Ads Top

Hijaz Ki Andhi By Annayt Ullah Altamash Episode No 24`حجاز کی آندھی عنایت اللہ التمش قسط نمبر24


Hijaz Ki Andhi
By
Annayat Ullah Altmash

حجاز کی آندھی
از
 عنایت اللہ التمش

Hijaz Ki Andhi  By  Annayat Ullah Altmash  حجاز کی آندھی  از  عنایت اللہ التمش

حجاز کی آندھی (عنایت اللہ التمش)

قسط نمبر 24
سعدؓ بن ابی وقاص بابل کی طرف چلے گئے۔ امیر بُرس بسطام نے مجاہدین کی پیش قدمی کے راستوں سے قدرتی رکاوٹیں ہٹادی تھیں۔ اس سے پیش قدمی آسان ہو گئی تھی اور تیز بھی۔ اطلاع کے مطابق قادسیہ کے بھگوڑے فارسی بابل کے کھنڈروں میں اکٹھے ہو رہے تھے۔ اس لیے سعدؓ نے مجاہدین کے دستوں کو جو ان کے ساتھ تھے محاصرے کی ترتیب میں کر لیا اور ان سے کہا کہ محاصرے کا اشارے پر ہلّہ بول دینا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اطلاع کے مطابق قادسیہ کے بھگوڑے فارسی بابل کے کھنڈروں میں اکٹھے ہو رہے تھے۔ اس لیے سعدؓ نے مجاہدین کے دستوں کو جو ان کے ساتھ تھے محاصرے کی ترتیب میں کر لیا اور ان سے کہا کہ محاصرے کا اشارے پر ہلّہ بول دینا ہے۔
مجاہدین احتیاط سے آگے بڑھنے لگے۔
’’جتنے آدمی اندر ہیں سب باہر آجائیں۔ ‘‘قریب جا کر سعد ؓبن ابی وقاص نے اعلان کرایا۔’’ لڑو گے تو کسی ایک کو بھی زندہ نہیں چھوڑا جائے گا۔ باہر آکر ہتھیارڈال دو گے، تو تمہاری حیثیت اور عزت برقرار رہے گی۔‘‘
بابل کے کھنڈرات وسیع و عریض علاقے پر پھیلے ہوئے تھے۔ ہر طرف سے اعلان کیے گئے لیکن کوئی جواب نہ آیا۔ آخر ایک ضعیف العمر دودھ کی مانند سفید داڑھی ،سیاہ چغے میں ملبوس جھکا جھکا اپنے قد سے لمبے عصا کے سہارے باہر آیا۔ سعدؓبن ابی وقاص نے اسے دیکھ لیا اور اپنے ایک محافظ سے کہا کہ اس بزرگ کو ان کے پاس لے آئے۔
وہ بوڑھا قریب آیا تو سعدؓ گھوڑے سے اُتر کر اس سے ملے۔
’’اے عربی سالار!‘‘سفید ریش بزرگ نے کہا۔ ’’کسے پکار رہے ہو؟ وہ سب بھاگ گئے ہیں۔ جس فوج کے افسر بھاگ اٹھیں، اس فوج کے سپاہی میدان میں کیسے ٹھہر سکتے ہیں……ان کھنڈروں میں گھوم پھر کر دیکھ لو۔ کچھ زخمی سپاہی پڑے کراہ رہے ہیں اور اپنے ان ساتھیوں اور افسروں کو کوس رہے ہیں جو انہیں اس حالت میں چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں۔ اس کے علاوہ چار نوجوان لڑکیاں ہیں جو اپنی ہی فوج کے آدمیوں کی درندگی کا شکار ہو کر ادھر اُدھر پڑی ہیں۔‘‘
سعدؓ بن ابی وقاص آگے بڑھے ۔علامہ شبلی نعمانی نے تاریخِ طبری اور فتوح البلدان کے حوالے سے لکھا ہے کہ سعدؓ نے سب سے پہلے اس قید خانے کے کھنڈرات دیکھے جس میں ابراہیمؑ نے نمرود کر قید کیا تھا ۔فرطِ جذبات سے سعدؓ کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور بے اختیار انہوں نے یہ آیت پڑھی۔’’اور ہم یہ دن لوگوں میں باری باری بدلتے رہتے ہیں۔‘‘
پھر سعد ؓبابل کے کھنڈرات میں گئے۔ شاہی محل کے کھنڈرات عبرت کا نشان بنے ہوئے تھے۔
’’کیا تم جانتے ہو کہ یہ کس شہر کے کھنڈر ہیں؟‘‘سعدؓ بن ابی وقاص نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا اور جواب کا انتظار کیے بغیر کہا۔’’ یہ وہ شہر ہے جس میں اﷲ نے دو فرشتوں ہاروت اور ماروت اتارے تھے اور ان فرشتوں کو جادو کا علم دیا تھا۔ انہوں نے لوگوں سے کہا تھا کہ کہ یہ جادو جائز نہیں لیکن اس وقت کے لوگوں نے یہ جادو سیکھنا بھی، سکھانا بھی اور چلانا بھی شروع کر دیا ……آج دیکھ لو‘ اﷲ نے آج اس جگہ کو کس قدر عبرتناک بنا دیا ہے۔ اگر آتش پرست بادشاہ عبرت حاصل کرتے تو آج انہیں یہ دن نہیں دیکھنا پڑتا کہ ان کے محل تکبیر کے نعروں سے لرز رہے ہیں اور جس فوج پر انہیں بھروسہ تھا کہ ان کی شہنشاہی کو بچا لے گی۔ وہ فوج اﷲ کے مٹھی بھر سپاہیوں کے آگے آگے بکھر بکھر کر بھاگی جا رہی ہے۔ کسریٰ پرویز نے ہمارے رسولﷺ کا پیغامِ حق پھاڑ کر اس کے پُرزے اڑا دیئے تھے۔ آج اس کی شہنشاہی کے پُرزے اُڑ رہے ہیں۔ ‘‘سعدؓ نے سفید ریش بوڑھے کی طرف دیکھا اور پوچھا۔’’ تم یہاں کیا کر رہے تھے؟‘‘
’’میری تو عمر یہیں گزر گئی ہے۔‘‘ بوڑھے نے جواب دیا۔’’ میرا خاندان مذہب پرست تھا۔ مجھے کچھ یاد نہیں کہ میں کب یہاں آیا۔ باپ دادا کابسیرا انہیں کھنڈروں میں تھا۔ ایک ایک کر کے سب مر گئے ہیں۔ میری عمر ایک سو سال سے کچھ زیادہ ہے۔‘‘
’’مذہب کیا ہے تمہارا؟‘‘
’’میرے مذہب کا کوئی نام نہیں۔‘‘ بوڑھے نے جواب دیا۔’’ باپ داد ا سورج کو پوجتے تھے ،کبھی آگ جلا کر عبادت کرتے تھے، وہ دنیا سے اٹھ گئے تو میں نے سب عبادتیں چھوڑ دیں اور اُس خداکو ڈھونڈنے لگا جسے کوئی سورج میں ڈھونڈتا ہے ۔کوئی اسے آگ میں اور کوئی پانی میں ،کوئی آسمانی بجلیوں اور طوفانوں میں تلاش کرتاہے۔میں نے عمر گزرنے کے ساتھ ساتھ محسوس کرنا شروع کر دیا کہ خدا میرے اپنے وجود میں موجود ہے اور کبھی یہ وہم سا بھی ہوتا کہ میں خود اپنا خدا ہوں……اور جب میں عمر کے اس حصے میں پہنچا جہاں بال سفید ہونے لگتے ہیں تو مجھ پر یہ راز کھلا کہ خدا انہیں ملتا ہے جن کے دلوں میں اس کے بندوں کی محبت ہوتی ہے۔‘‘
سعدؓ بن ابی وقاص اور ان کے ساتھی اس بزرگ کی باتیں بڑے غور سے سن رہے تھے اور ان پر ایسی کیفیت طاری ہوتی جا رہی تھی جیسے اس بوڑھے کی باتوں سے مسحور ہو رہے ہوں۔
’’میں مدائن جاتا رہتا ہوں۔‘‘ بوڑھے نے کہا۔’’ شاہی محلات کو دیکھتا ہو ں۔ بادشاہوں کی شان و شوکت بھی دیکھتا ہوں ،اس شراب کی بو بھی سونگھی ہے جس کا نشہ بادشاہوں کو خدا بنا دیتا ہے ،اور ان حسین و جمیل دوشیزاؤں کو بھی دیکھا ہے جن سے وہ لذت اور سکون حاصل کرتے ہیں۔ پھر میں بابل کے ان کھنڈروں کو دیکھتا ہوں اور سوچتا ہو کہ انسان اپنے آپ کو کیا دھوکے اور فریب دیتا ہے کہ اسے اپنے انجام کا خیال ہی نہیں آتا ……میں تم سے پوچھے بغیر بتا سکتا ہوں کہ تم عرب کے سپہ سالار ہو۔ تمہیں شاید معلوم ہو گا کہ تم کہاں کھڑے ہو……یہ بابل ہے۔ یہ عظیم الشان عبادت گاہوں کا شہر ہوا کرتا تھا ۔تم نے شاید یہ سنا ہو گا کہ اس وسیع و عریض شہر میں معلق باغات ہوا کرتے تھے۔ آج کا انسان سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ وہ باغ کس طرح بنائے گئے تھے جو زمین پر تھے نہ آسمان پر۔ کہتے ہیں کہ ان باغوں میں آکر انسان یہی سمجھتا تھا کہ جنت ہے تو یہی ہے۔
کہاں ہیں وہ باغ؟ان کا نام و نشان نہیں رہا۔ یہاں کے بادشاہوں کے محلات اتنے خوبصورت اور عالی شان تھے کہ ایسی شان و شوکت اور تعمیرات کا ایسا حسن ایک عام آدمی کے تصور میں بھی نہیں آسکتا۔ اس شہر میں حوروں جیسی خوبصورت دوشیزائیں یوں گھومتی پھرتی تھیں جیسی رنگ برنگی چڑیاں معلق باغوں کے پیڑ پودوں پر اُڑتی اور چہچہاتی پھرتی تھیں ۔یہ شہر اشوریوں کی تہذیب و تمدن اور عقیدوں کا مرکز رہا ہے۔ یہاں کئی فاتحین آئے ۔ہر ایک نے اس شہر کی فصیلیں مضبوط کیں اور خوشنما میناروں جیسے برج بنائے ۔ہر فاتح یہاں اپنے تہذیب و تمدن کے آثار چھوڑتا گیا اور اس طرح بابل مختلف تہذیبوں کا گہوارہ بن گیا اور ان تمام تہذیبوں کا بڑا ہی حسین امتزاج تھا لیکن یہاں کے بادشاہ لوگوں کے خدا بن گئے تھے۔ مصر میں فرعون تھے اور یہاں کے بادشاہ فرعونوں سے کم نہ تھے……کیا تم جانتے ہو؟‘‘
’’ہاں میرے بزرگ!‘‘سعدؓ بن ابی وقاص نے کہا۔’’ میں یہ سب جانتا ہوں ۔اس شہر کا ذکر ہماری اس مقدس کتاب میں بھی ہے جو اﷲ تعالیٰ نے ہمارے رسول ﷺ پر نازل کی ہے۔ اسے ہم قرآن کہتے ہیں۔ اﷲ نے ہمیں ان ہی بادشاہوں کے انجام سے خبردار کیا ہے۔ (۔ اسلام اور انسان۔ تاریخ اسلام اور انسانیت پر مبنی فیسبک پیج سے آپ پڑھ رہیں ، مجاہدین اسلام کے ہاتھوں کسریٰ فارس کی تباہی کی داستان حجاز کی آندھی) ہماری اس مقدس کتاب میں یہ ذکر یوں آیاہے ’’اور سلیمان کی بادشاہی کے وقت وہ اس علم کو پڑھتے تھے جو شیطان کا علم تھا، یہ کفر سلیمان نے نہیں کیا بلکہ شیطانوں نے کیا کہ وہ لوگوں کو جادو سکھاتے تھے اور لوگ اس علم کے پیچھے ہو گئے جو شہر بابل میں ہاروت اور ماروت نام کے دو فرشتوں پر اترا تھا یہ دنوں فرشتے جب انسانوں کو یہ جادو بتاتے تو ساتھ کہہ دیتے تھے کہ ہم تو آزمائش کیلئے آئے ہیں لہٰذا تم یہ کفر نہ کرنالیکن لوگ یہ جادو سیکھتے تھے جو مرد اور اس کی عورت کے درمیان جدائی ڈالتا ہے۔ اﷲ کے حکم کے بغیر وہ اس سے سوائے اپنا اور کسی کا نقصان نہیں کر سکتا جس نے جادو کو اختیار کیا اس کیلئے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ۔ اگر ان کو سمجھ ہوتی تو وہ اتنی بری چیز کے بدلے اپنی آخرت کو نہ بیچتے۔)سورہ ابقرہ:۱۰۲(
’’تم جادو کی بات کرتے ہو سپہ سالار!‘‘بوڑھے نے کہا۔’’ وہ جادو اب بھی چلایا جا رہا ہے۔ مدائن میں یہودی راہب بھی ہیں ۔وہ اس جادو کے ماہر تسلیم کیے جاتے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ مدائن کا بادشاہ ان سے جادو کے ذریعے مدد لے رہا ہے۔ میں نے ایک روز ایک یہودی راہب کو شاہِ فارس کے محل سے نکلتے دیکھا تھا جس سے مجھے شک ہوا کہ بادشاہ ان لوگوں کا سہارا لے رہا ہے……مجھے نظر آرہا ہے کہ فتح تمہاری ہو گی اور سلطنتِ فارس کا تخت تمہارے قدموں تلے ہو گا۔‘‘
’’سب اﷲ کے اختیار میں ہے۔ ‘‘سعدؓ بن ابی وقاص نے کہا۔’’ ہمارے پاس اتنی فوج نہیں جس پر ہم تکبر کریں۔ ہم اﷲ کا حکم لے کر آئے ہیں اور اسی کی پیروی کرتے ہیں،اور پھر انجام اسی کی ذاتِ باری پر چھوڑ دیتے ہیں۔ میں نہیں کہہ سکتا کہ فتح ہماری ہوگی ۔کون جانے اﷲ کو کیا منظو رہو گا۔‘‘
’’میں تمہاری فتح کی پیش گوئی اس لئے نہیں کر رہا کہ فارس کی فوجیں کٹ چکی ہیں اور جو بچ گئی ہیں وہ بندہ بندہ ہو کر بھاگی جا رہی ہیں۔‘‘ بوڑھے نے کہا۔’’ بلکہ میں کچھ اور دیکھ رہا ہوں۔ انسان اپنے آپ کو خود شکست دیا کرتا ہے ۔فارس کے جرنیل میدانِ جنگ سے بھاگ کر ان کھنڈروں میں پہنچے، سپاہی بھی آئے اور ان کے ساتھ وہ لڑکیاں بھی آئیں جو جرنیلوں اور دوسرے افسروں نے اپنے ساتھ رکھی ہوئی تھیں۔ میرا خیال تھا کہ یہ لوگ یہیں اکٹھے ہو کر انہی کھنڈروں کو مورچہ یا قلعہ بنا کر تمہارا مقابلہ کریں گے لیکن یہاں آکر انہوں نے خوب شراب پی اور پھر ان لڑکیوں پر ان کی آپس میں لڑائیاں ہوئیں، پھر میں نے جرنیلوں اور افسروں کو یہاں سے بھاگتے دیکھا ۔انہیں اطلاع ملی تھی کہ عرب کا لشکر بڑی تیزی سے چلا آرہا ہے اور جو شہر اس لشکر کے راستے میں آتا ہے اس کے رئیس ور دوسرے لوگ عربوں کی اطاعت قبول کر لیتے ہیں اور انہیں ہر طرح کی مدد بھی دیتے ہیں۔ جرنیلوں اور افسروں کے بھاگنے کے بعد فارس کے عہدے داروں اور سپاہیوں نے ان لڑکیوں کو خراب کرنا شروع کر دیا اور ان پر بعض نے تلواروں سے ایک دوسرے کا خون بہانے سے بھی دریغ نہیں کیا……
جس فوج کی نظر میدانِ جنگ میں بھی عورت اور شراب پر لگی ہوئی ہو ،اس کی تعداد اپنے دشمن کے مقابلے میں دس بارہ گنا زیادہ ہی کیوں نہ ہو ،وہ میدان میں نہیں ٹھہر سکتی۔ بابل کی تباہی کے پسِ منظر میں بھی عورت، شراب ،عیش و عشرت اور بادشاہوں کا فرعونوں جیسا تکبر تھا……تم نے نمرود کا نام سنا ہو گا اور تم نے فرعونوں کی باتیں سنی ہوں گی ۔جس طرح فرعون مصر کے خدا بنے ہوئے تھے اسی طرح نمرود اس خطے کا خدا تھا۔ لیکن اس شخص کو موت آئی تو قید خانے میں آئی۔‘‘
’’ہاں میرے بزرگ!‘‘سعدؓ بن ابی وقاص نے کہا۔’’ میں مصر کے فرعونوں کے متعلق بھی جانتا ہوں اور نمرود کے متعلق بھی ۔ اس نمرود کا ذکر بھی ہماری مقدس کتاب میں آیا ہے جسے ہم قرآن کہتے ہیں ۔یہ اﷲ کا کلام ہے ۔شاید تم جانتے ہو گے کہ نمرود کو ہمارے پیغمبر ابراہیمؑ نے قید خانے میں ڈالا تھا۔ ابراہیمؑ کیا تھے……اﷲ کے بندے تھے جنہیں اﷲ نے بنی نوع انسان کی بھلائی و رہنمائی کیلئے پیغمبری عطا کی……نمرود نے کہا کہ میں کیسے مان لوں کہ رعایا کے ایک عام بندے کو اتنا بڑا اعزاز مل جائے ۔اس نے ابراہیمؑ کو گرفتار کیا اور حکم دیا کہ آگ جلائی جائے اور اس شخص کو زندہ آگ میں پھینک دیا جائے ۔آگ جلائی گئی اور جب ابراہیمؑ کو اس میں پھینکنے لگے تو انہوں نے ذرا سا بھی خوف کا یا گھبراہٹ کا اظہار نہ کیا۔ وہ یوں آگ کی طرف چل پڑے جیسے وہ آگ تھی ہی نہیں۔ اُس وقت اﷲ نے آگ کو حکم دیا ……اے آگ سرد ہو جا۔ اتنی سرد بھی نہ ہو کہ اس شخص کو سردی سے بھی تکلیف پہنچے……ابراہیمؑ آگ میں جا کھڑے ہوئے اور آگ سرد ہو گئی ۔بعد میں یہی نمرود ابرایہمؑ کا قیدی بنا۔
وہ یوں آگ کی طرف چل پڑے جیسے وہ آگ تھی ہی نہیں۔ اُس وقت اﷲ نے آگ کو حکم دیا ……اے آگ سرد ہو جا۔ اتنی سرد بھی نہ ہو کہ اس شخص کو سردی سے بھی تکلیف پہنچے……ابراہیمؑ آگ میں جا کھڑے ہوئے اور آگ سرد ہو گئی ۔بعد میں یہی نمرود ابرایہمؑ کا قیدی بنا۔
’’عبرت پھر بھی کسی نے حاصل نہ کی۔‘‘ سفید ریش بزرگ نے کہا۔ ’’جس نے انسانیت کو اپنا غلام بنایا اس کا انجام یہی ہوا……انسان کی یہ فطرت ہے کہ وہ گزرے ہوئے وقت کی لغزشوں اور نادانیوں کو بھول کر گزرے ہوئے وقت کو ہی سب کچھ سمجھتا ہے ۔ماضی سے عبرت حاصل نہ کرنے والوں کا یہی حشر ہوتا ہے۔ عیش و عشرت میں جو پڑ جاتے ہیں وہ چڑھتے سورج کے پجاری ہوتے ہیں اور یہ نہیں دیکھتے کہ یہ سورج ڈوب بھی جایا کرتا ہے ……تم ان کھنڈروں کے اندر آؤ‘ تمہیں فارس کی بادشای کے محافظ سِسکتے اور کراہتے نظر آئیں گے۔‘‘ تفصیل سے پڑھئے
سعدؓ بن ابی وقاص اس کے ساتھ کھنڈروں کی طرف چل پڑے۔
اتنے عظیم الشام محلات اور اتنے حسین شہر کے کھنڈرات بڑے ہی ڈراؤنے تھے۔ زیادہ تر مکانات تو بالکل ہی ملبے کا ڈھیر بن گئے تھے ۔بعض عمارتوں کے ستون کھڑے تھے یا ادھوری ادھوری سی ایک ایک دو دو دیواریں کھڑی تھیں۔ محلات کی چھتیں غائب تھیں ۔دیواریں کھڑی تھیں ۔ کچھ عمارتوں کی چھتیں جھک آئی تھیں۔ان میں سانپوں ،اُلوؤں اور چیلوں جتنے بڑے بڑے چمگادڑ وں نے بسیرا کیا ہوا تھا۔
سعدؓ بن ابی وقاص نے مجاہدین کو دور دور تک پھیلے ہوئے کھنڈرات کی تلاشی لینے کیلئے بھیج دیا اور خود قصرِ نمرود کو دیکھنے چلے گئے ۔ان میں حشرات الارض رینگ رہے تھے۔
’’آہ انسان!‘‘سعد ؓنے کہا اور سورہ ہود کی دو آیات پڑھیں۔’’ اور جب تمہارے رب کا حکم آیا تو ان قوموں کو ہلاکت کے سوا کچھ نہ ملا۔ ایسی ہی پکڑ ہے تمہارے رب کی جس بستیوں کو پکڑتا ہے ان کے گناہوں پر بیشک اﷲ کی پکڑ بڑی ہی شدید ہے۔‘‘
اب ایک اور قوم کو ربِ باری تعالیٰ نے پکڑ لیا تھا جو سورج اور آگ کی عبادت کرتی تھی اور جس کے بادشاہوں کے آگے لوگ سجدے کرتے تھے۔ ان بادشاہوں کی جنگی قوت جس نے ہر قوم پر ہیبت طاری کر رکھی تھی ۔ بابل کے کھنڈروں میں پڑی کراہ رہی تھی۔ اپنے زخم چاٹ رہی تھی۔
فارس کے ان زخمی فوجیوں کی تعداد دو ہزار کے قریب تھی ۔ان میں جو اُٹھ سکتے تھے وہ کھنڈروں سے باہر آگئے اور جنہیں زخموں نے نڈھال کر رکھا تھا وہ کراہ رہے تھے۔ ان تمام زخمیوں کی جذباتی کیفیت یہ تھی کہ وہ روتے تھے ۔اپنے افسروں کو کوستے اور اپنے بادشاہوں کو گالیاں دیتے تھے۔
’’سپہ سالار!‘‘سعدؓ بن ابی وقاص کو بنو تمیم کے ایک سردار نے آکر کہا۔’’ زخمیوں کی تعداد کچھ کم نہیں، وہ اپنے سالاروں اور بادشاہوں کی جانوں کو رو رہے ہیں۔ ان میں سے کئی ایک نے کہا ہے کہ وہ اسلام قبول کرنا چاہتے ہیں ۔بعض نے کہا ہے کہ وہ اپنے پورے پورے خاندان سمیت مسلمان ہو جائیں گے۔‘‘
’’نہیں! ‘‘سعدؓ بن ابی وقاص نے کہا۔’’ وہ اپنی جانوں کے خو ف سے اسلام قبول کر رہے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ہم انہیں اسی حالت میں پڑا رہنے دیں گے اور یہ زخموں سے خون بہہ جانے سے مر جائیں گے۔ اگر اس حالت میں ہم نے انہیں مسلمان کر لیا تویہ جبر ہوگا اور یہ لوگ دل سے مسلمان نہیں ہو ں گے۔ ان کی مرہم پٹی کا انتظام کرو۔ انہیں پانی پلاؤ۔ یہ بھوکے ہوں گے انہیں کھانا دو اور انہیں بتاؤ کہ تم ہماری پناہ میں ہو اور تم پر کوئی جبر اور تشدد نہیں ہوگا……ان سے ہتھیار لے لو اور ان سے گھوڑے بھی لے لو۔‘‘
فوراً ہی سپہ سالار کی حکم کی تعمیل شروع ہو گئی۔
پھر چار پانچ لڑکیوں کو سعدؓ بن ابی وقاص کے سامنے لایا گیا۔ وہ نو خیز دوشیزائیں تھیں ۔ایک سے بڑھ کر ایک دل کش اور حسین تھی لیکن ان کی جسمانی حالت اتنی بری تھی کہ ان سے چلا نہیں جاتا تھا ۔وہ اس خوف سے چلّا رہی تھیں کہ مسلمان بھی ان کے ساتھ وہی سلوک کریں گے جو ان کھنڈروں میں ان کے اپنے فوجی افسر اور عہدیدار میدانِ جنگ سے بھاگ کر کرتے رہے تھے۔
سعدؓ بن ابی وقاص نے انہیں تسلی دلاسا دیا کہ ان کے ساتھ ویسا سلوک نہیں ہو گا لیکن سب کی سب ایک ہی رٹ لگائے جا رہی تھیں کہ انہیں جان سے مار دیا جائے۔
’’کیا تم اپنے گھروں کو جانا چاہتی ہو؟‘‘ ان سے پوچھا گیا۔
’’نہیں!‘‘سب نے باری باری کہا۔’’ ہم میں سے کوئی بھی زندہ نہیں رہنا چاہتی۔‘‘
’’میں تمہیں ایسی زندگی دوں گا کہ تم سب زندہ رہنا چاہو گی۔‘‘ سعدؓ بن ابی وقاص نے کہا۔’’ تم ہماری عورتوں کے ساتھ رہو گی۔ کوئی مرد تمہارے قریب سے گزرے گا بھی نہیں۔‘‘
سعدؓ کے حکم سے انہیں گھوڑوں پر بٹھا کر پیچھے عورتوں کے پاس بھیج دیا گیا۔
٭
مدائن دریائے دجلہ کے سامنے والے کنارے پر آباد تھا اور بُہر شیر اس کے بالمقابل اس طرف والے کنارے پر واقع تھا ۔مؤرخوں نے لکھا ہے کہ مدائن اور بُہر شیر ایک ہی شہر تھا جس کے درمیان سے دجلہ بہتا تھا ۔اس لیے شہر کے دونوں حصوں کا نام الگ الگ رکھ دیئے گئے تھے۔
مدائن کی دریا کی طرف والی دیوار دریا سے اڑھائی تین فرلانگ دور تھی۔ بارشوں کے موسم میں دریا میں سیلاب آجایا کرتا تو پانی شہر کی دیوار تک پہنچ جایا کرتا تھا۔ وہ علاقہ نشیبی تھا۔ اس لیے وہاں پانی جمع رہتا اور وسیع تالاب بنے رہتے تھے۔ وہاں درختوں کی بہتات تھی اور ہرے سرکنڈوں کا جنگل بھی تھا۔
اس لیے وہاں پانی جمع رہتا اور وسیع تالاب بنے رہتے تھے۔ وہاں درختوں کی بہتات تھی اور ہرے سرکنڈوں کا جنگل بھی تھا۔
ماہی گیر اور ملاح دریا کے کنارے اپنے اپنے کاموں میں مصروف دکھائی دیتے تھے لیکن وہ ان وسیع تالابوں کی طرف نہیں جاتے تھے کیونکہ اس علاقے میں ان کا کوئی کام نہیں ہوتا تھا اور اس لیے بھی کہ یہ علاقہ خطرناک بھی تھا۔ ان تالابوں میں پانی کے عفریت دیکھے گئے تھے۔ تین چار بڑے مگر مچھ اور اتنے ہی چھوٹے مگرمچھ تھے ۔ ان کے علاوہ ایک اژدھا بھی دیکھا گیا تھا جو پانی میں رہتا تھا۔ یہ بیس بائیس فٹ لمبا اورایک فٹ سے زیادہ موٹا سانپ تھا ۔یہ پانی میں رہنے والی نسل سے تھا جو درخت پر بھی چڑھ جایا کرتا تھا۔ بھیڑ، بکری اور انسان کو سالم نگل لیا کرتا تھا۔
یہ عفریت نہ ہوتے تب بھی یہ علاقہ بڑا ہی ڈراؤنا لگتا تھا۔ راتوں کو یہاں الّوؤں کی آوازیں سنائی دیا کرتی تھیں اور دن کو درختوں پر گدھ بیٹھے رہتے تھے اور بڑے چمگادڑ درختوں سے الٹے لڑکے رہتے تھے۔ ان سینکڑوں چمگادڑوں کی کی چیختی ہوئی آوازیں دن کے وقت بھی ڈرا دیا کرتی تھیں۔
لوگ کہتے تھے کہ اس علاقے میں جنات اور چڑیلوں کا بسیرا ہے۔ بہت دنوں سے رات کو درختوں کے گھنے جھنڈ میں روشنی نظر آنے لگی تھی جو کچھ دیر نظر آتی اور غائب ہو جاتی تھی ۔ماہی گیروں اور ملّاحوں نے مدائن کے لوگوں کو بتایا تھا کہ ان درختوں اورسرکنڈوں کے گھنے جنگل میں ایک کُٹیا ہے جو پہلے نہیں ہوا کرتی تھی۔
رات کو شہر کے لوگوں نے دیوار پر چڑھ کر دیکھا تھا اور انہیں وہاں روشنی نظر آئی تھی۔ ہر رات لوگ شہرِ پناہ پر چلے جاتے اور اُدھر دیکھتے تھے۔
’’شہر پر بہت بڑی آفت آنے والی ہے۔‘‘ لوگ کہتے تھے۔
’’آفت تو آچکی ہے۔‘‘ بزرگ کہتے تھے۔’’ عرب کے مسلمان آسمانی آفت کی طرح آرہے ہیں۔ ہماری فوج آدھی بھی نہیں رہی اور جو ہے وہ نہ جانے کہاں کہاں پناہیں ڈھونڈ رہی ہے۔‘‘
لوگوں کے یہ خوف اور اندیشے شاہی محل تک پہنچے تو وہا ں سے یہ حکم جاری ہوا کہ شہر کا کوئی شخص دن کو یا رات کو شہرِپناہ پر نہیں چڑھ سکتا اور اگر کوئی پکڑا گیا تو اس کی وہیں گردن مار دی جائے گی۔
٭
شاہی محل میں شاہِ فارس یزدگرد ، اس کی ماں نورین اور سوتیلی بہن پوران کو معلوم تھا کہ دریا کے کنارے اُس خطرناک دلدلی علاقے میں راتوں کو جو روشنی دکھائی دیتی ہے وہ کیا ہے۔ انہیں اب اسی روشنی پر بھروسہ تھا اور اس یقین کو انہوں نے عقیدہ بنا لیا تھا کہ یہ روشنی مسلمانوں کو اندھا اور کمزور کر دے گی اور وہ شاہِ فارس کے آگے ہتھیار ڈال کر اس کے غلام ہو جائیں گے۔
جس وقت فارس کا لشکر قادسیہ سے پسپا ہواتھا اور رستم مارا گیا تھا اور یہ خبر شاہی محل پر بم کی طرح گری تھی تو مدائن کا ایک معمر یہودی راہب یزدگرد کے پاس گیا تھا۔ اس نے یزدگرد کے ساتھ بہت باتیں کیں اور اسے یقین دلایا تھا کہ وہ مسلمانوں کی پیش قدمی کو نہ صرف روک لے گا بلکہ انہیں تباہ و برباد کر دے گا۔
اس یہودی راہب نے کہا تھا کہ اسے چند ایک اشیاء مہیا کر دی جائیں تو وہ ایسا جادو کر سکتا ہے جو مسلمانوں کے سالاروں کو جسمانی طور پر بھی اندھا کر دے گا اور وہ عقل کے بھی اندھے ہو جائیں گے۔ اس نے جن اشیاء کا مطالبہ کیا تھا ان میں ایک نوخیز دوشیزہ تھی دو الو اور ایک نوزائیدہ بچہ جس کی عمر تین دن سے زیادہ نہ ہو۔ ا س نے یہ بھی کہا تھاکہ کچھ اور اشیاء بھی درکار ہیں جووہ خود اکٹھی کرلے گا۔
یہ اشیاء اکٹھی کرتے کرتے خاصا وقت گزر گیا تھا۔ نوخیز دوشیزہ کا حصول تو کوئی مشکل کام نہ تھا۔ بادشاہ کے درباری ایسی دلکش لڑکیوں کی تلاش میں رہتے تھے۔ کسی بھی حسین دوشیزہ کے والدین اسے شاہی محل کے حوالے کرنے میں فخر محسوس کیا کرتے تھے۔ یہودی راہب کو اس کی ضرورت کے مطابق ایک لڑکی دے دی گئی تھی لیکن لڑکی کو یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ اسے شاہی حرم کیلئے نہیں بلکہ کسی اور مقصد کیلئے اس بوڑھے راہب کے حوالے کیا گیا ہے۔
راہب اسے اپنی عبادت گاہ میں لے گیا تھا اور اسے خاص قسم کی غذا دی جاتی تھی۔ آدھی رات کے وقت راہب لڑکی کو اپنے سامنے فرش پر بٹھا لیتا تھا اور اس کے کپڑے اترواکر اسے ایک سیاہ چغہ پہنا دیتا تھا۔ اسی چغے کا بالائی حصہ لڑکی کے سر کو بھی ڈھانپ لیتا تھا ۔راہب اس کے ماتھے پر اپنا ایک ہاتھ یوں پھیلا دیتا تھا کہ انگوٹھا لڑکی کی ایک کنپٹی پر اور درمیان والی انگلی دوسری کنپٹی پر ہوتی۔ راہب اس کی کنپٹیاں آہستہ آہستہ مسلتا اور بڑبڑاتا رہتا تھا۔ دن کو لڑکی اپنے کپڑوں میں سوئی رہتی تھی اور کچھ وقت کیلئے اس سے کوئی خاص عبادت کرائی جاتی تھی۔
’’اے مقدس راہب! ‘‘ایک روز لڑکی نے یہودی سے پوچھا ۔’’یہ سب کیا ہے اور مجھے میرے گھر سے یہاں کیو ں لایا گیا ہے؟ میں تو کچھ اور سمجھی تھی۔‘‘
’’ہاں لڑکی!‘‘یہودی راہب نے کہا۔’’ وہی ٹھیک ہے جو تم سمجھی تھیں۔ تم اتنے دنوں سے یہاں ہو ،تم دیکھ رہی ہو کہ تمہارے اتنے زیادہ حسین اور دلکش جسم میں میرے کسی آدمی نے دلچسپی نہیں لی۔ نہ تمہارے ساتھ کوئی بیہودہ حرکت کی ہو گی۔ تمہارے جسم کو پاک اور مقدس رکھا جائے گا۔‘‘
’’لیکن کیوں؟‘‘
’’اس لیے کہ تمہیں شاہِ فارس یزدگرد کی ملکہ بننا ہے۔‘‘ یہودی راہب نے جھوٹ بولا۔’’ تم نے اسے دیکھا ہو گا۔ وہ بہت خوبصورت اور دانشمند ہے ۔وہ تمہیں حرم میں نہیں رکھے گا۔ اس نے تمہیں ملکہ بنانے کیلئے منتخب کیا ہے اور مجھے حکم دیا ہے کہ تمہاری ذات میں وہ خوبیاں پیدا کروں جو ملکہ میں ہونی چاہئیں۔‘‘
لڑکی پر نشہ طاری ہو گیا جیسے وہ ملکہ بن گئی ہو۔
٭
یزدگرد دوسرے تیسرے دن یہودی کو بلا کر پوچھتا تھا کہ اس کا جادو کہاں تک پہنچا ہے؟ راہب کے پاس ایک ہی جواب ہوتا تھا کہ وہ وقت ضائع نہیں کر رہا اور یہ بھی کہ اتنا زبردست جادو اتنی جلدی تیار نہیں ہوا کرتا۔
یزدگرد کو اپنی فوج کی پسپائی اور مسلمانوں کی پیش قدمی کی جو خبریں روز بروز مل رہی تھیں، وہ اس کے پاؤں تلے سے زمین نکال رہی تھیں۔ پورا فارس اس کی مٹھی سے نکل رہا تھا اور اس قدر مایوس اور پریشان ہو گیا کہ ایک روز اس نے یہودی راہب کو بلایا۔
’’اگر آپ سے کچھ نہیں ہو سکتا تو مجھے بتا دیں۔‘‘ یزدگرد نے کہا۔’’ میں آپ کو کوئی سزا نہیں دوں گا۔‘‘
’’اپنی عبادت گاہ میں میرا جو کام تھا وہ ختم ہو گیا ہے۔‘‘ یہودی راہب نے کہا۔’’ میں نے دریا کے کنارے ایک جھونپڑا تیار کروا لیا ہے ۔لڑکی کو وہاں لے جا رہا ہوں۔ دو الو وہاں پہنچا دیئے گئے ہیں۔ چار پانچ دنوں بعد مجھے ایک نوزائیدہ بچے کی ضرورت ہو گی۔‘‘
’’کیا آپ جانتے ہیں کہ مسلمان کہاں تک آگئے ہیں؟‘‘یزد گرد نے کہا۔’’ بُرس پر ان کا قبضہ ہو گیا ہے۔ کوثیٰ میں شہریار مارا گیا ہے اور یہ شہر بھی مسلمانوں کے پاس چلا گیا ہے ۔سورا اور دیرا پر بھی مسلمان قابض ہو گئے ہیں اور اب انہوں نے بُہر شیر کا محاصرہ کر لیا ہے۔ اِدھر آپ ہیں کہ دن پر دن گزارتے چلے جارہے ہیں ۔کیا آپ اُس وقت کچھ کریں گے جب مسلمان مدائن میں داخل ہو جائیں گے؟‘‘
’’شہنشاہِ فارس!‘‘بوڑھے یہودی نے کہا۔’’ آپ میری کچھ باتیں بھول گئے ہیں۔ میں نے کہا تھا کہ آپ کسی طریقے سے اپنی فوج کا حوصلہ مضبوط کریں ، خواہ آپ کو خود آگے جانا پڑے۔ مجھے یہ توقع تھی کہ ہماری فوج کہیں نہ کہیں مسلمانوں کو روک لے گی اور کچھ دن روکے رکھے گی اور مسلمانوں کی پیش قدمی تیز نہیں ہو گی۔ میں اتنے وقت میں اپنا کام مکمل کر لوں گا لیکن ہماری فوج نے کہیں بھی قدم جمانے کی کوشش نہیں کی ……جادو اگر ایک انسان پر کرنا ہو تو ذراسی دیر میں ہو جاتا ہے لیکن ایک لشکر کو جادو کے زور پر روک لینے کیلئے بہت وقت درکار ہوتا ہے۔ اس جادو کی تیاری میں اپنی جان کا بھی خطرہ ہوتا ہے۔ اگر میں آپ کو خوش کرنے کیلئے جلد بازی کروں تو جادو کمزور ہونے کی وجہ سے بیکا رہو سکتا ہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جادو اُلٹا اثر کر جائے۔ اس صورت میں آپ کی تباہی کا عمل اور تیز ہو جائے گا۔ آپ یہ کام کریں کہ بُہر شیر میں کمک بھیجیں تاکہ محاصرہ لمبا ہو جائے۔ اپنی فوج کو پیغام بھیجیں کہ غیب سے مدد آرہی ہے ۔جم کر لڑیں۔‘‘
یہ تھا وہ جادو جس کا ذکر قرآن پاک میں آیا ہے اور جسے اﷲ تعالیٰ نے اپنے دو فرشتوں ہاروت و ماروت سے منسوب کیا ہے اور اس کے ساتھ ہی اسے شیطان کا کام کہا ہے۔ یہودی جسے اﷲ تعالیٰ نے دھتکاری ہوئی قوم کہا تھا، اس جادو کے پیچھے پڑ گئے ۔یہودی کی فطرت میں ہے کہ وہ ہر اس کام کو پسند کرتا ہے جس کام میں شیطان کا عمل دخل ہو۔ جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے کہ یہودی مسلمانوں کے جانی دشمن تھے۔ انہوں نے مسلمانوں کے خلاف جادو کا استعمال بھی کیا رسول کریمﷺ پر انہوں نے جادو بھی چلایا اور دھوکے سے زہر بھی دیا۔ اس کے علاوہ جہاں کہیں مسلمانوں کو کامیاب ہوتے دیکھا وہاں زمین دوز کارروائیوں سے مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی اور مسلمانوں کے دشمنوں کو ہر طرح سے مدد دینے کی اور ا ن کے ہاتھ مضبوط کرنے کی کوشش کی۔ وہ آج تک ان کوششوں میں مصروف ہیں۔
یہ بوڑھا یہودی راہب یزدگرد کو جادو کا سہارا دے رہا تھا۔ یہ نہیں بتایا جا سکتا تھا کہ وہ واقعی جادو کر رہا تھا یا جادو چلانا بھی جانتا تھا یا نہیں۔ لیکن وہ یزدگرد کا حوصلہ مضبوط کررہا تھا اور اُسے اُکسا رہا تھا کہ وہ اپنی فوج کا حوصلہ مضبوط کرے۔ اس نے یزدگرد پر اپنا اثر ڈال لیا تھا۔ اثر بھی اتنا جیسے اسے ہپناٹائز کرلیا ہو۔
اُسی رات یہ بوڑھا یہودی اس لڑکی کو شہر سے باہر دریا کے کنارے اس علاقے میں لے گیا جس میں سیلابی پانی کے تالاب بنے رہتے تھے اور جہاں درختوں اور سرکنڈوں کا گھنا جنگل تھا ۔وہاں اس نے ایک کُٹیا بنا لی تھی، جس میں زیادہ تر لکڑی استعمال کی گئی تھی۔ اس کا ایک جواں سال چیلا بھی اس کے ساتھ تھا۔ وہاں انہوں نے اپنے لیے اور لڑکی کیلئے کھانا پکانے کا اور بستروں کا بھی انتظام کرلیا تھا۔ ان کا زیادہ تر کام رات کو کٹیاکے باہر ہوتا تھا۔
راہب نے دو اُلّو بھی پکڑ رکھے تھے۔ انہیں کوئی ایسی غذا کھلاتا تھا کہ وہ اُڑ کر کہیں جاتے ہی نہیں تھے۔ کُٹیا میں ہر وقت لوبان کی دھونی جلتی رہتی تھی۔ رات کو راہب لڑکی کو سیاہ چغہ پہنا کر دو زانو بٹھا لیتا تھا۔ ایک اُلّو اس کے دائیں کندھے پر اور دوسرا بائیں کندھے پر بٹھا دیتا تھا۔ کُٹیا میں ایک فانوس جلتا رہتا تھا۔ اس کی روشنی تھی جو لوگوں کو دور سے نظر آتی تھی اور اسے وہ پراسرار روشنی سمجھتے تھے۔ یہ تو کوئی بھی نہیں سوچ سکتا تھا کہ یہاں کوئی انسان آباد ہے۔
اس کی روشنی تھی جو لوگوں کو دور سے نظر آتی تھی اور اسے وہ پراسرار روشنی سمجھتے تھے۔ یہ تو کوئی بھی نہیں سوچ سکتا تھا کہ یہاں کوئی انسان آباد ہے۔
جاری ھے

Next Episode


No comments:

غازی از ابو شجاع ابو وقار قسط نمبر60 Ghazi by Abu Shuja Abu Waqar

Ghazi  by  Abu Shuja Abu Waqar  غازی از ابو شجاع ابو وقار  پیشکش محمد ابراہیم 60 آخری قسط نمبر  Ghazi by Abu Shuja Abu...

Powered by Blogger.