Ads Top


جنت کے پتے
از

 نمرہ احمد



ناول؛ جنت کے پتے
قسط 46
مگر اس جنگ اور قید نے اسے ایک مختلف انسان بنا دیا تھا۔ جہاں ایک طرف وہ اپنے سروس ریکارڈ میں Realiber Under Tourcher کی ڈگری میں آ گیا تھا، وہاں دوسری طرف اس کا بہت کچھ مر گیا تھا۔ وہ جو ایک فیملی بنانے کی، ایک حسین لڑکی سے شادی کر کے اپنے بچوں کی خوشیاں دیکھنے کی خواہش ہوتی ہے، وہ خواہش مر گئی تھی۔ وہ دنیا سے بے اعتبار ہو چکا تھا۔ اس کے اندر اتنی تلخی بس چکی تھی کہ وہ اب ایک فیملی مین نہیں رہا تھا۔ وہ بس ایک ایجنٹ تھا۔ یہی اس کی زندگی، اس کی محبت، اس کی فیملی تھی۔ جب حکومت نے لاکھوں روپیہ خرچ کر کے اس کو ملک کی خدمت کے قابل بنایا تھا تو بہتر تھا کہ وہ یہی کام کرے۔ ماموؤں سے بغض و عناد، انتقام لینے کی خواہش، سب جیل نے نگل لیا تھا۔ اگر کچھ بچا تھا تو وہی ایک احساس کمتری جو ماموؤں کا سامنا کرنے کا سوچ کر اسے ہمیشہ محسوس ہوتا تھا۔ بس، اور کچھ نہیں۔
رہائی کے کچھ عرصے بعد وہ ممی کے پاس ترکی گیا تو اہک اچھی خبر اس کی منتظر تھی۔ ممی نے اپنی جمع پونجی ملا کر جہانگیر والا گھر پھر سے خرید لیا تھا۔ دادا کا بنایا گھر، ان کا اپنا گھ۔ ،مگر اب اس کو اس گھر نے بھی بہت زیادہ خوشی نہیں دی۔ وہ تو بس ایک خواہش تھی، جو پوری ہو گئی۔ 
قریبا تین برس قبل وہ اپنے ترک پس منظر کے باعث ترقی بھیجا گیا وہاں وہ دو کورز کے ساتھ رہ رہا تھا۔ ایک اپنی پاکستانی شناخت ”جہان سکندر“ اور دوسری انڈین شناخت ”عبدالرحمان پاشا“۔
اپنے کام کے سلسلے میں آج کل وہ اسلام آباد واپس آیا ہوا تھا اور ممی کے مسلسل زور پر وہ بلآخر ماموں کے گھر جانے کے متعلق سوچ رہا تھا کہ ہوٹل میں اپنی منکوحہ کو اتفاقیہ دیکھ لینے کے بعد اس کا ارادہ مزید ڈانواں ڈول ہو گیا اور بعد میں بھی شاید وہ ماموں سے ملنے کی کوشش کرتا، مگر وہ لڑکی استنبول آ رہی تھی،یہ خیال اسے پریشان کرنے کے لیے کافی تھا۔ اسے کچھ نہ کچھ ایسا کرنا تھا جس سے وہ اس لڑکی کو روک پائے، مگر کیا، یہ ابھی اسے طے کرنا تھا
***
وہ بیسن کی ٹوٹی پہ جھکا چہرے پہ پانی کے چھینٹے ڈال رہا تھا۔ جب اسے یقین ہو گیا کہ وہ مکروہ صورت اس کی جلد سے ہر نشان چھوڑ کر چکی ہے تو اس نے چہرا اٹھا کر باتھ روم کے آئینے میں دیکھا۔ ماتھے پہ سامنے کو گرے اس کے گہرے بھورے بال اور منہ دھلا دھلایا ہو چکا تھا۔ اس نے اسٹینڈ سے لٹکتا تولیہ اتارا اور منہ رگڑتا باہر آیا۔
لاؤنچ میں ٹی وی چل رہا تھا اس کا لیپ ٹاپ بھی آن پڑا ہوا تھا۔ صوفے پہ بیٹھتے ہوئے اس نے تولیہ ایک طرف ڈالا، پھر لیپ ٹاپ گود میں رکھتے ہوئے اس نے موبائل نکالا۔ اسے ممی کو فون کرنا تھا۔
دوسری جانب گھنٹی جا رہی تھی۔ وہ منتظر سا اسے سنتا گیا۔ ذہن کے پردوں پہ آج کے واقعات پھر سے چلنے لگے تھے۔
گزشتہ رات ماموں کے گھر سے نکلتے ہوئے اس کے ذہن میں ایک لائحہ عمل تشکیل پا رہا تھا۔ جو آخری چیز وہ اپنی مشکل زندگی میں نہیں چاہتا تھا، وہ اپنی بیوی کا اس شہر میں آ کر رہنا تھا، جہاں وہ پہلے ہی ایک مقیم ایجنٹ کی حیثیت سے دو ذزندگیا گزار رہا تھا۔ اب اسے کسی نہ کسی طرح اس لڑکی کو روکنا تھا۔ جب اس نے کچن میں سفید پھول رکھے تھے تو اس کے ذہن میں مکمل لائحہ عمل نہیں تھا، مگر پھر بھی وہ جاتے وقت اس کی کار پہ ایک جی پی ایس ٹریسر چسپاں کر آیا تھا۔ وہاں کھڑی دو گاڑیوں میں سے چھوٹی والی یقینا اس کی تھی۔ وہ اس لڑکی پر نظر رکھنا چاہتا تھا اور آج کل اس کے پاس اتنا ڈھیر سارا وقت تھا کہ وہ اس پہ نظر رکھ سکے اور پتہ نہیں کیوں، جب بھی وہ اس کے بارے میں سوچتا، اس کو وہ لڑکی کے نام سے ہی سوچتا۔ وہ اس کا نام نہیں لیا کرتا تھا۔ کچھ تھا، جو اسے پسند نہیں آ رہا تھا۔ 
وہ امریکی سفارت خانےکی سیکنڈ سیکریٹری کی وجہ سے آج کل ادھر تھا۔ وہ بھارتی نژاد امریکی شہری تھی اور اس کی پاکستان سے دو ماہ بعد روانگی تھی۔ جہان کی دلچسپی کی بات یہ تھی کہ اس کی اگلی پوسٹنگ استنبول میں امریکی سفارت خانے میں ہو رہی تھی۔ اگر اسے تک رسائی حاصل کر لے تو استنبول میں اس کے بہت سے کام آسان ہو سکتے تھے۔ مسئلہ بس اتنا تھا کہ وہ اس کی کار تک بھی رسائی حاصل نہیں کر پا رہا تھا۔ وہ اپنی کار کا شیشہ صرف اور صرف کسی خواجہ سرا بھکاری کے لیے کھولتی تھی کیونکہ اسے خواجہ سرا کی بد دعا سے ڈر لگتا تھا۔ غالبا خاندانی وہم تھا، جسے وہ آفیسر امریکا میں اتنے برس رہنے کے بعد بھی ختم نہیں کر سکی تھی۔ صرف اس کی کار کے انتظار میں اسے اب روز شام میں خواجہ سرا کا روپ دھار کر ان راستوں پر پھرنا تھا جس سے وہ گزرتی تھی۔
کسی دوسرے کے لیے شاید یہ بہت عجیب بات ہو، مگر اس کے لئے نہیں تھی۔ اس کے نزدیک خواجہ سرا بننا بالکل ایسے تھا، جیسے کسی ڈاکٹر کے لیے مکمل سفید اوور آل کی بجائے آف وائٹ اوور آل پہننا۔ ایسی تبدیلی جو محسوس ہوتی نہ ہی بری لگتی اپنے کیریئر کے دوران وه اتنا کچھ بن چکا تھا کہ بہت عرصه ہوا وه حس ہی ختم ہو چکی تھی جو عجیب و غریب ہونے کا احساس دلاتی۔
اپنے ذاتی کاموں کے لیے البتہ ایسے حلیے اس نے کبھی نہیں بدلے تھے، لیکن اب اس کی زندگی ذاتی رہی ہی نہیں تھی۔ اگر آج وه حیا کی گاڑی کو ٹریس کر کے اس سے ملنے گیا تھا، تب بھی اس کے ذہن میں اپنی اسی "جعلی" زندگی کی فکر تھی جو وه استنبول میں گزار رہا تھا- 
وه آئس کریم پارلر جہاں وه اس لڑکی کی گاڑی کی موجودگی کے باعث آیا تھا، اس جگہ سے زیاده دور نہ تھا، جہاں آج کل اس کی ڈیوٹی تھی۔ وہاں خواجہ سرا اکثر نظر آتے تھے، اور اسے اچھی طرح معلوم تھا کہ ان میں سے شاید ہی کوئی اصلی خواجه سرا ہو۔ آدھے پروفیشنل اور باقی آدھے خفیه والے ہوتے تھے۔ جو ایسے روپ دھار کر حساس جگہوں کی نگرانی کیا کرتے تھے- 
وه اس لڑکی کو ترکی جانے سے روکنا چاہتا تھا اور کل تک تو وه اس سے ملنا بھی نہیں چاہتا تھا، مگر آج پتہ نہیں کیوں، اس کا دل چاہا تھا کہ وه اس سے بات کرے- وه اسے کبھی نہیں پہچان سکتی تھی- اسے یقین تھا وه کیا، ممی بھی اسے اس حلیے میں نہیں پہچان سکتی تھیں۔
اس روز اس لڑکی نے ہلکے آسمانی رنگ کا لباس پہن رکھا تھا- بال حسبِ معمول کھلے تھے- وه سلش پیتے ہوئے سوچ میں گم، غالباً شیشہ بند کرنا بھول گئی تھی۔ وه اس کے شیشے پہ جھکا تو وه چونک گئی اور پھر اس نے اس کے سفید، گلابی چہرے کو خوفزده ہوتے دیکھا۔ تمام تر گھبراہٹ کے باوجود اس نے ٹھنڈا ٹھار سلش جہان کے منہ پہ اُلٹ دیا- تب وه پیچھے ہوا تھا۔ اسے پیچھے سلش نے نہیں دھکیلا تھا، بلکہ اس کی جراّت پر وه حیران ہوا تھا- گزشته روز اگر اسے ایسا لگا تھا کہ وه کوئی بہت ہی نازک سی لڑکی ہے تو ایسا نہیں تھا- وه کافی پُر اعتماد اور ایک دم سے ردعمل ظاہر کر دینے والی لڑکی تھی- چلو، کوئی تو اچھی بات تھی- 
وه وہاں سے سیدھا اپنے اپارٹمنٹ آیا تھا اور اب حلیہ ٹھیک کر کے ممی کو فون کر رہا تھا- ممی نے فون اٹھاتے ہی سب سے پہلے وہی پوچھا جس کی اسے توقع تھی- 
تم ماموں سے ملنے گئے تھے؟
جی، مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابھی میری صائمہ بھابھی سے بات ہوئی ہے، انہوں نے تو نہیں بتایا- وه حیران ہوئیں- 
آپ دو منٹ تسلی سے میری بات سنیں گیں؟ پورے دو منٹ تسلی سے اس کی بات سن لینے کے بعد ممی بولیں تھیں- 
تم آج چلے جاؤں، آج فرقان بھائی کے گھر رات کا کھانا ہے- سب اکھٹے ہوںں گے- تم ان سے ایک دفعہ مل لو، پھر بعد میں حیا کو اعتماد میں لے کر بتا دینا- بات ختم- 
اور اس کے جو ہاتھ میں آیا، وه اٹھا کر میرے اوپر دے مارنا ہے- اس نے بے اختیار سوچا تھا، پھر چند منٹ لگے اسے ممی کو راضی کرنے میں اور وه بامشکل اس کی بات پہ متفق ہوئیں کہ ابھی ماموں سے ملنے کے بجائے بہتر ہے کہ پہلے وه ماموں کی بیٹی سے ملے، ہو سکے تو اسے روک دے اور اگر اس کے رکنے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی اور وه پانچ ماه کے لیے استنبول آ رہی ہے، تو پھر اسے ان لوگوں کو اپنے بارے میں آگاہی نہیں دینی چاہیۓ- یہ اس کی جاب کےاصول کے خلاف تھا- اسے ترکی میں اپنے اردگرد کوئی ایسا شخص چاہیۓ تھا جو اس بات سے واقف ہو کہ اس کا نام عبدالرحمن پاشا نہیں، یا جہان سکندر نہیں، بلکہ میجر جہان سکندر احمد ہے۔ اس نہج پہ پہنچ کر ممی راضی ہو گئیں۔ 
ٹھیک ہے، تم کرو جو تم کرنا چاہتے ہو میں انہیں نہیں بتاؤں گی کہ تم اسلام آباد میں ہو- وه خوش نہیں تھیں مگر خفا بھی نہیں تھیں- اس نے سکون کی گہری سانس اندر کھینچی۔ اب اس کے پاس اپنے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرنے کے لیۓ چند روز تھے۔
فون بند کرنے کے بعد وہ فورا اٹھا اور اپنا اپارٹمنٹ مقفل کر کے باہر آیا- ممی نے فرقان ماموں کے گھر فیملی ڈنر کا بتایا تھا، اگر وه ی ہی بات کارڈ پہ لکھ کر ایک روز پرانی تاریخ کی مہر زده لفافے میں ڈال کر گلاب کے پھولوں کے ہمراه اس کے گھر دے آئے تو یقیناً وه اس کی توجہ پا لینے میں کامیاب ہو جائے گا- اس کے بعد ہی وه اس کی کوئی بات سنے گی۔
آج بھی وه اسی پھول والے کے پاس آیا تھا اور آج بھی اس کے پاس سرخ گلاب نہیں تھے- اس نے دل ہی دل میں پھول والے اور سرخ گلاب، دونوں پہ لعنت بھیجتے ہوئے سفید گلاب خرید لیے۔ بار بار وه اپنے موبائل پہ ٹریسر کا اسٹیٹس چیک کرتا تھا- اس کی کار ابھی تک گھر نہیں پہنچی تھی۔ 
اپنی مصروفیات میں سے اس لڑکی کے لیے وقت نکالنا ایک دم ہی اسے بہت دلچسپ لگنے لگا تھا۔
***
وہ داور کی مہندی کی دوپہر تھی۔ جب ممی کا فون آیا۔ وہ اس وقت آفس سے نکل رہا تھا، یہاں سے اسے اپنی وہ کار لینے جانا تھا، جو اسے اسلام آباد میں استعمال کرنی تھی۔ ممی کا نمبر اسکرین پر جلتا بجھتا دیکھ کر وہ ذرا چونکا۔ شاید ممی نے ذہن بدل لیا تھا، ورنہ وہ اس طرح اچانک کال نہیں کرتی تھیں، ماسواۓ ہنگامی صورتحال کے۔
جی ممی! خیریت؟ اپنے دفتر کی مین بلڈنگ سے دور ہٹ کر سڑک کنارے چلتے وہ ان سے بات کرنے لگا۔
تم آج جا کر ماموں سے مل لو۔
وہی ڈھاک کے تین پات، وہ جی بھر کر بیزار ہوا۔
ممی! کل رات ہم نے کس بات پہ اتفاق کیا تھا، آپ بھول گئیں؟
جہان میری بات سنو! مجھے خدشہ ہے کہ سلیمان بھائی حیا کی شادی کہیں اور نہ کر دیں۔
تو کر دیں! وہ یہ کہہ نہ سکا، گو کہ وہ یہی کہنا چاہتا تھا مگر جب بولا تو آواز میں پتا نہیں کہاں سے خفگی در آئی تھی۔
وہ اس طرح کیسے کر سکتے ہیں کسی اور سے اس کی شادی؟ ہمارا نکاح ہوا تھا، منگنی نہیں، جو وہ اپنی مرضی سے توڑ دیں۔
وہ خلع بھی لے سکتے ہیں اور تم جانتے ہو ایک دو پیشیوں میں فیصلہ ہو جایا کرتا ہے بچپن کے نکاح کا اور اگر انہوں نے ایسا کیا تو اس کے ذمہ دار ہم ہوں گے۔
اور وہ خود کسی چیز کے ذمہ دار نہیں ہیں؟
جہان سکندر میں نے تمہاری پرورش اس منتقم مزاج سوچ کے ساتھ تو نہیں کی تھی۔ انہیں جیسے دکھ ہوا تھا وہ فورا نادم ہوا۔
اچھا، آئیی م سوری! میرا مطلب تھا کہ اگر ہم اس رشتے پر خاموش ہیں تو بات وہ بھی نہیں کرتے۔
وہ بیٹی والے ہو کر کیسے خود سے بات کریں؟ کیسے کہیں کہ ہماری بیٹی کو رخصت کروا کر لے جاؤ؟ ایسے کوئی اپنی بیٹی کو ہلکا نہیں کرتا۔
ہاں، میرے ماموؤں کا غرور اور انا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ادھر ممی کہہ رہی تھیں۔
وہ ہماری طرف سے مایوس ہو چکے ہیں، اسی لیے سلیمان بھائی حیا کے لیے آنے والے رشتوں پہ غور کر رہے ہیں۔ وہ ایک دم بالکل چپ ہو گیا۔
آپ کو کس نے کہا یہ؟ یہ تو طے تھا کہ وہ بلا تحقیق کسی بات پہ یقین نہیں کر سکتا تھا۔
صائمہ بھابھی نے ابھی فون کر کے بتایا ہے۔ ان کے بقول سلیمان بھائی کو ہمارا انتظار بھی نہیں ہے۔ انہوں نے فرقان بھائی سے خود کہا ہے کہ ان کے کسی دوست نے اپنے بیٹے کے لیے حیا کا رشتہ بھجوایا ہے۔ اور آج وہ فرقان بھائی کو اس لڑکے سے ملوائیں گے۔ شاید ان کے کسی بزنس پارٹنر کا بیٹا ہے،
باہر سے پڑھ کر ابھی آیا ہے، فرقان بھائی نہیں ملے، ابھی اس سے۔ 
وہ بالکل خاموشی سے سنتا رہا۔ اسے یہ سب بہت برا لگ رہا تھا۔ کیوں، وہ خود سمجھنے سے قاصر تھا۔
تم آج چلے جاؤ۔ میں اس رشتے کو توڑنا نہیں چاہتی جہان! وہ بے بسی سے کہہ رہی تھیں۔
جب وہ لوگ مجھے بے حد غیر اہم سمجھ کر میرے منتظر ہی نہیں ہیں تو کیا فائدہ جانے کا؟
بھابھی بتا رہی تھیں، حیا ہمارا پوچھ رہی تھی۔ اسے انتظار ہو گا۔
کیوں؟ وہ بے اختیار کہہ اٹھا۔ لڑکیوں کے دل بہت نازک ہوتے ہیں بیٹا! میں کبھی کبھی خود کو اپنی بھتیجی کا مجرم سمجھتی ہوں۔
آپ پریشان نہ ہوں، میں یہ رشتہ نہیں ٹوٹنے دوں گا۔
یعنی تم جا رہے ہو؟ وہ جیسے کھل اٹھیں۔
اب یہ بھی نہیں کہا تھا میں نے۔ بس آپ مجھ پہ بھروسہ رکھیں، میں سب فکس کر لوں گا۔
اور ممی خاموش ہو گئیں ان کو شاید اس کی قابلیت پہ بھروسہ تھا کہ وہ اپنے ارد گرد موجود ہر خراب چیز کو فکس کر لیا کرتا تھا۔ رشتوں اور چیزوں میں فرق ہوتا ہے۔ شاید ممی نے یہ بھی سوچا ہو۔
آج اس کو دیکھتے ہی پھول والے لڑکے کا چہرہ جگمگا اٹھا۔
صاب! آج سرخ گلاب بہت سارے ہیں۔
مگر مجھے سفید ہی چاہئیں۔ اس نے بٹوہ نکالتے ہوۓ دو ٹوک انداز میں سنجیدگی سے کہا۔ لڑکے کا چہرہ جیسے اتر سا گیا، مگر پھر بھی وہ جلدی جلدی سفید گلابوں کو اکٹھے کرنے لگا۔
سفید گلاب بےشک بہت سے لوگوں کے نزدیک دشمنی کی علامت تھے مگر بہت سے اسے امن اور صلح کی نشانی ہی گردانتے تھے۔
وہ آج ان کے گھر کے اندر نہیں گیا، بلکہ ان کے گھر کے مقابل ایک زیر تعمیر بنگلے میں چلا آیا۔
سریے، اینٹیں، آدھی بنی دیواریں، وہ گھر رات کے وقت ویران پڑا تھا۔ مزدور وغیرہ کب کے جا چکے تھے اور اب وہ وہاں اوپری منزل کے کمرے میں بیٹھ کر باآسانی سلیمان ماموں کے گھر کے کھلے گیٹ سے سب دیکھ سکتا تھا۔
مہندی کا فنکشن دونوں گھروں کے قریب ہی ایک کھلے پلاٹ میں شاندار قناتیں لگا کر کیا گیا تھا۔
اسے تقریب میں کوئی دلچسپی نہیں تھی، وہ صرف سلیمان ماموں کے کھلے گیٹ کو دیکھ رہا تھا جہاں بہت سے لوگ آ جا رہے تھے۔ خواتین کی تیاری اور الٹے سیدھے فیشن! وہ روایات اور قدریں جن کا ذکر ممی اکثر کیا کرتی تھیں، وہ اسے اپنے ننھیال کی خواتین میں کہیں نظر نہیں آئی تھیں۔ داور کی بہن تو شاید باقاعدہ اسکارف لیا کرتی تھی مگر وہ بھی اسے سلور لہنگے میں بنا سر ڈھکے ادھر ادھر پھرتی نظر آ رہی تھی۔ پتا نہیں کیوں شادیوں پہ لوگ سب بھلا دیتے ہیں؟ اسے افسوس ہو رہا تھا۔
بہت دیر بعد جہان نے بالآخر اسے دیکھ ہی لیا۔ وہ اپنی ممی کے عقب میں چلتی برآمدے سے اترتی ڈرائیوے تک آ رہی تھی، جہاں سلیمان ماموں ایک فیملی کے ہمراہ کھڑے خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ وہ واقعی بہت خوبصورت تھی۔ سنہرا لہنگا اور ٹیکا اسے مزید حسین بنا رہا تھا مگر وہ اسے پھر بھی ”مرہ جمیلہ“ نہیں لگتی تھی۔ 
******
سلیمان ماموں اب اس کا تعارف ان لوگوں سے کروا رہے تھے جو ان کے ساتھ کھڑے تھے۔ صاحب، خاتون، اور غالبا ان کا بیٹا۔
اس نے اپنے سیل فون میں دور بین کا لینس نکالا اور ان کو فوکس کیا۔ اب وہ ان کے چہرے دیکھ سکتا تھا۔ وہ تینوں مہمان اسے بہت دلچسپی سے دیکھ رہے تھے، بالخصوص ان کا بیٹا۔ اس کی نظریں تو بہت ہی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسے پتا نہیں کیوں پھر سے غصہ آنے لگا اور تب ہی اس نے حیا کے چہرے کی جوت کو ماند پڑتے دیکھا۔ وہ خوش نہیں لگ رہی تھی۔ ذرا سی دیر میں ہی وہ ان کے پاس سے ہٹ آئی۔ گیٹ سے باہر آ کر اس نے انگلی کی نوک سے آنکھ کا کنارا صاف کیا۔
اس نے موبائل کے بٹن کو چند ایک دفعہ دبایا۔ وہ اس کی کوئی تصویر اپنے پاس رکھنا چاہتا تھا۔ وہ ان لوگوں سے مل کر خوش نہیں تھی شاید یہی وہ رشتے والے تھے، جن سے آج سلیمان ماموں نے فرقان ماموں سے ملوانا تھا۔ وہ اس پہ خوش اس لیے نہیں تھی کہ یہ رشتہ اس کے لیے ان چاہا تھا۔
دل کے کسی کونے میں اسے یک گونہ اطمینان سا نصیب ہوا۔ جیسے تسلی سی ملی ہو، جیسے ڈھارس سی بندھ گئی ہو، اب وہ پہلے جتنا نا خوش نہیں تھا۔
وہ بہت دیر ادھر ہی بیٹھا رہا۔ اسے فنکشن دیکھنے کی آرزو نہ تھی، بس وہ اس کی واپسی کے انتظار میں وہیں موجود تھا۔ وہ اسے ایک بار پھر دیکھنا چاہتا تھا۔ کافی دیر گزری ، تب وہ اسے واپس آتی دکھائی دی۔ وہ گھر کے اندر جا رہی تھی۔ کیا اسے اس سے ملنا چاہیئے؟ یا اس کے ترکی آنے کا انتظار کرے؟ وہ یہی سوچ رہا تھا جب اس کا فون بجا۔
اس نے سیل فون کی اسکرین کو دیکھا، پھر بے اختیار چونکا۔ یہ اس کی ترکی والی وہ سم تھی جو پوسٹ پیڈ تھی اور کبھی اس کے اور کبھی ممی کے زیر استعمال رہتی تھی۔ یہ نمبر ماموں کے پاس تھا اور اس میں ماموں کا نمبر محفوظ بھی تھا اور اب اس نمبر سے کال آ رہی تھی۔ ماموں کے گھر سے کال؟ وہ لمحے بھر کو گڑبڑا سا گیا۔
مگر اس نے فون اٹھا لیا چونکہ یہ ترک نمبر تھا اس لیے وہ ایک ہی لمحے میں خود کو ترکی لے گیا۔ ایک پیشہ ور ایجنٹ ہونے کے ناطے اس کو یہ ظاہر نہیں کرنا تھا کہ وہ ترکی سے باہر ہے اور اس کا نمبر رومنگ پہ ہے۔
وہ حیا تھی، ناقابل یقین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور وہ ممی کا پوچھ رہی تھی۔ وہ ان کی منتظر تھی، ممی ٹھیک کہتی تھیں۔ اس سب کے باوجود جب وہ بات کرنے لگا تو اس کا لہجہ خشک ہی تھا۔ وہ اتنی جلدی کسی کے ساتھ نرمی سے یا کھل کر بات نہیں کرتا تھا اور اس کو تو وہ ویسے بھی کوئی امید نہیں دلانا چاہتا تھا۔ پھر بھی، جب بات کے اختتام پہ اس نے حیا کی آواز کو بھیگتے ہوا سنا تو اس کا دل دکھا تھا۔
فون بند کرتے ہی اس نے وہ خط کا لفافہ نکالا جو وہ پھولوں کے ساتھ رکھنے کے لیے لایا تھا۔ ابھی اندر موجود سفید موٹے کاغذ پہ اس نے لکھا نہیں تھا اور اب اس کو معلوم تھا کہ اس کو کیا لکھنا ہے۔
اس لڑکی کے نام جو کبھی کسی ان چاہے رشتے کے بننے کے خوف سے روتی ہے تو کبھی کسی بن چکے ان چاہے رشتے کے ٹوٹنے کے خوف سے۔
یہ آخری بات محض اس کا گمان تھا، مگر کیا پتا وہ صحیح بھی ہو۔ اس نے پی کیپ سر پہ لی اور مفلر گردن کے گرد یوں لپیٹا کہ اگر اب وہ خود کو کوریئر سروس مین کہہ کر گھر کے کسی ملازم کے حوالے وہ پھول کرے تو کل کو دن کی روشنی میں وہ اسے پہچان نہیں پائیں گے۔ پھول اور خط ایک ملازم کے حوالے کر کے وہ واپس چلا آیا۔ وہ صرف حیا کو چونکانا چاہتا تھا اور اسے امید تھی کہ اس کا مقصد پورا ہو جاۓ گا۔
***
داور کی بارات کے روز اس کا قطعا ارادہ نہ تھا کہ وہ آج بھی حیا کے لئے ادھر جائے گا۔ آج ویسے بھی اسے اپنے بہت سے کام تھے۔ سیکنڈ سیکرٹری تک وہ ابھی بھی رسائی حاصل نہیں کر سکا تھا، مگر وہ جانتا تھا کہ یہ کام وقت طلب ہوتے ہیں۔ صبر، انتظار، اور خاموشی، یہ تین چیزیں اس نے اپنی جاسوسی مہمات کے دوران سیکھی تھیں۔ آج بھی اس کا کام نہیں ہو سکا تھا اور وہ واپس گھر جا رہا تھا، مگر صرف آخری منٹ میں اس نے یونہی سرسری سا سلیمان ماموں کے گھر کا جائزہ لینے کا سوچا۔ معلوم نہیں وہ بار بار وہاں کیوں جاتا تھا۔
جب وہ ان کی گلی کے دہانے پہ پہنچا تو اس نے زن سے اپنے سامنے سے گزرتی گاڑی میں حیا کو دیکھا۔ وہ بے اختیار چونکا تھا۔ اس گاڑی میں اسے وہی کل والی فیملی نظر آئی تھی اور وہی بے باک نگاہوں والا فضول انسان گاڑی چلا رہا تھا۔
آخر وہ ان کے ساتھ کیوں جا رہی تھی۔
وہ فارغ تھا، اگر نہ ہوتا تب بھی ان کے پیچھے ضرور جاتا۔ جو بھی تھا، وہ اس کی بیوی تھی اور وہ اس وقت کچھ ایسے لوگوں کے ساتھ تھی، جو اسے پہلی نظر میں ہی اچھے نہیں لگے تھے۔ کل اسے وہ ان سے مل کر ناخوش لگی تھی، مگر آج وہ ان ہی کے ساتھ تھی۔ وہ کل غلط تھا یا آج؟ وہ یہی دیکھنا چاہتا تھا۔ اور جب اس نے میرج ہال کے ایک طرف حیا کو گاڑی سے اتر کر دوبارہ فرنٹ سیٹ پہ بیٹھتے دیکھا تو اسے دھچکا سا لگا تھا۔ وہ کیسے یوں کسی کے ساتھ بیٹھ سکتی تھی؟ کیا وہ ہر ایک کے ساتھ بیٹھ جانے والی لڑکی تھی؟ اسے شدید غصہ آیا تھا۔ ایک تو اس کا لباس، پھر وہ اتنا میک اپ کرتی تھی۔ اتنی نک سک سے تیار ہوتی تھی، اوپر سے رات کا وقت۔ اس کا دل چاہا تھا وہ ابھی اس کو ہاتھ سے پکڑ کر اس آدمی کی کار سے نکال لے اور اگر اس نے وہ عجیب سا حلیہ نہ اپنایا ہوتا تو شاید وہ یہ کر بھی دیتا۔
جب وہ گاڑی سے نکلا تھا تو فرائی پین بھی ساتھ اٹھا لیا جو اپنے اس گیٹ اپ کے ساتھ وہ رکھا کرتا تھا۔ کاملیت اس کے ہر "کور" میں نمایاں ہوتی تھی۔ اور جب اس نے اس نوجوان کے سر کے پچھلے حصے پہ فرائی پان مار کر اسے گرایا تو بھی اس کا غصہ کم نہیں ہوا تھا۔وہ اور کچھ نہیں کر سکتا تھا، کوئی حق نہیں جتا سکتا تھا، مگر اس لڑکی کو گردن سے پکڑ کر میرج ہال کے دروازے تک چھوڑ سکتا تھا۔
اور یہ اس نے کیا۔ اپنے لباس کا وہ گھٹیا سے رنگ کا دوپٹہ بھی اس پہ اچھال دیا مگر جب جانے لگا تو بہت سلگتی نگاہوں سے اسے دیکھتے ہوۓ اگر وہ بولا تو صرف ایک لفظ، جو اس کی زبان پہ آیا تھا۔ "بے حیا"۔
ہاں وہ اسی قابل تھی۔ پچھلے دو روز میں اگر اس کے دل میں کوئی نرم گوشہ جاگا تھا تو اب وہ ختم ہو چکا تھا۔ جیسے کوئی دل سے اتر جاتا ہے، جیسے کسی کے بارے میں انسان شک و شبہہ میں پڑجاتا ہے۔ وہ اس وقت ایسا ہی محسوس کر رہا تھا۔
اب وہ اس سے نہیں ملنا چاہتا تھا اور اگر وہ اسے اسنبول آنے سے روک سکا تو ضرور روکے گا لیکن وہ ان کے گھر نہیں جاۓ گا۔ اس کا فیصلہ آسان ہو گیا تھا۔ ہر مشرقی مرد کی طرح اس کی بھی خواہش تھی کہ اس کی بیوی ہر کسی کی گاڑی میں بیٹھ جانے والی نہ ہو اور آج جو اس نے دیکھا، اس سے نہ صرف وہ بدظن ہوا تھا بلکہ وہ اس لڑکی کے بارے میں شدید شک و شبہے میں پڑ گیا تھا۔
یہ بھی تو ممکن تھا کہ وہ اس لڑکے کو پسند کرتی ہو۔ یہ الگ بات ہے کہ اس کی جرات نے اسے بوکھلا دیا ہو اور وہ فطری ردعمل کے تحت بھاگی ہو، مگر کم از کم ایک بات واضح تھی کہ پسند نا پسند ایک طرف، مگر وہ کسی کو اپنے قریب نہیں آنے دیتی تھی۔ لیکن یہ بھی ہو سکتا ہے اس لڑکے کے والد کے رشتہ بھیجنے میں حیا کی رضا شامل ہو اور اسی لیے وہ جہان یا ممی کی آمد کا پوچھ رہی تھی تا کہ جلد از جلد یہ رشتہ اپنے منطقی انجام تک پہنچ جائے اور وہ اپنی مرضی سے کسی اور سے شادی کر سکے۔
لعنت ہے مجھ پر جو میں نے سلیمان ماموں کی بیٹی اور فرقان ماموں کی بھتیجی سے اچھی امید رکھی۔
دل میں آئے بغض کو ختم کرنے کے لیے اسے بہت سا وقت چاہیے تھا۔ وہ ایسا آدمی نہیں تھا کہ چند گھنٹوں بعد ٹھنڈا ہو کر سوچنے پر دل صاف کر لے۔
اس نے برسوں اس دنیا میں کام کیا تھا، جہاں ہر شخص کے دو سے زیادہ چہرے ہوتے تھے۔ دوسرے انسانوں پر سے اعتبار تو وہ بہت پہلے کھو چکا تھا، اب اپنی بیوی پر سے بھی کھو دیا تھا۔ اچھا ہی ہوا کہ وہ ماموں سے ملنے نہیں گیا۔ امید دلائے بغیر رشتہ ختم کرنا زیادہ بہتر تھا۔ بس چند دن وہ اس لڑکی پہ نظر رکھے گا۔ آخر اسے ممی کو رشتہ توڑنے کے لیے ٹھوس وجوہات بھی تو دینی تھیں۔
ایک دفعہ پھر وہ اپنی سوچ میں ”حیا“ سے ”اس لڑکی“ تک آ گیا تھا۔
***
وہ نوجوان جو اس لڑکی کے ساتھ اس نے بیٹھا دیکھا تھا اور بعد ازاں اسے فرائی پان بھی دے مارا تھا وہ اس کے ذہن سے نہیں نکل پا رہا تھا۔ اگلے کچھ دن وہ بہت مصروف رہا اور اسے اپنے ماموؤں کے گھر کے پاس سے بھی گزرنے کا وقت نہ ملا مگر شک کا جو کھٹکا دل میں پر گیا تھا، اس کی تصدیق کے لیے اس نے حیا کے ای میل ایڈریس پہ ”کلون“ لگا دیا تھا (اس کا ای میل ایڈریس ممی نے روحیل سے لے کر دیا تھا اسے) اس کلون ہیکر کے باعث اب اس ای میل ایڈریس میں جیسے ہی کوئی ای میل آتی یا جاتی تو اگلے ہی سیکنڈ وہ اسے اپنے فون پر موصول ہو جاتی۔ وہ اس لڑکے کا نام نہیں جانتا تھا اور نہ اتنا وقت تھا کہ اس کے بارے میں معلومات حاصل کرتا پھرے۔ اسے بس یہی معلوم کرنا تھا کہ اس کی منکوحہ کسی اور کے ساتھ وابستہ تو نہیں۔ اگر ہے تو کوئی ٹھوس چیز اس کے ہاتھ لگ جائے پھر وہ ممی کو راضی کر لے گا۔ ابھی تک اسے کوئی خاطر خواہ کامیابی نہیں ملی تھی، مگر اس کا تذبذب بہرحال ختم نہیں ہوا تھا۔
داور کی شادی کو آٹھ، نو دن گزر چکے تھے۔ اس سہ پہر جب وہ اپنے اپارٹمنٹ کا لاک کھول رہا تھا، اس کا موبائل بجا۔ دروازہ احتیاط سے تھوڑا سا کھول کر اندر داخل ہوتے ہوئے اس نے آنے والا پیغام کھولا۔ وہ حیا کی ایک ای میل کی کاپی تھی، جو اس نے ابھی ابھی بھیجی تھی۔ دروازہ دوبارہ اندر سے لاک کرتے ہوئے جہان نے موبائل کی اسکرین پر چمکتا پیغام پڑھا۔ 
نیشنل رسپانس سنٹر فار سائبر کرائم، اس نے اچنبھے سے ایڈریس کو دیکھا جس کو ای میل بھیجی گئی تھی، اس کو کیا ضرورت پڑ گئی سائبر کرائم کو ای میل کرنے کی؟ 
میل میں ایک ویب سائٹ پر کسی ویڈیو کا پتا لکھا تھا اور ساتھ میں ایک مختصر سی شکایت درج تھی، جس کے مطابق اس کے کزن کی مہندی کی تقریب جو کہ چند دن پہلے منعقد ہوئی تھی، کی کوئی فیملی ویڈیو انٹر نیٹ پر ڈال دی گئی تھی۔ وہ اس کے خلاف پرائیویسی ایکٹ کے تحت شکایت کر رہی تھی کہ اسے فوری طور پر ہٹایا جائے۔
جہان نے ویڈیو کے پتے کو چھوا، مگر بہت بھاری ہونے یا نیٹ کی رفتار سست ہونے کے باعث کھل نہ سکی۔ 
خیر ویڈیو وہ بعد میں دیکھ لے گا، ابھی اسے اس کی مدد کرنی چاہئیے۔ یہ تو طے تھا کہ جس سائبر کرائم سیل سے اس نے رجوع کیا تھا، وہ ایک غیر فوجی ایجنسی کا سیل تھا اور وہ میل کا جواب تین چار دن بعد دیا کرتے تھے اور ان کا طریقہ کار ذرا پچیدہ تھا۔ پہلے وہ شکایتی فارم بھیجتے، جو ایف آئی آر کے مترادف ہوتا پھر ایک بیان لینے کے لیے ایجنسی کے تھانے ضرور بلایا کرتے تھے۔ اب یہ خاندانی لڑکیاں کہاں تھانے کچہری کے چکر کاٹیں گی، اس لئے اسے کچھ کرنا چاہئیے۔ اس سے لاکھ گلے شکوے ہونے کے باوجود وہ اس کی مدد کرنا چاہتا تھا۔
ممی سے اس نے حیا کا موبائل نمبر بھی ای میل ایڈریس کے ساتھ ہی لیا تھا۔ (ممی کا حیا سے کوئی خاص رابطہ تو نہیں تھا، بس ایک بار فاطمہ مامی نےحیا کے نمبر سے کال کی تھی تو نمبر آ گیا۔) اس نے چند لمحے سوچا پھر اپنے لینڈ لائن سے اس کا موبائل نمبر ڈائل کیا۔ یہ سرکاری فون تھا، اس کا نمبر کسی سی ایل آئی پہ نہیں آتا تھا۔ بس ”پرائیویٹ نمبر“ لکھا آتا تھا۔
آواز بدلنا کبھی بھی اس کے لئے مسئلہ نہیں رہا تھا۔ ان کو اس چیز کی بہت اچھی تربیت دی جاتی تھی، مگر صرف آواز بدلنے میں غلطی کا یا پکڑے جانے کا احتمال کافی زیادہ تھا۔ اس لیے اس نے voice changing application بھی آن کر دی۔ یہ خود کار نظام اس کے لبوں سے نکلے ہر لفظ کو سیکنڈ کے دسویں حصے بعد حیا کی سماعت تک ایک مختلف مردانہ آواز میں پہنچاتا تھا۔
جب وہ اس سے مخاطب ہوا تو اس کی آواز بہت دھیمی تھی۔ خوبصورت، مگر مدھم سا گھمبیر پن لیے۔ صوفے پہ نیم دراز ہوۓ، وہ بہت اطمینان سے ایسی باتیں کر رہا تھا، جو اس لڑکی کو چونکانے کے لیے کافی تھیں۔ وڈیو ہٹانے کا وعدہ لے کر اس نے وہی بات کہی جو سائبر کرائم والے بھی لازما کہتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہمارے آفس آ کر باقاعدہ رپورٹ کریں۔ اس بات پہ وہ باقاعدہ سٹپٹا گئی اور پھر جلدی سے فون بند کر دیا۔ جہان نے قدرے اچنھبے سے ریسیور کو دیکھا۔ وہ اتنی گھبرائی ہوئی کیوں لگ رہی تھی؟ شاید مسئلہ سنگین تھا۔ اسے وہ ویڈیو دیکھ لینی چاہیے۔
قریبا دس منٹ بعد وہ اس ویڈیو کو اپنے لیپ ٹاپ پہ کھول رہا تھا۔ جیسے ہی صفحہ لوڈ ہوا اور اوپر ویڈیو کا نام جگمگایا، وہ ایک دم چونک کر سیدھا ہوا۔ جیسے جیسے ویڈیو چلتی جا رہی تھی، اس کے چہرے کے تاثرات سخت ہوتے گئے۔ پیشانی کی رگیں تن گئیں اور آنکھوں میں شدید غصہ در آیا۔
یہ تھا اس کے ماموؤں کا عزت دار خاندان؟ فرقان ماموں اور سلیمان ماموں کی عزت و عصمت والی بیٹیاں؟ وہ مکمل طور پر زنانہ فنکشن نہیں تھا۔ اسے پیچھے پس منظر میں ویٹرز اور ڈی جے بھی نظر آ رہے تھے۔ وہ بھی تو مرد ہی تھے۔ ان سے کوئی پردہ نہیں؟ کوئی شرم لحاظ نہیں؟ کیسے لوگ تھے یہ؟ کیا ہو گیا تھا پاکستان کو؟
دکھ، طیش، است عجاب۔ ایک دم وہ بہت اپ سیٹ ہو گیا تھا۔ بے حد غصے سے اس نے لیپ ٹاپ بند کیا اور اٹھ کر کمرے میں بے چینی سے ٹہلنے لگا۔ جیل میں گزرے وہ ایک ماہ دس دن اس کے اندر بہت تلخی بھر گئے تھے اور گو کہ وہ اس تلخی کو دبا گیا تھا، مگر ختم نہیں کر پایا تھا اور دبانے اور ختم کرنے میں خلیج بھر فرق ہوتا ہے۔
اسے اتنا غصہ تو اس لڑکی کو اس گاڑی میں بیٹھتے دیکھ کر نہیں آیا تھا جتنا اس واہیات ویڈیو کو دیکھ کر آ رہا تھا۔ یہ لڑکی اس جیسے آدمی کے ساتھ تو کبھی خوش نہیں رہ سکتی تھی۔ وہ یہ نہیں کہ رہا تھا کہ وہ بہت باکردار اور اچھا تھا۔ بس وہ دونوں دو مختلف طریقوں سے پروان چڑھنے والے دو مختلف انسان تھے۔ دریا کے دو کنارے اور اب تو ممی کی خوشی کے لیے بھی اس لڑکی سے باقاعدہ شادی نہیں کرنا چاہتا تھا۔
اسے پچھتاوا ہوا کہ اس نے ”میجر احمد“ یعنی اپنا نام کیوں بتایا۔ بہرحال وہ اس غلطی کو کور کر لے گا۔ 
وہ اسے معلوم نہیں ہونے دے گا کہ وہی میجر احمد ہے۔ یہ بعد کی بات تھی۔ ابھی مسئلہ اس کے اسکالرشپ کا تھا۔ جب یہ طے تھا کہ وہ اس کے ساتھ رشتہ نہیں رکھنا چاہتا، تو پھر وہ کیوں اگلے پانچ ماہ استنبول میں اس کیے لیے ہلکان ہو؟ ممی کا خیال تھا کہ وہ آئے گی تو ان کہ پاس رہے گی۔ اس صورت میں تو اور مسئلہ ہو گا کہ وہ استنبول میں دو شناختوں کے ساتھ رہ رہا تھا۔ کبھی جہانگیر میں رہنا پڑتا تو کبھی بیوک ادا میں۔ اگر وہ دو دن بھی اس کے گھر رہی تو جان جائے گی کہ اس کی سرگرمیاں مشکوک ہیں۔ ایسے میں اس کے لیے خود کو چھپا کر رکھنا مشکل ہو جاۓ گا اور اب جب کہ اسے زندگی میں شامل نہیں کرنا تو پھر رازوں میں بھی نہیں شریک کرنا۔
وہ بار بار یہی بات سوچے جا رہا تھا۔
***
ان کے ہاں کام کرنے کہ دو طریقے بتاۓ جاتے تھے۔ بالواسطہ اور بلا واسطہ۔ بلاواسطہ طریقہ وہ عموما پہلے استعمال کرتا تھا، اگر وہ ناکام ہو جاۓ، تو پھر باواسطہ طریقہ چنا جاتا۔
فی الحال وہ یہی چاہتا تھا کہ کسی طرح وہ لڑکی ترکی نہ آئے۔ اس کی وجہ اس نے اپنے آپ کو یہی بتائی کہ وہ یہ صرف اور صرف اپنی دوسری زندگی میں کوئی گڑبڑ ہونے سے بچانے کے لیے کر رہا ہے۔ وہ آۓ گی، اور پھر وہ اس سے ملے گی، اس سے امیدیں وابستہ کر لے گی یا شاید وہ طلاق لینا چاہے، اس صورت میں ممی ہرٹ ہو گی، اف۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان سارے مسئلوں سے بچنے کا ایک ہی طریقہ تھا۔ کچھ ایسا ہو جائے جس سے وہ رک جائے اور استبول جانے کا پروگرام منسوخ کر دے۔
حماد آج کل آفیشل کام میں اس کی مدد کروا رہا تھا۔ وہ اپنے ایکسیڈنٹ کے بعد لمبی چھٹی پہ تھا، اس لیے بآسانی اس کے ساتھ کام کر سکتا تھا۔ اس نے حماد سے مدد لینے کا سوچا۔
دیکھو! میں صرف تمہاری تسلی کے لیے تمہاری مدد کرنے کو تیار ہوں، ورنہ میرا ذاتی خیال ہے کہ وہ ترکی پڑھنے جا رہی ہے، تمہاری نگرانی کرنے نہیں۔ اس کع کبھی بھی تمہاری سرگرمیں پہ شک نہیں ہو گا۔ تم ہر چیز ٹھیک سے سنبھالنا جانتے ہو۔
اصل بات یہ ہے کہ تم وہاں اسے اپنے قریب نہیں دیکھنا چاہتے، تمہیں ڈر ہے کہ کہیں تم اس سے محبت نہ کرنے لگ جاؤ اور اس صورت میں تمہیں اپنے ماموؤں کے سامنے ہارنا پڑے گا۔ تمہارا دل اس رشتے کو رکھنے پر راضی ہے، مگر دماغ جو آج بھی اپنے ماموؤں سے انتقام لینے کا خوائش مند ہے، خائف ہے کہ کہیں دل کے جزبات انا پہ حاوی نہ ہو جائیں۔ پھر بھی میں جو کر سکا، کروں گا۔
حماد نے بہت اطمینان سے کہا تھا۔ جہان خفگی سے سر جھٹک کر رہ گیا، جیسے اسے سچ سن کر برا لگا ہو۔
بہرحال، وجہ جو بھی ہو، وہ پاکستان سے روانگی سے قبل اس درد سر سے چھٹکارہ چاہتا تھا۔ دوسری طرف اس نے وہ ویڈیو انٹرنیٹ پہ ڈالنے والے کو بھی ٹریس کر لیا تھا۔ وہ وہی مووی میکر تھا جو مہندی کی تقریب کی ویڈیو بنانے وہاں گیا تھا اور وہاں یہ کام اس نے اپنے موبائل کے کیمرے کے ذریعے ایک ویٹر سے لیا تھا۔ اس نے اپنی ایجنسی کے سائبر کرائم سیل والوں کے حوالے اس آدمی ک کر دیا تھا۔ اور اس نے جس جس کو وہ ویڈیو دی تھی، وہ بھی نکلوا لی تھی۔ پھر بھی، اگر انٹرنیٹ پر سے کسی نے اسے اپنے کمپیوٹر میں سیو کر لیا ہو تو اس کا کوئی ریکارڈ نہیں تھا۔ کہیں نہ کہیں تو وہ ویڈیو ضرور ہو گی۔ ساری دنیا سے تو وہ نکلوا نہیں سکتا تھا۔ بہرحال اس نے اس مووی میکر کے اکاؤنٹ کو اپنی دسترس میں لے لیا تھا۔ ویڈیو اس نے ہٹائی نہیں کہ ہٹانے کہ صورت میں وہ لڑکی کبھی اس سے ملنے نہ آتی۔ مگر اس کا صفحہ بلاک ضرور کر دیا، یوں کہ اس کے ماموں کے گھر کے سیکٹر کے علاوہ وہ ملک میں کہیں بھی دیکھی نہیں جا سکتی تھی۔ اسے پورا یقین تھا کہ اپنی ویڈیو ہٹوانے کے لیے وہ اس کے پاس ضرور آئے گی۔
اگلے روز اس کو حماد کے ساتھ چار پانچ گھنٹے سڑک پہ میڈم سیکنڈ سیکرٹری کے انتظار میں گزارنے تھے۔ وہ ایک ایسی مرکزی شاہراہ تھی جہاں ہر پل رش ہوتا تھا۔ اسے موہوم سی امید تھی کہ شاید وہ بھی یہاں سے گزرے۔ وہ عموما ہر وقت باہر ہی نکلی ہوتی تھی۔ وہ گھر میں بیٹھنے والی لڑکیوں میں سے نہیں تھی۔
اس سڑک پر تو نہیں مگر قریب کی ایک ذیلی سڑک پر وہ ٹریفک جام میں ضرور پھنسی ہوئی تھی۔ جہان اور حماد کا کام آج بھی نہیں ہو سکا تھا سو اس نے سوچا، وہ یہ دوسرا کام نپٹا ہی دے۔ پاکستان میں اس نے عورتوں کو اگر کسی شے سے بہت ڈرتے دیکھا تھا تو وہ خواجہ سرا کی بد دعا تھی، بالخصوص سفر سے پہلے اگر کوئی خواجہ سرا بد دعا دے دے تو اس بد شگونی کے بعد لوگ سفر ترک کر دیا کرتے تھے۔ وہ اس وقت بددعا کے اس اصل کو بھول جایا کرتے تھے کہ بددعا چاہے نیک آدمی دے، یا فاسق، چاہے معذور شخص دے یا صحت مند، وہ تب تک آپ کو نہیں لگ سکتی، جب تک آپ اس کے اہل نہ ہوں اور اگر آپ اس کے اہل نہ ہوں تو وہ دینے والے پہ پلٹ آتی ہے مگر اسے امید تھی کہ اس کی بیوی بھی ان ہی ضعیف العقیدہ لوگوں سے ہی ہو گی جو خواجہ سرا کی بددعا سے ڈرتے تھے۔
وہ صرف پانچ منٹ اس کام کے لیے نکال سکتا تھا، اسے واپس جا کر رپورٹ کرنی تھی۔ مگر جب ان دونوں نے اسے متوجہ کیا تو وہ ایک دم سے اتنے غصہ میں آ گئی کہ ان کی کوئی بات سنی ہی نہیں۔ حماد تو جانے کون سی باتیں لے کر بیٹھ گیا۔ مگر وہ کچھ سننے پہ تیار نہ تھی۔ اس نے جیسے بھلا دیا تھا کہ ڈولی نے اس پر کوئی احسان کیا تھا۔ وہ کوئی بات سننے پر تیار ہی نہ تھی، بلکہ مسلسل اسے ہٹنے اور جانے کا کہہ رہی تھی۔ یہاں تک ہوتا تو ٹھیک تھا، مگر وہی اس لڑکی کی ایک دم ری ایکٹ کر دینے کی عادت۔
اس نے حماد کی انگلیاں شیشے میں دے دیں۔

جاری ھے

No comments:

غازی از ابو شجاع ابو وقار قسط نمبر60 Ghazi by Abu Shuja Abu Waqar

Ghazi  by  Abu Shuja Abu Waqar  غازی از ابو شجاع ابو وقار  پیشکش محمد ابراہیم 60 آخری قسط نمبر  Ghazi by Abu Shuja Abu...

Powered by Blogger.