غازی از ابو شجاع ابو وقار قسط نمبر 12 Ghazi by Abu Shuja Abu Waqar
Ghazi
by
Abu Shuja Abu Waqar
غازی از ابو شجاع ابو وقار
پیشکش محمد ابراہیم
قسط نمبر12
Ghazi by Abu Shuja Abu Waqar
Presented By Muhammad Ibraheim
Episode 12
اس کرنل کا نام شنکر تھا اور بعد کے اوراق میں آپ پڑھیں گے کہ اس کرنل کی وجہ سے مجھے کتنی کامیابیاں ملیں
میں کلب سیکرٹری کے دفتر میں گیا وہ مجھے لے کر کلب کی بار میں صوفے پر بیٹھے ہوئے گروپ کی طرف لے گیا اور ایک شخص کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ وہ کرنل مدن بیٹھے ہوئے ہیں اور ان کے قریب جا کر کہا کہ سر یہ شخص دن کو بھی آپ سے ملنے کے لیے آیا تھا کرنل نے سوالیہ نظروں سے میری طرف دیکھا کہ میں جوشی کے ریفرنس سے آپ سے ملنے آیا ہوں جوشی کا نام میں نے خود گھڑ لیا تھا کیونکہ بھارت میں نام کے آخر میں جوشی بہت استعمال ہوتا ہے کرنل مدن نے چند لمحے اپنے ذہن کو کریدا اور کہا you mean col. Joshi of 11 punjab
میں نے اثبات میں سر ہلایا اور انہی کہا کہ میری ان سے دور کی رشتہ داری ہے میں چوپڑا ہوں کرنل ہنستے ہوئے اٹھا اور بڑی گرمجوشی سے ہاتھ ملایا اور کہا کہ جوشی اور میں جیسور میں اکٹھے تھے71 کی جنگ مشرقی پاکستان کی ایک چھاؤنی جہاں گھمسان کا رن پڑا تھا پاکستان اور بھارت کی پنجاب رجمنٹوں نے دو بدو لڑتے ہوئے بہادری کے جوہر دکھائے جہاں دونوں کو بہت زیادہ نقصان اٹھانا پڑا تھا کرنل نے مجھے بیٹھنے کی دعوت دی جو میں نے قبول کر لی اور کہا کہ آپ سے میرا ملنے کا مقصد یہ تھا کہ میں یہاں دہلی میں بہت بور ہو چکا ہوں خصوصاً شام گزارنی تو اک عذاب ہے اسی لیے آج دن کو بھی آپ سے ملنے آیا تھا اور ابھی بھی اس لیے ملنے آیا ہوں کہ اک شام تو صاف ستھرے ماحول میں گزر جاے کرنل نے جوابا کہا be my guests میں یہاں کلب میں ہی رہتا ہوں اور کلب سیکرٹری کو بلا کر کہہ دیتا ہوں کہ تم جب بھی یہاں آؤ تم کو میرے مہمان کی حیثیت سے ٹریٹ کرے اس کے ساتھ ہی سرگوشی میں کہا کہ جب بھی اکیلے یہاں آؤ تو اپنا بل ضرور ادا کر دیا کرنا میں نے کہا
I will and thanks for your hospitality.
کرنل نے اپنے ساتھیوں سے میرا تعارف کروایا ان کی گفتگو کا سلسلہ جو میری آمد کی وجہ سے ٹوٹ گیا تھا پھر سے شروع ہو گیا اور میں بھی بڑھ چڑھ کر اس میں حصّہ لینے لگا میں چاہتا تھا کہ میری زیادہ سے زیادہ افسران سے بے تکلفی ہو جاے میں تھوڑی دیر میں ہی ان میں گھل مل گیا کلب میں آفیسرز ایوننگ جیکٹس یا ایوننگ سوٹ پہنے آ رہے تھے وہاں پر فوجی افسران کی پہچان بہت جلدی ہو جاتی تھی آفیسرز چاہے کسی بھی رینک کا ہو بار کے دروازے داخل ہوتے ایٹینشن ہوتا ہے بلکل اسی طرح جیسے بغیر ٹوپی کی سلیوٹ کیا جاتا ہے جو اکا دکا سویلین آ رہے تھے وہ سیدھے داخل ہو جاتے تھے اس دوران کلب کے اندر سے زیادہ باہر لان میں رونق تھی لان میں درجنوں کرسیاں اور ٹیبل رکھ دیئے گئے تھے نوجوان آفیسرز اور چند جوڑے وہاں بیٹھے ہوئے تھے کرنل مدن نے قریب ایک گھنٹے کے بعد مجھے کارڈ روم میں چلنے کی دعوت دی میں نے انتہائی معذرت کرتے ہوئے کہا کہ مجھے تاش کے کھیل میں خصوصاً برج کھلنا نہیں آتا کرنل کے ہمراہ اس کے دو تین ساتھی بھی اٹھ کھڑے ہوئے یہ سب میجر یا کرنل تھے جو باقی بیٹھے رہے میں نے ان سے تھوڑی دیر بعد اجازت لی
اور لان میں چلا آیا ٹریننگ کے دوران مجھے بتایا گیا تھا کہ کیپٹن اور نئے میجر تک کے افسران بہت محتاط ہوتے ہیں جبکہ میجر سے اوپر کے افسران احتیاط نہیں کرتے اگر ان ہائی براس سے میل جول ہو جاے تو پھر کیپٹن اور میجر بھی شک نہیں کرتے میں کچھ دیر تک ہاتھ میں گلاس لے کر لان کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک ٹہلتا رہا پھر واپس اپنے ہوٹل چلا آیا دہلی میں برسات کا آغاز ہو چکا تھا آسمان پر گہرے بادل چھاے ہوے تھے تھوڑی دیر بعد ہی بوندا باندی شروع ہو گئی اور پھر یوں گھٹائیں ٹوٹ کر برسیں کہ ہر طرف جل تھل ہو گئی
یہاں میں قارئین کی نظر ایک بات کرتا چلوں کہ بھارت میں یہ جاسوسی بلکل اصلی واقعات پر مبنی ہے یہ کوئی افسانوی کہانی نہیں اور نہ ہی اس میں زیب داستاں کے لیے اضافہ کیا گیا ہے ہم پانچ افراد جو جاسوسی کے لیے پاکستان سے بھارت آئے تھے مشن کی تکمیل کے لیے آے تھے اور کوئی غیر معمولی انسان نہیں تھے یہ تو اک جذبہ جس کے تحت ہم نے اس خطرناک کام کو سرانجام دینے کا بیڑا اٹھایا تھا اور خود والنٹیر کیا تھا بھارت میں کامیابیوں کے ساتھ ساتھ ہمیں کچھ ناکامیوں کا بھی سامنا کرنا پڑا تھا جن کا ذکر بعد کی اقساط میں آے گا دہلی میں آشا سے ملنا سروسز کلب میں کرنل شنکر اور مدن سے ملنا میرے ساتھیوں کا وہاں کے سویلین ملازمین کی دفتری اور گھریلو حالات کی چھان بین اور اس کے علاوہ دیگر ہماری بھاگ دوڑ کا صرف ایک مقصد تھا کہ ہم نہ صرف ہیڈ کوارٹر میں داخل ہو سکیں بلکہ وہاں پر رابطے بڑھا کر اہم معلومات حاصل کر سکیں اگر ایک میں ناکامی ہو تو پھر دوسرا راستہ تلاش کرنے کی بجائے میری حکمت عملی یہ تھی کہ دشمن پر چاروں طرف سے حملہ کر دو اس سے نہ صرف وقت کی بچت ہوتی ہے بلکہ دشمن کا کوئی ویک پوائنٹ بھی ملنے کا امکان ہوتا ہے ہمیں تازی ترین اور اس کا تسلسل رکھنے کی ضرورت تھی اور اس کے لیے ہم چند نہیں سینکڑوں رابطے تلاش کرنے کے لیے تیار تھے چاہے وہ اعلی ہوں یا کمتر ہم اپنے مقاصد کے حصول کے لیے انتہائی بلندی اور انتہائی پستی میں بھی گرنے کے لیے تیار تھے اسے آپ جنون کہہ لیں یا سقوط ڈھاکہ میں لگے زخموں کے درد کہ ہم ہر خطرے سے بےپرواہ ہو کر اپنے مقاصد کے حصول کے لیے کوشاں تھے اگلا دن بارش کی نظر ہو گیا اور اگلا دن نسروسز کلب میں گزارا لیکن کوئی کامیابی نہ ملی کرنل شنکر بھی مجھ سے کافی محتاط ہوگیا تھا اس کے پاس بھی دو تین بار بیٹھا مگر بے سود ہاں جب اس کے پاس سے اٹھتا تو وہ دوبارہ ملنے کا ضرور کہتا اس کےمحتاط روئیے کی وجہ سے میں نے کبھی بھی اس سے ہیڈ کوارٹر کے متعلق بات نہیں کی ایک روز شام سات بجے اس کے پاس گیا تو وہ اپنے کمرے میں تھا میں دروازہ ناک کیا تو بیٹ میں نے اسے بتایا اور مجھے سیٹنگ روم میں بٹھا دیا گیا کرنل شنکر کے پاس دو کمرے تھے بیڈ روم اور سٹنگ روم تھوڑی دیر بعد کرنل وردی پہنے بیڈ روم سے باہر آیا اسکے ہاتھ میں بریف کیس تھا اس نے کہا کہ ارجنٹ میٹنگ کے لیے ہیڈ کوارٹر جارہا تھا اس لیے وہ میرا ساتھ نہ دے سکے گا میں سوچ رہا تھا کہ اس بریف کیس میں نہ جانے کیسی قیمتی فائلیں ہوں گی اتنی مختصر سی بات کے بعد ہم دونوں باہر آگئے پارکنگ میں ایک ہندوستانی گاڑی بھارتی نمبر پلیٹ کے ساتھ کھڑی تھی کرنل نے ہاتھ ملایا اور تیزی سے کار سٹارٹ کر کے چلا گیا اگر مجھے پہلے اس صورت حال کا علم ہوتا تو میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر اس بریف کیس کے حصول کے لیے کچھ کر گزرتا چاہے کرنل کو ختم ہی کیوں نہ کرنا پڑتا لیکن اب یہ بے سود تھا اس بریف کیس کے حصول کے لیے مجھے شیر کی طاقت کے ساتھ لومڑی کی چالاکی کو بھی استعمال کرنا تھا میں ارادہ کیا کہ کرنل کے بیٹ مین کو پھانسنے کی کوشش کروں گا میں ان چند دنوں میں اپنے ساتھیوں سے بھی ملا وہ سب اپنی اپنی کوششوں میں مصروف تھے لیکن. ابھی تک کوئی خاطر خواہ کامیابی نہ ملی تھی ہم نے حساب لگایا کہ جتنے کم عرصے میں ہم نے احمد نگر کی فائلیں پاکستان بھجوائیں تھیں اس بڑی کامیابی کی وجہ سے ہمارے سئنرز ہمارا خاصہ بلند امیج بنا چکے ہوں گے کونٹیکٹ کی آمد میں بھی کم وقت رہ گیا تھا فائلوں کے حصول پر ہمیں اپنے سئنرز کے رد عمل دیکھنے کی خواہش تھی میں چاہتا تھا کہ اس بار بھی اپنے کونٹیکٹ کے ذریعے خاصہ مواد بھیجوں اس کے لیے کرنل شنکر کے بیٹ مین کو ٹٹولنا چاہتا تھا اگر وہ ہاتھ نہیں آتا تو پھر گھی تو نکالنا ہی تھا چاہے ٹیرھی انگلی سے نکالنا پڑے. اس دوران آشا کا فون آیا اس نے کہا کہ شام 4بجے میں اسے اکبر ہوٹل میں ملوں میں 4بجے اکبر ہوٹل چلا گیا کافی شاپ میں آشا ایک خوبرو جوان کے ساتھ بیٹھی تھی میں ابھی اسی شش و پنج میں ہی تھا کہ آشا نے اشارے سے مجھے اپنے ٹیبل پر آنے کا اشارہ دیا اور پھر اس جوان سے میرا تعارف کروایا وہ ایم ای ایس کے ایک بریگیڈیئر کا لڑکا تھا اور زیر تعلیم تھا آشا نے یا تو میرا قرب حاصل کرنے کے لیے مجھے جلانے کے لیے یا پھر اس کے شوہر کے کسی ٹھیکہ کے سلسلے کی اک کڑی تھی وہ جوان فون کرنے کے لیے ایک طرف گیا تو جو آشا نے مجھے بتایا وہ میرا دوسرا خیال درست نکلا اس جوان کا آشا سے ملنا ایک ٹھیکے کا حصہ تھا
میں ان کی ٹیبل پر قریب 30 منٹ بیٹھا رہا اس دوران کبھی آشا اس جوان کے قریب ہو کر اس سے سرگوشی میں بات کرتی اور کبھی بے تکلفی سے میرا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیتی اور اس جوان سے میری چاے کے کاروبار کا بڑھا چڑھا کر بیان کرتی کبھی مجھے اسکی شہ خرچیوں کا بتاتی مجھے بہت جلد یہ محسوس ہو گیا کہ آشا کا مجھے بلانے کا مقصد ایک تیر سے دو شکار کرنا تھے وہ ہم دونوں میں رقیبانا جذبات پیدا کرنا چاہتی تھی تاکہ ہم دونوں سے اپنے مقاصد پورے کر سکے آشا سے جلد ملنے کا وعدہ کر کے میں ان کے ٹیبل سے آٹھ گیا آشا نے تعارف کے بعد بہت جلد مجھے اپنی نجی زندگی کا احوال بتایا تھا یہ ضرور اسکی ازدواجی زندگی کی محرومیاں اور اس کے شوہر کا اسکو ٹھیکوں کے لیے استعمال کرنا تھا جے چند جیسے بوڑھے سے اسکی شادی اس کے والد کی مالی مجبوری تھی لیکن جےچند نے بھی اسے اپنے کاروبار کے لیے اسے استعمال کرنا شروع کر دیا تھا اور اب یہ پڑھی لکھی جوان اور خوبصورت عورت اپنے شوہر اور اپنے سماج سے باغی ہو چکی تھی
جب میں نے اسے کہا کہ میں غیر شادی شدہ ہوں اور بہت بڑے کاروبار کا مالک ہوں اور اس کے حسن سے متاثر ہوں تو ہو سکتا ہے اس نے اپنا مستقبل میرے ساتھ وابستہ کر دیا ہو
بہرحال میں نے آشا کے روئیے سے یہ محسوس کیا کہ ابھی وہ کام نہیں آ سکتی اور ہوٹل پہنچتے پہنچتے میں فیصلہ کیا کہ آشا کو سٹینڈ 2 آپشن میں رکھ کر اور ذرائع استعمال کروں جن میں میرے ساتھیوں کی حاصل کردہ معلومات کرنل شنکر کا بیٹ مین اور سروسز ہوٹل میں گزاری شامیں اپنے تعلق کے افسران اور انکی بیگمات شامل تھے میں اگلی صبح محلہ فراش خانہ بھی گیا ساتھیوں کے مکان کے سامنے ایک مخصوص آواز نکالی اور واپس بڑی سڑک پر آ گیا تھوڑی دیر بعد نمبر 2 وہاں پہنچ گیا میں نے اسے شام کو ایک ریسٹورنٹ میں میٹنگ کے لیے کہا جس میں وہ چاروں اپنی اپنی کارکردگی کے بارے میں مجھے آگاہ کریں گے اس میٹنگ میں چاروں نے کہا کہ فی الحال کوئی پیش قدمی نہیں ہو سکی کیونکہ بارش کی وجہ سے دہلی کی بھیڑ میں خاصی کمی آ چکی ہے اور ایسے حالات میں کسی کا پیچھا کرنا شک پیدا کر سکتا ہے قارئین جاسوسی کے ڈراموں فلموں اور ناولوں میں جو آپ پڑھتے اور دیکھتے ہیں وہ سب فرضی کردار ہرتے ہیں جس کی کوئی حد نہیں ہوتی لیکن حقیقت میں جاسوسی ایک تھکا دینے والا اور کسی ایک ٹارگٹ کے حصول میں مہینوں کا کام ہے اور بعض اوقات مہینوں کوشش کے بعد بھی ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے 1185 دن جو میں نے بھارت میں گزارے ان میں بعض اوقات ہفتوں بلکہ مہینوں ہمیں اپنے مقاصد کے حصول کے لیے ضائع کرنے پڑے. ہر روز اک نئی کامیابی آپکو افسانوں یا پھر 007 جیسی فلموں میں ہی مل سکتی ہے
ساتھیوں سے میٹنگ کے تیسرے روز کونٹیکٹ سے ملاقات کا روز تھا مقررہ وقت پر کونٹیکٹ آ گیا بھیجنے والی ڈاک کا پہلے ہی ہم نے پیکٹ بنا لیا تھا میں نے کونٹیکٹ سے ڈاک لی اور اپنا پیکٹ اسے دے دیا اور جلد از جلد زگ زیگ راستہ اپنا کر تاکہ اگر کوئی پیچھا بھی کر رہا ہو تو اسے ڈاج دے کر اپنے ہوٹل پہنچ گیا اس بار ساری ڈاک سفید کاغذات پر مشتمل تھی میں نے انہیں گرمی پہنچائی تو الفاظ ابھر آے میری بھیجی ہوئی دونوں فائلز انہیں مل چکی تھیں میری اس کامیابی کو بہت سراہا گیا تھا بہترین الفاظ میں مجھے شاباش دی گئی تھی میرے ساتھیوں کے لیے بھی الگ الگ شاباش کے خطوط تھے ہمارے گھروں میں بھی خیریت کا مژدہ بتایا گیا تھا اور میری کارکردگی کا انعام میرے گھر 20 ہزار کی صورت میں پہنچا دیا گیا تھا ان دنوں پاکستان میں چاے چینی اور بناسپتی گھی کی بہت کمی تھی اس لیے ہمارے پانچوں کے گھروں میں یہ چیزیں وافر مقدار میں پہنچا دی گئی تھیں مجھے پہلے مشنوں کو جاری رکھتے ہوئے اک نہایت اہم مشن سونپا گیا تھا ہماری ایجنسی کا سیک گروپ پہلے ہی اس مشن پر کام کر رہا تھا اور یہ مجھے ڈاک کے زریعے معلوم ہوا تھا
احمد نگر میں میری کامیابی کے بعد میرے ساتھیوں کو بھی یہی مشن کرنے کے احکام دئیے گئے تھے اور یہ مشن تھا کرتار پور بجلی گھر انریچڈ یورینیم کہاں بھیجا جا رہا تھا اس کے متعلق ہر ممکن معلومات حاصل کرنا تھیں اس ڈاک میں بھی ہمارے لیے 30 ہزار بھارتی روپے بھیجے گئے تھے دس ہزار میرے لیے اور پانچ پانچ ہزار میرے ساتھیوں کے لیے جو ڈاک میرے لیے تھی اسے میں نے پڑھ کر ہمیشہ کی طرح نذر آتش کر دیا فائلز کی فلم بھی ضائع کر دی اور ساتھیوں کی ڈاک اور روپے ان کے حوالے کر دئیے جب انہوں نے اپنی ڈاک پڑھ لی تو میں نے ان سے ان کی ڈاکے کر جلادی کیوں کہ ہم کسی بھی صورت کوئی بھی خطرہ مول لینے کے لیے تیار نہ تھے مجھے احساس ہو رہا تھا کہ احمد نگر میں میری کامیابی کے بعد میرے سئنرز نے
مجھ سے بہت سی توقعات وابستہ کر لیں تھیں اور اسی لیے کرتار پور کا مشن بھی مجھے سونپا گیا تربیلہ میں ملازمت کے دوران مجھے اتنا تو معلوم ہو گیا تھا کہ کرتار پور کا بجلی گھر بجلی پیدا کرنے کے علاوہ کچھ اور بھی تیار کر رہا ہے لیکن نیو کلر انرجی کے متعلق میری معلومات صفر تھیں لہذا میں نے دہلی کے بک اسٹال سے نیو کلر انرجی کے متعلق ابتدائی معلومات والی بکس خرید لیں اور ساتھ جو زیادہ پیچیدہ معلومات رکھتی تھیں انہیں فارغ ٹائم میں پڑھنا شروع کر دیا تاکہ جب میں اس مشن پر جاؤں تو نیو کلر انرجی کے متعلق میری معلومات صفر نہ ہوں
میرے ساتھی بھی اس ڈاک میں شاباشی پا کر تروتازہ ہو چکے تھے یہ انسانی فطرت ہے کہ اچھی کارکردگی پر ایک تھپکی وہ کام کر دیتی ہے جو ہزاروں لاکھوں روپے بھی نہیں کر سکتے
میرے ساتھی اپنے تفویض کیے مشن میں زیادہ دلجمعی سے کام کرنے لگ گئے اور چند روز میں ہی معلومات اور تصویریں مجھے لا دے دیں آرمی ہیڈ کوارٹرز میں کام کرنے والے ایک ملازم کا نام یشونت تھا اس کا گھر پرانی دہلی میں ایک تنگ گلی میں تھا یشونت ہفتے میں ایک دو بار گانا سننے اس مخصوص بازار میں جاتا تھا اسکی بیوی مر چکی تھی اس کے ساتھ اس کے گھر کے افراد کی چلتے پھرتے تصاویر بھی اتار لی گئیں تھیں ایک اور سویلین کلرک تھا جو یشونت کے گھر کے قریب ہی رہتا تھا وہ جوان اور غیر شادی شدہ تھا اور یشونت کی بڑی بیٹی سے اس کا افئر چل رہا تھا اس کا نام مدھوک تھا اس کلرک کی یشونت کی بیٹی کے ساتھ بھی ایک تصویر اتار لی گئی لڑکی کا نام شانتی تھا آرمی ہیڈ کوارٹرز کے دو صفائی کرنے والے ملازمین کی تصویری بھی اتار لی گئیں تھیں یہ دونوں عیسائی تھے اور ان کے گھروں کے ایڈریس بھی معلوم کر لیے گے تھے میرے ساتھیوں کے اس ہوم ورک کیوجہ سے ہمیں ہیڈ کوارٹر میں داخل ہونے کے راستے نظر آ رہے تھے چونکہ یہ کام میرے ساتھیوں نے کیا تھا لہذا میں نے ارادہ کیا کہ آئندہ کی پلاننگ میں ان کو بھی ساتھ شامل کر لیا کروں گا مجھے یہ احساس ہو رہا تھا کہ بطور گروپ لیڈر وہ مجھ سے کھل کر بات چیت نہیں کر پارہے تھے
یہ تو فوجی ڈسپلن کا حصہ تھا کہ وہ میرا حکم بلا چوچراں ماننے پر مجبور تھے ورنہ دشمن ملک میں آ کر اگر وہ میرا حکم نہ مانتے تو میں ان کا کیا بگاڑ سکتا تھا مجھے ان سے بڑی حکمت عملی سے کام لینا پڑتا تھا لیکن اب وہ وقت آ گیا تھا کہ ان کو مکمل اپنے اعتماد میں لوں اور اپنے منصوبوں میں ان کو شامل کروں تاکہ ان کی جو مجھ سے ججھک ہے وہ دور ہو جاے اور ہر بات مجھ سے بلا خوف خطر کر سکیں اور ہیڈ کوارٹر میں داخل ہونے کے لیے ہم سب مل کر منصوبہ بندی بھی کریں میں آج تک ان کے لیے ہوئے گھر میں اندر نہیں گیا تھا اور یہ سب میں سیکورٹی کیوجہ سے کر رہا تھا میں نے انہیں کہا کہ کل میں ان کے گھر آؤں گا اور اس مشن کے لیے سب مل کر منصوبہ بندی کریں گے انہیں چونکہ ابھی تک کوئی مکمل مشن سونپا نہیں گیا تھا اور عین ممکن تھا کہ ان کے ذہن میں یہ بات آے کہ ہماری معلومات سے مشن مکمل کر کے سارا کریڈٹ خود لے رہا ہوں اگر ان کو یہ غلط فہمی تھی تو وہ بھی دور کرنا چاہتا تھا حالانکہ ایسی کوئی بات نہیں تھی میں صرف ایک بات سے خوف زدہ تھا کہ وہ جونئر رینکس سے تھے جن کا کام صرف احکامات کی تکمیل کرنا ہوتا ہے وہ دماغ سے ذرا کم ہی کام لیتے ہیں اگر خدانخواستہ حالات کہیں بگڑ جاتے تو وہ اس کو سنبھال نہیں سکتے تھے اور یوں سارا کھیل ہی بگڑ جانے کا اندیشہ ہوتا ہے ان کا گروپ لیڈر بنا کر انکی اور مشنز کی ساری ذمہ داری مجھے سونپی گئی تھی لہذا اب حالات کا تقاضا تھا کہ ان کو اس مشن میں شامل کروں
اگلی شام میں حسب وعدہ انکے گھر گیا وہاں اس مشن کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور فیصلہ ہوا کہ دو سویپرز کو میرے دو ساتھی الگ الگ ہینڈل کریں گے اور سپرینڈنٹ یشونت کے بارے میں معلومات لیں گے کہ وہ کس بالاخانے پر جاتا ہے یشونت کے متعلق معلومات ملنے پر اسے میں ہینڈل کروں گا یہ فیصلہ ہونے پر سب مطمئن تھے میں سویپرز کو ہینڈل کرنے والے ساتھیوں کو مزید ہدایات دیں اور رات کا کھانا کھانے کے بعد واپس لوٹ آیا اگلی تین شامیں میں اشوکا اور اکبر ہوٹل میں گزاریں اور چوتھے دن کے دس بجے میں کرنل شنکر کر کمرے سروسز کلب چلا گیا اس وقت بیٹ مین صفائی کرنے میں مصروف تھا اس نے یہ بتا کر کرنل صاحب ڈیوٹی پر گیے ہیں مجھے باہر ہی سے رخصت کرنا چاہا مجھے اور کچھ نہ سوجھا تو اس سے پانی مانگا اور کہا کہ سر میں بہت درد ہے
اگر ایسپرین ہو تو پانی کے ساتھ دو گولیاں بھی دےدے بیٹ مین نے مجھے سیٹنگ روم میں بٹھایا ایسپرین اور پانی لینے کے بعد میں نے اسکا نام پوچھا تو اس نے عبدالکریم بتایا اور کہا کہ وہ کرنل صاحب کے ساتھ پچھلے 8 ماہ سے ہے میں نے کہا عبدالکریم اپنے متعلق کچھ اور بتاؤ میں سر درد کے بہانے کرسی پر نیم دراز ہو گیا عبدالکریم نے بولنا شروع کر دیا
صاحب میں 4 سال سے بھارتی فوج میں ہوں میں ہوں تو انفنٹری میں مگر زیادہ عرصہ مختلف آفیسرز کا بیٹ مین ہی رہا ہوں کرنل صاحب کے پاس آنے سے پہلے میں آگرہ چھاؤنی میں ایک میجر صاحب کا بیٹ مین تھا کرنل صاحب کی سخت طبیعت کیوجہ سے نہ تو وہ کسی سے مطمئن ہوتے اور نہ ہی کوئی ان کا بیٹ مین بننے پر راضی ہوتا جب سے میں یہاں آیا ہوں کرنل صاحب کی بھر پور خدمت کر رہا ہوں لیکن. ہر روز مجھے گالیوں سے نوازہ جاتا ہے کرنل صاحب جب موڈ میں ہوتے ہیں تو کچھ پیسے وغیرہ بھی دے دیتے ہیں اور جب ناراض ہوتے ہیں تو بے تحاشا گالیاں بھی دےدیتے ہیں 4سال پہلے اور ٹریننگ کے بعد مختلف آفیسرز کا بیٹ مین رہنے کے دوران اتنی گالیاں پڑ چکی ہیں کہ اب عادی ہو چکا ہوں اور اپنی قسمت پر شاکر ہوں فوج چھوڑنے کی کوشش بھی لیکن ناکامی ہوئی نہ ماں باپ زندہ ہیں اور نہ شادی کی ہے عبدالکریم بڑی ستھری اردو بول رہا تھا میں نے پوچھا تم رہنے والے کہاں کہ ہو حضور لکھنؤ میرا آبائی وطن ہے والدین کے گھر میں تو غربت ہی دیکھی لیکن ابو کہا کرتے تھے کہ تمہارے دادا نواب تھے والد مرحوم نے بھی خاندانی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے اپنی وضع داری کا بھرم رکھتے ہوئے جو تھوڑی بہت جائیداد زمین اور رہائش تھی وہ سب رہن رکھتے رہے بعد میں بیچ ڈالی جب میں نے گھر میں ہوش سنبھالا تو غربت دیکھی ابھی دس سال کا بھی نہیں ہوا تھا کہ ایک سال کے اندر اندر وقفے سے میرے والدین انتقال کر گئے اور میں بلکل بے آسرا ہو گیا والد مرحوم کے ایک جاننے والے دوکاندار نے مجھے اپنے گھر میں پناہ دی اور میٹرک تک تعلیم دلوائی اور اسی نے مجھے فوج میں بھرتی کروا دیا کہ یہاں عزت سے روٹی کما سکوں گا یہاں روٹی تو مل گئی مگر گالیوں سے ماں باپ خاندان مذہب کی دھجیاں اڑ گئیں عبدالکریم بولے جا رہا تھا اور میرا دماغ کچھ اور ہی سوچ رہا تھا چند نکتے تھے جن کے گرد میرا ذہن گھوم رہا تھا جاری ہے

No comments: