Ads Top

ﻧﺎﻭﻝ سنائپر از ریاض_عاقب_کوہلر قسط نمبر 18

ﻧﺎﻭﻝ  سنائپر 

 از 

 ریاض_عاقب_کوہلر



سنائپر 
قسط نمبر 18
ریاض عاقب کوہلر
٭٭٭
دودن بعد سردار واپس آ گیا تھا ۔اسے ابھی تک یہ بات معلوم نہیں تھی کہ اسے کیوں واپس بلایا گیا تھا ۔
”یار ! ....اسد خٹک اور سہیل مروت پارٹی مجھ سے اچھے سنائپر تو نہیں ہیں ۔“رسمی کلمات کے اختتام پر اس نے شکوہ داغا ۔
میں نے اسے چڑاتے ہوئے کہا ۔”یہی بات میں نے بھی میجر وسیم کو کہی تھی مگر اس کی نظر میں تو تم نکمے ترین سنائپر ہو ۔“
”یہ تو خیر جھوٹ ہے ۔لیکن مجھے واپس نہیں بلانا چاہیے تھا ۔“
”اچھا یار !....اب تو واپس آ گئے ہو چھوڑو اس قصے کو ۔“
”سنا ہے تم دوبارہ سرحد پار گئے تھے ۔“
”ہاں گیا تو تھا ۔“میں نے اثبات میں سرہلایا۔
”تو کیا رہا ؟“اس نے اشتیاق سے پوچھا ۔
میں نے منہ بنایا”اگر تمھارے سامنے زندہ موجود ہوں تو یقینا کامیاب ہی لوٹا ہوں ۔“
”مکالمہ بازی نہیں چلے گی محترم !....پوری کہانی پھوٹو ۔“
اور میں نے ہنستے ہوئے اجمالاََ ساری کہانی سنا دی ۔سردار کے ساتھ میرے تعلقات اس نوعیت کے تھے کہ میں نے روما کا بھی سرسری سا ذکر کر دیا تھا ۔
”باقی سب تو ٹھیک ہے یہ کشمیری چرواہن والی بات ذرا پھر سے دہراﺅ اور اس میں جو جو باتیں حذف کی ہیں اب کی بار وہ بھی شامل کرنا ۔“
میں چڑ کر بولا ۔”بکواس نہ کرو یا ر!“
”اچھا اس کا نام تھا رومانہ ....ویسے دکھنے میں کیسی تھی ؟کیاکیپٹن جینیفر سے خوب صورت تھی۔“
میں طنزیہ انداز میں بولا ۔”ہاں بس لی زونا جیسی شکل تھی ۔“
”یہ ظلم نہ کرو جانی !“وہ افسردہ ہو گیا تھا ۔”خدا کی قسم سو سے زیادہ مرتبہ خواب میں آ چکی ہے۔“
میں نے ہنستے ہوئے پوچھا ۔”کہتی کیا ہے ؟“
”جاپانی زبان مجھے خاک سمجھ میں آتی ہے ۔“اس نے منہ بنا کر کہا اور مجھے ہنسی چھوٹ گئی ۔
”اچھا چھوڑو ان فضول باتوں کو کام کی بات سنو،تمھیں میرے ساتھ کام کرنے کے لیے بلایا گیا ہے ۔ایک ماہ بعد ہم دو ونوں نے وانہ کا رخ کرنا ہے اور........“میں نے ٹو آئی سی کی ساری باتیں اس کے سامنے دہرا دی تھیں ۔
”سچ کہہ ررہے ہو ۔“اس نے بے یقینی سے پوچھا ۔
”سو فیصد سچ ۔“
”مطلب ا ب مزہ آئے گا ۔“وہ کھل اٹھا تھا ۔
٭٭٭
سردار کی آمد کے دوسرے دن میں کلاس کے بعد ٹو آئی سی میجر وسیم کے دفتر میں کھڑا تھا ۔
”جی ذیشان !....“میرے سیلوٹ کے جواب میں وہ خفیف سا سر ہلاتے ہوئے پوچھنے لگے۔
”سر!....میں پشتو سیکھنے کے لیے پٹھانوں کے کسی علاقے میں جا کر پندرہ بیس دن گزارنا چاہتا ہوں ۔“
وہ ہنسا ۔”ابھی تو مہینا چھٹی کاٹ کر آئے ہو یا ر!“
”سر !....میں نے پٹھانوں کے علاقے کی بات کی ہے ۔“
”گویا سردار خان کو چھٹی کٹوانے کا ارادہ ہے ۔“
میں صاف گوئی سے بولا ۔”چھٹی تو اس کی یوں بھی بنتی ہے ۔وہ آپریشن کے علاقے سے براہ راست یونٹ واپس پہنچا ہے ۔“
”ہونہہ!....اس کی چھٹی کی بات تو اس کے سینئر کو کرنا چاہیے ۔“
”میں اس کی چھٹی نہیں اپنی کلاس کی بات کرنے آیا ہوں سر !“
اس نے مسکراتے ہوئے کہا ۔”لیکن واپسی پر میں خود تمھارا امتحان لوں گا ۔“
”ٹھیک ہے سر!“میں نے اثبات میں سر ہلا کر الوداعی سیلوٹ کیا اور اس کے دفتر سے باہر نکل آیا ۔
اسی دن سہ پہر ڈھلے میں اور سردار گاڑی میں بیٹھے اس کے گاﺅں کی طرف روانہ تھے ۔اس کا تعلق مرادن سے ہے ۔ایک رات اس کے پاس گزار کر اگلے دن میں صوابی چلا گیا ۔گو سردار نے مجھے روکنے کی بہت کوشش کی لیکن میں نے سختی سے انکار کر دیا کیونکہ میں جانتا تھا کہ میری وجہ سے وہ اپنے بچوں کو صحیح وقت نہ دے پاتا ۔وہاں سے میں سیدھا استاد عمر دراز کے پاس پہنچا ۔باقی کے چودہ دن میں نے استاد عمردراز کے پاس ہی گزارے وہاں قیام کے دوران میں مسلسل پشتو میں بات کرتا رہا ۔الحمداللہ میری یاداشت کافی تیز ہے اور پھر استاد عمر دراز کے سکھانے کا انداز ہی کچھ ایسا تھا کہ میں ٹھیک ٹھاک پشتو بولنے لگا ۔سردار کی آمد کے اگلے دن ہم دونوں صبح سویرے استاد عمر دراز سے اجازت لے کر روانہ ہوئے ۔ دوپہر کا کھانا ہم نے میرے گھر میں کھایا اور سہ پہر ڈھلے وہاں سے یونٹ روانہ ہو گئے ۔یونٹ پہنچنے کے تیسرے دن میجر وسیم نے ہمیں رات کے وقت کانفرنس روم میں بلایااور بڑی تفصیل سے اس علاقے کے بارے بتانے لگا ۔
”جو کچھ میں بتا رہاہوں اسے غور سے سننا اور اچھی طرح دماغ میں بٹھا لینا ۔تم دونوں جس علاقے میں جا رہے ہومجھے نہیں معلوم کے اس بارے تم کتناکچھ جانتے ہو ۔لیکن سینئر ہونے کے ناتے تمھیں اس علاقے کے بارے بنیادی معلومات فراہم کرنا میرا کام بنتا ہے ۔ فاٹا کی دو حدود ہیں، ایک انتظامی حد جو کہ پرسکون تحصیلوں کو قبائلی علاقے سے علاحدہ کرتی ہے اور دوسری پاک افغان سرحد جو کہ پاکستان کو افغانستان سے علاحدہ کرتی ہے۔ دونوں سرحدوں کا درمیانی علاقہ سات ایجنسیوں ،باجوڑ ، مہمند ، خیبر ،کرم، اور کزئی ، شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان ایجنسیپر مشتمل ہے ۔ ان سے متّصل کچھ مخصوص علاقے جو کہ پشاور کے ساتھ ملحق ہیں۔ کوہاٹ، بنوں ، لکی مروت،ٹانک اور ڈیرہ اسمٰعیل خان ہیں۔ یہ عموماً فرنٹیر ریجن (FR)یعنی سرحدی علاقہ کے نام سے جانے جاتے ہیں۔سات ایجنسیاں اور FR کو فاٹا کہا جاتا ہے ۔ FATAصوبہ سرحد کی تقریباً 20 فیصد آبادی اور37فیصد رقبے پر مشتمل ہے۔ان میں سرحدی علاقوں کو چھوڑ کر باقی تمام مکمل پہاڑی علاقہ ہے ۔ قبائلی علاقے اور افغانستان کے درمیان بے شمار درے ہیں ۔آپ لوگوں نے چونکہ وزیرستا ن میں کام کرنا ہے اس لیے میں باقی تفصیل چھوڑ کرصرف وزیرستان کے بارے بات کروں گا ۔جیسا کہ میں پہلے بتا چکا ہوں کہ وزیرستان دو ہیں ایک شمالی اور دوسرا جنوبی ۔ شمالی وزیرستان ایجنسی کی آبادی قریباََ اڑھائی لاکھ نفوس پر مشتمل ہو گی اس میں وزیراور داوڑ رہتے ہیں ۔ ایجنسی ہیڈ کوارٹر میران شاہ میں ہے۔ ٹوچی دریا ایجنسی کو دو حصوں میں تقسیم کرتا ہے۔ ۔کچھ اہم جگہیں اور مواصلاتی مراکز میں میرانشاہ دتہ خیل لاﺅدہ سنڈی غلام خان اور رزمک ہیں۔ جنوبی وزیرستان کی آبادی قریباََپانچ لاکھ ہو گی ۔ایجنسی ہیڈکواٹر وانہ میں ہے ایجنسی کا دوسرا ہیڈ کوارٹر ضلع ٹانک میں ہے ۔وہاں زیادہ تر محسود قبائل رہتے ہیں۔ آبادی کا تین چوتھائی حصہ محسود قبائل ہیں۔ اور باقی وزیر قبائل ہیں جنوبی وزیرستان میں محسود اور وزیرقوم کے درمیان کچھ مسئلے چل رہے ہیں ۔ اور یاد رہے کہ وزیرستان میں دو بڑی قومیں وزیر اور محسود کی ہے اور باقی چھوٹی قومیں انھی دو قوموں کی مختلف شاخیں ہیں۔ موجودہ نظام کے مطابق سرکاری املاک ، سڑکیں اور کچھ بندوبستی علاقہ چھوڑ کر باقی کا تمام علاقہ قبائلی معاشرے کے لوگ اپنے رسوم و رواج کے مطابق اس کا انتظام و انصرام سنبھالتے ہیں۔ پولیٹیکل ایجنٹ علاقے کا بیک وقت سفیر بھی ہوتا ہے اور حاکم بھی ہوتا ہے یہ مجسٹریٹ بھی ہوتا ہے پولیس کا سربراہ بھی ہوتا ہے صحت اور تعلیم کا امیداوار بھی ہوتا ہے اور چیف انجینئر بھی ہوتا ہے۔ پولیٹیکل ایجنٹ کو تمام قبیلوں کا اعتمادلے کر چلنا ہوتا ہے اور اپنی وفاداری اور سچائی کا یقین دلانا ہوتا ہے۔ انتظامی لحاظ سے پولیٹیکل ایجنٹ کے ماتحت اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ تحصیل دار اور نائب تحصیلدار ہوتے ہیں۔ پولیس کی خدمات خاصہ داروں سے لی جاتی ہیں جو کہ علاقے کے مَلک فراہم کرتے ہیں۔وزیرستان میں جرگہ سسٹم رائج ہے ۔جرگے سے مراد کچھ قبائلی سرداروں کا کسی مسئلے پر غور کرنے کیلئے اکھٹا ہونا ہے۔ اس مسائل میں چاہے کسی کے خلاف اعلان جنگ کرنا ہو یا کسی کے ساتھ امن صلح کرنا ہو یہ قبائلی علاقوں کی قدیم روایات میں سے ایک اہم جز ہے جس میں اہم فیصلے کیے جاتے ہیں۔ معاملات چاہے ذاتی توعیت کے ہوںیا معاشرتی ہوں تمام کے تمام اس کے دائرہ کار میں آتے ہیں۔ جرگے کو عدلیہ، مقننہ اور انتظامی خود مختاری حاصل ہے اور انھیںاختیار ہے چاہے کسی کو سزا دیں یا جزا دیں۔ الغرض جرگہ ایک اہم ادارے کی حیثیت رکھتا ہے۔ جس میں اس پر ہر علاقے میں اٹھنے والے تمام طوفانوںسے نبرد آزما ہونے کی صلاحیت ہے۔ جرگہ ہی حکومت کے ساتھ معاملات کو حل کرنے کا ذمہ دار ہے۔ اس کے علاوہ وہاں ملکی سسٹم بھی رائج ہے کہ ہر قبیلے کا ایک روایتی سردار ہوتا ہے جو اپنے قبیلے کی نمائندگی کرتا ہے ان کے مسائل کو حل کرتا ہے اسے حکومت اور قبائلی معاشرے میں انتہائی عزت حاصل ہے ان سرداروں کو مَلک کہا جاتا ہے ان سب کو حکومت کی طرف سے وظیفہ ملتا ہے جن کو ملکی وظیفہ کہا جاتا ہے ۔ اور یہ موروثی نظام کے تحت اگلے وارث کو منتقل ہوتا جاتا ہے ہے ملک کا حکومت اور قبیلے کے درمیان خلیج کو دور کرنے میں اہم کردار ہے۔ پھر ایک سسٹم نکات کا ہے ۔نکات لفظ نکہ سے نکلا ہے۔ جس کے لغوی معنی دادا کے ہیں ۔نکات سسٹم قبائلی روایات کاا ہم ترین جزو ہے اس سے مراد نفع و نقصان کی بنیاد پر قبائل اور خاندانوں کے مابین آمدن کی تقسیم کا نظام ہے ۔ یہ نظام بھی موروثی ہے اس نظام کے تحت حکومتی مراعات کی تقسیم ، جرمان کا اکھٹا کرنا اور کسی بھی تصفیے کے حل کرنے کیلئے چندہ اکھٹا کرناہے۔ تمام تعمیراتی منصوبوں کی اس نظام کے تحت تقسیم کی جاتی ہے۔ وزیرستان کا مکمل علاقہ مختلف قبائل کی ملکیت ہے اس لیے کوئی بھی قبیلہ یا قوم اپنے علاقے میں ہونے والے کسی بھی جرم یا بدسلوکی کی ذمہ دار ہے چاہے یہ عمل اس علاقے کے مقامی شخص نے کیا ہو یا کسی خارجی شخص نے کیا ہو اصطلاحاً وہ انھی کی ذمہ داری ہے ۔
اسی طرح کسی بھی بااثر شخص کو حکومت کے ساتھ مخلص ہونے پر یا پھر کوئی خدمات سرانجام دینے پر لنگی یا پگڑ کا تحفہ دیا جاتا ہے ۔ انہیں لنگی بردار کہتے ہیں۔ لنگی بردار کا بھی کچھ وظیفہ مقرر کیا جاتا ہے۔ تاہم یہ ملکی نظام کی طرح موروثی نہیں ہوتا بلکہ اس شخص کی وفات کے ساتھ ہی ختم ہو جاتا ہے۔ اسی طرح خاصہ داری نظام کو قبائلی معاشرے میں ایک ادارے کی حیثیت حاصل ہے جو کہ ملکی نظام کے ماتحت کام کرتا ہے۔ خاصہ داری نظام کی ذمہ داری ہے کہ علاقے میں نظم و نسق برقرار رکھا جائے اور گزر گاہوں کی رکھوالی کو ہر طرح ممکن بنایا جائے اسی لئے اسے مجموعی قبائلی ذمہ داری برائے تحفظ کا نام دیا جاتا ہے۔ قبائلی معاشرے میں لشکر کو طاقت کا سرچشمہ تصور کیا جاتا ہے۔ لشکر کی تعداد چند درجن سے لے کر ہزاروں تک ہو سکتی ہے۔ پولیٹیکل ایجنٹ بسا اوقات ملک کے لشکر کی مدد حاصل کر سکتا ہے۔ “وہ ایک لمحہ سانس لینے کو رکا پھر اس کی بات جاری رہی ۔
”یاد رہے ،قبائلی معاشرہ ایک تنگ نظر معاشرہ ہے تاہم مذہبی اقدار کا پاس بری سنجیدگی سے کیا جاتا ہے۔ قبائلی معاشرے نے اپنی آزادی کو برقرار رکھنے کیلئے کچھ ساختہ اسلوب مرتب کیے ہیں ۔ انصاف کا نظام جرگہ اور بدل کے ذریعے نافذ کیا جاتا ہے جو کہ صدیوں پرانی رسوم و روایات سے اخذ کیے گئے ہیں ۔ جرگے کی وجہ سے پولیٹیکل انتظامیہ کا کردار علاقے میں انتہائی محدود ہو کر رہ گیا ہے ۔قبائلی علاقے کے لوگ جنگ جواور انتہائی مہمان نواز ہیں تاہم اگر کوئی ان کی روایت کی پاس داری نہ کرے تو یہ جانی دشمن بن جاتے ہیں ۔وہ انتہائی سخت گیر نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ اور موروثی، خونی لڑائیوں کے ماحول میں پروان چڑھتے ہیں ۔ ہر کوئی اپنی نو عمری ہی سے ذاتی بچاﺅ اور نشانہ بازی کے رموز میں مہارت حاصل کرتا ہے۔ ان لوگوں میں پہل پن کا مادہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوتا ہے۔ اور وہ دشمن کی کمزوری سے بہ خوبی فائدہ اٹھانے کے ماہر ہوتے ہیں۔ قبائلی علاقوں کے لوگ گوریلا کاروائیوں میں بھی مہارت رکھتے ہیں۔ یہ لوگ افواج پاکستان کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھتے ہیں اورخود ان کے بارے میں مصدقہ اطلاعات حاصل کرنا انتہائی مشکل ہے۔کیونکہ وہ انتہائی چالاک لوگ ہیں۔ اسی لئے وہ نہیں ہوتے جو نظر آتے ہیں۔ قبائلی علاقے کے لوگوں کے بہت سے روپ ہوتے ہیں اس لئے ان کی شناخت نہایت ضروری ہے۔روایتی طور پروہ لوگ چھوٹی چھوٹی جنگی کارروائیوں میں مہارت رکھتے ہیں۔ جن میں خاص طور پر چھاپہ ،گھات شامل ہیں ۔اس کے ساتھ وہ اچھے نشانہ باز ہوتے ہیں اس لیے کلاشن کوف ہی کو سنائپر رائفل کی جگہ استعمال کرتے ہیں ۔ان لوگوں میں گھل مل کر رہنے کے لیے ضروری ہے کہ تمھیں ان لوگوں کی اچھی بری عادات کے بارے مکمل علم ہو ۔لیکن اس کے ساتھ یہ بھی ذہن میں رہے کہ وہاں آپ لوگوں کا پالا صرف قبائلیوں سے نہیں پڑے گا ۔بلکہ وہاں پر ہر علاقے کے آدمی تمھیں نظر آئیں گے ۔ مجاہدین کے روپ میں دہشت گرد اور ایجنسیوں کے آدمی ملیں گے تو مَلکوں اور سرداروں کے روپ میں غنڈے۔باہر ممالک جیسے سعودی عرب وغیرہ کے بھی مجاہد امریکہ سے برسر پیکار ہیں ۔سب سے بڑا مسئلہ مجاہد اور دہشت گرد کی پہچان ہے جسے انڈیا ،اسرائیل اور امریکہ وغیرہ کی ایجنسیوں اور بھی مشکل بنا دیا ہے ۔اس وجہ سے آرمی کو وہاں کام کرنے میں کافی مشکل پیش آ رہی ہے ۔اس بارے آرمی کالائحہ عمل تو بہت وسیع ہے جس کے بارے بات کرنا وقت کا ضیاع ہے۔ البتہ اس لائحہ عمل کا ایک جز وہاں اپنے آدمیوں کو سول لوگوں کے روپ میں بھیجنا بھی ہے ۔اس ضمن میں آرمی نے کچھ تو سول لوگوں ہی کو اپنے ساتھ ملا لیا ہے ایسے لوگ جو کہ اسلام اور وطن سے محبت رکھتے ہیں ۔باقی تم جیسے خصوصی ایجنٹ وہاں بھیجے جا رہے ہیں ۔اور تم لوگوں کا کام بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے ۔وہاں جو بڑے بڑے گروپ سر گرم عمل ہیں ان میں حقانی گروپ ،حافظ گل بہادر گروپ............“وہ تفصیل سے گروپوں کے بارے بتانے لگا ۔وہ بریفنگ کئی گھنٹوں پر مشتمل تھی ۔رات کے دو بجے جا کر ہمیں رخصت ملی اور اس کے بعد یونٹ سے رخصت ہونے تک روزانہ بلاوا آ جاتا اور ہمیں بوریت بھری مفید معلومات سے بہرہ مند ہونا پڑتا ۔
ہم دونوں کو جو بنیادی کام ملا وہ دشمن کے سنائپرز کو نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ اس علاقے میں موجود ایسے مقامی اور بااثر افراد کا خاتمہ تھا جو درپردہ غیر ملکی ایجنسیوں کے پٹھو تھے ۔اس کے ساتھ ہمیں یہ ہدایات بھی مل گئی تھیں کہ وہاں ون الفا نامی ایک سینئر ہماری رہنمائی کے لیے موجود ہونا تھا ۔ہمیں بغیر اشد ضرورت کے کسی سرکاری فرد سے رابطہ نہ کرنے کی تاکید کی گئی تھی ۔کیونکہ ہمارا بھانڈا پھوٹ جانے کی صورت میں ہم درد ناک موت کا شکار بھی ہو سکتے تھے ۔البتہ بہ حالت مجبوری آرمی سے رابطہ کرنے کی صورت میں ایک مخصوص پاس ورڈ بتا دیا گیا تھا، جو اس علاقے میں کام کرنے والی یونٹوں کے کمانڈنگ آفیسرز ہی جانتے تھے ۔اس کے ساتھ ہمیں نہ تو اپنا سروس کارڈ ساتھ لے جانے کی اجازت تھی اور نہ کسی ہتھیارہی کو ہم ساتھ لے جا سکتے تھے ۔ کیونکہ آرمی کے ہتھیار وں پر مخصوص نمبر کندہ ہوتے ہیں۔ ہتھیار خریدنے اور دوسری ضروریات کے لیے ہمارے اکاﺅنٹس میں اچھی خاصی رقم ٹرانسفر کر دی گئی تھی ۔ ہمیں رخصت کرتے وقت میجر وسیم کے آخری الفاظ یہ تھے ۔
” یوں سمجھو کہ تم دونوں پاکستان میں نہیں بلکہ کسی دشمن ملک میں جا رہے ہو ۔کچھ مخصوص بندوں کے بارے میں نے تمھیں بتا دیا ہے ۔لیکن یہ یاد رکھنا وہ سول ہیں وہ تمھیں دھوکا بھی دے سکتے ہیں ۔بہت زیادہ محتاط رہنا ۔باقی تمھارے اکاﺅنٹس میں منتقل کی گئی رقم کا مصرف صرف اور صرف تم دونوں کا مشن ہے ۔یہاں تک کہ وہاں سے چھٹی آتے وقت کرایہ بھی تم اپنے ذاتی پیسوں سے ادا کرو گے۔باقی وہاں ون الفا تمھاری بہترین رہنمائی کے لیے موجودہو گا ۔امید ہے میری بات تم دونوں کی سمجھ میں آ گئی ہو گی ۔“
”جی سر !“بیک زبان کہتے ہوئے ہم نے اثبات میں سر ہلاد یے ۔
”کوئی سوال ؟“
”نو سر !“
”اللہ کے حوالے ۔“اس نے کھڑے ہوتے ہوئے الوداعی معانقے کے لیے بازو پھیلا دیے۔
٭٭٭
یونٹ سے رخصت ہوتے وقت ہمیں پانچ پانچ دن کی چھٹی ملی تھی اس کے بعد ہم نے اپنے مشن پر روانہ ہونا تھا ۔جب سے مجھے وزیرستان جانے کی بابت پتا چلا تھا میں نے بال کٹوانا چھوڑ دیا تھا کیونکہ وزیر اور محسود قوم کے مردوں کے بال بھی عورتوں کی طرح بڑے بڑے ہی ہوتے ہیں ۔ویسے تو ایک مخصوص حد تک بڑے بال نبی پاک ﷺ کی مبارک سنت بھی ہے ۔لیکن وزیر اور محسود یہ بال شاید ہی سنت سمجھ کر بڑھاتے ہوں ۔وہ تو بس اپنی ثقافت جان کر ایسا کرتے ہیں ۔واپسی کے دن ہم نے ڈیرہ اسماعیل خان میں اکٹھا ہونا طے کیاتھا ۔میں صبح ناشتے کے بعد پھوپھو جان اور ابو جان سے الوداع ہو کر گھر سے نکل آیا،دن کے ایک بجے تک میں ڈیرہ اسماعیل خان پہنچ گیا تھا ۔سردار کے آنے تک میں ویگن اڈے میں موجود ایک سستے ہوٹل کے سامنے دھری چارپائی پر بیٹھا رہا ۔ وہ اڑھائی بجے کے قریب وہاں پہنچا تھا ۔ ویپن خریدنے کے لیے ہم نے اپنے اکاﺅنٹس سے دو دو لاکھ کے قریب رقم پہلے سے نکلوائی ہوئی تھی ۔وانہ جانے کے لیے اس اڈے سے کوئی گاڑی نہیں مل رہی تھی ۔ پوچھنے پر ہماری ایک اور بس اڈے کی طرف رہنمائی کر دی گئی ۔رکشے میں بیٹھ کر ہم مطلوبہ بس اڈے میں پہنچ گئے ۔رستے میں البتہ ہم نے کچھ ضروری خریداری بھی کر لی تھی ۔جس میں میں دو سلپنگ بیگ اور گرم چادریں اوراور گرم کوٹ وغیرہ شامل تھے ۔ وانہ جانے کے لیے ہمیں ویگن مل گئی تھی ۔ہم رات کو کہیں آٹھ نو بجے ہی وانہ پہنچ پائے تھے ۔
ایک مناسب سے ہوٹل میں کمرہ لے کر ہم نے شب باشی کا بندوبست کیا ۔
”سردار صاحب !....اب سناﺅ کیا ارادے ہیں ؟“چارپائی سنبھالتے ہی میں نے سردار کو پشتو میں مخاطب ہوا ۔اب میں اچھی خاصی روانی سے پشتو بول لیتا تھا ۔
”فی الحال تو آرام کرنا ہے بہت تھک گیا ہوں ،صبح ہی اسلحہ وغیرہ کی خریداری ہو سکے گی ۔“ اطمینان بھرے انداز میں کہتے ہوئے اس نے آنکھیں بند کر لیں تھیں ۔
”اچھا مشورہ ہے ۔“میں نے اس کی تائید کرنے میں ایک سیکنڈ بھی ضائع نہیں کیا تھا ۔
صبح نو دس بجے ہم وانہ میں موجود مخصوص آدمی کے حجرے میں موجو دتھے ۔اسے اپنی پہچان کراتے ہوئے ہمیں کوئی دشواری پیش نہیں آ ئی تھی ۔
”قہوے سے ہماری تواضع کرنے بعد وہ سیدھا مدعا پر آ گیا ۔”جی کیا خدمت کر سکتا ہوں ؟“
”ہمیں اسلحہ درکار ہے ۔“سردار نے جواب دیا ۔
”کون کون سا ؟“
”ایک کلاشن کوف ،ایک تیس بور پستول ، ایک ڈریگنوو رائفل اور آئی کام سیٹ ۔“اس مرتبہ بھی اسے جواب دینے والا سردار ہی تھا ۔چونکہ ہم نے پہلے سے طے کر لیا تھا کہ کون کون سا ہتھیار اور سامان خریدنا ہے اس لیے اس نے بغیر لمحہ ضائع کیے بتا دیا تھا ۔
”ہونہہ!....مل جائے گا ۔اور کچھ ؟“
”نہیں بس یہی کافی ہے ۔“سردار کو اپنی طرف متوجہ ہوتے دیکھ کرمیں نے نفی میں سر ہلادیا ۔
”چلو پھر یہ تو ابھی خرید لیتے ہیں ۔“
تھوڑی دیر بعد ہم ایک دوسرے آدمی کے گھر میں موجود تھے ۔بیٹھک کے ساتھ اس نے ایک کمرہ ایسا بنایا ہوا تھا جدھر کافی مقدار میں اسلحہ موجود تھا ۔ہمارے میزبان قرار خان سے اس کی اچھی واقفیت تھی اس لیے بغیر کسی پوچھ گچھ کے وہ ہمیں سیدھا اپنے اسلحہ خانے میں لے گیا ۔روسی ساخت کی کلاشن کوف جس کی بیرل قلم نما ترشی ہوتی ہے سردار نے اپنے لیے پسند کی تھی ۔میں نے ڈریگنوو رائفل اور درے کا بنا ہوا تیس بورپستول خرید لیا ۔اس کا سائیلنسر بھی میں نے مانگا مگر ان کے پاس سائیلنسر موجود نہیں تھا ۔ڈریگنوو رائفل کے میں نے سو راﺅنڈ بھی خرید لیے تھے ۔آئی کام سیٹ خریدنے کے لیے ہمیں بازار کا رخ کرنا پڑا ۔ایک سیٹ ،ایک فالتو بیٹری اور ایک چارجر خرید کر ہم قرار خان کا شکریہ ادا کر کے اسی ہوٹل میں آ گئے جہاں ہم نے رات گزاری تھی ۔ایک اور رات وہیں گزار کر ہم اگلے دن وانہ سے آگے بڑھ گئے۔ ہماری منزل شکئی کا شہر تھا جو وانہ سے قریباََ تیس پینتیس کلومیٹر کے فاصلے پرہے ۔
آرمی قافلے کی حرکت کے بارے ہمیں ایک مخصوص شخص سے پتا چلنا تھا ۔روزانہ رات کے نو بجے کے بعد صبح طلوع آفتا ب سے پہلے تم ہم چینل نو پر اس سے رابطہ قائم کر سکتے تھے ۔
شکئی ایک چھوٹا سا شہر ہے ۔وہاں ٹھہرنے کے بجائے ہم نے مضافات میں نکل جانا مناسب سمجھا ۔وزیرستان میں ہر طرف چھوٹی چھوٹی آبادیاں پھیلی ہوئی ہیں ۔پہاڑوں کی وادیوں میں اونچی ڈھلانوں پر نالوں کے کناروں پر اور جنگلات میں ۔کہیں تو فقط تین چار گھر وں کی آبادی ہے تو کہیں پچاس ،ساٹھ اور سو اور دو سو گھرانوں کی آبادی ہے ۔دہشت گردوں کے اڈے زیادہ تر پہاڑیوں کی بلندیوں پر بنے ہوئے تھے ۔پہاڑیوں میں موجود بڑے بڑے غار انھیں چھپنے میں مدد دیتے تھے ۔جہاد کا جذبہ رکھنے والے اصل مجاہدوں کے ٹھکانے بھی ایسی ہی جگہوں پر بنے ہوتے ہیں۔اس کے علاوہ آبادیوں میں بھی گھر لے کر وہ لوگ رہائش پذیر تھے ۔ہر آبادی کا ایک بڑا ہوتا ہے ،جسے ملک یا مشر کہتے ہیں ۔
ہم دونوں پیدل ہی ایک جانب روانہ تھے ۔دوپہر کا کھانا ہم نے خرید کر پاس رکھا ہوا تھا ۔ ایک مناسب جگہ بیٹھ کر ہم نے پیٹ پوجا کی اور پھر چل پڑے ۔دو تین ڈبل کیبن جیپیں ہمارے پاس سے گزریں مگر ہم لفٹ مانگے بغیرچلتے رہے ۔سہ پہر ڈھلے ہم ایک چھوٹی آبادی کے قریب سے گزرے کچی سڑک سے وہ آبادی کوئی سو دو گز بلندہموار جگہ پربنی ہوئی تھی ۔سڑک کنارے ایک شخص گدھے پرلکڑیاں لادے جا رہا تھا ۔اس کا رخ آبادی ہی کی جانب تھا ۔وہ سڑک کے دائیں جانب موجود جنگل سے برآمد ہوکر ہمارے آگے آگے چلنے لگا تھا ۔
سردارقدم بڑھا کر اس کے قریب ہوتے ہوئے مخاطب ہوا ۔”بھائی صاحب !....رات گزارنے کی کوئی جگہ مل جائے گی ۔“
”کیوں نہیں ۔“وہ خوش دلی سے بولا ۔”چلو میرے ساتھ ۔“
ہم ۔”جزاک اللہ ۔“کہہ کر اس کی معیت میں چل پڑے ۔
وہ پوچھنے لگا ۔”کہاں جانے کا ارادہ ہے ؟“
”شوال وادی ۔“اس بار بھی جواب سردار ہی نے دیا تھا ۔
”ویسے یہاں سے شوال وادی تک کتنا فاصلہ ہو گا ؟“ اس کے مزید سوالات سے بچنے کے لیے میں اس سے پوچھنے لگا ۔
لمحہ بھر سوچنے کے بعد اس نے جواب دیا ۔”فاصلے کے بارے تو وضاحت نہیں کر سکتا البتہ پیدل جاتے ہوئے ایک دن لگ جائے گا ۔“
”کبھی گئے ہو وہاں ؟“میں نے سوالات کا سلسلہ جاری رکھا ۔
”جی ،دو تین بار اتفاق ہوا ہے جانے کا ۔“اس نے اثبات میں سرہلایا ۔
اور اس گاﺅں کا کیا نام ہے ؟“
” شہزادہ خان کلے ،ویسے اصل شہزادہ خان کلے پیچھے والا گاﺅں ہے جس سے گزر کر آپ یہاں تک پہنچے ہیں ۔“اسی سوال و جواب میں ہم اس کے گھر کے قریب پہنچ گئے تھے ۔وہاں چند گھر ہی تھے ۔گھروں کے تقریباََ درمیان میں ایک چشمہ بہہ رہا تھا ۔اس وقت بھی دو تین قریب البلوغ بچیاں وہاں بیٹھی پانی بھر رہی تھیں ۔ہم ان کے قریب سے گزرے تھے ۔وہ ہمیں حیرانی اور دلچسپی بھری نظروں سے گھور کر رہ گئی تھیں ۔
وہاں عموماََ لوگ قلعہ نما گھر بناتے ہیں ۔جن کی چاردیواری دس گیارہ فٹ کے قریب ہوتی ہے ۔دیوار کے دو مخالف کونوں میں مورچوں کا ہونا بھی ضروری ہے ۔اس چاردیواری کے بیچوں بیچ وہ رہائشی کمرے بناتے ہیں جن کی بلندی بس اتنی ہوتی ہے کہ آدمی آسانی سے کھڑا ہو سکے ۔چاردیواری مٹی کی بنی ہوتی ہے لیکن بہت مضبوط ہوتی ہے ۔دیوار کی چوڑائی قریباََ ڈیڑھ سے دو فٹ کے درمیان ہوتی ہے ۔اتنی سیدھی اور ہموار گویا اینٹوں سے چنائی کی گئی ہو ۔دیوار کو لپائی کرنے کی زحمت وہ نہیں کرتے اور دیوار کے اوپر سرکنڈے ،جھاڑیاں یا اس طرح کی کوئی اور چیز رکھ کر اوپر مٹی ڈال دیتے ہیں اس طرح دیواروں کے اوپر پڑنے والا بارش کا پانی دیوار پر نہیں بہہ پاتا ۔اندرونی کمرے ،کچے یا پکے بلاکوں کے بنے ہوتے ہیں ۔چھتوں میں لکڑی کے بڑے بڑے شہتیر استعمال کرتے ہیں۔ لکڑ ی کی اس علاقے میں کوئی کمی نہیں ہے ۔
ہمارے میزبان کا نام کریم خان تھا ۔اس کا گھر بھی روا ج کے مطابق بنا ہوا تھا ۔ہمارے لیے بیٹھک کا دروازہ کھول کر وہ اندر چلا گیا ۔گھر کا سربراہ کریم کا والد تھا ۔کریم کے علاوہ اس کے دو بیٹے اور بھی تھے ۔رات کا کھاناہم نے تینوں بھائیوں اور باپ کے ساتھ اکٹھے بیٹھ کر کھایا ۔کھانے کے بعد قہوہ پیتے ہی ان کے سوالوں سے بچنے کے لیے میں تھکن کا بہانہ کرتے ہوئے لیٹ گیا ۔وہ بھی گپ شپ پر مصر ہوئے بغیر خوش دلی سے اٹھ کر اندر چلے گئے ۔
نو بجنے میں پانچ منٹ رہتے تھے جب میں نے آئی کام آن کر لیا ۔آواز میں نے بالکل دھیمی ہی رکھی تھی ۔چونکہ یہ پہلے سے طے تھا کہ میرے پکارنے ہی پر جواب دیا جائے گا ۔اس لیے میں نے خود ہی اپنا پاس ورڈ پکارنا شروع کر دیا ۔
”ایس ایس فارون الفا اوور۔“چند مرتبہ یہ دہرانے کے بعد ہی سپیکر سے ایک بھاری آواز برآمد ہوئی ۔
”ون الفا فار ایس ایس ....سینڈ یوور میسج اوور۔“
”پہنچنے کی اطلاع دینا تھی اوور۔“میں نے جواب دیا۔
اس نے کہا ۔”یس ،خدا حافظ۔“میں نے فوراََ سات چینل اوپر کر کے نئی فریکونسی لگا دی ۔ ایسا ون الفا نے احتیاطاََ کروایا تھا کیونکہ کوئی بھی اگر ہماری بات سن رہا ہوتا تو یہی سمجھتا کہ ہم نے رابطہ منقطع کر دیا ہے ۔لیکن اس نے یس کہہ کر جو خدا حافظ کہا تھا اس کا مطلب یہی تھا کہ” خداحافظ “میں جتنے حروف تھے اتنے چینل اوپر چلوں ۔اگر وہ نو کہہ کر کوئی لفظ بولتا تو اس لفظ میں موجود حروف کی تعداد کے مطابق میں نیچے چینل لگاتا۔
مطلوبہ چینل لگاتے ہی وہی بھاری آواز سنائی دی ۔
”جگہ اوور؟“
”شہزادہ خان کلے اوور۔“
”پرسوں شکئی سے آگے فوجی قافلہ چلے گا ۔ تین جگہیں ایسی ہیں جہاں گھات لگنے کا زیادہ خطرہ ہے ۔پہلی دو جگہوں پر آرمی کی پکٹنگ لگی ہو گی ، تیسرا مقام جو سب سے خطرناک ہے اسے تم لوگوںنے سنبھالنا ہے ۔گزشتہ قافلے میں اس جگہ ہمارے چار جوان ، سنائپرز کا شکار ہو چکے ہیں اوور۔“
”وہاں پکٹنگ نہیں لگ سکتی اوور!“
”نہیں وہ جگہ کافی دور ہے ۔اور ہمارے پاس اتنی نفری نہیں ہے کہ تمام علاقے میں پکٹنگ کر سکیں ۔ایک دو اور وجوہات بھی ہیں جو ملنے پر بتا پاﺅں گا ۔اوور!“
میں نے پوچھا ۔”جگہ کی نشان دہی کر دو اوور۔“
”شہزاد خان کلے سے آپ جنتوئی جائیں وہاں سے آگے لگرائے آئے گا ۔یہ گاﺅں جس پہاڑی کے دامن میں بنا ہے اس کی بلند ترین چوٹی لگی نرائے کے ساتھ ہی زیڑہ کیل کی چوٹی آتی ہے ۔یہ بالکل شمالی اور جنوبی وزیر ستان کی حد بن رہی ہے ۔اسی جگہ کو آپ نے سنبھالنا ہے اوور!“
میں نے پوچھا ۔”قافلہ گزرنے کا وقت اوور!“
”بارہ سو سے چودہ سو کے درمیان اوور۔“(یاد رہے آرمی میں دن کے بارہ بجے کے بعد تیرا بجتے ہیں ۔اور وقت کی فارمیٹ چوبیس گھنٹے والی استعمال ہوتی ہے ، تاکہ مطلوبہ وقت میں کسی شک کی گنجائش ہی نہ رہے)
میرے ”راجر !“(سمجھ گیا )کے جواب میں اس نے ۔”اوور اینڈ آل!“کہا اور میں نے آئی کام بند کر دیا ۔
سردار نے ساری گفتگو سن لی تھی ۔میری بات ختم ہوتے ہی اس نے کہا۔
”مطلب کل جنتوئی کا رستا ناپیں گے ۔“
”بالکل ۔“کہہ کر میں سونے کے لیے لیٹ گیا ۔صبح ناشتا کر کے ہم نے اپنے میزبانوں سے جنتوئی کا رستا معلوم کیااور ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ان سے اجازت لے کر چل پڑے ۔وہاں سے جنتوئی تک سڑک موجود تھی ۔دو تین گھنٹوں میں پیدل چلتے ہوئے ہم جنتوئی پہنچ گئے تھے ۔ہم نے اپنا حلیہ اور لباس اسی علاقے کے لوگوں جیسا بنایا ہوا تھا اس لیے کسی نے ہم پر خاص توجہ نہیں دی تھی ۔اس علاقے کے لحاظ سے جنتوئی ایک بڑی آبادی کا گاﺅں تھا ۔ایک مسجد کے قریب سے گزرتے ہوئے مجھے تبلیغی جماعت ڈیرہ ڈالے نظر آئی ۔سردار خان کو آنکھ سے اشارہ کر کے میں مسجد ہی میں گھس گیا ۔سردار نے میری تقلید کی تھی ۔ہمارے پاس موجود سفری تھیلوں سے انھیں یہ اندازہ لگانے میں دیر نہیں لگی تھی کہ ہم مسافر ہیں ۔ان سے ہاتھ ملا کر ہم نے اپنا سامان ایک دیوار کے ساتھ رکھا اور وضو کرنے لگے ۔ہمارے وضو کرنے تک ان کے کھانے کا وقت ہو گیا تھا ۔دستر خواں بچھا کر انھوں نے ہمیں خلوص سے کھانا کھانے کی دعوت دی ۔ہمارا تو مطمح نظر ہی اس وقت کھاناکھانا تھا اس لیے ہم بلا تکلف ان کے ساتھ شامل ہو گئے۔کھانے کے بعد بھی ہم ان کے ساتھ بیٹھے رہے ۔ان کا امیر ایک باریش شخص تھا ۔اپنا تعارف وغیرہ کرانے کے بعد اس نے غیر محسوس انداز میں گفتگو کا رخ دعوت الی اللہ کی طرف موڑ دیا ۔ظہر کی آذان تک ہم اس کی پر مغز اور روح پرور گفتگو سے مستفید ہوتے رہے ۔نماز پڑھ کر بھی ہم وہیں بیٹھے رہے ۔ اپنی دعوت کے روزمرہ سے فارغ ہو کر انھوں نے ہمیں چاے بھی پلائی ۔اس کے بعد ہم ان سے رخصت ہو لیے ۔ہمارا ارادہ لگی نرائے تک جانے کا تھا ۔تاکہ اگلے دن ہم صبح سویرے ہی اپنی جگہ پر بیٹھ سکیں۔ عصر سے پہلے ہی ہم لگرائے پہنچ گئے تھے ۔لیکن وہاں رکنے کے بجائے ہم آگے بڑھتے گئے ۔ لگرائے گاﺅں سے آگے مسلسل چڑھائی تھی ۔جب ہم لگی نرائے پہنچے توشام کا ملگجا اندھیرا چھا چکا تھا۔مکمل اندھیرا چھانے سے پہلے ہم نے رات گزارنے کے لیے جگہ تلاش کر لی ۔درختوں کے جھنڈ میں موجود ایک بڑی چٹان کے نیچے ہم نے اپنا سامان رکھا اور دائیں بائیں گھوم کر چند منٹوں میں کافی ساری خشک لکڑیاں اکھٹی کر لیں ۔وہاں اچھی خاصی سردی محسو س ہو رہی تھی ۔اپنی گرم چادریں دائیں بائیں باندھ کر ہم نے ہوا کی آمد کا رستا روکنے کی واجبی سے کوشش کی اور پھر آگ جلا دی ۔ایسے موقع کے لیے ہم پہلے سے انتظام کر کے چلے تھے ۔سردار سٹیل کا کٹورا نکال کر چاے بنانے لگا ۔چنوں وغیرہ سے بنے غذائیت سے بھرپور مخصوص بسکٹ ہمارے پاس موجود تھے ۔دو تین بسکٹ ہی آدمی کو بارہ تیرہ گھنٹے کے لیے خوراک سے بے نیاز کر دیتے تھے۔ چاے وغیرہ پی کر سردار نے میرا سلپنگ بیگ نیچے بچھایا اور اپنے سلپنگ بیگ میں گھس کر سو گیا ۔ جبکہ میں رات ایک بجے جاگتا رہا ۔اس دوران میں نے آگ کو نہیں بجھنے دیا تھا ۔ایک بجے سردار نے میری جگہ سنبھالی اور میں سو گیا ۔میری آنکھ سردار کے جگانے پر کھلی۔وہ چاے تیار کر چکا تھا ۔ناشتے سے فارغ ہو کر ہم بغیر وقت ضائع کیے زیڑہ کیل کی جانب بڑھ گئے ۔ہتھیار کے علاوہ ہم نے باقی سامان وہیں چھوڑ دیا تھا ۔وہ چوٹی قریباََ تین چار سومیٹر آگے تھی ۔اس کی بلندی بھی لگی نرائے سے کچھ زیادہ تھی ۔ پندرہ بیس منٹ میں ہم وہاں تھے ۔مزید گھنٹا بھر لگا کر ہم نے اپنے لیے ایک فائرنگ پوزیشن بنا لی ۔ایسی جگہ جہاں سے ہمیں آسانی سے نہیں دیکھا جا سکتا تھا ۔کچا رستا کافی نیچے سے گزر رہا تھا ۔یہ جگہ ایسی تھی کہ وہاں سے سڑک تک اترنے کے لیے کافی دور جا کر رستا مل سکتا تھا ۔ وہ درہ نما رستا بن رہا تھا ۔ ہمیں اپنی جگہ پر چھپے گھنٹا بھر ہی ہوا ہو گا کہ مجھے بائیں جانب حرکت نظر آئی ۔ دوربین تو ہمارے پاس موجود نہیں تھی میں نے ڈریگنوو رائفل کی ٹیلی سکوپ میں دیکھا ۔دو تین آدمی اوپر آ رہے تھے ۔انھوں نے ہاتھوں میں کلاشن کوفیں تھامی ہوئی تھیں ۔ان کے اطمینان کو دیکھ کر پتا چلتا تھا کہ وہ اس بات کو جانتے ہیں کہ اس پہاڑی پر آرمی کی کوئی پکٹ لگی ہوئی نہیں ہے ۔اور ایسا لازمی طور اس وجہ سے تھا کہ وہ آرمی کی حرکت سے باخبر رہتے تھے ۔مزید کچھ دیر کی جستجو کے بعد مجھے ان کی صحیح تعداد معلوم ہو گئی تھی ۔
”سردار خان !....پانچ آدمی ہیں اور تما م کے پاس کلاشن کوفیں ہیں ۔“
سردار مسکرایا ۔”گویا ،تمھاری پانچ گولیاں ضائع ہو گئیں ۔“
وہ ایک اچھا نشانے باز تھا ۔پٹھان قوم یوں بھی ہتھیا ر کے استعمال کی ماہر ہوتی ہے ۔وہ پٹھان ہونے کے ساتھ ایک سنائپر بھی تھا ۔لیکن جب سے ہم امریکہ سے لوٹے تھے اس کے بعد اسے میرے نشانے پر بہت زیادہ اعتماد ہو گیا تھا ۔اب بھی اصولاََ ڈریگنوو رائفل اس کے ہاتھ میں ہونا چاہیے تھی کہ وہ مجھ سے سینئر تھا ۔لیکن اس کے عکس اس نے خود کلاشن کوف پکڑی ہوئی تھی اور میرے حوالے سنائپر رائفل کی ہوئی تھی۔
میں نے مزاحیہ انداز میں جواب دیا ۔”ہونے دو ضائع ،ہمارے کو ن سے اپنے پیسے خرچ ہوئے ہیں ۔“
”اب مجھے بھی نظر آ گئے ہیں ۔“سردارنے درختوں کے عقب سے برآمد ہونے والے آدمیوں کو دیکھ کر کہا ۔
وہ تمام اپنے لیے مناسب جگہ تلاش کرنے لگے ۔ہم نے جان بوجھ کر ایسی جگہ پر فائرنگ پوزیشن بنائی تھی جہاں سے نیچے سڑک پر فائر کرنا ناممکن نہیں تو بہت زیادہ مشکل ضرور تھا ۔اسی وجہ سے انھوں نے اس ٹیکری کو نظر انداز کر دیا تھا ۔چند منٹوں کے اندر انھوں نے اپنے لیے مناسب جگہ تلاش کر لی تھی ۔دو آدمی ہمارے چھپنے کی جگہ سے فقط پچاس گز دور ہی بیٹھے تھے ۔ان سے ساٹھ ستر گز ہٹ کر دو آمی ایک بڑے پتھر کے پیچھے لیٹ گئے تھے ۔ان کا پانچواں آدمی ہم سے دو سو گز کے فاصلے پر ایک بڑے درخت کے تنے کے ساتھ بیٹھا تھا ۔اس کے ہاتھ میں مجھے وائرلیس سیٹ بھی نظر آ رہا تھا ۔
میں نے گھڑی پر نگاہ دوڑائی ساڑھے گیارہ ہونے کو تھے ۔چند کلو میٹر کے فاصلے پر مجھے گرد وغبار اٹھتا نظر آیا ۔یہ وہی سمت تھی جس جانب سے آرمی قافلے نے آنا تھا ۔
میرے کانوں میں دہشت گردوں کے قہقہے کی آواز آئی ۔نہ معلوم کس بات پر وہ ہنس رہے تھے ۔ان کے حملے کا طریقہ کار مجھے معلوم تھا ۔کلاشن کوف کے سیفٹی لیور کو برسٹ پر سیٹ کر کے یہ بیرل کا رخ آرمی کے جوانوں کی طرف کر کے ٹریگر دبا کر رکھتے ہیں ۔اور جب تک میگزین خالی نہیں ہو جاتی ٹریگر دبائے رکھتے ہیں ۔اس طرح اندھا دھند فائر نگ کی زد میں پاک آرمی کا کوئی نہ کوئی جوان لازمی آجاتا ہے اور یہی ان کی کامیابی ہوتی ہے ۔
”میرا خیال ہے پہلے انھی دونوں کا سر اڑانا ۔“سردار نے سرگوشی کرتے ہوئے نزدیک موجود دو آدمیوں کی طرف اشارہ کیا ۔
”نہیں پہلے دور والے ۔“میں نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے سرگوشی کی۔”دور والوں کو اگر ہماری بھنک مل گئی تو وہ چھپ سکتے ہیں ۔یہ دونوں تو گھڑے کی مچھلی ہیں ۔“
”ہونہہ !....یہ صحیح ہے ۔“اس نے اثبات میں سر ہلادیا ۔
اگلے آدھے گھنٹے میں آرمی کا قافلہ قریب پہنچ گیا تھا ۔قافلے کے قریب پہنچتے ہی میں نے سب سے دور موجود شخص کے سر کا نشانہ سادھ لیا تھا ۔
پہلی تین گاڑیوں کے گزرنے کے ساتھ ہی انھوں نے ایک دم فائر کھول دیا تھا ۔تمام خود تو پتھر کے پیچھے چھپے تھے ۔البتہ ان کی کلاشن کوف کی نال پتھر کی ایک جانب سے آگے کو نکلی ہوئی تھیں ۔اس طرح کہ اگر ان کے خلاف درست فائر بھی کیا جاتا تب بھی وہ سامنے سے آنے والی گولی سے محفوظ رہتے ۔ لیکن اس وقت ان کی بدقسمتی کہ ان کے عقب میں ہم موجود تھے ۔
ماحول گولیوں کی تڑتڑاہٹ سے گونج اٹھا تھا ۔ایسی صورت حال میں ڈریگنوو کی گولی کی آواز کس نے سننا تھی ۔میرے ٹریگر دباتے ہی ان کا پہلا آدمی لڑھک گیا تھا ۔وہ جس تنے کی آڑ میں بیٹھا تھا وہیں نیچے ڈھلان کی طرف منہ کے بل گرا تھا ۔اگلی دو گولیوں نے سو گز دور پڑے دونوں آدمیوں کی کھوپڑیوں میں سوراخ کر دیے تھے ۔سردار نے بھی کلاشن کوف تیاری حالت میں پکڑی تھی مگر یہ صرف حفظِ ماتقدم کے طور پر تھا ۔آرمی کے جوانوں نے جوابی فائرنگ شروع کر دی تھی ۔اس لیے فائرنگ کی آواز کانوں کے پردے پھاڑ رہی تھی ۔
ہمارے نزدیک پڑے دونوں جوان ابھی تک اپنے ساتھیوں کی ہلاکت سے ناواقف تھے ۔ میں نے ان کی بے خبری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک کے سر میں گولی اتاری ۔اس مرتبہ اس کے ساتھی کو پتا چل گیا تھا ۔اس نے ہراساں نظروں سے اپنے ساتھی کی خون چکاں لاش دیکھی ۔اس کے ساتھ ہی اس کی نظریں اپنے دوسرے ساتھیوں کی طرف اٹھیں ۔انھیں بے حس و حرکت دیکھ کر وہ جھکے جھکے انداز میں وہاں سے دور ہٹنے لگا ۔ان بہادروں کی ہمت بس اتنی ہی ہوتی ہے کہ چھپ کر فائر کرو اور جب دیکھو کہ آگے سے اینٹ کا جواب پتھر سے مل رہا ہے تو پھر بھاگو ۔انھوں نے بھی گھات کے لیے جو جگہ چنی تھی اس کے عقب میں بھاگنے کا وسیع رستا موجود تھا ۔عقبی ڈھلان سے اتر کر وہ جہاں مرضی چاہے جاسکتے تھے ۔ ان گھنے جنگلوں ،ہاتھ کی لکیروں کی طرح پھیلے ندی نالوں ، غاروں ،کھڈوں اور سمندر کی لہروں کی طرح حد نگاہ تک نظر آنے والے پہاڑی سلسلوں میں چند افراد کو ڈھونڈنا جتنا مشکل ہے اس کا اندازہ ہر وہ شخص آسانی سے لگا سکتا ہے جس نے ان علاقوں کو دیکھا ہوا ہو ۔
میں نے اسے چند قدموں سے زیادہ آگے نہیں جانے دیا تھا ۔ڈریگنو و کی گولی اس کے کولہے میں لگی تھی ۔وہ منہ کے بل گر پڑا تھا ۔
”سردار !....اسے زندہ پکڑنا ہے ۔“
”ٹھیک ہے باس ۔“اس نے مزاحیہ انداز میں کہا ۔”یوں بھی اسے جس جگہ گولی لگی ہے اب گھسیٹ کر ہی کہیں جا سکتا ہے ۔
اچانک کان پھاڑ دینے والا دھماکا ہوا اور ہم سے دو سو گز دور مارٹر گن کا گولہ لگا ۔میں نے متوحش انداز میں نیچے جھانکا ۔آرمی کے جوانوں نے ایک بڑی چٹان کے عقب میں مارٹر گن لگا لی تھی ۔ میں نے جلدی جلدی آئی کام آن کیا ۔
”ایس ایس فارون الفا اوور۔“
”سینڈ یور میسج اوور !“مجھے پہلی کال کے جواب میں ون الفا کی آواز سنائی دی ۔
”ون الفا !....آپ قافلے کے ساتھ ہیں اوور !“میں نے بے صبری سے پوچھا ۔
”ہاں ....ساتھ ہوں تو تمھیں سن رہا ہوں نا ،ورنہ اتنی دور تک آواز کہاں جاتی ہے اوور !“
”تو پھر جلدی سے مارٹر کا فائر رکواﺅ ۔یہاں اب ہم دو ہی بچ گئے ہیں ۔پانچ بندے تھے سارے جہنم واصل ہو گئے ہیں اوور!“
”گڈ !“کہہ کر خاموشی چھا گئی تھی ۔اسی وقت ایک اور گولہ پہلے گولے سے پچاس گز ہماری طرف لگا تھا ۔
”ون الفا فارایس ایس اوور!“
”یس !“میں نے مختصراََ کہا۔
”فائر رکوا دیا ہے اور....ویٹ....“اس نے بات درمیان میں چھوڑ دی تھی ۔
ایک لمحے کی خاموشی کے بعد اس کے آواز دوبارہ ابھری ۔”ایس ایس !....ہمارے دائیں جانب پہاڑی پر کوئی سنائپر موجود ہے اوور!“
”لوگوں کو اس طرف آڑ میں کر لو میں دیکھتاہوں اوور !“سرعت سے جواب دیتے ہوئے میری نگاہیں سامنے کی پہاڑی پر گھومنے لگیں ۔خوش قسمتی سے سورج میری پشت پر چمک رہا تھا ۔میری نگاہیں نے ایسی جگہ کو تلاشنے لگیں جہاں ایک ایسا سنائپر جس نے نیچے گہرائی میں موجود ہدف کو نشانہ بنانا ہو اپنا ٹھکانہ بنا سکتا تھا۔
”ایس ایس !....“دو آدمی زخمی ہو گئے ہیں اوور۔“الفا کی آواز میں گہرا غم چھپا تھا ۔ اسے جواب دینے کے بجائے میری نظریں سامنے پہاڑی پر سرگرداں تھیں ۔اور پھر شیشے کی چمک نے مجھے اپنی جانب متوجہ کیا میں نے بغیر تاخیر کے ٹیلی سکوپ سائیٹ کے عدسے سے اس سمت دیکھا ۔سبزے کا ڈھیر مجھے یہ باور کرانے کے لیے کافی تھا کہ وہاں دو سنائپر موجود تھے ۔ان کے چھپنے کا انداز ظاہر کر رہا تھا کہ وہ باقاعدہ سنائپر کی تربیت حاصل کر چکے ہیں ۔
”سردار !....سامنے والی پہاڑی پر موجود درختوں کے جھنڈ کے ساتھ والی ٹیکری کا فاصلہ میرے خیال میں تو آٹھ سو میٹر ہو گا ۔“
”نہیں ہزار میٹر سے کم نہیں ہے ۔“اس نے فوراََ جواب دیا ۔چونکہ ہمارے پاس لیزر رینج فائینڈر (فاصلہ ناپنے والا آلہ )موجود نہیں تھا اس لیے میں اندازے والا کلیہ استعمال کیا تھا ۔
”ٹھیک ہے نو سورینج لگا دی ہے ۔“میں نے فوراََ اپنے اور اس کے اندازے کا اوسط نکالتے ہوئے نوسو رینج لگا ئی ۔اور اس سبزے کے ڈھیر پر شست سادھ لی ۔اچانک مجھے ہلکی سی حرکت دکھائی دی شاید اس نے سر اوپر اٹھا کر دیکھنے کی کوشش کی تھی ۔میری انگلی نے فوراََ ٹریگر کی آزادنہ حرکت کو پورا کیا ۔ ہلکے سے دھماکے ساتھ میں نے اٹھے ہوئے سر کو نیچے گرتے دیکھا ۔ایسا دو صورتوں میں ہو سکتا تھا ۔یا تو اسے گولی لگ تھی یا وہ اگلی گولی سے بچنے کے لیے لیٹا تھا ۔لیکن اس کے ساتھ پڑے ڈھیر میں حرکت ہوتی دیکھ کر مجھے یقین ہو گیا تھا کہ میرا پہلا اندازہ درست تھا ۔وہ میری گولی کا شکار ہو چکا تھا۔میں نے اندازے سے بالکل صحیح رینج لگا لی تھی ۔دوسرے بے وقوف نے ایک دم اٹھ کر بھاگنے کی کوشش کی تھی ۔ ڈریگنوو رائفل عام سنائپر رائفلز کے برعکس سیمی آٹومیٹک ہے ۔اس لیے مجھے رائفل کو بار بار کاک کرنے کی ضرورت نہیں تھی ۔اورزمین سے اٹھ کر اس نے یوں بھی مجھے زیادہ ہدف مہیا کر دیا تھا ۔یقینا گولی اس کی گردن کے تھوڑا نیچے ،دونوں کندھوں بیچ میں لگی تھی ۔وہ منہ کے بل گرگیا تھا ۔
”ایس ایس فار الفا اوور !“
”سینڈ یور میسج اوور !“الفا کی آواز میں غصے کی آمیزش صاف محسوس کی جا سکتی تھی ۔
”ہدف کو کامیابی سے نشانہ بنا دیا گیا ہے ۔آپ اپنا سفر جاری رکھیں اوور !“
”گڈ ....اوور اینڈ آل ۔“اس کے لہجے میں غصے کی جگہ اطمینان اور خوشی نے لے لی تھی ۔
”سردار!.... اپنے دوست کو سنبھالو۔“
”یس باس !“کہہ کر وہ تھوڑی دور اوندھے لیٹے دشمن کی طرف بڑھ گیا ۔میری نظریں چاروں جانب سرگرداں رہیں ۔ممکن تھا کوئی چھپا ہوا شکاری ہماری تاک میں ہوتا ۔مگر سردار کو بہ خیر و خوبی اس زخمی کے پاس پہنچتے دیکھ کر میں نے اطمینان بھرا سانس لیا تھا ۔
”اسے یہاں لے آﺅ ۔“میں نے سردار کو آواز دی اور وہ سر ہلاتے ہوئے نیچے پڑے دشمن کا ہاتھ پکڑ کر اسے میری جانب گھسیٹ کر لانے لگا ۔وہ ننگ انسانیت اسی لائق تھا اس لیے میں بھی سردار کے طریقے سے متفق تھا ۔
سردار نے اسے ٹیکری کی جڑ میں پھینکا ۔میں نیچے اتر کر ان کے قریب پہنچ گیا ۔وہ بری طرح کراہ رہا تھا ۔
میں نے پاﺅں کی ٹھوکر سے اسے سیدھا لٹایا ۔اس کے چہرے کے نقوش درد کی شدت سے بگڑ گئے تھے ۔اس کے ساتھ ہی اس کی آنکھوں میں خوف اور نفرت بھرے تاثرات کو محسوس کرنا مشکل نہیں تھا۔
”تو تمھارا نام کیا ہے ؟“میں نے اس کی زخمی طرف پاﺅں رکھ کر زور سے دبایا ۔
”آہ....“اس کے منہ سے بے ساختہ درد بھری آواز نکلی ۔
”اوہ ....معذرت خواہ ہوں ۔شاید درد ہو رہا ہے ۔“میں نے افسوس بھرے انداز میں سر ہلایا۔
”تم کس کے آدمی ہو ؟“اس نے بہ مشکل اپنی کراہوں پر قابو پا کر بگڑے ہوئے لہجے میں دریافت کیا ۔
”میں نے کچھ پوچھا تھا ۔“میں نے دوبارہ اس کی مضروب جگہ پر پورے پاﺅں کا دباﺅ ڈالا ۔
”ضض....ضمیر خان....ضمیر خان۔“اس نے درد سے چلاتے ہوئے اپنا نام ادا کیا ۔
”ہونہہ!....تو کس کے کتے ہو ؟“اس مرتبہ بھی میں نے اس کی زخمی طرف کو اپنے پاﺅں کے دباﺅ کا نشانہ بنایا تھا ۔
”تت....تم اچھا نہیں کر رہے ....سردارقبیل خان تم لوگوں کو چھوڑے گا نہیں ۔“درد سے تڑپتے ہوئے بھی وہ دھمکی دینے سے باز نہیں آیا تھا ۔
”یہ پانچوں سردار قبیل خان کے آدمی تھے ۔“میں نے اپنی حرکت دہراتے ہوئے اگلا سوال پوچھا ۔
”ہاں ....ہاں ....ہاں اور خدا کے لیے میں ہر بات کا جواب دوں گا یوں نہ کرو ....“زخم پر مسلسل پڑنے والے دباﺅ سے اس کی ٹانگ رعشے کے مریض کے ہاتھوں کی طرح کانپ رہی تھی ۔
”وہ سامنے پہاڑی پر جو دو آمی موجود تھے وہ بھی قبیل خان کے آدمی تھے ؟“اس مرتبہ میں نے اس کے ساتھ اکڑوں بیٹھتے ہوئے پوچھا ۔
”ان پانچوں کے علاوہ مجھے نہیں معلوم کہ سردار کو کوئی اور بندہ یہاں تھا۔“
”سردارخان !....اس کے ہاتھ باندھ کر لاشوں کی تلاشی لو اور تمام ہتھیار اکٹھے کر لو ،میں ذرا ان سنائپرز کا جائزہ لے کر آتا ہوں ۔“
سردار نے منہ بنایا ۔”کیا ضروت ہے ان کا جائزہ لینے کی ۔“
”وہ دونوں مجھے تربیت یافتہ سنائپر لگ رہے تھے ۔اس لیے ان کے بارے جاننا ضروری ہے۔“نیفے میںتیس بور پستول کی موجودی کا یقین کرتے ہوئے میں اس طرف بڑھ گیا جہاں سے نیچے اتر سکتا ۔آرمی کا قافلہ وہاں سے نکل گیا تھا ۔سامنے والی پہاڑی کا ہوائی فاصلہ تو آٹھ نو سو میٹر تھا ،لیکن درمیان میں ایک نالہ پڑتا تھا اس وجہ سے زمینی فاصلہ زیادہ بن رہا تھا ۔پھر اس مقام سے براہ راست نالے میں اترنا بھی مشکل تھا اس کے لیے مجھے تین چار سو میٹر دائیں جانا پڑا ۔وہاں سے نالے میں اتر کر میں تیز تیز چلتے ہوئے مطلوبہ پہاڑی کی جانب بڑھنے لگا ۔یوں بھی اس علاقے میں دوڑنا قریباََ ناممکن ہی ہے کیونکہ آکسیجن کی کمی کی وجہ سے سانس بہت زیادہ پھول جاتا ہے ۔اترائی میں جاتے ہوئے تو پھر بھی کچھ نہ کچھ دوڑا جا سکتا ہے چڑھائی چڑھتے ہوئے تو ایسا سوچنا ہی بے وقوفی ہے ۔میں نالے میں آگے بڑھتا گیا ۔مناسب ڈھلوان آتے ہی میں اوپر چڑھنے لگا ۔درمیان سے کچھ اوپر پہنچتے ہی میں نے پستول ہاتھ میں پکڑ لیا تھا ۔مطلوبہ جگہ کے قریب پہنچ کر میں دبے قدموں آگے بڑھنے لگا ۔ان دونوں میں سے اگر کوئی زندہ بچ گیا ہوتا تو مجھے نقصان بھی پہنچا سکتا تھا ۔یہ بھی ممکن تھا کہ ان کا کوئی تیسرا آدمی بھی وہاں موجود ہوتا۔لیکن یہ صرف امکان تھا۔سنائپرز عموماََ جوڑیوں میں اپنا کام کرتے ہیں ،یا پھر اکیلے ۔
ایک چٹان کے پیچھے چھپ کر میں نے چند سیکنڈ سن گن لی اور پھر اپنا سر آگے کو نکال کر ان کا جائزہ لیا ،مگر ان کے بدن میں حرکت نظر نہیں آ رہی تھی ۔پھربھی احتیاط کا دامن ہاتھ سے چھوڑے بغیر میں ان کی جانب بڑھا ۔سب سے پہلے میں نے اس کا جائزہ لیا جو فرار ہونے کی کوشش میں میری گولی کا نشانہ بنا تھا ۔میں نے اسے سیدھا کیا شکل سے وہ کوئی مقامی ہی نظر آتا تھا۔اس کی حرکت یہی ظاہر کر رہی تھی کہ و

No comments:

غازی از ابو شجاع ابو وقار قسط نمبر60 Ghazi by Abu Shuja Abu Waqar

Ghazi  by  Abu Shuja Abu Waqar  غازی از ابو شجاع ابو وقار  پیشکش محمد ابراہیم 60 آخری قسط نمبر  Ghazi by Abu Shuja Abu...

Powered by Blogger.