Ads Top

Massom Si Larki By Sabahat Khan Episode No.14 || 14 معصوم_سی_لڑکی از صباحت_خان قسط نمبر

Massom Si Larki
 By
 Sabahat Khan 

  معصوم_سی_لڑکی
 از
 صباحت_خان 

Massom Si Larki  By  Sabahat Khan     معصوم_سی_لڑکی  از  صباحت_خان

#معصوم_سی_لڑکی

#صباحت_خان✏

#قسط14
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
اس ناول کے تمام جملہ حقوق #کریزی_فینس_اوف_ناول ویب کے پاس محفوظ ہیں اس ناول کو کہیں بھی پیج ,گروپ ,ویب سائٹ اور بلاگ پر پوسٹ کرنے کی اجازت نہیں ہے بصورت دیگر کاپی پیسٹ کرنے والے کے خلاف #کریزی_ویب ہر طرح کی چارہ جوئی کرنے کا حق رکھتی ہے
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
احمد گاڑی چلا رہا تھا حیدر پاس بیٹھا تھا اور بلال پیچھے، تم نے سب آفسر کو بتا دیا کہا آنا ہے حیدر نے احمد کی طرف دیکھا ہاں میں نے انہیں آج صبح ہی بتا دیا تھا دو گھنٹے میں ہم وہاں پہنچ جائے گے اور باقی سب بھی احمد نے گاڑی چلاتے ہوئے ہی جواب دیا، 
رات ہی سب انفارمیشن میں نے نکال لی تھی سب معلوم کر لیا سب پلین بنا لیا تھا بلال نے بھی باتوں میں حصہ لیا اس لیے صبح گدھے گھوڑے بیچ کے سو رہا تھا احمد نے اس کے سونے پر طنز کیا، 
تو کام کر رہا تھا پوری رات فارغ نہیں تھا تیری طرح بلال نے چڑ کر جواب دیا، کیا میری طرح آرے میرے بغیر کچھ کر سکتا تھا کیا تو میں نے ہی سب لوکیشن بتائی تجھے ان کے اڈے کہا یے بچوں کو کہا رکھا ہے سب میں نے معلوم کیا، احمد نے بھی اسے جتانا ضروری سمجھا، 
اس میں کون سی بڑی بات ہے اگر حیدر اس شکیل کے اندر چیپ نہیں ڈھالتا تو پھر تو کون سا لوکیشن پتا لگا سکتا تھا بلال نے بھی اسے ٹکا سا جواب دیا، 
بس کروں ہم مشن پر جارہے ہیں بچوں کو بچانے اور تم دونوں خود بچوں کی طرح لڑ رہے احمد کچھ بولتا اس سے پہلے ہی حیدر نے دونوں کو گھورا،
حیدر کا ڈانٹنا کام آیا اب دونوں چپ تھے بس حیدر جو کام کی بات دونوں سے کر رہا اسی کا جواب دے رہے
یہ حیدر کا ہی آئیڈیا تھا کےشکیل کے اندر چیپ ڈھال کے اسے بھاگنے کا موقع دیا جائے تاکہ اس کے زریے اصل مجرم اور بچوں تک پہنچا جاسکے جو ان کے بہت کام آیا اب ان سب کو وہان سے با حفاظت بچوں کو نکالنا تھا
************
اس کے رونے سے اب روہان اُکتا گیا تھا پر آگے بیٹھے فاروق صاحب کی وجہ سے اس نے کچھ نہیں کہا اس نے پاس بیٹھی اپنی بیوی کی طرف دیکھا جو نیچے نظرے جھکائے رونے میں مصروف تھی کچھ دیر میں ہی گاڑی پورچ میں رک گئی،
گاڑی کے رکتے ہی روہان بغیر کسی کی طرف دیکھے گاڑی سے اُتر گیا اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا گھر کے اندر غائب ہوگیا،
فاروق صاحب نے گاڑی سے نکل کے افسوس سے اپنے بیٹے کو دیکھا انہوں نے حیا کا گیٹ کھول کے اسے باہر آنے کو کہا اور اسے لیے اندر کی طرف بڑھ گئے،
بیٹا آپ یہاں بیٹھوں فاروق صاحب نے اسے لاونچ میں رکھے سوفے پر بیٹھنے کا کہا وہ تھوڑا جھجھکتے ہوئے بیٹھ گئی اب وہ رو رو کے تھک چکی تھی اس لیے اس کی آنکھیں سرخ ہورہی تھی ،
بیٹا روہان کی ماں اور آپ کی ساس تو ہیں نہیں جو آپ کا اچھے سے استقبال کرے اس لیے بیٹا آپ دل پر نہیں لینا روہان تھک گیا ہے اس لیے چلا گیا فاروق صاحب نے پانی کا گلاس حیا کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا،
فاروق صاحب کی بات پر اس نے بس ہاں میں سر ہلایا اور پانی کا گلاس لے کر ہونٹوں سے لگایا اس کا ذہن اس وقت بلکل معوُف تھا،اس لیے فاروق صاحب کی بات اسے سمجھ نہیں آئی یہاں تک کے روہان کا اندر جانا بھی اس نے نوٹ نہیں کیا تھا،
سکینہ سکینہ فاروق صاحب نے اپنی ملازمہ کو آواز دی ،جی صاحب جی، سلام بی بی جی سکینہ کی نظر جیسے ہی حیا پر پڑی اس نے فوراً سلام کیا،
صاحب جی نے اس عمر میں شادی کرلی سکینہ نے دلھن بنی حیا کو دیکھتے ہوئے اندازا لگایا،
سکینہ جاوُں روہان کے روم میں حیا کو چھوڑ آوُ یہ روہان کی بیوی ہے فاروق صاحب کے کہنے پر سکینا نے اپنی سوچ غلط صابت ہونے پر ہونٹ دبا کر اپنی ہنسی کو روکا،
آجاوُ حیا بی بی سکینہ حیا کو لیے روہان کے روم کی طرف بڑھ گئی،
*****************
مجھے چھوڑ__دو___انکل بچی روتے ہوئے مسلسل اپنا ہاتھ شکیل کے ہاتھ سے چھوڑوا رہی تھی جو اسے تقریباً گھسیٹتے ہوئے اس محل نما کوٹھی میں لا رہا تھا،
اس نے بچی کو ایک جھٹکے سے آگے پھنکا بچی جاکے سوفے کے پاس گری سوفے کی نوک سے بچی کے ماتھے سے خون کی لکیر بہنے لگی، 
سعد سوفے پر بیٹھا چائے کے مزے لے رہا تھا دو گھنٹے سو کے وہ اپنی نیند پوری کرچکا تھا اس نے جھک کے بچی کی تھوڑی پر ہاتھ رکھ کے اسے کھڑا کیا،
انکل مجھے جانے__دو وہ بچی اب رو رو کے بھی تھک چکی تھی اس کی ہچکی بندھ گئی تھی،سعد نے بچی کو سر سے پیر تک دیکھا،
واہ کیا بات ہے شکیل اس پر تو تیرا انعام پکا ہے سعد نے بچی کو گھورتے ہوئےمسکرا کر شکیل کو دیکھا شکیل تو انعام کی بات سن کر اور خوش ہوگیا،شکریہ چھوٹے صاحب شکریہ،
 چلو سعد کھڑا ہوگیا بچی کو اس نے چلنے کا کہا پر بچی نے قدم پیچھے لے لیے اور نہ میں سر ہلانے لگی سعد نے مسکرا کے بچی کو دیکھا اور اسے بالوں سے پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے لے جانے لگا،
مجھے چھوڑ دو انکل___مجھے درد ہو رہا ہے بچی روتے ہوئے مسسل اپنے بال چھڑوانے کی کوشش کر رہی تھی،شکیل اب سوفے پر بیٹھ کے چائے کے مزے لینے لگا تھا،
یہی روک جاو!!!!!ُ سعد نے ابھی پہلی سیڑھی پر ہی قدم رکھا تھا جب اسے اپنی پیچھے سے کسی کی آواز آئی،
**************
حیا نے روم میں قدم رکھا تو روم بلکل کھالی تھا وہ قدم قدم چلتی بیڈ تک آئی اور گرنے کے سے انداز میں بیڈ پر بیٹھ گئی،
بھیا!!! اپنے بھیا کو یاد کر کے ایک بار پھر اس کی آنکھ نم ہوگئی آپ مجھے اتنی دور کیوں بھیج رہے بھیا،حیا من ہی من حیدر سے شکایت کرنے لگی،
اٹھوں یہاں سے روہان نے واش روم سے اکر حیا کو خود کے بیڈ پر بیٹھے دیکھا تو اسے شدید غصہ آیا پر حیا تو کسی اور ہی دنیا میں کھوئی ہوئی تھی روہان کی بات اس نے سنی نہیں،میں نے کہا کھڑی ہو یہاں سے،روہان کے دھاڑ پر حیا اپنے ہوش میں آئی اور جلدی سے کھڑی ہوگئی اس کا پورا جسم خوف سے کانپنے لگا،
آپ___حیا نے اپنے سامنے اس مال والے لڑکے کو دیکھ کے کہا،ہاں میں بد قسمتی سے تمہارا شوہر اب ہٹو
روہان نے اس کے حسین سراپے کو دیکھا پھر نظرے پھیر گیا جاوُ یہاں سے سوفے پر جاکے سو روہان کی بات پر حیا نے حیرت سے دیکھا وہ تو آج تک سوفے پر نہیں سوئی تھی پر روہان کے غصے سے وہ اندر تک ڈر گئی تھی اس لیے بغیر کچھ بولے وہ سوفے کے پاس آگئی میری شادی ان سے ہوئی حیا اب تک حیرت میں تھی،
اس نے ساری لائٹ اوف کردی سوائے ایک سیور کے حیا بیگ میں سے اپنا سوٹ لےکے چینج کرنے چلی گئی دس منٹ بعد دھولے ہوئے چہرے کے ساتھ وہ باہر آئی تو روم میں بلکل آندھیرا تھا،
سنیے___حیا واشروم کے گیٹ پر کھڑے ہوکے روہان کو آواز دینے لگی پر اسے وہاں اپنے سوا کسی کی موجودگی کا احساس نہیں ہوا،کوئی___ہےے حیا ہلکے ہلکے کانپنے لگی کے ایک دم روم کی لائٹ اون ہوئی کیا مصیبت ہے روہان نے بیڈ سے اٹھ کے اسے دیکھا جو ہولے ہولے کانپ رہی تھی،
جا کے سوجاوُ وہاں روہان نے غصے سے سوفے کی طرف اشارا کیا،حیا ڈرتے درتے سوفے تک آئی کے روہان نے واپس لائٹ اوف کردی اسے عادت تھی فل آندھیرا کرکے سونے کی،
ایک بار پھر لائٹ بند ہونے پر حیا سوفے سے کھڑی ہوگئی پر روہان کو پکارنے کی اس میں ہمت نہیں تھی اس لیے ڈرتے ڈرتے واپس بیٹھ گئی اپنا ڈوپٹہ منہ تک اوڑ کر لیٹ گئی اور آیةالکرسی پڑھنے لگی پر خوف سے اسکی بری حالت تھی حیدر کو یاد کرکے اس کی آنکھوں میں آنسوں آنے لگے پر وہاں کس کو پروا تھی روتے روتے پتا نہیں کب اس کی آنکھ لگ گئی
********************
 چاروں طرف آندھیرے کا راج تھا سردیاں بھی شروع ہوچکی تھی ہر کوئی اپنے گھروں میں اس وقت آرام کر رہا تھا ایسے میں کچھ لوگ گاڑی سے اترے اور یہاں وہاں دیکھتے ہوئے آگے بڑھے ان سب کے چہرے آندھیرے کی وجہ سے سہی سے دیکھائی نہیں دے رہے تھے وہ لوگ دیوار کے پاس آکے ایک کونے میں چھوپ گئے،
اتنے میں ایک اور گاڑی آئی اس میں سے بھی کچھ لوگ نکلے،اور گھر کی طرف دیکھا پکا یہی گھر ہے حیدر نے احمد کی طرف دیکھا اس نے لوکیشن ایک بار پھر چیک کی ہاں یہی گھر ہے احمد نے موبائل میں دیکھتے ہوئے حیدر کو جواب دیا،
وہ لوگ کچھ آگے ہی آئے تھے کے دیوار کےپیچھے چھوپے لوگ آگے آئے یہ سب آفسر ان کے اس مشن میں ساتھ تھے حیدر نے سب کو ایک نظر دیکھا اور انہیں اشارے سے ایک کونے میں بلایا،
تم دو پیچھے سے جاوُ حیدر نے سامنے کھڑے میجر عدنان اورمیجر رفیق سے کہا،تم اور احمد سیدھے ہاتھ پے لگے پائپ کے ذرہے اندر جاو حیدر نے میجر صمد کی طرف دیکھ کے کہا،
بلال اور میں الٹے ہاتھ کی طرف سے جائے گے حیدر کی بات پر سب نے ہاں میں سے ہلایا اور آگے بڑھے عدنان اور احمد نے گیٹ پر کھڑے دونوں گارڈ کو کچھ کہنے کا موقع دیے بغیر ہی ان کی گردن مروڑ دی اور سب کو آنے کا اشارا کیا،
اندر داخل ہوکے سب اپنے اپنے راستے پر چل پڑے حیدر اور بلال الٹے ہاتھ کی طرف آئے تو ان کے کانوں میں بچی کی آواز آئی جو بہت رورہی تھی،
حیدر نے بلال کی برف دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا وہ دونوں چھوپ کے گھر کے گیٹ کے قریب آئے جو پورا کھولا تھا سامنے ہی شکیل بیٹھا چائے پی رہا تھا اس سے آگے کوئی لڑکا بے دردی سے بچی کو گھسیٹ رہا تھا،
بلال اور حیدر دونوں کو غصہ آیا بلال اندر جانے لگا کے حیدر نے روک دیا،اگر ہم یہاں سے گئے تو سب بچوں کو کیسے بچائے گے حیدر نے دور کی سوچی ہمیں دل سے نہیں دماغ سے کام لینا ہے،
حیدر تو وہاں سے جا میں یہ سب نہیں دیکھ سکتا میں اندر جا رہا ہوں مجھے اس بچی کو بچانا ہے بلال بول کے روکا نہیں اور اندر کی طرف بڑھ گیا حیدر کو بھی اب بلال کے پیچھے جانا پڑا،
یہی روک جاوُ بلال کی دھاڑ پر شکیل کے ہاتھ سے کپ نیچے گر گیا جب کے سعد نے آرام سے پیچھے موڑ کے دیکھا جہاں حیدر اور بلال کھڑے اسے غصے سے دیکھ رہے تھے،
******************
اٹھووو حیا نیندوں میں تھی جب اسے اپنے بہت پاس سے آواز آئی حیا نے مندی مندی آنکھوں سے دیکھا سامنے روہان کھڑا تھا پہلے تو حیا نہ سمجھی سے دیکھتی رہی پر جیسے ہی اسے یاد آیا وہ کہا ہے وہ جلدی سے اٹھ کے بیٹھ گئی،
میں چار بار آواز دے چکا ہوں ایسی بھی کیا نیند تم نے میرے دو منٹ برباد کر دیے میرا ایک ایک منٹ قیمتی ہے اب اٹھوں اور جا کے تیار ہوجاوُ روہان غصے میں بولتے ہوئے وہاں سے چلا گیا،
حیا نے اپنے ہاتھ سے آنکھوں کو مسل کے ٹائم دیکھا ابھی تو اسے سوئے بس دو ہی گھنٹے ہوئے تھے پھر اتنی جلدی کیوں اٹھا دیا مجھے حیا سوفے پر بیٹھی بیٹھی ہی سوچنے لگی کہ ایک بار پھر روہان کی غصے سے بھرپور آواز اس کے کان میں پڑی اب تک یہی بیٹھی ہو میں نے کہا اٹھوں اور تیار ہو
روہان کے غصے سے حیا اندر تک کانپ گئی جلدی سے اٹھ کے واشروم بھاگی، اس کے ایک دم اٹھ کے بھاگنے سے روہان اپنا غصہ بھول کے اس کی یہ حرکت دیکھ کے حیران ہوا
******************
واہ میں تو سمجھتا تھا ہماری پولیس کی طرح ہماری آرمی بھی سست ہے پر تم لوگ تو ٹائم پر آگئے سعد نے بغیر ڈرے بلال اور حیدر کو دیکھتے ہوئے کہا جب کے بچی کے بال اب تک اس کے ہاتھ میں تھے،
بچی کو چھوڑ بلال بولتے ہوئے آگے بڑھا،نہ نہ آگے بڑھنے کی کوشش نہیں کرنا اگر اس کی جان پیاری ہے تو سعد نے اپنی پیچھے سے باریک دھار کا چاکوں نکال کر بچی کی گردن پر رکھا،جس سے بلال۔ کے قدم وہی روک گئے، 
جس شکیل کے چہرے پر آرمی کو دیکھ کے ہوایا اوڑ گئی تھی وہ اب مسکرا رہا تھا، تمیں کیا لگا اتنے بڑے گھر میں اکیلا رہتا ہوں سعد نے حیدر کو دیکھتے ہوئے معصومیت سے پوچھا جو بلکل خاموش کھڑا تھا، 
بلال کے جزباتی پن کی واجہ سے آج وہ دونوں پھس گئے تھے،سعد نے ایک سیٹی بجائی سیدھے ہاتھ کی طرف سے ہاتھوں میں ہتیار لیے کافی سارے لوگ آگے آئے کچھ لوگ الٹے ہاتھ کی طرف سے آئے کچھ نے پیچھے سے آکے ان پر اپنی گن تان لی، 
چےے چےےے آرمی کب سے بتا کے آنے لگی سعد نے طنز کیا جب کے بلال اور حیدر دونوں اب بھی اسے غصے سے دیکھ رہے تھے،
واہ بھئی کیا بات ہے وہسے ہماری آرمی کی گیٹ سے انٹری ماری ہے سعد نے مسکرا کے بولتے ہوئے شکیل کو دیکھا اور بچی کو بازو سے پکڑ کے آگے لایا پر اس کی گردن پر چاکو اب تک تھی، 
کیا بات ہے آپ کی چھوٹے صاحب شکیل نے سعد کو خوش دیکھ کے تعریف کرنا چاہی،تم تو میرے خاص آدمی ہو شکیل پر سعد نے بولتے ہوئے شکیل کی طرف دیکھا اور وہی سے چاکوں پھنک کے ماری جو سیدھے شکیل کے دل کے اندر گھوس گئی،
شکیل نے لڑکھڑاتے ہوئے حیرت سے سعد کو دیکھا،یہ لوگ تمہاری وجہ سے یہاں تک پہنچے یہ اس چیز کا انعام سعد نے مسکرا کے کہا اتنے میں شکیل نیچے گر گیا اس کا تڑپتا ہوا جسم ایک دم ساکت ہو گیا،
بلال اور احمد نے ایک نظر اس منظر کو دیکھا اور واپس سعد کو دیکھنے لگے حو اب ایک آدمی سے گن لیے بچی کے ماتھے پر رکھ چکا تھا، 
ایک____دو_____ حیدر تیز آواز میں گنتی گننے لگا،اوئے تو کیا کاونٹ کر رہا ہے گن میرے ہاتھ میں ہے سعد نے غصے سے حیدر کو دیکھا، 
تین____چار____پانچ حیدر نے اپنی گنتی جاری رکھی،تیری تو ابھی بتاتا ہوں سعد نے بچی کے ماتھے سے گن ہٹا کر حیدر کی طرف کی اس سے پہلے وہ گن چلاتا اوپر سے کوئی چیز اس کے ہاتھ پر آکر لگی جس سے اس کی گن دور جاگری اس نے اوپر دیکھا جہاں میجر صمد اور میجر احمد کھڑے مسکرا رہے تھے،
واہ کیا نشانا ہے بلال نے آواز دے کے احمد کے نشانے کی تعریف کی جس پر احمد نے جھک کر سر کو خم دیا اور دونوں نے اوپر سے نیچے جھمپ ماری،
سعد نے سامنے دیکھا حیدر نے دو کلابازی کھائی اور سعد کو کچھ سمجھنے کا موقع دیے بغیر اس تک پہنچ گیا اور اس کے ماتھے پر گن رکھی اپنے صاحب کے سر پر گن رکھے دیکھ سب آدمی پیچھے ہوگئے، 
بلال نے بچی کو گود میں لیا وہ چھوٹی سی بچی روتے ہوئے بلال کے گلے لگ گئی بلال نے پاس میں ایک روم۔ میں لے جاکہ بچی کو اندر بیٹھایا اور روم باہر سے لاک کیا، 
 باقی بچے کہا ہے بتا حیدر نے اس کا ایک ہاتھ پیچھے کو موڑا جس سے اس کی چیخ نکل گئی، 
تمہیں کیا لگتا میں بتا دوگا بچے کہا ہے ہاہاہا کبھی نہیں سعد نے ہنستے ہوئے کہا حیدر نے اپنی پسٹل اپنے پیچھے رکھی اور اسے پنچ مارا جس سے وہ دور جاگرا،
وہ سب آدمی فائر کرنے لگے بلال احمد سوفے کے پیچھے صمد پلر کے پیچھے چھوپ کے جوابی کاروائی کر رہے،حیدر سعد تک بڑھتا اس سے پہلے اس کے پیر کے پاس ایک آدمی فائر کرنے لگا حیدر جھمپ مار کے وہاں سے غائب ہوگیا وہ آدمی بھی حیدر کو دیکھ رہا جو غائب ہوچکا تھا،
******************
حیا نے بےبی پنک کلر کی فراک پہنی اور بالو کی اونچی پونی بنالی اور اسکاف باندھ لیا اسے تو یہ بھی نہیں پتا تھا اتنی رات کو وہ کہا جارہے، 
روہان بلکل تیار روم میں آیا بیگ کہا ہے تمہارا روہان نے ایک نظر اسے دیکھا میکپ سے پاک چہرا گلابی رنگت اس کی معصومیت اسے دیکھتے رہنے پر مجبور کرتی تھی،بیگ___کیوں حیا نے تھوڑا ڈرتے ہوئے پوچھا، 
میں نے سوال کرنے کو نہیں کہا بتاوُ کہا ہے بیگ روہان نے واپس پوچھا اس بار اس کے لہجے میں ایسی سکتی تھی کے حیا ڈر گئی__وہ_ _رہا حیا نے اپنے بیگ کی طرف اشارا کیا، 
چلو اب روہان اسے لیے باہر آیا اس کا اور اپنا بیگ گاڑی میں رکھوایا،اور گاڑی زن سےبھگا لے گیا
*****************
پیچھے کے راستے سے میجر رفیق اور میجر عدنان اندر جارہے تھے کے ایک جگہ انہیں دو گارڈ کھڑے ہوئے نظر آئے عدنان نے رفیق کو اشارہ کیا دونوں دیوار کی اوٹ میں چھوپ گئے عدنان نے تھوڑا سا جھانک کے اس طرف دیکھا میجر رفیق یہ شاید گودام ہے کوئی عدنان نے سامنے دیکھتے ہوئے آہستہ آواز میں رفیق سے کیا
پھر تو ہو سکتا ہے بچے یہاں ہوں رفیق نے بھی اپنی آواز کو آہستہ رکھا،عدنان نے ہاں میں سر ہلایا اور اسے اشارا کیا دونوں ایک دم سامنے آئے اور گارڈ پر فائر کھول دیا دونوں گارڈ جہنم وصل ہوگئے،
عدنان آگے آیا نیچے کی طرف سڑیا جا رہی تھی رفیق کو اس نے اشارہ کیا،سر نیچے گیٹ پر تالا ہے رفیق نے نیچے پہنچ کر عدنان سے کہا،
عدنان نے جھک کے دونوں گارڈ کو چیک کیا ایک کی جیب سے اسے چابی مل گئی وہ چابی لیے نیچے کی طرف بڑھا اس نے چابی رفیق کو دی اس نے تالا کھولا،
چررر کی آواز کے ساتھ دروازا کھولتا چلا گیا اندر مکمل آندھیرا تھا دونوں نے اپنی اپنی ٹارچ اون کی،چھوٹے چھوٹے بچے دروازا کھولنے سے دیوار سے چپک گئے تھے کچھ فرش پر بے ہوش تھے جو ہوش میں تھے وہ ڈر سے کانپ رہے تھے،
عدنان آگے آیا سامنے ہی پری کی عمر کی ایک بچی آنکھوں میں خوف لیے اسے دیکھ رہی تھی عدنان کے پاس آنے سے وہ اور پیچھے ہوگئی نہیں__مجھے انجیکشن__نہیں__لگانا_بچی روتے ہوئے نفی میں سر ہلانے لگی،یہ سب دیکھ کے عدنان نے اپنے ہونٹ بہنچ لیے اس کی پری بھی ایسے ہی روئی ہوگی یہ سوچ کے عدنان کی آنکھ سے آنسوں کا ایک قطرا نکل کر گالوں پر جزب ہوگیا،
بیٹا آپ لوگ ڈروں نہیں ہم آپ سب کو گھر لے جانے آئے ہیں عدنان کو چپ دیکھ کے رفیق نے ہی سب بچوں کو تسلی دی،تو ٹھیک ہے نا عدنان رفیق نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا،
پری!!!!عدنان نے سامنے موجود بچی کی طرف اشارا کیا اس وقت اس کی آنکھیں نم تھی وہ اپنی گڑیا کو ان ظالموں سے نہیں بچا پایا تھا،رفیق نے افسوس سے اسے دیکھا،
تو فکر نہیں کر پری تو اپنی جنت میں ہے یہاں دیکھ پری جیسے کتنے بچے ہے تو نے ایک نہیں بلکہ بہت سی پری کو بچایا ہے،رفیق نے اسے تسلی دی،ہاں تو سہی کہے رہاں ہے ایسا کر تو بچوں کے پاس رک سب ڈرے ہوئے ہیں میں اندر جاکے دیکھتا یوں اب تک تو اندر جنگ چھڑ گئی ہوگی عدنان کے کہنے پر رفیق نے ہاں میں سر ہلایا،عدنان ایک نظر سب بچوں کو دیکھتا ہوا باہر چلا گیا اب اس کا رُخ گھر کے اندر تھا
*****************
یہ کہا گیا وہ___آدمی بولتے ہوئے یہاں وہاں دیکھ رہاں جب پیچھے سے حیدر نے اس کی گردن پکڑ کے مروڑ دی
حیدر نے اس آدمی کو اپنے سامنے کیا اور سب پر فائر کھول دیا وہ سب آدمی بھی جوابی کاروائی کر رہے تھے پر حیدر کی جگہ سب گولی اس آدمی کو لگ رہی جیسے حیدر نے پہلے ہی مار کر اپنے سامنے کھڑا کیا ہوا تھا، تقریباً سب آدمی جہنم وصل ہوگئے تھے،
احمد ایک آدمی کی گردن توڑ رہا جب پیچھے سے ایک گولی اکر اسے لگی جس سے احمد دور جاگرا پر اس آدمی کی گردن وہ توڑ چکا تھا احمد!!!!!!بلال نے دور سے یہ منظر دیکھا اور اسی وقت اس آدمی کو گولیوں سے بھون دیا اور بھاگتا ہوا احمد کے پاس آیا جب تک احمد سمبھل چکا تھا،
تو ٹھیک ہے نہ بلال نے اس سے پوچھتے ہوئے اسے اچھے سے دیکھا گولی بس ہاتھ پر سے چھو کے گئی تھی،احمد ٹھیک ہے یہ دیکھ کے اسے کچھ سکون ملا پر اس کے ہاتھ پر بہتا ہوا خون اسے غصہ دلا گیا وہ ایک دم کھڑا ہوا اور اس آدمی کے پاس جاکے دو تین گولیا اور ماری جو کے پہلے ہی مرا ہوا تھا احمد نے حیرت سے یہ منظر دیکھا اسے کیا ہوا، 
 سر سب بچے پیچھے گودام میں ہیں کچھ بے ہوش ہے کچھ ہوش میں میجر عدنان نے حیدر کو دیکھتے ہوئے دو آدمی کو گولی سے بھون دیا اور حیدر کی طرف بڑھا اب حیدر کی پیٹھ سے پیٹھ ملاکے وہ دونوں مل کے فائر کر رہے تھے،سب آدمیوں کو جہنم میں پہنچا کے اب وہ لوگ سعد کو ڈھونڈ رہے تھے 
پر سعد غائب تھا حیدر بلال احمد سب اسے تلاش کر رہے لڑائی میں سعد کب غائب ہوا انہیں معلوم نہیں ہوا،
سررر عدنان بولتا ہوا حیدر کے سامنے آیا اور ایک گولی عدنان کے دل کے پاس لگی حیدر نے عدنان کو سمبھالا اور سامنے دیکھا جہاں دونوں ہاتھوں میں پسٹل لیے سعد سڑیوں سے نیچے آرہا تھا،
میجر عدنان!!!! حیدر نے اسے پکڑ کے بیٹھایا،تمہیں کیا لگا میں اتنی آسانی سے تمہارے ہاتھ آجاوُ گا سعد نے شولا برساتی نظروں سے ان سب کو دیکھا جب بلال اور احمد ایک ساتھ اوپر کی طرف بڑھے سعد نے ان کے پیروں کے پاس فائر کی،نہ نہ غلطی نہیں کرنا پاس آنے کی اگر زندگی پیاری ہے تو سعد نے ہنستے ہوئے کہا،
احمد اور بلال نے ایک دوسرے کو دیکھا ان دونوں کو اپنی جان کی پروا نہیں تھی پر ایک دوسرے کی پروا تھی،سعد آرام آرام سے سڑیا اتر رہا،تم سب میری جوتی تک بھی نہیں پہنچ سکتے سعد نے ان سب پر طنز کیا،
سعد نے نیچے پہنچ کر گن بلال کی طرف کی تو تھا نا جس نے مجھ سے اونچی آواز میں بات کی سعد نے گن بلال کے ماتھے پر رکھی جسے دیکھ کے سب کے چہرے پر غصہ آگیا،
چھوڑ دے اسے ورنہ بہت پچھتائے گا حیدر کی آواز پر اس نے نیچے دیکھا جہاں عدنان کا سر گود میں لیے وہ نیچے بیٹھا تھا اور عدنان کی آنکھیں بند تھی،تو میرے قدموں میں بیٹھا اور آواز اتنی اونچی اس نے گن حیدر کی طرف کی،
گن سے کیا بات کر رہا آجا ہمت ہے تو ہاتھوں سے بات کر احمد کی آواز پر اس نے گھوم کے احمد کی طرف دیکھا جو اسے غصے سے دیکھ رہا تھا،اب اس نے گن احمد کی طرف کی،
تجھے میں کیسے بھول سکتا اوپر سے تو نے ہی حملہ کیا تھا نا سعد بولتے ہوئے احمد کے پاس آیا ایک گن اس نے سب کی طرف کی ہوئی ایک احمد کی طرف،سب سے پہلے تو جائے گا اور ان سب کے آنے کی تیاری کرے گا،سعد نے مسکراتے ہوئے احمد کو دیکھا،
اپنی بکواس بند رکھ اپنی اوکات کے حساب سے بات کر لفظ اتنے ہی بول جتنی مار کھاسکے بعد میں بلال نے اس کی آنکھوں میں دیکھ کے چبا چبا کر کہا،تو مجھے مارے گا سعد نے ایک ائی برو اُٹھا کے بلال کو دیکھا،
 تو یہاں کسی کو ہاتھ بھی لگا کر دیکھا حیدر کی آنکھوں سے اس وقت خون ٹپک رہا تھا جیسے آنکھوں کی تپش سے ہی سعد کو جُھلسا کے ختم کردے گا،
واہ بھئی بہت پیار ہے سب کو ایک دوسرے سے سعد نے بولتے کے ساتھ ہی گن احمد کی طرف کی
 ٹھاااا
محل نما کوٹھی میں چاروں طرف گولی کی آواز گھوم گئی حیدر اور بلال نے ایک دم آنکھیں بند کرلی احمد کو گولی لگنے کا خیال ہی جان لیوا تھا تو آنکھوں سے یہ منظر دیکھنا



No comments:

غازی از ابو شجاع ابو وقار قسط نمبر60 Ghazi by Abu Shuja Abu Waqar

Ghazi  by  Abu Shuja Abu Waqar  غازی از ابو شجاع ابو وقار  پیشکش محمد ابراہیم 60 آخری قسط نمبر  Ghazi by Abu Shuja Abu...

Powered by Blogger.