Ads Top

Massom Si Larki By Sabahat Khan Episode No.7 || 7معصوم_سی_لڑکی از صباحت_خان قسط نمبر

Massom Si Larki
 By
 Sabahat Khan

  معصوم_سی_لڑکی
 از
 صباحت_خان

Massom Si Larki  By  Sabahat Khan     معصوم_سی_لڑکی  از  صباحت_خان
#معصوم_سی_لڑکی

#صباحت_خان✏

#قسط7
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
اس ناول کے تمام جملہ حقوق #کریزی_فینس_اوف_ناول ویب کے پاس محفوظ ہیں اس ناول کو کہیں بھی پیج ,گروپ ,ویب سائٹ اور بلاگ پر پوسٹ کرنے کی اجازت نہیں ہے بصورت دیگر کاپی پیسٹ کرنے والے کے خلاف #کریزی_ویب ہر طرح کی چارہ جوئی کرنے کا حق رکھتی ہے
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
دیکھوں گڑیا میری بات دھیان سے سنو میاں بیوی کا رشتہ ہی جائز رشتہ ہوتا ہے بیوی کا کام ہوتا اپنے شوہر کی چھوٹی سے چھوٹی بات مانے اور اس کے سب کام خود کرے اور شوہر کا کام ہوتا ہے وہ اپنی بیوی کا خیال رکھے اسے ہر میلی آنکھ سے دور رکھے اس کی حفاظت کرے اور جب میاں بیوی خوش ہوتے تو اللّه بھی خوش ہوتا ہے روہان سے جب آپ کا نکاح ہوگا وہ آپ کا محرم ہوجائے گا اس سے نہ آپ کا پردہ ہوگا نہ ہی اس کے ساتھ رہنے سے آپ کو گناہ ملے گا بلکے میاں بیوی کا رشتہ دنیا کا سب سے خوبصورت رشتہ ہے بھائی بہن ماں باپ یہ وہ رشتے ہیں جو ہمیں پیدا ہوتے ہی مل جاتے ہیں پر میاں بیوی کا رشتہ دنیا میں بنتا ہے پر جوڑی اللّه پہلے سے ہی آسمان میں بنا لیتے ہیں اور یہی رشتہ سب سے مضبوط ہوتا ہے ،حیا بہت دھیان سے حیدر کو سن رہی تھی حیدر کا سمجھانے کا انداز واقی خوبصورت تھا دروازے کے پاس کھڑے برہان نے سوچا،
 ٹھیک ہے بھیا میں ان کے ساتھ جاوُ گی حیا نے نظرے جھکائے ہاتھوں کی انگلیوں سے کھیلتے ہوئے ایسے کہاں جیسے کوئی جرم کا عتراف کر رہی ہو،گوڈ گرل حیدر نے پیار سے حیا کے سر پر ہاتھ پھیرا،
پر بھیا مجھے آپ لوگوں کے بغیر ڈر لگے گا ،ایسے کیسے ڈر لگے گا ہماری گڑیا کا روہان بہت خیال رکھے گا اگر نہیں رکھا تو ہم دونوں اس کے کان کھینچے گے ہے نہ حیدر برہان نے باہر آتے ہوئے کہا، اب تو ہماری گڑیا کو کوئی عتراض نہیں ہے نہ برہان نے پیار سے پوچھا ،
حیا نے نیچے منہ کر کے نہ میں سر ہلایا،لندن جائے گی شادی کر کے اس حیا کی قسمت اتنی اچھی کیسے ہوگئی میری پوری زندگی ان گھر والوں کی خدمت کرتے گزر گئی اور لندن یہ مہارانی جائے گی میں ایسا ہرگز نہیں ہونے دو گی اس حیا کے ساتھ تو میں وہ کرو گی کے روہان کیا کوئی بھی لڑکا اس سے شادی نہیں کرے گا دروازے کے پیچھے کھڑے حنا نے نفرت سے سوچا اسے حیا سے حد سے ذیادہ حسد محسوس ہورہی تھی اس وقت،
ٹرن ٹرن ___حیدر کا فون رنگ کرنے لگا اس نے کال اٹھائی ہاں میجر رفیق حیدر نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا،سامنے سے حیدر کو جو خبر ملی حیدر نے زور سے اپنی آنکھیں بند کرلی میں آرہا ہوں حیدر نے کہہ کر فون بند کیا
 بھائی مجھے ابھی جانا ہوگا ضروری کام ہے حیدر نے برہان سے کہا پر آج تو روہان آرہا ہے اس سے ملنا ہے بھائی میں کل مل لوگا ابھی مجھے ارجنٹ کہی جانا ہے ویسے بھی وہ آج آئے گا اسے کہوں آرام کرے کل ملاقات ہوگی حیدر کہہ کر اندر چلا گیا،
تھوڑی دیر بعد وہ باہر آیا تو آرمی یونیفارم میں تھا بھیا آپ کل تو آئے ہو حیا نے گلے لگتے ہوئے کہا اس کی آنکھوں میں آنسوں تھے گڑیا آپ کے جیسے آپ سے بھی چھوٹے بچوں کو میری ضرورت ہے میں جلد آوُ گا ٹھیک ہے اب مسکرا کے دیکھاوُ حیدر نے پیار سے اس کا چہرا اپنی طرف کیا حیا نم آنکھوں سے مسکرا دی،
میری بہادر گڑیا حیدر اس کے ماتھے پر پیار کر کے روانہ ہوگیا
***********
فلائٹ لینڈ کر چکی تھی فاروق صاحب باہر کھڑے روہان کے آنے کا انتظار کر رہے تھے ان کے چہرے پر خوشی تھی اور خوش کیوں نہیں ہوتے ان کا بیٹا اتنے سالوں بعد آرہا تھا ،
آنکھوں پر سن گلاسس لگائے صاف رنگت اس پر کھڑی ناک مغرور چال چلتے ہوئے وہ آرہا تھا سیدھے ہاتھ میں کورٹ لیے اور دوسرے ہاتھ سے اپنا بیگ پکڑے وہ باہر آرہا تھا جب فاروق صاحب کی اس پر نظر پڑی وہ پہلے سے اور بھی ذیادہ ہنڈسم ہوگیا تھا فاروق صاحب نے دل میں سوچا اور اس کی طرف بڑھے، وہ اس کے گلے لگتے اس سے پہلے اس نے ہاتھ کے اشارے سے انہیں روک دیا،
آپ کیوں آئے ائیرپورٹ میں نے آپ کو نہیں بلایا روہان نے ماتھے پر بل ڈھالے کہا اور یہاں وہاں نظرے دوڑانے لگا، پر بیٹا میں لینے آیا ہوں تمہیں گھر چلو بیٹھ کے بات کرے گے فاروق صاحب نے اپنی خفت مٹانے کے لیے بات شروع کی، جب کر روہان ان کی طرف دیکھ بھی نہیں رہا تھا،
میں نے آپ کو نہیں بلایا تو میں آپ کے ساتھ کیوں جاوُ میں نے ہوٹل میں اپنے لیے روم بُک کروا لیا ہے اور گاڑی بھی میرا ڈرائیور آتا ہوگا اب آپ جا سکتے روہان نے بغیر لحاظ کے کہا فاروق صاحب کے چہرے پر اداسی آگئی،
اسے گاڑی نظر آگئی ڈرائیور اس کے نام کا بورڈ لیے کھڑا تھا اب میں چلتا ہوں روہان قدم بھڑانے لگا کر فاروق صاحب نے فوراً کہا، حیدر جو تم سے ملے گا وہ، فاروق صاحب کی بات بیچ میں ہی تھی کے روہان نے فوراً کہا آج میں آرام کروں گا کل ملاقات ہوگی روہان کہہ کر رکا نہیں تھا اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گیا
فاروق صاحب کی آنکھ میں ہلکی سی نمی آگئی ان کا بیٹا ان سے بہت دور ہوگیا تھا،
**************
حیدر نے اپنی جیب روکی دروازہ کھول کے باہر آیا اس کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھی اس نے جیسے ہی اندر قدم رکھا ایک آفسر اس کے پاس آیا سر وہ،__حیدر نے ہاتھ سے اسے کہنے سے روکا__بچی کہا ہے حیدر نے بلکل سپاٹ چہرے کے ساتھ پوچھا__سر وہ پوسمارٹم کے لیے ____رپورٹ کب تک آئے گی___حیدر نے پھر سے بات کاٹ کے پوچھا__ سر تھوڑی دیر میں آجائے گی حیدر نے آفسر کی بات پر سر ہلایا اندر بڑھ گیا،
میجر عدنان حیدر نے اسے پکارا جو دیوار سے ٹیک لگائے کسی گھری سوچ میں گم تھا حیدر کی آواز پر اس نے اس کی طرف دیکھا میجر عدنان کی آنکھوں میں نمی تھی سر میں نہیں بچا سکا اپنی بھانجی کو عدنان نے اپنے ہونٹ بہنچ لیے جیسے خود پر ضپط کر رہا ہو،میں اپنی بہن کے سامنے کیسے جاوُ عدنان کے آواز میں بیبسی تھی،
حیدر نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا،ہم پری کو نہیں بچا سکے پر اس کے جیسے بہت سے بچوں کو ہمیں بچانا ہے حیدر نے اس کی آنکھوں میں دیکھا حوصلہ رکھوں حیدر بول کے آگے بڑھ گیا
میجر رفیق وہ کہا ہے جیسے کچھ دن پہلے آرمی نے پکڑا حیدر نے چئیر پر بیٹھتے ہوٙئے کہا سر اسے بہت مارا پر وہ کسی سورت اپنا منہ کھولنے کو تیار نہیں ہے،
چلو ایک ملاقات میں بھی کرلوں اس سے حیدر بول کے کھڑا ہو گیا میجر رفیق بھی حیدر کے ساتھ چل دیے،
ٹوچر روم میں حیدر داخل ہوا تو ایک آدمی جس کے بدن پر شرٹ نہیں تھی اس کے دونوں ہاتھ اوپر کی طرف بندھے ہوئے تھے اور وہ آنکھیں بند کیے اپنا سارا وزن ان ہاتھوں پر ڈھالے بیہوش تھا،
حیدر قدم قدم چل کے اس کے پاس آیا تھوڑے پاس رکھے مٹکے سے اس نے ایک گلاس پانی لیا اور اس کے چہرے پر مارا وہ آدمی دھیرے دھیرے آنکھیں کھولنے لگا میجر رفیق دو کرسی لاوُ حیدر کی بات پر رفیق نے ہاں میں سر ہلایا اور دو کرسی لے آیا،
حیدر ایک کرسی پر ٹانگ پہ ٹانگ رکھ کے بیٹھا ،اس کے ہاتھ کھولو اور کرسی پر بیٹھاوُ حیدر کی بات پر رفیق نے فوراً امل کیا،
اب حیدر اور وہ آمنے سامنے بیٹھے تھے، میں تم سے ذیادہ سوال نہیں کرو گا ایک سوال کروں گا جواب تم سارے دوگے حیدر کی بات پر اس آدمی نے حیدر کی طرف دیکھا اور نہ میں سر ہلایا،حیدر نے اس کے بال اپنی مٹھی میں پکڑے میں تم سے پوچھ نہیں رہا تمہیں بتا رہا ہوں حیدر نے شدید غصے سے کہا اور اسے ایک جھٹکے سے چھوڑ دیا،
کون ہے اس سب کے پیچھے حیدر نے اس کی طرف دیکھ کر آرام سے سوال کیا،میں بہت بار بول چکا ہوں میں بچی کو اپنے لیے اٹھا رہا تھا میں کسی کے لیے کام نہیں کرتا اس آدمی نے رٹے رٹائے طوطے کی طرح واپس وہی بات دوہرائی،
حیدر نے ہاں میں سر ہلایا اور ہاتھ آگے کیا رفیق نے اس کے ہاتھ میں ایک چاکو رکھا حیدر نے وہ چاکو گور سے دیکھا، چاکو دیکھ کے اس آدمی کے گلے میں گٹھلی سی ڈوب کے ابھری میں آخری بار پوچھ رہا ہوں کون ہے اس سب کے پیچھے حیدر نے اس کی طرف دیکھا اس وقت حیدر کی آنکھوں سے رفیق کو بھی خوف محسوس ہوا، 
نہیں پتا!!!!!! حیدر نے اس چاکو کو اپنی مٹھی میں پکڑا اور تیز سے اس کے گٹھنے میں مارا چاکو اس کے گٹھنے کے اندر تک چلا گیا،
آاااااااااااا-----اس آدمی کی چیخ سے سب دیوارے ہل گئی،نہیں پتا!!!!!!!حیدر نے بول کے ایک بار پھر چاکو ہوا میں بلند کیا اور اس کے دوسرے گٹھنے میں دے مارا،
آااااااااااا_ ___اس آدمی کے حلق سے خوف ناک شیخ کی آواز نکلی،
نہیں پتا! !!!!!!!!! حیدر نے اس کا ہاتھ پکڑا چاکو ہوا میں بلند کیا_ __بتا تا ہوں بتاتا ہوں اس آدمی نہ جلدی سے کہا خوف سے وہ کانپنے لگا،حیدر اس کا ہاتھ چھوڑ کے پیچھے ہوکے بیٹھ گیا،
میں نہیں جانتا ان سب کے پیچھے کون ہے پر میں شکیل نامی بندے کو جانتا ہوں میں بچے اٹھا کے اسے دیتا ہوں پھر وہ ان بچوں کے ساتھ کیا کرتے مجھے نہیں پتا__اس آدمی نے جلدی جلدی بولنا شروع کیا، حیدر نے پھر سے چاکو کی طرف دیکھا اس آدمی نے حیدر کے نظروں کو دیکھا اور جلدی سے بولنے لگا،
مجھے،___مجھے سچ میں نہیں پتا بس__بس اتنا پتا ہے کے دنیا اسے راجا صاحب کے نام سے جانتی ہے اس کا اصلی نام کسی کو نہیں پتا اسے آج تک کسی نے نہیں دیکھا سوائے شکیل کے اور_ __اور ابھی اس نے شیخ سے کوئی ڈیل کی ہے پچاس بچوں کی اس لیے ہمارا_ __ہمارا نیٹ ورک چاروں طرف پھیلا ہوا ہے ہمیں_ __ہمیں یہ آرڈر جلد ہی پورا کرنا ہے مجھے اس ذیادہ کچھ_ _کچھ نہیں پتا میری قسم،اس آدمی نے خوف اور درد کے ملے جلے تاسرات سے اپنی بات کہی،
حیدر کھڑا ہوگیا اور ایک رکھ کے تھپڑ اس کے گال پر مارا اس آدمی کا دماغ سن ہوگیا حیدر کے ایک تھپڑ سے، اس قوم کے بچے تمہارے باپ کا مال ہے جو تم ان کی ڈیل کرو گے حیدر کی آنکھوں سے خون ٹپک رہا تھا،اب دیکھوں تم سب کے ساتھ یہ آرمی کیا کرتی ہے،
اس سے شکیل کا اسکیچ بنواوُ رفیق کو کہہ کر حیدر باہر نکل گیا اپنے آفس میں چئیر سے ٹیک لگائے اس نے اپنی آنکھے موند لی،آنکھیں بند ہوتے ہی اس کے سامنے حیا کا معصوم چہرا آیا اس نے ایک دم آنکھیں کھول لی،مجھے گڑیا کے لیے روہان سے ملنا ہے سب ٹھیک رہا تو مجھے گڑیا کو جلد ہی یہاں سے بھیجنا ہوگا،جبھی میں اس کیس پر سہی سے فوکس کر سکوگا، حیدر نے سوچ کے برہان کو کال ملائی، بھائی کل اسے گڑیا کے فیوریٹ رسٹورنٹ میں بلا لو میں اس سے وہی ملوگا حیدر نے بول کے کال رکھ دی، اتنے میں دروزہ نوک ہوا،
آجاوُ !!!حیدر کے کہنے پر آفسر اندر آیا سر پوسمارٹم رپورٹ!! اس نے سامنے ٹیبل پر رپورٹ رکھی اور حیدر کے اشارے پر سلیوٹ مار کے چلا گیا، حیدر نے ہاتھ بڑھا کے فائل اٹھائی،
بچی کے جسم پر سگریٹ کے نشان اس کے ساتھ ذیادتی اور گلا دبانے سے موت حیدر نے فائل ٹیبل پر پھنک کے ماری پھر سے وہ ہی سب حیدر نے سر اپنے ہاتھوں پر گرا لیا
****************
تم اب تک تیار نہیں ہوئی مشعل حیا کے سر پر کھڑی پوچھ رہی تھی جو اپنی کتاب پر جھکے کچھ پڑھ رہی تھی،
یار میرا دل نہیں کر رہا حیا نے مشعل کی طرف دیکھا ،کیا دل نہیں کر رہاں اٹھوں یار برہان بھائی نے مجھے کہا تھا حیا کو اچھی سی شوپنگ کرواوُ،اب اٹھوں بھی مشعل نے اس کا ہاتھ پکڑ کے کھڑا کیا،
پر رات کے سات بج رہے ہیں اس ٹائم ہم کیسے جائے گے حیا نے گھڑی کی طرف دیکھ کے کہا،اپنے ساتھ بلال بھائی بھی ہے مشعل نے وارڈروب سے اس کے کپڑے نیکال کے اس کے ہاتھ میں پکڑائے
حیا بے دلی سے تیار ہوئی اس کا پتا نہیں کیوں دل گھبرا رہاں تھا آج لائٹ پنک کلر کی کرتی کے ساتھ وائٹ کلر کا پلازو پہنے اس پر وائٹ کلر کا ہی اسکاف لیے بہت پیاری لگ رہی تھی لاوُ میں پہناوُ مشعل نے اس کا اسکاف اسٹائلش سا باندھ دیا حیا نے خود کو آئینہ میں دیکھا وہ واقی بہت پیاری لگ رہی تھی جب کے مشعل خود بھی سکین کلر کا سوٹ پینے سر پر ڈوپٹہ لیے اچھی لگ رہی تھی یار جلدی کرو بلال بھائی انتظار کر رہے مشعل اس کا ہاتھ پکڑ کے باہر لے آئی
 جہاں بلال صاحب مزے سے ٹانگے اوپر کیے سوفے پر آرام فرما رہے تھے لو میں یہاں تکڑ کر رہی ہو یہ صاحب آرام کر رہے مشعل نے اسے جاکے ہلایا اٹھوں بلال بھائی کیا آرمی والے سونے نہیں دیتے بلال صاحب ٹس سے مس نہیں ہوئے،سونے دو اپن کل چلے گے حیا نے مشعل کا ہاتھ پکڑ کے کہا ارے تم رکو میں اٹھاتی ہوں سارا پلین کینسل کرنا ہوگا میں نے تو اتنی لمبی لسٹ بنائی ہے شوپنگ کی ایسے کیسے سونے دو مشعل نے غصے سے کہا پھر اس کے زھن میں ایک ائیڈیا آیا
مشعل نے بلال کے کان کے پاس جاکے زور سے چیخ ماری بلال ایک دم اٹھ کے بیٹھ گیا !!!!!کہا ہے کہا ہے دشمن کہا ہے بلال نے بولتے کے ساتھ ہی ہاتھوں کا مکا بنا لیا جسے دیکھ کے مشعل اور حیا دونوں کی ہنسی نیکل گی بلال کی نیند بھاگی تو اس نے مشعل کی طرف غصے سے دیکھا وہ الگ بات تھی کے اس کے غصے کی کوئی پروا نہیں کرتا تھا ایسے کون اٹھاتا ہے جنگلی بلی بلال بولتے کے ساتھ کھڑا ہو گیا ابھی بتاتا ہوں تمہیں ،مشعل فوراً سوفے کے دوسری طرف آگئی دیکھوں آپ نے کہا تھا آپ شوپنگ لے کے جاوُ گے مشعل نے یہاں سے وہاں بھاگتے ہوئے کہا بھیا دیر ہورہی ہے بلال سوفے پر چڑھ چکا تھا اس سے پہلے مشعل تک پھنچتا حیا کی آواز اس کے کانو میں پڑی،
ابھی کے لیے چھوڑ رہاں ہوں یاد رکھنا بدلہ ضرور لوگا بلال نے سوفے سے نیچے آتے ہوئے کہا ہاں ابھی تو چلو پہلے ہی دیر کردی گدھے گھوڑے بیچ کے سو جو رہے تھے مشعل نے منہ بنا کے کہا بلال پھر اس کی طرف بڑھنے لگا کر حیا نے ہاتھ پکڑ لیا__ چلو بھیا بلال نے حیا کو دیکھا پھر اسے انگلی سے وارن کرتا ہوا گاڑی کی سمت چل دیا پیچھے سے مشعل نے اس کی نکل اتاری جسے دیکھ کے حیا کے چہرے پر اسمائل آگئی
************
روہان سو کے اٹھا اس نے گھڑی میں ٹائم دیکھا شام کے ساتھ بج رہے تھے وہ فریش ہوکے آیا کے اس کے پاس فاروق صاحب کی کال آئی میں نے کہا تھا نا میں کل مل لوں گا روہان نے فون اٹھاتے ہی کہا، ہاں میں نے وہی بتانے کے لیے کال کی ہے حیدر نے کل تمہیں ریسٹورنٹ میں بولوایا ہے ٹائم اور ایڈریس میں تمہیں سینڈ کر دوگا فاروق صاحب کی فون میں سے آواز آئی،
 ٹھیک ہے!!روہان نے تولیے سے اپنے بال خشک کرتے ہوئے کہا مجھے پاکستان سے جلد جانا ہے تو یہ شادی وادی کا ناٹک جلد ہی ختم ہوجائے تو بہتر ہے روہان کے لہجے میں بیزاری تھی،بیٹا شادی ناٹک نہیں ہوتی یہ تو فاروق صاحب اسے سمجھانا چاہتے تھے کے اس نے ان کی بات بیچ میں کاٹ دی،
اووو پلز آپ شادی کے بارے میں بات نہ ہی کرے تو بہتر ہے روہان کا لہجا طنزیہ ہو گیا، اچھا میں حیا کو ایک انگوٹھی پہنانا چیتا ہوں رشتہ پکا ہونے پر تم جاکے وہ۔ لے آوں فاروق صاحب نے اس کا طنز سمجھتے ہوئے ٹوپک چینج کیا،
واٹ دا---میں اس لڑکی کے لیے انگوٹھی آپ کا دماغ تو ٹھیک ہے،ہاں ٹھیک ہے میرا دماغ جبھی بول رہا ہوں کیوں کے میں تمہیں انگوٹھی پہنانے کا کہوں گا تو تم نہیں مانوں گے کم سے کم اپنی پسند کی انگوٹھی تو لا سکتے فاروق صاحب کا انداز سمجھانے والا تھا، مجھے نہ اس کے لیے انگوٹھی لانے کا شوق ہے نہ اسے پہنانے کا اس لیے یہ فضول کام کی امید مجھ سے نہ ہی رکھوں تو بہتر ہے روہان کا لہجہ دوٹوک تھا،
ٹھیک ہے انگوٹھی میں ہی لے آوں گا میں ہی پہنا بھی دوگا بس مجھے لگا جیسے تم مجھ سے کوئی احسان لینا نہیں چاہتے تو اپنی ہونے والی بیوی کی انگوٹھی بھی اپنے پیسو سے لاوُ گے پر خیر میں غلط تھا فاروق صاحب نے اپنے لہجے کو سرسری بنا کے کہا، روہان نے ان کی بات پر لب بہنچ لیے،
کوئی ضرورت نہیں ہے مجھ پر اور کوئی احسان کرنے کی میں لے آوُں گا رینگ روہان نے بولتے کر ساتھ فون کاٹ دیا اب اس دو ٹکے کی لڑکی کے لیے مجھے شوپنگ مول جانا ہوگا روہان نے غصے سے اپنے بیگ سے سوٹ نکالا۔ اور چینج کرنے چلا گیا،
تیار ہوکے اس نے آخری نظر خود پر ڈھالی بیلو پینٹ پر بیلو ہی شرٹ پہنے آستین کو کونیوں تک فولڈ کیے ہاتھ میں برینڈڈ واچ چمک رہی تھی بالو کو جیل سے سیٹ کیے وہ باہر جانے کو تیار تھا ،اس نے ڈرائیور کو کال کر کے گاڑی ریڈی کرنے کو کہا وہ یہاں کے راستوں سے انجان تھا،
یہاں کے سب سے اچھے اور مہنگے شوپنگ مول لے چلو_ _گاڑی میں بیٹھ کے اس نے ڈرائیور سے کہا اور خود گاڑی سے باہر دیکھنے لگا
****************
واو حیا وہ ڈریس دیکھو مشعل نے اس کا دھیان ایک ڈریس کی طرف دلوایا حیا نے بھی وہاں دیکھا کتنا پیارا ہے نہ آوں وہاں چلتے ہیں مشعل نے اسے اس شاپ کی طرف کہنچتے ہوئے کہا ،
یہ میری زندگی کی پہلی اور آخری غلطی ہے آئندہ غلطی سے بھی کبھی لڑکیوں کو ساتھ شاپنگ پر نہیں آوُں گا بلال نے کان کو ہاتھ لگا کر کہا وہ اتنے دکانوں پر پھر چکے تھے اور پسند ایک دو چیز ہی آئی تھی،
تو اب ہم شوپنگ بھی نہ کرے بولو ابھی تو حیا کے لیے دس ڈریس اور لینے ہے اور بھی بہت سارا سامان مشعل نے انگلی پر گنتے ہوئے کہا،
کیا! !!!!!!!!! نہ بابا نہ میں اور نہیں چل سکتا بلال بول کے پاس رکھی بینچ پر بیٹھ گیا میرے تو سر میں درد ہونے لگا کتنا پکاتی ہو تم لیڈیس بلال نے ڈرامائی انداز میں کہا، تو یہی بہٹھے رہو ہم تو جائے گے مشعل نے شوپنگ بیگ بلال کی گود میں رکھتے ہوئے کہا،نہیں اکیلے میں نہیں جانے دوگا بس بہت ہوگئی شوپنگ گھر چلو بلال نے بھی اسی کے انداز میں کہا،کہاں بہت ہوگئی آپ خود آئے ساتھ ہم نے نہیں کہا ہمارے ساتھ چلو مشعل نے بھی اسے غصے میں کہا،حیا کبھی مشعل کو دیکھے کبھی بلال کو،
تو تمہارے لیے نہیں آیا اپنی گڑیا کے لیے آیا ہوں اس کا خیال رکھنا ہے مجھے ایسے کیسے اکیلے بھیج دیتا رات کو بلال نے بھی اسی کے انداز میں ہاتھ گھوما گھوما کر کہا، حیا میرے ساتھ آئی ہے اس کا دھیان بھی میں رکھ لیتی ہمیں ایسے دونمبر فوجی کی ضرورت نہیں ہے مشعل نے بھی برابر کا جواب دیا،
دو نمبر فوجی کسے کہا بلال بولتے کے ساتھ کھڑا ہوگیا، بھیا بس آخری دکان میں چلو پھر گھر چلے گے حیا نے بیچ میں آتے ہوئے کہا گڑیا تم ہٹ جاوُ آگے سے آج اس چڑیل کو نہیں چھوڑو گا،چڑیل کسے کہا مشعل بھی غصے میں آگئی ہر بار گڑیا کی وجہ سے بچ جاتی ہو اب نہیں بچو گی بلال بولتے کے ساتھ ہی آگے بھڑا اسے آگے بھڑتا دیکھ مشعل ایک دم پیچھے ہوگئی، بھیا آپ کے سر میں درد ہوجائے گا حیا نے اس کا ہاتھ کونی کی طرف سے پکڑ کے ہلایا بلال اب کافی بہتر تھا بس سر پر جو چوٹ لگی اس پر بینڈج لگا ہوا تھا،
سیکھو سیکھو اپنی سے چھوٹی سے سیکھو بلال نے حیا کی طرف اشارہ کر کے چبا چبا کے کہا، مشعل کچھ بولنے لگی کے حیا کی آنکھوں میں پلز چپ والا تاثر دیکھ کے خاموش ہوگئی اور منہ پھیر لیا بس آخری دکان گڑیا بلال نے اس کی طرف دیکھ کے کہا
جی جی !!!اب چلو نہ حیا نے ایک کونی مشعل کی پکڑلی ایک بلال کی اس کے اس انداز پر دونوں کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی
************
تمہاری دکان کی سب سے مہنگی ڈائمنڈ رنگ دکھاوُ روہان نے مغرور انداز میں کہا،دکان دار نے ایک سے ایک رنگ سامنے رکھ دی اس نے سب کو ایک نظر دیکھا __یہ__روہان نے ایک رنگ کی طرف اشارہ کیا
سر نائس چوائس یہ ہماری شاپ کی سب سے بہتریں کلیکشن ہے شاپ والے نے خوشی سے بتایا،اسے پیک کر کے دو روہان بول کے کھڑا ہوگیا،
رنگ لیکے اس نے پیمنٹ کی اور شاپ سے باہر آگیا اپنے میں اس کا سیل بجنے لگا اس نے دیکھا سوزی کی کال تھی اس نے کال اٹین کی سوزی کچھ کام۔ کی باتے پوچھ رہی اس سے بات کرتے کرتے روہان باہر آگیا
*************
اب گھر چلے بلال نے تھک کر کہا ،جی جی بھیا چلو وہ لوگ باہر آئے ،اوو شٹ یار مشعل نے رکتے ہوئے کہا اب کیا ہوا بلال نے اس کی طرف دیکھا میں اپنا پرس اندر بھول آئی ابھی لاتی ہوں،
اففففف مشعل بلال نے چڑ کر کہا اب تم اکیلے جاوُ گی ،بس میں یو گئی یو آئی مشعل نے ہاتھ سے یو یو کر کے کہا اور اندر بھاگی جاوُ حیا تم بھی جاوُ اس کے ساتھ یہ پاگل ورنہ پھر شوپنگ کرنے لگے گی اتنے مشکل سے باہر آئی تھی میں جب تک گاڑی گھوماتا ہوں اور بیگ پکڑے پکڑے ہاتھ دکھ گئے حیا نے ہاں میں سر ہلایا بلال چلا گیا
حیا اندر گئی پر اسے مشعل نظر نہیں آئی وہ آگے بھڑتی اس سے پہلے دو لڑکے جو اسے کب سے گھور رہے تھے موقع ملتے ہی انہوں نے حیا کا رستہ روکا کہا چلی نازک کلی اس لڑکے نے تھرڈ کلاس عاشقوں کی طرح کہا، حیا ڈر کے دو قدم پیچھے ہوگئی،
ارےے کہا جارہی ہے نازک کلی ایک لڑکا آگے بھڑا حیا نے پیچھے موڑ کے دیکھا جہاں بلال نظر نہیں آرہا تھا اس کی انکھوں میں ڈر سے پانی آنے لگا،حیا دو قدم اور پیچھے ہوئی اور اس نے موڑ کے دوڑ لگادی وہ لڑکے بھی قہقہ لگا کے اس کے پیچھے بھاگے،
حیا پیچھے دیکھ کے بھاگ رہی اس کی آنکھوں سے آنسوں گر رہے دونوں لڑکے اس کے پیچھے آرہے تھے وہ پیچھے دیکھنے میں اتنی مگن تھی کے سامنے کھڑے سخص سے زور سے ٹکڑائی اس نے سامنے دیکھا کوئی کھڑا تھا اندھیرا ہونے کی واجہ سے وہ ٹھیک سے نہیں دیکھ سکی پر اس کی ہائٹ بلکل بلال جیسی تھی
روہان جو سوزی سے کال پر بات کر رہا تھا پیچھے سے کوئی اتنی زور سے تکڑایا کے اس کے ہاتھ سے موبائل دور جاگرا اور دو ٹکڑو میں بٹ گیا,واٹ دا ہیل!!!!!!!! روہان غصے سے پیچھے موڑا سامنے ہی کوئی لڑکی کھڑی تھی وہ اسے کچھ بولتا اس سے پہلے وہ اس کے پیچھے چھوپ گئی،
بلا---ل بھ--یا بھیا وہ--ہ حیا نے اس کے پیچھے چھپ کے کانپتی انگلی سے سامنے کی طرف اشارہ کیا روہان نے حیرت سے اس لڑکی کو دیکھا جو اس کے پیچھے چھپی تھی اندھیرے کی واجہ سے وہ اس کا چہرا ٹھیک سے نہیں دیکھ سکا پر اس کے اشارہ کرنے پر سامنے دیکھا جہاں دو لڑکے بھاگے آرہے تھے،
وہ پارکنگ کی جگہ تھی جہاں بہت سے گاڑیا کھڑی تھی،روہان نے غصے سے ان لڑکوں کی طرف دیکھا وہ لڑکے جو بھاگے آرہے تھے سامنے اس مضبوط جسامت کے آدمی کو دیکھ کے ڈر گئے کیوں کے خود وہ ڈیر پسلی تھے،وہ وہی سے الٹے قدم بھاگ گئے،
حیا نے اس کے پیچھے اپنا چہرہ چھپایا ہوا تھا پر ہاتھ اب بھی آگے تھا روہان نے اس کا وہ ہاتھ پکڑ کے اسے غصے سے اپنے سامنے کیا اتنے میں ایک کار اسٹارٹ ہوئی جس کی ہیڈ لائٹ کی روشنی سیدھے حیا کے چہرے پر پڑی حیا نے اپنی آنکھیں زور سے میچ لی،

No comments:

غازی از ابو شجاع ابو وقار قسط نمبر60 Ghazi by Abu Shuja Abu Waqar

Ghazi  by  Abu Shuja Abu Waqar  غازی از ابو شجاع ابو وقار  پیشکش محمد ابراہیم 60 آخری قسط نمبر  Ghazi by Abu Shuja Abu...

Powered by Blogger.