Ads Top

ﻧﺎﻭﻝ رکھیل از ریاض_عاقب_کوہلر قسط نمبر 18

ﻧﺎﻭﻝ  رکھیل

  از 

 ریاض_عاقب_کوہلر



#رکھیل
قسط نمبر18
#ریاض_عاقب_کوہلر
رات گئے اس کی آنکھ کھلی ،وہ اسی طرح اوندھے منھ بیڈ پر پڑا تھا ۔ سر نہایت بھاری ہو رہا تھا ۔سر جھٹکتے ہوئے وہ اٹھ بیٹھا ۔دیوار پر ٹنگی گھڑی دو بجنے کا اعلان کر رہی تھی ۔لڑکھڑاتے قدموں سے وہ غسل خانے کی طرف بڑھ گیا ۔شاور کھول کر وہ بغیر کپڑے اتارے تیز دھار پانی کے نیچے کھڑا ہو گیا ۔تھوڑی دیر بعد ہی اس کی کسلمندی دور ہو گئی تھی ۔پتلون قمیص اتار کر غسل خانے کے فرش پر پھینکتے ہوئے وہ تولیہ لپیٹ کر باہر نکل آیا ۔اس کا رویہ بچکانہ سا ہو رہا تھا ،یوں جیسے تناوش کو اس کی ساری حرکتیں نظر آرہی ہوں اور اس کے یوں کرنے پر وہ اس کے کپڑے اور سامان وغیرہ سمیٹنے کے لیے بھاگی چلی آئے گی ۔
ڈریسنگ روم میں گھس کر اس نے کپڑے پہنے اور تولیہ ایک طرف اچھال کر باہر آگیا۔ دوپہر کو جاگنے کے بعد اس نے تناوش کے ہاتھوں سے ناشتا کیا تھا اس کے بعد وہ کچھ بھی نہیں کھا سکا تھا ،لیکن اتنی دیر گزر جانے کے بعد بھی اسے بھوک محسوس نہیں ہورہی تھی ۔صوفے پر بیٹھ کر اس نے ایل ای ڈی آن کی اورمختلف چینل تبدیل کرنے لگا ۔کوئی پروگرام بھی اسے اچھا نہیں لگا تھا ۔ریموٹ میز پر پھینک کر وہ موبائل فون کی تلاش میں نظریں دوڑانے لگا ۔
”کیا پتا اس کی کال آئی ہو ۔ہو سکتا ہے اسے ندامت محسوس ہو رہی ہو ۔“ دماغ میں خیال ابھر ااوروہ قالین پر پڑے کوٹ کی جانب بڑھ گیا ۔کوٹ کی جیب سے موبائل فون نکال کر اس نے تاریک سکرین پر ایک نگاہ دوڑائی ۔سکرین کے اوپر ی کونے میں چھوٹی سی بتی جل بجھ کر کسی مس کال یا پیغام آنے کا اشارہ کر رہی تھی ۔سکرین روشن کیے بغیر اس نے دھڑکتے دل سے سوچا ....
”کیا اسی کی کال آئی ہے ،شاید نادم ہو اور دور جا کر اسے میری کمی معلوم ہوئی ہو ۔اگر اس نے سچ میں مجھے بلایا ہوتو کیا اسے لینے جاﺅں گا ؟“اس نے دل میں جھانکا فوراََ ہی جواب موصول ہوا تھا ۔”ہاں لینے تو جاﺅں گا ،مگر ذرا موڈ بنا کر ۔بات نہیں کروں گا ۔کار کا ہارن سن کر وہ بھاگتی ہوئی آئے گی ،میں بس خاموشی سے اس کے لیے دروازہ کھول کر چپ چاپ بیٹھا رہوں گا۔اور جب وہ ندامت ظاہر کرتے ہوئے دھیمے لہجے کہے گی ،کبیر معاف کر دو مجھ سے غلطی ہوگئی۔ تب بھی میں کوئی جوا ب نہیں دوں گا اور خاموش بیٹھا کار ڈرائیو رکرتا رہوں گا ۔اس کی جانب دیکھوں گا بھی نہیں ۔“دل نے نہ دیکھنے کی بات پر احتجاج کیا ۔اس نے جلدی سے اپنی سوچ کی تردید کی ۔”سیدھا تو نہیں البتہ شیشے میں چوری چوری اس کے چہرے پر نگاہ ڈال لوں گا۔اسے منتیں کرنے دوں گا ۔اوروہاںسے اسے سیدھا ساحل سمندر پر لے جاﺅں گا ۔کار سے اتر کر میں اس کی طرف توجہ کیے بغیر ریت پر آگے بڑھ جاﺅں گا ۔وہ مجھے منانے کے لیے میرے پیچھے بھاگے گی اور پھر پاﺅں میں موچ آنے پر نیچے گرجائے گی ۔“
دل نے واویلا کیا ۔”پاﺅں میں موچ نہیں آنا چاہیے اسے درد ہوگا ۔وہ نازک سی گڑیا کہاں برداشت کر پائے گی ۔“
”ٹھیک ہے ٹھیک ،وہ موچ آنے کا بہانہ تو کر سکتی ہے نا،بس طے ہو گیا وہ موچ آنے کا بہانہ کرے گی اور میں بھاگ کر اسے بازوﺅں میں بھر کے سینے سے لگا لوں گا ۔وہ میرے گلے میں بازو ڈال کر کہے گی ،پلیز معاف کر دو نا ،نہیں تو میں رونا شروع کر دوں گی اور میں مسکرا تے ہوئے پوچھوں گا، آئندہ ایسا کرو گی۔ وہ میرے کندھے پر سر رکھ کر کہے گی کبھی نہیں ،کبھی بھی نہیںبس اس دفعہ معاف کر دو ۔ میں فوراََ اسے معاف کر دوں گا ۔اور جب گھر لوٹ کر آئیں گے تو خواب گاہ کی حالت دیکھتے ہی وہ سر پیٹ لے گی اور جلدی جلدی تمام سامان کو ترتیب سے رکھنا شروع کر دے گی ۔تب میں صوفے پر بیٹھ کر اس کی حالت پر زور زور سے ہنسوں گا ۔سارا سامان ترتیب سے رکھ کر جب وہ شراب کی خالی بوتلوں کو دیکھے گی تو خوب لڑے گی ۔مگر میں بھی صاف کہہ دوں گا کہ یہ سب تمھارا کیا دھرا ہے ۔نہ تم دور جانے کا سوچتیں نہ مجھے ایسا کرنا پڑتا۔“سارا منصوبہ سوچتے ہوئے اس نے سکرین روشن کرنے والا بٹن دبایا اور شیخ چلی کے سر پر رکھا انڈوں کا ٹوکرا دھڑام سے نیچے جا گرا ۔عظیم کے نمبر سے مس کال آئی ہوئی تھی ۔گہرا سانس لے کر اس نے صوفے کی پشت سے ٹیک لگا لی ۔
”کبھی بھی معاف نہیں کروں گا کبھی بھی نہیں ....نہ کال وصول کروں گا ،نہ اس کا بھیجا پیغام پڑھوں گا اور اگر وہ خود یہاں آگئی تو راحت خالہ کو کہہ کر اسے گھر سے نکال دوں گا بے شک روتی رہے ۔اسے معلوم نہیں کہ کبیردادا کتنا سخت دل ہے ۔مجھے لڑکیوں کی کیا پروا .... جتنی چاہیے تناوشیں اکٹھی کر لوں ۔کل کی چھوکری مجھ سے ٹکرانے چلی ہے ہونہہ!“اس نے طنزیہ ہنکارا بھرا اور ایک دم اپنے ہاتھوں پر ماتھا ٹیک دیا ۔اسے لگا آنکھوں میں پانی جمع ہو رہا ہے ۔
” اپنے موبائل سے میری تصویر ہی کھینچ لیتے کتنی پیاری لگ رہی ہوں ۔“اس کے کانوں میں جیسے کسی نے سرگوشی کی تھی ۔اس نے فوراََ تصویروں والا فولڈر کھول لیا ۔وہ ہنستے ہوئے اسی کی طرف دیکھ رہی تھی ۔ایک تصویر میں وہ زبان نکال کر اسے چڑا رہی تھی ۔ایک میں اس نے دونوں آنکھیں سختی سے میچی ہوئی تھیں ۔دو تین تصویروں میں وہ سنجیدہ نظر آنے کی کوشش کر رہی تھی، مگر اس کی روشن مسکراتی آنکھیں جھوٹی سنجیدگی کا راز فاش کر رہی تھیں ۔
”نہیں چاہئیں تمھاری تصویریں ،ساری کی ساری ڈیلیٹ کر دوں گا ۔“غصے میں وہ اس کی تصویروں کو ڈیلیٹ کر نے کی غرض سے” سلیکٹ“ کرنے لگا ۔تمام تصاویر مارک کر کے اس نے ڈیلیٹ کے آپشن کی طرف انگلی بڑھائی ،مگر اسے دبانے کی ہمت نہ کر سکا ۔اس کی سماعتوں میں تناوش کی سرگوشی گونجی ۔
” میری تصاویر کو موبائل فون سے تو مٹا دو گے ،مگر دل میں نقش تصویر کو کیسے کھرچو گے۔“
اس نے موبائل فون ہاتھ سے رکھ دیا ۔”مجھے معلوم تو کرنا چاہیے آخر اس نے ایسا کیوں کیا ۔وہ تو میری جدائی سے ڈرتی تھی ،میرے طلاق دینے سے خوف کھاتی تھی ،کسی دوسری لڑکی کے میرے قریب آنے پر اس کا سانس رکنے لگتا تھا ۔اب کیا ہوا ۔کیا اب میری جدائی قابل برداشت ہو گئی ۔یہ پوچھنا تو بنتا ہے ۔ اس سے مزید صبر نہ ہوسکااور وہ انٹرکام کا رسیور اٹھا کر چوکیدار کوکل والا حکم دہرانے لگا ۔گھڑی کی سوئیاں تین کے ہندسے کو چھو رہی تھیں ۔
”یقینا گہری نیند میں ہو گی ،یہ جانے بغیر کہ کوئی کس شدت سے اسے یاد کر رہا ہے ۔ کیا پتا ترس کھا کر میرے ساتھ چلی آئے ۔“اسے یوں لگا جیسے وہ تناوش سے محبت کی بھیک مانگنے جا رہا ہے ۔اس کی انا ،خود داری اوربڑی شخصیت ہونے کے زعم کی عمارت دھڑام سے زمین بوس ہو گئی تھی ۔وہ چھوکری جو کل تک اس کی نظر کرم کی محتاج رہا کرتی تھی آج آسمان کی بلندیوں کو چھوتی ہوئی کوئی ایسی ملکہ لگ رہی تھی جس تک اس کی رسائی ہی ممکن نہ ہو ۔
”کیا ہو گیا ہے تمھیں ،تم کبیردادا ہو ،ایک بہت بڑے گینگ کے سربراہ ۔تمھیں لڑکیوں کی کیا کمی ہے ۔اس سے کئی گنا خوب صورت اور کم عمر لڑکیاں تمھیں مل سکتی ہیں پھر اس کے سامنے جھکنے کی تذلیل کیوں برداشت کر رہے ہو ۔“تناوش سے متنفر کرنے والی ایک تلخ سوچ اس کے دماغ میں ابھری مگر دل خم ٹھونک کر میدان میں آگیا ۔
”اس سے بہتر تو کیا اس جیسی دوسری بھی اللہ پا ک نے نہیں بنائی ۔پھر کوئی کیسے اس کی جگہ سنبھال سکتا ہے ۔اور بالفرض اس جیسی صورت کسی کو مل بھی گئی ہو تو کیا وہ اس کی طرح شوخ، چنچل اداﺅں والی بھی ہو گی ،ویسا ہی خدمت کرنے کا فن جانتی ہو گی ،اتنا ہی خیال رکھنے والی ہو گی ؟“یہ ایسے سوالا ت تھے جن کا جواب نفی میں تھا ۔وہ پاﺅں میں ہوائی چپل ڈالتا ہوا کھڑا ہو گیا ۔اس کا دل اتنی شدت سے تناوش کو دیکھنے ،اس سے بات کرنے کی خواہش میں مچل رہا تھا جیسے اسے نہ دیکھنے پراسے موت ہی تو آجائے گی ۔باہر نکل کر وہ اپنے دھیان میں ڈرائیونگ سیٹ کی طرف بڑھا کہ اچانک اس کے کانوں میں پاشا کی آواز گونجی ۔
”ڈرائیو میں کروں گا ۔“کبیردادا ششدر رہ گیا تھا ۔
”تم ....یہاں کیا کر رہے ہو ؟“
وہ اطمینان بھرے لہجے میں بولا ۔”اس کوٹھی میں ایک کمرہ ابھی تک میرے سامان سے اٹا پڑا ہے اور وہاں رات گزارنے کے لیے یقینا مجھے کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں ہے ۔“
”تو جاﺅ آرام کرو ۔“
پاشا نے معنی خیز لہجے میں پوچھا ۔”آپ کہاں جا رہے ہیں ؟“
”میں کہیں بھی جاﺅں تم جاکر آرام کرو ۔“
پاشا نے نفی میں سر ہلایا۔”میرا ساتھ آپ کو سہولت دے گا ۔“
”میں بس اس سے اتنا پوچھوں گا کہ اسے یہاں پر کیا تکلیف تھی ۔اور کوئی طعنہ نہیں دوں گا نہ غصہ کروں گا ۔بس مختصر سی بات کر کے واپس آجاﺅں گا ۔“وہ پاشا کے سامنے یوں صفائی دینے لگا جیسے وہ اس کا بڑا ہی تو ہو۔“
”دوٹکے کی لڑکی کے دروازے پر کبیردادا رات کے تین بجے محبت کی بھیک مانگنے جائے گا ۔“
”نہیں ،نہیں ،ایسی کوئی بات نہیں ۔میں بس اس سے تھوڑی سی بات کروں گا اور پھر واپس آجاﺅں گا ۔میرے دل میں ایک پھانس اٹکی ہے وہ اس سے بات کر کے نکل جائے گی ۔“
”کیا میں آپ سے محبت نہیں کرتا ۔کیا میں آپ کا خیال نہیں رکھتا ،کیا میری ذات کی آپ کی نظر میں کوئی اہمیت نہیں،کیا میرے وعدے ،میرے الفاظ کی آپ کے نزدیک کوئی وقعت نہیں ۔“پاشا جذباتی ہو گیا تھا ۔
”ایسی بات نہیں ہے یار ،تم بات کو غلط رخ دے رہے ہو ۔“کبیردادا اس کی بات سن کر خفیف ہو گیا تھا ۔
”جانتا ہوں وہ آپ کو پیاری لگتی ہے ،لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس دھوکے باز کی چکنی چپڑی باتوں میں آکر آپ اپنے مقام ہی کو فراموش کر دیں ۔ آپ بس وقتی پسندیدگی کو محبت سمجھنے کی غلطی کر رہے ہیں اور بالفرض آپ اس سے سچی محبت کرتے ہیں تب بھی محبت کا تقاضا یہی ہے کہ محبوب کی مرضی پر راضی رہا جائے ۔وہ دور جا کر خوش ہے تو آپ اسے کیوں خوش نہیں رہنے دیتے ۔یقین مانیں وہ آپ کو دیکھ کرگھبرا جائے گی ،پریشان ہو جائے گی ۔وہ ڈرتی ہے آپ سے۔ آپ اس کی نظر میں ایک گینگسٹر ہیں ،ایک قاتل ،شرابی اور بدکردار شخص ہیں ۔پہلے وہ دولت اور عیش و آرام کے لالچ میں یہاں ٹکی تھی اب اسے یہ سب کچھ آپ کے بغیر میسر ہو گیا ہے اس لیے اسے کسی غنڈے موالی کی ضرورت باقی نہیں رہی ۔“
ایک گہرا سانس لیتے ہوئے وہ ڈرائیور کے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھتا ہوا بولا ۔”بیٹھو ۔“
پاشا نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی ۔”کہاں جانا ہے ؟“اس نے کار آگے بڑھاتے ہوئے پوچھا ۔
”ساحل سمندر پر چلو ۔“کبیردادا نے سیٹ سے ٹیک لگا تے ہوئے آنکھیں بند کیں اوروہ دھم سے اس کی آنکھوں کے سامنے آ کودی ۔وہ جلدی سے کھڑکی سے باہر دیکھنے لگا ۔ آنکھیں بند کرنا بھی اس کے لیے کارِدار بن گیا تھا ۔
دل نے مطعون کیا ۔”کاش میں نے پاشا کو یہ نہ کہا ہوتا کہ اسے منھ مانگی رقم وغیرہ دے کر میری زندگی سے دور کر دے ۔“
دماغ نے پوچھا ۔”تو کیا ساری زندگی اس دھوکے باز کی جھوٹی محبت میں ڈوبے رہتے ۔“
”کیا فرق پڑتا ہے اس کی جھوٹی یاسچی محبت سے جب انسان کو دوسرے کے دل کا حال معلوم ہی نا ہو ۔بھلے وہ عیش و آرام کی وجہ سے مجھ پر نازوادا کی بارش کرتی مجھے آم کھانے سے مطلب ہونا چاہیے نہ کہ پیڑ گننے سے ۔“دل کا احتجاج جاری رہا ۔
”کیا سوچ رہے ہیں دادا۔“پاشا اس کی سوچوں میں مخل ہوا ۔
”کچھ نہیں یا ر،بس حیران ہو رہا ہوں کہ کوئی اتنی اچھی اداکاری بھی کر سکتا ہے ۔“
”عورت ذات کو مالک نے جسمانی طور پر کمزور ضروربنایا ہے ،مگر اس کمزوری کے بدلے اسے مکاری کی ایسی صفت عطا کر دی جو مرد کی طاقت سے کئی گنا زیادہ پر اثر ہے ۔عورت کو اپنے احساسات چھپانے میں بلا کی مہارت ہے ۔یہ ذات جھوٹی محبت کا اظہار بھی اس صفائی سے کرتی ہے کہ مخالف کو یقین کرنا ہی پڑتاہے اور جب تک اسے حقیقت کا ادراک ہوتا ہے وہ سرتاپا اس مکار کے عشق میں ڈوب چکا ہوتا ہے ۔اب اس کا انحصار عورت کی ترجیحات پر ہوتا ہے کہ اس کا فائدہ، متاثر مرد کے ساتھ رہنے میں ہے یا دور ہونے میں ۔اگر تو اس کے ساتھ رہنے میں فائدہ ہوتو وہ یہ ڈرامہ جاری رکھتی ہے ۔اس کے برعکس ہونے کی صورت میں بے چارے کے قدموں سے ایک منٹ میں زمین کھینچ لیتی ہے ۔آپ شکر کریں کہ بروقت مجھے ساری بات بتا دی اور اس کی جھوٹی محبت کا راز فاش ہو گیا ورنہ زندگی کے کسی اورموقع پر وہ آپ کو کوئی ناقابل تلافی نقصان بھی پہنچا سکتی تھی ۔“
کبیر دادا کے دماغ میں تلخ سوچ ابھری ۔”مجھے تو حالیہ نقصان بھی ناقال تلافی ہی لگ رہا ہے ۔“مگر منھ سے وہ یہ اقرار نہیں کر سکا تھا ۔
”یہاں کھانا کھائیں گے ۔“کل والے ہوٹل کے سامنے سے گزرتے ہوئے اس نے پاشا کو مطلع کیا اور اس نے سرہلاتے ہوئے کار ہوٹل کی پارکنگ میں موڑ دی ۔
وہ میز آج بھی خالی پڑی تھی جہاں اس نے گزشتارات تناوش کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھایا تھا ۔وہ پاشا کو لے کر اسی میز کی طرف بڑھ گیا ۔نشست سنبھالتے ہوئے پاشا بولا ۔
”میرا خیال ہے آپ کھانا نہیں کھا سکے ہیں ۔“
”صحیح کہا ۔“اس نے اثبات میں سر ہلادیا ۔
”تو کیا منگواﺅں ؟“پاشا منیو کارڈ کھول کر دیکھنے لگا۔
”کچھ بھی ۔“مختصراََ کہتے ہوئے وہ شیشے کا جگ اٹھا کر گلاس میں پانی انڈیلنے لگا ۔ گلاس منھ سے لگاتے ہوئے اس کے دماغ میں تناوش کی مدھر آواز گونجی ۔”کوئی ایسی چیز جو آپ اپنے ہاتھوں سے مجھے کھلا سکیں ۔“
وہ خیالوں ہی خیالوں میں اسے مخاطب ہوا ۔”آجاﺅنا ہمیشہ اپنے ہاتھوں سے کھلایا کروں گا ۔“اس کا جواب اسے سنائی نہیں دیا تھا ۔یقینا اب کبیردادا کی بات اس کے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتی تھی ۔بیرے کے آنے تک وہ خاموش بیٹھا رہا پاشا نے بھی اسے مخاطب کرنے کی کوشش نہیں کی تھی ۔بیرے نے کھانا لا کر ان کے سامنے رکھا ۔پاشا کو بھی کھاتے دیکھ کر وہ پوچھنے لگا ۔
”تم نے بھی نہیں کھایا تھا ۔“
”جی ۔“کہہ کر پاشا کھانے کو جڑ گیا ۔کبیردادا نے چند نوالوں کے بعد ہاتھ کھینچ لیے تھے ۔مگر پاشا نے خوب ڈٹ کر کھایا تھا ۔
ہوٹل سے نکل کر وہ پاشا کے ساتھ ساحل پر آگیا ۔ریت پر ننگے پاﺅں گھومتے ہوئے وہ بے اختیار ہو کر پاشا کو گزشتا شب کی باتیں بتانے لگا ،تناوش کا پاﺅں میں موچ آنے کا بہانہ سناتے ہوئے وہ ہنس پڑا تھا ۔
اس کی بات کے اختتام پر پاشا نے منھ بگاڑتے ہوئے کہا ۔”مرد کو پھانسنے اور اس کے دل میں جگہ بنانے کے ہزاروں لاکھوں گُر یہ ماں کے پیٹ سے سیکھ کر نکلتی ہیں ۔“
کبیردادا نے اس کی بات پر تبصرہ کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی ۔سورج طلوع ہونے تک وہ وہیں گھومتے رہے اور پھر کبیردادا کے کہنے پر واپس لوٹ آئے ۔
٭٭٭
”یوں ہنگامی طور پر کیوں بلا یا ہے بہت اہم کام چھو کر آیا ہوں ۔“نوشاد آفرید ی بوتل سے وہسکی انڈیلنے لگا ۔
ایس پی ضمیر حسین بولا ۔”شاہ جی کو آنے دیں پھر بات کرتا ہوں ۔“
”خیریت تو ہے نا ۔“نوشاد آفریدی کے لہجے میں ہلکی سی پریشانی در آئی تھی ۔
”وہی کبیردادا والامعاملہ ہے یار ۔“پلیٹ میں پڑے خشک فروٹ میں سے کشمش کا دانہ اٹھا کر منھ میں ڈالتے ہوئے ایس پی نے اسے تسلی دی ۔اسی وقت اخلاق حسین سلام کہتا ہوا اندر داخل ہوا ۔
آئیں شاہ جی ۔“دونوں نے کھڑے ہو کر اس کا استقبال کیا ۔
رسمی کلمات کے بعد ایس پی مطلب کی گفتگو پر آگیا ۔”تم دونوں تو اس دن کے بعد اپنے منصوبے کو بھول ہی گئے ہو ،لیکن میں مسلسل اسی کام میں جتا ہوں ۔“
نوشاد آفریدی نے کہا ۔”بھول نہیں گئے ،اپنے لیڈر پر مکمل اعتماد ہے ۔“
ایس پی نے تفصیل بتاتے ہوئے کہا ۔”بہ ہر حال تازہ ترین خبر یہ ہے کہ آج ہفتہ ہے اور خوش قسمتی سے وہ رکھیل کل سے اپنے گھر میں موجود ہے ۔شاید شام تک گھر ہی میں رہے ۔ہم نے عصر کے وقت اسے اغواءکر نا ہے ،اگر اس سے پہلے اس نے گھر جانے کی کوشش کی تو اسی وقت اٹھوا لیں گے ۔“
اخلاق حسین نے پوچھا ۔”باقی کے انتظامات تو مکمل ہیں نا؟“
ایس پی نے اثبات میں سر ہلایا۔”ہاں ،سارا انتظام ہو گیا ہے ۔“
نوشاد نے پوچھا ۔”تو اب ہمارے لیے کیا حکم ہے ؟“
”آپ دونوں نے فصیح الدین کے نمبر دو تیمور علی کو قابو میں کرنا ہوا گا ،یہ نہ ہوفصیح الدین کی موت کے بعد ایک نیا ہنگامہ کھڑا ہو جائے اور اصل معاملہ درمیان ہی میں رہ جائے ۔ “ ایس پی نے یاد دہانی کرائی ۔
اخلاق حسین نے تفصیل بتاتے ہوئے کہا۔ ”آج نوشادآفریدی کے ہاں ایک تقریب رکھیں گے ۔اس میں تیمور علی بھی خصوصی طور پر مدعو ہوگا ، پاشا اور کاشف راجپوت کو بھی بلائیں گے۔ صرف کبیردادا کو دعوت نہیں دی جائے گی کیونکہ نوشاد آفریدی اور اس کی ان بن کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔اور پھر فصیح الدین کی موت کی خبر مجھے وہیں پر ملے گی۔جسے فوراََتیمور علی اور پاشا وغیرہ کے سامنے بیان کر دوں گا ۔اس کے ساتھ ہی میں اور نوشاد مل کر اس معاملے کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کریں گے ،یقینا پاشا اور کاشف راجپوت بھی ہمارا ساتھ دیں گے ۔اس طرح یہ اطلاع بروقت تمام گینگ کے سربراہوں کے پاس بھی پہنچ جائے گی ۔“
”زبردست ۔“ایس پی نے تحسین آمیز انداز میں کہا۔”یقیناتقریب میں میری حاضری بھی لازمی ہونا چاہیے ۔“
”نہیں ،تمھیں منصوبے کی تکمیل کی طرف دھیان دینا ہو گا ۔“اخلاق حسین نے نفی میں سر ہلایا۔
”ٹھیک ہے ۔“ایس پی نے اس کی بات سے مکمل اتفاق کیا تھا۔
٭٭٭
صبح کی نماز پڑھ کے اسے نیند آگئی تھی ۔وہ دن چڑھے تک سوتی رہی یہاں تک دھوپ نے اسے صحن سے اٹھ کر کمرے میں جانے پر مجبور کر دیا ۔لیکن کمرے میں اسے نیند نہ آ سکی۔ بشریٰ نے اندر جھانکا اور اسے چھت کی کڑیوں کو گھورتے دیکھ کر کہنے لگی ۔
”ا ب اٹھ کر ناشتا کر لو۔“
”جی ماں جی ۔“وہ اٹھ کر منھ ہاتھ دھونے چل دی ۔بشریٰ نے بھی ابھی تک ناشتا نہیں کیا تھا ۔
غم جتنا بھی ہو انسان اپنے جسم کی ضروریات سے مسلسل آنکھیں بند کر کے نہیں رہ سکتا۔اسے بھی زیادہ نہیں تو تھوڑی بہت کھانے کی حاجت ہو رہی تھی ۔چاے کے ساتھ اس نے پراٹھے کے چند نوالے لیے ۔اس کے بعد ماں کے منع کرنے کے باوجود وہ گھر کے کاموں کو جت گئی ۔فارغ لیٹنے سے دماغ میں عجیب و غریب خیالات چکرانے لگتے تھے۔بارہ بجے کے قریب اسے پاشا کی کال وصول ہوئی وہ اسے گھر کے دروازے پر بلا رہا تھا ۔
”اندر آئیں نا بھیا ۔“اس نے دروازہ کھولتے ہوئے اسے اندر آنے کی دعوت دی ۔
”اس وقت جلدی میں ہوں ،بس تمھیں یہ دینے آیا تھا ۔“اس نے ایک چھوٹا سا ڈبہ تناوش کی جانب بڑھایا۔
”یہ کیا ہے ؟“تناوش نے ڈبہ پکڑلیا ۔
”موبائل فون ہے ۔“
”میں اس کا کیا کروں گی بھیا ۔“اس نے ڈبہ پاشا کی جانب واپس بڑھایا۔
”اس میں کبیردادا کی تصاویر اور وڈیوز میں نے بھر دی ہیں ،اگر نہیں چاہیے تو واپس رکھ لیتا ہوں ۔“ابھی تک پاشا نے ڈبہ واپس لینے کے لیے ہاتھ نہیں بڑھایا تھا ۔
”شکریہ بھیا ۔“اس نے خفیف انداز میں سر جھکا لیا ۔
پاشا نے کار میں بیٹھتے ہوئے پوچھا ۔”تو ماں جی سے مشورہ لیا ؟“
”ہاں پوچھا تھا ۔تھوڑی دیر تک امی جان ،مولوی صاحب سے مشورہ کرنے جائیں گی ،میں ان شاءاللہ رات کو کال کر کے بتا دوں گی ۔“
اور پاشا ہاتھ لہراتے ہوئے رخصت ہو گیا ۔وہ کمرے کی طرف بڑھ گئی ۔
”کون تھا بیٹی ۔“عائشہ غسل خانے میں بیٹھی کپڑے دھو رہی تھی وہیں سے اس نے آواز دی ۔
”پاشا بھائی تھے ماں جی ،جانے کے بارے پوچھنے آئے تھے ۔“وہ رکے بغیر کمرے میں گھس گئی ۔چارپائی پر بیٹھ کر اس نے سرعت سے ڈبہ کھولا۔اور قیمتی سیل فون باہر نکال لیا ۔اگلے چند سیکنڈ میں وہ کبیر دادا کی تصاویر دیکھ رہی تھی ۔اس میں کبیردادا کی ورزش اور تربیت وغیرہ کی کافی وڈیوز پاشا نے بھر دی تھیں ۔وہ باری باری تمام کو دیکھتی رہی ۔کسی میں کبیردادا پنچنگ بیگ پر مکے برسا رہا تھا ،کسی میں خالی ہاتھ لڑائی کے مختلف پوز بنا رہا تھا ۔ایک وڈیو میں کبیردادا اسے ایک لمبے تڑنگے اور موٹے تازے حبشی دیو نما شخص کے ساتھ بھی نظر آیا ۔اس کے سامنے کبیردادا بھی چھوٹا بچہ نظر آرہا تھا ۔اور اس سے اتیں کرتے ہوئے کبیر دادا کا لہجہ کافی مودّبانہ لگا تھا اسے ۔
عائشہ نے اندر داخل ہوتے ہوئے پوچھا ۔”واہ جی ،یہ موبائل کب خرید لیا ۔“
”ابھی پاشا بھائی دے کر گئے ہیں ۔“
”تم نے تو کہا تھا ان سے کوئی تحفہ وغیرہ نہیں لوگی ۔“ماں نے اسے مطعون کیا ۔
”اس میں ان کی تصاویر ہیں ماں جی ۔“
”تو کیا ۔“
”تو یہ کہ مجھے اپنے بھیا نے دیا ہے ۔“اس نے ایئر فون کانوں میں لگاتے ہوئے گویا اعلان کیا تھا کہ وہ ماں کی مزید نصیحت نہیں سننا چاہتی ۔
عائشہ ہنستے ہوئے باہر نکل گئی ۔
ظہر کی نماز پڑھ کر ماں نے پوچھا ۔”بیٹی مولوی صاحب کے گھر چلو گی ۔“
”آپ ہو آئیں ماں جی ،میں شاید مولوی صاحب کا سامنا نہ کر پاﺅں ۔“نماز پڑھ کر وہ دوبارہ موبائل فون لے کر بیٹھ گئی تھی ۔
” ٹھیک ہے میں چلتی ہوں ،تم دروازہ کنڈی کر دو ۔“
وہ سر ہلاتے ہوئے ماں کے پیچھے بڑھ گئی ۔ ماں کے باہر نکلتے ہی اس نے دروازہ کنڈی کیا اور پھر چارپائی پر آن لیٹی ۔اپنی دسترس اور نظروں سے دور کبیرداداکو چند انچ کے فاصلے پر مسلسل دیکھنا اسے بہت اچھا لگ رہا تھا ۔اگر اس موبائل فون میں کبیر دادا کی تصاویر اور وڈیوز نہ ہوتیں تو اس نے کبھی بھی پاشا سے سیل فون نہیں لینا تھا۔لیکن کبیردادا کی تصاویر اور وڈیوز کے بعد وہ سیل فون اس کے لیے نہایت قیمتی ہو گیا تھا ۔جانے کتنے گلے شکوے تھے جو وہ اس کی تصاویر سے کر چکی تھی ۔درجنوں تصاویر میں صرف ایک تصویر ایسی تھی جس میں وہ ہنس رہا تھا اور وہی تصویر اس کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی تھی ۔لاک سکرین اور وال پیپر پر اس نے وہی تصویر لگا دی تھی ۔
”اللہ پاک کرے ہمیشہ یونھی ہنستے رہو ۔“ہزاروں لاکھوں شکوں کے باوجود بے ایمان دل سے دعائیں ہی نکل رہی تھیں ۔
عصر کی آذان اس کے کانوں میں پڑی اوروہ سیل فون چارجنگ پر لگا کر وضو کرنے چل دی ۔نماز پڑھ کر وہ دعا کے لیے ہاتھ اٹھانے لگی تھی کہ دروازے پر زوردار دستک ہوئی ۔
”آئی ماں جی ۔“دعا مانگنا واپسی پر موّخر کرتے ہوئے وہ دروازے کی طرف بڑھ گئی۔
کنڈی کھولتے ہوئے اس کی زبان چل رہی تھی ۔”اتنی دیر لگا دی ۔“ اور پھر جونھی اس نے دروازہ کا پٹ کھولا اچانک دو آدمی اندر گھس آئے۔
”کک....کون ہو تم ....کیا بات ہے ۔“وہ گھبراتے ہوئے ہکلائی ۔
”خاموش ۔“ایک آدمی نے اسے ڈانتے ہوئے اس کے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ دیا ۔
اس نے تڑپ کر اس کی گرفت سے نکلنا چاہا مگر نازک لڑکی میں اتنی ہمت مفقود تھی کہ ایک مرد کا مقابلہ کر پاتی ۔
دوسرے آدمی نے جلدی سے دروازہ بند کیا اور جیب سے ٹیکہ نکال کر اس کی سوئی بے دردی سے تناوش کے بازو میں گھونپ دی ۔
وہ ۔”اوں ....اوں ....“کر کے دوسرے کی گرفت سے خود کو آزاد کرانے کی کوشش کرتی رہی مگر اسے کامیابی نہیں ہوئی تھی ۔ٹیکہ لگ جانے کے بعد بھی اس نے تناوش پر اپنی گرفت ہلکی نہیں کی تھی ۔وہ اپنے ساتھی سے پوچھ رہا تھا ۔
”کتنی دیر میں اثر شروع ہو جائے گا ۔“
”بس چار ،پانچ منٹ میں ۔“
تناوش کی مزاحمت آہستہ آہستہ مدہم پڑتی جا رہی تھی ۔اس کی آنکھوں کے سامنے منظر دھندلانے لگے تھے ۔وہ اپنی سوچ کو بھی مرتکز نہیں کر پا رہی تھی ۔شاید اس کی یاداشت ختم ہو گئی تھی۔ اسے وہ ماحول ،وہ بدمعاش ،کبیردادا کی جدائی اور اپنا آپ تک بھولنے لگا ۔مگر وہ مکمل بے ہوش نہیں ہوئی تھی ۔بس اسے اپنے اعضاءپر اختیار نہیں رہا تھا ۔اسے شدت سے کسی کے سہارے کی ضرورت محسوس ہو رہی تھی ۔
”کام ہو گیا شاکر!“ٹیکہ لگانے والا اپنے ساتھی کو مخاطب ہوا ۔اورشاکرنے ایک دم تناوش کو اپنی گرفت سے آزاد کر دیا ۔
وہ لہرا کر گرنے لگی تھی کہ ٹیکہ لگانے والا اسے تھامتے ہوئے شاکر پر غرایا ۔ ”بے وقوف ،بغیر سہارے کے یہ گرجائے گی ۔“
”سوری یار ۔“اس نے ندامت ظاہر کی ۔
تناوش کا سر کسی نئے شرابی کی طرح گھوم رہا تھا ۔اس نے خود کو تھامنے والے کے کندھے پر سر رکھ دیا ۔اس کے ہونٹوں پر خوب صورت مسکان ابھر آئی تھی ۔
”چلو ۔“وہ تناوش کو تھام کر دروازے کی طرف بڑھا۔یوں لگ رہا تھا جیسے وہ کسی بیمار کو سہارا دے کر جا رہا ہو۔شاکر نے جلدی سے عقبی کا نشست کا دروازہ کھولا۔ وہ تناوش کو آرام سے عقبی سیٹ پر بٹھا کر خود ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا ۔جبکہ شاکر تناوش کے ساتھ بیٹھ کر اسے سہارا دینے لگا ۔گھر کا دروازہ انھوں نے باہر سے بند کر دیا تھا ۔گلی میں کوئی خاص آمدورفت نہیں تھی ۔ جو ایک دو راہگیر گزر رہے تھے انھوں نے بھی ان کی کارروائی کو شک کی نظروں سے نہیں دیکھا تھا ۔
شاکرکے ساتھی نے کار آگے بڑھادی ۔
”یار نعیم !....یہ کچھ زیادہ ہی خوب صورت اورپرکشش نہیں ہے ۔“شاکر نے بے اختیار ،تناوش کے حسن کا قصیدہ پڑھا۔
”تو ۔“نعیم نے عقبی شیشے پر نظر دوڑا کر طنزیہ انداز میں پوچھا ۔
شاکر ندیدے پن سے بولا ۔”بہتی گنگا میں اگر ہم بھی ہاتھ دھو لیں تو کسی کا کیا بگڑے گا ۔“
نعیم کے لبوں پر بے اختیار گالی ابھری ۔”الو کے پٹھے ،جانتے بھی ہو یہ کس کی منظور نظر ہے ۔“
وہ نعیم کی گالی کو نظر انداز کرتا ہوا بولا۔”میری بلا سے یار،جب اغواءکر لیا ہے تو اس کے بعد باقی کیارہ جاتا ہے ۔“
”باقی یہ رہ جاتا ہے کھوتے کے سر ،کہ یہ کبیردادا کی رکھیل ہے اور اگر اسے بھنک بھی پڑ گئی کہ ہم نے اس کی رکھیل کے بارے ایسا سوچا بھی تھا تو یقینا ہمیں کراچی کے کسی کونے میں تو اس درندے سے پناہ نہیں ملے گی ۔“
”مم....مگر تم نے پہلے یہ بات نہیں بتائی ۔“شاکر خود پر لدی جانے والی تناوش سے ایک دم دور ہو گیا تھا ۔اس سے پہلے تو وہ اسے کسی محبوبہ کی طرح سنبھالے بیٹھا تھا ۔
نعیم ہنسا ۔”پھر تم نے میرے ساتھ کب آنا تھا ۔“
شاکر منمنایا۔”یار ،تم نے بہت بڑے خطرے میں ڈال دیا ہے ۔“
نعیم نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا ۔”فکر نہ کروہم کم سے کم وقت میں اسے مطلوبہ مقام تک پہنچاکر درمیان سے ہٹ جائیں گے ۔پھر کبیر دادا جانے اور اس کی چھمک چھلو کو اغواءکرانے والا جانے ۔“
”ویسے کس نے اتنی جرّات کا مظاہرہ کیا کہ ایسی لڑکی پر ہاتھ ڈال دیا ۔“
”وہ بھی کوئی چھوٹا موٹا غنڈہ نہیں ،فاصی ہتھ چھٹ ہے ۔“
”یار سانڈوں کی لڑائی میں ہم رگڑے جائیں گے ۔“ اتنے بڑے بڑے غنڈوں کا نام سن کر شاکر کی حالت غیر ہوتی جا رہی تھی ۔
”یار ٹھیک پندرہ سے بیس منٹ بعد ہم اس لڑکی کو ایک کوٹھی میں چھوڑ کر رخصت ہو جائیں گے ۔بعد میں فاصی ہتھ چھٹ جانے اور کبیردادا ،ہمیں ان سانڈوں کی لڑائی سے کچھ نہیں لینا۔“
”کار تھوڑا تیز چلاﺅ نا ۔“شاکر اس انداز میں تناوش سے دور ہو رہا تھا جیسے وہ چھوت کی مریضہ ہو ۔
”اوں ....سونے دو نا ....کیا کر رہے ہو ۔“تناوش نے خمار آلود آواز میں بڑبڑاشاکر کے کندھے پر سر رکھ دیا ۔مگر اس کی آنکھیں کھلی تھیں اور ہونٹوں پر خوب صورت مسکان چھائی ہوئی تھی ۔
شاکر نے پوچھا ۔”ٹیکے کا اثر کتنی دیر تک رہے گا ۔“
”تین چار گھنٹے بعد ہی اس کی حالت آہستہ آہستہ سنبھلے گی ۔مگر مدہوشی کے دوران اس کے ساتھ جو کچھ بھی ہوا ہوگا اسے بعد میں بھی یاد رہے گا ۔“نعیم نے تفصیلی جواب دیا تھا ۔
”بیڑا غرق ۔“شاکر ایک دم کار کے دروازے کی طرف سمٹا اورتناوش سیٹ پر اڑی ترچھی لیٹی رہ گئی ۔اس کی تیزی دیکھتے ہوئے نعیم قہقہہ لگا کر ہنس پڑا تھا ۔
”ذلیل آدمی ،اسی لیے اس مصیبت کو سنبھالنے کا کام میرے ذمہ چھوڑ دیا،حالانکہ میں تم سے اچھا ڈرائیور ہوں ۔“
”تو تم چسکے نہ لو نا، انسان کے بچوں کی طرح اسے سنبھالو۔“نعیم نے اسے لتاڑا ۔
”بھاڑ میں گیا سنبھالنا ۔“
”سونے دو نا....نیند آرہی ہے ،قریب آﺅ نا۔“تناوش مدہوشی بھرے انداز میں بڑبڑاتی رہی ۔
تھوڑی دیر بعد ہی وہ ایک پوش علاقے میں داخل ہوئے ۔ایک چھوٹی سی مگر خوب صورت اور عمدہ طرز تعمیر کے نمونے پر بنائی گئی کوٹھی کے سامنے نعیم نے کار روک دی ۔ہارن کے جواب میں ایک چوکیدار نے باہر جھانکا۔
نعیم نے کھڑکی سے سر نکال کر کہا ۔”شکیل صاحب کو کہیں مال پہنچ گیا ہے ۔“
چوکیدار بغیر کچھ کہے غائب ہو گیا ۔اگلے ہی لمحے اس نے دروازہ کھول دیا تھا ۔یقینا اسے پہلے سے ہدایت کر دی گئی تھی ۔
نعیم کار اندر لے گیا ۔اندرونی عمارت کے سامنے کالی پتلون اور سفید قمیص میں ملبوس ایک ادھیڑ عمر آدمی کھڑا تھا ۔نعیم نے کار اس کے ساتھ جا کر روک دی ۔وہی اس کا مطلوبہ آدمی شکیل تھا ۔
”لے آئے ہو ۔“اس نے کار کے رکتے ہی نیچے جھک کر عقبی نشست کی طرف نظر دوڑائی ۔
”جی سر ۔“نعیم خوش دلی سے کہتا ہوا نیچے اتر گیا ۔
”بہت خو ب۔“شکیل نے سراہنے کے انداز میں سر ہلایا۔”اب اسے اندر لے آﺅ ۔“
”جی ٹھیک ہے ۔“نعیم نے کار کا پچھلا دروازہ کھول کر تناوش کو بازوﺅں سے تھام کر نیچے اتارا اورسہارا دے کر کوٹھی کے اندر کی جانب بڑھ گیا ۔شاکر نے اس کا ہاتھ بٹانے کی بالکل بھی کوشش نہیں کی تھی ۔اس کے اندر اٹھنے والی غلیظ خواہش کبیردادا کا نام سنتے ہی جھاگ کی طرح بیٹھ گئی تھی ۔تناوش کی صورت بہ قول شاعر ایسی تھی کہ ....
ع ہے دیکھنے کی چیز اسے بار بار دیکھ
مگر شاکر کے دیکھنے کی خواہش پر بھی کبیردادا کی ہیبت سوار تھی ۔وہ ایسا ہی پررعب اور ہیبت ناک تھا ۔بڑے بڑے غنڈے اس کا نام سن کر کانپنا شرع ہو جایا کرتے تھے،شاکر غریب تو کسی شمار میں ہی نہیں تھا ۔نعیم کی تسلی دینے کے باوجود ابھی تک اس کا دل کسی انجان اندیشے سے لرز رہا تھا ۔
نعیم ،شکیل کی رہنمائی میں تناوش کو لے کر ایک خوب صورت اور پر تعیش خواب گاہ میں داخل ہوا۔کمرے کے وسط میں پڑے ہوئے جہازی سائز کے خوب صورت گول بیڈ پر اسے لٹا کر وہ شکیل کی طرف متوجہ ہوا ۔
”سر ،ہمارا کام پورا ہوا ۔“
”بالکل ۔“شکیل نے درمیانی نوٹوں کی ایک گڈی اس کی جانب بڑھاتے ہوئے کہا۔”شاید یہ کہنے کی ضرورت تو نہیں پڑے گی کہ ہم ایک دوسرے کو نہیں جانتے ۔“
”میں آپ کو کبھی خواب میں بھی نہیں دیکھا سر ۔“نعیم نے ہنستے ہوئے اس سے مصافحہ کیا اور تیز قدموں سے چلتا ہوا باہر نکل گیا ۔شاکر بڑی بے تابی سے اس کا منتظر تھا ۔
شکیل دھیرے قدموں سے چلتا ہوا تناوش قریب ہو گیا ۔”کتنی حسین اور پیاری ہو تم۔“وہ اس کے گالوں پر ہاتھ پھیرنے لگا ۔تناوش مدہوشی کی کیفیت میں پڑی تھی ۔ہونٹوں پر تبسم بکھیرتے وہ خلا میں تکتی رہی ۔
”اگر تم اس درندے کی رکھیل نہ ہوتیں تو میں کبھی بھی اس موقع کو ضائع نہ کرتا ۔مگر سچ کہوں تو مجھے جان بہت پیاری ہے ۔“تناوش کے سر سے دوپٹا اتارتے ہوئے اس نے خود کلامی کی ۔تناوش کے کالے سیاہ بال ،کالے ہی رنگ کے پراندے میں جکڑے ہوئے تھے ۔
شکیل بے ساختہ بولا۔”جیسے اس پراندے کی جرّات نہیں کہ ان بالوں سے خود کو آزاد کرا پائے یونھی تمھیں دیکھنے والا تمھاری صورت کے سحر سے خود آزاد نہیں کرا سکتا ہو گا ۔حقیقت میں جتنا سنا تھا تم اس سے کچھ زیادہ ہی پیاری ہو اور فاصی صاحب اگر مرنے سے پہلے تمھیں حاصل کر لیتا ہے تو یقینا یہ گھاٹے کا سودا نہیں ہے ۔“یہ کہتے ہوئے اس کے ہاتھ حرکت کرتے رہے ۔اس نے آہستہ آہستہ تناوش کے جسم سے سارالباس علاحدہ کردیا تھا ۔وہ شرم و حیا والی کبھی غیر مردوں کے سامنے سر کے بال کھولنے پر تیار نہیں ہوتی تھی، اس وقت ایسی حالت میں پڑی تھی کہ کپڑے کا تار بھی اس کے بدن پر موجود نہیں تھا ۔اگر وہ ہوش میں ہوتی تو یقینا اس حالت پر موت کو ترجیح دیتی ۔شکیل زیادہ دیرعقل و خرد سے بے گانہ کرنے والے نظارے کی تا ب نہیں لا سکا تھا ۔اس نے فوراََایک خوب صورب پینٹی کوٹ اسے پہنایااور بے قابو ہوتے سانسوں کو سنبھالتا ہوا الماری کی طرف بڑھ گیا ۔ شراب کی دوبھری بوتلیں نکال کر اس نے ایک میں سے شیشے کا آدھاگلاس بھر کر تپائی پر رکھاتھوڑی سی شرا ب تناوش کے چہرے پر چھڑکائی اور بقیہ کی دونوں بوتلیں بیت الخلاءمیں جا کر خالی کر دیں ۔خالی بوتلوں کو ادھ بھرے گلاس کے ساتھ تپائی پر رکھ کر وہ باہر نکل آیا ۔ اگلے ہی لمحے وہ ایس پی ضمیر حسین کو تناوش کے پہنچ جانے کی بابت اطلاع دے رہا تھا۔
”بہت خو ب ،شکیل صاحب ۔“ایس پی تحسین آمیز لہجے میں بولا ،فصیح الدین کے وہاں آتے ہی غائب ہو جانا ۔اس کے بعد تمھارا کام بس اتنا رہ جائے گا کہ کبیردادا کا خیر خواہ بنتے ہوئے اسے کال کرنا ہوگی اور جب وہ اپنا کام کر گزرے تو مجھے مطلع کر دینا ۔بے جھجکے اسے اپنے بارے میں بتا دینا ۔یقینا کبیردادا تمھارے اس کام سے خوش ہو گا ۔کبیر دادا کوخبردار کرنے کے بعد مجھے ضرور مطلع کرنا ۔باقی فصیح الدین کے خاتمے کے بعد تیمور علی گینگ کا سربراہ اور اس کے دست راست تم ہو گے ۔فکر نہ کرو تیمور علی سے میری بات چیت ہو چکی ہے،کبیردادا بھی تمھاری سفارش ضرور کرے گا ۔“
”شکریہ سر ،میں آپ کا یہ احسان کبھی نہیں بھولوں گا ۔“
”شکریہ کی کوئی بات نہیں جگر ،فاصی کے ساتھ میرا بھی کوئی ادھار پھنسا تھا ،اس میں تمھارا فائدہ نظر آیا تو تمھیں بھی ساتھ شامل کر دیا ۔یہ دنیا کا قانون ہے بھائی کہ کچھ لے دے کے اصول پر کام چلتا ہے ۔اور میرے بدلہ لینے کی خواہش میں سب سے زیادہ فائدہ تمھیں پہنچ رہا ہے۔ ذرا سی محنت اور کوشش سے تم ایس پی ضمیر حسین اور کبیردادا جیسے آدمی پر احسان کرنے والے بن جاﺅ گے ۔میں تمھیں قانون کی گرفت میں آنے سے محفوظ رکھوں گا تو کبیردادا ،کسی غنڈے کو تمھاری طرف ٹیڑھی نگاہ سے نہیں دیکھنے دے گا ۔اس کے ساتھ ہماری طرف سے جو نقد انعام ملے گا وہ بونس میں ہے ۔“
وہ عقل مندی سے بولا ۔”سر ،میں اچھی طرح سمجھتا ہوں اور میں نے خوب سوچ سمجھ کر ہی آپ کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا تھا ۔“
”شاباش اور میری یہ نصیحت ہمیشہ یاد رکھنا کہ جرم کی دنیا میں کوئی بھی کام کرتے وقت ہمیشہ اپنا فائدہ مد نظر رکھنا،کیوں کہ سب سے پہلے تمھاری اپنی ذات ہے ، اس کے بعد کسی اور کا نمبر آتا ہے ۔چاہے میرے ساتھ ہی کیوں نہ واسطہ پڑے ۔“ایس پی نے چکنی چپڑی باتوں سے اسے مزید شہہ دی ۔
وہ خوشامدانہ لہجے میں بولا ۔”سر ،آپ تو میرے لیے اتنا کچھ کر رہے ہیں ۔آپ کے لیے تو میری جان بھی حاضر ہے ۔“
”آئندہ ایسی پاگلوں والی بات نہ کرنا ،بے وقوف آدمی پہلے میں نے اپنا فائدہ سوچا ہے ۔اس کے بعد تمھارا نمبر آیا ہے ۔تم بھی پہلے اپنا فائدہ سوچنا ۔ہاں اس کے بعد اگر میری لیے کوئی گنجائش کر سکو تو مجھے بھی اس کام میں پیچھے نہیں پاﺅ گے ۔“
”ٹھیک ہے سر ،شکریہ سر ۔“
”خدا حافظ ۔“کر کے ایس پی نے رابطہ منقطع کر دیا ۔شکیل خود کو فصیح الدین کے گینگ کا نمبر ٹوبنا دیکھ رہا تھا ۔کبیر دادا کی ہمدردی حاصل کرنے کے بعد تو ممکن ہی نہیں تھا کہ تیمور علی یا کوئی دوسرا تیسرا اس کی راہ میں رکاوٹ ڈالتا ۔ وہ دل ہی دل میں خود کو شاباش دینے لگا کہ ایس پی ضمیر حسین کے مشورے پر اس کام میں ہاتھ ڈالنے پر آمادہ ہو گیا تھا ۔
جاری ہے

No comments:

غازی از ابو شجاع ابو وقار قسط نمبر60 Ghazi by Abu Shuja Abu Waqar

Ghazi  by  Abu Shuja Abu Waqar  غازی از ابو شجاع ابو وقار  پیشکش محمد ابراہیم 60 آخری قسط نمبر  Ghazi by Abu Shuja Abu...

Powered by Blogger.