہرے کی طرف بڑھا ۔مکے اور چہرے کا اتصال ہو جاتا تو شاید کبیر دادا کا چہرہ پہچان کے قابل ہی نہ رہتا ۔لیکن کبیردادا نے بجلی کی سی سرعت سے اپنا چہرہ چند انچ ایک جانب ہٹایااور پھر اس سے پہلے کہ شمشیر دادا کا ہاتھ واپس لوٹتا ،اس نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اس کی کلائی پکڑ کر ہاتھ کو پیچھے ہٹنے سے روک دیا ایسا کرتے ہوئے کبیر دادا ذرا سا لڑکھڑایا بھی تھا ۔لیکن پھر اپنے قدم زمین پر جماتے ہوئے اس نے بائیں سے شمشیر دادا کی کلائی تھامتے ہوئے دائیں ہاتھ کی ہتھیلی پوری قوت سے شمشیر دادا کی کہنی کے جوڑ کے نیچے رسید کی ۔یہ اس کا پسندیدہ داﺅ تھا ۔”کٹاک ۔“کی آواز کے ساتھ شمشیر دادا کی کہنی کا جوڑ ٹوٹ گیا تھا ۔اس کے ہونٹوں سے تیز کراہ خارج ہوئی اور وہ تکلیف کی شدت سے دہرا ہو گیا تھا ۔کبیر دادا کی حرکت رکی نہیں تھی ۔اس کا دایاں ہاتھ چھوڑ کر بایاں ہاتھ پکڑتے ہوئے کبیر دادا نے چکر کاٹتے ہوئے اس کا بازو مروڑا اور اچھل کر اپنے دونوں پاﺅں اس کی پیٹھ پر ٹیکتے ہوئے اس نے زوردار جھٹکے سے شمشیر دادا کا بازو پیچھے کھینچا ۔اس طرح زور لگانے کی وجہ سے دونوں بازوﺅں کے ساتھ اس کے پورے جسم کی طاقت بھی شامل ہوگئی تھی ۔ ایک اور ”کٹاک“کی آواز ابھری ۔اس مرتبہ شمشیر دادا اپنی چیخ نہیں روک سکا تھا ۔اس کا جسم لرزنا شروع ہو گیا تھا ۔کبیر دادا اس کے بازو کو کھینچنے کی وجہ سے پیچھے گرا تھا ۔وہ اٹھ کر شمشیر دادا کے سامنے آیا ۔شمشیر دادا گھٹنوں کے بل بیٹھا تھا اوراس کا چہرہ تکلیف کی شدت سے مسخ ہو گیا تھا ۔
اسی وقت پاشا کی کار شہاب قصوری کی کوٹھی میں داخل ہوئی ۔کار روک کر وہ دروازہ بند کیے بغیر بھاگتا ہوا اندر ہال کی طرف بڑھا ۔اندر گھستے ہی اسے کبیر دادا ،شمشیر داداکے سامنے کھڑانظر آیا اس کے قدم آہستہ ہوئے اور وہ دھیرے قدموں سے اس طرف بڑھنے لگا ۔
کبیردادا کو سامنے کھڑے دیکھ کر شمشیرداداکے چہرے پر اذیت بھری ہنسی نمودار ہوئی۔ ”تم جیت گئے کبیر ۔“
کبیردادا کی آنکھوں میں نمی ابھری ۔”اگر صرف میری جان کو خطرہ ہوتا تو شاید نہ جیتتا دادا۔“
”تم نے یہ داﺅ پہلے تو کبھی نہیں آزمایا برخوردار۔“شمشیر دادا کا پر اذیت لہجہ تحسین سے بھرا تھا ۔
”یہ داﺅ دوستانہ لڑائی کے لیے نہیں ہے دادا ،یہ صرف دشمنوں کے خلاف استعمال ہو سکتا ہے ۔“
”مجھے زندہ چھوڑ دو گے ۔“شمشیر دادا نے پوچھا ۔
کبیر دادا آنکھوں میں نمی لیے اس کے قریب ہوا دونوں ہاتھوں سے اس کا چہرہ تھام کر اس کے ماتھے پر بوسا دیا اور اس کی پشت کی جانب گھوم کر اس نے شمشیر دادا کے کان میں سرگوشی کی ۔
”کاش میں آپ کو زندہ چھوڑ سکتا ،آپ نے تناوش کا دوپٹا اتارا ہے اور یاد ہے میں نے کیا کہا تھا کہ اس کے لیے میں کم سے کم اپنی جان دے سکتا ہوں اور زیادہ یہ کہ اپنے استاد کی جان بھی لے سکتا ہوں ۔“یہ کہتے ہی اس نے ایک ہاتھ شمشیر دادا کی ٹھوڑی کے نیچے رکھا اور دوسرا ہاتھ سر پر رکھ کر دونوں ہاتھوں کو مخالف جانب جھٹکا دیا ۔”کٹاک “کی آواز ابھری اور شمشیر دادا نیچے گر کر تڑپنے لگا ۔
کبیر دادا سیدھا ہوا ایک دم نقاہت اس پر حملہ آور ہوئی اور اس کے قدم لڑکھڑا گئے تھے ۔اسی وقت ہکا بکا ساکت کھڑی تناوش کے جسم میں حرکت پیدا ہوئی اور وہ بھاگ کر کبیر دادا کی طرف بڑھی ۔
کبیردادانے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر بازو کھولے اور وہ اس کے بازوﺅں میں سما گئی تھی۔
”میرے عبدالکبیر....“تناوش کے ہونٹوں سے سسکنے کے اندز میں نکلا اور وہ کبیر دادا کے بازوﺅں میں جھول گئی ۔اس کے حواس نے ساتھ چھوڑ دیا تھا ۔کبیردادا میں اتنی ہمت مفقود تھی کہ اسے اٹھا کر صوفے کی طرف جا سکتا ۔اسی وقت اس کے کانوں میں پاشا کی آواز گونجی ۔
”دادا آپ ٹھیک ہیں ۔“
کبیردادا اس کی طرف متوجہ ہوا ۔”پاشا ،اپنی بہن کو صوفے پر لٹا دو ،یہ بے ہوش ہو گئی ہے ۔“
پاشا اس کی گود سے تناوش کو اٹھا کر صوفے کی طرف بڑھ گیا ۔کاشف راجپوت نے قریب پہنچ کر اسے سہارا دیا اور صوفے پر جا کر بٹھا دیا ۔تمام گینگسٹرز کے چہروں پر حیرت جیسے ثبت ہو گئی تھی ۔وہ تو کبیر دادا پر فاتحہ پڑھ چکے تھے اور ایک دم مرنے والا زندہ ہو گیا تھا ۔
”مبارک ہو ۔“رخسانہ نے فرحانہ کے کان میں سر گوشی کی ۔
”خاک مبارک ۔“فرحانہ نے منھ بنایا۔”اس کمینی کی ڈراما بازی دیکھی ہے ۔“
رخسانہ نے متبسم ہو کر کہا ۔”وہ اس کی بیوی ہے یار !“
”زیادہ عرصہ نہیں رہے گی ۔“فرحانہ کا لہجہ اعتماد سے پر تھا ۔
”سارے قریب قریب آجائیں ۔“کبیر دادا نے صوفے پر بیٹھتے ہی تمام کو پاس بلایا۔
تمام کبیردادا کے دائیں بائیں پڑے صوفوں پر آن بیٹھے تھے ۔
”تم دونوں کھڑے ہو جاﺅ ۔“کبیردادا نے نوشاد اور اخلاق کو اشارہ کیا جو اپنے خشک ہوتے ہونٹوں کو بار بار تر کر رہے تھے ۔
تھوک نگلتے ہوئے دونوں کھڑے ہو گئے تھے ۔اسی وقت تناوش آنکھیں کھولتے ہوئے اٹھ بیٹھی ۔سر پر دوپٹا لپیٹ کر وہ بھاگ کر کبیر دادا کے قریب پہنچی اور بے باکی سے اس سے ساتھ جڑ کر بیٹھ گئی ۔کبیردادا اس کی طرف توجہ دیے بغیر اخلاق حسین اور نوشاد کی طرف متوجہ تھا ۔
”مسٹر اخلاق حسین شاہ !....اب ذرا تفصیل سے تمام واقعے پر روشنی ڈالیں ۔ “
”وہ ....کک....کبیر دادا،میں نے تو بس ....“اس نے ہکلا کے کوئی بہانہ گھڑنا چاہا مگر اس کی بدقسمتی کہ وہ تھوڑی دیر پہلے خود اعتراف کر چکا تھا ۔اس کے تو وہم وہ گمان میں بھی نہیں تھا کہ کبیر دادا بچ جائے گا ۔ان کی امیدوں کے مرکز شمشیر دادا کی لاش کو ،شہاب قصوری کے آدمی اٹھا کر باہر لے جا رہے تھے ۔
تناوش نے میز پر پڑے پانی کے جگ سے اپنے دوپٹے کا پلو گیلا کیا اور کبیردادا کے ماتھے ،گالوں اور کانوں پر لگا خون صاف کرنے لگی ۔اسے نہ تو وہاں پر موجودعورتوں سے کوئی شرم محسوس ہو رہی تھی اور نہ مردوں ہی کی کوئی پروا تھی ۔کبیر دادا نے بھی اسے روکنے ،ٹوکنے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی ۔وہ جانتا تھا کہ وہ جس جذباتی دھچکے سے گزری تھی اس کے بعد وہ روایتی شرم و حیا کو بھول گئی تھی ۔
”اخلاق حسین !....مجھے اگلوانے کے کئی طریقے معلوم ہیں اور یقینا تم مجھ سے اچھی طرح واقف بھی ہو ۔“
گہرا سانس لے کر اخلاق حسین نے غیر ہوتی حالت کو سنبھالا اور پھر پھنسی پھنسی آواز میں بولا ۔”ایس پی ضمیر حسین کو میں نے اور نوشاد آفریدی نے قتل کرایا ہے اور قتل کا الزام آپ کے سر ڈال دیا ۔جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس میں آپ کا کوئی ہاتھ نہیں ہے ۔“
کبیردادا سرد لہجے میں بولا ۔”فصیح الدین کے قتل کی حقیقت بھی اگلو ۔“
”ایس پی ضمیر حسین نے مسز کبیردادا کو اغواءکرا کے فصیح الدین کی بے خبری میں اس کی کوٹھی میں پہنچایا اور اسے ایسے نشے کا ٹیکہ لگایا جس سے وہ بہ ظاہر ہوش میں لگتے ہوئے بھی ہوش میں نہیں تھی ۔اس وجہ سے فصٰح الدین کو بھی یہ معلوم نہ ہو سکا کہ لڑکی اپنی مرضی سے آئی ہے یا اسے اغواءکر کے وہاں پہنچایا گیا ہے ۔اور جیسے ہی وہ کمرے میں داخل ہوا ایس پی کے ایک آدمی نے کبیردادا کو فون کر دیا ۔اورکبیردادا نے یہ سمجھا کہ اس کی بیوی کو فاصی نے اغواءکرایا ہے ۔“
”یقینا آپ دونوں کو حقیقت واضح ہو گئی ہو گی ۔“کبیردادا نے فصیح الدین کی بیوی کرن اور سلطانہ کو ایک ساتھ مخاطب ہوا تھا ۔دونوں کے چہروں پر خجالت نمایاں نظر آرہی تھی ۔ کہاں تو وہ کبیردادا کو اپنے شوہر کا قاتل سمجھ کر بددعاﺅں اور کوسنوں سے نواز رہی تھیں اور حقیقت کھلتے ہی ان پر ندامت حملہ آور ہو گئی تھی ۔
کرن کی آواز ابھری ۔”ہمیں انصاف چاہیے ۔“
”ملے گا ۔“کبیر دادا نے اثبات میں سر ہلایا۔کبیردادا نے تمام پر سرسری نگاہ دوڑائی اس کی نظریں فرحانہ پر آکر رک گئی تھیں جو نفی میں سر ہلاتے ہوئے گویا باپ کی معافی کی طلب گار تھی ۔اپنے بارے اس کے دل میں چھپے جذبات سے بھی کبیر دادا اچھی طرح واقف تھا ۔
اس کے زخموں کو صاف کرتی تناوش نے اچانک اس کے کان سے منھ لگا کر کہا ۔ ”مزید کوئی قتل نہیں ہوگا ۔“
کھنکار کر گلا صاف کرتے ہوئے وہ گویا ہوا ۔”تھوڑی دیر پہلے ان دونوں حضرات کا قتل میرے سر لگا تھا اور شمشیر دادا نے فیصلہ کیا تھا کہ میں دونوں بیواﺅں کو پندرہ کروڑ روپیا ادا کر کے معافی مانگوں گا ۔وہ فیصلہ میں تم دونوں پر بھی لاگو کرتا ہوں ۔تم دونوں اپنی اپنی جگہ پندرہ پندرہ کروڑ دونوں بیواﺅں کو دو گے اور ہاتھ باندھ کر معافی مانگو گے ۔کیا تمھیں یہ منظور ہے ۔“
ان کے چہروں پر اطمینان ابھرا اور وہ بیک زبان بولے ۔”منظور ہے ۔“
”یہ تو تھا ناجائز قتل ہونے والوں کا فیصلہ ا ب جو سازش میرے خلاف تیار کی گئی تھی ، اس کے لیے بھی وہی فیصلہ ہو گا جو شمشیر دادا نے کیا تھا ۔آج کی رات فرحانہ میرے ساتھ گزارے گی اور کل نغمہ بیگم ،اس پر کوئی اعتراض ؟“
کبیردادا کی بات پر فرحانہ کا چہرہ خوشی سے کھل اٹھا تھا ۔اس نے شرما کر سر جھکالیا تھا ۔ اخلاق حسین اور نوشاد کے چہروں پر بارہ بجنے لگے تھے ۔
اخلاق حسین ہکلایا۔”ہم معافی چاہتے ہیں کبیر دادا ،ہم سے غلطی ہوئی ۔کوئی اور سزا تجویز کر دیں ۔“
کبیردادا زہر خند لہجے میں بولا ۔”جب یہ سزا شمشیر دادا نے میری بیوی کے لیے تجویز کی تھی اس وقت تو تم خاموش بیٹھے رہے ۔“
کبیر دادا کی بات پر دونوں نے سر جھکا لیا تھا ۔
”آپ ایسا کچھ نہیں کرنے والے اور اٹھیں اب آرام کریں ۔“تناوش اس بات پر کہاں راضی ہو سکتی تھی ۔فوراََ کھڑے ہو کر کبیردادا کا بازو کھینچنے لگی ۔
”چلتے ہیں نا ۔“کبیردادا نے اسے منع کرنا چاہا ۔
”کہہ دیا نا اٹھیں ۔“تناوش کا لہجہ کسی اکھڑ مزاج بیوی کا سا تھا ۔
”اخلاق حسین اور نوشاد آفریدی ،میں ضرور ایسا ہی کرتا ،مگر دعا دو اس کو جس کے خلاف تم کھڈا کھودتے رہے ہو ۔“کبیردادا آہستہ آہستہ کھڑا ہو گیا ۔
”بھیا !“تناوش نے پاشا کو پکارا ۔اور پاشا نے فوراََ آگے بڑھ کر کبیر دادا کو سہارا دے دیا ۔
”کمینی ۔“فرحانہ نے رخسانہ کے کان میں سرگوشی کی ۔”کتنا اچھا موقع مل رہا تھا ۔ سچ میں میں اسے صبح تک شادی کے لیے راضی کر لیتی ۔“
”احمقانہ باتیں نہ کرو بے وقوف ۔“رخسانہ اسے ڈانٹے بنا نہیں رہ سکی تھی ۔کبیردادا کے جانے کے بعد باقی بھی وہاں سے رخصت ہونے لگے ۔
٭٭٭
ڈاکٹر نے کبیردادا کے زخموں پر لگانے کے لیے پائیوڈین دی اور کھانے کے لیے درد کش اور سکون آور گولیاں دے کر رخصت ہو گیا ۔وہ ڈاکٹر کبیردادا کے گینگ کا حصہ ہی تھا ۔
تناوش دودھ گرم کرکے لے آئی ۔اس کے گولیاں لیتے ہی پاشا کھڑا ہوتا ہوا بولا ۔
”اب آپ آرام کریں ۔“اور کبیردادا کے سر ہلانے پر وہ کمرے سے نکل گیا ۔
دودھ کا خالی گلاس کبیر دادا کے ہاتھوں سے لے کر اس نے تپائی پر رکھا اور سر کے نیچے دو تکیے رکھ کر اسے سہارا دے کر لٹانے لگی ۔
”درد تو نہیں ہو رہا۔“اس کا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں بھرتے ہوئے وہ چاہت سے پوچھنے لگی ۔
کبیردادا متبسم ہوا ۔”اگر ہو رہا ہوا تو تم کیا کرو گی ۔“
وہ شوخی سے بولی ۔”پھر میں تکیے کے بجائے آپ کا سر اپنی گود میں رکھ لوں گی اور درد ختم ہو جائے گا ۔“
”جب یہ چہرہ میری آنکھوں کے سامنے مسکراتا ہوا موجود ہو نا تو مجھے گردن کٹ جانے پر بھی تکلیف نہیں ہو گی ۔“
وہ ناز سے مسکرائی ۔”جھوٹا ۔“
”جھوٹا کسے کہا؟“کبیردادا نے مصنوعی غصہ ظاہر کیا ۔
وہ اطمینان بھرے لہجے میں بولی ۔”جھوٹے کو ۔“
کبیردادا چند لمحے اس کے چہرے کو دیکھتا رہا اور پھر اس نے دونوں بازو واکیے ۔وہ فوراََ اس کے سینے پر سر رکھ کر لیٹ گئی ۔اس کے ساتھ ہی اس کے دماغ میں لڑائی کا منظر جاگا اور وہ گلوگیر لہجے میں بولی ۔
”میں ڈر گئی تھی کبیر !....مجھے لگا میں آپ کو کھو دوں گی ۔“
اس کی ریشمی زلفوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے کبیردادا کہنے لگا ۔”تمھاری دعائیں میرے ساتھ تھیں نا ،مجھے بھلا کیا ہو سکتا تھا ۔“
اسے ربّ سے کیا ہوا وعدہ یاد آیا اور وہ کہنے لگی ۔”ایک بات مانیں گے ۔“
”کبھی ٹالی بھی ہے ۔“
”یہ سارے کام چھوڑو ،کہیں دور چلے جاتے ہیں ،ایک چھوٹا سا گھر جہاں بس میں اور آپ ہوں گے ۔کوئی خوف ،کوئی ڈر ،کوئی قتل و غارت ،کوئی سازش نہیں ہو گی ۔“وہ جیسے سپنوں میں کھو گئی تھی ۔
”تو تمھارا خیال ہے یہ اتنا آسان ہے ۔“
”کیوں ؟“اس نے سر اٹھا کر کبیردادا کی آنکھوں میں جھانکا جہاں اضطراب کی لہریں اٹھ رہی تھیں ۔
”اس راستے پر کوئی یوٹرن موجود نہیں ہے میری جان ۔یہ سارے گینگسٹر میری جان کے دشمن بن جائیں گے ۔“
”مگر کس لیے ؟“وہ پریشان ہو گئی تھی ۔اس نے تو سوچا تھا کہ وہ کبیردادا سے ہر بات آسانی سے منوا لے گی مگر یہ نہیں جانتی تھی کہ کبیردادا مجبور بھی ہو سکتا ہے۔اورجس کام میں کبیردادا کی جان کو کوئی خطرہ ہوتا اس کے تو وہ قریب بھی پھٹکنا نہیں چاہتی تھی ۔کبیردادا اس کے لیے کتنا اہم تھا اس بارے اسے صحیح اندازہ تب ہوا تھا جب کبیردادا زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہا تھا ۔
”کیوں کہ میں تمام کے راز جانتا ہوں ۔زیر زمین دنیا کے کام کے طریقہ کار سے مکمل واقفیت رکھتا ہوں ۔اور میرے علاحدہ ہوجانے کی صورت میں انھیں ہمیشہ یہ خطرہ رہے گا کہ میں قانوں نافذ کرنے والے اداروں کو مخبری نہ کر دوں میرا وجود ان کے سر پر لٹکتی ہوئی ننگی تلوار کی مانند ہوگا ۔وہ ہر قیمت پر میری جان لینا چاہیں گے ۔اور یہی اس دنیا کا اصول ہے۔یہاں ہر کسی کو بڑی آسانی سے خوش آمدیدکہا جاتا ہے ۔آنے والے کے لیے کئی دروازے کھلے ہیں ۔ لیکن واپسی کاصرف ایک رستا ہے اور وہ ہے موت ۔“
”تو آپ کو کس نے کہا تھا غنڈہ بننے کو محنت مزدوری کرتے ،کوئی سبزی کی ریڑھی ہی لگا لیتے ۔مجھے تو آپ کے ساتھ جھونپڑی میں رہنا بھی قبول تھا ۔“
”پگلی ،تم مجھے گینگسٹر ہونے کی وجہ سے تو ملی ہو ۔“یہ کہتے ہوئے وہ شرارتی انداز میں ہنسا ۔”مزدور ہوتا تو تم نے میری جانب دیکھنا بھی نہیں تھا ۔یوں بھی اب تک کئی بچوں کا باپ بن گیا ہوتا ۔“
”میں آپ کی دوسری بیوی بن جاتی ۔“وہ ہٹ دھرمی پر اتر آئی ۔”آپ کی پہلی بیوی کی بھی خدمت کرتی وہ ضرور مجھے قبول کر لیتی ۔“
کبیردادا نے کہا ۔”مطلب میرے لیے دوسری شادی کا دروازہ کھلا ہے ۔“
”میں اپنی جان لے لوں گی ۔“روہانسا ہو کر اس نے کبیردادا کی چھاتی پر تھپڑا مارا ۔ کبیردادا کے چہرے پر تکلیف ابھرتی دیکھ کر وہ فوراََ اس کی چھاتی سہلانے لگی ۔
سوری میری جان ،مجھے یاد نہیں رہا تھا ۔“
کبیردادا نے قہقہہ لگایا۔”مذاق کر رہا تھا پگلی ۔ان ملائم ہاتھوں سے بھی چوٹ لگ سکتی ہے بھلا ۔“اس نے تناوش کا ہاتھ پکڑ کر ہونٹوں سے لگا لیا ۔
”تو ڈرایا کیوں ؟“اس نے منھ بسورا۔”اور خبردار اگر دوسری شادی کا نام لیا ،سچ میں کچھ کھا کر جان دے دوں گی پھر روتے رہنا ۔“
”یار ہر وقت دھمکیاں دینا اچھا تو نہیں ہوتا ۔“
”اس کے علاوہ آپ سدھرتے بھی نہیں ہیں نا ۔“مسکراتے ہوئے وہ اٹھی ۔”اچھا میں نماز پڑھ لوں ۔اور یاد ہے نا آپ نے بھی وعدہ کیا تھا ۔“
”وہ اس صورت میں کہ تم تین دن حیدر آباد گزارو گی ۔“
”اچھا یہ بات ہے ۔“وہ تیکھے لہجے میں بولی ۔”ٹھیک ہے میں بہرام بھیا کو کہہ دیتی ہوں مجھے امی کے گھر چھوڑ دے ۔چار دنوں بعد لوٹ آﺅں گی ۔“
”جاﺅ ....“کبیردادا نے بے پروائی سے کہا ۔”اگر واپسی پر تمھیں زندہ ملا تو ضرور شرط پوری کروں گا ۔“
”یوں مرنے کا ذکر کر کے مجھے تکلیف دیتے ہوئے مزہ آتا ہے شاید ۔“ناراضی بھرے لہجے میں کہتے ہوئے وہ غسل خانے میں گھس گئی ۔
٭٭٭
کبیر دادا کی خواب گاہ سے نکل کر پاشا پارکنگ کی طرف بڑھا ۔اپنے محافظوں کو اس نے کال کر کے تیار ہونے کا بتا دیا تھا ۔ملازموں کے کوارٹر کے سامنے اسے باقر اور رخسار پریشان بیٹھے نظر آئے ۔پاشا کو دیکھتے ہی وہ اس کی طرف بڑھے ۔
رخسار نے کہا ۔”دادا ،ہم آپ کے پاس ہی آنے والے تھے ۔“
”کیوں خیریت ؟“اس نے حیرانی بھرے لہجے میں پوچھا ۔
”دادا ،ہم بے خبری میں مار کھا گئے ۔انھوں نے پولیس کی وردیوں میں قریب آکر ایک دم ہی ہمارے سروں پر رائفلیں تان لی تھیں ۔“
”چلو ٹھیک ہے ،جو ہوا سو ہوا ۔اب پریشانی کیا ہے ؟“
”کبیردادا ،تو یہ نہیں کہیں گے کہ جو ہوا سو ہوا ....انھوں نے تو رخصت کرتے وقت ہمیں ہوشیار رہنے کی خصوصی تاکید کی تھی ۔اور اب یقینا وہ ہماری چمڑی ادھیڑ دیں گے ۔پلیز دادا ہماری سفارش کر دیں ۔“دونوں کی شکل رونے والی ہوگئی تھی ۔
”یار،ابھی تو میں جا رہا ہوں شہاب قصوری کی کوٹھی میں وہاں شمشیر دادا کی لاش کا کچھ بندوبست کرنا ہوگا ۔میری واپسی تک کبیردادا سو جائیں گے ۔البتہ کل ان سے ضرور بات کر لوں گا۔“
”اگر اس سے پہلے انھوں نے ہمیں طلب کر لیا تو ۔“باقر نے اندیشہ ظاہر کیا ۔
اچانک ایک خیال آنے پر پاشا مسکراتے ہوئے بولا ۔”اچھا ایک حل ہے ،تمھیں تھوڑی سی ہمت کرنا پڑے گی ۔اس کے بعد یقین مانوباز پرس تو چھوڑو کبیر دادا اس واقعے کا ذکربھی تم دونوں کے سامنے نہیں کرے گا ۔“
”آپ حل بتائیں دادا ،ہمت ہم میں بہت ہے ۔“دونوں حل جاننے کے لیے بے تاب نظر آنے لگے ۔
”ایسا کرو گڑیا کو جا کر اپنی پریشانی بتا دو ، پھر وہ جانے اور کبیر دادا ۔تم دونوں کو کوئی افف تک نہیں کرے گا ۔“
”گڑیا ؟“وہ بیک زبان سوالیہ لہجے میں بولے ۔
”یار بیگم صاحبہ کی بات کر رہا ہوں ۔“پاشا نے وضاحت کی ۔
”ان سے کیسے بات ہو سکے گی اس وقت ۔“رخسار نے حیرانی سے پوچھا ۔”خواب گاہ کے دروازے پر دستک دینے سے تو رہے ۔“
”اس نے عشاءکی نماز اب تک نہیں پڑھی ۔اور وہ نماز خواب گاہ کے ساتھ والے کمرے میں پڑھتی ہے ۔شاید اب تک وضو کر کے نکل آئی ہو یا تھوڑی دیر تک نکلے گی ،تم بس ڈرائینگ روم میں اس کا انتظار کرنا ۔“یہ کہتے ہی پاشا نے کار آگے بڑھا دی ۔اس کے محافظوں کی جیپ اس کے پیچھے چل پڑی تھی ۔
”کیا کریں ؟“پاشا کے جاتے ہی باقر نے پوچھا ۔
”کوشش کرتے ہیں ۔“رخسار نے ہمت کر تے ہوئے ڈرائینگ روم کی طرف قدم بڑھا دیے ۔باقر بھی دھڑکتے دل کے ساتھ اس کے ساتھ ہو لیا تھا ۔
وہ ڈرے ڈرے خواب گاہ کے باہر کھڑے ہو گئے ۔انھیں زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا تھا۔ پندرہ بیس منٹ بعد ہی تناوش سر پر دوپٹا لپیٹے کمرے سے باہر نکلی ۔اس کا تازہ دھلا چہرہ ظاہر کر رہا تھا کہ وہ وضو کر کے آرہی ہے ۔ساتھ والے کمرے کی طرف بڑھتے ہوئے اچانک اس کی نظر ان دونوں کی جانب اٹھیں ۔ایک دم رکتے ہوئے وہ ان کی طرف متوجہ ہوئی ۔
”ارے ،آپ لوگ آگئے ۔ٹھیک تو ہو نا ،کوئی چوٹ وغیرہ تو نہیں لگی ۔“
”ہم بالکل ٹھیک ہیں باجی صاحبہ ....مم میرا مطلب ہے بیگم صاحبہ۔“باقر جلدی میں بیگم کی جگہ باجی کہہ گیا تھا ۔
تناوش کے چہرے پر مسکراہٹ نمودار ہوئی ۔”آپ مجھے باجی کہا کرو ،اچھا لگتا ہے ۔“
باقر نے کہا ۔”شکریہ باجی ۔“
”اچھا ،آپ لوگ آرام کرو ،میں نماز پڑھنے لگی ہوں ۔“وہ کمرے کی طرف مڑی ۔
رخسار نے جلدی سے کہا ۔”باجی ،ہم آپ کا انتظار کر رہے تھے ۔“
”کیوں خیریت ۔“وہ حیرانی سے ان کی طرف مڑی ۔
رخسار نے کہا ۔”باجی ،آپ جانتی ہیں ہم بے قصور ہیں انھوں نے ایک دم ہی ہمارے سروں پر ہتھیار تان لیے تھے ۔ہم چاہ کر بھی کچھ نہیں کر سکتے تھے ۔“
”بالکل ۔“تناوش نے اثبات میں سر ہلایا۔
رخسار نے رونی صورت بنا کر کہا ۔”باجی ،یہ بات کبیر دادا کو کون سمجھائے گا وہ تو اسے ہماری غفلت سمجھتے ہوئے ہماری چمڑی ادھیڑ دیں گے ۔“
تناوش کے نقرئی قہقہے نے ان کے دلوں کی ڈھارس بندھائی ۔وہ خوش کن لہجے میں بولی ۔”ارے اتنی چھوٹی سی بات پر پریشان ہیں آپ دونوں ۔جائیں کبیر آپ سے اس واقعے کا ذکر بھی نہیں کریں گے ۔ یہ تو میرا اور میرے بھائیوں کا معاملہ تھا ۔“
اطمینان کا گہرا سانس لیتے ہوئے وہ بیک زبان بولے ۔”شکریہ باجی ۔“
”شادی کی ہے آپ لوگوں نے ؟“
”جی باجی ۔“انھوں نے اثبات میں سر ہلایا۔
”اچھا ایسا کرو ،عظیم کے پاس چلے جاﺅاور اسے میری طرف سے کہوکہ آپ دونوں کو بیس بیس ہزار روپے دے دے ۔ان پیسوں سے آپ دونوں نے اپنی بیگمات کو شاپنگ کرانا ہے۔“
”جی باجی ،شکریہ باجی ۔“وہ خوشی سے کھل اٹھے تھے ۔
تناوش مسکراتی ہوئی کمرے میں داخل ہو گئی ۔وہ دونوں ایک دوسرے کے ہاتھ پر ہاتھ مارتے ہوئے اپنی رہائش گاہ کی طرف بڑھ گئے ۔
”ویسے اللہ پاک نے جیسی صورت دی ہے اس سے زیادہ اخلاق دیے ہیں ۔“باقر متاثر کن لہجے میں بولا۔”ہمیں بھائی اور آپ کہہ کر مخاطب کر رہی تھی ۔“
رخسار بولا ۔”امید نہیں تھی کہ یہ مسئلہ اتنی آسانی سے حل ہو جائے گا ۔اور بجائے پٹائی کے انعام ملے گا ۔“
”شکر ہے پاشا دادا کی بات مان لی تھی ۔“باقر نے اس کی ہاں میں ہاں ملائی ۔ اس وقت وہ دونوں ملازموں کے کوارٹرز کے قریب پہنچ گئے تھے ۔عظیم کے کمرے میں روشنی جلتے دیکھ کر وہ دروازہ کھٹکھٹا کر اندر گھس گئے۔وہ اس وقت ٹی وی پر کوئی انگلش فلم دیکھ رہا تھا ۔
”آئیں جناب ۔“انھیں دیکھتے ہی وہ طنزیہ لہجے میں بولا ۔”سنا ہے کافی کارنامے سر انجام دیے ہیں تم دونوں نے ۔“
”اس میں شک ہی کیا ہے عظیم صاحب۔“باقر نے فخریہ انداز میں سینہ چوڑا کیا ۔
”یہ تو صبح کبیر دادا بتائیں گے کہ اس کارنامے پر کتنا انعام دینا بنتا ہے ۔“
رخسار نے کہا ۔”کبیر دادا کا تو کچھ نہیں کہہ سکتے البتہ باجی نے بتا دیا کہ آپ سے بیس بیس ہزار روپے لے لیں ۔“
”باجی ،کون باجی اور کوئی باجی میرا کیسے بتا سکتی ہے ؟“عظیم حیران رہ گیا تھا ۔
باقر نے جواب دیا ۔”باجی ہیں ،مسز کبیر دادا۔اور اب آپ نے تصدیق کرنا ہے تو جائیں کر لیں ،ہم ابھی ان سے مل کر آرہے ہیں ۔“
”سچ کہہ رہے ہو ۔“عظیم اب تک حیران تھا ۔
رخسار نے پوچھا ۔”کیا ایسا جھوٹ ہم بول سکتے ہیں ۔باقی آپ بے شک تصدیق کر سکتے ہیں ۔“
”تصدیق کیسی جی ،اس باجی کی وجہ سے تو آج شمشیر دادا جیسے گینگسٹر کی گردن سلامت نہ رہی ۔تصدیق کر کے میں نے کبیردادا کا تھپڑ کھانا ہے ۔“عظیم کو تناوش کی وجہ سے کبیر دادا کا لگنے والا تھپڑ اب تک بھولا نہیں تھا ۔تکیے کے نیچے سے چابی نکال کر وہ لوہے کے سیف کی جاب بڑھ گیا جس میں ضرورت کے لیے چند لاکھ کی ہر رقم ہر وقت موجود رہتی تھی ۔
٭٭٭
اگلے تین چار دن اس نے کبیردادا کو بستر سے اٹھنے نہیں دیا تھا ۔گو کبیر دادا دوسرے دن ہی خود کو تندرست سمجھنے لگا تھا ۔یوں بھی مار کٹائی اس کے لیے نئی بات نہیں تھی ۔مگر تناوش کا حکم ٹالنا بھی اس کے بس سے باہر تھا ۔وہ بھی صبح سویر ے نماز کے بعد نئے کپڑے پہن کر مکمل میک اپ کرتی اور سارا دن کبیر دادا کی خدمت میں لگی رہتی ۔ایسی تیماردار کے ہوتے کس کم بخت کادل بستر چھوڑنے کو کرتا ۔ایک رات وہ اس کی کہانی سننے پر مصر ہوئی ۔
”آپ نے کہا تھا کہ آپ حافظ ہیں ،مجھے اپنے بارے بتائیں نا کبیر....“
”زخم کریدنے سے تکلیف ہی ملتی ہے گڑیا ۔“کبیردادا دکھی ہو گیا تھا ۔
”میں ہوں نا آپ کے تمام زخموں کا مرہم ۔“وہ لاڈ سے بولی ۔”کیا نہیں ہوں ۔“
کبیردادا اس کا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہیں سوچوں میں گم ہو گیا تھا ۔چند لمحے گہری سوچ میں کھوئے رہنے کے بعد وہ دھیمی آواز میں بولا ۔”ابوجان کا نام مولوی عمرعلی خان تھا ۔وہ امام مسجد تھے اور مسجد کے ساتھ ایک مدرسہ بھی بنا رکھا تھا جہاں بچوں کو حفظ کرانے کے ساتھ عالم کا مختصر کورس بھی کراتے تھے ۔ابوجان کے ساتھ مدرسے میں دو اور استاد بھی تھے ۔میں پانچ سال کا تھا جب ابوجان نے مجھے اسکول میں داخل کرایا اور اس کے ساتھ میرا نورانی قاعدہ بھی شروع کرادیا ۔صبح کی نماز میں وہ مجھے ساتھ لے جاتے اور پھر اسکول کا وقت ہوتے ہی میں وہیں سے اسکول چلا جاتا ۔مجھ سے تین سال بڑی بہن اسماءمیرا ناشتا مدرسے ہی لے آیا کرتی تھی ۔ آٹھویں کلاس میں تھا جب میں نے قرآن مجید حفظ کر لیا ۔اس دن ابوجان خوشی سے پھولے نہیں سما رہے تھے۔ امی جان نے پورے محلے میں مٹھائی بانٹی تھی ۔ باجی اسماءکی خوشی بھی دیدنی تھی۔ بہت پیار کرتی تھیں وہ مجھ سے ۔ہم دونوں سے چھوٹی رقیہ گڑیا تھی ۔وہ مجھ سے چھے سال چھوٹی تھی۔ قران مجید کی دہرائی کے بعد ابو جان نے مجھے صرف و نحو پڑھانا شروع کردیا ۔وہ مجھے عالم بنانا چاہتے تھے ۔شاید ان کے خوابوں کی تکمیل ہوجاتی کیوں کہ مجھے بھی دینی تعلیم حاصل کرنے کا بہت شوق تھا ۔مگر ابوجان کی خواہش ،امی جان اور باجی کی دعاﺅں اور میری کوشش کے باوجود ایسا نہ ہوسکا ۔ہمارے گھرانے کو پتانہیں کس کی نظر لگ گئی تھی ۔تبھی تو ابوجان نے وہ واقعہ ہوتے دیکھا تھا۔ وہ دن دھاڑے ہونے والے قتل کی ایک واردات تھی ۔ابو جان گھر سے مدرسے آرہے تھے۔ ان کے علاوہ بھی درجنوں افراد نے وہ منظر دیکھا تھا ۔قاتل ایک نامی گرامی بدمعاش تھا تو مقتول اچھے خاصے متمول خاندان سے تعلق رکھتا تھا ۔مقتول کے خاندان والوں کی کوشش سے وہ بدمعاش گرفتار تو ہو گیا، مگر اس کے ڈر سے کوئی عینی شاہد گواہی دینے کے لیے تیار نہیں تھا ۔مقتول کے خاندان والوں کو ابوجان کے بارے سن گن ملی اوراس کے ورثا ءابوجان سے ملنے مدرسے میں پہنچ گئے ۔ابو جان بغیر کسی ہچکچاہٹ کے گواہی دینے پر آمادہ ہو گئے تھے ۔اوروہی ہماری بد بختی کی شروعات تھی ۔میں شام کی نماز پڑھ کر مدرسے میں قرآن مجید کی تلاوت کرنے بیٹھ جایا کرتا تھا۔ ابو جان شام کی نماز پڑھ کر گھر تشریف لے جاتے اور کھانا وغیرہ کھا کر عشاءکی نماز کو لوٹتے ۔ میری روز مرہ عشاءکی نماز پڑھ کر کھانا کھانے کی تھی ۔امی جان اور اسماءباجی میرے انتظار میں بیٹھی ہوتیں ۔امی جان ہمیشہ مجھے اپنے ہاتھ سے کھانا کھلاتی تھیں ۔جس دن ابوجان نے عدالت جا کر گواہی دی اس سے اگلے دن مغرب کی نماز کے تھوڑی دیر بعد چند غنڈے ہمارے گھر پہنچ گئے۔ان کی تعداد پانچ تھی ۔انھوں نے جاتے ہی امی جان ،ابوجان اور رقیہ گڑیا کے سامنے اسماءباجی کی عزت خراب کی اور پھر خنجر سے تمام گھر والوں کو قتل کرکے گھر کو آگ لگا دی ۔کوئی محلے والا ، کوئی راہگیر انھیں بچانے کی جرّات نہ کر سکا ۔اس دن بھی میں نے عشاءکی آذان دی جو عموماََ میں ہی دیا کرتاتھا، کیوں کہ ابوجان میری آذان کو بہت پسند فرمایا کرتے تھے ۔اس دن جانے کیوں میں نے بہت محبت ، محنت اور تجوید وقرات کے تمام اصولوں کی رعایت رکھتے ہوئے آذان دی تھی ۔ ایک ایسی آذان جس کی نماز ادا کرنے کی سعادت سے میں محروم رہ گیا تھا اور اس کے بعد میں کبھی نماز نہ پڑھ سکا ،کبھی آذان نہ دے سکا اور کبھی تلاوت نہ کر سکا ۔میںاس دن جیسے ہی آذان دے کر اسپیکر کے سامنے سے ہٹا اسی وقت ایک جاننے والا وہاں پہنچ گیا ۔اس نے مجھے میرے گھر میں بیتنے والی قیامت سے آگاہ کیا ۔میں دیوانگی کے عالم میں بھاگتا ہوا گھر پہنچا۔ آگ نے پورے گھر کو لپیٹ میں لے رکھا تھا ۔شاید میں اسی دیوانگی میں آگ کے اندر گھس جاتا ، مگر لوگوں نے مجھے پکڑ لیا ۔میں خالی ذہن تمام کی باتیں سنتا رہا ۔اپنے پیاروں کی صورت دیکھنا مجھے نصیب نہیں ہوا تھا ۔نہ ابو جان کی نورانی شکل نظر آئی ،نہ امی جان کی شفیق صورت ،نہ اسماءبہن کی مقدس شکل اور نہ رقیہ کی معصوم صورت تمام جل کر کوئلہ ہو گئے تھے ۔“کبیردادا کی آواز بھرا گئی اور آنکھوں سے بے اختیار پانی بہنے لگا ۔تناوش تڑپ کر آگے بڑھی اور اس کے اشکوں کو اپنے لبوں سے چننے لگی۔
”میں ہوں نا کبیر ،میں آپ کے پاس ہوں نا ۔میری طرف دیکھیں، روتے کیوں ہیں ،بس مجھے نہیں سننا آپ کی کہانی ،آپ روتے کیوں ہیں ؟“وہ وارفتگی سے اسے تسلی دیتی رہی۔ لیکن اس کی اپنی آنکھوںسے بھی پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے ۔اپنے کبیر کے غم نے اسے بھی رلا دیا تھا۔ چند گہرے سانس لے کر کبیر دادا نے اپنی حالت سنبھالی اور پھر اس کی بات جاری رہی ۔
”گھر والوں کی لاشیں دیکھنے کے بعد میں وہاں رکا نہیں تھا بلکہ اس غنڈے صغیر عرف خنجر شاہ کی تلاش میں بھاگ پڑا ۔مجھے اس کا ٹھکانہ وغیرہ معلوم نہیں تھا لیکن عقل نے کام کرنا ہی چھوڑ دیا تھا ۔بس بے فائدہ بھاگ رہا تھا ۔اسی طرح بھاگتے ہوئے سڑک عبور کرنے کی کوشش میں ایک کار سے ٹکرا گیا ۔اور وہ کار شمشیر دادا کی تھی ۔مجھے اتنی زیادہ چوٹیں نہیں آئی تھیں لیکن حواس گم کر بیٹھا تھا ۔اور اس حالت میںبھی میں خنجر شاہ کوجان سے مارنے کی دھمکیاں دے رہا تھا۔ شمشیر دادا کو میری حالت پر حیرانی ہوئی اور وہ مجھے اپنے ٹھکانے پر لے آیا ۔دو دن ا نھوںنے مجھے نیند کی گولیاں دے کر سلائے رکھا ۔جاگنے پر میرے حواس کام کر رہے تھے ۔شمشیر دادا نے میری کہانی سن کر مجھے تسلی دی اور ساتھ ہی کہا کہ خنجر شاہ کو مارنے کے لیے مجھے اس قابل بننا پڑے گا کہ اسے ہلاک کر سکوں ورنہ تو وہ ایک تھپڑ سے مجھے والدین کے پاس پہنچا دے گا ۔اور اس دن کے بعد میں شمشیر دادا کا ہو کر رہ گیا ۔ اس نے مجھے سخت تربیت دی ۔دو تین سال کے اندر گینگ میں سوائے شمشیر دادا کے کوئی میرے سامنے ٹک نہیں پاتا تھا ۔وہیں میری ملاقات کاشف راجپوت سے بھی ہوئی ۔وہ یتیم خانے سے بھاگ کر شمشیر دادا کے گینگ میں شامل ہوا تھا ۔اور پھر ایک دن مجھے شمشیر دادا نے اپنا انتقام لینے کی اجازت دے دی ۔خنجر شاہ جو ابو جان کے مرنے کے بعد بڑی آسانی سے چھوٹ گیا تھا ۔میں اس کے اڈے پر پہنچ گیا اور اس کے ہاتھ پاﺅں کی ہڈیاں توڑ کر میں نے اسے زندہ جلا دیا تھا ۔اور اسی سے معلوم کر کے اس کے ان پانچوں آدمیوں کو جو میرے گھرپر ہونے والے حملے میں ملوث تھے ان کا بھی وہی حشر کیا ،جو اُن کے گرو خنجر شاہ کا کیا تھا ۔اور اس کے بعد میں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا ۔کسی کو قتل کرنا میرے لیے ایسا ہی تھا جیسا مرغی فروش کے لیے مرغی ذبح کرنا ۔میں حافظ عبدالکبیر علی خان سے کبیر دادا بن گیا ۔“کبیردادانے رک کر گہرا سانس لیتے ہوئے اپنی جانب محبت پاش نظروں سے دیکھتی ہوئی تناوش کو دیکھا ۔اس کے دکھی چہرے پر سکون بھرا تبسم ابھرا ،تناوش کے کندھوں کے پیچھے سے اپنا بازو لپیٹتے ہوئے اس نے اپنے قریب کیا ۔ایک ہاتھ اس کی گھنے ریشمی بالوں میں گھسایا اور اپنی بات آگے بڑھائی ۔ ”اور پھر میری زندگی میں ایک پری ،ایک اپسرا ،ایک گڑیا ،ایک پاکیزہ روح کی آمد ہوئی ۔شاید میرے سارے زخموں پر مرہم رکھنے لیے ،میرے ساتھ ہونے والی ساری زیادتیوں کا ازالہ کرنے لیے ، مجھ سے چھینی گئی نعمتوں کے بدل کے طور پر،میری روکھی پھیکی زندگی کو رونق دینے کے لیے ۔میری ننھی دلھن میری تناوش آگئی ۔“
”میں نے آپ کے زخموں کو کرید کر آپ کو اذیت دی ہے نا ؟“وہ دکھی نظروں سے اس کی آنکھوں میں جھانکنے لگی ۔
”اگر کوئی دوسرا یہ سوال کرتا تو میرا جواب ہاں میں ہوتا ۔“
”اور میرے پوچھنے پر کیا جواب ہو گا ۔“
”کہہ تو دیا ہے تمھیں پا کر میرے سارے دکھوں کا ازالہ ہو گیا ہے ۔“
”میرے لیے آپ کے دکھ کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کبیر ،یہ وقت مجھ پر بھی بیت چکا ہے ۔بھیا کے بے گناہ قتل پر میری بھی یہی حالت ہوئی تھی ۔اور ان کے قتل کا دکھ اور غم ساری زندگی مجھے بے چین و بے قرار رکھتا ،مگر پھر اللہ پاک نے میری جھولی میں آپ کو ڈال دیا ۔“
”پتا ہے گڑیا ،مجھے لگتا ہے میں بہت عرصے سے تمھیں جانتا ہوں ۔شاید اس وقت سے جب میں چھوٹا سا بچہ تھا ۔“
”جی ....جی ،اس وقت میں پیدا بھی نہیں ہوئی تھی ۔باقی چھوٹے سے بچے تو آپ اب بھی ہیں ۔“
اس کے انداز پر کبیر دادا مسکرا دیا ۔
”ایک بات مانیں گے ؟“اس نے ملتجی نظروں سے اسے گھورا ۔
”اگر بس میں ہوئی تو ضرور مانوں گا ۔“
”آپ نے عشاءکی آذان دی تھی اور اس کی نماز نہیں پڑھی تھی ۔اٹھیں اور اس دن جو نماز رہ گئی تھی اسے آج پورا کریں ۔“
”تناوش ........“اس نے انکار میں سرہلانا چاہا۔
وہ قطع کلامی کرتے ہوئے بولی ۔”کبیر آپ کہتے ہیں نا ،مجھے آپ کی قسمت میں لکھ کر اللہ پاک نے آپ کے سارے دکھوں کا ازالہ کر دیا ہے ۔“
”ہاں ۔“
”تو اٹھیں پھر ،جب اللہ پاک نے آپ کے دکھوں کا مداوا کر دیا ہے پھر ناراضی کیسی ، اب تو آپ بھی اس کی بارگاہ میں سر جھکا کر اپنی کمیوں اور کمزوریوں کا اعتراف کر لیں ۔وہ بہت جلدی معاف کر دیتا ہے ۔اتنی جلدی کہ ندامت کا آنسو آنکھ سے نکل کر زمین نہیں چھو پاتا اس سے پہلے وہ فرما دیتا ہے اے میرے بندے میں نے معاف کر دیا ۔“
کبیردادا کی آنکھوں میں جوار بھاٹا اٹھا اور وہ گھٹنوں میں سر دے کر رونے لگا ۔تناوش اس کے سر پر ہاتھ پھیرتی ہوئی محبت بھرے انداز میں کہتی رہی ۔”بس اتنی سی تو بات تھی ۔معاف کر دیا نامیرے اللہ نے ۔اب اٹھیں نماز پڑھتے ہیں ۔پھر میں آپ کی قرا¿ت سنوں گی ۔“
تھوڑی دیر بعد کبیردادابرسوں پہلے ٹوٹ جانے والے تعلق کی ڈوری کا سرا تھامے اپنے اللہ پاک کے سامنے سر بہ سجود تھا ۔تناوش نے اس کے وضو کے لیے جاتے ہی دیواروں پر لگی شیر کی تصاویر اتار کر الٹی لٹا دی تھیں ۔تاکہ وہاں اطمینان سے نماز ادا کی جا سکے ۔
جاری ہے

No comments:

غازی از ابو شجاع ابو وقار قسط نمبر60 Ghazi by Abu Shuja Abu Waqar

Ghazi  by  Abu Shuja Abu Waqar  غازی از ابو شجاع ابو وقار  پیشکش محمد ابراہیم 60 آخری قسط نمبر  Ghazi by Abu Shuja Abu...

Powered by Blogger.