ﻧﺎﻭﻝ سنائپر از ریاض_عاقب_کوہلر قسط نمبر Novel Snipper by Riaz Aqiz Koahler Episode 57
ﻧﺎﻭﻝ سنائپر
از
ریاض_عاقب_کوہلر
Novel Snipper
by
Riaz Aqiz Kohler
Episode 57
ﻧﺎﻭﻝ سنائپر
از
ریاض_عاقب_کوہلر
57 قسط نمبر
by
Riaz Aqiz Kohler
Episode 57
ﻧﺎﻭﻝ سنائپر
از
ریاض_عاقب_کوہلر
57 قسط نمبر
سنائپر
قسط نمبر57
ریاض عاقب کوہلر
آنکھ کھلتے ہی میں چند لمحے بے دھیانی میں پڑا رہا ۔گو ایک سنائپر کا دماغ ہر وقت چوکنا ہی رہتا ہے اور نیند سے اٹھتے ہی اسے ماحول اور صورت حال کا اچھی طرح ادراک ہوتا ہے ۔مگر اس وقت میں نیند سے نہیں جاگا تھا بلکہ طویل بے ہوشی سے اٹھا تھا ۔
آہستہ آہستہ میرا شعور بیدار ہوا اور مجھے یاد آگیا کہ میں کہاں ہوں ۔مجھے حیرانی اس بات پر تھی کہ ابھی تک میں زندہ کیسے ہوں۔شلوبر قبیلے کے آدمیوں کو تو مجھے بغیر کسی تاخیر کے ہلاک کر دینا چاہیے تھا۔مگر میں نہ صرف زندہ تھا بلکہ ٹانگ، پنڈلی اور بازو پر بندھی ہوئی سفید پٹیاں بھی مجھے یہ باور کر ا رہی تھیں کہ بے ہوشی کے دوران ہی میرا آپریشن وغیرہ ہو چکا تھا ۔میں نے دائیں بائیں نظریں گھمائیں وہ جگہ مجھے کسی غار کی طرح لگی ،کیونکہ کمرے کی دیواریں اتنی کھردری اور بے ترتیب نہیں ہو سکتی تھیں ۔میں فرش پر بچھے ایک نرم گدے پر لیٹا تھا ۔سرہانے کی طرف دیوار میں گڑی کیل کے ساتھ ایک ڈرپ لٹکی تھی جس کا ایک سرا سوئی کے ساتھ میری کلائی سے جڑا تھا ۔میرے پاﺅں کی طرف ایک بیٹری پڑی تھی جس سے منسلک تار چھت میں لگے ایک ڈی سی بلب کو روشن کیے ہوئے تھی ۔دروازے کی جگہ ایک کالے رنگ کا کمبل لٹکا ہوا نظر آرہا تھا ۔اب یہ معلوم نہیں تھا کہ اس کے عقب میں دروازہ موجود بھی تھا یا نہیں ۔ اندر جلنے والے بلب کی وجہ سے رات دن کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہو رہا تھا ۔
نہ جانے بے ہوشی کے دوران کتنا وقت گزر گیا تھا ۔میری کلائی پر بندھی ہوئی گھڑی غائب تھی۔ اسی طرح میرا لباس بھی تبدیل کردیا گیا تھا ۔جس طرح میری دیکھ بھال کی گئی تھی ،میرے ساتھ ایسا برتاﺅ شلوبر قبیلے والے تو کسی صورت میں بھی نہیں کر سکتے تھے ۔میں ذہنی ورزش میں مشغول ہو گیا ،لیکن کافی دیر اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مارنے کے بعد بھی میں کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکا تھا ۔اور پھر میں انھی سوچوں میں غرق تھا کہ پردہ ہٹا کر کوئی اندر داخل ہوا ۔
آنے والے کے چہرے پر نظر پڑتے ہی میرا دل خوش گوار انداز میں دھڑکنے لگا تھا ۔وہ کمانڈر عبدالحق تھا ۔اسی کی وجہ سے میرا تعارف پہلی بار مجاہدین سے ہوا تھا اور اس کے بعد مجاہدین میرے کافی کام آئے تھے ۔
”آپ کو ہوش آگیا ہے۔“محبت بھرے انداز میں کہتے ہوئے وہ قریب آ کر بیٹھ گیا ۔
میں مسکرایا ۔”ہوش تو آگیا ہے مگر سمجھ میں کچھ نہیں آرہا ۔“
”جن مسلح آدمیوں کو دیکھ کر آپ بھاگنے کی ناکام کوشش میں بے ہوش ہوئے تھے وہ آپ کے دشمن نہیں مجاہدین تھے ۔“
میں نے سمجھ جانے والے انداز میں سر ہلایا۔”اس کا مطلب ہے میرا بے ہوش ہو جانا فائدہ مند رہا ،ورنہ میں نے مقابلے سے باز نہیں آنا تھا ۔“
کمانڈر عبدالحق نے قہقہہ لگایا ۔”یقینا ہمارے مجاہدین کے چند سانس بقایا تھے ۔“
میں خفیف ہوتا ہوا بولا۔”خیر ایسی بھی کوئی بات نہیں ۔“
”کسر نفسی ہے آپ کی ،ورنہ وہاں کافی لاشیں بکھری ہوئی نظر آئی ہیں اور تمام کے سر میں گولی لگی تھی ۔“یہ کہتے ہوئے اس نے پوچھا ۔”ویسے آپ کسی افغانی قبیلے سے کیسے ٹکرا گئے ۔یہ لوگ تو پاک آرمی کے دشمن نہیں ہیں ۔“
”لمبی کہانی ہے ۔“
وہ مسکرایا ۔”ایسی حالت میں کہانیاں سنانے کے علاوہ آپ کے پاس کوئی کام نہیں بچا ۔“
”پہلے تو آپ یہ بتائیں کہ مجاہدین وہاں کیسے آگئے اور انھوں نے مجھے پہچانا کیسے ۔“
”پہچانا کہاں ہے ،وہاں آپ اکیلے ہی زندہ بچے تھے اس لیے آپ کو لے آئے ۔یہاں خوش قسمتی سے میں خود موجود تھا ۔بس سب سے پہلے تو آپ کو طبی امدا د دی ،ٹانگ میں پھنسی گولی نکالی ،مرہم پٹی کی اور پھر کمزوری کی وجہ سے ڈرپ لگا دی ۔یہ پانچویں ڈرپ ختم ہوئی ہے ۔“یہ کہتے ہوئے اس نے میری کلائی سے سوئی نکال کر وہاں روئی رکھ کر دبا دی ۔
”گویا مجھے بے ہوش ہوئے دوسرا دن ہے ۔“
”کل شام کو آپ کو یہاں لایا گیا تھا ۔اور ابھی رات کے بارہ بجنے کو ہیں ۔“
”آپ سوئے نہیں ۔“
”ڈرپ ختم ہونے کا انتظار کر رہا تھا ۔“
میں نے پوچھا ۔”یہ جگہ غار کی طرح لگ رہی ہے ۔“
”یہ غار ہی ہے ۔جس جگہ آپ کا دشمنوں سے مقابلہ ہوا ہے اس سے تھوڑے ہی فاصلے پر ہمارا یہ ٹھکانہ موجود ہے ۔“
”یعنی میں نے بے دھیانی میں صحیح سمت اختیار کیے رکھی ۔“
”ہاں ۔“اس نے اثبات میں سرہلایا ۔”اوراب آپ تفصیل بھی بتا دیں کہ یہ لوگ کیوں آپ کے پیچھے پڑے تھے ۔“
جواباََ میں نے غزنی خیل اور شلوبر کی آپس کی لڑائی میں اپنے غلطی سے پھنس جانے کے متعلق بتانے لگا ۔ساری تفصیل سنتے ہی اس نے پوچھا ۔
”آپ نے افغانستان آنے کی وجہ نہیں بتائی ۔“
اس مرتبہ میں نے البرٹ بروک کے ہاتھوں بلیک میل ہونے اور اپنی بے گناہی کے ثبوت ڈھونڈنے کے متعلق ضروری تفصیل دہرا دی ۔پلوشہ کے ساتھ میری شادی کی خبر سن کر وہ خوش ہو گیا تھا ۔
”سب سے پہلے تو شادی کی مبارک ہو ۔“
”خیر مبارک بھائی !....مگر اب نہ جانے وہ کس حال میں ہو گی ۔“میں افسردہ ہو گیا تھا ۔
”پلوخان کسی سے مار کھانے والا نہیں ۔وہ میرا بہت لاڈلا شاگرد تھا۔تمام استادوں سے میں نے اس کی تعریف ہی سنی ہے ۔ایک مشن میں تو وہ میرے ساتھ بھی کام کر چکا ہے ،یقین مانو دل خوش ہو جاتا ہے اس کی کارکردگی دیکھ کر ۔“
”ہاں ،مگر اس وقت وہ پلو خان تھی اور ابھی پلوشہ ہے ۔“
وہ بے تکلفی سے بولا ۔”نام کی تبدیلی سے کچھ نہیں ہوتا یار !“
”بات نام کی نہیں جنس کی تبدیلی کی ہے بھائی !....ایک جوان لڑکی کو دشمنوں کے ہتھے چڑھنے کے بعد کیا مشکلات درپیش آسکتی ہیں اس بارے یقینا آپ مجھ سے بہتر جانتے ہوں گے ۔“
”یہ تو صحیح کہا ۔“اس نے اثبات میں سرہلایا۔”مگر آپ خواہ مخواہ برے گمان نہ پالیں اللہ پاک بہتر کرے گا ۔“
”ایک اسی ذات کا سہارا ہے ۔“میں نے امید ظاہر کی ۔
”تو اب آپ غزنی جائیں گے ۔“
میں نے کہا۔”ارادہ تو یہی ہے ۔“
”آپ کے زخم ٹھیک ہوتے کچھ وقت تو لگے گا اور میرا نہیں خیال کہ اس وقت تک البرٹ بروک وغیرہ آپ کے انتظار میں بیٹھے ہوں گے ۔“
”مجھے اپنا ہتھیار نظر نہیں آرہا ۔“دائیں بائیں نظریں دوڑاتے ہوئے میں نے موضوع تبدیل کیا ۔
”ساتھی وہاں پڑے سارے ہتھیار ہی سمیٹ لائے تھے اوران میں موجودکمانڈر نصراللہ خوجل خیل کی خاص کلاشن کوف پہچاننے میں مجھے ذرا بھی دقت نہیں ہوئی تھی ۔“
میں نے تحسین آمیز لہجے میں کہا ۔”بڑی تیز نظر ہے آپ کی ۔“
”وہ میرے استاد ہیں اور میں نے ان کے ہمراہ ان گنت معرکوں میں حصہ لیا ہے ۔ان کی کلاشن کوف اس لیے بھی خصوصی ہے کہ انھوں نے اعلان کیا تھا کہ یہ کلاشن کوف وہ ایسے شخص کو تحفہ میں دیں گے جو ان کی نظر میں اس کا صحیح حق دار ہوگا۔اورمیرا خیال ہے انھوں نے ایسا آدمی تلاش کرنے میں کوئی غلطی نہیں کی ہے ۔“
میں مزاحیہ انداز میں بولا ۔”یقینا آپ مذاق اچھا کر لیتے ہیں ۔“
”اچھا آپ سچ سچ بتائیں کہ استاد محترم نے یہ کلاشن کوف آپ کے حوالے کرتے ہوئے کیا فرمایا تھا ؟“
مجھے نصراللہ خوجل خیل کی باتیں اچھی طرح یاد تھیں ۔انھوں نے بھی کمانڈر عبدالحق اے ملتی جلتی ہی باتیں کی تھیں ۔یوں بھی مجاہدین کے درمیان میری نشانہ بازی کا کافی چرچا تھا ۔اور اس کی وجہ یہی تھی کہ کچھ تو مجھ میں قدرتی طور پر نشانے بازی کی صلاحیت موجود تھی اور کچھ یار لوگوں کی مبالغہ آرائی نے مجھے شہرت دے دی تھی ۔میں جواب سے پہلو تہی کرتے ہوئے بے پروائی سے بولا۔ ”یہ بعد کا مسئلہ ہے فی الحال تو مجھے بھوک لگی ہے ۔“
”اوہ مجھے خیال ہی نہیں رہا تھا ۔میں آپ کے لیے کچھ کھانے کو لاتا ہوں ۔“خفت بھرے انداز میں کہتے ہوئے وہ غار سے باہر نکل گیا ۔
٭٭٭
افغانستان کے مختلف پہاڑوں میں مجاہدین نے ٹھکانے بنا رکھے ہیں ۔وہ بھی مجاہدین کا ایک محفوظ ٹھکانہ تھا ۔اور میری خوش نصیبی کہ جس جگہ میرا شلوبر قبیلے سے آخری ٹاکرا ہوا یہ ٹھکانہ وہاں سے قریب ہی تھا ۔اس کی حیثیت رستے میں آنے والی ایک چوکی کی سی تھی کہ پاکستانی سرحد عبور کرنے والے مجاہدین وہاں ایک دن گزار کر آگے بڑھ جاتے تھے ۔وہاں مجاہدین کی محدود تعداد ہی رہتی تھی ،اس کے باوجود اس ٹھکانے کے دائیں بائیں ہونے والی کسی بھی کارروائی کو وہ نظر انداز نہیں کر سکتے تھے ۔
اس دن بھی جب میرا شلوبروں سے فائرنگ کا تبادلہ ہورہا تھا انھیں بھی وہ فائرنگ سنائی دے گئی تھی ۔وہاں کمانڈر عبدالحق ہی امیر تھے ۔انھوں نے چار آدمی صورت حال کا جائزہ لینے بھیجے ۔اوران چاروں کو زندہ حالت میں صرف میں ہی ملا تھا ،اس لیے وہ مجھے اٹھا لائے ۔کمانڈر عبدالحق نے مجھے دیکھتے ہی پہچان لیا تھا ۔میری ٹانگ کاآپریشن انھوں نے خود ہی کیا تھا ۔کچھ بے ہوشی کے ٹیکے اور کچھ کمزوری کی وجہ سے مجھے انتیس ، تیس گھنٹوں بعد ہی ہوش آ سکا تھا ۔
میرے ہوش میں آنے کے اگلے دن شلوبر قبیلے کا ایک وفد وہاں پہنچ گیا تھا ۔اپنی لاشیں وہ ایک دن پہلے ہی اٹھا کر لے گئے تھے ۔لیکن اب ان کی آمد کا مقصد اپنے ہتھیاروں کی واپسی اور مجھے تحویل میں لینا تھا ۔کمانڈر عبدالحق کو ساری تفصیل معلوم تھی ۔ان کے ہتھیار واپس کر تے ہوئے کمانڈر عبدالحق نے الٹا انھیں مطعون کیا کہ ان کی وجہ سے ایک مجاہد زخمی ہواہے ۔چونکہ اس ساری کارروائی میں شلوبر قبیلے کی غلطی زیادہ تھی اس لیے جلد ہی انھیں مجھے تحویل میں لینے کے مطالبے سے دست بردار ہونا پڑا۔ میرا غزنی خیل قبیلے کا ساتھ دینا اپنی جان بچانے کی وجہ سے تھا ۔اور جب تک شلوبروں نے مجھے مجبور نہیں کیا ،تب تک میں نے ان کے کسی آدمی کو جان سے بھی نہیں مارا تھا ۔البتہ آخری معرکے میں مجبور ہو کر مجھے انتہائی اقدام اٹھانا پڑا تھا۔اسی بات کو کمانڈر عبدالحق نے نہایت وضاحت سے انھیں سمجھا دیا ،کہ اگر میں چاہتا تو جتنے آدمی زخمی کیے تھے ان تمام کو جان سے بھی مار سکتا تھا ۔اور یہ بات تو انھیں بھی تسلیم تھی کہ میری فائر کی ہوئی گولیوں سے ان کا کوئی بھی آدمی جان سے نہیں گیا تھا سوائے ان سات آدمیوں کے جنھیں مارنا میرے لیے ناگزیر ہو گیا تھا ۔شلوبر وں کو اس لیے بھی خاموش ہونا پڑا کہ کسی قبیلے سے تو وہ دشمنی پال سکتے تھے ، مجاہدین کے لشکر ساتھ ٹکر لینا ان کے لیے ممکن نہیں تھا ۔اس کے ساتھ غزنی خیل قبیلے سے بھی ان کی لڑائی عروج پر تھی اس لیے یہ محاذ انھیں بند کرنا ہی مناسب لگا اورہتھیاروں کی واپسی ہی کو غنیمت سمجھتے ہوئے وہ واپس چلے گئے تھے ۔
ان کے جانے کے بعد کمانڈر عبدالحق نے مجھے ساری تفصیل کہہ سنائی تھی ۔ایک خواہ مخواہ کی مصیبت سے جان چھوٹنے کا سن کر میں نے سکھ بھرا سانس لیا تھا ۔ان سے کوئی بعید نہ تھا کہ کبھی دوبارہ میرے سامنے آنے پر میری جان کے درپے ہو جاتے ۔اب کمانڈر عبدالحق کے سمجھانے کی وجہ سے یقینا میرے خلاف کارروائی کرنے سے پہلے وہ سو بار سوچتے ۔
کمانڈر عبدالحق کی بات ختم ہوتے ہی میں نے شرارت بھرے لہجے میں پوچھا ۔”ویسے آپ نے جھوٹ کیوں بولا کہ میں آپ کا ساتھی ہوں اور مجاہد ہوں ۔“
وہ سنجیدہ لہجے میں بولا ۔”آپ کے مجاہد ہونے میں مجھے تو کوئی شبہ نہیں پھر یہ جھوٹ کیسے ہو گیا۔اسی طرح ساتھی صرف اس کو نہیں کہتے جو آپ کے شانہ بہ شانہ لڑے ،بلکہ وہ آدمی بھی ہمارا ساتھی ہی کہلاتا ہے جو لڑ تو کسی دوسرے محاذ پر رہا ہو لیکن اس کا اور ہمارا مقصد مشترک ہو ۔“
”گویا آپ کے نزدیک میرا اور آپ کا مقصد مشترک ہے ۔“
”بالکل مشترک ہے ،آپ بھی کفر سے برسرِ پیکار ہیں ہم بھی یہی مقصد لیے میدان میں اترے ہوئے ہیں ،بس طریقہ کار تھوڑا مختلف ہے ۔بلکہ آپ نے تو کئی بار اسلحے کی صورت میں مجاہدین کی کھلم کھلا مدد بھی کی ہے ۔اور ایسا کوئی ساتھی ہی کیا کرتا ہے غیر نہیں ۔“
میں مسکرایا ۔”ٹھیک ہے جی میں اپنے الفاظ واپس لیتا ہوں ۔“
کمانڈر عبدالحق میری ہنسی میں شامل ہوتا ہوا بولا ۔”غلط الفاظ واپس لینے ہی میں بھلائی ہوتی ہے ۔“
٭٭٭
زندگی میں ایک دم ٹھہراﺅ آگیا تھا ۔اس سے پہلے بھی میں ایک بار زخمی ہو کر کمانڈر نصراللہ خوجل خیل کی بیٹھک میں صاحب فراش رہ چکا تھا ۔جب میری تیمار دار ،میری جانِ حیات پلوشہ تھی ۔گو اس وقت تک اس سے اقرار الفت تو نہیں ہو پایا تھا اس کے باوجود وہ وقت ایک خوشگوار یاد کی صورت میرے دل میں مقید تھا ۔پلوشہ نے جس طرح میری خدمت کی تھی اور جیسے میرا خیال رکھا تھا ایسا کوئی نہایت ہی محبت کرنے والا ہی رکھ سکتا ہے ۔اور اب وہ پلوشہ جانے کہاں چلی گئی تھی ۔لگتا تھا شاید اسے دیکھے صدیاں بیت گئی ہوں ۔اپنے آرام و سکون کو ٹھوکر مار کر وہ میری بے گناہی کے ثبوت حاصل کرنے گئی تھی ۔اس کے ساتھ میرا یار سردار خان بھی تھا ۔نہ جانے وہ بہن بھائی کہاں بھٹکتے پھر رہے تھے ۔
میرے دن رات نہایت بے کیف گزر رہے تھے ۔عضو معطل بن کر میں کسی کا م کا نہیں رہا تھا ۔ بس آنے جانے والے مجاہدین کی باتین سن کر میں جی کو بہلاتا رہتا ۔اکیلا بیٹھنے کی صورت میں تو پلوشہ فوراََ آدھمکتی تھی ۔بہ قول مومن ....
تم میرے پاس ہوتے ہو گویا
جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا
کھانے پینے کا سامان اور روزمرہ ضروریات کا دوسرا سامان وہ پکتیکا سے لے کر آتے تھے ۔
مجھے وہاں ہفتے سے زیادہ ہو نے کو تھا ۔اس دن بھی چار مجاہد آئے ہوئے تھے ۔وہ چھٹی جا رہے تھے ۔ میں بھی کمانڈر عبدالحق کے ساتھ بیٹھا ان کی باتیں سن رہا تھا ۔وہ چاروں قرہ باغ سے آئے تھے۔
کمانڈر عبدالحق اسلام نامی مجاہد کو مخاطب ہوا ۔”اسلام بھائی !....اس مرتبہ کچھ دیر سے چھٹی جا رہے ہو۔“
اسلام نے جواب دیا ۔”یوں تو میرا ارادہ پچھلے ماہ ہی چھٹی جانے کا تھا مگرکام کچھ بڑھ گیا تھا مجبور اََ مہینا بھر مزید گزارنا پڑا ۔“
”تو ان کی چھٹی بھی موّخر کرنا تھی نا ۔“کمانڈر عبدالحق نے مزاحیہ انداز میںباقی تینوں کی طرف اشارہ کیا ۔
اسلام ہنسا۔”کیوں مجھے مروانے کے چکروں میں ہو یار!....ایک تو دشمن نے ہماری حرکت کو محدود کیا ہوا ہے اور تم چاہتے ہو اندرونِ خانہ بھی دشمن کھڑے ہو جائیں ۔“
”یہ تو خیر کمانڈر زیادتی کر رہا ہے ۔“شفیق نامی مجاہد صفائی پیش کرتے ہوئے بولا ۔”انھوں نے خود ہی ہمیں چھٹی کے لیے زور دیا ہے ۔“
عبدالحق پوچھنے لگا ۔”ویسے دشمن کی بات میرے سر پر سے گزر گئی ہے ۔“
اسلام نے حیرانی سے پوچھا ۔”کیا آپ تک یہ خبر نہیں پہنچی ؟“
”کون سی ۔“کمانڈر عبدالحق ہمہ تن گوش ہو گیا ۔میرے کان بھی کھڑے ہو گئے تھے ۔
اسلام تفصیل بتلاتے ہوئے بولا ۔”ایک برطانوی نشانے باز نے حقیقت میں اپنی زندگی اجیرن کر رکھی ہے ۔قریباََبیس بائیس مجاہد اس کی گولی کا شکار ہو چکے ہیں ۔ڈیڑھ دو کلومیٹر کے فاصلے سے بھی کم بخت کی گولی سر ہی میں لگتی ہے ۔ اس کی وجہ سے ہماری حرکت کافی محدود ہو گئی ہے ۔اندھیرے کے تیر کی طرح نہ جانے کس کونے سے نکلتا ہے اور ہمارے دوتین ساتھیوں کو شہید کر کے غائب ہو جاتا ہے ۔ اپنے مخبروں سے ہمیں یہی معلوم ہوا ہے کہ اس کا نام نک سٹیورٹ ہے برطانوی آرمی سے تعلق رکھتا ہے ۔ اس کی مدد گار بھی کوئی برطانوی لڑکی ہی ہے وہ بھی اچھی خاصی ماہرنشانہ باز ہے ۔ ہم اپنی پوری کوشش کے باوجود ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکے ہیں ۔“
عبدالحق گہرا سانس لیتے ہوئے بولا ۔”عجیب بات سنا رہے ہو ۔“
اسلام نے کہا ۔”ہونہہ،عجیب سہی مگر حقیقت ہے ۔“
میں ان کی گفتگو میں مخل ہوا ۔”آپ لوگوں کے پاس دور مار ہتھیار نہیں ہے کیا ؟“
اسلام میری طرف متوجہ ہوا ۔”کیوں نہیں ہے ۔چند ماہ پہلے ہی ہمارے ہاتھ تین ہیوی رائفلیں لگی ہیں ۔کمانڈر صدیق بتا رہا تھا کہ وہ رینج ماسٹر ہیں ۔اور دو کلو میٹر تک کسی بھی آدمی کو ان سے نشانہ بنایا جا سکتا ہے ۔ان کا ایمونیشن بھی موجود ہے لیکن دو کلومیٹر تو کیا ہم میں سے کوئی دو تین سو میٹر کے فاصلے پر بھی اس رائفل سے نشانہ نہیں بنا سکتا ۔ہمیں تو بے کار وزن ہی محسوس ہورہی ہیں ۔“
وہ رینج ماسٹر کو بے کار وزن کہہ رہا تھا ۔یقینا ان میں سے کوئی رینج ماسٹر کی افادیت سے واقف نہیں تھا ۔ورنہ وہ کبھی بھی ایسا نہ کہتے ۔میں نے پوچھا ۔”کمانڈر صدیق بھی اس سے فائر نہیں کر سکتا ۔“
”کمانڈر صدیق نے ان رائفلوں کے اندر موجود کتابچے سے ان کانام ہمیں بتایا ہے ۔باقی اس رائفل کے بارے وہ بھی کچھ زیادہ نہیں جانتا ۔“
”صحیح ہے ۔“اثبات میں سر ہلاتے ہوئے میں خاموش ہو گیا ۔
کمانڈر عبدالحق بڑے غور سے میری جانب دیکھ رہا تھا ۔مگر میں جان بوجھ کر انجان بنا بیٹھا رہا ۔
اسلام ،عبدالحق کی طرف متوجہ ہوا ۔”ویسے آپ نے ذیشان بھائی کا مکمل تعارف نہیں کرایا ۔“
”ذیشان بھائی کا تعلق پاک آرمی سے ہے اور انھوں نے کافی بار ہماری مدد کی ہے ۔اب کسی کام کے سلسلے میں افغانستان آنا ہوا ،رستے میں غلط فہمی میں ایک قبیلے سے ٹاکرا ہو گیا ،انھی سے لڑتے ہوئے زخمی ہو گئے ہیں ۔خوش قسمتی سے ہمارے ٹھکانے کے نزدیک ہی یہ لڑائی ہوئی تھی ،بس ہم بھائی کو یہاں لے آئے ۔ہفتہ ڈیڑھ ہی ہوا ہے تب سے یہیں پر ہیں ۔اور جب تک مکمل صحت یاب نہیں ہو جاتے میں انھیں کہیں جانے کی اجازت بھی نہیں دوں گا ۔“
اسلام فوراََ شاکی ہوا ۔”کس قبیلے سے لڑائی ہوئی تھی ،کم از کم آپ کو ان سے گلہ تو کرنا چاہیے تھا۔ جو شخص ہمارا مددگار رہ چکا ہو وہ ہمارا ساتھی ہی ہے اور ہمارے ساتھیوں کو کوئی یوں زخمی کرے اس کی اجازت ہم نہیں دے سکتے ۔“
کمانڈرعبدالحق ہنسا۔”صحیح کہہ رہے ہیں آپ ،گلہ کرنا تو ہمارا بنتا تھا لیکن ایک چھوٹا سا مسئلہ تھا اس لیے مجھے خاموش ہونا پڑا ۔“
”کیسا مسئلہ ؟“اسلام نے حیرانی سے پوچھا ۔
کمانڈرعبدالحق اطمینان سے بولا ۔”یہی کہ اس قبیلے کے دودرجن افراد زخمی ہوئے اس کے علاوہ انھیں سات لاشیں بھی اٹھانا پڑیں ۔“
”کک....کیا مطلب ؟“اسلام ششدر ہی تو رہ گیا تھا ۔اس کے باقی تین ساتھی بھی حیرانی سے مجھے گھورنے لگے تھے ۔
کمانڈرعبدالحق نے منھ بنایا ۔ ”میں نے عبرانی تو نہیں بولی ،سادہ پشتو ہی میں بات کی ہے ۔“
”مگر اکیلا آدمی ....؟“
کمانڈرعبدالحق تحسین امیز لہجے میں بولا۔ ”جی اکیلا آدمی اگر ایس ایس ہو تو بہت کچھ کر سکتا ہے ۔“
”ایس ایس ....“اسلام نے مجھے گھورتے ہوئے کہا ۔”گویا آپ کا مطلب ہے ذیشان بھائی ہی ایس ایس ہے ۔وہی پلو خان ،میرا مطلب پلوشہ کا ساتھی ۔“
”ساتھی نہیں شوہر کہو ....اب محتر م نے پلوشہ بیٹی کے ساتھ شادی کر لی ہے ۔“
”مبارک ہو ذیشان بھائی ۔“اسلام نے فوراََ ہی پر خلوص لہجے میں کہا ۔
”شکریہ دوست ۔“میں نے انکساری سے کہا ۔
اس کے بعد ہم کافی دیر وہاں بیٹھے رہے ،موضوع ِ گفتگو میری ذات ہی بنا رہا ۔اسلام اور اس کے ساتھیوں نے ساری گپ شپ کو پسِ پشت ڈال کر میری کہانی میری زبانی سننے پر اصرار کیا تھا ۔گو میری زیادہ تر باتیں تو ان تک پہنچی ہوئی تھیں مگر کسی اور زبانی پہنچی ہوئی باتوں میں جھوٹ اور مبالغے کی ملاوٹ ضرور ہوتی ہے ۔میں ان کے اصرار کے سامنے زیادہ دیر نہیں ٹک پایا تھا ۔
٭٭٭
اگلے دن کمانڈر اسلام اور اس کے تینوں ساتھی جانے سے پہلے الوداعی ملاقات کے لیے آ گئے تھے ۔میں نے ان سے جانے کے رستے کی بابت دریافت کیا ۔
اسلام نے جو رستا بتلایا وہ خواگا اوبو سے گزر کر ہی جاتا تھا ۔خواگا اوبو گلگارے کا گاﺅں تھا ۔
”خواگا اوبو تو آپ لوگوں نے دیکھا ہے اس کے جنوبی جانب ایک اکیلی حویلی ہے شمریز خان کی ، کبھی ان سے واسطہ پڑا ہے ۔“
اسلام اثبات میں سر ہلاتے ہوئے بولا ۔”بالکل دیکھی ہوئی ہے ،البتہ کبھی ان سے ملنے کی نوبت نہیں آسکی ۔“
اسلام کا ساتھی عبدالصمد بولا ۔”میں نے ان کی بیٹھک میں ایک رات گزاری تھی ۔“
”بس جاتے ہوئے چچا شمریز اور ان کے گھر والوں کو میرے بہت سے سلام و دعا پہنچا دینا اور انھیں کہہ دینا کہ میں بالکل خیریت سے ہوں ۔“
اسلام نے پوچھا ۔”اور کچھ ۔“
”بس اللہ پاک آپ کو خیر سے لے جائے ۔“میں نے معانقے کے لیے ہاتھ پھیلا دیے ۔
انھیں رخصت کرنے میں غار سے باہر تک گیا تھا ۔اب بیساکھی کے سہارے میں اچھا بھلا چل لیتا تھا ۔میرا زخم پہلے سے کافی بہتر ہو گیا تھا ۔بازو کے زخم کا تو کھرنڈ بن کر بھی اتر چکا تھا ۔لیکن پنڈلی اور ران کا زخم اتنی جلدی مکمل ٹھیک نہیں ہو سکتا تھا ۔
اس دن دوپہر کو کھانا کھاتے ہوئے کمانڈر عبدالحق مستفسر ہوا ۔”ذیشان بھائی!.... ایک بات پوچھوں ؟“
میں خفیف ہوتے ہوئے بولا ۔”اس میں اجازت لینے کی کیا ضرورت ہے ۔“
”شکریہ ۔“کہہ کر اس نے پوچھا ۔”کل آپ اسلام بھائی سے دورماررائفل کے استعمال کے بارے کیوں پوچھ رہے تھے ،کیا آپ اس رائفل کو استعمال کرنا جانتے ہیں ؟“
ایک لمحہ سوچ کر میں نے اثبات میں سرہلادیا ۔”جانتا ہوں ۔“
”اگر میںکہوں کہ آپ ہمارے کسی ساتھی کو اس رائفل کا استعمال سکھا دیں تو کیا یہ درخواست منظورہو جائے گی ۔“
میں نے بھرپور قہقہہ لگایا ۔”درخواست اور منظوری ،عبدالحق بھائی !....کچھ زیادہ ہی میٹھا نہیں ڈال دیا ۔“
عبدالحق نفی میں سرہلاتے ہوئے بولا ۔”کسی سے بھی کام لینے کے دو طریقے ہیں حکم دینا یادرخواست کرنا اور ہم آپ سے درخواست ہی کر سکتے ہیں ۔“
”اپنوں کو نہ تو حکم دیا جاتا ہے اور نہ درخواست کی جاتی ہے ۔بس ان تک اپنی خواہش پہنچا دی جاتی ہے ۔“
وہ فوراََ اپنی سابقہ بات سے رجوع کرتا ہوا بولا ۔”تو بس سمجھ لیں کہ میں نے اپنی خواہش آپ تک پہنچا دی ہے ۔“
میں صاف گوئی سے بولا ۔”عبدالحق بھائی !....آپ کی خواہش کو پورا کرنا ،میرے لیے نہایت ہی دشوار اور مشکل ہوتا ۔ لیکن اس حالت میں میں کوئی بھی کام کرنے کے قابل نہیں ہوں اس لیے آپ رائفل اور سیکھنے والے دو تین آدمی یہیں پر بلوا لیں میں انھیں تربیت دے دوں گا ۔“
عبدالحق نے مزاحیہ انداز میں کہا ۔”کہنا تو نہیں چاہیے مگر آپ کازخمی ہونا ہمارے لیے فائدہ مند ہی رہا ہے ۔“
اس کی بات نے مجھے بھی ہنسنے پر مجبور کر دیا تھا ۔
٭٭٭
دودن بعد چار آدمی رینج ماسٹر کے دو بکس لے کر پہنچ گئے تھے ۔اس کے ساتھ وہ رینج ماسٹر کی دو سو گولیاں بھی لائے تھے ۔کمانڈر عبدالحق نے گزشتا دن میرا عندیہ لیتے ہی وائرلیس بیس پر اپنے قرہ باغ کیمپ میں موجود کمانڈر سے بات کر لی تھی ۔اور کوڈ ورڈ میں انھیں رائفلیں ،ایمونیشن اور آدمی بھیجنے کا بتا دیا تھا ۔ اس دعوت کو غنیمت جانتے ہوئے انھوں نے بغیر کسی تاخیر کے چار آدمی اس جانب روانہ کر دیے تھے ۔
ان دنوں میں مجھے وقت گزارنا مشکل ہو جایا کرتا تھا ۔حالانکہ جب پلوشہ زخمی تھی اس وقت ہم نے دو ماہ کے قریب عرصہ یونھی کوئی کام کیے بغیر گزار دیا تھا ۔مگر وہ دوماہ میری زندگی کے سب سے زیادہ تیز گزرنے والے دن تھے ۔رات ،دن لمحوں میں بیت جایا کرتے تھے ۔ اور اب وہی شب روز مہینوں پر محیط ہو گئے تھے ۔
قرہ باغ کیمپ سے آنے والے چاروں جواں سال مجاہد تھے ۔ان میں سے دو تو میرے ہم عمر تھے جن کا نام صغیراور احسان تھا ۔ اسلم مجھ سے سال دو سال بڑا ہو گا جبکہ مبین بہ مشکل اٹھارہ انیس سال کا لڑکا تھا ۔
رات ہی کو میں نے رینج ماسٹر کے دونوں بکس کھول کر سامان کا جائزہ لے لیا تھا ۔سارا سامان مکمل دیکھ کر میں نے اطمینان بھرا سانس لیا تھا ۔ سردار اور میںنے امریکہ میں سنائپرکورس کے دوران اس رائفل کے متعلق بہت تفصیل سے پڑھا تھا ۔اور یہ وہ رائفل جس سے میں سب سے زیادہ فائر کیا ہے ۔ (اس رائفل بارے کہانی کی شروعات میں میں کافی کچھ لکھ چکا ہوں اس لیے اگر کسی کو رینج ماسٹر کے بارے جاننے کا شوق ہو تو انھی صفحات کو دوبارہ پڑھ لے )
”صبح نماز کے بعد تیار رہنا ۔“میں نے چاروں سیکھنے والوں کو تربیت کا وقت بتایا اور وہ سرہلاتے ہوئے چلے گئے ۔
کمانڈر عبدالحق کچھ دیر مزید میرے ساتھ بیٹھا رہا ۔اس کے جانے کے بعد میں سونے کے لیے لیٹ گیا کہ صبح آرام کا موقع نہ ملتا ۔
صبح کی نماز کے بعد ناشتے وغیرہ سے فارغ ہو کر چاروں جوان پہنچ گئے تھے ۔کمانڈر عبدالحق نے بھی ان کے ہمراہ بیٹھ کر سیکھنے میں دلچسپی ظاہر کی تھی ۔
میں نے تمہیدی بات چیت میں رینج ماسٹر کی خوبیوں پر روشنی ڈالی اور انھیں باور کرایا کہ ایک تربیت یافتہ آدمی اس رائفل سے کتنا فائدہ اٹھا سکتا تھا ۔اس کے بعد میں انھیں رائفل کے پرزوں وغیرہ کے بارے تفصیل سے بتلانے لگا کہ کس طرح وہ اس رائفل کو ٹکڑوں میں کھول سکتے تھے ۔وہ سارا دن میں انھیں رائفل کے متعلق ہی پڑھاتا رہا اس کے ساتھ انھیں بھی موقع دیا کہ وہ بار رائفل کو کھولیں جوڑیں ۔ اس کے ساتھ میں انھیں اس رائفل سے مختلف پوزیشنوں سے فائر کرنے کے طریقے بھی بتلاتا رہا ۔وہ سارا کام چونکہ ہم بند کمرے میں بھی کر سکتے تھے اس لیے غار کے اندر بیٹھ کر ہی سکھلائی کرتے رہے ۔
اگلے دن میں میں انھیں غار سے باہر لے گیا تھا ۔سنائپر رائفل میں سب سے زیادہ کام چونکہ ٹیلی سکوپ سائیٹ کا ہوتا ہے اس لیے اس کے بارے جاننا ایک سنائپر کے لیے بہت زیادہ ضرری ہوتا ہے۔ اس کے باوجود کہ وہ سنائپر بننے نہیں آئے تھے لیکن انھیں اچھا نشانے باز تو بننا تھا ۔لیوپولڈ سائیٹ کے بارے ہم سنائپر ہونے کے باوجود پورا ہفتہ پڑھتے رہے تھے ۔میں انھیں وہ سب کچھ تو اس لیے بھی نہیں پڑھا سکتا تھا کہ اس کام میں کافی وقت صرف ہوجاتا ۔میں بس انھیں ضروری اور کام کی باتیں بتاتا رہا ۔لیوپولڈ سائیٹ پر تو عام آدمی صحیح طریقے سے رینج بھی نہیں لگا سکتا ۔ہر فاصلے کے لیے ایلیویشن ڈرم پر مخصوص کلک لگانے پڑتے ہیں ۔تمام کلکس کی ترتیب میں نے انھیں لکھ کر دے دی تاکہ وہ اسے زبانی طور پر یاد رکھیں ۔وہ پورا دن میں انھیں لیوپولڈ سائیٹ ہی متعلق پڑھاتا رہا ۔کمانڈر عبدالحق بھی سیکھنے میں بہت دلچسپی لے رہا تھا ۔رات کو وہ اپنے غار میں کافی دیر تک دن کی سکھلائی کو دہراتے رہے تھے ۔ مجاہدین کا وہ ٹھکانہ غار در غار بنا ہوا تھا ۔یوں جیسے کسی مکان میں کئی کمرے بنے ہوتے ہیں ۔
تیسرے دن میں انھیں فائر کروانے لگا ۔رائفل کے صفر ہونے کے بعدوہ چھے سات سو میٹر کے فاصلے پر آسانی سے چھوٹے چھوٹے پتھروں کو نشانہ بنا رہے تھے ۔عملی طور پر رینج ماسٹر کی کارکردگی دیکھ کر انھیں بہت اچھا محسوس ہو رہا تھا ۔کمانڈر عبدالحق نے بھی درجن بھر گولیاں چلا کر اپنا نشانہ آزمایا تھا ۔ اگلے دو ہفتوں میں میں انھیں مختلف فاصلوں سے فائر کرواتا رہا ۔ان میں سب سے اچھا فائرر مبین تھا جو عمر میں تمام سے چھوٹا تھا ۔وہ پندرہ سو میٹر دور کے ہدف کو نشانہ بنا لیتا تھا ۔چونکہ ان کے پاس گولیوں کی محدود تعداد تھی اس لیے ہر آدمی روزانہ تین چار گولیاں ہی فائر کر پاتا ۔اس سارے تربیتی عرصے کے دوران انھوں نے چند بار میرا فائر دیکھنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا مگر زخمی ہونے کا بہانہ کر کے میں نے معذرت کر لی تھی ۔البتہ آخری دن جب ان کے پاس فقط دو گولیاں باقی بچی تھیں ،کمانڈر عبدالحق نے اصرار کیا کہ وہ دونوں گولیاں میں فائر کروں ۔
اس کی حکم نما التجا پر سرتسلیم خم کرتے ہوئے میں نے دونوں گولیوں سے انیس سو میٹر دور دو چھوٹے چھوٹے پتھروں کو نشانہ بنا کر رینج ماسٹر پر ان کا اعتماد مزید پختہ کر دیا تھا ۔
اگلے دن ان چاروں نے واپس جانا تھا ۔کیونکہ قرہ باغ کیمپ میں بڑی بے چینی سے ان کا انتظار ہو رہا تھا ۔رات کو انھیں اپنے کمرے میں بٹھا کر میں نے سنائپنگ کے متعلق اہم باتیں دہرائیں ،کچھ نئے نکتے ان کے گوش گزار کیے تاکہ وہ دشمن کا مقابلہ کرنے کے قابل ہو سکیں ۔
صبح سویرے واپس جاتے ہوئے چاروں بڑی عقیدت سے مجھے ملے تھے ۔میرے دن پھر بے زاری سے گزرنے لگے ۔پنڈلی کا زخم تو قریباََ ٹھیک ہی ہو گیا تھا لیکن ران کا زخم ابھی تک اتنا ٹھیک نہیں ہوا تھا کہ میں آگے بڑھ سکتا ۔سردی کی وجہ سے زخم یوں بھی ٹھیک ہونے میں زیادہ وقت لیتا ہے ۔ اب میں کمانڈر عبدالحق کے ساتھ اپنے ٹھکانے سے پانچ چھے سو میٹر دور چلا جاتا تھا ۔
ایک دن ہم سہ پہر کو لوٹے تو یہ روح فرسا خبر سننے کو ملی کہ صغیربرطانوی سنائپر نک سٹیورٹ کی گولی کا شکار ہو کر جام شہادت نوش کر گیا تھا ۔جبکہ اسلم شدید زخمی تھا ۔گولی اس کے سر سے رگڑ کھاتے ہوئے گہرا زخم چھوڑکرنکل گئی تھی۔وہ بڑی ہمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کیمپ تک واپس پہنچا تھا ۔بعد میں صغیر کی لاش اٹھانے کے لیے جانے والے پانچ آدمیوں میں سے دو آدمی بھی نک سٹیورٹ یا اس کی ساتھی کی گولی کا نشانہ بن گئے تھے ۔یوں لاش اٹھانے کے لیے انھیں رات کا انتظار کرنا پڑ گیا تھا ۔اس بات کو دو دن گزر گئے تھے ۔ اب شہداءکے گھروں تک یہ خبر پہنچانے کے لیے جو دو آدمی جا رہے تھے ان کی زبانی ہم تک بھی یہ خبر پہنچ گئی تھی ۔
اسلم اورصغیردونوں میرے شاگرد تھے ۔تین ہفتے تک ہم دن رات مسلسل ساتھ رہے تھے ۔ اب ایک دم ان کی موت کا سن کرمیرا دل دکھ سے بھر گیا تھا۔ہفتہ بھر پہلے ہی وہ ایک امید لے کر یہاں سے واپس لوٹے تھے ۔برطانوی سنائپرز کو انجام تک پہنچانے کے لیے وہ پر عزم تھے ۔گو ان سنائپرز کی جو کہانیاں مجھ تک پہنچ چکی تھیں اس کے بعد ان چاروں سے مجھے اتنی زیادہ امید تو نہیں تھی کہ وہ ،انھیں ختم کر سکیں گے ۔لیکن یہ تو میرے گمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ خود ان کا نشانہ بن جائیں گے ۔حالانکہ میں نے ا نھیں سنائپرز کے حربوں اور چالاکیوں سے اچھی طرح آگاہ کر دیا تھا ۔یقینا وہ میری ہدایات پر صحیح طریقے سے عمل نہیں کر سکے تھے ۔اور یہی وجہ تھی کہ اپنے ساتھی کی لاش اٹھانے کے لیے وہ یوں منھ اٹھا کر بھاگتے چلے گئے تھے ۔حالانکہ میں انھیں اچھی طرح بتلا چکا تھا کہ ایک سنائپرز مخالف کی نفسیات سے کھیلتا ہے ۔ اور اپنے ہدف کا انتظار کرنے کے لیے وہ گھنٹوں نہیں دنوں انتظار کر سکتا ہے ۔گو تمام آدمی یہ بات نہیں جانتے تھے مگر میرے دو اور شاگرد،مبین اور احسان تو وہاں موجود تھے وہ انھیں اس خطرے سے آگاہ کر سکتے تھے ۔اب یہ معلوم نہیں تھا کہ احسان وغیرہ نے انھیں خبردار نہیں کیا تھا یا انھوں نے خود ہی بے پروائی برتی تھی ۔
صغیر ایک ہنس مکھ اور بہادر جوان تھا ۔اس کا تعلق مانسہرہ جیسے خوب صورت علاقے سے تھا ۔ اس کے دل میں اسلام اور پاکستان کی محبت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی ۔رینج ماسٹر سے فائر کرتے ہوئے وہ اکثر کہتا تھا ....
”استاد ذیشان !....امید کرتا ہوں ان دونوں کی موت میری ہی گولی سے لکھی ہو۔“
جب میں نے انیس سو میٹر سے پتھر کو نشانہ بنایا تھا ،تب اس نے بے ساختہ کہا تھا ۔ ”اگر ان کافروں کو پتا چل گیا کہ ہمارے استاد ایس ایس کا نشانہ کیسا ہے ،یقینا وہ بھاگنے میں دیر نہیں لگائیں گے۔“
کمانڈر عبدالحق نے ہنستے ہوئے پوچھاتھا ۔”بیٹا !....استاد کو چھوڑو ،اپنی سناﺅ ۔“
وہ عزم سے بولا ۔”میں تو انھیں بھاگنے بھی نہیں دوں گا ۔“
آنے والے وقت سے کوئی بھی واقف نہیں ہوتا ۔اگر اسے معلوم ہوتا کہ اس نے انھی سنائپرز کا نشانہ بننا ہے تو شاید ایسے دعوے نہ کرتا ۔اس کی شادی کو ایک ہی سال ہوا تھا ۔محاذ پر آنے سے پہلے اس کی بیوی امید سے تھی ۔اس نے پختہ ارادہ کیا تھا کہ وہ نو ماہ گزارنے کے بعد ہی گھر جائے گا تاکہ اپنی بیوی اور بچے سے ملنے کی دہری خوشی سے لطف اندوز ہو سکے ۔اسے چھٹی سے آئے آٹھ ماہ ہو چکے تھے اور اب ایک مہینا گزار کر اس نے گھر جانا تھا ۔لیکن اجل نے اسے موقع ہی نہیں دیا تھا ۔اپنے محبوب کی آمد کے لیے چشم براہ بیوی کو اس کی شکل دیکھنا بھی نصیب نہیں ہوا تھا ۔
کمانڈر عبدالحق میری غار میں داخل ہوا ۔”ذیشان بھائی! ....آپ تو رو رہے ہیں ۔“اس نے فکرمندی سے پوچھا ۔
مجھے معلوم ہی نہیں ہوا تھا اور میری آنکھوں سے آنسو بہنے لگے تھے ۔”پتا نہیں یار ۔“آنکھوں پر الٹا ہاتھ پھیرتے ہوئے میں نے عجیب سے لہجے میں کہا ۔
”اگر موت کے بعد فنا ہو جانا ہوتا تو کافی گھاٹے کا سودا تھا ۔“ اس نے مجھے سمجھایا تھا یا شاید تسلی دی تھی ۔
”جانتا ہوں ۔“میں نے اس کے چہرے پر نظریں گاڑتے ہوئے کہا ۔”لیکن دکھ اورغم کا احساس قدرتی ہوتا ہے ۔“
”اللہ پاک ان کے درجات بلند کرے ۔“کمانڈر عبدالحق میرے ساتھ ہی بستر پر بیٹھ گیا ۔
دوسرے دن مخابرے پر اسلم کی حالت کے بارے معلوم کیا تو پتا چلا کہ وہ بچ نہیں سکا تھا ۔ یقینا علاج کی بہتر سہولت نہ ہونے کی وجہ سے وہ جانبر نہیں ہو سکا تھا ۔
٭٭٭
اگلے تین چار ہفتے بھی میں کمانڈر عبدالحق کا مہمان بنا رہا ۔مجھے وہاں رکے ہوئے دو ماہ سے زائد عرصہ ہو گیا تھا ۔لیکن بغیر تندرست ہوئے میں اپنا سفر جاری نہیں رکھ سکتا تھا اس لیے جب تک میں مکمل صحت یا ب نہ ہو گیا میں نے وہاں سے ہلنے کی کوشش نہیں کی تھی ۔اسی اثناءمیں کمانڈر عبدالحق اپنے ایک ساتھی کے ساتھ چھٹی کاٹ کر لوٹ آیا تھا ۔اس کے ہمراہ گئے ہوئے باقی دو ساتھی کسی وجہ سے واپس نہیں لوٹ سکے تھے ۔مجھے ابھی تک وہیں موجود پا کر کمانڈر اسلام خوشی سے کھل اٹھا تھا ۔
”شکر ہے ذیشان بھائی آپ یہیں مل گئے ،ورنہ آپ کی تلاش میں کہاں کہاں پھرنا پڑتا۔“
میں مزاحیہ انداز میں بولا ۔”میرا خیال ہے میں نے آپ سے قرض وغیرہ تو نہیں لیا تھا ۔“
”آپ کی ایک امانت ساتھ پھرا رہا ہوں یا ر !“اسلام نے سفری تھیلے سے ایک شاپر نکال کر میری طرف بڑھایا۔
”یہ کیا ہے ؟“میں سچ مچ حیران رہ گیا تھا ۔
”بھول گئے ،آپ نے جاتے وقت مجھے کوئی پیغام دیا تھا ۔“
”چچا شمریز نے بھیجا ہے یہ ۔“میرے چہرے پر مسکراہٹ نمودار ہوئی ۔
وہ معنی خیز لہجے میں بولا ۔”میرے حوالے تو اسی نے کیا ہے ،اب بھیجنے والا کون ہے یہ معلوم نہیں ۔“
”بہت اچھا گھرانا ہے ۔اللہ پاک انھیں اپنے حفظ و امان میں رکھے ۔“
”آمین ۔“اسلام کے ساتھ کمانڈر عبدالحق کے منھ سے بھی دعائیہ کلمہ اداہوا ۔اسلام کی بات جاری رہی ۔”ویسے آپ کا نام لیتے ہی ہماری جو پذیرائی ہوئی اس کا تو ہم نے سوچا بھی نہیں تھا ۔ہمیں تو لگ رہا تھا کہ شمریز آپ کا سگا چچا ہے ۔اور پھر اس کے دونوں چھوٹے بچوں نے ہم سے اتنے سوال کیے کہ بیان سے باہر ہے ۔اپنے لالاجان کے زخمی ہونے کا سن کر تو وہ رونے لگے تھے ۔ جب انھیں ساری کہانی سنائی تب انھیں افاقہ ہوا ، کہ ان کے لالاجان نے زخمی ہونے سے پہلے کتنوں کو زندگی کی قید سے آزادی دلائی ہے ۔کوئی پردے کے پیچھے سے بھی ہماری گفتگو سنتا رہا ہے ۔اور میرا خیال ہے یہ سامان اسی نے بھجوایا ہے ۔“
میں نے جلدی سے کہا ۔”ہاں وہ بھی میری منھ بولی بہن ہے ۔لیکن آپ کو کیسے معلوم کہ کوئی پردے کے پیچھے بھی موجود ہے ۔“
”جب میں آپ کے بارے تفصیل سنا رہا تھا تو اس نے وہیں سے بے ساختہ دو تین سوال پوچھے تھے ۔اور جب اگلی صبح ہم جانے لگے تو شمریز چچا نے بااصرار ہمیں اسی رستے سے واپس لوٹنے کی درخواست کی تھی ۔کل صبح جب وہاں سے نکلے تو یہ سامان تو چچا شمریز نے ہمارے حوالے کیا لیکن یہ سامان آپ تک پہنچانے کی ہدایات پردے کے پیچھے سے موصول ہوئی تھیں ۔“
میں نے کہا ۔”میں شاید دو دن پہلے رخصت ہو گیا ہوتا ،مگر عبدالحق بھائی نے ایک دن اور ایک دن اور کی رٹ لگا کے مجھے زبردستی روکا ہوا تھا ۔“
عبدالحق نے فوراََ کہا ۔”دیکھ لیں ،بڑوں کی بات ماننے میں کتنے فائدے ہوتے ہیں ۔“
”آپ کی وجہ سے بس اسلام بھائی کی مشقت میں کمی ہوئی ہے کہ انھیں امانت سے جان چھڑانے کا موقع مل گیا ۔ورنہ میں جہا ںبھی جاتا اسلام بھائی یہ مجھ تک ضرور پہنچا دیتے ۔کیوں اسلام بھائی ۔“میں نے تصدیق چاہنے کے انداز میں اسلام کی طرف دیکھا ۔
”بلا شک و شبہ ۔“اس نے اثبات میں سر ہلادیا۔
رات کافی ہو گئی تھی ،کچھ دیر مزید بیٹھ کر وہ رخصت ہو گئے ۔میں نے اگلی صبح آگے جانے کا بتادیا تھا ۔اس ضمن میں کمانڈر عبدالحق سے رہنمائی مانگی تو اس نے یہ کہہ کر خاموش کرادیا کہ مجھے رستے کے لیے ایک رہنما مل جائے گا ۔مجھے اس کے علاوہ کیا چاہیے تھا ۔
ان کے جانے کے بعد میں کالے رنگ کے شاپر کو کھولنے لگا ۔اس میں ایک خوب صور ت سوئیٹر،ایک گرم ٹوپی اور ہلکے بھورے رنگ کا کپڑوں کا سلا ہوا سوٹ بند تھا ۔ اس کے ساتھ ہی ایک رقعہ بھی موجود تھا ۔گلگارے کی لکھائی پہچانتے ہوئے مجھے ذرا بھی دقت نہیں ہوئی تھی ۔سلام و دعا کے بعد لکھا تھا ۔
”امید کرتی ہوں کہ یہ سامان جلد ہی آپ تک پہنچ جائے گا ۔آپ نے اسلام چچا کے ذریعے اپنی خیریت کا احوال بھیجا سن کر دل تشکر سے بھر گیا کہ آپ نے ابھی تک ہمیں یاد رکھا ہے۔اوریہ جان کر بہت خوشی ہوئی کہ ہم اس قابل ہیں کہ اب تک آپ کو نہیں بھولے ۔آپ کے زخمی ہونے کا سنا بہت افسوس ہوا۔ اگر ابوجان اجازت دیتے تو یقینا میں آپ کو ملنے وہیں پہنچ جاتی لیکن انھوں نے منع کر دیا ۔ آپ کی گڑیا بہن رنڑا بھی بہت پریشان ہوئی ،مگر جب اسے معلوم ہوا کہ آپ کتنوں کو مار کر زخمی ہوئے تب اسے افاقہ ہوا ۔اور یہ بتانے کی ضرورت تو غالباََ نہیں ہو گی کہ اسلام چچا کی آمد کے بعد سے اب تک روزانہ آپ کا تازہ کارنامہ سننا پڑتا ہے ۔آپ کے معاملے میں نہ تو وہ میرے ڈانٹنے کی پروا کرتی ہے اور نہ مجھ سے ڈرتی ہے ۔آپ کا دیا ہوا پستول اس نے دیکھتے ہی پہچان لیا تھا ۔پہلے پہل تواس نے مجھ پر الزام دھرا کہ میں نے آپ سے چرایا ہے ۔بعد میں بڑی مشکل سے اسے یقین دلایا کہ آپ ہی نے میرے حوالے کیا ہے ۔ثمر خان آپ جیسا نشانہ باز بننے کے لیے روزانہ مشق کرتا ہے ۔دونوں اب پہلے کی طرح مجھ سے نہیں ڈرتے ۔ہر وقت آپ کی واپسی کی دھمکی دیتے رہتے ہیں ۔انھیں تنگ کرنے کے لیے مجھے آپ کی کافی ساری برائیاں کرنا پڑتی ہیں جواباََ وہ لڑنے سے بھی باز نہیں آتے ۔یہ کپڑے میں نے ماموں جان کے ساتھ خان کلے جا کر خریدے ہیں اور سلائی بھی خود کیے ہیں ۔اگر سلائی اچھی نہ لگے تب بھی آپ نے پہننے ضرور ہیں ۔آپ کی گڑیا بہن کو ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی پتا چلا ہے کہ میں آپ کے لیے کپڑوں کا جوڑا اور سوئیٹر بھیج رہی ہوں ، چونکہ صبح چچا اسلام نے آگے جانا ہے اس لیے بے چاری کے پاس اتنا وقت ہی نہیں تھا کہ کچھ خرید سکتی۔ لگی منتیں کرنے کہ میں یہ سوئیٹر اس کانام لے کر آپ کے پاس بھجوادوں ۔لیکن آپ کو تو معلوم ہے کہ آپ دونوں بہن بھائیوں کی چاہت مجھے ایک آنکھ نہیں بھاتی اس لیے میں نے سختی سے انکار کر دیا ۔بس ساری رات اسی تگ و دو میں رہی کہ آپ کو کیا تحفہ بھیجے ۔ثمر خان کے لیے ماموں جان شہر سے گرم ٹوپی اور رنڑا کے لیے گرم شال لے کر آئے تھے۔گرم شال تو صرف لڑکیاں ہی اوڑھ سکتی تھیں ۔بے چاری نے ثمر خان کی منتیں کر کے اس سے گرم ٹوپی اس شرط پر مستعار لی کہ ماموں جان سے ٹوپی کی قیمت معلوم کر کے وہ اسے اتنی ہی رقم دے گی ۔اور وہی ٹوپی آپ کو بھجوا دی ۔باقی ابوجان بھی خیریت سے ہیں ۔ان کا زخم بالکل ٹھیک ہو گیا ہے ۔تمام آپ کو ڈھیروں سلام و دعا کہہ رہے ہیں ۔پلوشہ بہن سے جونھی ملاقات ہوتی ہے اسے فوراََ ہمارے بارے تفصیل سے بتلانا اور اسی رستے سے واپس بھیجنا۔ ان سے ملنے کو میرا بہت دل کرتا ہے ۔اور ہاں میں آپ کو بتایا تھا نا کہ نصیر خان نے اپنے بیٹے سے میرا رشتا کرنے کے لیے دس لاکھ کی آفر کی تھی اور ابوجان نے پندرہ لاکھ مانگے تھے ۔اب وہ پندرہ لاکھ دینے کو تیار ہو گیا ہے ۔لیکن ابو جان نے سال ڈیڑھ کی مہلت مانگ لی ہے وہ فی الحال میری شادی نہیں کرنا چاہتے ،شاید میں بھی یہی چاہتی ہوں ۔اجازت چاہوں گی اپنا بہت بہت خیال رکھنا ۔میری پیاری بہن پلوشہ کو جلد از جلد ڈھونڈنا ۔اللہ پاک آپ کا حامی و ناصر ہو .... از طرف گلگارے شمریز خان ۔“
خط کے ہر لفظ سے محبت خلوص اور اپنائیت ٹپک رہی تھی ۔رنڑا گڑیا کی بھیجی ہوئی ٹوپی تو میں نے اسی وقت سر پر اوڑھ لی ۔ خلوص اور اپنائیت کی چاشنی نے ان تحائف کو بہت قیمتی بنا دیا تھا ۔
اگلی صبح ناشتے کے بعد،گلگارے کے بھیجے ہوئے کپڑے اور سوئیٹر پہن کر میں آگے جانے کے تیار تھا ۔کپڑے بالکل میرے ناپ کے مطابق تھے ۔کمانڈر عبدالحق کو اپنے ساتھ جانے پر آمادہ دیکھ کر میں حیران رہ گیا تھا ۔
”میرا خیال ہے آپ کی یہاں زیادہ ضرورت ہے۔“
”صحیح کہا ،مگر میرے علاوہ غزنی تک جانے کا مختصر رستا کسی کو بھی معلوم نہیں ہے اور یوں بھی کمانڈر اسلام میری واپسی تک یہیں رہے گا ۔“
”چلیں پھر بسم اللہ پڑھیں ۔“میں نے اسے آگے بڑھنے کا اشارہ کیا ۔اور وہ سرہلاتے ہوئے آگے ہو گیا ۔
غزنی تک ہم نے پیدل ہی جانا تھا ۔میں نے رستے میں کافی وقت ضائع کر دیا تھا ،نامعلوم البرٹ بروک وغیرہ اب تک غزنی میں تھے یا کہیں اور منتقل ہو گئے تھے ۔لیکن میرے پاس ان کے بارے یہی آخری معلومات تھی اس لیے مجھے ایک بار تو وہاں ضرور جانا پڑتا ۔وہاں جانے کے بعد ہی میں اپنی اگلی منزل کا تعین کرسکتا تھا ۔
جاری ہے

No comments: