ﻧﺎﻭﻝ سنائپر از ریاض_عاقب_کوہلر قسط نمبر62 Novel Snipper by Riaz Aqiz Koahler Episode
ﻧﺎﻭﻝ سنائپر
از
ریاض_عاقب_کوہلر
Novel Snipper
by
Riaz Aqiz Kohler
Episode 62
ﻧﺎﻭﻝ سنائپر
از
ریاض_عاقب_کوہلر
62 قسط نمبر
سنائپر
قسط نمبر 62
ریاض عاقب کوہلر
”سچ کہہ رہی ہوں ۔“جینی کھل کھلائی ۔”کیا یقین نہیں آرہا ۔“
”ہاں ۔“میں نے صاف گوئی سے اقرار کیا ۔
”ذی ،حقیقت تو یہ ہے کہ میں اتنی جلدی ان ثبوتوں تک رسائی نہیں پا سکتی تھی ،یہ کرنل جیمس میتھونی کی مہربانی ہے کہ کل جاتے ہی انھوں نے کرنل کولن فیلڈ کی جگہ کیمپ کی قیادت سنبھالی اور سب سے کام یہی کیا کہ تمھاری بے گناہی کے ثبوت میرے حوالے کر دیے ۔“
”جینی !....اگر یہ سچ ہے تو میں بغیر کسی تاخیر کے انھیں حاصل کرنا چاہوں گا ۔“
وہ اعتماد سے بولی ۔”کہاں پہنچاﺅں ۔“
”وہی پرانا ہوٹل بہتر رہے گا ۔“
”نہیں ،اس مرتبہ کسی اچھے ہوٹل میں ملیں گے ،اکھٹے بیٹھ کر کھاناکھائیں گے تھوڑی دیر گپ شپ کریں گے اس کے بعد تم یوں بھی ہمیشہ کے لیے بچھڑ جاﺅ گے ۔“آخری الفاظ کہتے ہوئے اس کی آواز بھرا گئی تھی ۔
”ٹھیک ہے ۔“میں نے فوراََ حامی بھری ۔
اس نے ایک مشہور اور اچھے ہوٹل کا نام لیتے ہوئے کہا ۔”کل دوپہر میں کمرہ نمبر پندرہ میں تمھاری منتظر رہوں گی ۔“
میں نے دوبارہ۔” ٹھیک ہے ۔“کہہ کر رابطہ منقطع کر دیا ۔
اگلے دن دوپہر کو میں اس کے سامنے بیٹھا تھا ۔ہٹ دھرمی کا اظہار کر کے اس نے لیپ ٹاپ کھولا اور وہ تمام وڈیو دکھانے لگی جن کے شروع اور آخر میں ان کی اپنی باتیں اور منصوبے تھے جو وہ مجھے قابو میں کرنے کے لیے بنا رہے تھے ۔دو تین وڈیو دیکھ کر میں نے کہا ۔
”ٹھیک ہے جینی ،یہ لیپ ٹاپ میں لے جاﺅں گا ۔“
”اس یو ایس بی میں تمام ڈاٹا ڈال دیا ہے ۔“اس نے ایک یو ایس بی میرے جانب بڑھائی ۔
یو ایس بی پکڑتے ہوئے میں نے کہا ۔”لیپ ٹاپ بھی لے جاﺅں گا ۔“
وہ ہنسی ۔”بے شک مجھے بھی لے جاﺅ ۔“
میں نے طنزیہ لہجے میں کہا ۔”ویسے شرم کی بات ہے کہ تمھارے سامنے وہ میرے خلاف منصوبے ترتیب دیتے رہے اور تم نہ صرف آرام سے وہ سب کچھ سنتی رہیں بلکہ اپنے قیمتی مشوروں سے بھی انھیں نوازتی رہیں اور مجھے اشارہ تک نہ دیا ۔“
وہ ہنسی ۔”صحیح کہا اور میں اپنے فعل پر بالکل بھی شرمندہ نہیں ہوں ۔“
”گویا مجھ سے پہلے تمھاری ذمہ داریاں ہیں ۔“
”نہیں تم سے پہلے اور تم سے بعد بھی تم ہی ہو ۔“
”جھوٹ بولنے کی بھی کوئی حد ہوتی ہے ۔“میں سچ مچ خفا تھا ۔
”ذی ،ایسا میں نے ملک و قوم کے لیے نہیں اپنے لیے کیا تھا ،میرا خیال تھا کہ شاید اس طرح تم امریکہ جانے کے لیے تیار ہو جاﺅ اور سچ کہوں تو تمھیں بلیک میل کرنے کے منصوبے میں میں پیش پیش تھی ۔“اس نے صاف گوئی سے اعتراف کیا ۔
”تو وزیرستان میں آخری ملاقات کے موقع پر جب میں نے کسی بھی صورت امریکہ کے لیے کام کرنے سے انکار کر دیا تھا ،تب بھی تم نے یہ مواد میرے حوالے کیوں نہیں کیا ۔“
”اس وقت تمام مواد البرٹ بروک کے پاس تھا ،مجھ سے غلطی یہ ہوئی تھی کہ اسے میں نے اپنے اور تمھارے بارے سب کچھ سچ بتا دیا تھا اور اس کے بعدتمھارے معاملے وہ مجھ پر اعتبار نہیں کرتا تھا۔“
”اچھا جانے دو اس بحث کو ،اب ارادہ کیا ہے ۔“
اس نے انکشاف کیا ۔”مہینے ڈیڑھ تک واپس جا رہی ہوں اورجاتے ساتھ شادی کا ارادہ ہے۔“
میں نے مزاحیہ انداز میں کہا ۔”مجھے کیوں سنا رہی ہو ۔“
”سنا نہیں رہی آخری موقع دے رہی ہوں ،اب بھی وقت ہے مجھے روک سکتے ہو ۔“
”کیا فائدہ ،مجھ سے شادی کرنے کے ایک ماہ کے اندر تم اپنے فیصلے پر پچھتانا شروع کر دو گی۔ ہم مشرقی لوگ اپنی بیوی کو اتنی آزادی نہیں دے سکتے جو تمھارے ہاں میسر ہے ۔“
وہ پرجوش لہجے میں بولی ۔”میں پابندی برداشت کر لوں گی ۔بلکہ ایسا ہے کچھ عرصہ میرے ساتھ رہ کر دیکھ لو اگر تمھارے معیار پر پوری نہ اتری تو بے شک شادی نہ کرنا ۔“
”بغیر شادی کے لڑکی ،لڑکے کا اکٹھے رہنا بھی تمھاری ثقافت ہے ،ہمارے ہاں ایسا کچھ نہیں ہوتا ۔“
وہ طنزیہ انداز میں بولی ۔”تم اور پیلاوشہ بھی تو شادی سے پہلے اکٹھے رہتے رہے ہو ،تمھارا کیا خیال ہے میں کچھ نہیں جانتی ۔“
میں جلدی سے بولا ۔”تمھارے پاس نہایت غلط معلومات ہیں ،پلوشہ اور میرے اکٹھا رہنے کا مقصد قبیل خان کا خاتمہ تھا ۔“
وہ وثوق سے بولی۔”ممکن ہے ایک وجہ یہ بھی ہو ،لیکن بھول گئے کیسے پیلاوشہ کے ایک بار پکارنے پر بھاگے چلے آئے تھے ۔مانو یانہ مانو تمھارے دل میں پہلے سے اس کے بارے میں ایسے خیالات موجود تھے ۔“
میں اسے جھڑکتے ہوئے بولا ۔”جب بات کا پتا نہ ہو تو خواہ مخواہ بکواس نہیں کی جاتی ۔“
وہ موضوع تبدیل کرتے ہوئے بولی ۔”اچھا دفع کرو ،یہ بتاﺅ ملنے آﺅ گے کہ نہیں ۔“
”کال پر بات کر لوں گا اور میرا خیال ہے اتنا کافی ہے ۔یوں بھی وہاں آکر تمھارے شوہر سے مار کھانے سے بہتر ہے میں آﺅں ہی نا ۔“
”بڑے آئے مظلوم ۔“اس نے میرا منھ چڑایا ۔اور میں قہقہہ لگا کر ہنس پڑا ۔
”ویسے کوئی دولھا ڈھونڈا بھی ہے یا واپسی ہی پر کچھ سوچو گی ۔“
”کئی مرد عندیہ دے چکے ہیں،بس ابھی جا کر کسی ایک کا انتخاب کرنا ہے ۔“
میں نے کہا ”تمھار ے لیے یہی بہتر ہے ۔کیونکہ ہماری شادی میں پلوشہ کے علاوہ بھی کئی رکاوٹیں ہیں۔“
” بالکل اور سب سے بڑی رکاوٹ ہے تمھاری ناپسندیدگی ۔“اس نے منھ بنایا ۔
میں نے جھلا کر کہا ۔”لڑکیاں چاہے کتنے بڑے عہدے پر کیوں نہ ہوں سوچنا انھوں نے دل ہی سے ہوتا ہے ۔ ہماری شادی میں جو قباحتیں ہیں ان کے بارے میں تمھیں تفصیل سے آگاہ کر چکا ہوں اس کے باوجود تم یہی سمجھتی ہو تو بھاڑ میں جاﺅ ۔“
”پیلاوشہ میں ایسی کون سے بات ہے جو مجھ میں نہیں ہے ۔“وہ میری ناگواری خاطر میں نہیں لائی تھی ۔
”مجھ میں ایسی کون سے بات ہے جو تمھیں اپنے ملک کے پرکشش ، خوب صورت اور اپنے ہم مذہب جوان پسند نہیں آرہے ۔“
”یہ تم اچھی طرح جانتے ہو ۔اور تمھارے اس سوال سے مجھے علم بھی ہو گیا ہے جو تم باور کرانا چاہتے ہو ۔“
”کیا ؟“
”یہی کہ،وہ مجھ سے خوب صورت ہے اور تمھیں زیادہ پیاری ہے ۔“
”جینی ،تم خواہ مخواہ بات کو بگاڑ رہی ہو پلوشہ کے ہوتے ہوئے بھی مجھے مذہب دوسری شادی کی اجازت دیتا ہے لیکن یقین کرو تم بچپن سے جس ماحول میں پلی بڑھی ہو اسے چھوڑنا تمھارے لیے ممکن نہیں ہوگا ،یہ محبت کا بھوت اترنے میں مہینے سے زیادہ نہیں لگے گا ۔“
وہ مسکرائی ۔”اچھا یار چھوڑ و ، خواہ مخواہ صفائیاں دینے کی ضرورت نہیں ہے ۔“
”صفائیاں نہیں دے رہا حقیقت بیان کر رہا ہوں ۔“
”کیا میں واقعی تمھیں پیاری لگتی ہوں ؟“
”ہاں ۔“میں نے اثبات میں سرہلایا۔”اور اس بات پر تمھیں بھی یقین ہے ۔“
اس نے کہا ۔”اورپیلاوشہ ۔“
”وہ بھی ۔“
”سچ کہوں تو پیلاوشہ مجھے بہت پیاری لگی ہے ۔“اس نے انکشاف کیا ۔
”وہ بہت مظلوم ہے اور اس سے بھی زیادہ ہمت والی ہے ۔“
اس نے اشتیاق سے پوچھا ۔”ویسے میرے بارے کیا کہہ رہی تھی ۔“
میں نے قہقہہ لگایا۔”کچھ ایسا نہیں کہا جو بتایا جائے ۔“
وہ منھ بناتے ہوئے بولی۔”جانتی ہوں اس خونخوار بلی کو ۔“نہ جانے کیوں مجھے اس کے لہجے کی گہرائی میں شفقت جھلکتی نظر آرہی تھی ۔
”اچھا مجھے کچھ رقم کی ضرورت ہے ،تھوڑی خریداری کرنا ہے ۔“
”اس وقت تو دو تین ہزار ڈالر ہی ہوں جیب میں ،اگر زیادہ چاہئیں تو منگوا لیتی ہوں ۔“
میں نے بے تکلفی سے کہا ۔”دو ہزار کافی ہیں ۔“
وہ ممنونیت سے بولی ۔”تمھارا رقم مانگنا مجھے اچھا لگا ۔“
ہم کافی دیر گپ شپ کرتے رہے پھر اس سے اجازت لے کر میں وہاں سے نکل آیا ۔الوداع ہوتے وقت وہ کافی اداس ہو گئی تھی ۔لیکن بچھڑنا تو آخر تھا ۔اپنی عادت پر عمل کرتے ہوئے اس نے مجھے خدا حافظ کہا اور میں وہاں سے باہر نکل آیا۔اپنی بے گناہی کے ثبوت میں نے حاصل کر لیے تھے ۔واپسی کا ارادہ کرنے کے ساتھ میرے دل میں کچھ خریداری کا خیال آیا ،کیونکہ میں گلگارے ،رنڑا اور ثمر خان وغیرہ کے لیے کچھ تحائف لینا چاہتا تھا ۔گھنٹا ڈیڑھ خریداری میں لگا کر میں واپس شہید خان کے مکان پر پہنچ گیا ۔ وہاں احمد ،اس کی بیوی اور میزان سے آخری ملاقات کر کے میں ڈرائیور کے ساتھ واپس چل پڑا ۔ عبدالحق اوربسم اللہ جان کو میں کامیابی کی خبر سنا چکا تھا ۔انھوں نے کال ہی پرمجھے بہت بہت مبارک باد دی تھی ۔
”گویا اب واپس جاﺅ گے ۔“رات کو لیٹتے وقت عبدالحق مجھے مخاطب ہوا ۔
”ہاں ۔“میں نے اثبات میں سر ہلادیا ۔
”اور پلوشہ بیٹی کے بارے کیا سوچا ہے ۔“
ایک دم مجھے خیا ل آیا کہ ثبوت ملنے کی خوشی میں میں نے اپنی جان حیات کو بھلا دیا تھا جو میرے لیے جانے کہاں خوار ہوتی پھر رہی تھی ۔
میں نے صاف گوئی سے اعتراف کیا۔”میرے ذہن ہی سے یہ اہم کام نکل گیا تھا ۔“
”چلو اب بتا دو کیاپروگرام ہے ۔“
میں فوراََ بولا ۔”پلوشے کو ڈھونڈ کر واپس جاﺅں گا ۔“
”ایک سودا کرو گے ۔“
”کیسا سودا ؟“میں نے حیرانی سے پوچھا ۔
”پلوشہ بیٹی کو ڈھونڈنے کا کام میں اپنے ذمہ لیتاہوں، میرا مطلب یہ کام میں چند مجاہدین کے ذمہ لگاتا ہوں آپ میرا ایک کام کردیں ۔“
”کون سا کام ؟“
”نک سٹیورٹ نامی نشانہ باز ہمارا کافی نقصان کر چکا ہے ۔“
”میرا خیال ہے پہلے بھی کافی دیر ہو گئی ہے ۔پلوشہ جب تک مل نہیں جاتی مجھے یکسوئی حاصل نہیں ہو گی ۔“
”ایسا کرتے ہیں آپ میرے ساتھ گردیز چلیں میں وزیرستان میں رابطہ کر کے کسی کمانڈر کے ذمہ پلوشہ کی تلاش کا کام لگاتا ہوں ۔آپ کے مطابق آخری بار وہ کمانڈر نصراللہ خوجل خیل سے ملے تھے اس کے بعد کہاں گئے یہ کسی کو بھی پتا نہیں ہے ۔اب میرے خیال میں ان کی تلاش کا کام وہیں شروع کرنا پڑے گا اور اس ضمن میں کافی آدمی استعمال ہوں گے ،تو بہتر یہی ہے کہ آپ میری بات مان لیں ۔“
میں نے معنی خیز لہجے میں پوچھا ۔”گویا ،میرے انکار کرنے پر آپ پلوشہ کی تلاش میں میری مدد نہیں کریں گے ۔“
وہ فوراََ بولا ۔”ایسا میں نے کب کہا ہے ۔“
”آپ پلوشہ کی تلاش کاکام پہلے بھی تو شروع کرا سکتے تھے ۔“میں شاکی ہوا ۔
”ہاں ، آپ کی طرح مجھے بھی امید تھی کہ وہ جلد یا بدیر مل جائے گی ،مگر یہ نہیں سوچا تھا کہ آپ کا کام ختم ہونے کے بعد بھی اس کی کوئی سن گن نہیں ملے گی ۔اور سب سے بڑھ کر آپ نے بھی تو کوئی ایسی بات نہیں کہی تھی ۔“
اس کی بات صحیح تھی پلوشہ کے ضمن میں مجھ سے تھوڑی سے بے پروائی ہو گئی تھی ۔مجھے کسی نہ کسی کو اس کی تلاش میں شروع دن سے لگا دینا چاہیے تھا ۔اس کے ساتھ ہی میرے دماغ میں خیال آیا ۔
”کس کو لگاتا۔“مجاہدین میرے زرخرید یا ملازم نہیں تھے کہ جہاد چھوڑ کر میری بیوی کو تلاش کرتے پھرتے ۔پاکستان آرمی سے میں یوں بھی بھاگتا پھر رہا تھا ،جو دوست کسی قابل تھا وہ پہلے سے میرے کام کے سلسلے میں مصروف تھا اس کے علاوہ میں کر کیا سکتا تھا ۔
”مجھے خاموش پا کر وہ دوبارہ بولا ۔” اگر اس کے علاوہ کوئی حل سوجھتا تو ہم آپ کو بالکل تکلیف نہ دیتے ۔یقین مانو اس خبیث کی ہمت بہت بڑھ گئی ہے ۔اب تو لگتا ہے ہمیں گردیز کیمپ کو خیر باد کہنا پڑے گا اور گردیز کیمپ کے بعد وہ کسی اور جگہ کو تاڑ لے گا ۔آپ کے شاگرد بھی اسے روکنے میں ناکام ہو چکے ہیں ۔صغیر اور اسلم پہلے شہید ہو گئے تھے، ایک ہفتہ پہلے مبین اور احسان بھی باقی نہیں رہے۔“
وہ چاروں میرے شاگرد تھے ،گو انھوں نے صرف نشانہ بازی کے متعلق ہی تھوڑا بہت سیکھا تھا لیکن میرے ساتھ انھوں نے جو دو تین ہفتے گزارے تھے وہ وقت ایک یاد کی صورت میری یاداشت میں محفوظ تھا ۔وہ نک سٹیورٹ کو ہلاک کرنے کی کوششوں میں خود شہید ہو چکے تھے ۔ایک منجھے ہوئے سنائپر کا مقابلہ کرنا ان کے بس سے باہر تھا ۔نک سٹیورٹ کی جینیفر بھی کافی تعریف کر چکی تھی ۔اس کاصاف مطلب یہی تھا کہ وہ ایک خطرناک سنائپر تھا اور ایسے شخص کے مقابل آنے کا مطلب خود کو شدید خطرے میں ڈالنا تھا کیوںکہ وہ اس علاقے میں کافی عرصے سے سرگرم تھا ۔گویا گردیز کا علاقہ اس کے لیے ہوم گراﺅنڈ کی حیثیت رکھتا تھا ۔ اپنی مرضی کے میدان کا انتخاب کر کے مجھے کسی مشکل سے دوچار کرنا اس کے لیے دشوار نہ ہوتا ۔اس سب کے باوجود بھی مجھے جان سے زیادہ پلوشہ کی فکر کھائے جا رہی تھی ۔
”کس سوچ میں گم ہو ۔“مجھے خاموش پا کر وہ مستفسر ہوا ۔
”عبدالحق بھائی آپ نے مجھے مشکل میں ڈال دیا ہے ۔ضروری نہیں کہ ایک سنائپر کے مقالے میں آپ سنائپر ہی کو لائیں ،اس کے خلاف کوئی اور منصوبہ بھی تو بنایا جا سکتا ہے ۔
”ایسا بہت پہلے سوچ کر اس پر عمل کرنے کے باوجود ہم ناکامی کا سامنا کر چکے ہیں ۔“
میں نے ہتھیار ڈالتے ہوئے کہا ۔”پلوشہ کی تلاش کے لیے رابطہ کر لو ۔اس کے علاوہ میری بے گناہی کے ثبوت بھی ایک خاص آدمی تک پہنچانے ہوں ۔“
”ایس ایس زندہ باد۔“عبدالحق نے خوش دلی سے نعرہ بلند کیا تھا۔
٭٭٭
دوسرے دن ہم بسم اللہ جان اور اس کے ساتھیوں سے الوداع ہو رہے تھے ۔کمانڈر بسم اللہ نے مجھ سے معانقہ کرتے ہوئے کہا ۔”ذیشان بھائی !....آپ کی یاد آئے گی ۔“
”آپ کی محبت ہے کمانڈ ر ،یقینا آپ کی مدد کے بغیر میں یہ سب کچھ نہ کر سکتا ۔“
”ہم نے آپ کے لیے اتنا نہیں کیا جتنا آپ نے ہمارے لیے کیا ہے ۔“
میں ہنسا ۔”چلو حساب برابر ہو گیا ۔“
وہاں سے کچھ رستا گاڑی میں بیٹھ کر گئے اور پھر پیدل روانہ ہوئے ہماری منزل پکتیکا کا ٹھکانہ تھی ۔گو ہم گردیز تک گاڑی میں جا سکتے تھے ،مگر میرے پاس جو ثبوت موجود تھے ان کی حفاظت کے لیے گاڑی کے بجائے ہم نے پیدل رستے کو ترجیح دی تھی ۔
راستے میں کوئی خاص واقعہ نہیں ہوا تھا اور ہم خیریت سے اس خفیہ ٹھکانے پر پہنچ گئے تھے ۔ کمانڈر اسلام ہمیں پر تپاک انداز میں ملا۔
”یقینا آپ کامیاب لوٹے ہیں ۔“اس نے چھوٹتے ہی پوچھا ۔
میں نے کہا ۔”الحمداللہ ۔“
باقی افراد سے مصافحہ کر کے ہم بیٹھ گئے ۔ کمانڈر عبدالحق مختصر لفظوں میں کارگزاری سنا نے لگا ۔ اس کی بات کے اختتام پر کمانڈر اسلام تصدیقی انداز میں مجھے مخاطب ہوا ۔”گویا اب واپسی کا ارادہ ہے۔“
”نہیں ۔“میرے بجائے کمانڈر عبدالحق نے جواب دیا ۔”ابھی تک ذیشان بھائی کا ایک کام رہتا ہے ۔“
اسلام نے سمجھ جانے والے انداز میں سر ہلایا۔”یقیناذیشان بھائی نے اپنی بیگم صاحبہ کو ڈھونڈنا ہو گا ۔“
”نہیں ۔“عبدالحق نے ایک بار پھر نفی میں سرہلایا۔”پلوشہ بیٹی کو ڈھونڈنے کے لیے آپ جا رہے ہیں ۔اور اس کی شروعات آپ کریں گے استاد محترم نصراللہ خان خوجل خیل سے مل کر ۔“
”میں سمجھا نہیں ۔“اسلام سچ مچ حیران رہ گیا تھا ۔
”ذیشان بھائی سے ایک معاہدہ ہو گیا ہے ،یہ ہمارے لیے نک سٹیورٹ کا شکار کرے گا اور ہم پلوشہ بیٹی کو ڈھونڈیں گے ۔“
”یہ ہوئی نا بات ۔“اسلام خوشی سے اچھل پڑاتھا۔
اسی دوران رات کے کھانے کا وقت ہو گیا تھا ۔کھانا کھا کر ہم نے عشاءکی نماز پڑھی ،تھکے ہونے کے باوجود ہم کافی دیر بیٹھے گپ شپ کرتے رہے ۔کمانڈر عبدالحق نے اسلام کو تفصیل سے پلوشہ کے ڈھونڈنے کی ترتیب بتا دی تھی ۔لیکن اس سے پہلے اسے اورنگ زیب صاحب کو مل کر میری بے گناہی کے ثبوت ان کے حوالے کرنا تھے ۔اورنگ زیب صاحب کا موبائل فون نمبر میں نے اسے دے دیا تھا ۔ کمانڈر اسلام کو میں نے ایک یو ایس بی بھی دی تھی جو اسے اورنگ زیب صاحب کے حوالے کرنا تھی ۔ ایک یو ایس بی میں نے اپنے پاس رکھ لی تھی جبکہ لیپ ٹاپ میں نے اسی ٹھکانے پر رکھوا دیا تھا ۔ثبوتوں کو گم کرنے کا میں کوئی خطرہ مول نہیں لینا چاہتا تھا ۔
اگلی صبح کمانڈر اسلام ایک ساتھی ہمراہ روانہ ہو گیا ۔شمریز چچا اور ان کے گھر والوں کے لیے میں نے کافی تحائف خریدے تھے وہ تمام سامان میں نے ان کے حوالے کر دیا تھا۔
کمانڈر اسلام نے معنی خیز لہجے میں کہا ۔”مطلب چچا شمریز خان آپ کو بھولا نہیں ہے ۔“
میں نے فلسفیانہ لہجے میں جواب دیا ۔”ایسے لوگ بھلائے جانے کے قابل نہیں ہوتے ۔“
”صحیح کہا ۔“اس نے تائیدی انداز میں سر ہلایااور الوداعی معانقہ کر کے ۔”فی امان اللہ ۔“ کہتے ہوئے رخصت ہو گیا ۔
کمانڈر عبدالحق نے رات ہی کو ایک نزدیکی ٹھکانے سے دو تین آدمی منگوا لیے تھے ،جو دوپہر تک ہمارے پاس پہنچ گئے تھے ۔ہم نے وہ دن بھی وہیں گزارا تھا ۔دوسرے دن ہم دونوں گردیز روانہ ہو گئے ۔کمانڈر عبدالحق بہت جوش میں تھا ۔نک سٹیورٹ نے کافی مجاہدوں کو شہید کیا تھا اور اب وہ بدلہ لینے کے لیے بے چین تھا ۔
مجھے جاننے والے میری نشانے بازی پر اندھا اعتماد کرتے تھے ،ان کے نزدیک میں ایک ہیرو کی طرح تھا ۔جبکہ بذات خود میرے دل میں یہ خوف جا گزیں رہتا کہ آیا میں لوگوں کی توقعات پر پورا بھی اترپاﺅں گا یا نہیں ۔عمومی طور پر لوگ جس آدمی کے لیے خوش اعتقاد ہوتے ہیں اس کے بارے بہت سی باتیں خود سے طے کر لیتے ہیں ۔اور اس کے خلاف بات سننا تو درکنار سوچنا بھی گوارا نہیں کرتے ۔میری نشانہ بازی بھی کچھ لوگوں کے لیے یہی صورت اختیار کر گئی تھی ۔کچھ صلاحیت اور کچھ مبالغہ آئی نے مجھے اس بلندی پر اٹھا دیا تھا جس کا میں خود کو اہل نہیں سمجھتا تھا ۔
ہم دونوں وہاں سے مرناہ گر روانہ ہوئے ۔وہاں سے ہوتے ہوئے ہم ساروبی اور ارگون کے رستے گردیز پہنچ گئے ۔یہ افغانستان کے صوبے پکتیا کا دارلحکومت ہے ۔مجاہدین کا ٹھکانہ شہر سے کافی ہٹ کر پہاڑوں کے بیچ میں تھا ۔رستے میں ہمارے دو دن مزید ضائع ہو گئے تھے ۔وہاں ہم رات کو پہنچے تھے ۔دن کے وقت وں ان پہاڑی سلسلوں میں حرکت کرنا کافی دشوار گزار ہو گیا تھا ۔نک سٹیورٹ نے مجاہدین کی دن کی نقل و حرکت کو محدود کر دیا تھا ۔نہ جانے کس جگہ پر چھپے ہوئے وہ اپنی دور مار رائفل کے ذریعے ان پہاڑوں میں گھومنے والے افراد کو نشانہ بناتا رہتا ۔اس ضمن میں اس نے کافی ایسے افراد کو بھی نشانہ بنا دیا تھا جن کا اس جنگ سے دور دور کا واسطہ نہیں تھا ۔مرد تو کجا وہ عورتوں کو بھی معاف کرنے پر تیار نہیں ہوتا تھا ۔ یوں بھی امریکیوں کے لیے تیسری دنیا کی عوام انسانیت کیا جانوروں کا درجہ بھی نہیں رکھتی ۔ اب اسی نک سٹیورٹ اور اس کی ساتھی لورا براﺅن کے ساتھ میرا ٹاکرا ہونے والا تھا ۔نہ جانے یہ مقابلہ کیا رنگ لاتا ۔
جار ی ہے
by
Riaz Aqiz Kohler
Episode 62
ﻧﺎﻭﻝ سنائپر
از
ریاض_عاقب_کوہلر
62 قسط نمبر
سنائپر
قسط نمبر 62
ریاض عاقب کوہلر
”سچ کہہ رہی ہوں ۔“جینی کھل کھلائی ۔”کیا یقین نہیں آرہا ۔“
”ہاں ۔“میں نے صاف گوئی سے اقرار کیا ۔
”ذی ،حقیقت تو یہ ہے کہ میں اتنی جلدی ان ثبوتوں تک رسائی نہیں پا سکتی تھی ،یہ کرنل جیمس میتھونی کی مہربانی ہے کہ کل جاتے ہی انھوں نے کرنل کولن فیلڈ کی جگہ کیمپ کی قیادت سنبھالی اور سب سے کام یہی کیا کہ تمھاری بے گناہی کے ثبوت میرے حوالے کر دیے ۔“
”جینی !....اگر یہ سچ ہے تو میں بغیر کسی تاخیر کے انھیں حاصل کرنا چاہوں گا ۔“
وہ اعتماد سے بولی ۔”کہاں پہنچاﺅں ۔“
”وہی پرانا ہوٹل بہتر رہے گا ۔“
”نہیں ،اس مرتبہ کسی اچھے ہوٹل میں ملیں گے ،اکھٹے بیٹھ کر کھاناکھائیں گے تھوڑی دیر گپ شپ کریں گے اس کے بعد تم یوں بھی ہمیشہ کے لیے بچھڑ جاﺅ گے ۔“آخری الفاظ کہتے ہوئے اس کی آواز بھرا گئی تھی ۔
”ٹھیک ہے ۔“میں نے فوراََ حامی بھری ۔
اس نے ایک مشہور اور اچھے ہوٹل کا نام لیتے ہوئے کہا ۔”کل دوپہر میں کمرہ نمبر پندرہ میں تمھاری منتظر رہوں گی ۔“
میں نے دوبارہ۔” ٹھیک ہے ۔“کہہ کر رابطہ منقطع کر دیا ۔
اگلے دن دوپہر کو میں اس کے سامنے بیٹھا تھا ۔ہٹ دھرمی کا اظہار کر کے اس نے لیپ ٹاپ کھولا اور وہ تمام وڈیو دکھانے لگی جن کے شروع اور آخر میں ان کی اپنی باتیں اور منصوبے تھے جو وہ مجھے قابو میں کرنے کے لیے بنا رہے تھے ۔دو تین وڈیو دیکھ کر میں نے کہا ۔
”ٹھیک ہے جینی ،یہ لیپ ٹاپ میں لے جاﺅں گا ۔“
”اس یو ایس بی میں تمام ڈاٹا ڈال دیا ہے ۔“اس نے ایک یو ایس بی میرے جانب بڑھائی ۔
یو ایس بی پکڑتے ہوئے میں نے کہا ۔”لیپ ٹاپ بھی لے جاﺅں گا ۔“
وہ ہنسی ۔”بے شک مجھے بھی لے جاﺅ ۔“
میں نے طنزیہ لہجے میں کہا ۔”ویسے شرم کی بات ہے کہ تمھارے سامنے وہ میرے خلاف منصوبے ترتیب دیتے رہے اور تم نہ صرف آرام سے وہ سب کچھ سنتی رہیں بلکہ اپنے قیمتی مشوروں سے بھی انھیں نوازتی رہیں اور مجھے اشارہ تک نہ دیا ۔“
وہ ہنسی ۔”صحیح کہا اور میں اپنے فعل پر بالکل بھی شرمندہ نہیں ہوں ۔“
”گویا مجھ سے پہلے تمھاری ذمہ داریاں ہیں ۔“
”نہیں تم سے پہلے اور تم سے بعد بھی تم ہی ہو ۔“
”جھوٹ بولنے کی بھی کوئی حد ہوتی ہے ۔“میں سچ مچ خفا تھا ۔
”ذی ،ایسا میں نے ملک و قوم کے لیے نہیں اپنے لیے کیا تھا ،میرا خیال تھا کہ شاید اس طرح تم امریکہ جانے کے لیے تیار ہو جاﺅ اور سچ کہوں تو تمھیں بلیک میل کرنے کے منصوبے میں میں پیش پیش تھی ۔“اس نے صاف گوئی سے اعتراف کیا ۔
”تو وزیرستان میں آخری ملاقات کے موقع پر جب میں نے کسی بھی صورت امریکہ کے لیے کام کرنے سے انکار کر دیا تھا ،تب بھی تم نے یہ مواد میرے حوالے کیوں نہیں کیا ۔“
”اس وقت تمام مواد البرٹ بروک کے پاس تھا ،مجھ سے غلطی یہ ہوئی تھی کہ اسے میں نے اپنے اور تمھارے بارے سب کچھ سچ بتا دیا تھا اور اس کے بعدتمھارے معاملے وہ مجھ پر اعتبار نہیں کرتا تھا۔“
”اچھا جانے دو اس بحث کو ،اب ارادہ کیا ہے ۔“
اس نے انکشاف کیا ۔”مہینے ڈیڑھ تک واپس جا رہی ہوں اورجاتے ساتھ شادی کا ارادہ ہے۔“
میں نے مزاحیہ انداز میں کہا ۔”مجھے کیوں سنا رہی ہو ۔“
”سنا نہیں رہی آخری موقع دے رہی ہوں ،اب بھی وقت ہے مجھے روک سکتے ہو ۔“
”کیا فائدہ ،مجھ سے شادی کرنے کے ایک ماہ کے اندر تم اپنے فیصلے پر پچھتانا شروع کر دو گی۔ ہم مشرقی لوگ اپنی بیوی کو اتنی آزادی نہیں دے سکتے جو تمھارے ہاں میسر ہے ۔“
وہ پرجوش لہجے میں بولی ۔”میں پابندی برداشت کر لوں گی ۔بلکہ ایسا ہے کچھ عرصہ میرے ساتھ رہ کر دیکھ لو اگر تمھارے معیار پر پوری نہ اتری تو بے شک شادی نہ کرنا ۔“
”بغیر شادی کے لڑکی ،لڑکے کا اکٹھے رہنا بھی تمھاری ثقافت ہے ،ہمارے ہاں ایسا کچھ نہیں ہوتا ۔“
وہ طنزیہ انداز میں بولی ۔”تم اور پیلاوشہ بھی تو شادی سے پہلے اکٹھے رہتے رہے ہو ،تمھارا کیا خیال ہے میں کچھ نہیں جانتی ۔“
میں جلدی سے بولا ۔”تمھارے پاس نہایت غلط معلومات ہیں ،پلوشہ اور میرے اکٹھا رہنے کا مقصد قبیل خان کا خاتمہ تھا ۔“
وہ وثوق سے بولی۔”ممکن ہے ایک وجہ یہ بھی ہو ،لیکن بھول گئے کیسے پیلاوشہ کے ایک بار پکارنے پر بھاگے چلے آئے تھے ۔مانو یانہ مانو تمھارے دل میں پہلے سے اس کے بارے میں ایسے خیالات موجود تھے ۔“
میں اسے جھڑکتے ہوئے بولا ۔”جب بات کا پتا نہ ہو تو خواہ مخواہ بکواس نہیں کی جاتی ۔“
وہ موضوع تبدیل کرتے ہوئے بولی ۔”اچھا دفع کرو ،یہ بتاﺅ ملنے آﺅ گے کہ نہیں ۔“
”کال پر بات کر لوں گا اور میرا خیال ہے اتنا کافی ہے ۔یوں بھی وہاں آکر تمھارے شوہر سے مار کھانے سے بہتر ہے میں آﺅں ہی نا ۔“
”بڑے آئے مظلوم ۔“اس نے میرا منھ چڑایا ۔اور میں قہقہہ لگا کر ہنس پڑا ۔
”ویسے کوئی دولھا ڈھونڈا بھی ہے یا واپسی ہی پر کچھ سوچو گی ۔“
”کئی مرد عندیہ دے چکے ہیں،بس ابھی جا کر کسی ایک کا انتخاب کرنا ہے ۔“
میں نے کہا ”تمھار ے لیے یہی بہتر ہے ۔کیونکہ ہماری شادی میں پلوشہ کے علاوہ بھی کئی رکاوٹیں ہیں۔“
” بالکل اور سب سے بڑی رکاوٹ ہے تمھاری ناپسندیدگی ۔“اس نے منھ بنایا ۔
میں نے جھلا کر کہا ۔”لڑکیاں چاہے کتنے بڑے عہدے پر کیوں نہ ہوں سوچنا انھوں نے دل ہی سے ہوتا ہے ۔ ہماری شادی میں جو قباحتیں ہیں ان کے بارے میں تمھیں تفصیل سے آگاہ کر چکا ہوں اس کے باوجود تم یہی سمجھتی ہو تو بھاڑ میں جاﺅ ۔“
”پیلاوشہ میں ایسی کون سے بات ہے جو مجھ میں نہیں ہے ۔“وہ میری ناگواری خاطر میں نہیں لائی تھی ۔
”مجھ میں ایسی کون سے بات ہے جو تمھیں اپنے ملک کے پرکشش ، خوب صورت اور اپنے ہم مذہب جوان پسند نہیں آرہے ۔“
”یہ تم اچھی طرح جانتے ہو ۔اور تمھارے اس سوال سے مجھے علم بھی ہو گیا ہے جو تم باور کرانا چاہتے ہو ۔“
”کیا ؟“
”یہی کہ،وہ مجھ سے خوب صورت ہے اور تمھیں زیادہ پیاری ہے ۔“
”جینی ،تم خواہ مخواہ بات کو بگاڑ رہی ہو پلوشہ کے ہوتے ہوئے بھی مجھے مذہب دوسری شادی کی اجازت دیتا ہے لیکن یقین کرو تم بچپن سے جس ماحول میں پلی بڑھی ہو اسے چھوڑنا تمھارے لیے ممکن نہیں ہوگا ،یہ محبت کا بھوت اترنے میں مہینے سے زیادہ نہیں لگے گا ۔“
وہ مسکرائی ۔”اچھا یار چھوڑ و ، خواہ مخواہ صفائیاں دینے کی ضرورت نہیں ہے ۔“
”صفائیاں نہیں دے رہا حقیقت بیان کر رہا ہوں ۔“
”کیا میں واقعی تمھیں پیاری لگتی ہوں ؟“
”ہاں ۔“میں نے اثبات میں سرہلایا۔”اور اس بات پر تمھیں بھی یقین ہے ۔“
اس نے کہا ۔”اورپیلاوشہ ۔“
”وہ بھی ۔“
”سچ کہوں تو پیلاوشہ مجھے بہت پیاری لگی ہے ۔“اس نے انکشاف کیا ۔
”وہ بہت مظلوم ہے اور اس سے بھی زیادہ ہمت والی ہے ۔“
اس نے اشتیاق سے پوچھا ۔”ویسے میرے بارے کیا کہہ رہی تھی ۔“
میں نے قہقہہ لگایا۔”کچھ ایسا نہیں کہا جو بتایا جائے ۔“
وہ منھ بناتے ہوئے بولی۔”جانتی ہوں اس خونخوار بلی کو ۔“نہ جانے کیوں مجھے اس کے لہجے کی گہرائی میں شفقت جھلکتی نظر آرہی تھی ۔
”اچھا مجھے کچھ رقم کی ضرورت ہے ،تھوڑی خریداری کرنا ہے ۔“
”اس وقت تو دو تین ہزار ڈالر ہی ہوں جیب میں ،اگر زیادہ چاہئیں تو منگوا لیتی ہوں ۔“
میں نے بے تکلفی سے کہا ۔”دو ہزار کافی ہیں ۔“
وہ ممنونیت سے بولی ۔”تمھارا رقم مانگنا مجھے اچھا لگا ۔“
ہم کافی دیر گپ شپ کرتے رہے پھر اس سے اجازت لے کر میں وہاں سے نکل آیا ۔الوداع ہوتے وقت وہ کافی اداس ہو گئی تھی ۔لیکن بچھڑنا تو آخر تھا ۔اپنی عادت پر عمل کرتے ہوئے اس نے مجھے خدا حافظ کہا اور میں وہاں سے باہر نکل آیا۔اپنی بے گناہی کے ثبوت میں نے حاصل کر لیے تھے ۔واپسی کا ارادہ کرنے کے ساتھ میرے دل میں کچھ خریداری کا خیال آیا ،کیونکہ میں گلگارے ،رنڑا اور ثمر خان وغیرہ کے لیے کچھ تحائف لینا چاہتا تھا ۔گھنٹا ڈیڑھ خریداری میں لگا کر میں واپس شہید خان کے مکان پر پہنچ گیا ۔ وہاں احمد ،اس کی بیوی اور میزان سے آخری ملاقات کر کے میں ڈرائیور کے ساتھ واپس چل پڑا ۔ عبدالحق اوربسم اللہ جان کو میں کامیابی کی خبر سنا چکا تھا ۔انھوں نے کال ہی پرمجھے بہت بہت مبارک باد دی تھی ۔
”گویا اب واپس جاﺅ گے ۔“رات کو لیٹتے وقت عبدالحق مجھے مخاطب ہوا ۔
”ہاں ۔“میں نے اثبات میں سر ہلادیا ۔
”اور پلوشہ بیٹی کے بارے کیا سوچا ہے ۔“
ایک دم مجھے خیا ل آیا کہ ثبوت ملنے کی خوشی میں میں نے اپنی جان حیات کو بھلا دیا تھا جو میرے لیے جانے کہاں خوار ہوتی پھر رہی تھی ۔
میں نے صاف گوئی سے اعتراف کیا۔”میرے ذہن ہی سے یہ اہم کام نکل گیا تھا ۔“
”چلو اب بتا دو کیاپروگرام ہے ۔“
میں فوراََ بولا ۔”پلوشے کو ڈھونڈ کر واپس جاﺅں گا ۔“
”ایک سودا کرو گے ۔“
”کیسا سودا ؟“میں نے حیرانی سے پوچھا ۔
”پلوشہ بیٹی کو ڈھونڈنے کا کام میں اپنے ذمہ لیتاہوں، میرا مطلب یہ کام میں چند مجاہدین کے ذمہ لگاتا ہوں آپ میرا ایک کام کردیں ۔“
”کون سا کام ؟“
”نک سٹیورٹ نامی نشانہ باز ہمارا کافی نقصان کر چکا ہے ۔“
”میرا خیال ہے پہلے بھی کافی دیر ہو گئی ہے ۔پلوشہ جب تک مل نہیں جاتی مجھے یکسوئی حاصل نہیں ہو گی ۔“
”ایسا کرتے ہیں آپ میرے ساتھ گردیز چلیں میں وزیرستان میں رابطہ کر کے کسی کمانڈر کے ذمہ پلوشہ کی تلاش کا کام لگاتا ہوں ۔آپ کے مطابق آخری بار وہ کمانڈر نصراللہ خوجل خیل سے ملے تھے اس کے بعد کہاں گئے یہ کسی کو بھی پتا نہیں ہے ۔اب میرے خیال میں ان کی تلاش کا کام وہیں شروع کرنا پڑے گا اور اس ضمن میں کافی آدمی استعمال ہوں گے ،تو بہتر یہی ہے کہ آپ میری بات مان لیں ۔“
میں نے معنی خیز لہجے میں پوچھا ۔”گویا ،میرے انکار کرنے پر آپ پلوشہ کی تلاش میں میری مدد نہیں کریں گے ۔“
وہ فوراََ بولا ۔”ایسا میں نے کب کہا ہے ۔“
”آپ پلوشہ کی تلاش کاکام پہلے بھی تو شروع کرا سکتے تھے ۔“میں شاکی ہوا ۔
”ہاں ، آپ کی طرح مجھے بھی امید تھی کہ وہ جلد یا بدیر مل جائے گی ،مگر یہ نہیں سوچا تھا کہ آپ کا کام ختم ہونے کے بعد بھی اس کی کوئی سن گن نہیں ملے گی ۔اور سب سے بڑھ کر آپ نے بھی تو کوئی ایسی بات نہیں کہی تھی ۔“
اس کی بات صحیح تھی پلوشہ کے ضمن میں مجھ سے تھوڑی سے بے پروائی ہو گئی تھی ۔مجھے کسی نہ کسی کو اس کی تلاش میں شروع دن سے لگا دینا چاہیے تھا ۔اس کے ساتھ ہی میرے دماغ میں خیال آیا ۔
”کس کو لگاتا۔“مجاہدین میرے زرخرید یا ملازم نہیں تھے کہ جہاد چھوڑ کر میری بیوی کو تلاش کرتے پھرتے ۔پاکستان آرمی سے میں یوں بھی بھاگتا پھر رہا تھا ،جو دوست کسی قابل تھا وہ پہلے سے میرے کام کے سلسلے میں مصروف تھا اس کے علاوہ میں کر کیا سکتا تھا ۔
”مجھے خاموش پا کر وہ دوبارہ بولا ۔” اگر اس کے علاوہ کوئی حل سوجھتا تو ہم آپ کو بالکل تکلیف نہ دیتے ۔یقین مانو اس خبیث کی ہمت بہت بڑھ گئی ہے ۔اب تو لگتا ہے ہمیں گردیز کیمپ کو خیر باد کہنا پڑے گا اور گردیز کیمپ کے بعد وہ کسی اور جگہ کو تاڑ لے گا ۔آپ کے شاگرد بھی اسے روکنے میں ناکام ہو چکے ہیں ۔صغیر اور اسلم پہلے شہید ہو گئے تھے، ایک ہفتہ پہلے مبین اور احسان بھی باقی نہیں رہے۔“
وہ چاروں میرے شاگرد تھے ،گو انھوں نے صرف نشانہ بازی کے متعلق ہی تھوڑا بہت سیکھا تھا لیکن میرے ساتھ انھوں نے جو دو تین ہفتے گزارے تھے وہ وقت ایک یاد کی صورت میری یاداشت میں محفوظ تھا ۔وہ نک سٹیورٹ کو ہلاک کرنے کی کوششوں میں خود شہید ہو چکے تھے ۔ایک منجھے ہوئے سنائپر کا مقابلہ کرنا ان کے بس سے باہر تھا ۔نک سٹیورٹ کی جینیفر بھی کافی تعریف کر چکی تھی ۔اس کاصاف مطلب یہی تھا کہ وہ ایک خطرناک سنائپر تھا اور ایسے شخص کے مقابل آنے کا مطلب خود کو شدید خطرے میں ڈالنا تھا کیوںکہ وہ اس علاقے میں کافی عرصے سے سرگرم تھا ۔گویا گردیز کا علاقہ اس کے لیے ہوم گراﺅنڈ کی حیثیت رکھتا تھا ۔ اپنی مرضی کے میدان کا انتخاب کر کے مجھے کسی مشکل سے دوچار کرنا اس کے لیے دشوار نہ ہوتا ۔اس سب کے باوجود بھی مجھے جان سے زیادہ پلوشہ کی فکر کھائے جا رہی تھی ۔
”کس سوچ میں گم ہو ۔“مجھے خاموش پا کر وہ مستفسر ہوا ۔
”عبدالحق بھائی آپ نے مجھے مشکل میں ڈال دیا ہے ۔ضروری نہیں کہ ایک سنائپر کے مقالے میں آپ سنائپر ہی کو لائیں ،اس کے خلاف کوئی اور منصوبہ بھی تو بنایا جا سکتا ہے ۔
”ایسا بہت پہلے سوچ کر اس پر عمل کرنے کے باوجود ہم ناکامی کا سامنا کر چکے ہیں ۔“
میں نے ہتھیار ڈالتے ہوئے کہا ۔”پلوشہ کی تلاش کے لیے رابطہ کر لو ۔اس کے علاوہ میری بے گناہی کے ثبوت بھی ایک خاص آدمی تک پہنچانے ہوں ۔“
”ایس ایس زندہ باد۔“عبدالحق نے خوش دلی سے نعرہ بلند کیا تھا۔
٭٭٭
دوسرے دن ہم بسم اللہ جان اور اس کے ساتھیوں سے الوداع ہو رہے تھے ۔کمانڈر بسم اللہ نے مجھ سے معانقہ کرتے ہوئے کہا ۔”ذیشان بھائی !....آپ کی یاد آئے گی ۔“
”آپ کی محبت ہے کمانڈ ر ،یقینا آپ کی مدد کے بغیر میں یہ سب کچھ نہ کر سکتا ۔“
”ہم نے آپ کے لیے اتنا نہیں کیا جتنا آپ نے ہمارے لیے کیا ہے ۔“
میں ہنسا ۔”چلو حساب برابر ہو گیا ۔“
وہاں سے کچھ رستا گاڑی میں بیٹھ کر گئے اور پھر پیدل روانہ ہوئے ہماری منزل پکتیکا کا ٹھکانہ تھی ۔گو ہم گردیز تک گاڑی میں جا سکتے تھے ،مگر میرے پاس جو ثبوت موجود تھے ان کی حفاظت کے لیے گاڑی کے بجائے ہم نے پیدل رستے کو ترجیح دی تھی ۔
راستے میں کوئی خاص واقعہ نہیں ہوا تھا اور ہم خیریت سے اس خفیہ ٹھکانے پر پہنچ گئے تھے ۔ کمانڈر اسلام ہمیں پر تپاک انداز میں ملا۔
”یقینا آپ کامیاب لوٹے ہیں ۔“اس نے چھوٹتے ہی پوچھا ۔
میں نے کہا ۔”الحمداللہ ۔“
باقی افراد سے مصافحہ کر کے ہم بیٹھ گئے ۔ کمانڈر عبدالحق مختصر لفظوں میں کارگزاری سنا نے لگا ۔ اس کی بات کے اختتام پر کمانڈر اسلام تصدیقی انداز میں مجھے مخاطب ہوا ۔”گویا اب واپسی کا ارادہ ہے۔“
”نہیں ۔“میرے بجائے کمانڈر عبدالحق نے جواب دیا ۔”ابھی تک ذیشان بھائی کا ایک کام رہتا ہے ۔“
اسلام نے سمجھ جانے والے انداز میں سر ہلایا۔”یقیناذیشان بھائی نے اپنی بیگم صاحبہ کو ڈھونڈنا ہو گا ۔“
”نہیں ۔“عبدالحق نے ایک بار پھر نفی میں سرہلایا۔”پلوشہ بیٹی کو ڈھونڈنے کے لیے آپ جا رہے ہیں ۔اور اس کی شروعات آپ کریں گے استاد محترم نصراللہ خان خوجل خیل سے مل کر ۔“
”میں سمجھا نہیں ۔“اسلام سچ مچ حیران رہ گیا تھا ۔
”ذیشان بھائی سے ایک معاہدہ ہو گیا ہے ،یہ ہمارے لیے نک سٹیورٹ کا شکار کرے گا اور ہم پلوشہ بیٹی کو ڈھونڈیں گے ۔“
”یہ ہوئی نا بات ۔“اسلام خوشی سے اچھل پڑاتھا۔
اسی دوران رات کے کھانے کا وقت ہو گیا تھا ۔کھانا کھا کر ہم نے عشاءکی نماز پڑھی ،تھکے ہونے کے باوجود ہم کافی دیر بیٹھے گپ شپ کرتے رہے ۔کمانڈر عبدالحق نے اسلام کو تفصیل سے پلوشہ کے ڈھونڈنے کی ترتیب بتا دی تھی ۔لیکن اس سے پہلے اسے اورنگ زیب صاحب کو مل کر میری بے گناہی کے ثبوت ان کے حوالے کرنا تھے ۔اورنگ زیب صاحب کا موبائل فون نمبر میں نے اسے دے دیا تھا ۔ کمانڈر اسلام کو میں نے ایک یو ایس بی بھی دی تھی جو اسے اورنگ زیب صاحب کے حوالے کرنا تھی ۔ ایک یو ایس بی میں نے اپنے پاس رکھ لی تھی جبکہ لیپ ٹاپ میں نے اسی ٹھکانے پر رکھوا دیا تھا ۔ثبوتوں کو گم کرنے کا میں کوئی خطرہ مول نہیں لینا چاہتا تھا ۔
اگلی صبح کمانڈر اسلام ایک ساتھی ہمراہ روانہ ہو گیا ۔شمریز چچا اور ان کے گھر والوں کے لیے میں نے کافی تحائف خریدے تھے وہ تمام سامان میں نے ان کے حوالے کر دیا تھا۔
کمانڈر اسلام نے معنی خیز لہجے میں کہا ۔”مطلب چچا شمریز خان آپ کو بھولا نہیں ہے ۔“
میں نے فلسفیانہ لہجے میں جواب دیا ۔”ایسے لوگ بھلائے جانے کے قابل نہیں ہوتے ۔“
”صحیح کہا ۔“اس نے تائیدی انداز میں سر ہلایااور الوداعی معانقہ کر کے ۔”فی امان اللہ ۔“ کہتے ہوئے رخصت ہو گیا ۔
کمانڈر عبدالحق نے رات ہی کو ایک نزدیکی ٹھکانے سے دو تین آدمی منگوا لیے تھے ،جو دوپہر تک ہمارے پاس پہنچ گئے تھے ۔ہم نے وہ دن بھی وہیں گزارا تھا ۔دوسرے دن ہم دونوں گردیز روانہ ہو گئے ۔کمانڈر عبدالحق بہت جوش میں تھا ۔نک سٹیورٹ نے کافی مجاہدوں کو شہید کیا تھا اور اب وہ بدلہ لینے کے لیے بے چین تھا ۔
مجھے جاننے والے میری نشانے بازی پر اندھا اعتماد کرتے تھے ،ان کے نزدیک میں ایک ہیرو کی طرح تھا ۔جبکہ بذات خود میرے دل میں یہ خوف جا گزیں رہتا کہ آیا میں لوگوں کی توقعات پر پورا بھی اترپاﺅں گا یا نہیں ۔عمومی طور پر لوگ جس آدمی کے لیے خوش اعتقاد ہوتے ہیں اس کے بارے بہت سی باتیں خود سے طے کر لیتے ہیں ۔اور اس کے خلاف بات سننا تو درکنار سوچنا بھی گوارا نہیں کرتے ۔میری نشانہ بازی بھی کچھ لوگوں کے لیے یہی صورت اختیار کر گئی تھی ۔کچھ صلاحیت اور کچھ مبالغہ آئی نے مجھے اس بلندی پر اٹھا دیا تھا جس کا میں خود کو اہل نہیں سمجھتا تھا ۔
ہم دونوں وہاں سے مرناہ گر روانہ ہوئے ۔وہاں سے ہوتے ہوئے ہم ساروبی اور ارگون کے رستے گردیز پہنچ گئے ۔یہ افغانستان کے صوبے پکتیا کا دارلحکومت ہے ۔مجاہدین کا ٹھکانہ شہر سے کافی ہٹ کر پہاڑوں کے بیچ میں تھا ۔رستے میں ہمارے دو دن مزید ضائع ہو گئے تھے ۔وہاں ہم رات کو پہنچے تھے ۔دن کے وقت وں ان پہاڑی سلسلوں میں حرکت کرنا کافی دشوار گزار ہو گیا تھا ۔نک سٹیورٹ نے مجاہدین کی دن کی نقل و حرکت کو محدود کر دیا تھا ۔نہ جانے کس جگہ پر چھپے ہوئے وہ اپنی دور مار رائفل کے ذریعے ان پہاڑوں میں گھومنے والے افراد کو نشانہ بناتا رہتا ۔اس ضمن میں اس نے کافی ایسے افراد کو بھی نشانہ بنا دیا تھا جن کا اس جنگ سے دور دور کا واسطہ نہیں تھا ۔مرد تو کجا وہ عورتوں کو بھی معاف کرنے پر تیار نہیں ہوتا تھا ۔ یوں بھی امریکیوں کے لیے تیسری دنیا کی عوام انسانیت کیا جانوروں کا درجہ بھی نہیں رکھتی ۔ اب اسی نک سٹیورٹ اور اس کی ساتھی لورا براﺅن کے ساتھ میرا ٹاکرا ہونے والا تھا ۔نہ جانے یہ مقابلہ کیا رنگ لاتا ۔
جار ی ہے

No comments: