Ads Top

Bhagora By Riaz Aqib Kohler Episode No. 31 ||بھگوڑا مصنف ریاض عاقبکوہلر قسط نمبر 31


Bhagora
By
Riaz Aqib Kohler
بھگوڑا
 مصنف
ریاض عاقب کوہلر
 Bhagora By Riaz Aqib Kohler بھگوڑا  مصنف ریاض عاقب کوہلر


قسط نمبر31
 بھگوڑا
ریاض عاقب کوہلر
 اس کے جانے کے بعد امجد کا فی دیر میرا سر کھاتا رہا اور جب تک اس نے خان چچا سے ہونے والی ساری گفتگو حرف بہ حرف نہ سن لی میری جان نہ چھوڑی۔سب کچھ سن لینے کے بعد اس نے موجودہ حالات کے متعلق ایک دو الٹے سیدھے تبصرے کیے اور کروٹ بدل کر سو گیا۔ نیند میری آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔ ماضی ، حال اور مستقبل کے گورکھ دھندے میں مَیں عجیب انداز میں پھنسا ہوا تھا۔ میرا جسم حال میں تھا تو دل ماضی میں اور دماغ مستقبل کے گھور اندھیروں میں ٹامک ٹوئیاں مار رہا تھا۔ میرے پیارے ماضی میں رہ گئے تھے ان سے ملنے کی نہ تو امید تھی اور نہ امکان ہی مگر وہ بھلائے نہیں بھولتے تھے۔ مستقبل میں میری زندگی کی سب سے بڑی خواہش سب سے بڑا مقصد اور سب سے بڑی خوشی چودھری اکبر کو عبرت ناک انجام سے دو چار کرنا تھا۔ شاید اس کے بعد میں خود بھی زندہ نہ رہ پاتا۔ جمیلہ باجی اور چچا فاضل کے علاوہ میرا کوئی اپنا نہیں بچا تھا۔ امجد نے میرے لیے بہت زیادہ قربانیاں دی تھیں اور حقیقی معنوںمیں میرے سگے بھائیوں کی مانند ثابت ہوا تھا۔ مگر اس کی محبتوں میں مجھے حاکم جان، محمد جان اور احمد جان بھول نہیں سکتے تھے۔ سعدیہ کا نعم البدل ملنا بڑا مشکل تھا۔ شیتل ایک ایسی لڑکی تھی جو شاید اس خلا کو تھوڑا بہت پُر کر سکتی مگر میری جانب سے مسلسل بے اعتنائی شاید اسے بھی کوئی دوسرا ساتھی ڈھونڈنے پر مجبور کر دیتی بلکہ ہو سکتا تھا اب تک اس نے ڈھونڈ بھی لیا ہو۔میرے ذہن میں شیتل سے سنی ہوئی نظم گونجی....

تمھیں بھی تو خبر ہو گی کہ
دریا پاس بہتے ہوں تو پانی اچھا لگتا ہے. کناروں سے جڑی مٹی سے پوچھو روگ چاہت کے کہ اس پانی کی چاہت میںکناروں سے اکھڑکر
اجنبی دیسوں میں جانا کتنا مشکل ہے
کنارہ پھر نہیں ملتا
تمھیں بس اتنا کہنا ہے
یہاں جو بھی بچھڑ جائے
دوبار ہ پھر نہیں ملتا....
”ٹھیک کہتی تھی وہ بچھڑنے والے دوبارہ نہیں ملتے۔“ میرے دماغ میں تلخ سوچ گونجی۔ نمکین قطرے میرے آنکھوں سے نکل کر کانوں کو بھگوتے ہوئے تکئے میں جذب ہونے لگے یادِ ماضی عذاب ہے یا رب
چھین لے مجھ سے حافظہ میرا
میں نے زیر لب بددعا نما دعا مانگی اور اپنی سوچوں کے دھارے کو ماضی سے ہٹا کر چودھری اکبر کے خلاف محاذ آرائی کے طریقے ترتیب دینے پر مائل کرنے لگا۔ یہ واحد موضوع تھا جس کے متعلق سوچتے ہوئے دوسرے غم ذہن سے محوہو جاتے تھے۔ یہ تدبیر کامیاب رہی اوریہ کچھ سوچتے سوچتے نیند کی مہربان دیوی نے مجھے اپنی آغوش میں لے لیا۔
اگلے روز ہم دن چڑھے اٹھے روز مرہ کے معمولات سے فارغ ہونے کے بعد خان چچا ہمیں ایک اسلحہ ڈیلر کے پاس لے گیا۔ اپنے بیٹے شاہ زمان کو وہ صبح سویرے دگن روانہ کر چکا تھا۔اسلحہ ڈیلر شاہ جی کا گہرا دوست تھا اس کے کہنے پر وہ ہمیں دکان کی بجائے اپنے گھر سے ملحق سٹور میں لے آیا جہاں اعلا قسم کا دیسی و بدیسی اسلحہ موجود تھا۔
” ادھر تو راکٹ لانچر بھی پڑے ہیں۔“ سٹور کے اندر گھستے ہی امجد کی حیران ہو گیا۔ 
”یہاں پہ آپ کو12.7ایم ایم اور اے جی ایس سیون ٹین بھی مل سکتی ہے۔“دوکاندار نے کہااور ہم سر ہلا کر رہ گئے تھے۔ وہ ہتھیار ہمارے کسی کام کے نہیں تھے۔ راکٹ لانچر گو اپنی کارکردگی کی نسبت وزن میں بہت ہلکا ہوتا ہے یعنی صرف 6کلو کے بہ قدر اس کا وزن ہوتا ہے مگر اس کے ایک گولے کا وزن اڑھائی کلو کے قریب ہوتا ہے اس طرح ایک صحت مند شخص صرف تین سے چار گولے ہی اپنے ساتھ آسانی سے لے جا سکتا ہے اور ان گولوں سے کسی بھی چھوٹے موٹے مکان کو ملبے کے ڈھیر میں تبدیل کیا جا سکتا ہے لیکن ہم جس قسم کی جنگ کی تیاری میں تھے اس میں یہ کہیں پر بھی فٹ نہیں بیٹھتا تھا اور جہاں تک تعلق تھا12.7ایم ایم کا تو اس کا تووزن بھی اتنا زیادہ ہوتا ہے اس کو فقط اٹھانے کے لیے تین سے چار آدمی چاہئیں۔ اس طرح آٹومیٹک گرینیڈ لانچر یعنی AGS-17بھی ہمارے کسی کام کی نہیں تھی۔ اس کے علاوہ بھی ہمیں سٹور میں ایسے کئی کار آمد ہتھیار دکھائی دیئے جو ہمیںپسند تو بہت آئے مگر ہماری لڑائی کے لیے سود مند نہیں تھے۔ ان میں بارہ بور بندوقیں، سنائپر رایفلیں(دور مار رایفلیں) جن کے ساتھ ٹیلی سکوپ بھی فٹ تھیں اور مختلف بور کے پستول شامل تھے۔ ہمارے مطلب کی رایفل صرف AK-47اسالٹ رایفل تھی جسے عرف عام میں کلاشن کوف کہتے ہیں۔ ہم دونوں نے کلوزبٹ کی دو کلاشن کوفیں پسند کیں جن کی بیرلیں قلم کی طرح تراشی ہوئی تھیں۔ اس کے علاوہ مجھے لکڑی کے دستے کا بریٹا پستول بھی پسند آیا مگر دکاندار نے بتایا کہ وہ درہ آدم خیل کا تیار کردہ تھا اور نقل بہ مطابق اصل تھا اس کے بجائے اس نے جرمنی کا بنا ہوا گیرا گٹ مارک تھرٹین ایم ایم میرے سامنے رکھا جو وزن میں بریٹا سے ہلکا تھا اور رینج بھی کافی زیادہ تھی۔ میگزین میں چھ راﺅنڈ آتے تھے جو کہ عام پستولوں سے کافی موٹے تھے۔ دکاندار کی پسند پر میں نے وہی لے لیا۔
”پیسے کتنے ہوئے؟“ کلاشن کوف کے اندر سلنگ ڈال کر کندھے سے لٹکاتے ہوئے میں مستفسر ہوا۔
دکاندار نے کہا۔”پیسوں کی ادائی شاہ جی نے کر دی ہے۔“ ”کیا مطلب؟“ 
خان چچا نے ٹوٹی پھوٹی اردو میں کہا۔”مطبل یہ کہ یہ امارا ترف سے تم لوگوں کا تحفہ ہے۔“ ”مگر خان چچا اتنے قیمتی تحفے؟“
کوئی قیمت نئیں اے۔ بس اب چلو۔“
 ہم دکاندار سے رخصتی مصافحہ کر کے اس کے ساتھ چل پڑے۔ اس وقت کلاشن کوف تقریباً 7ہزار کی مل جاتی تھی جبکہ آج کل اس کی قیمت۱یک لاکھ سے اوپر ہے ۔ اور اس کی قیمت میں اتنا اضافہ پرویز مشرف کے دور حکومت میں ہوا ہے۔
 وہاں سے ہم سیدھے خان چچا کی بیٹھک میں پہنچے۔
”آپ لوگ گپ شپ کریں میں حاجی بہادر سے ہوآﺅں۔“ حاجی بہادر سے اس کی مراد میرا نشاہ والا حاجی بہادر تھا کیونکہ دگن والے حاجی بہادر کے پاس وہ اپنے بیٹے کو بھیج چکا تھا۔”اب کیا ارادہ ہے جانو صاحب۔“ شاہ جی کے بیٹھک سے نکلتے ہی امجد نے پوچھا۔
”فی الحال تو انتظار ہے شاہ زمان اور خان چچا کی رپورٹوں کا۔ اس کے بعد ہی کچھ سوچیں گے۔“
”بالفرض دونوں ملک، چودھری سے لاعلم ہوئے تب کیا کریں گے؟“
”تب میران شاہ اور اس کے مضافاتی علاقے میں کسی اور حاجی بہادر کو تلاش کریں گے کیونکہ میر نیاز کے کہنے کے مطابق وہ کسی حاجی بہادر ہی کا مہمان بن کر آیا ہے۔ اگر اس طرح ناکامی ہوئی تو واپس جا کر میر نیاز خان سے دو دو ہاتھ کریں گے اور اس مرتبہ اسے ساتھ ہی لے کر آئیں گے چاہے اس کے لیے ہمیں کتنی ہی قربانی کیوں نہ دینا پڑے۔“
”اس وقت بھی تو میں نے یہی کہا تھا کہ مگر تمھیں امن پسند بننے کا شوق چرایا ہوا تھا۔“
”امن پسند میں اب بھی ہوں۔“
”گو تم بدھ صاحب امن سے کام نہیں چلتا.... اور دوغلی حرکتوں سے بھی پرہیز کرو۔ غضب خدا کا ایک چھوڑ دو دو ہتھیار اپنے ساتھ رکھتے ہوئے امن پسندی کے دعوے۔ ہونہہ!“
”ماجے صاحب میں نے عرض کیا ہے میں خواہ مخواہ کی قتل و غارت ناپسند کرتا ہوں۔ سمجھے۔“
”یہ بھی جھوٹ ہے.... ورنہ ایک ہندو لڑکی کے لیے تُم اتنی لاشیںنہ گراتے۔تمھیں کیا تھا۔ ہندو لڑکی ہے اور ہندوﺅں ہی نے پکڑی ہوئی ہے۔“ اس نے مجھے غصہ دلایا۔ مجھے پتا چل گیا کہ اس کے پاس کام کی کوئی بات ہے نہیں اس لیے سوال گندم اور جواب چنا کے مصداق وہ بات کو کہیں سے کہیں لے گیا تھا۔
”چلو شہلا بی بی کو جب کوئی مسلمان چھیڑے تو تم بھی خاموش رہنا۔“
”ارے واہ، میں نے کب کہا ہے کہ میں امن پسند ہوں۔ ویسے بھی شہلا اور شیتل کا کیا جوڑ۔“” بات تو تمھاری صحیح ہے....شیتل اور شہلا کا واقعی کوئی جوڑ نہیں۔ شہلا اگر اپنی موجودہ شکل سے سو گنا بھی زیادہ خوب صورت ہو جائے تب بھی شیتل سے ہمسری کا دعویٰ نہیں کر سکتی۔“”ہا ....ہا.... ہا.... ارے بس بھی کرو،اگر اتنی اچھی ہوتی تو یوں انڈیا میں نہ چھوڑ آتے، اپنے ساتھ ہی لے آتے۔“”میں شادی شدہ تھا۔“ اس کے مذاق کے جواب میں مَیں سنجیدہ ہوگیا۔”سعدیہ زندہ تھی ، کیا اس پر سوکن لے آتا۔“”سوری یار۔“ سعدیہ کے ذکر پر وہ بھی سنجیدہ ہوگیا۔ ”میں تو ویسے ہی مذاق کررہا تھا۔“
”مجھے پتا ہے.... لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ شیتل کی طرح حسین لڑکی میں نے آج تک نہیں دیکھی۔“
”اس کا مطلب ہے چودھری کے انجام کے بعد جناب ایک دفعہ پھر انڈیا جانے کا سوچ رہے ہیں۔“
”نہیں یار۔“ میں نے انکار میں سر ہلایا۔ ”پہلی بات تو یہ ہے کہ ایسی لڑکی جو امیر کبیر ہوتے ہوئے حسن کی دولت سے بھی مالا مال ہو، اس کے چاہنے والے ہزاروںنہیں لاکھوں ہوں گے اور میری بناسپتی محبت کا خمار کسی لمحے بھی اس کے دل سے اتر سکتا ہے میری جگہ اسے کئی خوب صورت دولت مند اور پڑھے لڑکے مل سکتے ہیں ، دوسرے یوں نہ بھی ہوا تب بھی وہ ہندو ہے اور میں مسلمان.... مسلمان ایک کافرہ سے کیسے شادی کر سکتا ہے؟“
”ان لاکھوں میں اسے جانو جیسا کہاں ملے گا....؟اور جہاں تک تعلق ہے مذہب کا تو وہ تبدیل بھی ہوسکتا ہے۔ ہندو کے مسلمان ہونے میں چند سکینڈ بھی نہیںلگتے اگر میرے رب کریم کا کرم ساتھ ہو تو؟“
”اچھا چھوڑو یار اس لایعنی موضوع کو۔ تم یہ پستول دیکھو کیسا ہے۔“ میں نے گیراگٹ اس کی طرف بڑھایا۔
”شکل سے تواچھا لگ رہا ہے۔ وزن میں بھی ہلکا ہے البتہ اس کی کارکردگی تو فائر کرنے کے بعد ہی پتا چلے گی۔ ویسے اس کی کتنی گولیاں ساتھ لی ہیں۔“’چھے میگزین میں ہیں اور چوبیس سپیئر ہیں۔“
” فائر کر کے چیک کر لیتے ہیں۔“امجد نے مشورہ دیا اور ہم دونوں بیٹھک کو باہر سے کنڈی کر کے چل پڑے۔ ہمارا رخ پہاڑی کے دامن کی طرف تھا۔ گلیوں اور گھروں کا بہ غور جائزہ لیتے ہوئے ہم آہستہ آہستہ پہاڑی کے دامن میں پہنچ گئے۔ یوں تو میران شاہ چاروں طرف سے پہاڑوں میں گھرا ہوا ہے مگر مغربی جانب کی پہاڑی شاہ گل خان کے گھر کے نزدیک تھی اس لیے ہم نے اسی طرف کا رخ کیا تھا۔
 چھوٹی جسامت کے پتھروں کو نشانہ بنا کر ہم نے کلاشن کوفوں کی درستی کا یقین کیا۔ اس کے بعد ہم دونوں نے پستول سے تین تین راﺅنڈ فائر کیے وہ بلاشبہ ایک اعلیٰ کوالٹی کاپستول تھا اور میرے اندازے کے مطابق کلاشنکوف سے کئی گنا قیمتی بھی تھا، لیکن چونکہ میں اس کی اصل قیمت سے لاعلم ہوں اس لیے یہ کوئی حتمی بات نہیں ہے۔امجد نے اس سے قریباًسو ڈیڑھ سوگز کے فاصلے پر پڑے چھوٹے سے پتھر کو باآسانی نشانہ بنالیا تھا اور یہ بات ظاہر کرتی تھی کہ وہ کافی فاصلے تک مار کر نے والا پستول تھا کیونکہ عموماً پستول کی کارگررینج75گز ہوتی ہے۔
(قارئین کی دلچسپی کی خاطرلکھتا چلوں کہ ہر ہتھیار کی کارگر رینج اور مکمل رینج میں بڑا فرق ہوتا ہے مثلاً پاک آرمی میں استعمال ہونے والی جی تھری کی کارگررینج300میٹر ہے جبکہ مکمل رینج 4000میٹر یعنی چار کلو میٹر بنتی ہے اور کارگر رینج کا فوجی عرف میں مطلب بھی یہی بنتا ہے کہ وہ فاصلہ جہاں تک ایک فائرر کسی بھی انسانی جسم کو نشانہ بنا سکے۔”راوی“)” اب واپس چلتے ہیں۔ ہتھیاروں کی بھی صفائی کرنا ہے اور ہو سکتا ہے خان چچا بھی واپس پہنچ گیا ہو۔“ امجد نے پستول میری طرف بڑھایااور ہم دونوں واپس چل پڑے خان چچا بڑی بے صبری سے ہمارا منتظرتھا اس کا بیٹا شاہ زمان بھی اس کے ساتھ ہی بیٹھا تھا۔
”کہاں گئے تھے آپ لوگ ؟‘ خان چچا ہمیں دیکھتے ہی پوچھا۔
”خان چچا ....ان ہتھیاروں کی کارکردگی چیک کر رہے تھے۔“ 
”اچھا تھوڑی دیر پہلے ہونے والی فائرنگ آپ لوگوں نے کی تھی۔“اور میں نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
”شاہ زمان آپ لوگوں کے لیے اچھی خبرلایا ہے۔“
”کیا چودھری اکبر کا پتا چل گیا ہے؟“ میرے لہجے میں بے صبری تھی۔
”نہیں۔“ شاہ جی نے انکار میں سر ہلایا۔ ”لیکن اتنا پتا چل گیا ہے کہ وہ کچھ عرصہ پہلے حاجی بہادر کے پاس آیا تھا اور تقریباً ڈیڑھ دو ہفتے اس کا مہمان بنا رہا۔ اس کے ساتھ اپنے چند دوست بھی تھے، اور وہاں سے وہ آگے کسی نامعلوم مقام کی طرف کوچ کر گیا ہے جس کے متعلق صرف ملک حاجی بہادر یا پھر اس کے دست راست طوفان خان کو معلوم ہے۔ طوفان خان کا اصل نام کچھ اور ہے مگر اس کی طبیعت میں جو تند خوئی، تیزی اور غضبناکی پائی جاتی ہے اس نسبت سے تمام علاقے میں وہ طوفان خان کے نام سے مشہور ہے۔ حاجی بہادر کے باقی ملازمین سے شاہ زمان نے کافی سن گن لی ہے مگر وہ صرف اتنا ہی بتلا سکے ہیں کہ چودھری اکبر دگن سے آگے کی طرف گیا ہے۔ کس جگہ....؟ اس بات سے وہ لاعلم ہیں۔“
”آپ کا اندازہ کیا کہتا ہے؟“
”کیا کہہ سکتا ہوں....دگن سے آگے وزیرستان کا کافی وسیع علاقہ موجود ہے۔ وہ کسی جگہ کو بھی اپنے لیے پسند کر سکتا ہے ہو سکتا ہے وہ نارائن، بہرہ مند، دتہ خیل، غرلامئی، خشک پہاڑی، جنگل خیل وغیرہ کہیں بھی جا سکتا ہے افغانستان کی سرحد بھی نزدیک ہے گو وہاں خانہ جنگی ہے لیکن اگر اسے تمھاری جانب سے زیادہ خطرہ لاحق ہوا تو وہ وہاں جانے سے بھی دریغ نہیں کرے گا۔“
”تواسے ڈھونڈنے کے لیے کیا لائحہ عمل اختیار کرنا چاہئے؟“
”جس طرح شاہ زمان کہہ رہا تھا کہ اس کے بارے صرف طوفان خان اور حاجی بہادر کو ہی پتا ہے تو لازمی بات ہے ان دونوں کو ہی گھیرنا پڑے گا اور ان دونوں میں موزوں، آدمی طوفان خان ہے کیونکہ عام لوگوں میں اس کے بارے میں بڑی نفرت پائی جاتی ہے اور اس کی دشمنیاں بھی کافی زیادہ ہیں۔ اس لیے اگر اس سے چودھری سے متعلقہ معلومات اگلو اکر ہم جہنم رسید کردیں تو ہم پر کوئی شک نہیں کرے گا۔“
شاہ جی نے اس سے معلومات اگلوانے کے لیے ہم کا صیغہ استعمال کیا تھا گویا وہ خود بھی شانہ بہ شانہ ہمارے ساتھ یہ جنگ لڑنے کے لیے تیار تھا، لیکن ہمارا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ ہم اپنی آگ میں کسی دوسرے کو نہیں گھسیٹ سکتے تھے۔ اگرسوچا جائے تو مجھے امجد کو بھی ساتھ نہیں لانا چاہئے تھا مگر اس کا خلوص اور انتقام لینے کی ضد دیکھتے ہوئے مجھے مجبور ہونا پڑا۔ گو شاہ جی کا خلوص بھی ہر قسم کے شبے سے بالاتر تھا مگر میرا ضمیر یہ بات گوارہ نہیں کر سکتا تھا کہ اسے اس عمر میںجلتی آگ میں گھسیٹوں۔
”طوفان خان کے ساتھ باڈی گارڈ ہوتے ہیں۔“”وہ حاجی بہادر کا باڈی گارڈ ہے۔“ اس مرتبہ شاہ جی کا بیٹا شاہ زمان بولا۔ ”اورخود کو بڑی توپ شئے سمجھتا ہے۔ جسمانی طور پر بھی کافی گرانڈیل اور مضبوط ہے، آپ دونوں تو اس کے ساتھ بچے نظر آﺅ گے۔“”بندوق کی گولی نہ طاقت دیکھتی ہے اور نہ قد۔“ ”بالکل۔“ شاہ جی نے میری تائید کی۔”خان چچا، اس طرح کرتے ہیں کہ کل میں اور امجد دگن جائیں گے اور شاہ زمان ہماری رہنمائی کے لیے جائے گا، وہاں یہ ہمیں حاجی بہادر کی حویلی دکھا کر واپس آجائے گا۔ اس کے بعد ہم جانیں اور ہمارا کام ۔“
”میں خود تمھارے ساتھ جاﺅں گا کیونکہ تم دونوں علاقے اور اس کے طور طریقوں سے ناواقف ہو، میں تمھیں اکیلے کیسے بھیج سکتا ہوں؟“
”ایسی کوئی بات نہیں ہے چچا، ہم گنڈہ پوروں اور آپ کی معاشرت میں کوئی خاص فرق نہیں ہے، دوسرا آپ کے ساتھ جانے میں یہ قباحت ہے کہ ہم نے اپنا کام ختم کر کے چلے جانا ہے جبکہ آپ نے ہمیشہ یہیں پر رہنا ہے۔ خدانخواستہ یہ نہ ہو کہ ہماری وجہ سے آپ کسی کے یا کوئی آپ کا دشمن بن جائے ۔اس کے علاوہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ آپ اس علاقے کی ایک جانی پہچانی شخصیت ہیں اور آپ کی وجہ سے ہم فوراً نظروں میں آجائیں گے اس طرح ہمارا کام آسان ہونے کی بجائے مزید دشوار ہو جائے گا۔“ میری مکمل کوشش تھی کہ میرا کوئی تکا اپنی جگہ پر لگے اور وہ ہمارے ساتھ جانے سے باز رہے۔
”اگر یہ بات ہے تو پھر آپ لوگ شاہ زمان کو اپنے ساتھ رکھو، یہ اس علاقے سے گہری واقفیت رکھتا ہے اور آپ کے بڑے کام آسکتا ہے۔“
”اس کو تو ہم ویسے ہی ساتھ لے جارہے ہیں اور جب تک اس کی ضرورت رہے گی اسے واپس نہیں کریں گے۔“ میں نے بات کو گول مول کیا۔” پھر ٹھیک ہے۔“اس نے اطمینان کا گہرا سانس لی۔ گویا اس کے سر سے بہت بڑا بوجھ ہٹ گیا ہو اور لامحالہ وہ بوجھ مہمان نوازی کی روایات کو برقرار رکھنے کا تھا۔
دگن میران شاہ کے قریب ہی واقع تھا۔ فلائنگ کوچ کے اندر سفر کرتے ہوئے ہم پندرہ، بیس منٹ میںوہاں پہنچ گئے تھے۔ شاہ زمان کو میں نے کوچ میں بیٹھنے سے پہلے بتا دیا تھا کہ اسے ہمارے ساتھ چلنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ بس وہ نارمل رفتار سے چلتا رہے ہم بھی اس کے تعاقب میں چلتے رہیں گے تاکہ کسی کو یہ پتا نہ چلے کہ ہم اس کے ساتھ ہیں۔ اس کا کام فقط اتنا تھا کہ وہ ملک حاجی بہادر کی حویلی تک ہماری رہنمائی کرتا۔ 
شاہ زمان کے پیچھے چلتے ہوئے راستے میں کسی شخص نے بھی ہمیں دیکھ کر حیرانی کا اظہار نہ کیا ۔ وجہ اس کے علاوہ کوئی نہیں تھی کہ شمالی اور جنوبی وزیرستان میں مختلف علاقوں سے کافی لوگ آتے جاتے رہتے ہیں ان میں افغانستان میں جہاد کرنے والے مجاہدین سے لے کر، مختلف علاقوں سے آئے ہوئے مجرمین تک شامل ہوتے ہیں۔ کوئی قتل کر کے پولیس یا مقتول کے ورثاءسے چھپنے کے لیے یہاں پر آیا ہوا ہوتا ہے تو کوئی چرس، افیون وغیرہ کی سمگلنگ کے لیے اسی طرح اسلحہ خریدنے کے لیے یا بغیر نمبر کی گاڑیاں اور موٹر سائیکل وغیرہ کے بھی کافی خریدار دکھائی دیتے ہیں۔ دیکھنے والے ہمیں بھی انھی میں سے کوئی ایک سمجھ رہے تھے۔
ہم خاموشی سے شاہ زمان کے پیچھے چلے جارہے تھے۔ روڈ سے اتر کر وہ گلیوں میں داخل ہوا اور پھر مختلف موڑ مڑتا ہوا شہر کی مغربی جانب باہر نکل آیا۔ اس سمت میں ایک بڑا سا برساتی نالہ پڑتا تھا جس کے سنٹر میں پانی بہہ رہا تھا اور یہ پانی لامحالہ برف کا تھا بہ قول چچا فاضل وزیرستان کی سرحدیں افغانستان سے ملی ہوئی ہیں اس لیے یہاں پر بھی کچھ علاقوں میں برف باری ہوتی ہے اور میران شاہ سے آگے کے موسم اور ہمارے پنجاب و سرحد کے موسم میں کافی فرق ہے خصوصاً گرمیوں میں اس علاقے کا موسم کافی خوشگوار ہوتا ہے۔ جبکہ سردی کی شدت میں معمولاتِ زندگی متاثر ہوتے ہیں۔
برساتی نالے کی چوڑائی خاصی زیادہ تھی مگر اس کے اندر بہنے والا پانی مقدار میں اتنا زیادہ نہیں تھا کہ پیدل چلنے والوں کے لیے رکاوٹ بنتا۔ شاہ زمان نے نالہ عبورکرنے کی بجائے اس کے کنارے کھڑے ہو کر نالے کی مخالف سمت بنے ہوئے مکانوں میں سے ایک بڑے مکان کی جانب اشارہ کر کے کہا ۔ ”وہ رہی حاجی بہادر کی حویلی۔“ ہم اس کے قریب ہی جا کررک گئے تھے۔
حویلی نالے سے کافی اونچائی پر واقع تھی شمالی جانب سے ایک ٹریک نما راستا حویلی کے داخلی دروازے تک جارہا تھا۔ اس کے علاوہ اس حویلی تک پہنچنے کا کوئی راستا موجود نہیں تھا۔ دفاعی لحاظ سے وہ حویلی بہت مضبوط دکھائی دے رہی تھی۔”ٹھیک ہے شاہ زمان....! اب آ پ یوں کریں ،میران شاہ واپس چلے جائیں۔ ہم چند دن یہاں پر رہ کر حالات کاجائزہ لیتے ہیں۔ جس دن طوفان خان پرہاتھ ڈالیں گے اس سے ایک روز پہلے آپ کویا خان چچا کو کو میران شاہ سے بلا لیں گے۔“
”مگر....“”اگر مگر چھوڑ و شاہ زمان....فی الحال تمھاری موجودی ہماری مشکلات میں اضافے کا باعث بنے گی،جب اس پر ہاتھ ڈالیں گے تو تمھیں بلا لیں گے ناں ۔“
”ابو جان خفا ہوئیں گے۔“
”نہیں ہوتے....کہہ دینا کہ ہم مجبور تھے....ورنہ مددگار کس کو نہیں چاہییں ۔“” جیسے آپ لوگوں کی مرضی۔“ اسے مجبوراََ راضی ہونا پڑا ۔
 ہم نے اس سے الوداعی معانقہ کر کے اسے رخصت کیا اور نالے میں اتر گئے۔ نالا کافی وسیع تھا مگر پانی صرف اس کے درمیان میں ایک چھوٹی سی ندی کی صورت بہہ رہا تھا۔ پہاڑی علاقہ ہونے کی وجہ سے پورا نالا پتھروں سے اٹا پڑا تھا۔ جوتے اتار کر ہم نے شلواریں اوپر اٹھائیں اور آہستہ آہستہ چلتے ہوئے نالاعبور کر لیا۔ پانی کا بہاﺅ کافی تیز تھا مگر پانی کی سطح ہمارے گھٹنوں سے ایک بالشت کے بلند تھی۔
”کافی ٹھنڈا پانی ہے۔“ امجد اپنی جرابوں سے اپنے پاﺅں کی انگلیاں صاف کرتے ہوئے بولا۔” پگھلی ہوئی برف ہے۔ ٹھنڈا تو اس نے ہونا ہے۔“
”اچھا، اب لائحہ عمل کیا طے کرنا ہے، راستے میں چھوٹے موٹے ہوٹل تو نظر آئے تھے مگر ان میںایک بھی ایسا نہیں تھا جس میں رات گزارنے کا بندوبست کیا گیا ہو۔“”رات گزارنے کے لیے یہ چادریں جو ساتھ لائے ہیں۔“ میں نے کپڑے کے تھیلے کی جانب اشارہ کیا۔ جس میں کپڑوں کا ایک فالتو جوڑا اور ایک گرم چادر ڈالی ہوئی تھی۔ اپنے بیگ ہم نے خان چچا کے کہنے پر اسی کے پاس چھوڑ آئے تھے اور اس علاقے کے لوگوں کی طرح کپڑے کے تھیلے ساتھ لے کر آگئے تھے۔
”ویسے اس حویلی کو تو دیکھ کر لگتا ہے کہ اسے سر کرنے کے لیے ہمیں انفنٹری کی پوری بٹالین چاہئے ہو گی؟“”تو ہم نے اسے کون سا سر کرنا ہے، ہمارا معاملہ طوفان خان کے ساتھ ہے اور ہم نے اسے کسی اکیلی جگہ پر گھیرنا ہے۔“” جیسے خان چچا نے اس کی شخصیت کا خاکہ کھینچا ہے، لگتا ہے اس کی مرضی کے خلاف کوئی بات اگلوانا بہت مشکل ہو گا؟“
”انسان جتنا بھی سخت جان ہو، ہوتا گوشت پوست کا پیکر ہی ہے اور اس کی برداشت کی ایک حد ہوتی ہے۔اب یہ طوفان خان پر منحصر ہے کہ وہ ہمیں اس حد کو عبور کرنے پر مجبور کرتا ہے یا ....آرام سے سب کچھ بتلا دیتا ہے۔“
”اچھا وہ تو بعد کی بات ہے۔ اب جو مسئلہ درپیش ہے کہ ہم طوفان خان کو پہچانتے ہی نہیں ہیں اور شاہ زمان کو بھی ہم نے واپس بھیج دیا ہے۔“”یہ اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہے۔“ میں بوٹ پہن کر اٹھ گیا۔ ”فی الحال دور دور سے ملک کی حویلی کا جائزہ لیتے ہیں ۔ ا س کے ساتھ ان پہاڑیوں کو بھی چیک کرتے ہیں کہ آیا ان میں شب باشی کے لیے کوئی جگہ مل جائے گی یا مسجد استعمال کرنا پڑے گی۔“”چلو ۔“ اس نے کہااور ہم دونوں چہل قدمی کے انداز میں چل پڑے۔ حویلی سے نکلنے والا ٹریک نالے میں اتر کر ختم ہو جاتا تھا۔ حویلی کی پچھلی سمت سیدھی کھڑی چڑھائی تھی اور اس سمت سے اگر کوئی بھی حویلی تک پہنچنے کی کوشش کرتا تو اپنی موت ہی کودعوت دیتا۔ ٹریک حویلی کی شمالی سمت میں بنا ہوا تھااس کے علاوہ جنوبی سمت سے کوشش کی جاتی تو حویلی تک پہنچا جا سکتا تھا مگر راستا کافی دشوار تھا۔ حویلی کے قریب کوئی دوسرا مکان نہیں تھا اور یہ بات حویلی کے دفاع کے حق میں جاتی تھی۔البتہ حویلی سے پانچ چھ سو گز دوراکا دکا مکانات بنے دکھائی دے رہے تھے۔
”ویسے یا ر عجیب قسم کا طرز تعمیر ہے ان کا بھی۔“ امجد اطراف کے مکانوں کو بہ غور دیکھتا ہوا بولا۔ ”کچے بلاکوں سے دو منزلہ مکان بنائے ہوئے ہیں اور پھر مورچہ تو تقریباً ہر گھر کی چھت یا سامنے کی دیوار پر موجود ہے گویا ہر گھر ایک دفاعی قلعہ ہے ....اور کچھ لوگوں نے تو اتنی اونچائی پر مکان بنائے ہوئے ہیں کہ پتا نہیں وہاں تک انھوں نے میٹریل کی ترسیل کیسے کی ہو گی اور نہ جانے روزمرہ آمدو رفت میں انھیں کتنی مشقت کا سامنا کرنا پڑتا ہو گا۔“”ہر شخص کو اپنا گھر اور علاقہ جنت لگتا ہے کیا خوب کہا ہے کسی شاعر نے کہ 
کوئی بہشت کا پوچھے تو کہہ سکوں ہنس کر
کہ وہ بھی خوب جگہ ہے ہمارے گھر کی طرح
ہم دونوں حویلی کے ٹریک پر محو سفر تھے ہمارا ارادہ تھا کہ اسی ٹریک کے ساتھ چلتے چلتے حویلی کو ایک نظر قریب سے دیکھتے ہوئے اس کے دائیں ہاتھ موجود گھر کی طرف نکل جائیں جو حویلی سے چند سوگز دوری پر واقع تھا ۔
اچانک ہمیں حویلی سے ایک سرخ رنگ کی ڈبل کیبن ٹیوٹا نکلتی دکھائی دی۔“
”ماجے اس گاڑی والے پر نظر رکھنی ہے اگر کار آمد لگا تو ہاتھ ڈال دیں گے۔“”مگر یار بغیر کسی پلاننگ کے، کوئی گڑبڑ نہ ہو جائے۔“ 
”وہ بعد کی بات ہے۔“میں اطمینان بھرے لہجے میں بولا۔ جواباً امجد خاموش ہی رہا ۔ سلنگ اپ کلاشن کوف کے دستے پر میری گرفت مضبوط ہو گئی تھی۔ گاڑی بالکل نئی تھی اور اس میں بیٹھی ہوئی شخصیت بھی لازماً اہم ہونا تھی کہ عام ملازمین کے استعمال میں ایسی گاڑیاں نہیں دی جاتیں۔ہم دونوں نے اپنے قدموں کی رفتار تیز رکھی تھی تاکہ جب گاڑی ٹریک پر موجودانگریزی کے حرف ایل کی شکل کے موڑ تک پہنچے تو ہم بھی وہاں پہنچ چکے ہوں۔کیونکہ اس صورت میں گاڑی کی رفتار آہستہ ہونے کی وجہ سے ہم اس میں موجود افراد کا جائزہ آسانی سے لے سکتے تھے۔ ہمارا انداز ایسا تھا جیسے کسی کام کی وجہ سے جلدی میں جا رہے ہوں اور پھر گاڑی میں بیٹھی ہوئی شخصیت پر نظر پڑتے ہی میرے دل کی دھڑکنیں بے ربط ہونے لگیں، اس کے جثے کو دیکھتے ہوئے میں نے بغیر کسی تردد کے اسے بہ طور طوفان خان پہچان لیا تھا۔ وہ گاڑی میں اکیلا تھا۔ مگر اس کے وجود سے اگلی نشست پُرلگ رہی تھی۔
”وہی ہے۔“ امجد کی سرگوشی میرے کان میں گونجی اس نے بھی اسے پہچان لیا تھا ۔
گاڑی بہ مشکل وہ موڑ کاٹ کے سیدھی ہوئی تھی کہ ہم قریب پہنچ گئے ۔ اس سے پہلے کہ وہ گاڑی کی سپیڈ بڑھاتا میں نے ہاتھ اٹھا کر اسے رکنے کا اشارہ کیا۔
”سہ چل دے؟“ (کیا بات ہے) وہ بریک لگاتے ہوئے پھاڑ کھانے والے لہجے میں بولا۔ شاید اسے میرا اس طرح ہاتھ دے کر روکنا ناگوار گزرا تھا۔اس کا چہرہ ویسے ہی کافی ڈراﺅنا تھا لمبے لمبے گھنگریالے بال چند دن کی بڑھی ہوئی شیو ، سرخ آنکھیں، دائیں گال پر چاقو یا خنجر کے زخم کا ایک گہرا نشان جو ٹھوڑی تک جا کر چھوٹی چھوٹی داڑھی میں چھپ گیا تھا۔ سب سے بڑھ کر گرج دار آواز جو اس کی قامت کے مطابق تھی۔
مگر ہم ایسے حلیوں سے ڈرنے والے ہوتے تو شاید اسے روکنے کی جرا¿ت ہی نہ کرتے۔
”طوفان خان سے ملنا تھا۔“ میں کھڑکی کے قریب کر بولا۔ اس دوران امجد غیر محسوس انداز میں کھسکتا ہوا فرنٹ سیٹ کے دوسرے دروازے تک پہنچ گیا تھا۔ اس کی کلاشن کوف ساتھ والی نشست پر پڑی تھی۔ اس نے وہ اٹھانے کی کوشش بھی نہیں کی تھی کیونکہ اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ کوئی اس طرح دن دیہاڑے اس پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کر سکتا تھا۔ ویسے بھی اپنے تیئں وہ دگن کا طاقتور شخص تھا۔
” میں طوفان خان ہی ہوں۔“ اس کی بات ختم ہوتے ہی بجلی کے کوندے کی مانند کلاشن کوف میرے کندھے سے اتر کر ہاتھوں میں منتقل ہوئی اور اس کی قلم کی طرح ترشی ہوئی بیرل طوفان خان کی کنپٹی کے ساتھ پیوست ہو گئی۔
”اگر ذرا سی بھی حرکت کرنے کی کوشش کی تو وہ تمھاری زندگی کی آخری حرکت ہو گی۔“میرے لہجے میں پہاڑوں کی سی مضبوطی تھی۔ اس کی آنکھوں میں حیرت کا شدید تاثر اجاگر ہو کر معدوم ہو گیاتھا۔
”کیا چاہئے۔“ اس کا لہجہ خوف سے عاری تھا۔
میں نے کہا۔”وہ ہم بعد میں بتائیں گے۔ پہلے تم مخالف سمت کا دروازہ اَن لاک کرو۔“ اس نے ہاتھ بڑھا کر دوسرے دروازے کو اَن لاک کر دیا۔ امجد نے اندر گھس کر اس کی گن کو قبضے میں کیا اور پھر پچھلی نشست کا دروازہ اَن لاک کر کے طوفان خان کی گن سمیت پیچھے منتقل ہو گیا۔ پیچھے بیٹھتے ہی اس کی گن کی بیرل طوفان خان کی کنپٹی سے آن لگی۔ میں نے ذرا سا پیچھے ہٹ کر اردگرد کا سرسری سا جائزہ لیا اور پھر گھوم کر دوسری طرف کے دروازے سے اس کے ساتھ بیٹھ گیا ۔ ساری کارروائی کمانڈو تربیت کی مرہونِ منت تھی، ہماری ٹیکٹس کے انسٹرکٹر میجر غوری کہا کرتے تھے کہ ”ایک کمانڈو کو اپنے مشن پر جاتے ہوئے راستے میں کوئی ایسا ہدف مل جائے جو اسے اپنے مشن سے زیادہ اہم معلوم ہو تو اسے سوچنے میں وقت ضائع نہیں کرنا چاہئے اور میسر ہدف سے پہلے نمٹنا چاہئے۔“ اس بارے وہ اپنے استاد کی حقیقی زندگی کا ایک واقعہ سنایا کرتے تھے کہ 1965ءکی جنگ میں وہ سیکشن کے ساتھ دشمن کے پڑاﺅ پر چھاپہ مارنے جارہا تھے اور اس مقصد کے لیے وہ اپنے جوانوں کے ساتھ دشمن کے پڑاﺅ کے پیچھے پہنچ گئے تھے کہ اسے دشمن کے دو سپاہیوں کی گفتگو سے پتا چلا کہ وہاں نزدیک ہی دشمن کی گن پوزیشن تھی اور بجائے پڑاﺅ پر چھاپہ مارنے کے اس نے گن پوزیشن کو تباہ کرنا زیادہ مناسب سمجھا تھا حالانکہ بہ ظاہر نظر ایک بے جان گن کبھی بھی انسان سے قیمتی نہیں ہو سکتی مگر جنگ کے میدان میں یہ معیار بدل جایا کرتے ہیں اور ایک آرٹلری کی گن سپاہ سے کئی گنا قیمتی ہو جایا کرتی ہے اور پھر وہ کوئی ایک گن نہیں تھی کیونکہ آرٹلری کی گن کبھی اکیلی دفاع میں نہیں لگتی۔ گنوں اور اس کے ساتھ گولہ بارود کو تباہ کر کے جب وہ واپس پہنچے تو بٹالین کمانڈر نے اس کے فیصلے کی خوب تعریف و تحسین کی تھی۔
بہ ہر حال وہ تو مجاہدین تھے اور ﷲ تعالیٰ کی مددو نصرت ان کے ساتھ تھی۔ کہاں ہم دنیادار اور کہاں وہ ملک و قوم اور اسلام کے محافظ،یونھی طوفان خان کے اتنا سہل اور غیر یقینی انداز میں قابو آجانے پر ایک واقعہ ذہن میں تازہ ہو گیا تھا جو غیر ارادتاً قارئین کی خدمت میں پیش کر دیا۔
”چلو آگے بڑھو....“ میں فرنٹ سیٹ پر بیٹھتے ہی بولا۔ ”اور میرے خیال میں یہ کہنے کی ضرورت تو نہیں ہے کہ ذرا سی غلط حرکت تمھاری زندگی کو مختصر کر سکتی ہے۔“
 اس نے خاموشی سے گاڑی آگے بڑھا دی۔”یہاں سے دائیں موڑ لو اور نالے میں سیدھا چلنا شروع کردو۔“ اس نے میرے کہنے کے مطابق گاڑی موڑی اور نارمل رفتار سے چلتا رہا۔ اس پر نظر رکھنے کے ساتھ ساتھ میں گردو پیش کا بھی بہ غور جائز لے رہا تھا، مجھے ایسی جگہ کی تلاش تھی جہاں ہم بغیر کسی کی مداخلت کے اس سے پوچھ گچھ کر سکتے اور وزیرستان جیسے علاقے میں ایسی جگہ کا ملنا قطعاً مشکل نہیں تھا۔ امجد البتہ ہر چیز سے بے نیاز صرف اس پر نظریں گاڑے ہوئے تھا۔
جلد ہی مجھے ایسی جگہ نظر آگئی جو پہاڑی کے اندر کی طرف دبی ہوئی تھی، فوجی زبان میں ایسی جگہ کو ری انٹرنٹ کہتے ہیں۔
”یہاں سے دائیں موڑ لو۔“ گاڑی نالے کی تھوڑی سی چڑھائی چڑھ کر نسبتاً ہموار زمین پر روانہ ہو گئی۔ اس کو بالکل ہموار کہنا تو غلط ہو گا کہ پہاڑی کی جڑ کی طرف زمین غیر محسوس انداز میں اٹھتی جاتی ہے مگر یہ چڑھائی اتنی سخت نہیں تھی کہ گاڑی کی رفتار میں کوئی رکاﺅٹ آتی البتہ راستے میں جا بجا بکھرے بڑے بڑے پتھر یقینا رکاوٹ تھے۔ جن سے بچنے کے لیے گاڑی کے اسٹیرنگ کو بار بار کاٹنا پڑتا۔ وہ نالہ نما جگہ کافی اندر تک چلی گئی تھی۔
ایک مناسب جگہ دیکھ کر میں نے اسے گاڑی روکنے کا حکم دیا اور گاڑی رکتے ہی نیچے اتر کر گرد وپیش کا جائزہ لینے لگا۔ وہ جگہ خاصی مناسب تھی دور دور تک کوئی ذی روح نظر نہیں آرہا تھا اور ہمیں صرف پہاڑی کی بلندی سے دیکھنا ہی ممکن تھا۔ ”طوفان خان گاڑی بند کر کے نیچے آجاﺅ۔“ اس مرتبہ بھی اس نے بے چوں و چراں میرے حکم پر عمل کیا تھا۔”ہاتھ اوپر اٹھا لو۔“ میں نے اگلا حکم سنایا ، اس نے ہاتھ اوپر اٹھا لیے ۔ امجد بھی اس کی کلاشن کوف گاڑی میں چھوڑ کر باہر نکل آیا تھا۔میں نے کلاشن کوف اس پر تانی ۔ ”طوفان خان تیرا آخری وقت آگیا ہے اگر کلمہ پڑھنا ہے تو پڑھ لو میں گولی چلانے لگا ہوں۔“
”آخری خواہش پوچھ لو۔“ امجدنے کلمے کے الفاظ سے میری بات کا مفہوم اخذ کر کے لقمہ دیا۔”صحیح کہا۔“ میں اس کی تائیدکی اورپشتو میں بولا۔ ”طوفان خان اپنی آخری خواہش بتا سکتے ہو؟“یہ سارا ڈراما اسے نفسیاتی طور پر ڈرانے کے لیے کر رہا تھا ورنہ چودھری کا پتا پوچھے بغیر میں اسے کیسے قتل کر سکتا تھا۔ البتہ اس سے پوچھ گچھ کا کوئی واضح طریقہ یا ترکیب میرے ذہن میں نہیں آرہی تھی،لے دے کے ایک تشدد کا راستا بچتا تھا مگر طوفان خان جس کیٹگری سے تعلق رکھتا تھا ایسے شخص سے اس کی مرضی کے خلاف کوئی بات اگلوانا ناممکنات میں سے ہوتا ہے۔
”صرف میرا جرم بتلا دو؟“
اس کی بات سن کر اچانک میرے ذہن میں ایک ترکیب آئی .... ”طوفان خان.... ہماری تم سے کوئی دشمنی نہیں ہے۔ ہمارا تعلق ڈیرہ اسماعیل خان سے ہے اور ہم کرائے کے قاتل ہیں ہمارے ایک دوست نے پچھلے دنوں ہمیں ڈیرہ سے نارائن بلایا تھا اور اس نے تمھارے قتل کا معاوضا دیا ہے۔“”اس کا نام بتا کر آپ لوگ بے شک اپناکام کر سکتے ہوئے۔“” چودھری اکبر .... اس کا اصل وطن تو ڈیرہ اسماعیل خان ہے ، آج کل اس نے کسی دشمنی کی وجہ سے نارائن میں گھر بنایا ہوا ہے۔“”مگر اسے تو ہم نے جنگل خیل میں چھوڑا تھا۔“ طوفان خان حیرانی سے بولا۔ ”اور اس کی میرے ساتھ کیا دشمنی ہے۔“ میں نے تو فقط اتنا کہاتھی کہ دشمنوں کے ڈر سے اپنے علاقے کو چھوڑ دینا بزدلی کی علامت ہے۔“
”شاید یہی بات ہو....بہ ہر حال تم اب چھٹی کرو۔“ میں نے اس کے سر کا نشانہ لے کر ٹریگر پریس کرنے کی کوشش کی مگر کامیاب نہ ہو سکا۔ اس کے بے گناہ قتل پر میرا ضمیر مطمئن نہیں ہو رہا تھا۔”امجد اسے گولی مار دو۔“ آخر مجبور ہو کر میںنے اپنی گن جھکاتے ہوئے امجد کو کہا۔”یہ ثواب کا کام تم خود ہی انجام دو۔“ وہ روکھے لہجے میں بولا۔
”بے وقوف اسے زندہ چھوڑ دینا باعث نقصان ہے ۔“ میںنے دبے لہجے میں اسے جھڑکا۔ ”تو میں نے کب کہا ہے چھوڑ دو۔“ میں نے ہونٹ بھیجتے ہوئے ایک مرتبہ پھر گن سونتی اور آنکھیں بند کرتے ہوئے ٹریگر کو دبانے کی کوشش کی مگر اس مرتبہ بھی میں پہلے کی طرح ناکام رہاتھا۔
”امجد اس کی تلاشی لو۔“ اس مرتبہ میں نے زور دار لہجے میں امجد کو کہااور وہ سر ہلاتا ہوا اس کی طرف بڑھ گیا۔ امجد کے چہرے پر نظر آنے والے تاثرات سے مجھے اطمینان ہو گیا کہ اس کی سمجھ میں میری بات آگئی ہے ۔
طوفان خان ایک طاقتور شخص تھا۔ اس سے پہلے ہم نے اسے لڑمر کر نکلنے کا کوئی موقع نہیں دیا تھا۔ مگر اب میں نے جان بوجھ کر امجد کو اس کے قریب بھیجاتا کہ وہ فرار کی کوشش کرے اور کم از کم اس طرح اسے نشانہ بنانے کا موقع ملے۔ مگر اس وقت میری حیرانی کی انتہانہ رہی جب اس نے بڑے آرام سے تلاشی دے دی اس کی جیب سے چمڑے کے کور میں بند ایک خنجر تھوڑی سی نقدی اور نسوار کی پڑیا نکلی تھی۔ امجد نے بڑی لاپرواہی سے اس کی تلاشی لی تھی اور اسے کچھ کرنے کا مکمل موقع فراہم کیا تھا مگر وہ ٹس سے مس ناہوا۔
”بس یہی کچھ ملا ہے۔“ امجد اس کی جیب سے نکلنے والا سامان میری جانب بڑھایا۔
”اپنے پاس ہی رکھو۔“ کہہ کر میں طوفان خان کو گھور نے لگا جو بڑے اطمینان سے ہاتھ بلند کیے کھڑا تھا۔ وہ ہمارے لیے سانپ کے منہ میں چھچھوندر ثابت ہوا تھا۔ اسے مارنے کے لیے ہمارا ضمیر راضی نہیں ہو رہا تھا اور زندہ چھوڑ دینے کی مخالفت ہمارا دماغ ٹھوس دلائل سے کر رہا تھا۔ چند لمحے سوچنے کے بعد خطرہ مول لینے کا فیصلہ کرتے ہوئے میں نے کہا۔
”طوفان خان!.... اگر ہم تمھیں زندہ چھوڑ دیں تو کیا یہ عہد دے سکتے ہو کہ اس سارے واقعہ کو بھلا دوگے اور کسی کے سامنے بھی اس کا ذکر نہیں کروگے، اس کے ساتھ چودھری اکبر کے خلاف بھی کوئی قدم نہیں اٹھاو¿ گے۔“”ایک شرط پر!“ اس کے لہجے میں بلا کا اطمینان تھا،یوں جیسے مذاکرات کی میز پر بیٹھا ہو۔
”وہ کیا۔“ میں نے دلچسپی ظاہر کی ۔
” مجھے حقیقت بتلا دیں۔ آپ کی کہانی سے میں مطمئن نہیں ہوں۔ آپ پیشہ ور قاتل نہیں لگ رہے۔“
”تمھارے اندازے میں ہم کیا ہیں۔“
”چودھری اکبر کے دشمن۔“ وہ بلا جھجک بولا، واقعی اس کا اندازہ غضب کا تھا۔”اچھا بھائی ہاتھ نیچے کرو.... آﺅ ادھر سائے میں تمھیں اصل حقیقت بتلاتے ہیں اور امجد اسے اس کا سامان واپس کر دو۔“ طوفان خان سے پشتو میں کہہ کر میں نے امجد کو کہا۔
طوفان خان نے ہاتھ نیچے کرتے ہوئے امجد سے اپنا سامان واپس لے کر جیب میں ڈالا اور پھر ہونٹوں پر معنی خیز مسکراہٹ لئے میرے ساتھ بڑی سی چٹان کے سائے میں آبیٹھا۔ امجد بھی ہمارے قریب آ کر بیٹھ گیا تھا۔”طوفان خان تمھارا اندازہ درست ہے....ہم واقعی چودھری کے دشمن ہیں۔ وہ ہم سے چھپ کر بھاگا ہوا ہے۔اس کے متعلق صرف اتنی اطلاع ملی تھی کہ وہ میران شاہ میں کسی حاجی بہادر کی پناہ میں ہے۔ یہاں آ کر پتا چلا کہ وہ یہاں سے بھی آگے چلا گیا ہے اور اس کے متعلق صرف حاجی بہادر یا طوفان خان کو پتا ہے۔ حاجی بہادر کو اغوا کرنے میں چونکہ زیادہ محنت کرنا پڑتی اس لیے ہم نے تمھیں اغوا کرنے کا منصوبہ بنایا اور پھر خوش قسمتی سے تم اسی وقت ہمارے سامنے چڑھ گئے، گو ہم تمھیں شکل سے نہیں پہچانتے تھے لیکن تمھارا حلیہ کسی نے بڑی تفصیل سے بتلا دیا تھا۔ باقی کی تفصیل تمھیں معلوم ہے۔“
”اکبر کا پتا تو آپ لوگوں کو معلوم ہو گیا ہے کہ وہ جنگل خیل میں ڈیرے ڈالے ہوئے ہے یہ بات ہنوز تشنہ ہے کہ آپ لوگوں نے قاعدے کے مطابق مجھے گولی کیوں نہیں مار دی۔“
”طوفان خان! کسی بے گناہ کے خون سے ہاتھ رنگنا بہت مشکل ہو تا ہے۔“
”مجھے گناہ گار کرنے کے لیے ہی آپ نے اپنے ساتھی کو میری تلاشی لینے کے لیے بھیجا تھا نا؟“ وہ مسکرایا، میں بھی ہنس پڑا۔ وہ حقیقتاً کافی سمجھ داری کا ثبوت پیش کررہا تھا۔
”تُم نے بھی تو قسم کھالی تھی ہمارے خلاف کوئی غلط حرکت نہ کرنے کی۔“
”آپ کا نام؟“
”عمر جان....“”تو عمر جان بھائی بات یہ ہے کہ آپ دونوں کا پُراعتماد انداز اور خوف سے خالی چہرے اس بات کے مظہر ہیں کہ آپ دونوں پر قابو پانا میرے بس سے باہر تھا۔“
”یہ تم کیسے کہہ سکتے ہو؟“
”میری ساری زندگی اسی کام میں گزری ہے۔ میں بندے کی چال دیکھ کر بتا سکتا ہوں کہ وہ کتنے پانی میں ہے۔“”چلو چھوڑو اس فضول بحث کو.... تم نے سچ پوچھا، ہم نے بتلا دیا، اب ہمارے ساتھ مردوں والا وعدہ کرو کہ اس واقعہ کا کسی سے ذکر نہیں کرو گے اور اکبر خان کے خلاف بھی کوئی کارروائی نہیں کرو گے۔“
”آپ دونوں مطمئن رہو۔ طوفان گردن کٹا سکتا ہے اپنی بات سے نہیں پھر سکتا اور جہاں تک تعلق ہے چودھری کا تو اس نے میرے ساتھ کون سی دشمنی کی ہے کہ میں اس کے خلاف کوئی کارروائی کروں گا۔“”آخری بات یہ کہ تمھارے ساتھ کئے گئے معاہدے میں تو شامل نہیں ہے لیکن پھر بھی اگر مہربانی کر سکتے ہو تو ہمیں جنگل خیل کا راستا بتا دو اور یہ بھی وضاحت کر دو کہ آیا چودھری اکبر نے وہاں ٹھہرنے کا پکا ارادہ کیا تھا یا وہ وہاں سے بھی آگے کہیں جاسکتا ہے۔“
”دگن سے دتہ خیل تک آپ لوگوں کو ویگن مل جائے گی وہاں سے آگے بابازیارت اور مامازیارت تک مقامی ٹویوٹا مل جاتی ہیں۔ مامازیارت اور شیرانی کے درمیان قریباً شمال مغرب کی سمت پہاڑیوں میں ایک طویل راستا بنا ہوا ہے جو جنگل خیل تک جاتا ہے۔ جنگل خیل کسی ایک گاﺅں کا نام نہیں بلکہ وہاں بیسیوں چھوٹے بڑے دیہات ہیں ان تمام کو جنگل خیل کہتے ہیں۔ باقی رہا اکبر خان کی یقینی موجودی کا تو اس کا بارے میں وثوق سے کچھ نہیں کہہ سکتا۔ یہاں سے جاتے وقت اس کا پکا ارادہ یہی تھا کہ اس نے اگلے چند سال وہیں گزارنے ہیں۔ چند بندے بھی ہم نے اس کے ہمراہ بھیجے تھے جو اسے جنگل خیل کے پہلے گاﺅں کے قریب چھوڑ کر واپس آگئے تھے۔ اب وﷲ اعلم وہ وہیں ہے یا کسی اور سمت کوچ کر گیا ہے۔“ اس کی بات ختم ہوتے ہی میں اٹھتے ہوئے بولا۔
”بہت بہت مہربانی طوفان خان۔ ہماری وجہ سے تمھیں جو تکلیف اٹھانا پڑی اس کے لیے ہم معذرت خواہ ہیں۔اور اب اجازت ؟“”مگر میری طرف سے آپ کو اجازت نہیں ہے۔“وہ کھڑے ہو کر مسکرایا۔”ایک دن کی خدمت کا موقع دیئے بغیر آپ لوگ نہیں جا سکتے۔“” ہم ضرورتمھارے پاس ٹھہرتے لیکن افسوس ہمارا وقت بہت قیمتی ہے اور ہم آج ہی آگے جانے کی کوشش کریں گے۔“”یہاں سے اگر آپ پبلک ٹرانسپورٹ میں گئے تو آج صرف دتہ خیل تک جا سکیں گے۔ اس سے آگے کی آپ کو گاڑی کل ملے گی تو اتنا خوار ہونے کے بجائے اگر رات مجھے میزبانی کا موقع دے دو اور صبح میں خود آپ کو شیرانی تک چھوڑ آﺅں،بلکہ جنگل خیل کا راستا بھی دکھا آﺅں تو کیسا رہے گا؟“میں نے امجد کو اس کا مطمح نظر بتا کر رائے لی۔ ”جیسے بہتر سمجھو۔“ وہ بولا۔” یعنی طوفان خان کی مہمان نوازی سے لطف اندوز ہونا ضروری ہو گیا ۔“”یہ ہوا ناخوشخبری کی بات ۔“ طوفان خان نے نعرہ لگایااور ہم دونوں مسکرا پڑے ۔وہی ڈبل کیبن ٹویوٹا جس میں تھوڑی دیر پہلے ہم غاصب کی صورت بیٹھے تھے ۔اس وقت معزز مہمانوں کے انداز میں برا جمان ملک بہادر کے گھر کی طرف رواں دواں تھے۔
جاری ہے

No comments:

غازی از ابو شجاع ابو وقار قسط نمبر60 Ghazi by Abu Shuja Abu Waqar

Ghazi  by  Abu Shuja Abu Waqar  غازی از ابو شجاع ابو وقار  پیشکش محمد ابراہیم 60 آخری قسط نمبر  Ghazi by Abu Shuja Abu...

Powered by Blogger.