Ads Top

رادھا مصنف محمد طارق خان قسط نمبر 45 Radha By Muhammad Tariq Khan Episode

Radha
By
Muhammad Tariq Khan
رادھا
 مصنف
 محمد طارق خان


رادھا
قسط۔ 45
مصنف۔ طارق خان 

’عمران بھائی بتا رہے تھے کہ آپ کوئی فائل لینے گھر آئے تھے؟‘‘ صائمہ نے میرے پاس بیٹھ کر پوچھا۔

’’ہاں ایک ضروری فائل گھر رہ گئی تھی‘‘میں نے اس کی طرف بغور دیکھا۔
’لیکن تم گیٹ کیوں نہیں کھول رہی تھیں۔ میں نے گاڑی کا ہارن بجایا بیل بجائی لیکن۔۔۔‘‘

’’میں سو گئی تھی۔۔۔رات نہ جانے کیوں ٹھیک سے نیند نہیں آئی ذرا لیٹی تو آنکھ لگ گئی۔ نہ میں سوتی نہ آپ کے ساتھ یہ سب کچھ ہوتا۔‘‘ وہ تاسف سے بولی۔

’’یوں نہیں کہتے ،گناہ ہوتا ہے جو کچھ تقدیر میں لکھا ہو پوراہو کر ہی رہتا ہے‘‘ میں نے اسے سمجھایا۔

’’سارے دکھ آپ ہی کی قسمت میں لکھے ہیں‘‘ وہ آب دیدہ ہوگئی۔ میں نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔
’’شکر کرو ہر بار بچ جاتا ہوں‘‘ میں نے مسکرا کر کہا۔ دروازہ کھلا اور ڈاکٹر بمعہ نرس اندر آگیا۔ مجھے جاگتا دیکھ کر خوش اخلاقی سے بولا۔

’’کیا حال ہیں فاورق صاحب!؟ شکر کریں اللہ تعالیٰ نے کرم کیا ہے ورنہ جس قدر شدید ضرب آپ کو آئی تھی اس میں کچھ بھی ہو سکتا تھا۔ بینائی بھی متاثر ہو سکتی تھی‘‘ وہ میری نبض چیک کرتے ہوئے بولا۔

’’جی ہاں اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے ڈاکٹر صاحب‘‘ صائمہ نے جواب دیا۔

’’اگر گھر جانا چاہیں تو جا سکتے ہیں لیکن احتیاط کی ضرورت ہے۔‘‘ ڈاکٹر نے نرس کو پٹی چینج کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے مجھ سے کہا۔

’’اگر آپ کی اجازت ہو تو میں چلا جاتا ہوں‘‘ میں نے آہستہ سے کہا۔

’’اوکے۔۔۔ابھی آپ کی ڈسچارج سلب تیار ہو جاتی ہے۔ پھرآپ چلے جائیے گا۔ ایمبولینس کی ضرورت ہو تو بتائیں۔‘‘ اس نے آخری فقرہ صائمہ کی طرف دیکھ کرکہا۔
’’شکریہ ڈاکٹر صاحب! ہمارے پاس گاڑی ہے‘‘ صائمہ نے کہا۔ آدھے گھنٹے بعد ہم گھر جا رہے تھے۔ گاری صائمہ ڈرائیور کر رہی تھی۔ میں تکیہ سرکے نیچے رکھے پچھلی سیٹ پر دراز تھا۔ تھوڑی دیر بعد ہم گھر پہنچ گئے۔ بچے مجھے دیکھ کر خوش ہوگئے۔ اتنے دنوں سے نازش اور عمران ہی ہمارے گھر پر بچوں کو سنبھال رہے تھے

گھر پہنچ کرمیں نے اطمینان کا سانس لیا ،چھوٹی سی غلطی بعض اوقات کتنے بھیانک نتائج لاتی ہے۔ اسی بیڈ روم کے باہر میں نے خود اپنی آواز سنی تھی۔ کیا وہ سب کچھ میرا وہم تھا؟ہوسکتا ہے صائمہ کے گیٹ نہ کھولنے کی پریشانی سے میرے تخیل نے کچھ گھڑ کر میرے سامنے پیش کر دیا ہو۔ میں نے خود کو مطمئن کیا لیکن دماغ مسلسل اس دلیل کی نفی کر رہا تھا آواز بڑی واضح تھی جتنا سوچتا اتناہی الجھ جاتا۔ صائمہ سمجھ رہی تھی کہ میں نے اپنی چابی سے گیٹ کھولا تھا جبکہ اس دن میں چابی گھر بھول گیا تھا۔ گیٹ میں خود کار قفل لگا ہوا تھا جو باہر سے چابی اور اندر سے ہاتھ سے کھل جاتا تھا مکمل صحتیابی میں ایک ہفتہ لگ گیا۔ اسکے بعد میں نے بینک جانا شروع کیا۔
سارے سٹاف نے فرداً فرداً میرا حال پوچھا۔ وہ میرے گھر آکر بھی بیمار پرسی کرچکے تھے۔ خاص کر محمد شریف نے تو بہت تپاک سے پوچھا تھا ساتھ میں یہ بھی کہا کہ میں کچھ صدقہ اداکر دوں کہ ردبلا ہے۔ میں نے سب کا شکریہ ادا کیا۔ میں سر پر رومال باندھے رکھتا کیونکہ ڈاکٹر نے ٹانکے لگانے سے قبل سر کے بال اس جگہ سے مونڈھ دیے تھے۔ ایک ہفتے کے دوران پھر کوئی قابل ذکر واقعہ پیش نہ آیا۔ رادھا بھی مسلسل غائب تھی ۔جو دوا ڈاکٹر نے دی تھی اس میں خواب آوار دوا بھی تھی رات کو کھا کر سوتا تو کچھ ہوش نہ رہتا۔ ہر روز میں سوچتا کہ رادھا کو بلاؤں لیکن سونے کے بعد دن چڑھے آنکھ کھلتی۔ آج ٹانکے کھلنے تھے جب ڈاکٹر نے کہا اب دواکھانے کی ضرورت نہیں تو میں نے شکر کیا۔ رات کو ہم گھر واپس آئے تو صائمہ بہت خوش تھی۔ بات بات پر وہ مسکرا دیتی۔
کیا بات ہے آج بہت خوش ہو؟‘‘ میں نے ہنس کر پوچھا۔

’’آپ کو اچھا نہیں لگا کہ میں خوش ہوں‘‘ اس نے عجیب سا جواب دیا۔ میں نے حیرت سے اسے دیکھا۔
’’صائمہ مجھے تمہاری خوشی دنیا میں ہر شے سے زیادہ عزیز ہے۔‘‘ میں نے اس کاہاتھ تھام لیا۔

’’اچھا۔۔۔؟ آپ کہتے ہیں تو مان لیتی ہوں‘‘ اس نے اچھا کو کھینچتے ہوئے کہا۔ میں سمجھا وہ مذاق کر رہی ہے لیکن اس کے چہرے کے تاثرات اس بات کی نفی کر رہے تھے۔
’’کیا بات ہے مجھ سے ناراض ہو؟‘‘
’’نہیں۔۔۔میں کیوں ناراض ہونے لگی؟‘‘ اس کے چہرے سے بیزاری عیاں تھی ،جیسے اسے میری باتیں اچھی نہ لگ رہی ہوں۔ حالانکہ ہسپتال سے گھر آتے ہوئے وہ بہت خوش تھی۔ لیکن گھر میں داخل ہونے کے بعد اس کے چہرے کے تاثرات بدل گئے۔ اس نے آہستہ سے اپنا ہاتھ چھڑایا اور باہر چلی گئی۔ میں حیرت سے اسے جاتا دیکھتا رہا۔یقیناًصائمہ میرے اور رادھا کے بارے میں جانتی ہے۔ اس رات جب میں رادھا سے مل کر آیا تو صائمہ نہ صرف بیٹھی تھی بلکہ اس نے بڑے سخت لہجے میں مجھ سے پوچھا تھا کہ میں کہاں سے آرہا ہوں؟ اگر صائمہ ہمارے تعلقات سے باخبر ہے تو ۔۔۔؟ پریشانی سے میرا برا حال ہوگیا۔ کیا اسے معلوم ہو چکا ہے ہم دونوں کے درمیان کیسا رشتہ استوارہو چکا ہے؟ میں نے گھبرا کر سوچا۔ یقیناًیہی بات ہے ورنہ یہ تو ہو ہی نہیں سکتا۔ صائمہ میرے ساتھ اس قسم کا رویہ اپنائے ہے۔

میں کافی دیر بیٹھا یہی سوچتا رہا پھر باہر نکل آیا۔ سوچا صائمہ سے دوچار باتیں کرکے معلوم کروں کہ آیا میرا خیال صحیح ہے یا کوئی اور بات ہے؟ میرا خیال تھا وہ لاؤنج میں ٹی وی دیکھ رہی ہوگی لیکن صائمہ وہاں نہیں تھی۔ ڈرائنگ روم بھی اس کے وجود سے خالی تھا میں نے باہردیکھا۔ وہ لان میں بچھی کرسی پربیٹھی کسی سوچ میں گم تھی۔ میں دبے قدموں اس کے پیچھے پہنچا تو بری طرح چونک اٹھا ۔ وہ کچھ گنگنا رہی تھی۔ صائمہ کی آواز بہت اچھی ہے کبھی کبھی وہ میری فرمائش پر کچھ سنا دیتی۔ لیکن ایسا وہ صرف میرے کہنے پر اس وقت کرتی جب ہم دونوں کے سوا کوئی نہ ہوتا۔ وہ جھولنے والی کرسی پر بیٹھی بڑے جذب کے عالم میں گنگنا رہی تھی۔ اسے اردگرد کی کچھ خبر نہ تھی۔ میں نے آہستہ سے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا وہ بری طرح اچھل پڑی۔
’’آپ نے تو مجھے ڈرا ہی دیا۔ کیا بات ہے کیا نیند نہیں آرہی؟‘‘ بیزاری اس کے لہجے سے عیاں تھی۔ میں سامنے والی کرسی پربیٹھ گیا۔
صائمہ! مجھے بتاؤ کیا بات ہے تم کس بات پر مجھ سے ناراض ہو؟‘‘ وہ خاموشی سے بیٹھی گود میں رکھے ہاتھوں کو گھورتی رہی۔

’’صائمہ میں نے کچھ پوچھا ہے؟‘‘ میں نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔

’’کوئی بات ہو تو بتاؤں بھی۔۔۔میں نے کچھ کہا ہے آپ سے ؟‘‘ اسنے اپنا ہاتھ چھڑا لیا اورکھڑی ہوگئی۔ لہجے میں بیزاری کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ میں نے کھڑے ہو کر اسے اپنی بانہوں میں لینے کی کوشش کی۔

’’فاروق! کیا ضروری ہے کہ ہر وقت انسان یہی سب کچھ کرتا رہے ۔۔۔؟ بیوی ہونے کا مطلب یہ تونہیں کہ میں ہر وقت آپ کی ’’خواہش‘‘ کی غلام بنی رہوں‘‘ اس نے سختی سے کہا اور پیر پٹختی ہوئی اندر چلی گئی۔ میں کافی دیر بیٹھا اسکے رویے کے بارے میں سوچتا اور پریشانی میں سگریٹ پر سگریٹ پھونکتا ہرا۔ میرا خیال تھا وہ ابھی آکر اپنے رویے کی معافی مانگے گی اور ہمیشہ کی طرح مسکراتے ہوئے میرے سینے سے لگ جائے گی۔ لیکن وہ نہ آئی۔ آخر تھک ہار کر میں نے بیڈ روم کا رخ کیا۔ جب میں اندر داخل ہوا تو حیران رہ گیا۔ صائمہ بستر پر نہ تھی۔ باتھ روم کا دروازہ کھلا ہوا تھا پھر بھی میں نے اندر جھانک کر دیکھا وہ بھی خالی۔ میں جلدی سے دوسرے کمرے میں گیا وہ وہاں بھی نہ تھی میں لاؤنج کی طرف بھاگا۔ ڈرائنگ روم کا دروازہ بندتھا میرے ہاتھ لگانے سے بھی نہ کھلا۔ یا خدا ! یہ کیامعاملہ ہے؟ میں نے دروازے پر دستک دی۔۔۔آوازیں دیں۔ کافی دیر بعد دروازہ کھلا اور صائمہ سرخ آنکھیں لیے نمودار ہوئی۔ اس کا چہرہ بالکل سپاٹ تھا۔

’’صائمہ!‘‘ میں نے اسے جھنجھوڑا۔

’’آں۔۔۔‘‘ وہ اس طرح چونکی جیسے نیند سے جاگی ہو۔ پہلے اس نے اردگرد دیکھا پھر مجھے اس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔
فف۔۔۔فاروق! یہ کیا؟ میں تو بیڈ روم میں سو رہی تھی۔ کیا آپ مجھے یہاں لائے ہیں؟ ‘‘ وہ آنکھیں پھاڑے چاروں طرف دیکھ رہی تھی۔ میں اس کی بات پر حیران رہ گیا۔

’’بتائیے نا میں یہاں کیسے۔۔۔؟ کیا میں ڈرائنگ روم میں سو گئی تھی؟‘‘ حیرت اس کے چہرے پر ثبت تھی۔

’’ہاں۔۔۔ہاں کیا بھول گئیں؟ تھوڑی دیر پہلے ہی تم ہم دونوں ڈرائنگ روم میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔ میں تھوڑی دیر کے لئے باہر لان میں چہل قدمی کے لئے چلا گیا تھا واپس آیا تو تم یہیں صوفے پر سو رہی تھیں۔ میں نے دیکھا کہتم شاید گہری نیند میں تھیں اسلئے میں تمہیں چلا کربیڈ روم میں لے جا رہا تھا کہ تمہاری آنکھ کھل گئی‘‘ میں نے فوراً کہانی گھڑ کر سنادی۔

’’یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ آپ جاگ رہے ہوں اورمیں سو جاؤں؟‘‘ اس نے میرے ساتھ چلتے ہوئے کہا۔
’’انسان تھکا ہوا ہو تو ایسا ہو جاتا ہے اس میں پریشانی والی کیا بات ہے؟‘‘ میں نے اسے تسلی دی۔ وہ چپ رہی لیکن ابھی تک حیرت زدہ تھی۔ بیڈ پر لیٹ کر وہ میری جانب مڑی۔

’’سوری فاروق! نہ جانے کیسے مجھے نیند آگئی؟‘‘ اسنے میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کرکہا میں نے مسکرا کر اس کا ہاتھ تھپتھپایا۔
جب وہ سو گئی تو میں ایک بارپھر اسی گورکھ دھندے میں کھو گیا۔ نہ سمجھ آنے والی کیفیت تھی اس کی۔ کہیں واقعی صائمہ کو نیند میں چلنے کی بیماری تو نہیں ہوگئی؟ میرے ذہن میں خیال آیا۔ لیکن یہ کیسے ہو سکتا ہے وہ میرے ساتھ اچھی بھلی باتیں کر رہی تھی نہ جانے میری کس بات سے چڑ کر باہر چلی گئی تھی۔ اس کے بعد وہاں بھی اس نے الٹی سیدھی باتیں کیں اور اٹھ کر اندر آگئی لیکن بیڈ روم میں آنے کے بجائے ڈرائنگ روم میں جا کر سو گئی۔ زیادہ دیر میں نہ سوچ سکا نیند کی مہربان دیوی نے مجھے اپنی آغوش میں لے لیا۔ صبح حسب معمول صائمہ نے مجھے جگایا تو وہ ہشاش بشاش تھی۔ چہرے پر بڑی پیاری مسکان لیے اس نے مجھے سلام کیا۔ وہ کسی طرح رات والی صائمہ نہ لگ رہی تھی۔ ناشتے کے بعد اسنے روزانہ کی طرح مجھے مسکراتے ہوئے اپنے روایتی انداز میں رخصت کیا۔ بینک میں کام کی مصروفیت ذرا کم ہوئی تو میں نے سوچا فون کرکے صائمہ کی خیریت دریافت کروں اور اس سے رات کے رویے پر بھی بات کروں، دراصل مجھے دھڑکا لگا ہوا تھا کہیں صائمہ ہمارے تعلقات سے آگاہ نہ ہوگئی ہو۔ ہو سکتاہے اسنے صرف کمپرومائز کیا ہو۔ طرح طرح کے خیالات میرے ذہن کوپریشان کرتے رہے۔ میں چاہتا تھا کہ فون پر اس سے پوچھوں سامنے شاید میں اتنا واضح جھوٹ نہ بول سکتا۔ فون کی گھنٹی بجتی رہی۔ صائمہ تیسری چوتھی بیل پر فون اٹھا لیا کرتی۔ بیل جاتی رہی لیکن کسی نے فون اٹینڈ نہ کیا۔ پریشانی بڑھتی جا رہی تھی۔ میں نے فون بندکیا اور چابیاں اٹھا کر باہر نکل آیا۔ آندھی اور طوفان کی طرح گاڑی بھگاتا میں گھر پہنچا۔ باہر کے تالے کی چابی میرے پاس تھی۔ میں جلدی سے اندر داخل ہوااور بھاگتا ہوا بیڈ روم میں پہنچا اندر جھانکا تو میری آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔
سامنے بیڈ پر صائمہ سو رہی تھی۔ حیرت کی بات اس کی نیند نہیں بلکہ گہرا میک اپ تھا۔ حیرت کا دوسرا جھٹکا مجھے اس وقت لگا جب میں نے دیکھا اس کے بالوں میں بیلے کی کلیاں گندھی ہوئی ہیں جبکہ ہمارے لان میں بیلے کے پھول توکیا پودے بھی نہ تھے۔ اس نے نہ صرف گہرا میک اپ کیا ہوا تھا بلکہ اپنی پسندیدہ گلابی رنگ کی ساڑھی بھی باندھی ہوئی تھی۔

وہ سر تاپا قیامت بنی محو خواب تھی۔ خوابیدہ حسن غضب ڈھا رہا تھا مدھرسی مسکان اس کے نرم و نازک ہونٹوں پر تھی جیسے سوتے میں وہ حسین خواب دیکھ رہی ہو۔ میں حیرت سے کنگ کھڑا اسے دیکھتا رہا۔ وہ اکثڑ کہاکرتی عورت کو صروف اپنے خاوندکے لئے بننا سنورنا چاہئے پھر۔۔۔؟ پھر وہ میرے جانے کے بعد کس کے لئے سج سنور کر بیٹھی ہوئی تھی؟ شک کا ناگ میرے اندر پھن پھیلا کر کھڑا ہوگیا۔ لباس کی بے ترتیبی ایسی کہانی سنا رہی تھی جس پریقین کرنا مشکل تھا۔ صائمہ کی شرافت مسلم تھی میں کسی طور ماننے کو تیارنہ تھا کہ کوئی ’’ایسی ویسی‘‘ بات ہو سکتی ہے۔ آج کل اسے نیند بھی بہت آتی۔ ایک بارپہلے بھی فون اٹینڈ نہ کرنے پر میں پریشانی میں گھر آیا تھا۔ تو بیڈ روم سے خود اپنی آواز اور صائمہ کی ہنسی سن کر میں لپک کر بیڈ روم میں داخل ہونے لگا تھا کہ وہ سنگین حادثہ رونما ہوا تھا جس کے نتیجے میں میں بری طرح زخمی ہو کر ہسپتال پہنچ گیا تھا۔ آج بھی میں نے پریشانی کی حالت گھر کا رخ کیا لیکن یہاں آکر میری پریشانی اور بڑھ گئی تھی۔ آہستہ سے چلتاہوا میں بیڈکے پاس بچھی کرسی پر بیٹھ گیا۔

’صائمہ‘‘ میں نے آہستہ سے اسے آواز دی وہ اسی طرح سوتی رہی۔

’’صائمہ‘‘ اس بارمیں نے ذرا بلند آوااز سے اسے پکارا اور بازو سے پکڑ کر بلایا۔ وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی۔ اسکی آنکھیں سرخ انگارہ ہو رہی تھیں۔ کھوئے کھوئے انداز میں اسنے میری طر ف دیکھا۔
’’صائمہ‘‘ میں نے بڑے پیار سے کہا۔

’’جی۔۔۔‘‘ اسکی آواز نیند سے بوجھل تھی۔
’’صائمہ! کیا کہیں جانے کی تیاری تھی؟‘‘ میں نے اس کی توجہ لباس کی طرف دلائی۔

’’اس نے تو کہاتھا وہ یہیں آئے گا؟‘‘ وہ جیسے خود سے ہمکلام تھی۔ میں بری طرح چونک گیا۔
’وہ کون؟‘‘ میں نے تیزلہجے میں پوچھا۔
’’تم کس کی بات کر رہی ہو؟ کس نے کہا تھا وہ یہاں آئے گا؟‘‘
اس بار وہ جیسے نیند سے جاگ گئی۔ اسنے میری جانب دیکھا پھر جیسے اس کی نظر اپنے لباس پر پڑی وہ گھبرا کر کھڑی ہوگئی۔ حیرت سے اس کی آنکھیں ممکن حد تک پھیل گئیں ۔ وہ کبھی اپنے لباس کی طرف دیکھتی کبھی میری طرف پھر تحیر زدہ اپنے سراپے پر نظر ڈالنے لگی۔

’’یی۔۔۔یہ۔۔۔کک۔۔۔کیا؟‘‘ حیرت سے اس کی آواز بند ہوگئی۔

’’فاروق! یہ لباس میں نے کب بدلا؟‘‘ وہ لباس پر نظر ڈال کر پوچھ رہی تھی اسی وقت اس کی نظر آئینے پر پڑی جس میں اس کا چہرہ نظر آرہا تھا وہ بھاگ کر ڈریسنگ ٹیبل کی طرف گئی اور اپنے چہرے پر ہاتھ لگا کر دیکھنے لگی۔ میں غور سے اس کی حرکات دیکھ رہا تھا درحقیقت وہ حیران تھی یہ ادکاری نہ تھی۔ حیرت سے اس کے چہرے کے نقوش بگڑ گئے تھے۔

’’فاروق! یہ سب ۔۔۔یہ سب کیا ہے؟‘‘ وہ اس قدر حیران تھی جتنا بھی نہ ہوا تھا۔

’’میں تو صفائی کر رہی تھی کہ اچانک مجھے چکر آیا اور میں بیڈ پر لیٹ گئی۔ کئی دن سے مجھے کمزوری سی محسوس ہو رہی تھی۔ اس کے بعد اب آنکھ کھلی ہے لیکن فاروق! کیا آپ نے ۔۔۔؟ نہیں یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ آپ میرا لباس تبدیل کریں اور میں سوتی رہوں۔ بتائیں نا یہ سب کیا ہے؟ ‘‘ وہ روہانسی ہوگئی۔ ٹپ ٹپ آنسو اس کی آنکھوں سے بہنے لگے۔ میں نے اسے اپنے ساتھ لپٹا لیا۔

’’شاید تمہیں نیند میں چلنے اور کام کرنے کا مرض لاحق ہوگیا ہے‘‘ میں نے اپنا خیال ظاہر کیا۔

’’نیند میں چلنے کا مرض؟‘‘ اس نے بے یقینی سے میری طرف دیکھا۔

‘‘ہان اور یہ ناممکن نہیں۔ بڑے بڑے نامور لوگ نیند میں چلنے اور کام کرنے کے مرض میں مبتلا رہے ہیں کئی معروف سائنسدانوں نے نیند کی حالت میں کامیاب تجربات کیے بلکہ ایسے کارنامے سر انجام دیئے جو وہ جاگتی حالت میں کبھی نہ کر پاتے۔‘‘ میں نے سنجیدگی سے کہا

’’لیکن فاروق! یہ کیسے ممکن ہے کہ مجھے کچھ پتا ہی نہ چلے اور سب کچھ کر لوں۔ مثلاً میک اپ وہ بھی ایسا‘‘ اس نے اپنے چہرے کی طرف اشارہ کیا۔

’’یہی تو اس مرض کی خصوصیت ہے کہ انسان کو پتا ہی نہیں چلتا وہ ایسا کام کر گزرتا ہے جسے وہ شعور کی حالت میں کرنے سے قاصر ہوتا ہے۔ مثلاً تم عام حالت میں کبھی اتنا اچھا میک اپ نہیں کر سکتیں جیسا کہ تم نے کیا ہے۔‘‘ میں نے دلیل دی۔
’میری تو عقل گم ہوگئی ہے اگر یہ سب کچھ میرے ساتھ نہ ہوا ہوتا تو میں کبھی یقین نہ کرتی‘‘ وہ کچھ مطمئن ہوگئی تھی۔ اسے اطمینان دلاکر میں خود بے سکون ہو گیا تھا۔ اس کاجملہ ابھی تک میرے کانوں میں گونج رہا تھا۔

’’اس نے تو کہا تھا وہ یہیں آئے گا‘‘ وہ کس کے بارے میں کہہ رہی تھی۔ وہ کون تھا جس کا صائمہ کو انتظار تھا؟ کسی بات کی سمجھ نہ آرہی تھی۔
’’کیا سوچ رہے ہیں؟‘‘ اس نے میری طرف دیکھا۔

’’کچھ نہیں میں سوچ رہا تھا کہ تمہیں کسی اچھے سے ڈاکٹر کو دکھا دوں‘‘ میں نے کہا۔

’’ڈاکٹر کیا کرے گا؟‘‘ وہ حیران رہ گئی۔

’’تمہارا علاج کرے گا اور کونسا ایسا لاعلاج مرض ہے؟ تم فکر نہ کرو میں آج ہی عمران سے کسی اچھے سے سائیکٹرسٹ کے بارے مییں پوچھتاہوں‘] میں نے اسے تسلی دی۔

’’نہیں فاروق ! پلیز عمران بھائی کونہ بتائیے گا وہ کیا سوچیں گے آپ خود ہی کسی ڈاکٹر کا پتا کریں‘‘ وہ جلدی سے بولی۔

’’اچھا ٹھیک ہے تم جاؤ چینج کر لو پھر اچھی سی چائے بنا کر لاؤ دونوں ساتھ پیتے ہیں‘‘ میں نے مسکرا کر کہا۔

’’فاروق آپ کتنے اچھے ہیں میرا کتنا خیال رکھتے ہیں۔ ارے۔۔۔میں تو پوچھنا ہی بھول گئی آپ اس وقت گھرکس لئے آئے تھے؟‘‘

’’تمہاری یاد آئی تو اٹھ کر چلا آیا کہ تمہیں سے تھوڑا سا پیار کر لوں‘‘ میں نے شرارت سے اسے دیکھا۔
’’نہیں۔۔۔ایسا نہیں کرنا‘‘ میری بات سنتے ہی اس کا رنگ زرد ہوگیا۔ وہ بری طرح گھبرا گئی۔ میں نے حیرت سے اسے دیکھا۔

’’کیا مطلب؟ کیا کہہ رہی ہو تم‘‘۔
’’کک۔۔۔کچھ نہیں‘‘ وہ بری طرح گھبرائی ہوئی لگ رہی تھی۔
’’نہیں بتاؤ کیا کہہ رہی تھیں تم؟‘‘ میں نے اصرار کیا۔
’وہ۔۔۔وہ میری طبیعت خراب ہے نا اس لئے میں کہہ رہی تھی آ۔۔۔آج نہیں پھر کسی دن‘‘ وہ اٹھ کر کھڑی ہوگئی۔

’’میں چینج کرکے ابھی آتی ہوں‘‘ یہ کہہ کر وہ باہر نکل گئی۔ میں سوچوں کی بھنور میں ڈوبتا ابھرتا رہا۔ قرین قیاس بات یہی نظر آتی تھی کہ واقعی اسے نیند میں چلنے اور کام کرنے کی عادت پڑ گئی ہو۔ تو کیا وہ صائمہ ہی تھی جو رات کو میرے پاس آکر دوسرے دن انکاری ہو جاتی۔ لیکن یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ رادھا نے خود تسلیم کیا تھا۔ صائمہ کا صرف جسم استعمال ہوتا تھا لیکن اصل میں وہ رادھا ہی تھی۔ اس کا ذکر آتے ہی میں چونک گیا۔ کتنا احمق ہوں میں بھی خود سر کھپانے کے بجائے رادھا سے کیوں نہیں پوچھ لیتا۔ میں نے سوچا اس کے ساتھ ہی مجھے یاد آیا کہ کافی دن ہوگئے ہیں رادھا نہ تو مجھ سے ملنے ہی نہ آئی کوئی رابطہ کیا۔ اس کی کیا وجہ ہو سکتی ہے؟ آج رات کو ہی رادھا کو بلاؤں گا۔ یہ سوچ کر مجھے کچھ اطمینان ہوا۔ تھوڑی دیر بعد صائمہ چائے کی ٹرے اٹھائے آگئی۔ چائے پینے کے بعد میں نے کہا۔
جاری ہے

No comments:

غازی از ابو شجاع ابو وقار قسط نمبر60 Ghazi by Abu Shuja Abu Waqar

Ghazi  by  Abu Shuja Abu Waqar  غازی از ابو شجاع ابو وقار  پیشکش محمد ابراہیم 60 آخری قسط نمبر  Ghazi by Abu Shuja Abu...

Powered by Blogger.