Ads Top

میرے_ہم_نفس_مـرے_ہـمنوا از فریحہ_چـودھـــری قسط 13


میـرے_ہـم_نفس_میـرے_ہمنوا

فریحہ_چـودھـری ✍


#میـرے_ہـم_نفس_میـرے_ہمنوا
#فریحہ_چـودھـری ✍
#قسط_13
وہ کھڑکی سے باہر لان دیکھ رہ تھی ذہن جہانگیر کی باتوں میں اٹکا ہوا تھا 
"گڑیا مجھے غلط مت سمجھنا میں تمہاری شادی ایسے ہرگز نہیں کرناچاہتا تھا لیکن حیات صاحب کی بات بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی مغیث بہت اچھا لڑکا ہے اس کی پہلی شادی جیسے ہوئی علیحدگی کی کیا وجہ بنی تم ان سب باتوں میں پڑ کر خود کو مت الجھانا وہ میرا دوست ہے اور مجھے بہت پیارا ہے شاید اسی لیے کہ اسے میری پیاری سی بہن کا نصیب بننا تھا "وہ اسے بڑوں کی طرح سمجھا رہا تھا اور وہ سر جھکاۓ سن رہی تھی اس کی شادی کا سن کر حرب کو شاک ضرور پہنچا تھا مگر جہانگیر کی باتوں پر مطمئن ہو گئی "اس کا ایک بیٹا ہے کیوٹ سا کبھی ذیادتی مت کرنا اس کے ساتھ سمجھ رہی ہو نا "جیانگیر نے اسے ساتھ لگا کر پوچھا 
" آپ بے فکر رہیں بھائی میں پوری کوشش کروں گی "اسے اپنے بھائی کا مان رکھنا تھا وہ اپنے بھائی کا سر نہیں جھکا سکتی تھی اگر وہ اپنی ماں کے لیے ایک جواری سے شادی کر سکتی تھی تو یہ تو پھر ایک معمولی سی بات تھی وہ انہی سوچوں میں گم تھی جب دھماکے سے دروازہ کھولا اور جازم سرخ چہرہ لیے اندر آیا 
"کیا ہوا منہ کیوں پھولا ہے ؟؟"حرب نے مسکرا کر اس کا گال کھینچا 
"بھیا کہاں ہیں ؟؟ میں نے کتنا کہا تھا انہیں رات کی پارٹی کے لیےمگر وہ نہیں آۓ میں بالکل بات نہیں کروں گا ان سے بتا دینا انہیں "اس نے منہ مزید پھولا کر کہا 
"کوئی ضروری کام ہو گا انہیں "حرب نے نرمی سے سمجھایا 
"اور وہ آپ کی دوست لس طرح بھاگی میں کھا جاتا اسے "اب اس نے غوزہ کو کوسنا شروع کیا 
"تمہں میں نے پہلے کہا تھا کوئی ایسی حرکت مت کرنا اس کے ساتھ مگر تم باز نہیں آۓ"جواباً وہ اسنے ناراضگی دکھا ئی 
" کیا کیا میں نے ؟؟سونگ ہی تو سنایا تھا "وہ کندھے اچکا کر کہتا بیڈ پر ڈھیر ہو گیا 
"جازم تمہاری عمر ابھی ان کاموں کی نہیں ہے "
"کونسے کاموں کی ؟؟" اس نے سر اٹھا کر حیرت سے پوچھا 
"لڑکیوں کے چکر میں پڑنے کی.... حیرت ہے تمہیں بھائی بھی نہیں روکتے "حرب سنجیدہ تھی 
"کیونکہ وہ آپ جیسے نہیں ہیں بہت پیار کرتے ہیں مجھ سے.... مگر آج میں ان سے بالکل بات نہیں کروں گا آپ کال کر کے انہیں بتائیں "
"تم خود کہہ لو "حرب نے تکیہ اٹھا کر اس کے سر پر مارا اور خود واش روم میں گھس گئی 
"ہاں ہاں کہہ لوں گا میں ...کسی کام کی امید مت رکھیے گا مجھ سے بھی "اس نے اونچی آواز میں ہانک لگائی اور تن قن کرتا کمرے سے نکل گیا اب اس کا رخ بی جان کے کمرے کی طرف تھا 
☆☆☆☆☆☆☆
غوزہ لاوٴنج میں ہی بیٹھی تھی پاس ہی اس کا فون بج رہا تھا اس نے ایک نظر موبائل کو دیکھا حرب کی کال تھی اس نے بےزاری سے کاٹ کر موبائل بند کر دیا دودن سے حرب اسے کال کر رہی تھی مگر وہ دیکھ کر بھی نظرانداز کر دیتی اب بھی یہی کیا گیا دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑے فہد نے اس کی ساری کاروائی ملاحظہ کی تھی ایک طنزیہ مسکراہٹ اس کے ہونٹوں کو چھو گئی وہ دھیرے دھیرے چلتا اس تک آیا 
"کس کی کال ہے ؟؟"اس کے پوچھنے پر وہ اچھل کر کھڑی ہوئی فہد پر نظر پڑتے ہی اس کے چہرے ہر ناگواری در آئی 
"جس کی بھی تھی تمہیں اس سے مطلب "کاٹ دار لہجے میں کہتی وہ آگے بڑھنےلگی جب فہد نے اس کی کلائی تھام لی وہ کرنٹ کھا کر پلٹی 
"مجھے ہی تو مطلب ہے اس سے کہ میں اپنی ہونے والی شریک حیات پر نظر رکھوں اس کے روزوشب کے بارے میں آگاہ رہوں "آنکھ دبا کر کہتا وہ اسے مزید مشتعل کر گیا اس نے جھٹکے سے اپنی کلائی چھڑوائی
"میں لعنت بھیجتی ہوں تم پر تم جیسے بدکردار انسان سے شادی سے بہتر ہے میں خودکشی کر لوں "اس کے سخت الفاظ پر فہد کے چہرے کا رنگ بدلا 
"بکواس بند کرو اپنی.... کبھی اپنی شکل دیکھی ہے تم نے آئینہ میں.... کون کرے گا تم سے شادی ....کالی چڑیل... میرا ہی حوصلہ ہے جو حامی بھر رہا ہوں ورنہ کوئی تھوکنا بھی پسند نہ کرے تم پر"حسب معمول اس کی گہری سانولی رنگت پر چوٹ کی گئی تھی اس سے کوئی جواب نہ بن پڑا آنکھوں میں اترتی دھند کو پیچھے دھکیلتی وہ اپنے کمرے کی طرف بھاگی فہد کے استہزائیہ قہقہے اسے اپنا تمسخر اڑاتے محسوس ہوۓ
☆☆☆☆☆☆
اسے ہوش آیا تو وہ زمین پر پڑی تھی اس نے آنکھیں کھول کر ادھر ادھر دیکھا تو کچھ سمجھ نہ آیاـکمرے میں گھپ اندھیرا تھا وہ کہاں تھی اس نے یاد کرنے کی کوشش کی زہن پر زور ڈالنے کے باوجود اسے کچھ یاد نہ آرہا تھا تبھی دروازہ کھول کر کوئی اندر آیا ایک دم ہی لائٹ آن ہو گئی اس نے آنکھوں پر ہاتھ رکھ تیز روشنی سے بچنا چاہا کمرہ چھوٹا اور خالی تھا اس کے سامنے ایک لمبا چوڑا شخص کھڑا تھا بلیک جینز بلیک شرٹ پر بلیک ماسک پہنے اس کا دل یکدم ہی انجانے خوف سے بھر گیا 
"اٹھو باس نے بلایا ہے "اس نے کرختگی سے کہہ کر اس کا بازو تھاما اور گھسیٹتا ہوا باہر لے گیا ☆☆☆☆☆☆☆
شام ہو چکی تھی جب حرب اور بی جان شاپنگ کر کے گھر پہنچے جازم لاوٴنج میں ہی بیٹھا تھاـمنہ لٹکا ہوا تھا 
"کیا ہوا ؟؟"حرب نے تھکے انداز میں اس کے پاس صوفے پر بیٹھتے ہوئے پوچھا وہ اس کو جواب دینے کی بجائے بی جان کی طرف مڑا 
" بی جان بھیا کہاں ہیں ؟؟"لہجہ خفا خفا سا تھا 
"کسی ضروری کام سے مری گیا ہے کیوں کیا ہوا ہے پیسے چاہیئں "ان کے پوچھنے پر اس نے نفی میں سر ہلایا 
" مجھے ان سے بات کرنی ہے تین دن سے گھر نہیں آۓ نمبر بھی آف ہے "
"ہاں کہہ رہا تھا وہ شادی کے دن ہی آۓ گا پتا نہیں کن کاموں میں الجھا رہتا ہے مجھے تو کچھ سمجھ نہیں آتی اس کی "بی جان اب اس کو دوسری باتوں میں الجھا کر دھیان بٹا چکی تھیں حرب نے محبت سے اپنے اس لاپرواہ بھائی کو دیکھا جہانگیر اور جازم میں اسے کوئی مماثلت نظر نہ آئی جازم کی آنکھیں نیلی جبکہ جہانگیر کی گہری شہد رنگ تھیں " دیکھا جاۓ تو اس دنیا میں تمہارے علاوہ میرا کوئی اپنا نہیں " اسے جہانگیر کی بات یاد آئی جانے یہ کیسی الجھن تھی جسے وہ جتنا سلجھانے کی کوشش کرتی وہ اتنا ہی الجھتی چلی جاتی 
☆☆☆☆☆☆
"بھابھی یہ فابی کتنے سال کا ہو گیا ہے ؟؟"وہ دونوں اس وقت لان میں بیٹھیں تھیں جب ماہی نے ندرت سے پوچھا 
"20کا ہونے والا ہے کیوں ؟؟"ندرت کے بتانے پر ماہی نے ہنکارا بھرا 
"ہوں ـ ـ ـ آپ نے اس کی شادی کا کیا سوچا ؟؟"
"لو بھئی شادی کا کیا سوچنا ابھی تو بچہ ہے وہ "انہوں نے حیرانی سے پوچھا 
"میرا مطلب کوئی لڑکی تو آپ کی نظر میں ہو گی؟؟"ان کے پوچھنے پر ندرت نے نفی میں سر ہلایا 
"نہیں ابھی تو اس بارے میں نہیں سوچا تم کیوں پوچھ رہی ہو ؟؟"
"دیکھیں بھابھی گھر والوں کا رویہ تو آپ کے سامنے ہے کیسے انہوں نے میری بچیوں پر پرائی بچیوں کو ترجیح دی ہے آپ سے تو میرا دہرا رشتہ ہے آپ سے نہیں کہوں گی تو کس سے کہوں گی "ماہی بیگم نے لیجے کو دکھی کیا 
"ہاں میں سمجھ سکتی ہوں تم دل چھوٹا نہ کرو میں فابی سے بات کروں گی شادی نہ سہی منگنی ہی سہی "وہ شاید اس کے دل کی بات پا گئیں تھیں "ادینہ میں بھلا کس چیز کی کمی ہے پڑھ رہی ہے خوبصورت ہے اور سب سے بڑھ کر میرےبھائی کی بیٹی ہے اور ایک وہ سمعیہ کی بھانجی ہے عام سی شکل و صورت والی مٹرک پاس بس زبان کی میٹھی ہے تین سال ہونے والے شادی کو کوئی خوشی نہیں دی اسنے گھر کو "انہوں نے ریجا اور ادینہ کا موازنہ کیا "تم بس دیکھتی جاؤ ہوتا کیا ہے ہماری ضد میں جس کو لے کر آرہے ہیں نا جانے کیسی ہو گی دو دن نہیں ٹکے گی گھر میں "حرب کے ذکر پر ماہی بیگم کو مغیث کی گمشدگی کا واقعہ یاد آگیا جو اب وہ مرچ مصالحہ لگا کر ندرت کو سنارہی تھیں 
☆☆☆☆☆☆
وہ اسے لے کر ایک بڑ ے سے کمرے میں آگیا جہاں اور بھی لوگ موجود تھے سواۓ ایک میز اور ایک کرسی کہ یہ کمرہ بھی خالی تھا کرسی پر ایک شخص براجمان تھا اس کا حلیہ بھی پہلے شخص جیسا ہی تھا بلیک جینز بلیک شرٹ بلیک ماسک ایک قطار میں چار لوگ بیٹھے تھےجن کے ہاتھ پیچھے کو بندھے تھے وہ شخص اسے لے کر ان تک پہنچا 
"باس" اس نے کرسی پر بیٹھے شخص کو مخاطب کیا باس نے اثبات میں گردن ہلائی وہ پھٹی پھٹی نگاہوں سے ہر شے کو دیکھ رہی تھی جب اسے زور کا دھکا دیا گیا اور وہ باس کے قدموں میں گر گئی 
"ک ـ ـ کون ہو تم "خوف سے اس کی زبان لڑکھڑا گئی 
"تمہاری موت "باس نے اس کی آنکھوں میں جھانک کر درشت لہجے میں کہا وہ پیچھے کو سرکی اسے باس کی آنکھوں سے خوف محسوس ہوا اس کا سفید پڑتا چہرہ دیکھ کر وہ بے تحاشہ ہسنے لگا یہاں تک کہ اس کی آنکھوں میں پانی آگیا 
"مجھے کیوں لاۓ ہو یہاں ؟
"بتاتا ہوں اتنی بھی جلدی کیا ہے ؟؟"اس نے رخ باقی لوگوں کی طرف کیا وہ ابھی انہیں دیکھنے لگی وہ چاروں ادھیڑ عمر مرد تھے چہرے پر خوف رقم تھا 
" نام بتاؤ سب اپنے "کرختگی سے کہہ کر اس نے پاؤں میز پر رکھ لیے وہ سب جلدی جلدی نام بتانے لگے 
"کس گاؤں کے ہو ؟؟"اگلا سوال کیا گیا 
"شان پور "ایک کے بتانے پر وہ یکدم اٹھاـاور کھینچ کر تھپڑ اس کے منہ پر مارا 
"جھوٹ بولتے ہو تم صحیح بتاؤ "
"ش شاہ پور "ـاس کے بتانے پر وہ ہسنے لگا
*#جاری_ہے*

No comments:

غازی از ابو شجاع ابو وقار قسط نمبر60 Ghazi by Abu Shuja Abu Waqar

Ghazi  by  Abu Shuja Abu Waqar  غازی از ابو شجاع ابو وقار  پیشکش محمد ابراہیم 60 آخری قسط نمبر  Ghazi by Abu Shuja Abu...

Powered by Blogger.