غازی از ابو شجاع ابو وقار قسط نمبر 14 Ghazi by Abu Shuja Abu Waqar
Ghazi
by
Abu Shuja Abu Waqar
غازی از ابو شجاع ابو وقار
پیشکش محمد ابراہیم
قسط نمبر14
Ghazi by Abu Shuja Abu Waqar
Presented By Muhammad Ibraheim
Episode 14
دوکاندار نے عبدالکریم کے متعلق یہ بتایا کہ اس کے والدین کے فوت ہونے کے بعد لوگ بجائے عبدالکریم یتیم ہوگیا تھا سہہارا دینے کے اس کے گھر کا بچا کھچا سامان بھی اٹھا کر لے گئے تھے اور عبدالکریم بلکل بے آسرا اور بے سہارا ہو گیا تھا عبدالکریم کے والد سے دوستی ہونے کیوجہ سے اس نے عبدالکریم کو نہ صرف سہارا دیا بلکہ پڑھایا بھی سکول سے واپسی کے بعد عبدالکریم اس کے ساتھ دوکان میں ہاتھ بٹاتا تھا میٹرک کے بعد عبدالکریم مزید تعلیم حاصل کرنا چاہتا تھا لیکن وہ دوکاندار مزید اخراجات برداشت کرنے کا متحمل نہیں تھا لہذا سال بھر دوکان پر ہی کام کرتا رہا جونہی اسے موقع ملا فوج میں بھرتی ہو گیا دوکان دار نے عبدالکریم کے متعلق جاننے کی وجہ پوچھی تو میرے ساتھیوں نے کہا کہ عبدالکریم کی ان کے خاندان سے شادی کی بات چیت چل رہی ہے اور اسی سلسلے میں وہ یہاں آے ہیں دوکاندار نے کہا کہ عبدالکریم ایک انتہائی شریف اور نواب خاندان کا چشم و چراغ ہے سواء غریبی اور یتیمی کے اس میں کوئی نقص نہیں دوکان دار نے یہاں تک کہا کہ اسکی کوئی بیٹی ہوتی تو وہ اسکو عبدالکریم کے ساتھ بیاہنے میں فخر محسوس کرتا الغرض عبدالکریم کی بتائی ہوئی سب باتوں کی تصدیق ہو چکی تھی اور اب مجھے اس کا تعاون حاصل کرنے کے لیے منصوبہ بندی کرنی تھی ابھی تک عبدالکریم کا جو خاکہ میرے ذہن میں تھا وہ ایک خاندانی بے آسرا تنہا مسلمان بھارتی سپاہی کا تھا جو اپنے افسران کی مسلسل گالی گلوچ اور سخت روئیے پر شاکی تھا یہ اس خاکے کا پازیٹو پوز تھا دوسرا رخ نیکیٹیو تھا وہ کچھ یوں تھا کہ وہ اپنی ذاتی شکایات اور رنجش کے باوجود اپنے ملک کا خیر خواہ ہو سکتا تھا اسکی عزت نفس جو کچلی جا چکی تھی اسے باغی بنا سکتی تھی یا پھر اس ہوئی عزت کی بحالی کے لیے وہ ہمارے متعلق جان کر اپنے افسران کی نظر میں عزت اور بھارت ماتا کا سیوک بن سکتا تھا یہ دونوں کام ممکن تھے یہاں پاکستان میں ہی دیکھ لیئجیے کہنےکو تو ہم سب پاکستانی اور اک قلیل اقلیت کے سوا باقی ہم سب مسلمان ہیں لیکن. مادر وطن کی عزت حرمت اور بقا کو پیچھے دھکیل کر اپنی ذاتی مفاد آگے لانے والے وطن فروش اور غدار بھی موجود ہیں ورنہ بھارتی ٹینکوں پر بیٹھ کر آنے پاکستان کا قومی پرچم جو ہماری آزادی اور غیرت کا نشان ہے اسے مزار قائد پر نذر آتش کرنے والے پاکستان کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے والے اور اعلانیہ اس بات کا اعلان کرنے والے ابھی تک زندہ نہ ہوتے میں سمجھتا ہوں کہ ایسے غداروں کی باتیں سن کر بھی خاموش رہنے والے وطن کی محبت سے بہت اتنے ہی دور ہیں جتنے وہ غدار. سمجھ میں نہیں آتا ماں بہن کی گالی سن کر طیش میں آنے والے اور مرنے مارنے والوں کی غیرت اس وقت کیوں سو جاتی ہے جب کو مادر وطن کو گالی دیتا ہے شاید یہ وہ لوگ ہیں جنکو آزادی کی کوئی قدروقیمت نہیں اور وہ اپنی ملک میں درپیش مسائل کا حل غلامی میں سمجھتے ہیں یہ لسانی پارٹیاں یہ لسانی تنظیمیں چاہے اقتدار میں ہوں یا حزب اختلاف میں صرف اور صرف اپنے ذاتی مفاد میں لگی ہوئی ہیں کوئی بھی سیاسی پارٹی ہو یا ان کا منشور صرف ملک کو لوٹنے کے لیے ہوتا ہے پاکستان کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کی محافظ پاک آرمی کو صرف پے گارڈ کا درجہ دیتے ہیں انہوں نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ اپنی سے 8گنا بڑے دشمن کے سامنے نہ صرف کھڑے ہیں بلکہ ایک سیسیہ پلائی دیوار کی مانند ہیں دشمن کا اکھنڈ بھارت کا خواب چکنا چور ہو چکا ہے اور اسے خود اپنی بقا کے لالے پڑے ہوئے ہیں پاکستان میں دہشت گردی اور خودکش دھماکے کرنے والے اگر پاکستانی ہیں تو وہ یقیناً دشمن کے ایجنٹ ہیں عبرت ناک موت ان کا مقدر بن چکی ہے اور ان شاء اللہ بہت جلد ہم ان طاغوتی چوہوں سے نجات حاصل کر لیں گے اس الجھی ہوئی صورتحال میں میں نے اپنے ساتھیوں سے مشورہ کرنا بہتر سمجھا اور ان کے ساتھ میٹنگ میں یہ نکتہ جاننے کی کوشش کی دو ساتھیوں کا خیال تھا کہ رات کو عبدالکریم کو اٹھا لیا جاے اور اسے سمجھایا جاے یا ڈرایا جاے یا مجبور کیا جائے کہ وہ ہمارا ساتھ دے ورنہ اسے وہی ختم کر دیا جاے ایک ساتھی نے کہا کہ رات کو کرنل شنکر کے روم میں گھس کر اسے ہلاک کر دیا جاے اور اس کے کمرے سے بریف کیس اور اہم کاغذات اڑا لیے جائیں یہ دونوں تجاویز تھوڑی سی بحث کے بعد رد کر دی گئی پہلی اس لیے کہ عبدالکریم اپنی ذاتی حیثیت میں کوئی اہمیت نہیں رکھتا تھا اٹھاے جانے کے بعد وہ اپنی جان بچانے کے لیے ساتھ دینے کا وعدہ بھی کر سکتا تھا اور بعد میں اپنے نمبر بنانے کے لیے مکر بھی سکتا تھا کرنل کو اگر ہلاک کر دیا جاتا تو اس بات کی کیا ضمانت ہوتی کہ اس کے کمرے سے ملنے والے کاغذات کسی اہمیت کے حامل بھی ہوتے یا نہیں ان دو صورتوں میں بھارتی سیکیورٹی فورسز چوکس ہو جاتی اور سب سے پہلے میں پکڑا جاتا کیونکہ کرنل سے ملنے والوں میں میرا نام سرفہرست تھا
بآلاخر فیصلہ ہوا کہ ان دونوں پرسنز کو سٹینڈ 2 میں رکھ کر باقی ایکٹیوٹیز پر عمل کیا جاے اور ہیڈ کوارٹر میں داخلے کے لیے مزید رابطے تلاش کیے جائیں اب ہم نے فی الحال یشونت سپرینڈنٹ اور دو عیسائی سویپرز پر مرکوز کر دی اگلے روز ہم ہیڈ کوارٹر سے چھٹی کے ٹائم پر قریبی بس اسٹاپ پر پہنچ گئے ہم یشونت کے ساتھ ایک ہی بس میں سوار ہو گئے اور میں نے اس کا گھر بھی دیکھ لیا میں نے اپنے دو ساتھیوں کو صفائی والوں کے پیچھے لگا دیا تھا کہ ان سے واقفیت پیدا کریں اور اس طرح دفتر کے بعد ان کی سرگرمیوں کا پتہ کریں اور ضرورت پڑنے پر ان کے ساتھ شامل بھی ہو جائیں. دوسرے ساتھیوں کی ڈیوٹی لگائی کہ دفتر کے یشونت کی نگرانی (survillance) کریں اور جس دن وہ گانا سننے جاے ایک اس کا پیچھا کرتا رہے تاکہ اس بالاخانے کی نشاندہی ہو سکے جہاں یشونت موجود ہو اور دوسرا ساتھی مجھے انفارم کرنے کے لیے چاوڑی بازار کے شروع میں ایک ریسٹورنٹ میں آے جہاں میں شام 7 بجے موجود ہوں گا یہ مہینے کی شروع کی تاریخیں تھیں اور مجھے زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا غالباً تیسری یا چوتھی شام تھی جب میرے ساتھی نے ریسٹورنٹ میں آ کر مجھے اشارہ کیا اور تھوڑی دیر تک ہم اس بالاخانے کے نیچے کھڑے تھے جس بالاخانے میں یشونت گیا تھا میں نے ایک ساتھی کو رخصت کیا کیونکہ اس شام میرا پروگرام صرف یشونت سے ملنا اور تعلقات بڑھانا تھا میں بالاخانے کی سیڑھیاں چڑھ کر اس سجے سجاے کمرے میں پہنچ گیا جہاں ناچ گانا ہونا تھا نشست فرشی تھی چاروں طرف گاؤ تکیے سلیقے سے رکھے ہوئے تھے ابھی محفل شروع نہیں ہوئی تھی نائیکہ نے مجھے خوش آمدید کہا میں یشونت کی ساتھ والی نشست پر بیٹھ گیا چند منٹوں بعد مجھے نقری طشتری میں پان پیش کیا گیا میں نے پان اٹھا کر 20 روپے طشتری میں رکھ دئیے تھوڑی دیر بعد سازندے آ گئے اور اپنے سازوں کو درست کرنے لگے ابھی گانے کی تیاریاں ہو رہی تھیں کہ یشونت اور دو تین دوسرے لوگوں کے سامنے گلاس اور سوڈے کی بوتلیں آ گئیں یشونت نے جیب سے شراب کا آدھا نکالا دوسرے لوگوں کے لیے نائیکہ نے پچھلے کمرے سے شراب کی بوتلیں منگوا لیں بڑے ادب سے نائیکہ نے مجھ سے پوچھا کہ میں کیا شوق کروں گا ہمارے پاس آپ کی خدمت کرنے کے لیے سکاچ وہسکی اور اعلی قسم کی شراب موجود ہے آپ حکم کریں میں نے اسے کہا کہ آج میں پینے کے موڈ میں نہیں ہوں اس لئے صرف ٹھنڈا مشروب پئوں گا اور تھوڑی دیر میںیرے سامنے کوکا کولا کہ دو یخ بستہ بوتلیں رکھ دی گئیں نائیکہ نے کہا کہ آپ نے فرمایا تھا کہ آج موڈ نہیں جس کا مطلب کہ آپ پیتے ضرور ہیں اس لیے مجھے امید ہے کہ آپ کا موڈ بن جاے گا اس لیے جب بھی موڈ بنے بلا جھجک طلب فرما لیجیئے گا
محفل کا آغاز نیم کلاسیکی گانوں سے ہوا یشونت اس دوران اپنے ادھے کا آدھا حصہ پی چکا تھا میں یشونت پر کڑی نظر رکھے ہوئے تھا کہ اسکی نظر کرم کس طوائف پر ہے نیم کلاسیکی موسیقی کا دور ختم ہوا اس دوران 3 نوجوان طوائفیں اپنے پیروں میں گھنگرو باندھنے لگیں یشونت نے بوتل میں بچی ہوئی ساری شراب گلاس میں انڈیلی اور تھوڑا سا پانی ملایا اور غٹا غٹ پی گیا ان 3نوں طوائفوں نے تمام تماشبینوں کے درمیان آ کر فرشی سلام کیے ابھی وہ طبلے اور سازندوں کے ساتھ قدم ملا رہی تھی کہ یشونت نے اپنی دوسری جیب سے ایک اور ادھا نکالا وہ بھارت کی بنی ہوئی شراب رم کی ایک قسم تھی چونکہ بوتل گول اور ادھے چپٹے بنے ہوتے ہی ہیں اس لیے بآسانی جیب میں آ جاتے ہیں یشونت نے دوسری بوتل سے کچھ شراب گلاس میں انڈیلی پانی ملایا اور چڑھا گیا اب وہ پوری طرح سے نشے میں چور تھا جب گانا شروع ہواتو ویل ایک روپے کی تھی ناچنے والی تینوں لڑکیوں نے رقص شروع کر دیا ان تینوں کے قدم اور رقص کے زاویے ایک دوسرے سے اتنے ملے ہوئے تھے کہ وہ ایک ہی جسم کے تین حصے دکھائی دیتی تھیں ان کے رقص نے محفل کو گرما دیا ویل اب ایک روپے سے 5روپے تک پہنچ چکی تھی مجھے چونکہ وہاں یشونت کو اپنی طرف متوجہ کرنا اور طوائفوں پر اپنی امارت کا رعب بھی ڈالنا تھا لہذا میں نے 10 روپے کی ویل شروع کر دی بالاخانے کا رواج ہوتا ہے کہ جو زیادہ ویل پیش کرے اسی کے سامنے ناچنا اور ناچتے ہوئے بیٹھ کر ویل لینا ہوتا ہے 10 روپے کی ویل پر دوسرے تماشائی کچھ چونک سے گئیے اور میں نے روپے روپے کے 10 نوٹوں کے دس پیکٹ بنا کر ویل دینی شروع کر دی لیکن ویل دینے میں وقفہ بڑھا دیا یہی وقت تھا جب مجھے فرسٹ امپریشن از دی لاسٹ امپریشن کے مصداق اپنی امارت کا رعب جمانا تھا میں نے ویل 20 روپے کی کر دی بالاخانے کا اصول ہے دو یا دو سے زیادہ افراد اگر ویل پیش کریں تو ان میں زیادہ پیسوں کی ویل دے طوائف اس کے پاس پہلے آتی ہے میں اپنے ہمراہ خاصی رقم لے کے گیا تھا 20 روپے کی ایک گڈی کے علاوہ 100 روپے کے 60 نوٹ میرے پاس تھے بیک وقت یشونت نے اور میں نے یشونت کی مخصوص طوائف کر ویل دینے کے لیے اشارہ دیا میرے پاس 20 کا نوٹ تھا اور یشونت نے 10 کا نوٹ آگے کیا ہوا تھا طوائف سیدھی میرے پاس آئی اور ٹھمکے دکھا کر نوٹ لے کر اٹھنے لگی تو میں نے 20 کا ایک اور نوٹ اس کے آگے کر کے اسے بٹھا لیا 20 والے نوٹوں کی گڈی میں نے اپنے سامنے رکھی ہوئی تھی ایک کے بعد ایک نوٹ نکال کر طوائف کو اٹھنے نہیں دے رہا تھا یشونت نے اپنا ہاتھ جس میں 10 کا نوٹ پکڑا ہوا تھا پیچھے کر لیا میں نے اپنا سلسلہ جاری رکھا یشونت مایوس ہو کر اٹھنے لگا تو میں نے بازو سی پکڑ کر اسے بٹھا لیا اور کہا یشونت بابو یہ کیا وہ ایک اجنبی کے منہ سے اپنا نام سن کر کچھ حیران سا ہوا میں نے بے تکلفی سے اپنا ایک بازو اس کی کمر میں ڈال کر اسے اپنے قریب کر لیا اور دوسرے ہاتھ سے ویل پہلے یشونت کے سر پر رکھی اور پھر اس کے ماتھے اور گالوں پر رکھ کر دینی شروع کر دی طوائف کا کیا تھا اسے تو نوٹ اکھٹے کرنے تھے میری دی ہوئی ویلیں طوائف یشونت کے سر اور گالوں سے چٹکیاں بھر بھر کر لے رہی تھی شراب کے نشے میں مدھوش یشونت نے ایک دو بار رسمی طور پر مجھے روکنے کی کوشش کی مگر پھر محبوبہ کی ٹھمکے اورقربت نے اسے بےبس کر دیا اس دوران دوسری دو طوائفیں مسلسل ناچ رہی تھیں اور بے دلی سے دوسرے تماشبینوں کی دی ہوئی ویلیں لے رہی تھیں کچھ تماشبین مقابلے کی سکت نہ رکھتے ہوئے اٹھ کر جا چکے تھے سازندوں نے بھی اس دوران نیو دھن شروع کی لیکن میں یشونت کی محبوبہ کو اس کے سامنے سے اٹھنے نہ دیا اگر میری ویل کا وقفہ 45 سیکنڈ بھی لگایا جاے تو میں نے یشونت کی محبوبہ کو ایک گھنٹہ سے زیادہ اس کے سامنے بٹھاے رکھا دوسری دو طوائفیں ناچ ناچ کر بے حال ہو چکی تھیں میری گڈی میں صرف چار پانچ نوٹ باقی رہ گئے تھے تو میں نے 100 روپے کے 20 نوٹ نائیکہ کو مخاطب کر کے اسکی طرف پھینک دیئے اس سے پہلے کہ میرے چار پانچ نوٹ ختم ہوتے 20 روپے والی گڈیاں میرے سامنے رکھی جا چکی تھی نائیکہ نے اب مجھ سے اکٹھی رقم اینٹھنے کے لیے رقص بند کروا دیا اور ایک طرح کا وقفہ ہو گیا نائیکہ نے سب سے کھانے کا پوچھا میں نے سیکھ کباب اور پراٹھے منگواے یشونت نے بھی کباب اور پراٹھے منگواے میں نے ایک ہزار نائیکہ کی طرف اچھالتے ہوے کہا کہ میں اور یشونت اور اسکی محبوبہ کھانا اکھٹے پچھلے کمرے میں کھائیں گے نائیکہ نے حامی بھر لی ہم تینوں نے پچھلے کمرے میں کھانا کھایا کھانے کے بعد اب محفل کا دوسرا حصہ شروع ہونا تھا یشونت اتنی زیادہ پی چکا تھا کہ لڑکھڑا کر کبھی ادھر گرتا اور کبھی ادھر میں نے نائیکہ کو کہا کہ ان کی طبیعت ٹھیک نہیں رہی اس لیے ہم چلتے ہیں یہ کہتے ہوئے میں نے نائیکہ کو مزید 500 روپے دئیے اور یشونت کو سنبھالتے ہوے نیچے آ گئے میرا ساتھی ریسٹورنٹ میں میرا منتظر تھا میں نے اسے ٹیکسی لانے کو کہا جلد ہی ٹیکسی آ گئی چاوڑی بازار کے پیچھے تنگ گلیوں میں جسم فروشی کا دھندہ ہوتا تھا میں نے وہاں ٹیکسی روکی یشونت تو ٹیکسی میں ہی خراٹے بھرنے لگا تھا میں اس گلی میں گیا گلی میں ایک ہیڈ کانسٹیبل اور ایک سپاہی پہرے پر کھڑے تھے میں نے ان کی طلبی نگاہ بھانپ کر 50 روپے ہیڈ کانسٹیبل کی مٹھی میں رکھ دئیے اس نے مسکراتے ہوئے مجھے جانے کا گرین سگنل دے دیا میں نے ایک گلی کا ایک سرے سے دوسرے سرے تک چکر لگایا اور ایک جوان اور صاف ستھری عورت کے پاس گیا چھوٹے موٹے غلیظ کمروں می صرف آٹھ دس ہی کھلے تھے
باقی سب بند تھے میں اس عورت کے قریب گیا تو وہ بولی ایک گھنٹے کا 30 روپیہ لوں گی میں نے کہا 300 دوں گا اور ایک گھنٹے میں واپس بھی چھوڑ جاؤں گا وہ کچھ سوچنے لگی میں نے کہا 500 سو دوں گا اس نے دلاورے نام کے کسی مرد کو بلانے کے لیے آواز دی اور میری آفر بتائی دلاورے بولا کہاں لے جانا ہے میں نے کہا دریا گنج اس نے کہا کوئی چکر ہے میں نے جواب دیا ہاں ایک ہندو کو جس نے کئی مسلمان لڑکیوں کو خراب کیا ہے اسے رسوا کرنا ہے اس نے کہا آپ مسلمان ہیں میں نے کہا ہاں اس نے کہا ثبوت میں نے کہا کہ کمرے میں آو ثبوت دیکھتا ہوں ثبوت دیکھنے کے بعد وہ مطمئن ہو گیا اس نے کہا کہ آپ نے ادھر ادھر کی بات کرنے کی بجاے سچی بات کی ہے آپ مجھے بھلے آدمی لگے ہو میں زری کو آپکے ساتھ بھیج دیتا ہوں ایک گھنٹہ کی بجاے آپ اسے بے شک صبح تک اپنے پاس رکھیں مگر صبح تک واپس چھوڑ جائیں اور ایک بات ایک سے زیادہ آدمی اس کے پاس نہ جائیں میں نے اسے کہا کہ ایک آدمی بھی نہیں جاےگا ہمیں بس اس ہندو کو رسوا کرنا ہے اور بس اس نے زریں کو میرے ساتھ جانے کا کہا اور خود کمرے کے اندر چلا گیا زریں پانچ منٹ میں میک اپ درست کر کے باہر آ گئی اور میں اسے لے کر گلی سے باہر آگیا ڈرائیور کے ساتھ اگلی سیٹ پر میں بیٹھ گیا پچھلی سیٹ پر یشونت ساتھ زری اور ساتھ میرا ساتھی بیٹھ گئے میں نے اسے دریا گنج جانے کا کہا دریا گنج جانے کے راستے میں کوئی آبادی نہ تھی صرف درخت اور جھاڑیاں تھیں میں نے ڈرائیور سے کہا کہ وہ ادھر رک جاے اپنے ساتھ کو میں نے سوے ہوے یشونت کو جھاڑیوں کے پیچھے لے جانے کا کہا اور زری کو بھی اس کے پیچھے جانے کا کہا ڈرائیور کو میں نے 100 کا نوٹ دے کر کہا کہ گاڑی کا بونٹ اٹھا کر یوں کھڑے ہو جاؤ جیسے انجن خراب ہو گیا ہے ہم پندرہ بیس منٹ میں واپس آتے ہیں وہ ہنسنے لگا اور باؤ جی صرف 20 منٹ جاؤ باؤ جی موج کرو موج خالصا تواڈا ایتھے چار گھنٹے وی انتظار کر لوے گا چاوڑی بازار اور پھر جسم فروشی کے اڈے سے ایک عورت کو ساتھ لاتے ہوئے وہ ہمارے ارادے کو سمجھ گیا تھا میں ہنسا اور اس کے ہاتھ پر ہاتھ مار کر خود بھی جھاڑیوں کے پیچھے چلا گیا یشونت نشے میں چور زمین پر ڈھیر پڑا تھا میرے ساتھی کو بھی علم نہ تھا کہ میں کیا کر رہا ہوں میں نے اسے یشونت کے سارے کپڑے اتارنے کا کہا ادھر زری کو بھی کہا کہ وہ بھی ادھر آوٹ میں اپنی سارے کپڑے اتار دے 5 منٹ میں دونوں کپڑوں سے آزاد ہو چکے تھے میرا ساتھی اور میں دونوں مسلح تھے میرے ساتھی کے پاس 2 ہزار روپے تھے میں نے اس سے ساری رقم لے لی اور اپنے بھی سارے نوٹ نکال کر یشونت کے ہاتھ میں پکڑا دئیے یشونت کو میرے ساتھی نے زمین پر بیٹھے بیٹھے کھڑا کر کے سہارا دیا میں نے زری سے کہا کہ وہ یشونت کے بلکل ساتھ کھڑی ہو کر یشونت کے سینے پر اپنا سر رکھ دے اب پوز کچھ یوں تھا کہ دونوں بلکل ننگے جھاڑیوں کے پیچھے کھڑے تھے زری اس کے ساتھ لپٹی ہوئی تھی اور یشونت نے اپنا ہاتھ اس کے پیچھے سے نکال کر اس کے جسم کے سامنے رکھا ہوا تھا میں نے ساتھی سے کیمرہ لے کر اس پوز میں اور کئی دوسرے پوزیشنز میں 12 تصویریں لے لیں اس کے بعد نوٹ میں یشونت کے ہاتھ سے لے کر اپنے پاس رکھ لیے ساتھی نے یشونت کو کپڑے پہنے زری نے اپنے کپڑے پہنے اس کام سے فارغ ہو کر ہم جب ٹیکسی کے پاس گے تو تقریباً اس سارے کام میں 30 منٹ لگے تھے
جاری ہے

No comments: