اول جنت کے پتے قسط 53
جنت کے پتے
از
نمرہ احمد
ناول؛ جنت کے پتے
قسط 53
اس نے ہاتھ سے ناک کو چهو کر دیکها۔ خون۔ پہلی دفعہ سر درد سے اس کی نکسیر پهوٹی تهی، باتھ روم میں جا کر بیسن کے سامنے ناک اور سر کو دهوتے ہوۓ بھی اس نے فون اسپیکر آن رکها۔ وہ سو رہی تھی، اور وہ بیسن پہ نڈھال سا جھکا، گہرے گہرے سانس لے رہا تھا۔ تین گھنٹے اور بیس منٹ کے بعد کال خودبخود کٹ گئی۔ چونکہ وہ انٹرنیٹ سے کنیکٹ کر کے کال کر رہا تھا، اس لیے وہ گھنٹے بعد کٹنے کی بجائے کافی دیر سے کٹی۔ موبائل بند کرتے ہوۓ بلآخر اس نے فیصلہ کر لیا کہ اسے اپنا چیک اپ کروا لینا چاہیئے۔ کہیں نہ کہیں کچھ غلط تها۔
اگلی صبح حیا نے اسے اپنا نمبر بهیج دیا۔ اس نے نمبر ملتے ہی اسے فون کیا کرنے کو کوئی بات نا تهی، بس وه اس سے بات کرتے رہنا چاہتا تها۔ اگلے روز وہ صرف اس سے ملنے ادالار آیا۔ اس نے عائشے سے کہہ دیا تها کہ جب وہ پورٹ پہ آۓ تو بہارے کو ساتھ نہ لاۓ۔ عائشے ظاہر نہیں کرے گی، مگر بہارے چهوٹی بچی ہی تو تهی۔ سو عائشے نے ایسا ہی کیا۔
کهلی فضا میں کرسیوں پہ بیٹهے، ناشتہ کرتے اس نے چند ایک بار کریدنے کی کوشش کی، مگر حیا نے نہیں بتایا کہ عائشے بہارے سے اس کی دوستی کیسے ہوئی، اور نہ ہی یہ کہ اس کے زخم کیسے آئے۔ وہ ابھی اس پہ اعتبار نہیں کرتی تھی۔ البتہ وہ دوبارہ سے اس کے فون کے بارے میں پوچهنے لگی تهی۔گو کہ اس نے اسے ایک دو بار ہنٹ دیا تها کہ وہ اسپیشل گفٹ تها اور اسپیشل سے مراد ”اسپیشل سروسز“ ہی تهیں، مگر وہ ابهی تک بوجھ نہیں پائی تھی۔ خود سے یونہی وہ نہیں بتائے گا۔ وہ پہلے خود بوجهے گی، تب ہی وہ اسے ڈهونڈ پاۓ گی۔ البتہ تب وہ ذرا سا سنبهلا جب حیا نے کہا کہ اس کا چہرہ اپنے باس کے ذکر پہ چمکنے لگتا ہے۔ یہ اس کے اختیار میں نہیں تها۔ اپنا ملک، اپنی جاب، سب بہت یاد آتا تها۔ مگر کیا اس کی صحت اسے مزید نوکری کرنے کی اجازت دے گی۔ یہیں وہ الجھ جاتا تها۔
وہیں اس کے ساتھ بیٹهے، اس کو ممی اور عائشے دونوں کے ٹیکسٹ موصول ہوۓ تهے۔ صرف ممی کے میسج کا اس نے حیا کو بتایا، اور عائشے کا پیغام پڑھ کر وہ صرف مسکرا دیا۔
تم نے ٹهیک کہا تها۔ اتنے سارے لوگوں سے ایک وقت میں اتنے سارے جهوٹ بولتے تمہیں بالکل افسوس نہیں ہوتا۔ اب تو مجهے یقین ہو چلا ہے کہ تم کبهی انڈیا گئے ہی نہیں تهے۔ تم استنبول میں ہی تهے۔
یہ لڑکی بهی نا۔ اس نے مسکرا کر سر جهٹکتے شکریہ لکھ کر جوابی پیغام بهیج دیا۔
اس روز ساحل سمندر پہ چلتے ہوۓ غیر ارادی طور پہ اس کے لبوں سے روحیل کا ذکر نکل آیا تها۔ روحیل سے تین، ساڑهے تین برس قبل اس وقت ملا تھا جب وہ ایک چهوٹے سے کام کے سلسلے میں وہاں ایک تعلیمی ادارے میں گیا تها۔ تب ایک طالب علم نے اندها دهند فائرنگ شروع کر دی تھی اور ایک گولی اس کو بھی لگ گئی تھی۔ چونکہ وہ اللیگل کام کے سلسلے میں وہاں تھا سو وہ جلد از جلد موقع سے فرار ہو گیا۔ خراب ہوتے زخم کے باعث اس کو کسی قابل اعتماد شخص کے ہاں پناہ لینی تھی اور چونکہ امریکہ آنے سے پہلے وہ وہاں موجود ہر رشتے دار کا پتا کھوج کر لایا تھا، اس لئے وہ راحیل کے پاس چلا گیا تھا۔ یہ بات اس نے راحیل کو صیغہ راز میں رکھنے کو کہی تھی اور جواب میں وہ یہ بات راز رکھے گا کہ وہ لڑکی روحیل کے ساتھ رہ رہی ہے۔ اس ڈیل کے بارے میں وہ حیا کو تو نہیں بتا سکتا تھا سو بات ٹال گیا۔ اب وہ پوچھتی رہے اپنے بھائی سے۔ اسے کیا؟ ساحل پہ حیا نے سیپ چننے کی بات تھی۔ اس بات نے اسے اطمینان دلایا کہ اب وہ، وہ کام کر سکتا تھا جو وہ کرنا چاہتا تھا۔ وہ عائشے بہارے کے ساتھ سیپ چننے کی عادی ہو گئی تھی۔ عائشے کے اکثر سیپ موتی سے بھرے نکلتے تھے جبکہ بہارے کے اکثر خالی۔ جب جہان نے عائشے کی سالگرہ پہ پچھلے برس ایک قیمتی انگوٹھی بطور تحفہ دی تو دو ماہ بعد جب عبدالرحمن پاشا کے پاسپورٹ کے مطابق اس کی سالگرہ آئی تو عائشے نے اسے اپنے ایک سیپ سے اکٹھے نکلے تین موتی دیے تھے۔ وہ موتی ایک ایک ننھی سی قدرتی خراش لئے ہوئے تھے۔ یعنی کہ ان کو پہچاننا آسان تھا۔ اس نے عائشے کو گو کہ اس لڑائی کے بعد بتا دیا تھا کہ وہ جلد یا بدیر ان کو چھوڑ دے گا، مگر اب جب تک وہ یہاں ہے، اس کو خود کو ان دو معصوم لڑکیوں سے دور رکھنا چاہیئے۔ اس طرح کی جذباتی وابستگیاں مستقبل میں ان دونوں کا دل بری طرح سے توڑ سکتی تھیں۔ چھوٹا زخم، بڑے زخم سے بہرحال بہتر ہوتا ہے۔ اس نے سوچا وہ عائشے کو چھوٹا زخم دے دے، تاکہ وہ مستقبل میں کبھی اس سے کوئی امید نہ رکھے،
وہ تین موتی آج اپنے ساتھ لایا تھا، البتہ اس نے کسی اور طرح سے ان کو حیا کو دینے کا سوچا تھا، مگر جب وہ سیپ کھولنے کے لیے چھرا لینے دور بیٹھے ان ٹورسٹس کے پاس گئی تو جہان نے رخ موڑ کر اپنی جراب کے ساتھ بندھا چاقو نکالا اپنے سیپ کو آدھا کاٹا اور تینوں موتی اندر کچھ اس طرح سے ڈالے کہ جب وہ حیا کے سامنے سیپ کاٹے گا تو وہ یہی سمجھے گی کہ موتی اندر قدرتی طور پر موجود تھے۔ اگر وہ یہ کام عائشے کے ساتھ کرتا تو وہ بھانپ لیتی اس کو سیپوں کا تجربہ تھا مگر حیا نہیں جان سکتی تھی۔ اس کو یہ معلوم نہیں تھا کہ وہ مواقع کا انتظار کرنے والوں سے نہیں تھا۔ وہ خود موقع پیدا کرنے پہ یقین رکھتا تھا۔
حیا اس کے نکلتے تین موتی دیکھ کر بہت حیران ہوئی تھی۔ اور متاثر بھی۔ وہ خاموش مسکراہٹ کے ساتھ اپنے لیے خاموش ستائش وصولتا گیا۔ کوئی اس سے متاثر ہو رہا تھا تو اس کا کیا جاتا تھا بھلا؟؟؟؟؟؟
یہ چند روز بعد کی بات ہے، ایک روز ایک بہت ضروری کام آن پڑا۔ اسے اچانک سے کچھ بہت اہم پیپرز کی ضرورت پڑ گئی جو ادالار میں اس کے کمرے میں رکھے تھے۔ اس نے عائشے کو صبح میں فون کر کے پوچھا مگر وہ مدد کرنے سے قاصر تھی۔
تمہارا بریف کیس تمہاری الماری میں ہو گا اور وہ لاک ہوتی ہے۔ چابی بھجوا دو تو میں نکال سکتی ہوں۔ اس کا انداز سپاٹ تھا۔
تم رہنے دو میں خود کچھ کر لوں گا۔ عائشے کے لہجے کی خفگی وہ سمجھتا تھا۔ وہ یقینا حیا کے پاس ان تین موتیوں کو دیکھ کر بہت ہرٹ ہوئی ہو گی۔ مگر ان دونوں کے لیے یہی بہتر تھا۔ جو بھی تھا وہ سمجھدار لڑکی تھی اس نے خاموشی اختیار کر لی تھی۔ وہ اس کا اشارہ سمجھ گئی تھی۔
ویسے بھی دلوں کا سکون محبت پا۔لینے میں نہیں، اللہ کے ذکر میں ہوتا ہے، اور وہ جانتا تھا کہ عائشے کو دل کا سکون ہمیشہ نصیب رہے گا۔
اسی شام عائشے اور بہارے کو ایک جاننے والوں کے گھر فوتگی پہ جانا پڑ گیا۔ سو شام میں جب وہ ادالار آیا تو وہ دونوں گھر پہ نہیں تھیں۔
جہان گھر کے عقبی دروازے کو کھول کر ایک الگ تھلگ بنے زینے سے اوپر اپنے کمرے میں آ گیا۔ کمرے کی ایک چابی عائشے کے پاس اور دوسری اس کے پاس ہوتی تھی۔
اندر آ کر اس نے دروازہ لاک کر دیا پھر وہ اپنے کام میں لگ گیا۔ الماری سی اپنا بریف کیس نکال کر بیڈ پر رکھا اور اسے کھول کر مطلوبہ فائلز دیکھنے لگا۔ وہ جانتا تھا حیا نیچے ہی تھی، مگر وہ بھلا اوپر کیوں آئے گی۔ اتنا بڑا گھر اس کے لیے کافی تھا۔ اسے پتا ہی نہیں لگے گا کہ وہ اس وقت اوپر ہی موجود ہے۔
یہی سوچ کر اس نے نوٹ پیڈ اٹھایا اور فائل میں سے کچھ نام دیکھ کر اس پر لکھنے لگا۔ پہلے ہی لفظ پر پین کی روشنائی ختم ہو گئی۔
کیا مصیبت ہے۔ اس نے پین کو ذرا زور سے جھٹکا تو بریف کیس اور فائلز پر سیاہی کے موٹے موٹے قطرے گر گئے۔ اس نے تاسف سے سر جھٹکتے ہوئے لکھنا شروع کیا۔ وہ ان لوگوں میں سے تھا جو قلم سے لکھ کر لائحہ عمل ترتیب دینے پر یقین رکھتے تھے۔ لکھے بغیر اسے اپنی سوچی گئی بات بھی بعض اوقات سمجھ نہیں آتی تھی۔
ابھی فہرست درمیان میں تھی کہ سیاہی پھر سے سوکھنے لگی۔ اس نے دوبارہ قلم جھٹکا، موٹی موٹی بوندیں پھر سے بریف کیس پر گریں۔ اس سے قبل کہ وہ عبدالرحمٰن پاشا کی نفاست پسندی کے قتل پہ افسوس کرتا، کمرے کے دروازے کے لاک میں چابی گھمائے جانے کی آواز آئی۔
لمحے بھر کو تو وہ واقعی سکتے میں رہ گیا۔ عائشے بہارے واپس آ گئیں یا وہ حیا تھی؟
وہ جو بھی تھی، ایک ایک کر کے چابیاں لگا رہی تھی۔ وہ عائشے نہیں ہو سکتی تھی، عائشے کو پتہ تھا کہ دروازہ کون سی چابی سے کھلتا ہے۔ الله، الله!
دوسری چابی تک اس نے آنًا فانًا بریف کیس بند کیا، اور الماری میں ڈالا تیسری چابی تک وہ باتھ روم میں جا کر دروازے کے پیچھے کھڑا ہو چکا تھا۔ چوتھی چابی پہ دروازہ کھل گیا۔
وہ حیا ہی تھی، اور وہ اندر کمرے کا جائزہ لے رہی تھی۔ اس نے باتھ روم کے دروازے کی درز سے دیکھا، وہ اب الماریاں کھول رہی تھی۔ جلدی میں نہ وہ بریف کیس بند کر سکا تھا نہ ہی آخری الماری، سو حیا سے بلآخر آخری الماری کھل گئی تھی، اور اب وہ اس کا بریف کیس نکال کر بیڈ پہ لے آئی جہاں چند لمحے قبل وہ بیٹھا تھا۔ اصولًا اس جگہ کو گرم ہونا چاہیے تھا، بلکہ چادر پہ شکنیں بھی پڑی تھیں، مگر وہ بریف کیس کی جانب اتنی متوجہ تھی سو محسوس نہ کر سکی۔
احمق لڑکی!
اندر تو اس کے ڈاکومنٹس تھے، برگر کنگ کی فائلز بھی تھیں۔ وہ ایسے پکڑے نہیں جانا چاہتا تھا۔ اگر وہ ایسے پکڑا گیا تو وہ کبھی اس کا یقین نہیں کرے گی۔ اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اوہ نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کا Pager بھی اندر تھا۔
وہ اس کا پیجر ہی نہ کھول لے۔ اسے شدید غصہ آیا۔ خود پر بھی اور حیا پہ بھی۔ مگر وہ جانتا تھا کہ اسے کیسے وہاں سے نکالنا ہے۔
اس نے اپنے موبائل سے پیجر کو بیپ دی۔ نتیجتاً پیجر بجنے لگا۔ حسب توقع حیا نے گھبرا کر بریف کیس بند کر دیا اور الماری میں ڈالا۔ وہ واقعی گھبرا گئی تھی سو چند لمحوں بعد وہ کمرے سے باہر تھی۔
دروازہ دوبارہ اندر سے لاک کرتے ہوئے اس نے دوسرے نمبر سے اسے گھر پہ فون کیا پانچویں گھنٹی پر حیا نے بھاگ کر فون اٹھایا۔
اگر آئندہ آپ نے میرے کمرے کی تلاشی لی تو اپنے پیروں پہ گھر واپس نہیں جائیں گی!
بہت غصے سے اس کو کھری کھری سناتے ہوئے وہ یہی سوچ رہا تھا کہ اب اس لڑکی کو اس کے گھر سے چلے جانا چاہئیے۔حیا وہاں رہ کر صحت یاب ہو، وہ یہ چاہتا تھا، مگر وہ اس کی جاسوسی کرے وہ یہ ہر گز نہیں چاہتا تھا۔
پھر رات میں اس نے عائشے سے یہی بات کہی کہ اب حیا کو وہاں سے چلے جانا چاہیئے۔
ابھی اس کی سپرنگ بریک بھی ختم نہیں ہوئی، دو چار دن تو وہ اوپر بھی ٹھہر سکتی ہے، اس سے زیادہ وہ نہیں رکے گی، اور میں اپنی مہمان کو خود سے جانے کے لیے نہیں کہوں گی۔"
مگر یہ چار دن بھی جہان کے لیے کسی سزا سے کم نہیں تھے۔ وہ جانتا تھا کہ حیا صرف ادالار میں دو وجوہات کی بنا پہ رکی ہوئی ہے۔ ایک یہ کہ استنبول میں وہ زخموں والا چہرہ لے کر نہیں جانا چاہتی تھی، اور دوسرا تجسس۔ وہ اس شخص کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جاننا چاہتی تھی جو کافی عرصہ اسے ڈسٹرب کرتا رہا تھا۔ ہاں ٹھیک ہے اس نے حیا کو بہت تنگ کیا تھا مگر اب تو وہ بے چارہ باز آ چکا تھا۔ مگر حیا باز نہیں آئی تھی۔
دو روز قبل کی ڈانٹ بھلا کر اس دن حیا نے خود اسے کال کر کے اس سے بات کی تھی۔ اسے بہارے کے لیے اس جیولری شاپ کا پتا چاہیئے تھا۔ جوابا اس نے پتا دینے کی بجائے واؤچرز بھجوا دیے۔ کون سا اس کا اپنا پیسہ تھا۔ سب انہی لڑکیوں، آنے اور پاشا بے کا ہی تو تھا، سو اس نے وہی کیا جو ٹھیک تھا۔
زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ ایک دن بیوک ادا فون کرنے پہ اسے حیا کا ہیلو سنائی دیا۔ اس نے جلدی سے بنا کچھ بولے پہلے وائس کنورٹر آن کیا، اور پھر بات کرنے لگا۔ مگر جو بات حیا نے آگے سے کہی، وہ اسے غصہ دلانے کے لیے کافی تھی۔
*******
بالآخر وہ جان گئی تھی کہ عبدالرحمن پاشا کا ایک دوسرا بھائی بھی تھا۔ وہ پاشا بے کا نام نہیں لے رہی تھی، مگر نام بھی وہ جانتی ہی ہو گی یقینا۔ ساتھ میں وہ اخبار میں اس کے متعلق آرٹیکل لکھنے کی بات بھی کر رہی تھی۔ اس سے آگے جہان کی برداشت کی حد ختم ہو گئی تھی۔ یہی ڈر تھا اسے، وہ دو زندگیاں مینج نہیں کر پائے گا۔ اور اب وہی ہو رہا تھا۔ اس سے زیادہ حیا بیوک ادا میں رہے، اسے گوارا نہیں تھا۔ دو روز بعد یوں بھی اسے اپنے عبدالرحمن پاشا کے کور کو ایکٹیویٹ کرنا یعنی بیوک ادا واپس جا کر وہاں کچھ دن رہنا تھا، سو اب ان دونوں کو وہاں نہیں اکٹھا ہونا چاہیے۔ حیا کو اس نے پرسوں کا کہا، لیکن خود اگلی ہی صبح وہ بیک ادا آ گیا۔ آتے وقت اس نے حیا کو میسج کر دیا تھا۔ اس کا ارادہ آج ایک مقامی دوست سے ملنے کا تھا۔ آروی (وہ مقام جہاں دو جاسوس ملتے ہیں) اس کی اپنی طے کردہ تھی، اور وہ عیسی کی پہاڑی تھی۔ وہاں اسے اپنے ساتھی کو چند چیزیں پہنچانی تھیں۔ اس کے بعد وہ دوپہر میں حیا سے ملے گا اور اسے واپس چلنے پہ راضی کرے گا۔ ویسے بھی سلیمان ماموں نے دو دن بعد استنبول آنا تھا۔ اچھا بہانہ تھا۔ اب وہ واپس آ جاۓ گی، اور وہ آرام سے بیوک ادا میں کام کر سکے گا۔ ویسے بھی حالات جیسے جا رہے تھے، یوں لگتا تھا ترکی میں اس کا قیام جلد ختم ہونے والا ہے۔ ایسے میں اسے اپنی فکر نہیں تھی۔ ممی، ابا اور حیا کی فکر تھی۔ وہ تینوں اس کی فیملی تھے۔ ممی کو ان تین سالوں میں وہ استنبول چھوڑنے پہ راضی نہیں کر سکا تھا۔
پاکستان وہ جا نہیں سکتے تھے، اس نے بہت کوشش کی کہ وہ ابا کو لے کر جرمنی چلی جائیں، مگر پہلے وہ نہیں مانتی تھیں۔ البتہ اب اس کے یہاں کام کرنے کے بعد کسی بھی طرح سے یہ خطرے والی بات تھی کہ اس کے ماں باپ یہاں ہیں۔ بلآخر ممی راضی ہو گئی تھیں کہ وہ ابا کہ ساتھ جرمنی چلی جائیں گی، مگر جب تک جہان ادھر ہے، وہ یہیں رہیں گی۔
وہ پندرہ جون تک یہی تھا۔ پندرہ جون کو ایک اہم کنسائنمنٹ کے لیے اسے انقرہ جانا تھا اور کام کچھ اس قسم کا leak out تھا کہ پہلا شک اسی پہ آۓ گا۔ اس لیے اسے کچھ عرصے کے لیے روپوش ہو جانا تھا۔ یہاں اس نے اتنے دشمن بنا لیے تھے کہ اس کے روپوش ہو جانے کے بعد کہیں کوئی اس کی فیملی کو نقصان نہ پہنچاۓ، اس لیے بہتر تھا کہ وہ جانے سے قبل اپنے گھر والوں کو کسی محفوظ مقام پر منتقل کر دے۔ ممی، حیا اور ابا اس کی پہلی ترجیح تھے۔ پاشا بے کی فیملی دوسرے نمبر پر تھی۔ سب کو وہ یہاں سے بھیج دے گا، مگر حیا کا سمسٹر پانچ جولائی کو ختم ہونا تھا۔ اسے وہ پندرہ جون سے پہلے کیسے بھیجے گا۔
اپنے آفس میں بیٹھے ہوۓ، کام شروع کرنے سے پہلے وہ اس الجھن میں گرفتار تھا۔ مسائل کا حل وہ عموما نکال ہی لیا کرتا تھا لیکن یہاں وہ قدرے مخمصے میں تھا۔ سگریٹ سلگاتے ہوۓ ساتھ میں اس نے کافی بھی منگوائی تھی اور جب تک دیمت کافی نہیں لے کر آئی، وہ یہی سوچتا رہا کہ حیا کو یہاں سے کیسے بھیجے۔ ایک حل تھا بالواسطہ۔ یعنی جہان اسے کہے کہ وہ واپس چلی جاۓ، اور دوسرا تھا بلاواسطہ، یعنی عبدالرحمن پاشا یا میجر احمد میں سے کوئی کہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر وہ کیوں کسی کی مانے گی۔
جب اس کی سیکریٹری دیمت فردوس کافی لے کر آئی تو کچھ سوچ کر اس نے یہ بات دیمت سے پوچھ لی۔
کسی غیر ملکی کو ترکی سے واپس بھیجنا ہو تو کیا کیا جائے۔
دیمت ایک ایمان دار اور مستعد سی ورکر تھی۔ وہ اس کو اپنے باس کی حیثیت سے پسند کر تی تھی مگر کبھی کبھی وہ باتوں کے دوران پاشا بے کا ذکر کر دیا کرتی۔ آپ کے چھوٹے بھائی بھی بہت اچھے تھے۔ یہ فقرہ وہ اکثر دیمت سے سنا کرتا تھا۔ طیب حبیب شناختی کارڈ کے اعتبار سے اس سے دو سال چھوٹا دیکھنے میں کئی سال بڑا اور درحقیقت ہم عمر ہی تھا۔ دیمت کو پاشا بے کی طبیعت کی بے تکلفی پسند تھی کیوں نہ وہ خود چاہے عبدالرحمن ہو یا جہان ہو، اس کی طبیعت اور مزاج ایک جیسے ہی رہتے تھے۔ وہ عبدالرحمن پاشا کے روپ میں بھی اتنا ہی سنجیدہ مزاج، خاموش طبع تھا اور قدرے تلخ تھا جتنا وہ فطری طور پہ تھا۔ دیمت اس کو پسند کرتی تھی مگر چونکہ پاشا بے کے برعکس جہان نے ہوٹ گرینڈ کو غیر قانونی سرگرمیوں کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا تھا اس لیے دیمت اس قسم کے لوگوں کی ہوٹل آمد سے ذرا الجھی الجھی رہتی تھی۔ خیر، اس کی ساری دکھتی رگیں وہ جانتا تھا، اس کو پتہ تھا کہ کب کس کو کہاں سے دبانا ہے۔
دیمت کے پاس اس مسئلے کا سادہ سا حل تھا جو نہ جانے اس کے ذہن میں کیوں نہیں آیا۔ وہ کہہ رہی تھی کہ اس لڑکی، جسے ترکی سے بھیجنا ہے، کی واحد کشش اگر اس کا شوہر ہے تو اسے شوہر سے بدگمان کر دیا جاۓ، اس کا شوہر کسی سے بھی اپنے کسی مشتبہ عمل کا ذکر کر سکتا تھا، اور اس لڑکی کو setup کر کے وہ گفتگو بظاہر اتفاقیہ طور پر یہ سنوائی جاۓ تو وہ فورا اپنے شوہر سے دور جانے کی کوشش کرے گی۔
دیمت شاید ساری بات کسی اور نقطہ نظر سے کر رہی تھی۔ مگر اس کا ذہن ایک ہی بات پر اٹک کر رہ گیا تھا۔ معصوم سا اتفاق۔ درست ٹائمنگ، ہاں، وہ حیا کو جانتا تھا۔ وہ ایک دم ردعمل دے دینے والی، ایک دم سے بڑے فیصلے لے لینے والی لڑکی تھی۔ جس چیز سے وہ بچتا رہا تھا، کہ کہیں پکڑا نہ جاۓ، اگر وہ چیز ہو بھی جاۓ، اور وہ از خود جان جاۓ کہ جہان ہی عبدالرحمن ہے، تو وہ وقتی طور پر بے شک اس کا اعتبار کھو دے گا، لیکن بعد میں جب وہ ساری حقیقت جان لے گی تو وی بد گمانی دور ہو جاۓ گی۔ پندرہ جون سے چند دن قبل ہی اس کے امتحان ختم ہو نے تھے، اگر وہ یہ سب اس کے امتحان ختم ہونے کہ فورا بعد پلان کرے تو وہ اپنا آخری مہینہ کسی دوسرے ملک گزارنا پسند کرے گی، نہ کہ ترکی میں ایک دو چہروں والے کے ساتھ۔ وہ فورا اس سے دور جانے کا سوچے گی۔ وہ ہمیشہ یہی کرتی تھی۔ جب وہ ایک دفعہ استقلال اسٹریٹ میں ریسٹورنٹ میں ڈنر کے لیے گئے تھے، وہ ڈنر جو جنجر بریڈ ہاؤس توڑنے کی معذرت کے طور پہ تھا، تب بھی وہ غصے میں فورا اس کے پاس سے چلی گئی تھی۔ وہ غصے میں ہمیشہ یہی کرتی تھی۔ وہ اب بھی یہی کرے گی۔ بھلے وہ برا بن جائے، مگر اسے اپنی بیوی کا تحفظ اپنی ذات سے زیادہ عزیز تھا۔ وہ ترکی میں اسے اکیلا چھوڑ کر کبھی نہیں جا سکتا تھا۔ جانے سے قبل اسے یہ مسئلہ نبٹانا تھا۔
دیمت کو اپنے انداز میں متنبہ کر کے وہ کچھ دیر سوچتا رہا کہ سیٹ اپ کس کے ساتھ ترتیب دینا چاہیئے۔ وہ کون ہو گا جس کو اس کے ساتھ دیکھ کر وہ اس سے دور جانے کا سوچے گی۔ طیب حبیب پاشا، وہ بہت متجسس تھی نا عبدالرحمن پاشا کے گمشدہ بھائی کے بارے میں تو چلو اس طرح وہ اس کا تجسس دور کر دے گا۔ پاشابے سے اسے ملنا ہی تھا۔ باقیوں کی طرح وہ اس کے لیے بھی انڈیا میں تھا، اور چونکہ پاشا بے اس سے ناراض بھی بہت تھا، اس لیے پہلے جہان کو اپنے اور اس کے تعلقات درست کرنے تھے۔ وہ اس سے بہت خفا ہی سہی، مگر وہ اس کو ”نہ“ نہیں کر سکتا تھا۔ لالچی انسان کبھی اپنے عبدالرحمن جیسے بھائی کو نہ نہیں کیا کرتے۔
طیب حبیب پاشا کے لئے استنبول میں دو ہی جگہیں محفوظ تھیں جہاں وہ عبدالرحمن سے مل سکتا تھا۔ ایک برگر کنگ اور دوسرا ہوٹل گرینڈ، وہ جانتا تھا کہ طیب حبیب استنبول ہی میں ہے، اور چونکہ وہ خود بیوک ادا آ چکا تھا، اس لیے اس نے نہایت مناسب انداز سے اسے پیغام لکھا۔ آیا کہ طیب ہوٹل گرینڈ آئے گا یا وہ خود برگر کنگ آ جائے۔
اسے معلوم تھا کہ طیب حبیب انکار نہیں کرے گا، اور اس نے انکار نہیں کیا۔ اسے عبدالرحمن کی ضرورت تھی۔ اس نے برگر کنگ پہ کچھ دن بعد ملنے کی حامی بھر لی۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ ابھی استنبول سے باہر ہے، واپس آتے ہی اس سے ملے گا۔ اب نہ معلوم یہ سچ تھا یا نہیں، بہرحال اسے اب طیب حبیب کا انتظار کرنا تھا۔
کافی پی کر اس نے ایک میٹنگ بلا لی تھی۔ ابھی اس سے فارغ ہوا ہی تھا کہ حیا کا فون آنے لگا۔ پتا نہیں یہ کیسا رشتہ تھا جس کا وہ اس سے ذکر نہیں کرتا تھا مگر اس کا فون کاٹ بھی نہ سکا۔ میٹنگ اس وقت برخاست ہو رہی تھی، سب اٹھ رہے تھے، کانفرنس روم میں شور سا مچا تھا جب اس نے حیا کی کال وصول کی۔ حیا کو اس نےسچ ہی بتایا کہ وہ دوست سے ملنے آیا تھا۔ عجلت میں بات ختم کرتے ہوئے اس نے فون کان سے ہٹایا اور بورڈ ممبران سے اختتامی الفاظ با آواز بلند کہتے ہوئے کھڑا ہو گیا۔ اپنی چیزیں اٹھاتے ہوئے اسے احساس ہوا کہ فون ابھی تک آن تھا۔ اس نے جلدی سے کال کاٹی، وہ ترک میں بات کر رہا تھا، حیا نے کچھ نہیں سنا ہو گا یقینا سو اسے پریشانی نہیں ہوئی۔
واپس اپنے آفس آ کر بیٹھے اسے زیادہ دیر نہیں ہوئی تھی جب اس کے موبائل میں ٹریسر الرٹ بجنے لگا۔ وہ چونک سا گیا۔ اس کا ٹریسر اسی علاقے کے قریب تھا۔ کیا حیا آس پاس تھی۔ وہ کیوں ادھر آ رہی تھی۔
ابھی دوست سے ملاقات میں کافی وقت تھا اور ہوٹل کا کام وہ بعد میں دیکھ لے گا، پہلے اسے اپنی بیوی کو ہینڈل کرنا تھا۔
لباس بدل کر، جینز والا رف حلیہ بنا کر، سر پر پی کیپ لیے، وہ اپنے آفس کی پرائیوایٹ لفٹ سے نیچے آیا، اور آخری فلور سے پیچھے کی طرف سے باہر نکل آیا۔ قریب سے اس نے بھگی لی، اور اسے پھولوں کی مارکیٹ کا چکر لگانے کو کہا۔ جب اسے بلآخر وہ پھولوں کے اسٹال پہ نظر آ گئی، تو وہ بھگی سے اترا اور واپس ہوٹل کے عقبی پارکنگ ایریا تک آیا۔ ایک کام کرنا وہ بھول گیا تھا اور بھلے وہ اسے دیکھتی رہے، یہ کام اسے کرنا تھا۔ اس نے اپنے گارڈ کو اپنے والٹ میں لگی حیا کی تصویر دکھائی۔
یہ لڑکی کبھی تمہیں اپنے آس پاس نظر آئی ہے۔
نہیں سر! گارڈ نے نفی میں سر ہلایا۔
ٹھیک ہے، اگر یہ کبھی ہوٹل میں داخل ہونے کے لئے اس طرف آئے تو اس کو اندر مت جانے دینا اور فورا مجھے اطلاع کرنا۔
تمام، تمام! (اوکے اوکے) گارڈ نے فورا تابعداری سے سر ہلایا۔ جہان نے والٹ واپس اپنی جیب میں ڈالا اور پلٹ آیا۔ ابھی اسے اپنی بیوی کو رنگے ہاتھوں پکڑنا تھا جو اس کی جاسوسی کر رہی تھی۔ پھر اسے اچھا خاصا شرمندہ کر کے، تاکہ وہ دوبارہ اس کا تعاقب کرنے کی کوشش نہ کرے، وہ عیسی کی پہاڑی کی طرف جاتے راستے پہ چل دیا۔ مگر چونکہ وہ پہلے اسے کہہ چکا تھا کہ وہ تین سال بعد ادھر آیا ہے لہذا اس بات کو نبھانے کے لئے وہ کبھی کبھی ظاہر کر دیتا تھا کہ اسے راستہ یاد نہیں۔ توقع کے عین مطابق وہ اس کی طرف پہ مطمئن تھی۔
وہاں عیسی کی پہاڑی کے سبزہ زار پہ بیٹھے، اس نے نوٹ کیا تھا کہ حیا نے ان تینوں موتیوں کو پہن رکھا تھا اور یہ گردن والی چین تو بہارے کی تھی، وہ پہچانتا تھا۔ البتہ ایک فرق اس نے محسوس کیا تھا۔ وہ عموما گردن کے گرد دوپٹہ لیا کرتی تھی، البتہ آج اس نے شال شانوں کے گرد اچھی طرح لپیٹ رکھی تھی۔ یا تو عائشے کی کمپنی کا اثر تھا، یا وہ اسے حلیمہ عثمان کے پاس لے گئی ہوں گی۔ جو بھی تھا، اسے یہ نا محسوس سی تبدیلی اچھی لگی تھی۔ اگر یہ نہ ہوتی تب بھی وہ اسے اس کی تمام خوبیوں اور خامیوں سمیت قبول کر چکا تھا۔
جاری ھے

No comments: