Ads Top

غازی از ابو شجاع ابو وقار قسط نمبر45 Ghazi by Abu Shuja Abu Waqar

Ghazi

 by 

Abu Shuja Abu Waqar 


غازی از ابو شجاع ابو وقار
 پیشکش محمد ابراہیم
45 قسط نمبر
 Ghazi by Abu Shuja Abu Waqar 
Presented By Muhammad Ibraheim
 Episode 45
 یہ سفیر نے اپنے ترکش کا آخری تیر چھوڑا میں نے کہا کہ میں عوام سے تعلق رکھتا ہوں اور پاکستان میں نہیں بلکہ میں تمہیں یہاں بھی دیکھنے کا اہل ہوں اور تمہیں سبق سکھانے کا حوصلہ رکھتا ہوں میرے اس جواب پر سفیر بلکل حوصلہ ہار گیا اونچی آواز میں ہماری اور سفیر کی گفتگو باہر کھڑے مہاجروں تک صاف پہنچ رہی تھی چار فٹ اونچی چار دیواری کے اندر کیا ہو رہا ہے وہ باہر کھڑے سب دیکھ رہے تھے اور انکی بے چینی بڑھ رہی تھی مجھے اندیشہ تھا کہ کہیں باہر کھڑے مہاجر سفارت خانے پر دھاوا ہی نہ بول دیں اور سفیر کی میرے خلاف بھیجی ہوئی روپوٹ سچ ثابت نہ ہو جاے میں نے نمائندوں اور ملٹری اٹاچی کو ساتھ لیا اور باہر کھڑے مہاجروں کو خاموش ہو جانے کا کہا وہ ذرا ٹھنڈے ہوے تو میں نے کہا خدارا یہ کیا تماشا ہے آپکے ساتھ جو بھی زیادتیاں ہوئی ہیں وہ ہم سبکا ذاتی معاملہ ہے اس طرح شور کر کے باہر والے لوگوں اور ایمبیسیوں کو مطلع تو نہ کریں وہ ہمارے تفصیلی رپورٹ اپنے ممالک کو بھیجیں گے اور ساری دنیا ہم پر ہنسے گی میں آپکو یقین دلاتا ہوں کہ آئندہ آپ لوگوں کے ساتھ زیادتی نہیں ہو گی میری یہ مختصر بات سن کر سب خاموش ہو گئے
میں نے ملٹری اٹاچی کے سربراہ جو کہ کرنل تھے وہ بھی سفارت خانے کی اس بے ایمانی پر خاصے خفا نظر آ رہے تھے سے کہا کہ سر مہاجرین کو امداد تقسیم کرنے تک آپ ہمارے ساتھ رہیں کیونکہ حکومت کی نا اہلی اور ان لوگوں کی بدعنوانیاں دیکھ کر اب لوگوں کا انحصار صرف پاکستان آرمی پر ہے المختصر تقسیم شروع ہوئی فی کنبہ 1000 روپے دینے شروع کیے اور اتنی منظم طریقے سے تقسیم کا عمل جاری رہا کہ آخر میں پیسے کم پڑنے لگے بینکوں کا وقت ختم ہو چکا تھا میں گاڑی لے کر فوراً ہوٹل گیا وہاں سے 10 لاکھ بھارتی کرنسی نکالی اور ریٹ کا مجھے پہلے ہی علم تھا لہذا باقی رہنے والوں کو 900 روپے بھارتی کرنسی میں تقسیم کر دی دو روز میں میں نے 14 سو سے زائد مہاجرین کنبہ میں روپیہ تقسیم کیا اس کے علاوہ میں نے ملٹری اٹاچی کی ہیلپ سے بازاروں میں بکے ہوئے کمبل واپس لینے کی کوشش شروع کر دی بمشکل چار ہزار کمبل بکنے والے ریٹ پر واپس ملے میں نے مزید 2 ہزار کمبل بازار سے خریدے اور سب مہاجرین میں تقسیم کر دیئے بیمار مہاجروں کے لیے 6 نیپالی ڈاکٹروں سے معاہدہ کیا گیا کہ وہ بیماروں کو کلینک میں بلا کر یا ان کے گھروں میں آ کر ان کا علاج کریں اور دو میڈیکل اسٹورز سے ڈیل کر کے ڈاکٹروں کی تفویض کردہ ادویات مہاجروں کے نمبر نوٹ کر کے دے دیا کریں اور اس کام کے لیے انکو ایڈوانس رقم کی ادائیگی کر دی گئی میں نے سارے روپے اس لیے تقسیم نہ کیے تھے کہ نہ جانے انکو کب تک یہاں رہنا پڑے گا اور کب کس وقت اچانک پیسوں کی ضرورت پڑ جائے بے غیرت اور گھٹیا لالچی سفیر نے میرے خلاف کیسی کیسی روپوٹس پاکستان بھیجی اسکا مجھے علم تو نہ ہو سکا مگر جب پاکستان گیا اور کچھ عرصہ بعد اپنے محکمے سے علیحدہ ہوا تو پتہ چلا کہ ہر قسم کی ملازمت کے دروازے میرے لیے بند کر دیئے گئے تھے مجھے بلا وجہ تنگ کیا جانے لگا میری نگرانی کی جانے لگی یہ سب اس غدار حکمران بھٹو کی مہربانیاں تھیں جس نے پاکستان کو دولخت کیا اور اپنی حکومت بنانے کے لیے ہر غلط کام کر گیا اور جو بجی غداری میں اس کا ساتھ دینے والا تھا اسکو اس طرح کی اعلی پوسٹوں پر تعینات کر دیا گیا تھا جیسا کہ ایک نیپالی میں پاکستانی سفیر تھا. میرے باہر جانے پر پابندی لگا دی گئی تھی مگر اس حالت میں بھی میرے محکمے نے میرا بھر پور ساتھ دیا اور آخر 78ء میں مجھے میرے محکمے کی کوشش سے پاسپورٹ جاری کر دیا گیا
 اسی مصروفیات میں 3 دن گزر گئے مکتی باہنی کے 8 کارکن میرے دماغ میں کیل کیطرح چب رہے تھے میں اکیلا انکو ختم نہی کر سکتا تھا بہت سوچ وبچار کے بعد میں نے نذیر کو دہلی فون کیا میری آواز سن کر وہ خوشی سے پاگل ہو رہا تھا میں نے اس سے ساتھیوں لڑکوں اور عارف کی خیریت دریافت کی اس نے بتایا کہ سب ٹھیک ہیں اور میں نے عارف سے بات کرنے کے لیے اسے بلانے کا کہا مزید نذیر نے مجھے بتاہا کہ نیا گروپ کمانڈر آ گیا ہے اس لیے میں نے ساتھیوں سے بات کرنا مناسب نہ سمجھا کہ نیا گروپ کمانڈر نہ جانے کیا سوچے گا ٹھیک 30 منٹ بعد دہلی سے خفیہ کال آئی تو نذیر کے ساتھ عارف بھی تھا میں نے کھلے طور پر تو عارف کو کچھ نہ بتایا مگر کوڈ میں اسے کہا کہ قیصر اپنے دیگر لڑکوں سمیت پورے تیاری کے ساتھ کھٹمنڈو پہنچ جائے عارف میری بات سمجھ چکا تھا اس نے کہا کہ وہ کل ہی قیصر سے ملے گا اور پھر جلد ہی ہم لوگ وہاں پہنچ جائیں گے اس نے مجھے کل اسی وقت دوبارہ فون کرنے کو کہا میں نے عارف کو میرے ساتھیوں سے میرا سلام کہنے اور سیکورٹی کیوجہ سے بات نہ کرنے پر معذرت چاہی اگلے روز جب میں نے دہلی فون کیاتو قیصر بھی موجود تھا قیصر نے بتایا کہ کل شام وہ اپنے 4 ساتھیوں سمیت ٹرین سے کھٹمنڈو آ رہے ہیں ہوائی جہاز پر اس لیے نہیں آ رہے کیونکہ سردی کیوجہ سے پوری تیاری کے ساتھ آنا ہے سکیورٹی کیوجہ سے ہم نے کوڈز میں گفتگو کی.
ادھر پہلے دو روز محسن اکیلا پھر اپنے ساتھی بزرگ کے ساتھ مجھے ملنے آئے وہ بہت عمدہ شعر کہتے تھے انکی ایک غزل مجھے بہت پسند آئی جو وہاں کے حسب حال تھی آپ سب کی پیش خدمت ہے
کچھ بتا گردش حالات یہ دن کیسے ہیں
ساز ہیں قاتل نغمات یہ دن کیسے ہیں
ایک چلو بھی نہیں ہونٹ بھگونے کے لیے
خشک ہے جوئے خرابات یہ دن کیسے ہیں
چبھ رہے ہیں میرے تلوؤں میں مسائل کے ببول
شہر ہے دشت سوالات یہ دن کیسے ہیں
ایک مرکز پہ نظر آتے ہیں غم اور خوشی
یہ جنازہ ہے یا بارات یہ دن کیسے ہیں
لوگ ملتے ہیں مل کے بچھڑ جاتے ہیں
 کیوں نہیں ملتے خیالات یہ دن کیسے ہیں
ان کے وعدے نے میرے جینے کو برباد کیا
کس قیامت کے ہیں لمحات یہ دن کیسے ہیں
دہلی میں قیصر سے بات ہونے کے ٹھیک 5 دن بعد قیصر اپنے ساتھیوں سمیت کھٹمنڈو پہنچا ہم یوں گلے ملے جیسے برسوں کے بچھڑے ہوے بھائی اچانک مل رہے ہوں میں ان سے بہت سی باتیں کرنا چاہتا تھا لیکن مسلسل سفر سے ہونے والی تھکاوٹ ان کے چہروں سے عیاں ہو رہی تھی میں نے ان کے لیے انا پورنا ہوٹل کے اعلی درجے کے ٹورسٹ ہوٹل میں کمرے بک کرواے انہیں ہوٹل میں چھوڑ کر انہیں آرام کرنے اور مزید گفتگو اگلے روز دوپہر کے کھانے پر کرنے کا کہہ کر واپس آ گیا شام کو محسن آ گیا میں اسے بھی اعتماد میں لینا چاہتا تھا چھوٹا شہر بادشاہ کی رہائش اور دارالحکومت ہونے کیوجہ سے یہاں کی پولیس ہر ایک پر خصوصی نظر رکھتی تھی محسن چونکہ کئی ماہ سے یہاں مقیم تھا اس لیے اسے سب مہاجروں اور ان کے روپ میں چھپے پاکستان دشمن عناصر کے متعلق معلومات حاصل کرنے اور ان تک رسائی نسبتاً کم دشوار تھی میں نے محسن سے اس بارے میں بات کی تو وہ خوشی سے اچھل پڑا کہنے لگا آصف بھائی گو میں ابھی جسمانی طور پر کمزور ہوں لیکن مکتی باہنی کے درندوں سے انتقام لینے کی خواہش میرے دل میں بہت شدت سے ہے موقع ملنے پر ان شاء اللہ مجھ میں آپ شیر جیسی طاقت دیکھیں گے میں نے محسن سے کہا کہ مکتی باہنی کے 8 آدمی یہاں پر مہاجروں کے روپ میں موجود ہیں وہ اکیلے رہتے ہیں اور مہاجروں کو پیسے کا لالچ دے کر پاکستان کے مفاد کو نقصان پہنچانے کے لیے انکو ٹریننگ دے رہے ہیں میرے پاس ایک فہرست ہے جسمیں ایسے لوگوں کی تعداد زیادہ ہے میں نہیں چاہتا کہ کوئی بے گناہ میرے ہاتھوں مارا جائے میں اس لسٹ
میں موجود تمام لوگوں کی تصدیق کرنا چاہتا ہوں ممکن ہے اس لسٹ میں بے گناہ بھی ہوں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان میں مکتی باہنی کے کچھ اور لوگ یہاں موجود ہیں جن کے نام میری لسٹ میں موجود نہ ہوں اس دوران محسن غور سے میری بات سنتا رہا اس نے کہا کہ آپکو آے چند روز ہوے ہیں مگر میں یہاں کافی عرصہ سے مقیم ہوں اور ہمیشہ پاکستان دشمنوں کی کھوج میں رہتا ہوں. ایسے کچھ لوگوں کے نام اور کوائف مجھے ازبر ہیں آپ اپنی لسٹ نکالیں اور مجھے نہ دکھائیں بس میں ان لوگوں کے نام بولتا جاتا ہوں آپ چیک کرتے جائیں میں نے لسٹ نکالی محسن ایک ایک کر کے نام لینے لگا میں حیران تھا کہ اس کے بتائے ہوئے تمام نام لسٹ میں موجود تھے حتی کے سارے نام ختم ہو گئے لیکن وہ نہ رکا میں نے ان سب کے نام اور کوائف الگ لکھ لیے یہ ان مہاجروں کے نام تھے جنہیں مکتی باہنی والے پلانٹ کر چکے تھے محسن نے یہ بھی بتایا کہ ان میں 3 مہاجر اپنی فیملیز یہاں چھوڑ کر پاکستان جا چکے ہیں اور ان سے یہ کہا گیا ہے کہ وہ پاکستان سے معلومات لے کر کھٹمنڈو بھیجیں گے تو انکی فیملیز کو پاکستان بھیج دیا جاے گامیں نے محسن کو ٹوکا اور سوال کیا کہ کہ پاکستان بھیجنے کے تمام تر انتظامات جانے والوں کی لسٹیں اور شیڈول تو پاکستانی سفارت خانے کے ہاتھ میں ہے پھر مکتی باہنی کے یہ ایجنٹ اپنی مرضی سے کیونکر پوری فیملی میں سے ایک شخص کو پاکستان بھجواتے اور باقی فیملی کو رکوا سکتے ہیں محسن ہنس پڑا اور بولا آصف بھائی سب کچھ ممکن ہے ایمبیسی میں 10 ہزار روپے دے کر اگلے روز جانے والی فلائٹ پر جانے والوں کی فہرست میں سے کسی کا بھی نام کٹوا کر اپنا نام درج کروایا جا سکتا ہے اور اس طریقے سے میرے بتاے ہوے تینوں مہاجر پاکستان جا چکے ہیں میرا اگلا سوال تھا کہ جب 10 ہزار سے کہیں کم روپوں میں نیپال سے بنکاک اور پھر کراچی پہنچا جا سکتا ہے تو پھر ان مہاجروں کو افغان ائیر لائن سے ہی کیوں بھیجا جا رہا ہے میں نے سوال تو کر دیا تھا لیکن فوراً ہی میرے ذہن میں آیا کہ یہ ائر لائن تو یو این او کی مخصوص کردہ ہے اور ان پر جانے والوں کو کھٹمنڈو کا پاکستانی سفارت خانہ خصوصی بنے ہوے یک طرفہ پاسپورٹ ایشو کرتا ہے جبکہ کسی دوسری ائیر لائن اور کسی دوسرے روٹ سے پاکستان جانے کے لیے بین الاقوامی پاسپورٹ لازمی تھا اور نیپال میں پاکستانی سفارتخانہ ملکی پالیسی کے تحت ایسا پاسپورٹ ایشو نہی کر سکتا تھا
مجھے محسن پر پورا بھروسہ تھا مگر جب تک میں اسے عملی طور پر کام سر انجام دیتے دیکھ نہ لیتا میں اسے دہلی سے آے ہوے لڑکوں سے ملوانا نہیں چاہتا تھا اسکیوجہ وہ خوف اور بے اعتباری تھی جو پاکستانی کورئیر کی غداری کیوجہ سے میری گرفتاری کا موجب بنی تھی میں نے محسن سے کہا کہ اگر میں اس کے ساتھ رہوں تو کیا وہ کسی ایک مکتی باہنی والے کو کیفر کردار تک پہنچا سکتا ہے محسن کہنے لگا آصف بھائی ایک تو کیا میں سب کو عبرت انگیز موت مارنے کے لیے تیار ہوں کھکھڑی سے وار کرنے کی میں نے یہاں کافی پریکٹس کر لی ہے میں نے تو انہیں بہت پہلے ہی ٹھکانے لگا دیا ہوتا مگر اپنی جسمانی کمزوری کے باعث یہ کام نہ کر سکا آپ میرے ساتھ ہوں اور کہیں میں کمزور پڑ جاؤں تو میری تھوڑی مدد کر دیں تو میں یہ کام بلا توقف کرنے کو تیار ہوں میں نے محسن کو اچھی طرح ٹھونک بجا کر آئندہ رات 8 بجے اپنی کھکھڑی ساتھ لانے اور اپنا پہلا شکار خود منتخب کرنے کا کہہ کر رخصت کر دیا دوسرے روز میں دوپہر کو ٹورسٹ ہوٹل گیا وہ پانچوں لڑکے میرے انتظار میں تھے کھانے کے بعد ہم سب قیصر کے کمرے میں چلے گئے اور میٹنگ شروع کی میں نے انہیں یہاں کے تمام حالات تفصیلاً بتا کر کہا کہ مکتی باہنی کے 8 آدمی پوری آزادی کے ساتھ اپنی سرگرمیوں میں مصروف ہیں انہیں ٹھکانے لگانا ہے میں نے انہیں بتایا کہ ایک بہاری مہاجر بھی ہمارے ساتھ اس کام میں شریک ہو گا اور پہلا شکار وہی کرے گا سب لڑکے اپنے ساتھ پستول اور چاقو لاے تھے میں نے انہیں کہا کہ یہاں صرف چاقو استعمال کرنے ہیں کیونکہ بارودی اسلحہ کی آواز سے ہمساے فوراً بیدار ہو جائیں گے میں نے انہیں کہا کہ اگر روز ایک دو شکار کیا جاے تو پولیس بھی چوکنی ہو جاے گی اور چونکہ ان کا آپسمیں رابطہ ہے وہ بھی ہوشیار ہو جائیں گے اس طرح سب اپنے انجام کو نہیں پہنچ پائیں گے اس لیے ایک رات میں ہی سب کو ٹھکانے لگانے کا پروگرام بنانا ہے بآلاخر فیصلہ ہوا کہ آج جو محسن نے ایک کو مارنا ہے اس کو ملتوی کر دیا جائے اور محسن لڑکوں کو ان کے گھر اور شکلیں دکھا دے باقی لڑکے فرار کے راستے خود دیکھ لیں گے مکتی باہنی والوں کی ٹائمنگ نوٹ کی جاے گی کہ کب وہ محفل برخاست کر کے اپنے گھروں میں جاتے ہیں جب سارا پلان تیار ہو جاے گا پھر محسن کو ملا کر 6 آدمیوں کی 2 پارٹیاں بنائی جائینگی اور ایک رات میں ہی کام مکمل کیا جاے گا میں دونوں گروپوں کی نگرانی کروں گا اور اگر ضرورت پڑے تو اسلحہ استعمال کروں گا پہلا گروپ رات 9 بجے اپنا کام شروع کرے گا جبکہ دوسرا گروپ اسکی نگرانی کرے گا جب وہ اپنا مشن مکمل کر لے گا تو دوسرا گروپ اپنا مشن شروع کرے گا اور پہلا اسکو کور دے گا دونوں گروپوں نے دستانے لازمی پہنے ہوں گے کام ختم ہونے کے بعد سب اپنے چاقو مجھے جمع کروا دیں گے اور میں انہیں شہر سے کہیں دور پہاڑوں میں پھینک آؤں گا. یہ تمام تفصیلات طے کرنے کے بعد میں ہوٹل جانے لگا تو ایسے لگا کہ قیصر مجھ سے کوئی بات کرنا چاہتا ہو چنانچہ میں اسے اپنے ساتھ لے آیا ہوٹل پہنچ کر میں نے کافی کا آرڈر دیا اور قیصر سے دہلی کے حالات پوچھے اس نے بتایا کہ لڑکوں کا جوش اور سرگرمیاں ختم ہو کر رہ گئی ہیں گیراج میں جہاں ہر شام لڑکے اکھٹے ہوتے تھے اب کبھی کبھی آتے ہیں اور ادھر ادھر کی باتیں کر کے چلے جاتے ہیں میں نے وجہ پوچھی تو پہلے تو وہ جواب دینے سے کترایا لیکن میرے زور دینے پر وہ پھٹ پڑا کیا کہا آپ نے جس جذبے اور محبت سے تربیت دی تھی وہ اب مفقود ہے آپکے جانے کے بعد جب تک حبیب گروپ لیڈر رہا وہ بلکل آپکی طرح ہمارے ساتھ گھل مل کر رہا آپکی کمی تو محسوس ہوتی تھی مگر اس نے ہمارے جوش اور ولولے میں ذرا بھی فرق اسر کمی نہیں آنے دی لیکن جب سے نیا گروپ لیڈر آیا ہے حالات بلکل بدل گئے ہیں اس نے حبیب اور ساتھیوں کو ہم سے ملنے سے روک دیا ہے اس نے اپنی رہائش اب تک نذیر کے ہاں اپنے ساتھیوں کے ساتھ رکھی ہوئی ہے ہم پہلے کیطرح حبیبِ اور ساتھیوں سے ملنے گئے وہ ہمارے ساتھ بڑی رکھائی سے پیش آیا اس کے رویے سے لڑکے بددل ہو چکے ہیں یہ سب کچھ بتا کر قیصر نے مجھے نذیر کا خط دیا
نذیر نے لکھا تھا کہ اپنی جوان بچیوں کیوجہ سے میں اب بھی گھر میں رہتا ہوں جب آپ پکڑے گئے تو ہمیں ہر وقت ڈر لگا رہتا کہ اب بھارتی فوج ہمارے گھر پر دھاوا بول دے گی مگر آپکے فرار ہو کر آنے اور دہلی سے جانے تک ایسا کچھ نہ ہوا سب خیریت سے لیکن آپ کے جانے کے بعد ہم سب فیملیز کے اندر ایک انجانا خوف ہے میں نے حبیب سے بات کی تو اس نے کہا کہ نئے لیڈر کے آنے تک مہلت چاہیے میں مان گیا مگر جب نیا لیڈر آیا تو ان کو ایک اور فلیٹ دکھایا گیا اور رہائش تبدیل کرنے کا کہا مگر وہ ابھی تک وہی ہے مجھے ڈر لگا رہتا ہے کہ کسی ٹائم کچھ بھی ہو سکتا ہے میں نے پاکستانی مسلمان بھائی ہونے کے ناطے سب برداشت کیا ہے پلیز مجھے اب اس مصیبت سے نجات کی کچھ ترکیب کریں.
میں نے خط پڑھ کر قیصر کیطرف بڑھا دیا قیصر میرے چہرے پرپریشانی واضع دیکھ رہا تھا قیصر نے کہا کہ نذیر نے یہ خط مجھے پڑھا کر ہی لفافے میں بند کیا تھا ہم نے حبیب سے بھی یہاں آنے سے پہلے اس مسئلے پر بات کی تھی وہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی مجبور ہے ڈاک کا پیکٹ گروپ لیڈر اپنے سامنے پیک کرواتا ہے اور اسی گھر میں رہنے کیوجہ سے ٹرانسمیٹر پر بھی مختصر پیغام اسی کی موجودگی میں بھیجا اور رسیو کیا جاتا ہے نذیر نے یہ خط آپکو اپنی آخری کوشش سمجھتے ہوئے بھیجا ہے اگر جلدی ہی اسے کوئی مثبت جواب نہ ملا تو ہم گیراج والے یہ معاملہ اپنے ہاتھ میں لے لیں گے اور آپ تو ہمیں جانتے ہی ہیں کہ ہم اگر پاکستان کے لیے بھارتی ڈی ایم آئی سے ٹکرا سکتے ہیں تو اپنی بہنوں کی عزت کے لیے ایک پاکستانی لاوارث جاسوس کے ساتھ کیا کر سکتے ہیں 
جاری ہے

Next Episode


No comments:

غازی از ابو شجاع ابو وقار قسط نمبر60 Ghazi by Abu Shuja Abu Waqar

Ghazi  by  Abu Shuja Abu Waqar  غازی از ابو شجاع ابو وقار  پیشکش محمد ابراہیم 60 آخری قسط نمبر  Ghazi by Abu Shuja Abu...

Powered by Blogger.