Ads Top


جنت کے پتے
از

 نمرہ احمد




*_SECOND LAST_*

ناول؛ جنت کے پتے

قسط 73
حیا نے کاؤنٹر پہ رکھے ڈبے کے ڈھکن کو بند کرنے سے پہلے ایک دفعہ جوڑے کو دیکھا اور پھر جہان کے چہرے کو۔
کیسا لگا تمہیں؟ اس نے ذرا اشتیاق ذرا فکر مندی سے پوچھا۔ پتہ نہیں اس کا ٹیسٹ جہان کو اچھا بھی لگتا ہے یا نہیں۔
ہاں اچھا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ شاپ میں شاید اس سے زیادہ تبصرہ نہیں کرنا چاہتا تھا۔ بس ذرا سے شانے اچکائے۔
حیا نے ایک دفعہ پھر اس تہہ شدہ جوڑے کو دیکھا۔ حالانکہ منگنی اور نکاح جیسے موقعوں پر لڑکیاں لائٹ پنک پستہ گرین یا ہلکا نیلا پہننا پسند کرتی تھیں۔ پھر بھی اس نے یہ رنگ منتخب کیا تھا۔ وہ لمبا گھیر دار پاؤں تک آتا فراک تھا۔ ساتھ چوڑی دار پاجامہ سارا لباس ایک ہی رنگ میں تھا۔ گرے کلر اور گرے کا بھی درمیانہ سا شیڈ۔ نہ بہت ہلکا نہ بہت گہرا۔ پورے فراک پر نگینوں اور سفید موتیوں کا کام تھا۔ گرے اور سلور کا امتزاج۔ پھپھو اس کو وائٹ گولڈ اور ڈائمنڈ کا سیٹ دے رہی تھیں اور اس کی مناسبت سے اس کو یہ رنگ سب سے بہترین لگا تھا۔
حیا نے ڈبا بند کیا اور اسے شاپنگ بیگ میں ڈالتے ہوئے دروازے کی طرف بڑھ گئی۔ جہان اس کے پیچھے چلتے ہوئے باہر آیا۔
کیا تمہیں واقعی پسند آیا تھا۔ تمہارے چہرے سے تو نہیں لگ رہا تھا؟ گاڑی میں بیٹھتے ہوئے وہ متفکر سی بولی۔
نہیں مجھے پسند آیا۔ بہت اچھا کلر تھا لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگنیشن میں چابی ڈالتے ہوئے جہان نے شانے اچکائے۔
لیکن میں صرف یہ سوچ رہا ہوں کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کہ کیا؟ وہ جانتی تھی کہ وہ بات کو کس طرف لے کر جا رہا ہے پھر بھی اس نے انجان بنتے ہوئے پوچھا۔
یہی کہ تم اس لباس کیساتھ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میرا مطلب ہے کہ تم پردہ کیسے کرو گی دلہن بن کر۔ وہ شاید کافی دیر سے یہی سوچ رہا تھا۔ حیا کے لبوں پہ ہلکی سی اسرار بھری مسکرہٹ ابھر کر معدوم ہوئی۔
کر لوں گی۔ گاڑی اب سڑک پر دوڑ رہی تھی اور وہ زرا سی مسکراتے ہوئے ونڈ اسکرین کے پار دکھ رہی تھی۔
کیا تم اس کام دار لباس پہ برقع لو گی یا چادر وغیرہ؟
نہیں میں برقع نہیں لوں گی۔
تو کیا تم اس کے کام والے ڈوپٹے سے نقاب کرو گی؟ جہان کو کہتے ہوئے بھی یی بات بہت عجیب لگ رہی تھی۔ بہت ہی آکورڈ۔ نقاب نہیں کامدار ڈوپٹے سے نقاب۔ اور اسے شاید لگا تھا کہ حیا آگے سے اس کی بات کی تصدیق کر دے گی۔
نہیں میں دوپٹے سے نقاب تو نہیں کروں گی۔
تو پھر تم کیا کرو گی؟
حیا نے آنکھوں میں اسی مسکراہٹ کو سموئے گردن موڑ کر جہان کو دیکھا۔ وہ جیسے اس بات پہ بہت سوچنے کے باوجود بھی کسی نتیجے پہ نہیں پہنچ سکا تھا۔
جہان کچھ باتوں میں میں تم سے زیادہ اسمارٹ ہوں۔ تم ہی نے کہا تھا نا کہ رستہ ہوتا ہے۔ میں نے بھی رستہ نکال لیا ہے۔
اچھا! پھر دیکھتے ہیں تم کیا کرتی ہو۔ وہ اس کی بات پہ محفوظ ہو کر زرا سا مسکرایا۔
تھوڑی ہی دیر بعد اسے محسوس ہوا کہ گاڑی گھر کی بجائے کہیں اور جا رہی ہے۔
کیا ہم گھر نہیں جا رہے؟ اس نے تذبذب سے پوچھا۔
پہلے ہمیں کچھ اٹھانا ہے۔ میں نے بیکری پہ کچھ آرڈر کیا تھا۔ وہ اسٹیرنگ وہیل کو گھماتے ہوئے موڑ کاٹ رہا تھا۔ حیا کو اچھنبا ہوا۔ رات ہو چکی تھی اور ان لوگوں نے ڈنر پہ گھر پہنچنا تھا۔
ایسا کیا آرڈر کیا تھا تم نے؟ شاید تمہیں یاد ہو میں نے تمہارا ایک جنجر بریڈ ہاوس توڑا تھا۔ اور حیا کا سانس لمحے بھر کو تھما۔
کیا تم نے میرے لیے جنجر بریڈ ہاوس بنایا ہے؟ وہ حیرت زدہ ہی تو رہ گئی تھی۔
تمہیں لگتا ہے میں اتنا فارغ ہوں؟ میں نے صرف ایک بیکری پہ آرڈر دیا ہے اور ہمیں صرف اسے پک کرنا ہے۔ کل ہماری منگنی تیسری دفعہ ہو رہی ہے سو، اس سے پہلے مجھے یہ حساب برابر کرنا ہے۔ مسکراہٹ دباتے ہوئے وہ بولا۔
لیکن تم نے خود نہیں بنایا نا۔
مگر پیسے تو میں ہی دے رہا ہوں نا؟ اور یہ بات کرتے ہوئے اس غریب آدمی کے چہرے پہ خفگی سمٹ آئی۔ حیا بے ساختہ گردن موڑ کر شیشے کے باہر دیکھنے لگی۔ وہ نہیں چاہتی تھی کہ جہان اس کی آنکھوں میں آتی مسکراہٹ دیکھ پائے۔
اس بیکر نے بہت محنت سے جنجر بریڈ ہاوس بنایا تھا۔ وہ اتنا ہی پیارا تھا جتنا حیا کا اپنا جنجر بریڈ ہاوس- پتا نہیں کیوں اسے لگا تھا کہ یہ والا ہاوس زیادہ پیارا تھا۔
کاونٹر پر ٹرے پہ رکھا وہ خوبصورت سا ہاوس جس کے اوپر الابلا کینڈیز، جیلی سے ڈریسنگ کی گئی تھی۔
نہیں اسے پیک نہ کریں ٹوٹ جائے گا۔ بہت نازک ہے۔ میں اس کو یونہی اٹھا لوں گی۔ حیا نے بہت احتیاط سے جنجر بریڈ ہاوس والی ٹرے اٹھا لی۔ کپڑوں والا شاپر تو ویسے ہی گاڑی میں پڑا تھا۔ اب وہ ٹرے کو اسی طرح اٹھائے گھر لے جانا چاہتی تھی۔
اگر اس دفعہ یہ ٹوٹا تو یہ تمہاری غلطی ہو گی- جہان نے باہر نکل کر اسے تنبیہہ کی تھی۔ وہ جاب دیے بنا سہج سہج کر چلتی گاڑی تک آئی۔
پھر سارا رستہ وہ ٹرے ہاتھوں میں اٹھائے رہی تھی۔ ہاتھ دکھنے لگے تھے مگر اس نے زرا بھی بد احتیاطی نہیں کی تھی۔ یہ جنجر بریڈ ہاوس اسے اپنے والے سے زیادہ پیارا تھا۔
گاڑی گھر کے پورچ میں رکی تو جہان جلدی سے باہر نکلا اور اس کی طرف کا دروازہ کھولا- یقیننا یہ عنایت جنجر بریڈ ہاوس کیلئے تھی ورنہ اس کے لیے تو کبھی دروازہ نہیں کھلا تھا۔ وہ ٹرے اٹھائے باہر نکلی۔ جہان نے پچھلی سیٹ پہ پڑا اس کا شاپر اٹھا لیا۔
چلیے مادام آپ کے کپڑے ڈرائیور لے آئے گا۔ وہ مصنوعی بے چارگی سے کہتے ہوئے راستہ چھوڑ کر اسے آگے جانے کا اشارہ کر رہا تھا۔ حیا کے لبوں پہ مسکراہٹ امڈ آئی۔ ابھی وہ چند قدم ہی چل پائی تھی کہ جہان کی آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی۔
یہ گاڑی کس کی ہے؟ شاید کوئی مہمان آیا ہے۔ اس بات پہ حیا نے گردن موڑ کر دیکھا۔ پورچ میں کھڑی اس کی گاڑی کے آگے کھڑی گاڑی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور پیروں کے نیچے سے زمین سرکنے لگی تھی۔
اس سیاہ اکارڈ کو وہ ہزاروں گاڑیوں میں بھی پہچان سکتی تھی۔
پپ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پتا نہیں۔ اس کی آواز لڑکھڑا گئی- ٹرے پہ جمے اس کے ہاتھ مزید سخت ہوئے۔
جہان کچھ کہے بغیر شاپنگ بیگ پکڑے اس کے آگے آگے اندر آیا- وہ جہان کے پیچھے اندر آئی۔ ایک ایک قدم بہت بھاری ہو گیا تھا۔
لاونچ کے دہانے پہ ہی اندر کا منظر دکھائی دے رہا تھا۔ اس کے قدم چوکھٹ سے زرا پیچھے جم گئے۔ وہ تاریک گوشے میں کھڑی تھی۔ اندر والے لوگ اس کی طرف متوجہ نہیں تھے۔
وہاں ولید صوفے پہ ٹانگ پہ ٹانگ رکھے بیٹھا تھا۔ سامنے ابا، اماں' صائمہ تائی' روحیل' نتاشا' پھوپھو، داور بھائی سونیا سب ہی تھے۔ سونیا تو چلو شادی شدہ تھی۔ خاندان کی رواہیت کے مطابق اس کا پردہ نہیں تھا اچھنبے کی بات تو یہ تھی کہ ارم بھی وہیں کونے میں کھڑی تھی۔ اس کے ہاتھ میں ٹرے تھی جیسے وہ کچھ سرو کرنے کے بہانے یہاں آئی ہو اور پھر یہی کھڑی ہو گئی ہو۔ 
جہان اندر آیا ایک نظر سب کو دیکھا اور پھر ایک منٹ کہہ کر شاپنگ بیگ کی طرف اشارہ کیا۔ جیسے انہیں رکھنا ہے اور سیڑھیاں چڑھتے گیا۔ وہ وہیں اکیلی کھڑی رہ گئی۔ ٹرے کو پکڑے اس کے ہاتھ پسینے میں بھیگ گئے تھے۔
ولید نے جہان کو سیڑھیاں چڑھتے دیکھا تو گردن اس طرف موڑی۔ حیا کو دیکھتے ہوئے ایک زہریلی مسکراہٹ اس کے منہ پہ امڈ آئی۔ وہ کچھ مسرور سا واپس ان سب کی طرف مڑا جو ابھی تک الجھی نگاہوں سے اسے دیکھ رہے تھے۔
جی سلیمان انکل تو میں کہہ رہا تھا کہ ہمیں اس معاملے میں آرام سے بات کرنی چاہیئے اور مس حیا۔ سوری مسز حیا تو یہ جانتی ہیں کہ میں یہاں کیوں آیا ہوں۔ اس نے بات کر کے پھر سے ایک فاتحانہ نظر حیا پہ ڈالی- ابا نے اس کے نگاہوں کے تعاقب میں حیا کو دیکھا اور پھر ولید کو۔
ولید! یہ میرا گھر ہے۔ یہاں اس طرح کے معاملے ڈسکس کرنے کا کیا مطلب ہے؟ ابا کو جیسے اس کا آنا اور یہ سب کچھ کہنا اچھا نہیں لگ رہا تھا۔ روحیل، تایا ابا، سب کے ماتھے پہ بل تھے جیسے کسی کو یہ سب پسند نہیں آ رہا۔
بات گھر کی تھی اس لیے میں نے سوچا کہ گھر میں کر لی جائے۔ جو چیز میرے پاس ہے اسے دیکھ کر آپ کو اندازہ ہو گا کہ آپ لوگ اتنی آسانی سے میرے شئیر سیل نہیں کر سکتے۔
ولید یہ کوئی طریقہ نہیں ہے۔ داور بھائی ناگواری سے کہتے اٹھنے لگے۔ روحیل بھی برہمی سے یہ سب کچھ دیکھ رہا تھا۔ ارم بھی اسی طرح کونے میں کھڑی تھی۔ شاید کسی نے اسے جانے کے لیے نہیں کہا تھا یا شاید کہا ہو تب بھی وہ کھڑی ہو گئی ہو۔ وہ غالبا سارا تماشا دیکھنا چاہتی تھی۔
اس سارے میں اگر کوئی بڑے مزے سے بیٹھی کوک کے کین سے گھونٹ گھونٹ بھر رہی تھی تو وہ نتاشہ تھی۔ ہر فکر سے بے نیاز' ہر سچویشن کو انجوائے کرتی ہوئی۔
داور! تم اسے ضرور دیکھنا چاہو گے۔ آخر اس کا تعلق تمہاری ہی شادی کے فنکشن سے تو ہے۔ وہ کہتے ہوئے کھڑا ہوا اور حیا کی طرف دیکھ کر اپنی جیب سے ایک پلاسٹک ریپر نکالا جس میں رکھی سی ڈی صاف نظر آ رہی تھی۔
کیا میں اسے چلا دوں؟ اس نے سی ڈی حیا کو دکھاتے ہوئے پوچھا۔ 
سب لوگ اس بات پہ مڑ کر حیا کو دیکھنے لگے تھے۔ وہ جو ساکت سی کھڑی بنا پلک جھپکے اسے دیکھ رہی تھی۔ اس بات پہ بے اختیار اس کے قدم پیچھے ہٹے۔ کمر دیوار سے جا لگی۔ ہاتھ میں پکڑی ٹرے بہت وزنی ہو گئی تھی۔
اسی لمحے جہان خالی ہاتھ سیڑھیاں اترتا دکھائی دیا۔
جو باے کرنی ہے مجھ سے کرو۔ ہاں بولو، کیا مسئلہ ہے؟ وہ جیسے اب فارغ ہو کر بہت سنجیدگی سے کہتا ولید کے سامنے آ کر کھڑا ہوا۔
حیا نے امید سے جہان کو دیکھا۔ وہ یقیننا سمجھ جائے گا کہ یہ وہی ویڈیو ہے۔ وہ ابھی ولید کو کچھ دے مارے گا یا سی ڈی کے ٹکڑ ٹکڑے کر دے گا اسے پوری امید تھی۔
اس کی بات پہ ولید کی مسکراہٹ گہری ہوئی۔ یہ شو ٹائم ہے اور تم تو اس شو کو ضرور دیکھنا چاہو گے۔ بات کے اختتام پہ ولید نے پھر حیا کو دیکھا۔ اس کا بار بار حیا کو دیکھنا سب کو الجھن اور عجیب سی کیفیت میں مبتلا کر رہا تھا۔
کیا ہے اس سی ڈی میں؟ جہان نے سنجیدگی سے اس سے پوچھا البتہ آنکھوں میں ذرا سی الجھن تھی۔
وہ نہیں سمجھا تھا۔
اللہ اللہ! وہ نہیں سمجھا تھا!
اس کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔
جہان نہیں سمجھا تھا۔ وہ کہنا چاہتی تھی چلانا چاہتی تھی۔ جہان اس سے مت پوچھو' پلیز جہان اسے گھر سے نکال دو۔ اسے کچھ دے مارو مگر اسے یہاں سے بھیج دو۔
مگر سارے الفاظ حلق میں دم توڑ گئے۔
آپ کے گھر کی چیز ہے تو آپ ضرور دیکھنا چاہیں گے اور اس کے بعد آپ فیصلہ کریں کہ آپ مجھے اپنی کمپنی میں کس حیثیت سے کام کرنے دیں گے۔
لاونچ میں خاموشی تھی۔ سب سن رہے تھے۔ بس وہی دونوں بول رہے تھے۔ 
حیا کا سانس آہستہ آہستہ رکنے لگا۔ دم گھٹ رہا تھا۔ فضا میں آکسیجن کم ہو گئی تھی۔
مگر اس میں ہے کیا؟
وہ رہا ٹی وی اور وہ اس کے نیچے ڈی وی ڈی رکھا ہے۔ اس کو لگا کرخود دیکھ لو بہت انجوائے کرو گے۔ اس نے سی ڈی جہان کو پکڑائی۔ حیا کے نتھنوں سے آکسیجن کا کوئی جھونکا ٹکرایا تھا۔ سانس۔ خوش گمانی۔ امید۔ ایک کرن نظر آئی تھی کہ جہان سی ڈی ہاتھ میں لیتے ہی توڑ دے گا اور ولید کو دے مارے گا۔
جہان نے ذرا تزبزب سے سی ڈی کو دیکھا اور پھر اسے تھام لیا۔ مگر اس نے اسے نہیں توڑا۔ اس نے سی ڈی کو کور سے نکالا الٹ پلٹ کر دیکھا اور پھر سر اٹھا کر ولید کی طرف متوجہ ہوا۔
آر یو شیور کہ اس میں ایسا کچھ نہیں جو کسی کی توہین کا باعث بنے۔ کیا میں واقعی اسے سب کے سامنے چلا دوں؟
اس میں جو ہے وہ سب سچ ہے۔ کوئی فکسنگ نہیں ہے۔ چلاو ضرور چلاو۔
جہان نے سی ڈی پکڑے پکڑے تایا ابا کو دیکھا۔ وہ اسی الجھی ہوئی نگاہوں سے اسے دیکھ رہے تھے۔ کسی کی سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا کہ یہ اچانک ہو کیا رہا ہے۔ اس طرح اچانک ولید کا آنا پھر ان سب سےکہنا کہ وہ ان سے کوئی بات کرنا چاہتا ہے اور پھر یہ سی ڈی وغیرہ۔
جہان نے مڑ کر ارم کو دیکھا۔ کیا میں اسے چلا دوں؟ اس نے ارم سے اجازت مانگی تھی۔ وہ اس سے کیوں پوچھ رہا تھا۔ کیا اسے احساس نہیں تھا کہ یہ سی ڈی ارم نے ہی تو ولید کو دی ہو گی۔ اور اسی لیے ارم نے نہایت ہی بے نیازی سے شانے اچکائے جیسے کہہ رہی ہو میری بلا سے۔ البتہ اس کی آنکھوں میں مسکراہٹ سی تھی۔ شو ٹائم کی مسکراہٹ کہ اب آئے گا مزہ۔
******

جہان نے پھر ولید کو دیکھا جیسے خود بھی متذبذب تھا کہ اسے سی ڈی چلانی چاہیے یا نہیں۔
جہان نے ایک سپاٹ سی نگاہ اس پر ڈالی اور پھر اوکے کہتے ہوئے مڑا۔ اس کے قدم دیوار میں لگے ٹی وی کی طرف اٹھ رہے تھے۔
کچن کی کھلے کھڑکی سے ہوا کا جھونکا آیا اور آدھی کھلی دیوار پہ لٹکتے ونڈ چائم کی لڑیاں گول گول گھومنے لگیں۔ اسٹک اور کانچ ٹکرائے۔ خاموشی میں مدھم سا نغمہ بج اٹھا۔
ماتم کا نغمہ۔
سوگ کا نغمہ۔
جہان نے ایک قدم مزید ٹی وی کی طرف بڑھایا، باہر بادل زور کے گرجے، بجلی چمکی، اور حیا کے ہاتھ سے جنجر بریڈ ہاوس کی ٹرے گر پڑی۔ ہلکے سے ٹھڈ کی آواز سے ٹرے اوندھے منہ زمین بوس ہوئی۔ کوئی اس کی طرف متوجہ نہیں ہوا تھا۔ وہ سب اس سی ڈی دیکھ رہے تھے کہ آخر اس میں ایسا کیا ہے جسے دکھانے کے لیے ولید اتنا بے چین ہورہا تھا۔
جہان آہستہ آہستہ چلتا ٹی وی کی طرف جا رہا تھا۔ حیا کا ٹوٹا ہوا جنجر بریڈ ہاؤس اس کے قدموں میں گرا پڑا تھا۔ لیکن اسے پرواہ نہیں تھی۔ وہ بس سانس روکے لاؤنج میں بیٹھے نفوس کو دیکھ رہی تھی۔
ابا، روحیل، جہان۔ باپ، بھائی، شوہر۔ کوئی اس کے ساتھ نہ تھا۔ کوئی اسے اس پرائے مرد، بلیک میلر سے بچا نہیں سکتا تھا، مگر کیا واقعی کوئی نہیں تھا۔
اللہ تعالی۔ اس نے زور سے پکارا تھا۔ اللہ کا نام وہ واحد نام ہوتا ہے جس کو بولنے کے لیے ہونٹ ہلانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس نے بھی نقاب تلے بند ہونٹوں پیچھے زبان ہلاکر اسے پکارا تھا۔
اللہ تعالی میں بہت اکیلی ہوں میرے پاس اس وقت کوئی نہیں ہے جسے میں پکار سکوں۔ 
جہان اب ٹی وی کے پاس پہنچ چکا تھا۔ حیا کے دل پہ پڑتا بوجھ اب بڑھتا جا رہا تھا۔
صرف آپ ہیں جو میری مدد کر سکتے ہیں،
آپ دیں تو کوئی چھین نہیں سکتا!
جہان نے ٹی وی کا بٹن آن کیا اور پھر ریموٹ سے ڈی وی ڈی چلایا۔ اب ٹی وی اسکرین نیلی نظر آ رہی تھی۔
آپ چھین لیں تو کوئی دے نہیں سکتا!
جہان جھک کر بٹن دباتے ہوئے ڈی وی ڈی کی پلیٹ باہر نکالی۔ دفعتا ریمورٹ اس کے ہاتھ سے پھسل پڑا۔ ماربل کے فرش پہ ریمورٹ گرا تھا۔ چند لمحے مزید گزرے۔
میری مدد کریں۔ مجھے اکیلا نہ چھوڑیں!
جہان ریمورٹ اٹھا کر پھر سیدھا ہوا۔ کاش ریمورٹ ٹوٹ جاتا مگر وہ نہیں ٹوٹا تھا۔
ہر چیز اس کے خلاف جا رہی تھی۔
جہان نے خالی سانچے میں سی ڈی رکھی اور اسے واپس دھکیلا۔
مجھے ان لوگوں کے سامنے رسوا نہ کریں!
سکرین پہ مینیو لکھا آ رہا تھا۔ جہان نے ذرا پیچھے ہو کر ریمورٹ سے پلے کا بٹن دبایا۔
مجھے رسوا نہ کرنا! پلیز۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہیلپ می۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پلیز!
حیا نے آنکھیں بند کر لیں۔ شاید سی ڈی نہ لگے وہ اندر پھنس جائے۔ شاید۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر چند ہی لمحوں بعد اسے گانے کی ٹون سنائی دی تھی۔
شیلا کی موسیقی۔
اس کے قدموں تلے سے زمین سرکنے لگی تھی۔ سر سے آسمان ہٹنے لگا تھا۔ اسے لگا وہ ابھی گر جائے گی۔ وہ ابھی مر جائے گی۔
ویڈیو لگ چکی تھی۔ سب دیکھ رہے تھے۔
وہ خواب نہیں تھا۔ حقیقت تھی۔ وہ ایک بار پھر رسواء ہونے جا رہی تھی۔
ساری ریاضت، ساری اطاعت سب بے کار گیا تھا۔ 
رسوائی، گناہ۔ وہ اس کا پیچھا کبھی نہیں چھوڑیں گے۔ وہ قبر تک اس کے پیچھے آئیں گے۔
اس نے اپنی سرخ ہوتی بند آنکھیں کھولیں۔ لاونچ کا منظر دھوندلا رہا تھا۔ اس نے ابا کے چہرے ک دیکھنا چاہا جو بہت شاکڈ سے سکرین کو دیکھ رہے تھے۔ اس نے اپنے باپ کو سربازار بے عزت کر دیا تھا۔
اس نے روحیل کا چہرہ دیکھنا چاہا جیسے سمجھ نا آ رہا ہو کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔
اس نے تایا ابا کے چہرے کو دیکھنا چاہا۔ غیض و غضب' غصہ پیشانی کی تنی نسیں' سرخ پڑتا چہرہ۔ اس نے صائمہ تائی اور اماں کا چہرہ دیکھا۔ ہکا بکا۔
گانا اسی طرح چل رہا تھا۔
اس نے نتاشہ کے چہرے کو دیکھا۔ وہ بڑے ستائشی انداز میں اسکرین کو دیکھتی ایکسائیٹڈ سی آگے ہو کر بیٹھی تھی۔ کوک کا کین اسی طرح اس کے ہاتھ میں تھا۔
اس کی نگاہیں نتاشہ سے ہوتی ہوئی جہان کے چہرے پہ پڑیں۔ جہان وہ واحد شخص تھا جو ٹی وی نہیں دیکھ رہا تھا۔ وہ صرف چبھتی ہوئی نظروں سے ولید کو دیکھ رہا تھا۔ اور ولید۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تب اس نے دیکھا۔
ولید کا چہرہ سفید پڑا ہوا تھا۔ اتنا سفید جیسے کسی نے پینٹ کر دیا ہو۔ اسی پل اس نے ارم کو دیکھا۔ اس کا چہرہ بھی اتنا ہی سفید-
یہ کیا؟
ایک دم سے حیا نے گردن گھما کر اسکرین کو دیکھا۔
نقاب تلے اس کے ہونٹ زرا سے کھلے۔ آنکھوں کی پتلیاں بے یقینی سے پھیلیں۔
اسے لگا وہ کبھی سانس نہیں لے سکے گی۔
گانا بھی وہی تھا، میوزک بھی وہی تھا، سی ڈی بھی وہی تھی مگر منظر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نہیں یہ شریفوں کا مجرا نہیں تھا-نہیں۔ یہ اس کی ویڈیو تو نہیں تھی- یہ تو۔ 
ارم اور ولید۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ تصاویر کا ایک سلائیڈ شو تھا۔ ایک ایک کر کے بڑی بڑی تصاویر اسکرین پہ ابھرتی اور چلی جاتیں۔ ارم اور ولید کی تصاویر۔ اکھٹے کسی ریسٹورنٹ میں' کسی شاپنگ ایریا' کسی پارک میں۔ ساری فوٹوز سیلف فوٹوز تھیں۔ جیسے ولید کے ساتھ ہو کر ارم نے بازوں بڑھا کر خود ہی موبائل سے کھینچی ہو۔ اور اس لحاظ سے وہ دونوں بہت قریب قریب کھڑے تھے۔
ہر دو تین تصاویر کے بعد اسکین شدہ ای میلز اسکرین پہ ابھرتیں۔ ان میں سے کچھ فقرے ہائی لائٹڈ تھے۔ وہ تصاویر اتنی دیر اسکرین پہ رہتیں کہ وہ سب ان ہائی لائیٹڈ فقروں کو پڑھ لیتے۔ پھر اگلی تصاویر آ جاتی۔ ارم اور ولید کی ذاتی ای میلز۔
یہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ کیا؟ ولید ایک دم آگے بڑھنے لگا۔
ایک قدم بھی آگے بڑھایا تو ان ٹانگوں پہ گھر نہیں جاؤ گے۔ وہیں کھڑے رہو۔ جہان کا وہ الجھن بھرا چہرہ وہ تزبزب سب غائب ہو گیا تھا۔
وہ اتنے سرد اور کٹیلے انداز میں بولا کہ ولید کے بڑھتے قدم وہیں رک گئے۔ اس نے ششدر سی نگاہوں سے جہان کو دیکھا۔
یہ شو ٹائم ہے نا ولید لغاری اور تم نے کہا تھا کہ اس شو کو میں بہت انجوائے کروں گا۔ میں تو کر رہا ہوں۔ تم بھی کرو مگر شاید تم کوئی غلط سی ڈی اٹھا لائے ہو۔
یہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ غلط ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ سچ نہیں ہے- ولید لغاری ہکلا گیا۔ کبھی وہ صوفے پہ بیٹھے نفوس کو دیکھتا کبھی جہان کو- حیا کو دیکھنا تو اسے یاد ہی نہیں رہا تھا۔
ابھی تم نے خود کہا تھا کہ یہ حقیقت ہے تمہارے کون سے بیان پہ یقین کروں میں؟وہ درشتی سے بولا مگر اسی اثنا میں داور بھائی غصے سے اٹھے تھے۔
گھٹیا انسان میں تمہیں چھوڑوں گا نہیں۔
پلیز! جہان نے ہاتھ اٹھا کر انہیں اس کے قریب آنے سے روکا۔ ہاتھ کا استعمال مجھے بھی آتا ہے مگر یہاں خواتین بیٹھی ہیں اس لیے اس آدمی سے میں خود نبٹ لوں گا بعد میں! اور ابھی! اس نے انگشت شہادت اٹھا کر قہر آلود نگاہوں سے ولید کو دیکھتے تنبیہہ کی۔ ابھی تم یہاں سے اپنی شکل گم کر لو۔ تم سے میں بعد میں ملوں گا کیونکہ یہ سی ڈی میرے پاس ہے اور تم نہیں چاہو گے کہ تمہارا ہونے والا سسر یا اس کی بیٹی یہ سب دیکھے۔ سینیٹر عبدالولی کی بیٹی سے رشتہ ہو رہا ہے نا تمہارا؟
ولید لڑکھڑا کر پیچھے ہٹا۔ تایا ابا' ابا، روحیل سب اپنی جگہوں سے کھڑے ہو چکے تھے۔ بس نہیں چل رہا تھا کہ اس شخص کو گولی مار دیں۔
آوٹ! سلمان صاحب ضبط سے بہ زور بولے تھے۔ ولید اپنی اڑی رنگت اور بدحواس قدموں سے پلٹا۔ سامنے دیوار کے ساتھ لگی حیا کھڑی تھی۔ اس کی نقاب سے جھلکتی سیاہ آنکھوں میں بھی سکتہ طاری تھا۔ ولید ان آنکھوں میں نہیں دیکھ سکتا تھا۔ وہ تیزی سے باہر نکلا۔
باہر اسی طرح بارش کے قطرے گر رہے تھے۔
ٹی وی اسکرین پہ سلائیڈ شو ابھی تک چل رہا تھا۔ ارم سفید چہرے کے ساتھ وہ دیکھ رہی تھی۔ تصویریں تھیں کہ ختم ہی نہیں ہو رہی تھیں۔
یہ سب فوٹو فکسنگ ہو گی۔ پھوپھو رنجیدگی سے بولی تھیں۔ حالانکہ تصویریں بہت کلئیر تھیں مگر تایا ابا اور داور کے سرخ چہرے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ ارم کو کسی طوفان سے بچانا چاہتی تھیں۔
تیز بارش تھم چکی تھی۔ ہلکی ہلکی بوندا باندی جاری تھی۔ کھڑکیوں کے شیشوں پہ گرتی ٹپ ٹپ کی آواز مسلسل آرہی تھی۔
پھوپھو کی بات پہ صائمہ تائی کو تقویت ملی تھی۔
یہ سب جھوٹ ہے الزام ہے میری بچی پہ- یہ سب ارم اور حیا کی تصویریں تھیں یہ لڑکا کہاں سے آ گیا ان میں؟ وہ اپنی بات منوانے کیلئے زور سے بولی تھیں۔ اور یہ ساری تصویریں حیا کے پاس تھیں اسی نے دی ہوں گی اس لڑکے کو اور نام میری بیٹی کا لگا دیا۔
گھر چلو تم لوگ! تایا فرقان قہر برساتی نگاہ سے ان کو دیکھتے ہوئے بولے تھے۔
میری بات سنیں یہ حیا کے پاس تھیں تصویریں اس نے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسی لیے وہ لڑکا بار بار حیا کا نام لے رہا تھا۔
میری بیوی کا نام مت لیں ممانی! ابا صائمہ تائی کی بات پہ ناگواری سے احتجاج کرنے ہی لگے تھے کہ وہ جیسے غصے سے کہتا ان کے سامنے آکھڑا ہوا تھا۔
یہ تصویریں شاید آپ کو اپنی بیٹی کے لیپ ٹاپ سے بھی مل جائیں۔ مگر میری بیوی کا نام اگر کسی نے لیا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا۔ وہ اتنی سختی سے انگلی اٹھا کر بولا تھا کہ صائمہ تائی آگے سے کہہ نہ سکیں۔ فاطمہ اور پھوپھو نے افسوس سے ایک دوسرے کو دیکھا جیسے سمجھ نہیں آ رہی کہ کیا کریں۔
گھر آؤ تم لوگ! تایا ابا نے بہت ضبط سے سرخ پڑتی نگاہں سے بیوی کو اشارہ کیا اور لمبے لمبے ڈگ بھرتے باہر نکل گئے۔ داوار بھائی فورا باپ کے پیچھے لپکے۔
ابا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ سب میں نے نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ حیا نے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ارم نے ان کو آواز دینا چاہی۔
ارم! جہان نے حیرت اور غصے سے اسے دیکھا۔ تم میری بیوی کا نام ان سب میں کیسے لے سکتی ہو؟
تایا جا چکے تھے ارم نے بے بسی سے جہان کو دیکھا۔
تمہیں کیا لگتا ہے؟ تم لڑکیوں کو کیا لگتا ہے، ہاں؟ تم موبائل سے میسج مٹا دو گی، کال ریکارڈ حذف کردو گی تو وہ ختم ہو جائے گا؟ ایسا نہیں ہوتا ارم بی بی! ہر ایس ایم ایس ریکارڈ ہوتا ہے، ہر کال ریکارڈ ہوتی ہے۔ ایک دفعہ پھر لو میری بیوی کا نام اور میں تمہیں اپنی ایجنسی سے ولید کے فون پہ کی گئی ہر کال کی آڈیو ریکارڈنگ نکلوا کر دکھاوں گا۔ میرے لیے یہ بہت آسان ہے۔
ارم نے خشک لبوں پہ زبان پھیری اور اپنی ماں کو دیکھا مگر وہ پہلے ہی باہر جا رہی تھیں۔ وہ تیزی سے ان کی طرف لپکی۔ چوکھٹ پہ کھڑی حیا اور اس کے قدموں پہ گرے ملبے کو اس نے دیکھا بھی نہیں۔
لاونچ میں پھر سے خاموشی چھا گئی تھی۔ سب جیسے ایک دوسرے سے شرمندہ تھے۔ سوائے نتاشا کے۔

جاری ھے

No comments:

غازی از ابو شجاع ابو وقار قسط نمبر60 Ghazi by Abu Shuja Abu Waqar

Ghazi  by  Abu Shuja Abu Waqar  غازی از ابو شجاع ابو وقار  پیشکش محمد ابراہیم 60 آخری قسط نمبر  Ghazi by Abu Shuja Abu...

Powered by Blogger.