Bhagora By Riaz Aqib Kohler Episode No. 03 || بھگوڑا مصنف ریاض عاقب کوہلرقسط نمبر03
Bhagora
By
Riaz Aqib Kohler
بھگوڑا
مصنف
ریاض عاقب کوہلر
بھگوڑا
( قسط نمبر
3)
ریاض عاقب کوہلر
”تمام لوگ دائیں بائیں، ڈھونڈو شاید اس نے برف میں دفن کر رکھا ہو۔“ صوبیدار بولا اور چاروں میرے چھپنے کی جگہ کے اردگرد برف میں ڈھونڈنے لگے۔ صوبیدار میری نگرانی کے لیے کھڑا رہا۔
”تمھاری آمد کا مقصد کیا ہے ؟ ‘ ‘۔ صوبیدار مستفسر ہوا۔
”سر !“ اس کے رینک کا احترام کرتے ہوئے میںمو ¿دب لہجے میں بولا۔ ”میں ادھر غلطی سے آگیا ہوں۔ میرا ارادہ اپنے گھر جانے کا تھا۔ یہ دونوں خطوط جو آپ کے پاس ہیں مجھے کل رات موصول ہوئے ہیں اور راستے بند ہونے کی وجہ سے چھٹی کا ملنا مشکل تھا اس لیے میں بغیر چھٹی لیے پوسٹ سے اکیلا بھاگ کھڑا ہوا لیکن بدقسمتی سے بھٹک کر آپ کی طرف آنکلا۔“
”کہانی اچھی ہے برخوردار لیکن صرف میرے لیے ،ہماری انویسٹی گیشن ٹیم کو یہ کتنا متاثر کرتی ہے یہ تمھاری قسمت پر منحصر ہے۔“ یہ کہہ کر وہ اپنے ہاتھ میں موجود واکی ٹاکی کی طرف متوجہ ہوا اور میرے بارے رپورٹ پیش کرنے لگا۔
”داس فارٹواوور۔“
”ٹو فار داس سینڈ یور میسج اوور۔“
”سر ایک ہی پرندہ تھا، پکڑ لیا ہے لیکن چونچ کٹی ہوئی ہے.... اوور۔“(غالباََچونچ کٹی ہونے کا مطلب میرے پاس ہتھیار کا نہ ہونا تھا۔)
”ٹھیک ہے اسے نمبر5پر پہنچا کرتم لوگ کل واپس آجانا.... اوور۔“
”یس سر .... اوور۔“ دوسری جانب لازماََ کوئی افسر تھا اس لیے صوبیدار اسے سر کہہ کر مخاطب کر رہا تھا۔
”اوور اینڈآل۔“ کہہ کر دوسری جانب سے رابطہ منقطع ہو گیا۔ چاروں آدمی اپنی تلاش میں ناکام ہو کر ایک مرتبہ پھر ہمارے نزدیک آن موجود ہوئے تھے۔
”چلو بھئی عمر صاحب!“ صوبیدار داس طنزیہ لہجے میں بولا۔ ”تمھارے چھٹی جانے کے شوق نے ہمیں بھی خوار کر دیا ہے۔“
”اس کو کہاں لے جانا ہے سر؟“ وہ آدمی جو میری رایفل کی تلاش میں کافی دور تک نکل گیا تھا اور وائرلیس سیٹ سے دیئے گئے آرڈر کو نہیں سن سکا تھا مستفسر ہوا۔ حالانکہ اگر اس میں ذرا بھر بھی عقل ہوتی تو وہ اسی جگہ تک تلاشی لیتا جس جگہ تک میرے پاﺅں کے نشان بنے ہوئے تھے۔
”اسے گجران پر پہنچا کے واپس آنا ہے۔“ صوبیدارداس کی بجائے روی بولا۔
”اس کا مطلب ہے واپسی کل ہی ہوگی۔“ پہلے آدمی نے سر ہلایا۔
”اپنا پٹھو اٹھاﺅ اور لکشمن کے پیچھے چلو۔“ صوبیدار داس مجھے مخاطب ہوا اور میں اپنے پٹھو کی جانب بڑھ گیا۔ جبکہ لکشمن نامی شخص گجران پوسٹ کے راستے پر چل پڑا۔اپنا گرم لباس اتار کر میں نے پٹھو میں ڈالااوراس کے پیچھے ہو لیا ۔ باقی تمام میرے پیچھے سنگل لائن میں چل پڑے ۔صوبیدار داس سب سے آخر میں تھا۔ چلتے چلتے میں نے گھڑی پر نگاہ دوڑائی تین بجنے والے تھے۔ ہم شام تک چلتے رہے ۔ راستے میں چڑھائیوں کی بہ نسبت اترائیاں زیادہ آئی تھیں اس لیے ہم کافی فاصلہ طے کر چکے تھے۔ بادل ٹکڑیوں کی صورت آسمان پر جمع ہونا شروع ہو گئے تھے اور ہلکی ہلکی ہوا چلنے کی وجہ سے اکٹھے ہوتے جارہے تھے۔ برف صبح کی نسبت سخت ہو گئی تھی اس لیے پاﺅں بہت زیادہ گہرائی میں نہیں اتر رہے تھے۔ ایک سیدھی چڑھائی کے قریب جا کر ہمارا گائیڈرک گیا۔
”کیا بات ہے موہن“ ۔ صوبیدار داس نے چلا کرپوچھا۔ راستے میں ہمارے گائیڈ بدلتے رہے تھے اور اس وقت لکشمن کے بجائے موہن نامی جوان ہمارا گائیڈ تھا۔
”سر!.... اس جگہ ایوالانچ(برفانی تودا) گرنے کا خطر ہ ہے۔“ موہن بولا۔ ”اگر اجازت ہو تو فائر کر کے تسلی کر لیں؟“(بعض اوقات برفانی تودے کو تحریک دینے کے لیے ہلکی سی آواز کی ضرورت ہوتی ہے اس لیے ایسی حساس جگہوں پر آرمی عموماً کسی بھی ہتھیار کا فائر کرتی ہے اور برفانی تودہ اگر گرنے والا ہوتا تو گر پڑتا)
”نہیں اس جگہ کوئی خاص ضرورت نہیں۔“ صوبیدار داس نے نفی میں سر ہلایا۔ اور موہن ایک مرتبہ پھر چل پڑا۔ میں بھی اس کے پیچھے ہو لیا۔ ساری رات کے سفر اور پھر دن کو بھی آرام نہ ملنے کے باعث میں تھکاوٹ سخت محسوس کررہا تھا اور میرا دل چاہ رہا تھا کہ آرام کیا جائے۔ لیکن دشمن کے سامنے میں اس قسم کی کوئی کمزوری ظاہر نہیں کرسکتا تھا۔ برفانی تودے کے متعلق سن کرمیری آنکھیں اس ملگجے اندھیرے میں چاروں طرف گھوم رہی تھیں۔ جہاں برفانی تودہ گرنے کی صورت میں بچا جا سکتا۔
تمام لوگ خاموشی سے چڑھائی چڑھ رہے تھے حالانکہ راستے میں ان کے منہ کسی بھی جگہ بند نہیں ہوئے تھے اور وہ سارے راستے مجھے کوسنے کے ساتھ ساتھ پاکستان آرمی کا بھی مذاق اُڑاتے رہے تھے۔ مذاق اُڑانے میں لکشمن نامی آدمی پیش پیش رہا تھا۔ پاک آرمی کے متعلق سینکڑوں لطائف اور بے سروپا باتیں اسے ازبر تھیں۔ جنھیں وہ سارے راستے منہ سے اگلتا رہا تھا، جبکہ میری کوشش یہ تھی کہ دائیں بائیں کے مناظر دیکھنے میں مشغول رہوں اور ان کی باتوں کو نہ سنوں۔ لیکن یہ سماعت بڑی ظالم ہوتی ہے اور ایسی باتیں جو آپ نہیں سننا چاہتے ان کو سنانے میں کوشاں رہتی ہے۔
چڑھائی کافی مشکل تھی اس لیے ہماری رفتار بہت سُست ہو گئی تھی۔ ان تمام کی باتوں سے مجھے اندازہ ہوا تھا کہ اس چڑھائی کے بعد گجران تک کوئی قابل ذکر چڑھائی نہیں تھی۔ ہم اس چڑھائی کے درمیان تک ہی پہنچ پائے تھے کہ اچانک ایک تیز گڑگڑاہٹ سنائی دی۔ یہ آواز میرے کانوں کے لیے نامانوس نہیں تھی۔ ٹاپ تھری پررہتے ہوئے میں نے یہ آوازکئی مرتبہ سنی تھی اور یہ بلاشبہ اس آفت کی آواز تھی جسے برفانی تودہ کہتے ہیں۔ اس کی ہلاکت آفرینی سے صرف وہی لوگ واقف ہوں گے جن کو برفانی علاقے میں رہنے کا اتفاق ہوا ہو۔ اس میں پھنسنا ننانوے فیصد موت تھی۔
”تیرا بیڑا غرق ہوجائے مُسلے!“ لکشمن اس نازک وقت میں بھی مجھے کو سنے سے باز نہ آیا۔ میں سارے راستے کسی ایسی جگہ کی تلاش میں رہا تھا جہاں برفانی تودہ گرنے کی صورت بچا جا سکے۔ اس وقت بھی میری نظر کسی ایسی ہی جگہ کی تلاش میں تھی مگر اردگرد کوئی ایسی جگہ موجود نہیں تھی۔ گڑگڑاہٹ کی آواز سنتے ہی میں نے سب سے پہلا کام تو یہ کیا کہ اپنا پٹھو اپنے کندھوں سے نکال پھینکا۔ اس کے ہوتے ہوئے میں اپنا دفاع کھل کر نہیں کرسکتا تھا۔ اس وقت میرے دماغ میں رٹّو سکول کے سینئر انسٹر کٹر میجر آفتاب کی ہدایات تازہ ہو گئی تھیں۔
”جوانوکسی بھی موقع پر گھبرانا نہیں، جب بھی کبھی کوئی ایسی صورتِ حال میں پھنسو حرکت میں رہنا ہے اور اس طرح ہاتھ چلانا جیسے تیرائی کی جاتی ہے۔“
میں بھی نیچے کی طرف دوڑا اور جیسے ہی برف کی بوچھاڑ مجھ پر پڑی میں جسم ڈھیلا چھوڑتے ہوئے تیرا ئی کے اندازمیںہاتھ چلانے لگا۔ وہ تمام بجائے کسی حرکت کے زورزور سے اپنے بھگوان اور رام کو پکار رہے تھے مگر ایک دو آوازوں کے بعد برفانی تودے نے ان کی آوازیں بند کر دی تھیں یا شاید میری سماعتوں پر ہی مہر لگا دی تھی وہ بلندی جس تک پہنچنے کے لیے ہمیں گھنٹا بھر لگا تھا۔ برفانی تودے نے منٹ سے بھی کم عرصے میں ہمیں واپس تہہ میں پہنچا دیا۔نیچے گرتے ہی میں نے اپنی حرکت بند نہیں کی تھی بلکہ اسی طرح حرکت میں ہی رہا تھا۔ اپنے چہرے اور جسم کے لیے میں نے کافی جگہ بنالی تھی۔
”سب سے پہلے اپنے چہرے اور جسم سے برف کو دور دھکیلو۔“ میرے انسٹر کٹرکی آواز اس وقت بھی مجھے اتنی ہی واضح سنائی دی جتنی برفانی تودے کی ہلاکت خیزی سے بچنے کے طریقے کے بارے لیکچر دیتے وقت سنائی دی تھی۔ ”اس کے بعد آہستہ سے تھوکو اگر تھوک واپس تمھارے منہ پر گرتا ہے۔ تو سمجھ لو کہ تمھارا منہ اوپر ہے اس کے بر خلاف ہونے کا مطب ہے تمھارا منہ نیچے ہے۔ برفانی تودے میں کئی ایسے لوگ بھی پھنس کر ہلاک ہو چکے ہیں جنھوں نے اپنی کوششیں ترک نہیں کیں لیکن بجائے اوپر آنے کے نیچے ہی نیچے برف کھودتے رہے۔ نتیجے میں موت ہی ان کا مقدر بنی ۔اس لیے سب سے پہلے آپ اپنی کوشش کی سمت کاتعین کریں۔“
میں نے آہستہ سے تھوکا۔ میرا تھوک میرے چہرے پر ہی گرا میں سمجھ گیا کہ میرا چہرہ اوپر کی سمت ہے۔ میں نے اس کے بعد اپنے استاد سے رہنمائی حاصل کی۔
”اپنی توانائی ضائع نہیں کرنی۔ سب سے پہلے اپناایک ہاتھ اوپر کی طرف سیدھا کرو اگر تمھارے اوپر برف کم ہوئی تو ہاتھ برف سے باہر نکل جائے گا۔ ورنہ چہرے کے سامنے برف کھود کر نیچے ڈالتے جاﺅ اور آہستہ آہستہ آگے بڑھتے جاﺅ۔ تیزی کی صورت میں زیادہ آکسیجن ضائع ہو گی اور شاید تم سوراخ میں موجود تمام آکسیجن ختم کر کے دم گھٹ کر مر جاﺅ۔“
میں نے اپنا بایاں بازو اوپر اٹھایا برف گرنے کی وجہ سے کافی سخت ہو گئی تھی، لیکن میرے ہاتھ کو آگے بڑھنے سے نہ روک سکی۔ یہ محسوس کر کے میرا دل بلیوں اچھلنے لگا کہ میرا ہاتھ کلائی کے اوپر سے آزادانہ حرکت کر رہا تھا۔ میں نے ہاتھ جیسے ہی اندرکھینچا تازہ ہوا کاجھونکا بھی اس کے ساتھ ہی در آیا۔چند لمحوں بعد ہی میں اپنے ہاتھوں کے بنائے ہوئے سوراخ سے باہر نکل آیا تھا۔
باہر نکلنے کے بعد لکشمن کو پاگلوں کی طرح حرکت کرتے دیکھ کر میں حیران رہ گیا اس کے دونوں خالی تھے اور وہ کبھی ایک جگہ اور کبھی دوسری جگہ سے کھدائی کر کے اپنے ساتھیوں کو تلاش کر رہا تھا۔ کھدائی کے ساتھ وہ زور زور سے آواز یں بھی دے رہا تھا اوراس کی آواز سے ہی میں نے اسے پہچانا تھا۔
”صوبیدار صاحب.... موہن.... روی.... شنکر۔“ جس وقت میں برف کے ڈھیر سے باہر آیا اس وقت میری جانب اس کی پیٹھ تھی۔ وہ شاید ایوالانچ کے نیچے آنے سے بچ گیا تھا۔ اس کا رخ رخ جیسے ہی میر ی جانب ہوا اس وقت تک میں کھڑا ہو گیا تھا۔
”روی یہ تم ہونا....؟“ وہ دور ہی سے پکارا۔ روی نامی آدمی بھی بالکل میری طرح ہی لمبا تڑنگا تھا اس لیے اسے مجھ پر روی کا شبہ ہوا۔
”یہ میں ہوں مسٹر لکشمن!“ وہ جیسے ہی قر یب آیا میں آہستہ سے بولا۔
”تم.... گندے مسلے.... تُوزندہ بچ گیا ہے.... یہ ....یہ سب کچھ تمھاری وجہ سے ہوا ہے۔“ وہ ہذیانی انداز میں چیخا۔“ ٹھہرو پہلے میںتمھیں نرگ میں پہنچا دوں پھر باقیوں کو ڈھونڈوں گا۔“ یہ کہتے ہی وہ ایک سمت کو دوڑا۔ شاید ادھر اس نے اپنا ہتھیار رکھ چھوڑا تھا۔
اس کے پیچھے مڑتے ہی میں اپنی جگہ سے اچھلا اور بجائے دوڑ کر اس کو پکڑنے کے بجائے پانی کے اندرچھلانگ لگانے کے انداز میں اس پرجاپڑا۔ میں چونکہ اس سے زیادہ بلندی پر تھا اس لیے اتنے بھاری لباس کے باوجود مجھے چھلانگ لگانے میں دقت نہیں ہوئی تھی اس کے منہ سے بے اختیار کر اہ خارج ہوئی۔ مجھے پتا تھا کہ اگر وہ ہتھیار حاصل کر لیتا تو بغیر تاخیر کے پوری میگزین اس نے مجھ پر خالی کر دینا تھی۔
”نہیں مٹھو!اب تمھاری باری ختم ہو گئی ہے۔“ میں اسے گریبان سے پکڑ کر کھڑا کرتے ہوئے استہزائی لہجے میں بولا۔
سیدھا ہوتے ہی اس نے دونوں ہاتھوں سے میرا گلا دبوچنے کی کوشش کی۔ مگر میرا بھر پورتھپڑ کھا کر برف پر جا گرا۔ اس کے انداز سے مجھے پتا چل گیا کہ وہ صرف ہتھیار چلانے کی حد تک ہی ٹرینڈ شدہ ہے۔ خالی ہاتھوں شاید وہ عام آدمی پر بھی قابو نہ پا سکتا۔
میرا تھپڑ کھا کر اس نے دوبارہ اٹھنے کی کوشش نہیں کی تھی۔ نیچے جھک کر میں نے ایک مرتبہ پھر اسے گریبان سے پکڑا اور سیدھا کھڑا کر دیا۔
”ہاں لکشمن اب بتاﺅ؟.... پاکستان آرمی ہیجڑوں کا گروپ ہے یا انڈین آرمی۔“
”مم.... مجھے .... مار کر تم بچ نہیں سکتے۔“ وہ دھمکی دینے سے باز نہ آیا۔
”زندگی اور موت اﷲ کے ہاتھ میں ہے گدھے.... تمھارے جیسے احمق نہ زندگی لے سکتے ہیں اور نہ د ے سکتے ہیں۔“
”مم.... میں اس سارے علاقے سے واقف ہوں۔تمھیں ،تمھارے علاقے تک پہنچا سکتا ہوں۔“ اس نے ایک اور چال چلی یا شاید سچ مچ وہ اس علاقے سے واقفیت رکھتا تھا۔ “
”مجھے تمھارے جیسے کسی کمینے کی مدد کی ضرورت نہیں۔“ یہ کہتے ہوئے میں نے اسے اپنی سمت کھینچا۔ دوسرے ہی لمحے اس کی گردن میرے بائیں بازو کے شکنجے میں تھی اور کٹاخ کی آواز کے ساتھ ہی وہ مردہ چھپکلی کی طرح میرے ہاتھوں میں جھول گیاتھا۔ اس کی تلاشی لینے پر مجھے اس کی جیبوں سے ایک فالتو میگزین، تھوڑی نقدی اور چند فوٹو ملے تھے۔ فوٹو میں نے واپس اس کی جیب میں ڈال دیئے تھے۔ البتہ پیسے اور میگزین میں نے اپنے پار کے کی جیب میں ڈال لی تھیں۔
میں نے اسے گھسیٹ کر اسی گڑھے میں ڈال دیا جس سے میں خود نکلا تھا ۔گڑھے کو برف سے پاٹ کر میں اس کا ہتھیارتلاش کرنے لگا تھوڑی سی تلاش کے بعد مجھے اس کا ہتھیار مل گیا ۔ اپنا پٹھو مجھے تلاش کرنے پر بھی نہ ملا حالانکہ اس کی مجھے اشد ضرورت تھی ۔اس کے بغیر خوراک کی ضروریات کا پورا کرنا مشکل ہو جاتا ۔بہ ہرحال میں پٹھو کے لےے وہاں کھدائی نہیں کر سکتا تھا اور میرے لےے اس جگہ کا جلد از جلد چھوڑ دینا نہایت ضروری تھا ۔
آسمان پر بادلوں کی حکمرانی تھی ستارے بالکل نظر نہیں آرہے تھے۔ ایسی صورت میں سمتوں کی پہچان مشکل ہو گئی تھی۔ میں صرف اندازہ ہی لگاسکتا تھا اور اندازے ہی سے میں ایک سمت کو بڑھ گیا۔ کچھ قارئین کو میرے سمت کا اندازہ نہ ہو سکنے کی بات ہضم نہیں ہو رہی ہوگی اور ایسا محسوس کرنے والے وہ ساتھی ہوں گے جن کواپنے علاقے سے باہر جانے کاموقع نہ ملا ہو، ورنہ ایسے حضرات جن کو دور دراز سفر کا موقع ملا ہو وہ بلا شبہ مجھ سے متفق ہوں گے۔
میری کوشش تھی کہ جس راستے پرہم چل کر آئے تھے اس سے تھوڑا ہٹ کر چلوں البتہ سمت وہی برقرار رکھی کیونکہ اسی طرف چلتے ہوئے میں جلد از جلد انڈیا کی حدود پار کرسکتا تھا۔
پوسٹ سے چلتے وقت پانی کی جوبوتل میں نے جیب میں ڈالی تھی وہ اب تک میری جیب ہی میں تھی۔ بوتل نکال کر میں نے دو گھونٹ پانی پیا۔ بلکہ پانی پینے کی بجائے میں برف چبانا کہوں تو زیادہ بہتر ہو گا کیونکہ پانی اس وقت تک برف میں تبدیل ہو چکا تھا البتہ برف میٹھی تھی کہ اس میں وافر مقدار میں چینی حل تھی۔ تھکن اور بھوک سے میرابرا حال تھا۔ لیکن میں چلنے پر مجبور تھا۔
زندگی کی محبت سے زیادہ مجھے گھر کی فکر تھی۔ مجھے اندازہ تھا کہ ”جلد از جلد گھرپہنچو۔ “ سے چچا جان کی مراد کیا تھی۔ گنڈا پوروں کے درمیان جتنی آسانی سے دشمنی شروع ہوتی ہے اس کا ختم ہونا اتنا ہی مشکل ہوتا ہے۔ خاندان کے خاندان دشمنی کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔ ان سخت دلوں میں اگر کوئی اچھائی تھی تو صرف اتنی کہ عورتوں پر ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے، لیکن گولی اور آگ کسی عورت کونہیں پہچانتی کیونکہ کئی دفعہ ایسا بھی ہوا کہ مخالفین کے گھرکو آگ لگا دی گئی جس کے باعث عورتیں اور بچے تک جل گئے تھے۔مختلف قسم کے اندیشوں اور وسوسوں میں گھرا میں آہستہ آہستہ چلتا رہا۔ گرم جیکٹ اور پاجامہ پٹھو میں رہ گیا تھا اس لیے دس پندرہ منٹ سے زیادہ آرام کے لیے رکنا میرے لیے ممکن نہیں تھا
مجھے چلتے ہوئے بہ مشکل گھنٹا سوا گھنٹا ہی ہوا ہو گا کہ ہلکی ہلکی برف باری شروع ہو گئی۔ میں نے اپنا سفر جاری رکھا کہ رکنے کا مطلب موت تھا اور برف کی موت ، آگ میں جلنے سے بھی زیادہ بھیانک ہوتی ہے۔ برف باری آہستہ آہستہ تیز ہوتی گئی۔ آگے جا کر راستا دواطراف میں منقسم ہو گیا تھا۔ کچھ دیر وہاں ٹھہر کر میں نے اﷲ کا نام لیا اور ایک سمت منتخب کر کے چل پڑا۔
راستا تقریباً ہموار ہی تھا۔ اچانک مجھے دور سے ہلکی سی روشنی کی جھلک دکھائی دی۔ یہ انڈیا کی کوئی پوسٹ ہی ہو سکتی تھی میں نے اپنا رخ روشنی کی جانب موڑ لیا کہ کچھ کھانے کی سبیل پیداکی جائے۔ راستا بتدریج اوپر کو اٹھنا شروع ہو گیا تھا۔ نالے کی شمالی سمت (شمالی سمت میرے اندازے کے مطابق تھی وہ کوئی اور سمت بھی ہو سکتی تھی، لیکن مجھے شمالی سمت محسوس ہو رہی تھی) ایک کافی اونچی ٹیکری تھی۔ وہیں سے روشنی کی شعاعیں پھوٹ رہی تھیں۔ مجھے یہ پارٹیوں کے لیے راستے میں قائم کی گئی چوکی محسوس ہو رہی تھی۔ بعد میں میرا اندازہ بالکل درست ثابت ہوا تھا۔ اس قسم کی چوکیوں پر سنتری بہت زیادہ مستعدی سے ڈیوٹی نہیں دیتے اور ویسے بھی موسم اس قسم کا تھا کہ سنتری کا چوکس رہنا ازحد مشکل تھا، لیکن اس کے باوجود ٹیکری کے اوپر چڑھتے وقت میں نے احتیاط سے کام لیا۔ روشنی کھڑکی میں لگے ایک شیشے سے نکل رہی تھی۔ یہ شیشہ غالباً سنتری کی دیدبانی کے لیے استعمال ہوتا تھا۔
چڑھائی چڑھتے ہی میں برف پر لیٹ گیا اور کرالنگ کرتا ہوا رہائشی کمرے کی سمت بڑھ گیا۔ نرم برف کے اندر کرالنگ کا اپنا ہی لطف ہے لیکن وہ ایساوقت نہیںتھا کہ میںوہ شغل جاری رکھ سکتا ۔جیسے ہی میں عمارت کے نزدیک پہنچا مجھے داخلی دروازہ دکھائی دیا۔ روشن کھڑکی اور دروازے کے مابین دس فٹ کے قریب فاصلہ تھا۔ کچھ اور نزدیک جانے پر مجھے ریڈیو پر نشرہونے والے وہ گانے بھی سنائی دینے لگے جو لازماً سنتری سن رہا تھا۔
میں آہستہ سے زمین سے اٹھا اور رایفل کو دائیں ہاتھ میں پکڑ کر ایک دم دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا۔ یہ ایک چھوٹی سی گیلری تھی جس میں تیل کے کین کے اوپر رکھا ریڈیو بج رہا تھا،ایک لالیٹن دیوار کے ساتھ لٹکی ہوئی تھی۔ سنتری غائب تھا۔ مجھے دور سے جس کھڑکی کی روشنی نظر آئی تھی وہ رہائشی کمرے کی کھڑکی تھی۔ دروازے کے سامنے باتھ روم تھا جس میں مٹی کے تیل کا دیا جل رہا تھا۔ باتھ روم کا دروازہ کھلا تھا اس کے اندر کوئی بھی موجود نہیں تھا۔ میں دبے قدموں اندر کی طرف بڑھاجہاں کسی کے باتیں کرنے کی مدہم آواز آرہی تھی۔ میں نے دروازے سے کان لگائے ۔ کوئی وائرلیس سیٹ پر بات کررہا تھا۔ اس کی زور دار آواز دروازہ بند ہونے کی وجہ سے مجھے نہایت مدہم سنائی دے رہی تھی۔
”پارٹی کے واپس پہنچتے ہی میں اطلاع دے دوں گا سر.... اوور۔“دوسری جانب سے بھی کچھ کہا گیا لیکن مجھے واضح سنائی نہ دیا۔
”ٹھیک ہے سر.... اوور۔“وہ دوبارہ بولا۔دوسری طرف سے شاید رابطہ ختم کر دیا گیا تھا کہ اس کے بعدمجھے کوئی آوازنہ سنائی دی۔
میں دروازے کے ساتھ اس طرح پیٹھ لگا کر کھڑا ہو گیا کہ سنتری کے اندر داخل ہوتے ہی اسے سنبھال سکوں۔ چند ہی لمحوں بعد مجھے دروازے پر آہٹ سی سنائی دی۔ میں چوکنا ہو گیا لیکن کمرے سے کوئی بھی برآمد نہ ہوا۔ مزید چند لمحے گزرنے پر میرے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا اور میں کمرے کے اندر گھسنے پر تیار ہو گیا۔ گن دونوں ہاتھوں میں پکڑ کر میں نے ٹھوکر مار کر دروازہ کھولا اور تیزی سے اندر داخل ہو گیا ۔ اندر دو آدمی ہاتھوں میں تاش پکڑے کھیل میں مشغول تھے باقی تمام کمرہ خالی پڑا تھا۔ میرے اندر گھستے ہی انھوں نے ہڑبڑا کر کھڑا ہونے کی کوشش کی لیکن میری دھاڑ سن کر اپنی جگہ پر ساکن ہو گئے۔
”خبر دار اگر کسی نے حرکت کی تو بھون ڈالوں گا۔“
دیوار کے ساتھ ہتھیاروں کے لیے ریک بنا ہوا تھا جس میں دو تین ہتھیار پڑے تھے۔ ایک مشین گن دیوار کے ساتھ کھڑی تھی جو لازماً سنتری کی تھی۔ کمرے کے ایک کونے میں چھوٹا سا کچن بنا ہوا تھا۔ مٹی کے تیل کے تین چولھے بھی پڑے تھے ایک چولھے پر چھوٹے دیگچے میں کچھ پک رہا تھا ۔
”تت.... تم .... کون ہو؟“ ایک نے ہکلاکر پوچھا۔
”مجھے چھوڑو،اپنی سناﺅ؟ باقی بندے کہاں گئے ہیں؟“میں چھوٹے قدموں سے چلتا ہوا ان کے نزدیک پہنچ گیا۔
”بب.... باقی.... باقی بھی ادھر ہی ہیں بس آتے ہی ہوں گے۔“ اس بار بھی وہی بولا جو پہلی مرتبہ مجھے مخاطب ہوا تھا۔
میں نے اطمینان سے کہا۔”یقینا میں تم لوگوں کی گفتگو میں سن چکا ہوں۔“
”کون سی گفتگو؟“ ایک آدمی ہی مجھ کو مخاطب تھا دوسرا خاموش کھڑا مجھے کینہ توز نظر گھور رہا تھا۔
”وہی بکواس جو تم لوگ وائرلیس سیٹ پر کر رہے تھے۔“
”سن لی تو کیا ہوا....؟“ یہ کہتے ہی اس نے میرے پیٹ میں مارنے کے لیے لات گھمائی اور اپنے دائیں ہاتھ سے گن کی بیرل پکڑنے کی کوشش کی۔ لیکن اس کی ٹانگ کو حرکت میں آتا دیکھ کر میں ہلکے سے جمپ کے ساتھ تھوڑا سا پیچھے کوہوا۔ وہ وار کے خطا ہونے پر اپنی جگہ ڈگمگا سا گیا تھا اور اس سے پہلے کہ وہ سنبھلتا میری بائیں ٹانگ حرکت میں آئی اور برفانی علاقے کا وزنی بوٹ ہتھوڑے کی طرح اس کی ٹھوڑی کے نیچے لگا۔ وہ اچھل کر نیچے بستر پر جاگرا۔ مجھے امید تھی کہ اگلے آدھے گھنٹے کے لیے اس کا ہوش میں آنا مشکل تھا۔
”کک ایسے لگائی جاتی ہے۔“ خاموش کھڑے آدمی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر میں مزاحیہ انداز میں بولا۔ ”کیا خیال ہے تمھارا۔“ مگر اب بھی وہ خاموش ہی رہا تھا۔
”گونگے صاحب یہ باقی لوگ کہاں گئے ہیں ؟ .... یہ تو بتانے کے قابل نہیں رہا۔“ میں نے نیچے پڑ ے آدمی کی طرف اشارہ کر کے کہا۔
”ہماری ایک پارٹی گم ہو گئی ہے تمام لوگ اس کی تلاش میں نکلے ہوئے ہیں۔“
”پارٹی گم ہو گئی ہے؟ مگر کیسے؟“
”جیسے اس علاقے میں گم ہوتی ہیں بھئی ۔ ویسے ہی گم ہوئی ہے۔ آگئی ہو گی کسی ایو لانچ کے نیچے یا پھر راستا بھٹک گئی ہو گی۔“
”کب سے گم ہے؟“ میں مستفسر ہوا۔
”آج شام ہی سے رابطہ نہیں ہو رہا۔“میں سمجھ گیا کہ صوبیدار داس کی پارٹی کی تلاش کے لیے دائیں بائیں کی نزدیکی پوسٹوں سے پارٹیاں روانہ کی گئی ہو ں گی۔
”اچھا یہ بتاﺅ یہاں سے پاکستانی سرحد کتنی دور ہے۔“
”یہاں سے ؟“ وہ حیرانی سے مستفسر ہوا۔
”جی ۔“
”یہاں سے تو کافی دور ہے۔ راستے میں ہماری چند پوسٹیں آتی ہیں ان سے گزر کر ہی آپ پاکستانی علاقے میں پہنچ سکتے ہیں۔“
”فاصلہ کتنا ہو گا ؟۔“
”اندازاً 35,30کلو میٹر ہو گا۔“
”کوئی مختصرراستا؟۔“
”نہیں اس موسم میں ناممکن ہے۔“ اس نے نفی میں سر ہلایا۔
”تمھارا نام؟“
وہ چند لمحے میری آنکھوں میں دیکھتا رہا اور پھر بولا۔ ”عبداﷲ....“
”اور اس کا ؟“ میں نے نیچے پڑے شخص کی طرف اشارہ کیا۔
”ہری چند۔“
”توعبداﷲ بھائی پہلی بات تو یہ ہے کہ مجھے سخت بھوک لگی ہے کچھ کھانے کو موجود ہے تو میرے حوالے کرو۔ دوسرا میری تھوڑی سی رہنمائی کرو تاکہ میں واپس پاکستان میں پہنچ سکوں۔ کیونکہ میں غلطی سے آپ کے علاقے میں آن پھنسا ہوں اور میرا اپنے علاقے بلکہ اپنے گھر پہنچنا بہت ضروری ہے۔ جتنی دیر ہوتی جائے گی میرا نقصان بڑھتا جائے گا۔ کیا آپ میرے ساتھ تعاون کرنا پسند کریں گے؟“ دوستانہ صورتِ حال پیدا کرنے کے لیے میں نے رایفل کندھے کے ساتھ لٹکالی تھی۔
”آپ جو بھی ہیں بھائی صاحب میرا آپ کو یہی مشورہ ہے کہ جلد از جلد یہاں سے نکلنے کی کوشش کرو کیونکہ کسی بھی لمحے وہ تمام یہاں پہنچ سکتے ہیں اور تم اکیلے شاید دس بندوں کا مقابلہ نہ کر سکو ۔“
”اس دیگچی میں کیا ہے؟“ اس کی باتوں کو نظر انداز کر کے میں نے چولہے پر رکھی دیگچی کی طرف اشارہ کر کے پوچھا۔
”چاے! “ وہ مختصراً بولا۔
”ویری گڈ“ کہہ میں آگے بڑھا اور چولھے کے ساتھ رکھے کپ میں چاے نکال کر گرم گرم چاے سے لطف اندوز ہونے لگا۔ عبداﷲ نے اپنی جگہ سے ہلنے کی کوشش نہیں کی تھی میں بہ ظاہر اس سے غافل بنا ہوا تھا لیکن حقیقتاً اس کی ذرا سی حرکت پر میں ایکشن میں آنے کے لیے تیار تھا۔
چاے پی کر میں نے بقیہ چاے ایک بوتل میں انڈیلی اور عبداﷲ سے پوچھا ”کھانے کو کچھ پڑا ہے۔“
”پارٹی کے لیے حلوہ بنا کر رکھا ہوا ہے۔“ اس نے ایک دوسرے برتن کی طرف اشارہ کیا۔
تھوڑا سا حلوہ کھا کر باقی حلوہ ایک شاپر میں ڈالتے ہوئے میںنے عبداﷲ کو کہا۔
” عبداﷲبھائی چلو سٹور میں۔“ اور وہ خاموشی سے میرے آگے چل پڑا۔ سٹور میں جا کر میں نے ایک خالی پٹھو میں دو تین دنوں کا راشن، تین چار فالتو میگزین۔ پانی حلوہ چاے اور گرم لباس ڈال کر، آگے جانے کے لیے تیار ہو گیا۔
”عبداﷲ بھائی! آپ کی بہت بہت مہربانی.... اگر آپ تعاون نہ کرتے تو میں اتنی جلدی تیار نہ ہو پاتا لیکن اگر آپ کو میں نے یونھی چھوڑ دیا تو، اپنے ساتھی آپ پرشک کریں گے ۔ اس لےے سوری لیکن یہ ضروری ہے ۔“ یہ کہتے ہی میں نے بجلی سی تیزی سے کلاشن کوف کا بٹ اس کے سر میں مارا اور وہ ”اوغ“ کی آواز کے ساتھ زمین پر گر گیا۔ اسے اٹھا کر میں نے ایک بستر پر ڈالا اور باہر جانے کے لیے تیار ہو گیا۔ گو اس کے سر پر بٹ مارے بغیر بھی میں اسے بے ہوش کر سکتا تھا لیکن اس طرح بھی اس کی شخصیت مشکوک ہو جانی تھی۔
ہری چند ابھی تک اسی پوزیشن میں پڑا تھا۔ میں بیرونی دروازہ کھول کر باہر نکلا اور عبداﷲ کی بتائی ہوئی سمت کی طرف قدم بڑھادےئے۔میں نے بہ مشکل چند قدم اٹھائے ہوں گے کہ میری سماعتوں میں لوگوں کے بولنے کی آواز آئی۔ میں نے جلدی سے رہائشی مکان کی عقبی سمت کا رخ کیا اور تیزی سے اس جگہ سے دورہٹنے لگا۔گو اس طرح میں عبداﷲ کی بتائی ہوئی سمت سے بالکل مخالف سمت کو روانہ ہو گیا تھا لیکن گرفتاری سے بچنے کے لیے ایسا کرنا ضروری تھا۔ برف باری کی شدت میں کمی نہیں آئی تھی۔ میں پوسٹ سے چند سو گز ہی دور آپایا تھا کہ مجھے کسی کی چیختی آواز سنائی دی۔
”یہ رہے اس کے قدموں کے نشان!“اور اس کے ساتھ ہی چند اور آدمیوں کی آواز آئی ۔
”ہاں ہاں یہی ہیں، چلو، جانے نہ پائے۔“ اور میں اپنے بائیں ہاتھ پر موجود ابھری ہوئی چٹان کے پیچھے لیٹ کر زندگی اور موت کا معرکہ لڑنے کے لیے تیار ہو گیا۔ میں کسی بھی قیمت پر زندہ گرفتار ہونے پر راضی نہ تھا۔
l l l
جانے نہ پائے“ کی آوازوں کے ساتھ وہ آگے بڑھتے چلے آرہے تھے، لیکن ان کی یہ حرکت نہایت بے وقوفانہ تھی۔ اس کا خمیازہ ان کو دوتین لاشوں کی صورت میں بھگتنا پڑا۔ میری ایس ایم جی سے نکلنے والی گولیوں کی بوچھاڑنے ان کے نعروں کو چیخ وپکار میں بدل دیا۔ گو اچھا خاصا اندھیرا تھا لیکن مجھے سو فیصد یقین تھا کہ وہ میرے پاﺅں کے بنے ہوئے نشانات کی سیدھ میں ہی آگے بڑھیں گے اور ہوا بھی یہی تھا۔
کچھ گولی لگنے کی وجہ سے اور کچھ گولی سے بچنے کے لیے برف پر لیٹ گئے اور جوابی فائرنگ شروع کر دی، لیکن میں آڑ میں تھا اس لیے محفوظ رہا۔ ان کی طرف سے اندھا دھند فائرنگ شروع رہی جبکہ میں نے پہلے برسٹ کے بعد گولی چلانے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی۔ ہتھیاروں کی لڑائی میں ہمیشہ وہ فریق غالب رہتا ہے جو مخالف کی نفسیات کو مدِنظر رکھ کر لڑے۔ میرے لیے اس جگہ پر ٹک کر لڑنا ناممکن تھا کیونکہ جلدیا بدیر ان کو اپنی کسی بھی پوسٹ سے کمک مل جاتی یا مرے پاس ایمونیشن ختم ہو جانا تھا ہر دو صورتوں میں میرا پکڑا یامارا جانا ضروری تھا، لیکن میں چاہتا تھا کہ وہ میرا تعاقب نہ کر سکیں اور اس کے لیے ضروری تھا کہ میں ایسی فضا پیدا کروں کہ وہ میرے فرار سے لاعلم رہیں۔ اسی مقصد کے لیے ان کی دھڑا دھڑ فائرنگ کا جواب دینے کی بجائے میں نے خاموشی اختیار کیے رکھی۔
جلد ہی انھیں محسوس ہو گیا کہ وہ یک طرفہ فائرنگ میں مشغول ہیں۔
”فائرنگ بند کرو۔“ ان میں کوئی چیخ کر بولا۔ ”دو بندے ان کو پوسٹ میں لے جاﺅ اور سیٹ پر نمبر ٹو کو بھی اس کی اطلاع کر دینا۔ باقی تمام میرے ساتھ چلیں اس کو زندہ یا مردہ گرفتار کرنا ضروری ہے۔“وہ غالباً لاشوں کو پوسٹ میں لے جانے کا آرڈر دے رہا تھا۔
”سر! کہیں وہ ابھی تک موجود نہ ہو۔“ایک سہی ہوئی آواز آئی۔
”تمھارا باپ اگرموجود ہوتا تو جوابی فائرنہ کرتا۔“ آرڈر دینے والا لازماً ان کا سینئر تھا۔ ”تم اگر ڈرتے ہو تو ان لاشوں کے کے ساتھ پوسٹ پر چلے جاﺅ باقی چلو میرے ساتھ۔“
میں آنکھیں پھاڑے ان کے ہیولوں کو دیکھنے کی کوشش کر رہا تھا تاکہ زیادہ سے زیادہ کو جہنم واصل کر کے اپنے تعاقب کے قابل نہ چھوڑوں۔ گو صاف موسم کی صورت میں برفانی علاقے میں چاندنی رات کے بغیر بھی اتنی روشنی ہوتی ہے کہ چالیس پچاس گز کے حدود اربعہ میں کسی چیز کا ہیولا محسوس کیا جا سکے۔ مگر اس وقت آسمان بادلوں سے اٹا ہوا تھا اور برف باری شدت سے جاری تھی ایسی صورت میں ان کی آوازوں یا قدموں کی آہٹ سے ہی میں ان کی سمت کا اندازہ کر سکتا تھا اس کے علاوہ کوئی صورت نہیں تھی۔ البتہ ٹارچ میرے پاس موجود تھی لیکن اس کو جلانے کا مطلب اپنی موت کے پروانے پر دستخط کرنا تھا۔ میں ان کے قریب آنے کامنتظر رہا یہاں تک کہ وہ چند قدم کے فاصلے پر پہنچ گئے۔ گن کومیں نے پہلے سے برسٹ پر سیٹ کیا ہوا تھا ۔
میرے ٹریگر کے دباتے ہی ان پر قیامت ٹوٹ پڑی اور ان کی چیخ و پکار سے ماحول گونج اٹھا۔ میں نے بھی ٹریگر سے اس وقت تک انگلی نہیں ہٹائی جب تک کہ میگزین خالی نہیں ہو گئی تھی۔نئی میگزین چڑھا کر میں نے ایک ہلکا سا برسٹ چلایا اور وہاں سے کرالنگ کرتا ہوا دور ہٹنے لگا۔ پشت پر موجود پہاڑی کی آڑ میں آتے ہی میں کھڑا ہو گیا اتنی زیادہ احتیاط کا مقصد اس کے علاوہ اور کچھ نہیں تھا کہ میں کسی اندھی گولی کا شکار نہ ہو جاﺅں آڑ میں آتے ہی میں وہاں سے تیزی کے ساتھ روانہ ہو گیا۔
مجھے حتمی طورپر اندازہ نہیں تھا کہ کتنے بندے جہنم واصل ہو چکے تھے البتہ اس بات کا مجھے یقین تھا کہ وہ میرے تعاقب کے قابل نہیں رہے تھے۔ کچھ دور آنے کے بعد میں نے نارمل انداز میں چلنا شروع کر دیا۔ مسلسل سفر اوربے آرامی نے میرے اعصاب کو شل سا کر دیا تھا۔ نیند کی شدت سے میری آنکھیں جل رہی تھیں لیکن ان سب کے باوجود میں چلنے پر مجبور تھا۔صبح صادق کے قریب مجھے ایک کھوہ نظر آئی جس کا منہ برف سے اٹا ہوا تھا۔ بس ایک چھوٹے سے سوراخ سے مجھے اندازہ ہوا کہ یہ کوئی غار ہے۔ ٹارچ جلا کر میں نے سوراخ کے اندر جھانکا، کافی لمبی غاز نظر آئی۔ میں نے غاز کے منہ سے صرف اتنی برف ہٹائی جس سے کہ میں آسانی سے اندر گھس سکوں۔ برفانی طوفانوں کی بدولت برف غارکے اندر بھی کافی مقدار میں ڈھیر ہوئی پڑی تھی لیکن میری خوش قسمتی کہ غار کافی لمبا تھا۔ آخری کونے میں جا کر میں نے اپنے لیٹنے کے لیے جگہ صاف کی۔ گرم جیکٹ اور پاجامہ نکال کر پہنا۔ بوٹ اتار کر برف جھاڑی جرابیں تبدیل کیں اور حلوے کو جڑ گیا خوب پیٹ بھرنے کے بعد باقی حلوہ شاپر میں لپیٹ کر پٹھو میں ڈالا اور ٹھنڈی چاے پی کر آرام کے لیے لیٹ گیا۔
برف باری کی یہ خاصیت ہے کہ جب تک یہ شروع رہے سردی نارمل رہتی ہے بشرط یہ کہ اس کے ساتھ ہوا نہ چلے۔ اس وقت بھی ہوا بند تھی اور برف روئی کے گالوں کی طرح مسلسل آسمان سے گر رہی تھی۔ مجھے پتا تھا کہ میرے پاﺅں کے نشانات زیادہ سے زیادہ ایک گھنٹے میں برف میں چھپ جانے تھے ۔اس کے بعد دشمن کے لیے میری لوکیشن کا پتا چلانا نہایت مشکل تھا۔
حالات کی سنگینی اور گھریلو تفکرات بھی میری نیند کو نہ روک سکے اور میں گہری نیند سو گیا۔
پتا نہیں میںکتنی دیر تک سویا رہتا لیکن اچانک تیز گڑگڑاہٹ کی آواز میرے کانوں میں آئی اور میری آنکھ کھل گئی۔ وقت دیکھا تو دن کے دو بجنے والے تھے۔
”ہیلی اور اس موسم میں....؟“ میں نے حیرانی سے سوچا، لیکن جب میری نظر غاز کے سوراخ سے آنے والی روشنی کی کرنوں پر پڑی تو میری حیرانی دور ہو گئی تھی ۔
”اس کا مطلب ہے موسم صاف ہو گیا ہے“ میں خود کلامی کے انداز میںبڑبڑایا اور اٹھ کر غار کے دہانے کی طرف بڑھ گیا۔ سوراخ سے سر گزار کر جب میں نے باہر جھانکا تو سورج پوری آب و تاب کے ساتھ چمکتا نظر آیا۔ آسمان پربادلوں کا نشان تک نہیں تھا۔ میں شاید باہر نکل کر دھوپ سے لطف اندوز ہونے کی کوشش کرتا کہ اچانک میری نظر غار سے پچاس گز فاصلے پر بنے ہوئے قدموں کے تازہ نشانوں پر پڑی اور میں اچھل پڑا۔ غور سے دیکھنے پر یہ نشانات مجھے اسی سمت کو جاتے دکھائی دیئے جس سمت سے میں چل کر آیا تھا۔ ہیلی کی آواز بھی اسی سمت کو جاتی سنائی دی تھی اور ہیلی کا مقصد بھی لازماً زخمیوں اور لاشوں کی ترسیل تھا۔
میں غار کے دہانے سے اندر کو ہٹ آیا اور پٹھو سرہانے کے نیچے رکھ کر ایک مرتبہ پھر سونے کی کوشش کرنے لگا۔ مگر اس بار میں ناکام رہاتھا ۔یادوں کا ریلا مجھے پتا نہیں کہاں سے کہاں بہا لے گیا۔ سعدیہ اور عدنان کی شکلیں میری آنکھوں کے سامنے آکھڑی ہوئیں۔ پھر ان کی جگہ امی اور ابو نے لے لی۔ باری باری تمام رشتا دار میرے خیالات میں آتے چلے گئے۔
پتا نہیں رحمان خیل میں حالات کیسے تھے۔ آیا میرے بھائیوں میںسے کوئی مارا گیا تھا یا اس کے برعکس انھوں نے مخالفین میں سے کسی کو مارکر حوالات میں اپنی جگہ بنالی تھی۔ اتنا اندازہ بہ ہر حال مجھے بھی تھا کہ حالات سخت خراب ہیں اور گنڈہ پوروں میں حالات کی خرابی کاایک ہی مطلب تھا یعنی ایک یا زیادہ بندوں کا قتل ہو جانا۔ چھوٹے موٹے جھگڑے تو روزانہ کا معمول تھے۔ گنڈہ پوروں جیسی تندخو اور دشمنیاں پالنے کی شوقین شاید ہی کوئی قوم پاکستان میں ہو اور انھی کے متعلق یہ کہاوت مشہور ہے کہ ۔
”گنڈہ پور دوست سے زیادہ دشمن بنانے پر خوش ہوتے ہیں۔“
میں دیر تک گھر اور گاﺅں کے خیالات میں کھویا رہا لیکن جیسے ہی غار کے اندر موجود روشنی مدہم پڑی اور اندھیرے نے اپنا رنگ جمانا شروع کیا میں نے بھی وہاں سے کوچ کی تیاری شروع کر دی۔ گو میرا دل کچھ بھی کھانے کو نہیں چاہ رہا تھا، لیکن سفر کی سختی کو مدِنظر رکھتے ہوئے میں نے کچھ نہ کچھ کھانا مناسب سمجھا۔ پٹھو پیٹھ پرلاد کر میں نے گن کندھے پر لٹکائی اور ہاتھ میں آئس سٹک(Icestick) پکڑ کر چلنے کے لیے تیار ہو گیا۔ گو پٹھو کی غیر موجودی میں مَیں زیادہ تیزی سے سفر کر سکتا تھا ، لیکن زیادہ عرصہ اس برف زار میں پھنسے رہنے کی صورت میں پٹھو میں موجود سامان ہی میری زندگی کا ضامن بن سکتا تھا۔ ایک لحظہ کے لیے میرے دل میں خیال آیا کہ پٹھو میں موجود فالتو سامان جیسے رسہ یا ایس ایم جی کی سپیئر میگزین پھینک دوں.... لیکن پھر کسی ناگہانی صورت ِ حال میں پھنسنے کے خوف نے مجھے اس کا م سے باز رکھا۔
آسمان پر بادلوں کا نام نشان بھی نہیں تھا۔ سورج غروب ہو چکا تھا، لیکن روشنی کافی تھی۔ انڈیا ہمارے ملک کے مشرق میں واقع ہے لیکن اس علاقے میں دونوں ملکوں کی سرحد اتنی ٹیڑھی میٹرھی ہے کہ واضح طور پر اپنی فوج کی ڈیپلائمنٹ کا اندازہ لگانا میرے لیے مشکل تھا۔ نقشے کی موجودی اس مشکل کو آسانی میں بدل سکتی تھی لیکن افسوس کہ نقشہ میرے موجود نہیں تھا۔ میرا اندازہ تھا کہ جنوب کی سمت اختیار کر کے میں باقی اطراف کی بہ نسبت جلد ہی دشمن کے علاقے سے نکل سکتا تھا۔ تارے ابھی تک واضح نہیں ہوئے تھے۔ اس لیے میںنے سورج کے غروب ہونے کے مقام سے جنوب کی سمت کا تعین کیا اور اﷲ کا نام لے کر چل پڑا۔ تھوڑی دور ہی چلنے کے بعد رستا بتدریج گہرائی میں اترتا چلا گیا۔ اس لیے میری رفتا برف کے نرم ہونے کے باوجود کافی تیز رہی۔ راستے میں میری کوشش رہی کہ دشمن سے مڈبھیڑ نہ ہو، کیونکہ اس صورت میں لازماً میرا وقت ضائع ہو جاتا جو مجھے بالکل گوارا نہیں تھا۔ اسی وجہ سے مجھے ایولانچ کے خطرے کا علاقہ بھی عبور کرنا پڑا لیکن دشمن کو بائی پاس کرنے کے لیے میں یہ بھی کر گزرا۔
صبح کی روشنی پھیلتے ہی میری نگاہیں دن گزارنے کے لیے جگہ کی تلاش میں سرگرداں ہو گئیں۔ جلد ہی مجھے ایک بڑے پتھر کے نیچے اتنی جگہ نظر آگئی جہاں میں آسانی سے لیٹ سکتا تھا ، جبکہ دشمن کی ہوائی اور زمینی دیکھ بھال سے بھی آڑ میسر تھی۔
گرم پاجامہ اور جیکٹ پہن کر میں نے ہلکا پھلکا کھانا کھایا اور پٹھو سر کے نیچے رکھ کر لیٹ گیا۔ موسم صاف ہونے کی وجہ سے سردی کافی زیادہ تھی لیکن سورج بلندہونے کے ساتھ اس میں کمی ہوتی چلی گئی۔ میرا ذہن عجیب قسم کے خیالات کی آما جگاہ بنا ہوا تھا اور ان خیالات سے میں نیند میں بھی جان نہ چھڑا سکا۔ برے خیالات اور پریشان سوچوں نے پرچھائیوں کی شکل اختیار کرلی تھی۔ میں نے اپنے باپ کو پھانسی پر لٹکے ہوئے دیکھا۔ پھر میں نے اپنے چچا کو دیکھا کہ اس کا سرگردن سے کٹا ہوا ہے اور وہ ہاتھ کے اشارے سے مجھے اپنی طرف بلا رہا ہے اور میں اس کی طرف جانے کی بجائے چودھری انور کے پیچھے دوڑ رہا ہوں میرے ہاتھ میں ایک بڑا ساٹوکہ تھا جس سے خون ٹپک رہا تھا۔ میں نے دوڑتے ہوئے ٹوکہ اس کی طرف پھینکا لیکن وہ جلدی سے نیچے بیٹھ گیا اور ٹوکہ اس کی بجائے عدنان کو جالگا جو ہاتھ پھیلائے میری جانب دوڑ رہا تھا۔ میرے منہ سے چیخ نکلی اور میری نیند اکھڑ گئی۔ آنکھ کھلتے ہی میں نے دائیں بائیں دیکھا۔سورج اپنی پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا، دن کے دو بجنے والے تھے۔ مجھے سخت پیاس محسوس ہو رہی تھی پٹھو سے بوتل نکال کر میں نے پانی پیا اور ایک مرتبہ پھر لیٹ کرسونے کی کوشش کرنے لگا۔ مگر خواب کے بے ترتیب اور بھیانک مناظر میری نگاہوں کے سامنے گھوم رہے تھے۔
”کیا پتا یہ خواب سچا ہوا ور اس کی تعبیر....“ مگر میں اپنے اندر اس بے ترتیب خواب کی تعبیر سوچنے کی جرا ¿ت پیدا نہ کر سکا اور سر جھٹک کر تمام پرا گندہ خیالات کو ذہن سے نکال کر اس برف زار سے نکلنے کی تدبیر سوچنے لگا۔
سورج کے سر چھپاتے ہی میں ایک مرتبہ پھر چل پڑا۔ اردگرد اکا دکا درخت نظر آرہے تھے۔ اس کا مطلب تھا کہ میں جس علاقے میں موجود تھا اس کی بلندی چودہ ہزار فٹ سے کم تھی۔ کیونکہ اس سے زیادہ بلندی پر درخت نہیں اُگتے۔ یہ علاقہ اس لحاظ سے بہت عجیب ہے کہ کم بلندی پر سبزے کی بہتات درختوں کے جھنڈ جس میں ہر قسم کے درخت شامل ہیں یعنی پھلدار اور بغیر پھل کے۔ کثیر تعداد میں موجود ہیں اس کے برعکس جب چودہ ہزار فٹ سے زیادہ بلندی پر چلے جاﺅ تو اتنے ہی بنجر اور سنگلاخ پہاڑ نظر آتے ہیں حالانکہ پانی ہر دو جگہ وافر مقدار میں موجود ہے اور وہ اس لیے کہ برف پگھلتے ہی ہر جگہ چشمے پھوٹ پڑتے ہیں۔
چھپنے کی جگہ سے فرلانگ بھر کے فاصلے پر مجھے راستا سا بنا ہوا نظر آیا جو مغرب کی سمت سے آتے ہوئے اس مقام سے جنوب کی سمت مڑ رہا تھا۔ میں نے بھی اس راستے کو غنیمت جانا اور اس پرچل پڑا۔ راستا تقریباً ہموار ہی تھا۔ تھوڑا سا آگے بڑھنے کی بعد مجھے اپنے بائیں ہاتھ پرعمودی خطرناک ڈھلانیں نظر آئیں جو راستے سے دو تین میٹر ہی دور پڑتی تھیں۔ یہ اتنی سیدھی تھیں کہ برف بھی ان پر نہ جم سکی تھی اس لیے ان کی پتھریلی اور سنگلاخ سطح واضح نظر آرہی تھی۔ دائیں ہاتھ پر ہموار ڈھلان تھی۔ راستا بناہونے کی وجہ سے میری رفتار کافی تیز تھی۔ میرا ارادہ تھا کہ دشمن کی پوسٹ جیسے ہی نظر آئے گی میں راستا تبدیل کر لوں گا مگر کسی پوسٹ کے نظر آنے سے پہلے ہی میں ایک ناگہانی آفت میں پھنس گیا تھا۔
وہ چند لوگوں کے بولنے کی آواز تھی جو تھورے فاصلے پر موجود موڑ سے آرہی تھی۔ بے اختیار رکتے ہوئے میںنے دائیں بائیں نظر دوڑائی مگرکسی ایسی جگہ کی تلاش میں ناکام رہا جہاں میں چھپ سکتا۔ سورج کوڈوبے کچھ ہی دیر گذری تھی اور ملگجے اندھیرے میں کافی دور تک نظر کام کر رہی تھی۔ میرے پاس چھپنے کے لیے بہت کم وقت تھا پچھلا موڑ بھی مجھ سے فرلانگ بھر دور تھا۔ اچانک میرے ذہن میں ایک ترکیب آئی اور میں نے فی الفور اس پر عمل کر ڈالا۔ پٹھو سے رسی نکال کر میںنے راستے کے بائیں طرف موجود درخت کے تنے کے ساتھ اس طرح باندھی کہ رسی برف میں چھپ گئی۔ رسی کا دوسرا سرا مضبوطی سے اپنی کمرکے ساتھ باندھ کر میں بائیں ہاتھ پرموجود کھڑی چٹانوں کی طرف بڑھ گیا۔ میرے نیچے اترتے ہی وہ موڑ مڑ ے، اگر مجھے چند سیکنڈ کی بھی دیر ہو گئی ہوتی تو میرا دیکھا جانا لازمی تھا۔ تمام افراد زور زور سے باتیں کرتے ایک سیدھی لائن میں جارہے تھے۔ ان کی باتوں سے جو نتیجہ میں نے اخذ کیا وہ یہی تھا کہ کچھ تخریب کار سرحد کے اندرگھس آئے تھے جس کی وجہ سے مختلف پوسٹوں سے پیدل پٹرولنگ شروع کر دی گئی تھی۔
جیسے ہی ان کی باتوں کی آواز معدوم ہوئی میں نے سر اٹھا کر دیکھا۔ وہ دوسرا موڑ مڑنے والے تھے۔ میں آہستہ سے اوپر آگیا۔ جونھی وہ تمام میری نظر سے اوجھل ہوئے میں نے درخت کے نزدیک جا کر پٹھو اتارا اور رسی کھولنے کے لیے نیچے جھکاتاکہ رسی لپیٹ کر پٹھو میں ڈال سکوں۔اچانک مجھے اپنی پشت پر غراہٹ سنائی دی۔ میں پھرتی سے پیچھے مڑ اور یہ دیکھ کرمیرا خون رگوں میں منجمد ہونے لگا کہ ایک دیوقامت ریچھ آہستہ آہستہ چلتا میری سمت آرہا تھا۔ میرے پیچھے مڑتے ہی وہ دونوں پاﺅں پرکھڑا ہو گیا تھا اپنے ہاتھ میں موجود ایس ایم جی پر میری گرفت مضبوط ہو گئی لیکن جیسے ہی تھوڑی دیر پہلے گزرنے والی پٹرولنگ پارٹی کا خیال آیا میں نے ریچھ پر فائر کرنے کا خیال دل سے نکال دیا۔ سکول کے زمانے کی پڑھی ہوئی ایک کہانی میرے دماغ میں در آئی جب دو دوست اکٹھے سفر کررہے ہوتے ہیں اورریچھ آجاتا ہے۔ ایک دوست تو درخت پر چڑھ جاتا ہے جبکہ دوسرا جو درخت پر چڑھنا نہیں جانتا تھا کہ وہ سانس روک کر لیٹ جاتا ہے اور ریچھ اسے مردہ سمجھ کر چھوڑ کر چلا جاتا ہے۔
میں اس وقت درخت کے قریب ہی کھڑا تھا اور درخت پرچڑھنا بھی خوب جانتا تھا مگر اس علاقے میں درخت پر چڑھنا ازحد مشکل تھا، کیونکہ درخت کے تنے بالکل صاف اور لمبائی میں بہت زیادہ تھے۔ سانس روک لینے کا طریقہ بھی میں نہیں آزمانا چاہتا تھا کہ اس میں بھی بہت زیادہ خطرہ تھا۔ میں نے ان سب تدابیر کو چھوڑ کر ایک نئی تدبیر اختیار کی۔ گو اس میں رسک زیادہ تھا لیکن اس کے علاوہ نہ تو کچھ اور سوجھا اور نہ سوچنے کا وقت تھا اور یہ رسک بھی میں اس لیے لے سکا کہ درخت کے تنے اور اپنی کمر کے ساتھ بندھی ہوئی رسی میں نے ابھی تک کھولی نہیں تھی۔
ریچھ جیسے ہی اپنے پچھلے قدموں پرکھڑا ہو کر میری جانب بڑھا، میں بھی اس کی جانب دوڑپڑا۔ میرے اس ردِ عمل پر ایک لمحے کے لیے وہ اپنی جگہ پر ساکن ہو گیا تھا۔ میں نے پانچ چھے میٹر کا فاصلہ بجلی کی سی تیزی سے طے کیا اور اچھل کر ریچھ پر چھلانگ لگادی۔ ریچھ اس وقت عمودی ڈھلان کے بالکل کنارے پر کھڑا تھا۔ میرے چھلانگ لگاتے ہی اس نے اپنے دونوں ہاتھ مجھے جکڑنے کے لیے بڑھائے، لیکن میری توجہ اس کی گرفت سے بچنے کی بجائے اسے نیچے گرانے پر تھی۔ اس صورت میں میرا اپنا گرنا بھی لازم تھا۔ ریچھ اس صورت میں ضرور گرنے سے بچ جاتا اگر میں فلائنگ کک لگا کر پیچھے کی طرف گرتا۔ اس کے برعکس میں نے اپنا پورا بوجھ اس کے اوپری دھڑ پر ڈالا اور اسے ساتھ لیتا ہوا۔ پچھلی جانب موجود عمودی ڈھلان پر گرتا چلا گیا۔ ریچھ کے منہ سے ایک تیز غراہٹ نکلی اور مجھے پکڑنے کی بجائے اسے اپنی جان بچانے کی فکر لاحق ہو گئی مگر اس جگہ ایسی کوئی چیز موجود نہیں تھی جسے پکڑ کر وہ اپنی جان بچاسکتا ۔ ریچھ کے پاﺅں اکھڑتے ہی میںاس کوشش میں مصروف ہو گیا کہ میرے پاﺅں کا رخ پہاڑ کی سمت رہے اس کے برعکس ہونے کی صورت میں میرا ناکارہ ہو جانا لازم تھا۔ رسی کے ٹوٹنے کا مجھے اندیشہ نہیں تھا۔ یہ رسی خصوصی طور پر تیار کی گئی تھی وزن میں ہلکی اور کارکردگی میں لوہے کی زنجیر سے بھی مضبوط۔ اس کے متعلق ہم نے اپنے کورس میں پڑھا تھا کہ یہ 25ٹن تک وزن سہار لیتی ہے۔ اس کی لمبائی 35سے 40میٹر کے قریب تھی۔
جیسے ہی رسی کی لمبائی ختم ہوئی میری کمر کو جھٹکا لگا اور میں تیزی سے پہاڑ کی سمت بڑھا۔ اس سے پہلے کہ میں اس عمودی دیوار کے قریب پہنچتا میرے پاﺅں دیوار کی سمت ہو گئے تھے۔ ایک ہاتھ سے میں نے رسی کو اپنے پیٹ کے سامنے پکڑ کر اپنا توازن درست کیا اور پھر آہستہ آہستہ اوپر چڑھنا شروع کر دیا،40,35میٹر کا فاصلہ طے کرتے ہوئے مجھے پسینہ آگیا تھا۔ ہموار سطح پر پہنچتے ہی میں نے سانس درست کیا ،رسی کو لپیٹ کر پٹھو میں ڈالا اور ایک مرتبہ پھر سفر کے لیے تیار ہو گیا۔ ریچھ سے ٹکراﺅ کی وجہ سے کافی وقت ضائع ہو گیا تھا ۔اس کمی کو پورا کرنے کے لیے مجھے اپنی رفتار تیز کرنا پڑی۔ دو تین فرلانگ چلنے کے بعد مجھے دور ہلکی سی روشنی نظر آئی اور میں سمجھ گیا کہ وہ کوئی پوسٹ تھی۔ اس سے بچ کر گزرنے کے لیے مجھے اپنی سمت تبدیل کرنا پڑی۔ میں نے اپنا رخ جنوب مغرب کی طرف موڑ لیا۔
رستے سے ہٹنے کی وجہ سے مجھے کچی برف میں چلنا پڑ گیا اور میری رفتار ایک مرتبہ پھر آہستہ ہو گئی۔ آدھی رات گزرنے کے بعد موسم آہستہ آہستہ خراب ہونا شروع ہو گیاتھا۔ صبح تک چاروں طرف دھند چھا گئی تھی چند گز دور کی چیز بھی دکھائی نہیں دے رہی تھی ،لیکن خوش قسمتی سے برف باری شروع نہ ہوئی۔ صبح کو دھند کی وجہ سے میں نے رکنا گوارا نہ کیا اور چلتا رہا 12بجے کے قریب دھند چھٹنا شروع ہو گئی اور میں نے بھی کسی کمین گاہ کی تلاش میں اپنی نظریں دائیں بائیں دوڑانا شروع کر دیں۔ ایک گھنٹے کی تلاش بسیار کے بعد میں تھک کر برف کے اوپر ہی آرام کرنے کا سوچ رہا تھا کہ میری نظر برف کے اندر چھپی ہوئی مورچہ نما جگہ پر پڑی۔ پہلی نظر میں تو مجھے وہ کوئی پوسٹ لگی اور مجھے وہاں سے بھاگنے کی فکر لاحق ہوئی لیکن اس کے اردگرد قدموں کے نشان نہ بنے دیکھ کر میں جھجکتا ہوا اس کے قریب چلا گیا۔
وہ ایک پوسٹ ہی تھی لیکن کسی نامعلوم سبب کی بدولت دشمن اسے خالی کر گیا تھا۔ جاری ہے

No comments: