Ads Top

Massom Si Larki By Sabahat Khan Episode No. 24|| 24 معصوم_سی_لڑکی از صباحت_خان قسط نمبر

Massom Si Larki
 By
 Sabahat Khan 

  معصوم_سی_لڑکی
 از
 صباحت_خان 

Massom Si Larki  By  Sabahat Khan     معصوم_سی_لڑکی  از  صباحت_خان

#معصوم_سی_لڑکی

#صباحت_خان✏

#قسط24
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
اس ناول کے تمام جملہ حقوق #کریزی_فینس_اوف_ناول ویب کے پاس محفوظ ہیں اس ناول کو کہیں بھی پیج ,گروپ ,ویب سائٹ اور بلاگ پر پوسٹ کرنے کی اجازت نہیں ہے بصورت دیگر کاپی پیسٹ کرنے والے کے خلاف #کریزی_ویب ہر طرح کی چارہ جوئی کرنے کا حق رکھتی ہے
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
گاڑی سے ٹیک لگائے اپنے ہاتھوں کو باندھے ہوئے وہ سامنے گیٹ کی طرف دیکھ رہا تھا یہ کچھ گھنٹے بھی اس نے بیچینی سے گزارے تھے آنکھوں پر گلاسز لگائے وہ ہر ایک لڑکی کی آنکھوں کا مرکز بنا ہوا تھا پر اس کا دھیان تو اس وقت بس گیٹ پر تھا جب اسے حیا سامنے سے آتی ہوئی نظر آئی اس کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی،
وہ دو قدم آگے بڑھا جب اس کی نظر حیا کے ساتھ آتے ہوئے اس لڑکے پر پڑی اس نے سختی سے اپنے ہاتھوں کی مٹھی کو بھینچا اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا آگے بڑھا،وہ جب تک حیا کے پاس پہنچتا وہ لڑکا موڑ کے جا چکا تھا،
یہ یہاں کیا کر رہا ہے اس نے حیا کی طرف غصے سے دیکھا،حیا جو موڑ کے بریل کو جاتے ہوئے دیکھ رہی تھی ایک دم روہان کی آواز پر اس نے آگے کی طرف دیکھا،
وہ یہی پڑھتے ہیں حیا نے نیچے نظرے جھکائے جواب دیا،روہان نے گلاسز اتار کر اسے دیکھا جو نظرے جھکائے بہت معصوم لگ رہی تھی اس وقت ان بیلو آئیز میں غصہ ہی غصہ تھا اس نے حیا کا ہاتھ پکڑا اور آگے بڑھ گیا گاڑی میں بیٹھو حیا چپ چاپ دروازا کھول کر بیٹھ گئی،
روہان گھوم کر دوسری طرف آیا اور گاڑی میں بیٹھا، یہاں اور بھی بہت لوگ پڑھتے ہیں پھر یہ لڑکا تمہارے ساتھ کیوں،روہان نے بغیر حیا کی طرف دیکھے سوال کیا،وہ مجھے کچھ سٹوڈینٹ تنگ کر رہے تھے بریل جی نے میری ہلپ کی حیا نے آرام سے جواب دیا اس کی آواز بہت آہستہ تھی،
کس نے تنگ کیا ایک دم روہان نے اس کی طرف دیکھا اس کے دماغ کی نسے بھی ابھرنے لگی اس کی حیا کو کسی نے تنگ کرنے کی ہمت بھی کیسے کی،بتاو مجھے کس نے تنگ کیا ایک دم روہان کے دھاڑنے پر حیا ڈر گئی وہ___حیا نے شیشے سے باہر دیکھا جہاں وہ تینوں اس وقت کسی بات پر ہنس رہے تھے تم یہی بیٹھوں میں آتا ہوں روہان نے ایک نظر ان تینوں کو دیکھا اور گاڑی سے باہر نکل گیا،
یار یہ بندہ جو سامنے سے آرہا ہے مجھے کچھ دیکھا دیکھا لگ رہا ہے براڈ نے روہان کو دیکھتے ہوئے کہا ارے تم اسے نہیں جانتے یہ لندن کا بہت بڑا بزنس مین ہے اوپر سے ہینڈسم لڑکیا مرتی ہے اس پر میری نے دل پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا،
اس لڑکی کو جانتے ہو روہان نے ان لوگوں کے پاس پہنچ کے گاڑی میں بیٹھی حیا کی طرف اشارہ کیا،براڈ نے گاڑی کو ایک نظر دیکھا وہ پہچان گیا وہ یایا ہے، نہیں تو براڈ نے اپنے کندھے اچکائے،روہان نے پہلے اسے غصے سے دیکھا پھر ایک پنچھ اس کی ناک پر مارا جس سے اس کی ناک میں سے ایک خون کی لکیر باہر آئی،
she is my wife 
انگلی اٹھا کے ان تینوں کو دیکھا
my love my life my everything
روہان نے ایک ایک لفظ چبا چبا کر ان تینوں کو دیکھ کر غصے سے کہا،اس سے دور رہو، ان تینوں کو وارن کیا اس وقت روہان کا دل کیا ان سب کو بتا دے وہ کیا چیز ہے پر وہ یہاں کوئی تماشا نہیں کرنا چاہتا تھا براڈ نے غصے سے دانت بھینچ لیے روہان ان کو غصے سے دیکھتے ہوئے موڑ کے چلا گیا،تم نے اسے اتنی اسانی سے جانے دیا،کیری نے غصے سے براڈ کی طرف دیکھا،
یہ کوئی معمولی آدمی نہیں ہے میری نے اس کو دیکھا جزباتی ہو کر نہیں سوچنا دماغ سے سوچنا ہے چھوڑتے تو ہم کسی کو نہیں ہے براڈ نے اپنے لمبے بالوں میں ہاتھ پھیر کر نفرت سے اس گاڑی کو دیکھا جو ان کی نظروں سے دور جاتی جا رہی تھی
*************
وہ گہری نیند میں تھا جب اسے اپنے پاس سے عجیب سی آواز آئی کون ہے وہاں اس نے اپنی آنکھوں کو کھول کر سامنے دیکھنے کی کوشش کی اسے اندھیرے میں کچھ نظر نہیں آیا
کون ہے وہاں اس نے آرام سے کمرے کا دروازا کھول کے جیسے ہی باہر قدم رکھا ایک دم پیچھے سے کسی نے اس کی گردن پکڑی،چھو____ڑ اس آدمی نے اپنے گلے سے اس کے ہاتھ اٹھانے چاہے اس سے پہلے وہ چیختا حیدر نے اس کی گردم مروڑ دی،
اس آدمی کو ختم کرکے اس نے کمرے میں قدم رکھا کمرا خالی تھا اب وہ واپس روم سے باہر آیا،سر اس روم میں ایک آدمی تھا جسے میں نے ختم کر دیا صمد نے آہستہ آواز میں پاس آتے ہوئے کہا،
حیدر نے اس کی طرف دیکھ کر گن نکالی صمد نیچے جھکو حیدر نے بولتے کے ساتھ گولی چلائی جو صمد کے پیچھے موجود آدمی کو لگی اگر ایک سیکنڈ بھی دیر ہو جاتی تو وہ صمد کو مار چکا ہوتا،
حیدر نے اتنی تیز آواز میں صمد سے کہا کے ایک دم پورے گھر کی لائیٹس اون ہوگئی حیدر اور صمد نے اپنے چاروں اور دیکھا ہاتھوں میں ہتیار لیے تین آدمی ان کے کچھ فاصلے پر کھڑے تھے،
اپنی گن ہمارے ہوالے کرو ایک آدمی نے چیختے ہوئے کہا حیدر نے اپنے گن نیچے پھینک کر پیر سے ان کی طرف کی،تو بھی پھینک اپنی گن اب اس آدمی نے صمد سے کہا جو ان کی طرف گن تان کر کھڑا تھا،حیدر نے اشارہ کیا پھینک دے،
صمد نے گن ان کی طرف پھینکی ،ماننا پڑے گا تم آرمی والوں کو سالے ہر جگہ پہنچ جاتے ہو اس آدمی نے حیدر کی طرف گھورتے ہوئے کہا جو غصے میں انہیں دیکھ رہا تھا،
اس آدمی نے حیدر کی طرف گن کی حیدر نے صمد کو آنکھوں سے اشارہ کیا اس سے پہلے وہ آدمی گولی چلاتا صمد اور حیدر ایک ساتھ نیچے جھکے چاروں اور گولیوں کی آوازیں آنے لگی وہ آدمی بھی جلدی سے یہاں وہاں چھپ گئے،
بلال اور احمد گھر میں پہنچ گئے تھے فائرنگ بھی انہوں نے کی تھی حیدر نے اپنی گن اٹھا کے صمد کی گن اس کے پاس پھینکی تھوڑی دیر میں ان چاروں نے مل کے ان تین آدمیوں کو ختم کر دیا اچھے سے چیک کرو پورا گھر ان کا ایک اور ساتھی ہے،
حیدر نے ان سب کو حکم دیا احمد اور بلال گھر چیک کرنے لگے صمد نے ان سب آدمیوں کی جیب چیک کی حیدر کو اب بھی یاد تھا وہ آدمی جو فون پر اپنے مالک سے بات کر رہا وہ یہاں نہیں ہے پھر وہ کہا گیا
سر گھر پورا چیک کر لیا اور کوئی آدمی نہیں ہے بم بنانے کا سامان تو موجود ہے پر جو بم ان لوگوں نے بنایا تھا وہ کہی نہیں ہے احمد نے باہر آتے ہوئے کہا،یہاں بھی کوئی نہیں ہے ہو سکتا ہے اتنے ہی آدمی ہوں بلال نے حیدر کی طرف دیکھا،
نہیں اس دن میں نے دیکھا تھا ایک اور آدمی تھا ان کے ساتھ اور وہ بم بھی تو ہمیں کہی نہیں ملا حیدر نے پریشانی سے کہا،بم اگر اس کے اصلی مالک کے ہاتھ لگ گیا بہت کچھ ہو سکتا تھا کہی ہم نے آنے میں دیر تو نہیں کردی اب تو سورج بھی نکل گیا تھا
گاؤں میں چاروں طرف یہ بات آگ کی طرح پھیل گئی تھی کے اس گھر سے فائرنگ کی آوازیں آرہی تھی،حیدر نے گھر کا دروازا کھولا گاؤں کے کچھ لوگ کھڑے گھر کو مشکوک نظروں سے دیکھ رہے تھے حیدر کو باہر آتے دیکھ سب ڈر کے پیچھے ہوگئے،
آپ لوگ ڈرو نہیں اس گھر کا اصلی مالک کون ہے وہ سامنے آئے حیدر نے اپنی بہاری آواز میں کہا پر ایسا لگ رہا تھا سب گاؤں والوں کو سانپ سونگھ گیا تھا حیدر نے خود کی طرف دیکھا کالے لباس میں چہرے پر رومال باندھ کے وہ واقعی ڈاکو لگ رہا تھا،
حیدر نے اپنے چہرے سے رومال ہٹایا سب لوگوں نے حیرت سے اس لڑکے کو دیکھا یہ تو وہی تھا جس نے کل اتنا بڑا فیصلہ منٹوں میں لیا تھا پورے گاؤں میں بس اسی کی باتیں ہو رہی تھی،
صمد کال پر بات کرتا ہوا گھر سے باہر آیا میں نے ہیڈ کوارٹر میں اطلاع کردی ہے کچھ دیر میں ٹیم یہاں ہوگی حیدر نے پہلے اس کی بات سنی پھر سب گاؤں والوں کو دیکھا آپ سب لوگ اب محفوظ ہیں ہم لوگ آرمی والے ہیں اور یہاں اسی مشن سے آئے تھے اب بتاؤ گھر کا اصلی مالک کون ہے حیدر نے بول کے سب کی طرف دیکھا ،
ارمی کا نام سن کے لوگون کے چہرے پر تھوڑا سکون آیا،صاحب میں ہوں اس گھر کا مالک آیک آدمی ہاتھ باندھ کے چہرا جھکائے کھڑا تھا یہ تو وہی منشی تھا جس کی کل بہت زبان چل رہی تھی، 
او اچھا تم ہو تم نے دہشت گردوں کو مکان ے دیا حیدر نے غصے سے دیکھا نہیں نہیں صاحب مجھے تو ان لوگوں نے کہا وہ یہاں گھومنے آئے ہیں مجھے نہیں پتا تھا یہ لوگ دہشت گرد ہیں اس آدمی نے اپنے ماتھے سے پسینہ صاف کیا پوچھ تاچھ تو تم سے ہوگی پہلے مجھے بتاؤ یہ آدمی کہا ہے حیدر نے ویڈیو میں موجود آدمی کی تصویر اسے دیکھائی،
صاحب اسی نے تو کرائے پر لیا تھا مجھ سے اور کل رات اس نے مجھے سب پیسے بھی دے دیے تھے اور کہا تھا کل صبح وہ لوگ گھر خالی کر دے گے پر اس کے ہاتھ میں ایک بیگ تھا میں نے بیگ کی طرف دیکھا تو اس نے کہا وہ سب دوست یہاں آئے تھے گھومنے اور اب اس کے گھر میں کسی کی طبیعت ٹھیک نہیں اس لیے وہ جا رہا ہے باقی سب کل جائے گے منشی نے جلدی جلدی کہا حیدر اور باقی سب کو آرمی میں دیکھ کے اس کے تو پسینے ہی چھوٹ گئے تھے،
کچھ دیر میں آرمی کی پوری ٹیم وہاں تھی حیدر نے ہر جگہ ناکا بندی کروادی تھی انہیں اس آدمی کو ہر حال میں پکڑنا تھا،بلال سن بلال فون پر کسی سی بات کر رہا جب حیدر نے اسے بلایا بلال فون رکھ کے اس کے ہاس آیا،
صمد اور احمد یہاں ہے ہم بھی کچھ دیر میں نکلے گے یہ گاڑی کی چابی لے اور تو دعا کو گھر لے جا حیدر نے آرام سے کہا پر بلال نے اسے ایسے دیکھا جیسے تیرا دماغ خراب ہے،،
ایسے کیا دیکھ رہا ہے حیدر نے جب اس کی طرف دیکھا تو پوچھے بغیر نہ رہ سکا،میں یہاں اس دعا میڈم کو گھوما نے نہیں آیا تھا کسی اور کے ساتھ بھیج دے اسے یہاں ویسے بھی بہت کام ہے بلال نے بیزاری سے کہا،
کوئی کام نہیں ہے یہ سب مر گئے اور معلومات سے پتا لگا یے وہ آدمی بھی اس گاؤں سے باہر جا چکا ہے ہم اب یہاں نہیں رکے گے اور وہ لڑکی یہ سب دیکھے گی تو ڈر جائے گی اسے تو اپنے ساتھ لے کر جائے گا اور یہ میرا آرڈر ہے حیدر نے اسے بول کے اپنا رُخ بدل لیا بلال نے اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھا پر کہا کچھ نہیں اب وہ اسے پوچھے گا گھر جاکے سمجھتی کیا ہے خود کو میرے ہی دوستوں کو مجھ سے باغی کر دیا بولتا ہوا جانے لگا جب حیدر نے اسے آواز دی،
اب کیا ہے اس نے پلٹ کر کہا یہ گاڑی کی چابی لے جا حیدر نے گاڑی کی چابی پھینکی جسے بلال نے پکڑ لیا اور پلٹ کر چلا گیا،
 اب حیدر نے سب گاؤں والوں کو دیکھا جو ہاتھ باندھے نظرے جھکائے کھڑے تھے اور منشی کی تو جان ہی نکل رہی تھی،کل تک آپ لوگ ہمیں غلط کہہ رہے تھے آج یہ جان کر کے ہم آرمی والے ہے آپ سب ہم سے ڈر رہے ہو کیوں حیدر کی سوالیہ نظرے سب پر تھی،
ایسی بات نہیں ہے بیٹا کل جو ہوا اس پر ہم سب گاؤں والے آپ سے شرمندہ ہیں گاؤں میں سے ایک بزرگ نے آگے بڑھ کر کہا،آپ ہم سے شرمندہ نا ہو بس میں آپ سب سے ایک بات کہنا چاہوں گا کسی بھی لڑکی پر انگلی اٹھانے سے پہلے اچھے سے سوچا کرو آپ سب نے آنکھوں سے دیکھے بغیر اس بچی کو قصوروار قرار دے دیا جب کے قصوروار یہ تھا حیدر نے منشی کی گردن پکڑی جو کل جھوٹی کہانیاں سنا رہا تھا،
بیٹا ہم جانتے ہیں یہ آدمی جھوٹا ہے پھر بھی ہم اس کی باتوں میں آگئے اسے ہم سب مل کر اچھی سزا دے گے اور ہمیں اپنی آرمی پر فخر ہے اتنا سب ہونے کے بعد بھی آپ لوگوں نے ہم گاؤں والوں کو ان دہشت گردوں سے محفوظ کیا اس بزرگ کی آواز میں حیدر کے لیے پیار شفقت فخر سب کچھ تھا،
ہمیں معاف کر دو بیٹا جو کل ہوا دعا بیٹی کو ہم اپنی جان سے زیادہ سنبھال کر رکھے گے اب حیدر نے قریب آکر ان کے ہاتھ پکڑے آپ میرے ابو کی جگہ ہیں معافی نہیں مانگے اور دعا اب ہمارے آفسر کی عزت ہے اسے ہم ساتھ لے کر جائے گے،
اب تو وہ آپ لوگوں کی ہے ویسی بھی اس بچی کے ماں باپ نہیں ہے وہ چاچی بھی اس کی ایسی ہی ہے اچھا ہے بیٹا تم اسے ساتھ لے جاؤ اس بزرگ نے حیدر کے سر پر ہاتھ پھیرا حیدر نے محض ہاں میں سر ہلانے پر اتفاق کیا،اب اس نے سب گاؤں والوں کو دیکھا جو کل تک انہیں حقارت سے دیکھ رہے تھی آج ان کی آنکھوں میں فخر اور شرمندگی تھی،
سر سب کام ہو گیا اب ہمیں نکلنا چاہیے صمد کی آواز پر حیدر نے ہاں میں سر ہلایا اور گاڑی میں آکر بیٹھا اب اسے گھر جانا تھا گھر کے نام پر اسے کیا کیا یاد نہیں آیا گڑیا انوشے بھائی اور مشعل وہ بھی تو انتظار کر رہی ہوگی حیدر کے چہرے پر مسکراہٹ آگی میں آرہا ہوں مسسز حیدر
************** 
گھر کے اندر قدم رکھتے ہی اس کا رخ اپنے روم کی طرف تھا اور حیا کا ہاتھ اس نے اب تک تھاما ہوا تھا روم کے اندر آکر اس نے ایک ہاتھ سے روم لاک کیا اور پھر حیا کی طرف دیکھا جو نیچے منہ کیے کھڑی تھی روہان کے غصے سے وہ ڈر گئی اسے سمجھ نہیں آیا روہان کو اتنا غصہ کس بات پر آیا اب وہ اس کے ساتھ کیا کرے گا حیا کے پیر بھی کپکپا رہے تھے پھر بھی وہ ہمت کر کے کھڑی تھی،
یہاں بیٹھوں حیا کا ہاتھ پکڑ کے اس نے بیڈ پر بیٹھایا اب اس کی آواز میں غصہ کہی نہیں تھا حیا نے اس کی طرف دیکھا جو اب گٹھنے کے بل اس کے سامنے بیٹھ چکا تھا،
زیادہ تنگ کیا ان اسٹوڈینٹ نے اس نے حیا کی طرف دیکھ کے پیار سے پوچھا،اس کی آنکھوں میں اس وقت حیا کے لیے بے پنا فخر تھی،
اس نے روہان کی طرف دیکھا جو آنکھوں میں فکر لیے اس سے پیار سے پوچھ رہا تھا حیا کی آنکھوں میں آنسوں آگئے بغیر کچھ کہے وہ بس روہان کو یک ٹک دیکھے جا رہی تھی اسے معلوم بھی نہ ہوا کب اس کے آنسوؤں سے اس کا چہرہ تر ہو گیا،
کیا ہوا لٹل گرل مجھے بتاؤ میں کسی کو نہیں چھوڑو گا اس نے اپنے ہاتھ حیا کے گال پر رکھے اسے حیا کے آنسوں تکلیف دے رہے تھے وہ پیار سے اس کے آنسوں صاف کرنے لگا،
حیا نے روہان کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا اور نفی میں سر ہلایا اسے لگا روہان اسے ڈانٹے گا اس پر غصہ کرے گا پر روہان کا اتنا پیار دیکھ کے اس کی آنکھیں نم ہوگئی،لٹل گرل تم مجھے پریشان کر رہی ہو کچھ تو کہوں وہ پیار سے حیا کا چہرہ اپنے ہاتھ میں لیے پوچھ رہا تھا،
وہ بس تنگ کر رہے____بریل جی بہت اچھے انہوں نے میری__ہلپ کی اور مجھے باہر تک چھوڑا حیا نے آنسوؤں کے درمیان اٹک اٹک کے کہا
پاگل لڑکی ڈرا دیا مجھے روہان کےچہرے پر مسکراہٹ آگئی اچھا تیار ہوجاو آج ہم گھومنے جائے گے روہان نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا،پر وہ___ حیا بھی ایک دم کھڑی ہوگئی اور کچھ بولنے کی کوشش کرنے لگی پر سمجھ میں نہیں آیا کیسے کہے روہان کچھ دیر اس کے تاثرات دیکھتا رہا پھر جیب سے فون نکالا،
ہیلو میجر حیدر !!!!!! روہان نے فون کان پر لگا کر حیا کی طرف دیکھا جو حیدر کے نام پر ایک دم اسے دیکھنے لگی،جی میں روہان بات کر رہا ہوں اس نے حیا کے چہرے سے نظرے نہیں ہٹائی وہ بھی بغیر پلکیں جھپکائیں اسے دیکھ رہی تھی،
اچانک کام کی وجہ سے مجھے انا پڑا اس لیے میں آپ۔لوگوں کو بتا نہیں سکا اور یہاں آکر اپنے کام میں مصروف ہو گیا آگے سے حیدر نے پتا نہیں کیا کہا جس پر روہان کے چہرے پر اسمائل آگئی جی ہاں پر یہ میری لٹل گرل ہے نا جو ہر وقت آپ کو یاد کرتی اس سے بات کرو روہان نے فون حیا کی طرف بڑھایا،
حیا اب بھی فون کی جگہ روہان کو دیکھ رہی تھی روہان نے اس کے آگے فون کیا آنکھوں سے اشارہ کیا بات کرو کانپتے ہاتھوں سے حیا نے فون پکڑ کے کان سے لگایا،
بھیا!!!!!حیا کی آنکھوں سے آنسوں گرنے لگے بھیا!!!! اس سے آگے اس سے بولا نہیں گیا وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی مجھے آپ کی___ بہت یاد___ آئی بھیا روہان نے اسے پکڑ کر بیڈ پر بیٹھایا اور اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں پکڑا پر حیا میڈم تو اس وقت اپنے بھیا میں گم تھی،روہان کو اس کا رونا تکلیف دے رہا تھا اسے اپنی غلطی پر شرمندگی ہوئی اس نے اتنے دن اپنی لٹل گرل کو اس کی خوشی سے دور رکھا،
میرا بچا کیسا ہے گڑیا جان رو کیوں رہی ہوں بیٹا آپ خوش ہونا اتنے دن بعد حیا کی آواز سن کے حیدر کی آنکھوں میں آنسوں آگئے اس نے کتنی بار نمبر ملایا حیا کا جو بند تھا،روہان سے بھی رابطہ نہیں ہو سکا اس وقت وہ سفر میں تھا گھر جا رہا تھا اور اس کا پورا ارادہ تھا لندن جانے کا جب تک وہ اپنی آنکھوں سے اپنی گڑیا کو نہیں دیکھ لیتا کے وہ خوش ہے اسے سکون نہیں ملے گا،
جی بھیا___گڑیا پھر رو کیوں رہی ہو بچا حیدر نے بیچینی سے کہا،وہ بھیا اتنے دن سے آپ سے بات نہیں ہوئی آپ کو دیکھا نہیں بھیا آپ آجاؤ نا مجھے آپ سے ملنا ہے اب اپنے آنسوں صاف کیے وہ حیدر سے باتوں میں لگ چکی تھی،
  روہان نے حیا کو دیکھا جو اب حیدر سے باتیں کرتے وقت یہ بھی بھول گئی تھی وہاں روہان بھی ہے روہان اٹھ کے فریش ہونے چلا گیا وہ چاہتا تھا حیا آرام سے اپنے بھیا سے بات کرلے،
گڑیا آپ کا موبائل کہاں ہے میں نے بہت کوشش کی پر وہ بند تھا،حیا ایک دم چپ ہوگئی اس نے واشروم کی طرف دیکھا جہاں کچھ دیر پہلے روہان گیا تھا،
بھیا وہ___ حیا کو سجھ نہیں آیا کیا کہے کہو گڑیا آپ کا موبائل کہاں ہے بھیا وہ تو اوف ہو گیا اون نہیں ہو رہا تھا حیا نے زندگی میں پہلی بار حیدر سے جھوٹ کہا
 اچھا گڑیا آپ فکر نہیں کرو میں آپ کے لیے ایک اور فون بھجوا دونگا،
نہیں نہیں بھیا اس کی ضرورت نہیں وہ میں لے لونگی آپ بتاؤ بڑے بھیا کیسے ہیں بھابھی انوشے اور مشعل وہ کسی ہے بھیا اس نے ایک کے بعد ایک کئی سوالات کر ڈالے،صبر صبر گریا بتاتا ہوں،
سب ٹھیک ہیں میں خود بھی نہیں تھا شہر میں اب گھر جارہا ہوں اور رہی بات مسسز حیدر کی اس کی آنکھوں میں مشعل کا خوبصورت چہرہ آیا،کتنے دن سے اس نے اپنی پری کو نہیں دیکھا تھا بھیا!!!کیا ہوا حیا کی آواز پر حیدر واپس ہوش میں آیا،
وہ بھی بلکل ٹھیک ہے میں آپ کی بات کروا دوں گا ٹھیک ہے اور بتاؤ آپ کا ایڈمیشن ہوگیا،جی بھیا وہ تو ہوگیا میں آج یونیورسٹی بھی گئی تھی بہت بڑی ہے بھیا اور یہاں سب کچھ بہت الگ ہے یہ گھر بھی بہت اچھا ہے بہت بڑا اور یہ بھی میرا بہت خیال رکھتے ہیں روہان واش روم سے باہر آیا تو اس نے حیا کو نون اسٹاپ بولتے ہوئے پایا،
اس نے حیا کو حیرت سے دیکھا اسے اتنا بولنا بھی آتا ہے یہ بات روہان کو آج معلوم ہوئی اور اس کی اسمائل اف روہان تو اس کی اسمائل میں کھو گیا وہ قدم قدم چلتا اس کے پاس آیا جو حیدر سے بات کرتے ہوئے کسی بات پر مسکرا رہی تھی روہان نے ہاتھ بڑھا کے اپنی انگلی اس کے ڈمپل پر رکھی اسے تو معلوم بھی نہیں تھا کے وہ مسکراتے ہوئے اتنی زیادہ پیاری لگتی ہے،
روہان کے لمس سے وہ ایک دم چپ ہوگئی اس نے روہان کی طرف دیکھا پھر نظرے جھکائی جی بھیا ٹھیک ہے اللّٰہ حافظ حیا نے فون رکھا،اور کچھ!!!روہان نے اپنا ہاتھ پیچھے کرکے حیا سے پوچھا،
آپ کو کیسے پتا میں بھیا سے بات حیا نے چہرہ جھکائے ہی کہا،پر روہان نے کوئی جواب نہیں دیا وہ اب بھی حیا کے معصوم چہرے کی طرف دیکھ رہا تھا کچھ دن میں یہ لڑکی اس کی دنیا بن گئی تھی،
آپ بہت اچھے ہیں بہت !!! حیا نے روہان کی طرف دیکھ کے مسکرا کر کہا،اور روہان کو لگا اسے سب کچھ مل گیا سب کچھ وہ بغیر کچھ کہے اٹھ کے باہر چلا گیا حیا نے اس کی پشت کو دیکھا اب انہیں کیا ہوا،
**************  
عجیب مصیبت میں پھس گیا ہوں پتا نہیں اس لڑکی کو بھی میں ہی ملا بلال خود سے بولتا ہوا گھر کے اندر داخل ہوا جب اس کی نظر اس روم کے دروازے کی طرف گئی جہاں دعا تھی،روم اب بھی باہر سے بند تھا اب اسے لے کر میں کہا جاؤ گھر والوں نے مجھے گھر سے ہی نکال دینا ہے اف بلال اس روم کی جگہ برابر والے روم کی طرف چلا گیا،
اچھی خاصی زندگی گزر رہی تھی پھر یہ میڈم آگئی اوپر سے مجھ سے ڈرتی بھی نہیں ہے___بھائی مجھے پکا یقین ہوگیا اب کے تو پاگل ہوگیا ہے احمد نے روم میں آتے ہوئے اسے چھیڑا تو یہاں کیا کر رہا ہے گیا نہیں اپنے دوستوں کے ساتھ بلال نے غصے میں کہا اسے ان سب پر غصّہ تھا جو یہاں اسے اکیلے چھوڑ کر جارہے تھے
میں تو یہاں ہمارا سامان لینے آیا تھا جب میں نے دیکھا تو خود سے باتیں کر رہا ہے سچ میں مجھے تجھ پر ترس آرہا ہے احمد نے معصوم منہ بنا کر کہا بلال نے اسے سامنے پڑا تکیہ اٹھا کے مارا،ویسے بھابھی کہاں ہے احمد نے تکیہ کنچ کرتے ہوئے پوچھا،
کون سی بھابھی بلال نے انجان بنتے ہوئے پوچھا جب کے اسے اچھے سے پتا تھا احمد کا اشارہ کس طرف ہے ارے وہی بھابھی جس کے گھر میں تو پڑا ہوا ہے،
بلال نے ایک دم اسے دیکھا یہ گھر اس لڑکی کا ہے،جی ہاں مجھے تو بہت سی باتیں بھی معلوم ہوئی یے دعا بھابھی کے بارے میں،احمد اتنا بول کے چپ ہوگیا،جب کے بلال کی سوالیہ نظرے اب بھی اس پر تھی
 آگے بھی بول کیا معلوم ہوا ہے بلال کے ایک دم کہنے پر احمد نے مسکرا کر اسے دیکھا ہائے کتنی جلدی ہے بھابھی کے بارے میں جاننے کے لیے احمد نے دل پر ہاتھ رکھ کے ایسے کہا کے بلال کا دل کیا اس کا منہ نوچ لے
اچھا ایسے نا دیکھ بتا رہا ہوں،وہ جو اس دن بہت بول رہی تھی نا وہ اس کی چاچی ہے دعا کے ماں باپ کا انتقال ہوگیا جب سے وہ اپنے چچا کے پاس ہے پھر اس کے چچا کا بھی انتقال ہوگیا تو پھر وہ بیچاری اپنی چاچی کے رحم وکرم پر تھی،لیکن اب وہ تیرے رحم وکرم پر ہے احمد نے بولتے ہوئے اسے دیکھا تو بلال کے گھورنے سے اس نے اپنی بات فوراً بدلی،
مطلب وہ اب تیری بیوی ہے،اس کی چاچی تو ہمیشہ سے اس سے اپنا پیچھا چھوڑنا چاہتی تھی اور انہیں یہ موقع ملا تیرے روپ میں بلال کا چہرہ غصے سرخ ہوگیا،یہ گھر اس کے ماں باپ کا ہے جس پر اس کی چاچی نے اپنا قبضہ کیا ہوا ہے،احمد بولتے ہوئے اپنے بیگ بھی اٹھا رہا تھا، 
تو بھابھی کو لے انا میں ہمارا سامان لے کر جارہا باہر صمد ویٹ کر رہا احمد بول کے جانے لگا پھر کچھ سوچ کر موڑا بلال اب بھی گھری سوچ میں تھا،اور ایک عجیب بات احمد کے کہنے پر بلال اپنی سوچ سے باہر آیا کیا عجیب بات،
اس کے چچا کی ایک بیٹی تھی وہ ایک دن اچانک غائب ہوگئی کچھ لوگوں کا کہنا ہے وہ چاچی کے ظلم کرنے کی وجہ سے چلی گئی جب کے کچھ لوگوں کا کہنا ہے اس چاچی نے ہی اسے کہی غائب کیا ہے،
پر اپنی ہی بیٹی کو کوئی کیسے غائب کروا سکتا یہ سب بکواس ہے بلال نے اپنا بیگ پیک کرتے ہوئے بیزاری سے کہا،
ہاں میں نے بھی یہی کہا جب مجھے معلوم ہوا کے وہ لڑکی اس کے چچا کی بیٹی تھی چاچی کی نہیں بلال نے ایک دم اسے دیکھا مطلب سوتیلی ماں،جی ہاں اب اسے ہی معلوم ہے وہ بچی کہاں ہے خیر میں تو چلا 
رک!!!!! بلال کی آواز پر احمد نے رک کے اسے دیکھا ویسے تجھے اتنی سب معلومات کہاں سے ملی بلال نے ایک آئی برو اٹھا کے مشکوک نظروں سے اسے دیکھا،
ہاہاہا ہم نے اپنا لڑکا دیا ہے اس گھر میں انفارمیشن تو لینی پڑتی ہے اور جب لوگوں کو پتا ہو ہم آرمی میں ہے تو یہ کام بغیر پیسوں کے ہو جاتا ہے احمد ہنستہ ہوا گھر سے باہر چلا گیا،جب کے بلال اب بھی گھری سوچ میں تھا،

*┄┅════❁🌹♥🌹❁════┅┄*

No comments:

غازی از ابو شجاع ابو وقار قسط نمبر60 Ghazi by Abu Shuja Abu Waqar

Ghazi  by  Abu Shuja Abu Waqar  غازی از ابو شجاع ابو وقار  پیشکش محمد ابراہیم 60 آخری قسط نمبر  Ghazi by Abu Shuja Abu...

Powered by Blogger.