ﻧﺎﻭﻝ سنائپر از ریاض_عاقب_کوہلر قسط نمبر 32
ﻧﺎﻭﻝ سنائپر
از
ریاض_عاقب_کوہلر
سنائپر 32
ریاض عاقب کوہلر
میں نے پوچھا ۔”یعنی اب وہ گاﺅں پر حملہ کرے گا ؟“
”نہیں ....ہمارے ہاں مقابلہ صرف مردوں کے درمیان ہوتا ہے ۔اب اس کے بعد وہ وشلام گاﺅں کے کسی بھی مردکو گولی کا نشانہ بنا سکتے ہیں ۔اسی طرح ہم بھی جہانداد کے کسی لشکری کو نشانہ بناسکتے ہیں ۔البتہ نہ تو وہ وشلام گاﺅں کی حدود میں داخل ہوں گے اور نہ ہم علام خیل میں داخل ہوں گے۔ اس لڑائی میں عورتیں ،بچے اور بوڑھوں مردوں کو کچھ نہیں کہا جاتا ۔“
”ویسے یہ اصول قابلِ تعریف ہے ۔“
”شاید ۔“کہہ کروہ جانے کے ارادے سے مڑا۔
میں نے جلدی سے کہا ۔”میرا خیال ہے میں بھی آپ کے ساتھ چلتا ہوں ۔“
”نہیں ....اس وقت آپ کی کوئی ضرورت نہیں ۔فی الحال تو گاﺅں کے زیادہ تر مرد پہاڑوں پر پہنچ کر مورچے بنانے میں لگے ہوئے ہیں ۔کچھ پرانے مورچوں کی مرمت کریں گے ۔اصل لڑائی صبح کی روشنی کے بعد ہی شروع ہو گی ۔اندھیرے میں تو بس ایمونیشن ضائع کرنے والی بات ہی ہوتی ہے ۔“
”آپ کس وقت جائیں گے ؟“
”میں آپ لوگوں کو ناشتا کرا کے ہی ادھر کا رخ کروں گا۔“
”پھر ٹھیک ہے ۔“میں اس کے ساتھ متفق ہوگیا تھا ،کیونکہ ایک رات کی نیند لے کر ہم تازہ دم ہو سکتے تھے ۔
وہ ”اسلام علیکم ۔“کہتا ہوا رخصت ہو گیا ۔دروازہ اندر سے کنڈی کرتے ہوئے ہم نے دو چارئیوں قبضہ جمالیا ۔
”راجو !....سوتے ہیں ۔“توبہ شکن انگڑائی لیتے ہوئے وہ میری جانب متوجہ ہوئی ۔
”ہاں بہتر یہی رہے گا ۔“میں نے تہہ کیے ہوئے کمبل کو کھول کر ٹانگوں پر پھیلا لیا ۔
ایک خوب صورت مسکراہٹ میری جانب اچھال کر وہ بھی کمبل میں گھس گئی ۔سارے دن کی بھاگ دوڑ کے بعد جسم آرام کا تقاضا کر رہا تھا ۔ایک اچھی نیند لے کر میں اگلے دن کی لڑائی کے لیے خود کو اچھی طرح تیار کر سکتا تھا ۔
میرا ارادہ پلوشہ کو وہیں چھوڑ کر لڑائی میں حصہ لینے کا تھا ۔میں نہیں چاہتا تھا کہ اسے کوئی ادنا سی بھی تکلیف پہنچے ۔حالانکہ یہ بات میں اچھی طرح جانتا تھا کہ اس کے اندر ہمت و حوصلہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا ۔وہ ایک تربیت یافتہ کمانڈو سے کم صلاحیتیں نہیں رکھتی تھی ۔اس کے باوجود میں اسے لڑائی میں جھونکنے پرخود کو تیار نہیں کر پا رہا تھا ۔البتہ اتنا مجھے معلوم تھا کہ اس نے بہت مشکل سے راضی ہونا تھا اور اسے راضی کرنے کے لیے ضروری تھا کہ میں کوئی اچھی سی ترکیب سوچ لیتا ۔سب سے بہتر تو یہی تھا کہ میں اسے اپنے خفگی سے ڈرا کر لڑائی میں حصہ لینے سے روکتا ۔ اسی ادھیڑ بن میں میری آنکھیں بند ہونے لگیں اور پھر میں نیند کی میٹھی وادیوں میں کھو گیا جہاں پلوشہ خوب صورت مسکراہٹوں اور ناز نخروں کے ساتھ موجود تھی ۔حیران کن امر یہ تھا کہ اس سحر انگیز دنیا میں پلوشہ کے بال بہت لمبے لمبے تھے ۔مقامی گھگرے میں وہ کوئی جنت سے آئی ہوئی حور یا کوہ قاف کی اپسرا لگ رہی تھی ۔اس لباس میں وہ کسی ہندو ناری کی طرح میرے سامنے خوب صورت رقص کر رہی تھی ۔مدھر اور دل لبھانے والے دھیمے ساز نہ جانے کہاں سے بلند ہو رہے تھے ۔اچانک دور کہیں کلاشن کوف کی تڑتڑاہٹ ابھری اور میری آنکھ کھل گئی۔ رات کے دو بج رہے تھے ۔کمرے میں ابھی تک ٹیوب لائیٹ جل رہی تھی ۔میز پر پانی کا بھرا جگ اور گلاس رکھا تھا ۔پانی کا گلاس بھرتے ہوئے میں نے پلوشہ کی جانب دیکھا ۔وہ گہری نیند میں تھی ۔اس کے چہرے پر چھائی معصومیت نیند میں اور زیادہ بڑھ گئی تھی ۔میرے ذہن میں خواب کے مناظر اجاگر ہوئے اور میں بے ساختہ اسے گھورتا رہ گیا ۔جانے میں کتنی دیر اسے یونھی گھورتا رہتا کہ اچانک کسمساتے ہوئے اس نے کروہٹ بدلی اور اس کا ملیح چہرہ میری آنکھوں کے سامنے سے ہٹ گیا ۔میں نے کافی دیر ہاتھ میں تھاما گلاس منہ سے لگایا پانی پی کر میں نے گلاس میز پر رکھا اس وقت نہ جانے کیوں میرا دل کر رہا تھا کہ میں پلوشہ کے چہرے کو پھر سے دیکھوں ۔اور پھر دل میں موجود خواہش اتنی بڑھی کہ میں بے اختیار اس کی چارپائی کی طرف بڑھ گیا ۔ایک مرتبہ تو میرے دماغ میں آیا کہ یہ نہ ہو کہ وہ میرے قریب آنے کو کوئی اور رنگ دے مگر پھر اپنے دل کو ٹٹولنے پر مجھے کوئی ایسا جذبہ نہ ملا جو مجھے شرمندہ کر دیتا ۔میں نے اعتماد سے اپنی انگلیاں اس کے ریشمی بالوں میں گھسا دیں ۔ایک دم ہڑبڑا کر وہ سیدھی ہوئی اور آنکھیں کھول کر مجھے دیکھنے لگی ۔اس کی آنکھوں میں مجھے عجیب سی وحشت ،خوف اور ڈر نظر آیا ۔لیکن ایک منٹ مجھے گھورنے کے بعد وہ ڈر اور خوف بتدریج نرمی اور مسکراہٹ میں تبدیل ہوتا گیا ۔
”راجو !....کیا بات ہے ۔“چند لمحوں بعد اس کی مدھر آواز نے میرے کانوں میں رس انڈیلا۔
”اس طرف منہ کر کے لیٹو میں تھوڑی دیر تمھیں دیکھنا چاہتا ہوں ۔“
وہ ناز سے مسکرائی ۔”کیوں جی مفت کا مال ہے کیا ؟“
”پچاس لاکھ کی حامی تو بھری ہے ۔“میری انگلیاں اسی طرح اس کے بالوں میں سرسراتی رہیں ۔
”اتنا سستا سمجھا ہے مجھے ۔“اس نے میرا دوسرا ہاتھ تھام کر ہونٹوں سے لگا لیا ۔
میں فوراََ بولا۔”یہ قیمت تم نے خود لگائی تھی ۔میرے لیے تو تم انمول ہو ۔“
”اچھا ایک دم آپ کو ہوا کیا ہے ۔مجھے تو ڈرا ہی دیا تھا ۔“
”ڈر کس بات کا ؟“
اس نے اعتماد بھرے لہجے میں کہا ۔”اعتبار اوربھروسا ٹوٹنے کا ڈر راجو !....ورنہ اپنی حفاظت کرنا میں جانتی ہوں ۔“
”کیا تم میرے بارے ایسا سوچ بھی سکتی ہو ۔“میرے لہجے میں ہلکی سی خفگی تھی ۔
”راجو !....آپ یہاں میرے ساتھ لیٹیں ۔“چارپائی کے دوسرے کنارے کی طرف سمٹتے ہوئے اس نے میرے لیے جگہ بنائی ۔
”رہنے دو ،کہیں رہا سہا بھروسا ہی نہ جاتا رہے ۔“میں اب بھی خفا سا تھا ۔
”راجو !....اگر آپ نہ لیٹے تو بہت برا ہوگا ۔“اس مرتبہ اس کے لہجے میں کوئی ایسی بات ضرور تھی کہ میں فوراََ اس کے ساتھ لیٹ گیا ۔میرے گلے میں بانہیں ڈالتے ہوئے اس نے لبوں پر خوب صورت مسکراہٹ بکھیری ۔
”اگر میرے دل میں ذرا سا بھی شبہ ہوتا تو یوں آپ سے نہ لپٹتی ۔خدا قسم میں گہری نیند میں تھی اس لیے جاگتے ہی مجھے ذرا سا خوف اور ڈر محسوس ہوا تھا اور یہ تو آپ کوپتا ہے نا کہ نیند سے جاگتے ہی چند لمحوں تک آدمی مکمل طور پر اپنے حواس میں نہیں ہوتا ۔اور نیند کی حالت میں شریعت بھی کوئی حکم نہیں لگاتی تو آپ کیسے میرے ڈر کو کسی غلط سمت موڑ سکتے ہیں ۔“
”اچھا اب میں نے تمھاری بات مان لی اب میں اپنی چارپائی پر جاتا ہوں ۔“باوجود اس کے کہ اس کے بارے میرے دل میں کوئی غلط خیال موجود نہیں تھا پھر بھی میں اس کے ساتھ نہیں سو سکتا تھا ۔ وہ ابھی تک میری شرعی بیوی نہیں بنی تھی ۔ایک چارپائی پر لیٹنا کسی طور بھی مناسب نہیں تھا ۔اور یہ بات وہ مجھ سے بھی اچھی طرح جانتی تھی ۔بغیر ضد کیے اس نے شوخی بھرے لہجے میں کہا ۔
”ٹھیک ہے اور کیا یاد کریں گے میں اسی کروٹ لیٹی ہوئی ہوں آپ کا جب تک جی چاہے مجھے دیکھتے رہیں ۔“
”شکریہ جی ۔“اس کے ماتھے کو اپنے ہونٹوں کا نشانہ بناتے ہوئے میں اپنی چارپائی پر آ گیا ۔
وہ دل آویز تبسم ہونٹوں پر سجائے مجھے گھورتی رہی ۔میری نگاہیں بھی اس کے ملیح چہرے پر گڑی رہیں ۔اور اسی طرح اسے گھورتے گھورتے میںایک بار پھر نیند کی وادیوں میں کھو گیا ۔میری دوبارہ آنکھ آذان کی آواز سے کھلی تھی ۔پلوشہ ابھی تک نیند میں تھی ۔میں کمرے سے باہر نکل کر بیٹھک کے ایک کونے میں بنے بیت الخلا کی جانب بڑھ گیا ۔وہاں پلاسٹک کے تین ڈرم پانی کے بھرے ہوئے پڑے تھے اور ان کے ساتھ پلاسٹک کے چند لوٹے بھی رکھے تھے ۔
میں وضو کر کے کمرے میں واپس آیا وہ ابھی تک سوئی ہوئی تھی ۔دیوار سے لٹکا جائے نماز اتار کر میں وہیں نماز پڑھنے لگا ۔میرے نماز پڑھنے تک وہ جاگ گئی تھی ۔جاے نماز دیوار میں گڑی کیل میں لٹکا کر میںاپنی چارپائی پر آن بیٹھا ۔وہ بستر چھوڑ کر منہ ہاتھ دھونے چل پڑی ۔
اس کی واپسی پر ہم گپ شپ کرنے لگے ۔طلوع آفتاب کے بعد قابل خان ناشتے کے برتن اٹھائے وہاں پہنچ گیا ۔پر تکلف ناشتے کے بعد میں جانے کے لیے تیار تھا ۔
قابل خان ناشتے کے برتن واپس کر کے لوٹا اور کہا۔
”چھوٹی بہن کو میں اپنی بیوی کے پاس چھوڑ دیتا ہوں اور ہم دونوں چلتے ہیں ۔“
”کیا ....؟‘وہ تیز لہجے میں بولی ۔”میں کوئی بہن وہن نہیں ہوں ،فی الحال مجھے بھائی ہی سمجھو۔“
”پلوشے تمھارا دماغ ٹھیک ہے ۔“میں نے ذرا سختی سے کہا ۔
”نہیں ہے ٹھیک پھر ؟“اپنی موٹی موٹی غلافی آنکھوں سے مجھے گھورتے ہوئے اس نے بپھرے ہوئے لہجے میں کہا ۔
”کبھی کسی بے غیرت کی بات مان بھی لیا کرو۔“مجھے شدید تپ چڑھ گیا تھا ۔
وہ ترکی بہ ترکی بولی ۔”اگر کوئی بے غیرت ہوتا تواس کی بات مان بھی لیتی ۔“
”تم نے یہاں رہنا ہے کہ نہیں ؟“میں نے دو ٹوک لہجے میں پوچھا ۔
”نہیں ،نہیں ،نہیں ۔میں نے وہیں رہنا ہے جہاں آپ ہوں گے ۔“اس نے حتمی انداز میں جوا ب دیا ۔
میں بگڑتے ہوئے پوچھا ۔”کیوں میں کوئی بچہ ہوں جسے تمھاری حفاظت کی ضرورت ہوگی۔“
وہ جھٹ بولی ۔”میں تو بچی ہوں نا ،اور مجھے آپ کی حفاظت کی ضرورت ہے ۔“
”اسی لیے تو یہیں چھوڑے جا رہا ہوں ۔“
”کتنی بار بتاﺅں یہاں نہیں رہنا آپ کے ساتھ ہی جانا ہے ۔“
”ٹھیک ہے جو مرضی آئے کرو ۔“میرا پارہ سچ مچ بلند ہو گیا تھا ۔
وہ قابل خان کو مخاطب ہوئی ۔”قابل بھائی!.... آپ ایک منٹ کے لیے ہمیں اکیلا چھوڑ سکتے ہیں۔“
”کیوں نہیں ۔“وہ باہر جانے لگا ۔
”کوئی ضرورت نہیں ۔“میں نے اسے روکنے کی کوشش کی مگر وہ باہر نکل گیا ۔
”راجو !....میں سچ میں روٹھ جاﺅں گی ۔“میرا روکھا لہجہ اس سے برداشت نہیں ہو پایا تھا ۔
”تو منع کس نے کیا ہے ۔“میں نے خشک لہجے میں کہا اور سنائپر رائفل کا تھیلا پیٹھ پیچھے ڈالنے لگا ۔
”آپ سے نہیں ،زندگی سے ۔“عجیب سے لہجے میں کہتے ہوئے اس نے جیب سے قبیل خان والا پستول نکال کر کنپٹی سے لگا لیا ۔میرا دل جیسے اچھل کر حلق میں آگیا تھا۔
میں تڑپ کر آگے بڑھا اور اس کے ہاتھ سے پستول چھین کر اس کے چہرے پر دو تھپڑ جڑ دیے ۔
”بے وقوف ،احمق ،جاہل ،گندی ....“میرے منہ میں جو آیا بکتا چلا گیا ۔
میرے تھپڑوں اور الفاظ کا اس پر ذرا بھی اثر نہیں ہوا تھا ۔وہ اطمینان بھرے لہجے میں پوچھنے لگی ۔ ”اپنے ساتھ خوشی خوشی لے کے جائیں گے کہ نہیں ۔“
”آجانا،لیکن وعدہ کرو آج کے بعد ایسی حرکت نہیں کرو گی ۔“میں نے اسے کھینچ کر سینے سے لگاتے ہوئے خوف بھرے لہجے میں کہا ۔
”پہلے آپ وعدہ کریں کہ کبھی چھوڑنے کی بات نہیں کریں گے ۔“میرے کندھے سے چہرہ رگڑتے ہوئے اس نے ایسے لہجے میں کہا جس میں کسی کے اپنا ہونے کا غرور شامل تھا ۔
”کب چھوڑنے کی بات کی ہے چندا !....“میں اسے زور سے اپنے ساتھ بھینچا ۔”میں تو تمھاری حفاظت کے لیے کہہ رہا تھا کہ اگر تم یہاں رہو گی تو وہاں میں تسلی سے لڑائی کا حصہ بن سکوں گا ۔“
”راجو !....میں موم کی گڑیا صرف آپ کے لیے ہوں ،ورنہ یہ بات تو آپ بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ ایسے مراحل میرے لیے کوئی نئی چیز نہیں ہیں ۔اور جہاں تک تعلق ہے مرنے کا تو موت کا وقت تو نہیں ٹلا کرتا ۔تو کیوں نہ جب موت آئے تو میں اپنے راجو کی بانہوں میں ہوں ۔اس سے بڑی خوش قسمتی اور سعادت میرے لیے اور کیا ہو سکتی ہے ۔“
”میرا خیال تھا کہ تم اتنی زیادہ ضدی اور ہٹ دھرم نہیں ہو گی ،مگر میں غلط تھا ۔“اسے خود سے علاحدہ کرتے ہوئے میں بیرٹ ایم 107کے تھیلے کی ڈوریاں کندھے میں ڈالنے لگا ۔
”مجھے آپ کی باتوں سے اب بھی خفگی کی بو آ رہی ہے ۔“سامان والا تھیلا اٹھاتے ہوئے اس نے بہ غور میرے چہرے کو دیکھا ۔اس کا معصومیت سے پر لہجہ سنتے ہوئے میرے منہ سے بے اختیار قہقہہ نکل گیا تھا ۔
”ہاں اب ٹھیک ہے ۔“اس نے کلاشن کوف اٹھا کر کندھے سے لٹکا لی ۔
میں نے بھی اپنی کلاشن کوف اٹھاتے ہوئے سنجیدہ ہوکرکہا ۔”پلوشے !....آئندہ مجھے ایسا موقع کبھی نہ دینا ۔کمینی تم نے میرا سانس ہی نکال دیا تھا ۔“
”معافی چاہتی ہوں آئندہ ایسا نہیں ہو گا ۔“وہ بھی ایک دم سنجیدہ ہو گئی تھی ۔
قابل خان بیٹھک کے صحن میں بچھی چارپائیوں پر بیٹھا اپنی کلاشن کوف پر کپڑا مار رہا تھا ۔قبائلی حضرات اپنی صفائی سے زیادہ اپنے ہتھیار کی صفائی کا خیال رکھتے ہیں ۔خود کئی کئی دن کے میلے کپڑے زیب تن کیے ہوں گے مگر ان کا ہتھیار خوب چمک رہا ہوگا ۔
”تو کیا فیصلہ ہوا ۔“ہمیں کمرے سے برآمد ہوتا دیکھ کر وہ کھڑا ہو گیا تھا ۔
”وہی جو میں چاہوں گی ۔“پلوشہ نے شوخی بھرے لہجے میں کہا ۔اور قابل خان بے ساختہ ہنس پڑا ۔
”ذیشانی بھائی !....اس کا مطلب ہے آپ ہماری بہن سے ڈرتے ہیں ۔“
گہرا سانس لیتے ہوئے میں نے کہا ۔”احمقوں سے ڈرنا ہی پڑتا ہے ۔“
”بات تو سولہ آنے صحیح کی ہے ۔“کلاشن کوف کو کندھے سے لٹکا کر وہ بھی چلنے کے لیے تیار ہو گیا ۔اس کی معیت میں چلتے ہوئے ہم بیٹھک سے باہر نکل آئے ۔اکا دکا فائر کی آواز سنائی دے رہی تھی۔قابل خان نے ہاتھ میں کینوڈ کا سیٹ پکڑا ہوا تھا ۔یہ بھی آئی کام کی طرح کا وائرلیس سیٹ تھا۔ بیٹھک سے نکلتے ہی وہ اپنے آدمیوں کو ہمارے آنے کی اطلاع دینے لگا ۔
”میں دو آدمیوں کے ساتھ اوپر آ رہا ہوں ۔“اس نے اس انداز میں کہا تھا کہ اگر کوئی دشمن سن بھی لیتا تو اسے یہ معلوم نہ ہوتا کہ اس کے ساتھ ہم جا رہے ہیں ۔
”آجائیں ۔“ریڈیو سیٹ سے ایک نامانوس آواز ابھری ۔یقینا وہ خوشحال خان کے لشکر کا کوئی کمانڈر تھا ۔
”بہتر ہوتا کہ آپ اپنا سامان یہیں چھوڑ دیتے ۔صرف ہتھیار ہی کافی تھے ۔“قابل خان نے میری پیٹھ پر لادے تھیلے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔”اتنا وزن ساتھ پھرانے کا کیا فائدہ ؟“
میں نے ہنس کر کہا ۔”یہ ہتھیار ہی ہے بھائی !“
”یہ بھلا کون سا ہتھیار ہے ؟“اس کے لہجے میں حیرانی تھی ۔
”یہ سنائپر رائفل ہے ۔“
”اچھا ....اچھا دورمار رائفل ہے ۔“اس نے سمجھنے والے انداز میں سر ہلایا۔
” بالکل صحیح سمجھے ۔“
اس نے جھجکتے ہوئے کہا ۔”اچھا ، اگر برا نہ مانوایک بات پوچھوں ؟“
”پوچھو ۔“گاﺅں کے آخری مکان کو پیچھے چھوڑ کر ہم تھوڑا سا نشیب میں اترے ۔اس سے آگے ہمیں احتیاط سے جانا تھا ۔گو دشمن کچھ فاصلے پر تھا ،لیکن ان کے پاس اگر کوئی سنائپر رائفل ہوتی تو گولی لگنے کا خطرہ بڑھ جاتا۔
”پچھلے دنوں قبیل خان کے ایک مخالف کا تذکرہ سننے میں آ رہا ہے جو کافی اچھا نشانے باز ہے جسے قبیل خان کے آدمی ایس ایس کہتے ہیں ۔بلکہ سنا ہے اس دن قبیل خان کی گاڑیوں پر گھات لگانے والوں میں وہی ایس ایس شامل تھا ۔کیا یہ سچ ہے ؟....اگر سچ ہے تو وہ گیا کہاں ہے ،آپ لوگوں کے ساتھ کیوں نہیں ۔“
”اس دن تو گھات لگانے والے ہم دو ہی تھے ۔اور قبیل خان کی گاڑیوں کو ہم نے سڑک پر بارود لگا کر تباہ کیا تھا ۔اس کے علاوہ ہمارے پاس راکٹ لانچر بھی موجود تھا ۔جو گاڑی بارود سے بچ گئی اسے راکٹ لانچر سے اڑا دیا ۔“میں نے بات کو ایک دم گول مول کر دیاتھا۔
”ہونہہ!....“کہہ کر قابل خان نے مزید سوال سے گریز کیا تھا ۔نشیب سے گزر کر ہم نے ڈھلان پر قدم رکھے اور قریباََ دوڑتے ہوئے جھاڑیوں کے قریبی جھنڈ میں گھس گئے ۔دوڑنے کی وجہ سے ہمیں جھاڑیوں کے عقب میں دو تین منٹ رک کر اپنا سانس بحال کرنا پڑ گیا تھا ۔آکسیجن کی کمی کی وجہ سے اس علاقے میں سانس پھولنا ایک عام مسئلہ ہے ۔
دوتین منٹ ٹھہر کر ہم دوبارہ آگے بڑھ گئے ۔گاہے گاہے فائر کی آواز اس بات کا پتا دے رہی تھی کہ دونوں قبیلے سرگرم تھے ۔قابل خان ہمارے رہنمائی کے لیے آگے تھا۔قابل خان کے پیچھے میں نے جان بوجھ کر پلوشہ کو رکھا تھا کہ عقبی جانب سے دشمن کی چلائی گئی گولیوں سے میں اسے اپنے جسم کی آڑ مہیا کر سکتا تھا ۔میری اس حرکت سے وہ بھی ناواقف نہیں تھی ۔اسی وجہ سے جب میں نے اسے آگے بڑھنے کو کہا تو وہ مجھے عجیب سی نظروں سے گھور کر رہ گئی تھی ۔ایسی نظریں جن میں غصے کے ساتھ فخر و غرور اور اپنی اہمیت کا احساس بھرا تھا ۔جب سے ہم دونوں کے دل کی حالت ایک دوسرے کے سامنے کھل کر آئی تھی میرے دل میں اس کی محبت بڑھتی جا رہی تھی ۔اتنی زیادہ محبت تو میں نے کبھی کسی کے ساتھ بھی نہیں کی تھی۔ اس سے پہلے رات کو لیٹتے وقت یا تنہائی میں ماہین کی بے وفائی کاغم مجھے بہت زیادہ بے چین کر دیا کرتا تھا ۔کبھی کبھی رومانہ کی یاد بھی حملہ آور ہو جاتی ۔جینفر بھی کسی نہ کسی صورت خیالوں میں آدھمکتی ۔لیکن جونھی پلوشہ کے ساتھ اقرار کی منازل طے ہوئیں وہ تینوں لڑکیاں میرے خیالوں سے ایسی دور ہوئیں کہ اب ہر جانب فقط پلوشہ ہی کا وجود چھایا تھا ۔یوں لگتا تھا جیسے پلوشہ کو میں صدیوں سے جانتا ہوں اور اس سے پہلے میری زندگی میں آنے والی لڑکیاں صرف سنگ میل کی حیثیت رکھتی تھیں ،میری اصل منزل تو پلوشہ ہی تھی ۔
درختوں اور پتھروں کی آڑ لے کر ہم اوپر پہنچے جہانداد خان کے لشکر نے اس علاقے کو چاروں طرف سے گھیرا ہوا تھا ۔سب سے قریب وہ شمال کی جانب والی پہاڑی پر تھے ۔جنوبی اور مغربی پہاڑیاں جہاں انھوں نے مورچے سنبھالے ہوئے تھے وہ جگہ بہ ہرحالاتنے فاصلے پر تھی کہ وہاں سے ہمیں گولی کا نشانہ نہیں بنایا جا سکتا تھا ۔شمالی جانب سے وہ کافی قریب تھے اور مشرقی جانب بھی ان کے بندے کسی سنائپر رائفل سے ہمیں نشانہ بنا سکتے تھے ۔جہانداد کی حکمت عملی یہی تھی کہ چاروں طرف خوشحال خان پر دباﺅ بڑھا کر اسے ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرے یا کم از کم خوشحال خان ہمیں جہانداد خان کے حوالے کرنے پر مجبور ہو جائے ۔اس کے ساتھ ہی اس نے گویاہمارے فرار کی راہیں بھی مسدود کر دی تھیں ۔
اوپر جا کر ہمیں پتا چلا کہ وشلام کے ایک آدمی کو بازو پر گولی لگی تھی ۔زخمی کو وہ ابھی نیچے لے جا رہے تھے ۔میرے دل میں پچھتاوے کی ہلکی سی لہر اٹھی ہمارے حصے کی گولی اس غریب کو لگ گئی تھی ۔ بلکہ خوشحال خان کے جس آدمی کو بھی گولی لگتی وہ ہمارے حصے ہی کی گولی ہوتی ۔
ہم دونوں قابل خان کی معیت میں ایک مورچے کے اندر آکر بیٹھ گئے ۔ پشت پر لدے تھیلے اتار کر ہم نے کلاشن کوفیں ہاتھ میں تھام لی تھیں ۔زیادہ تر مورچے پتھروں کو ترتیب سے رکھ کر بنائے گئے تھے ۔مورچوں کی شمالی اور شرقی جانب پتھروں کی آڑ بنائی گئی تھی کیونکہ انھی اطراف سے دشمن کی گولی وہاں تک پہنچ سکتی تھی ۔چند آدمی جنوبی اور غربی جانب نگران تھے کہ اس جانب سے جہانداد خان کے آدمیوں کے آگے بڑھنے کی صورت میں وہ اپنے ساتھیوں کو بروقت مطلع کر سکتے تھے ۔البتہ وہاں تک گولی اتنی آسانی سے نہیں پہنچ سکتی تھی ۔کہ دونوں پہاڑیوں کے درمیان فاصلہ زیادہ بن رہا تھا ۔
قابل خان ہمیں وہاں بٹھا کر اپنے اور دشمن کی جگہوں کے بارے تفصیل سے بتانے لگا ۔چند منٹ تک ہمیں علاقے سے واقفیت دلانے کے بعد وہ ہمیں محتاط رہنے کی تاکید کر کے خوشحال خان کے مورچے کی جانب بڑھ گیا ۔وہ خوشحال خان کا دست راست تھا اور یقینا خوشحال کو اس کے مشوروں کی ضرورت تھی ۔میں نے اس کے ساتھ خوش حال خان کے پاس کی ضرورت اس لیے محسوس نہیں کی تھی کہ ایک تو اس نے مجھے ساتھ چلنے کی دعوت نہیں دی تھی ، دوسرا مجھے بھی خواہ مخواہ بڑا بننے کا شوق نہیں تھا ۔اور سب سے بڑھ کر میں قبائلیوں کے طریقہ جنگ سے کوئی خاص واقفیت نہیں رکھتا تھا ۔
” دیکھو اکیلے بیٹھ کر کوفت زدہ ہوتے رہتے ،اب اتنا حسین ساتھی ساتھ موجود ہے اس کو دیکھ کر دل بہلا تے رہو ۔“قابل خان کے تھوڑا دور جاتے ہی پلوشہ نے شرارت بھرے لہجے میں کہا ۔ عجیب لڑکی تھی برملا اپنی تعریفوں پر شروع ہو جاتی ۔اپنی خوب صورتی اور حسن پر ہر لڑکی کو فخر و غرور ہوتا ہے لیکن زیادہ تر لڑکیوں ایسی ہوتی ہیں جو چاہتی ہیں ان کا چاہنے والا ان کی تعریف کرے بذات خود کو جھوٹ موٹ خود عام سی شکل و صورت کی لڑکی کہہ کر چاہتی ہیں کہ ان کا محبوب انھیں جھٹلاتے ہوئے ان کی تعریف میں رطب اللسان ہو جائے ۔جبکہ یہان ایسی کوئی بات نہیں تھی ۔پلوشہ بڑے دھونس سے خود کو پیارا اور خوب صورت کہتی ۔اور اس کا ایسا کہنا مجھے بہت زیادہ مسرور کر دیتا تھا ۔
”تمھیں خوب صورت کس نے کہا ہے ۔“میں نے منہ بناتے ہوئے پوچھا ۔
وہ شوخی سے بولی ۔”بھول گئے ،رات کو دو بجے نیند سے جگا کر کیا فرما رہے تھے کہ میں اپنا خو ب صورت سا چہرہ آپ کی جانب موڑ لوں تاکہ آپ اپنی پیاسی نظروں کو سیراب کر سکیں ۔“
میں نے اسے چھیڑتے ہوئے کہا ۔”ہونہہ !....مذاق کو بھی سچ سمجھ لیتی ہو۔“
”جی ....جی میں جانتی ہوں وہ کتنا مذاق تھا ۔ذرا سی دھمکی کیا دی جناب کی ساری اکڑ ہوا میں اڑ گئی ۔اتنے ہی بہادر تھے تو مر جانے دیا ہوتا ۔“
”تو کیا خواہ مخواہ تمھارے قتل کا الزام سر پر لے لیتا ۔“
میرے جواب دینے سے پہلے ہی شمالی جانب سے کلاشن کوف کے مسلسل گرجنے کی آواز آئی ۔ خوش حال خان کے آدمی بھی فائر کا جواب دینے لگے ۔قابل خان جھکے جھکے ہمارے مورچے کے قریب سے گزرا ۔اور میری جانب دیکھتے ہوئے کہا ۔”ہمارا ایک اور آدمی زخمی ہو گیا ہے ۔“
”زیادہ زخمی تو نہیں ہے ۔“میں نے بے ساختہ پوچھا ۔وہ ہمارے مورچے سے تھوڑا آگے گزر گیا تھا لیکن میری آواز اس تک پہنچ گئی تھی ۔رکے بغیر اس نے پیچھے مڑ کر دیکھتے ہوئے کہا ۔
”یہ تو اس کے اس کے پاس جا کر پتا چلے گا ۔“
پلوشہ گپیں ہانکنا چھوڑ کر دوربین سے مشرقی جانب دشمن کی حرکت کو دیکھنے لگی ۔
”آڑ کے اوپر سے نہیں دائیں جانب سے اس سمت کو جائزہ لو ۔اسے سر مورچے کی دیوار سے اوپر نکالتے دیکھ کر میں ٹوکے بنا نہیں رہ سکا تھا ۔
”اب ان میں کوئی راجا تو موجود ہے نہیں کہ مجھے خوف محسوس ہو۔“اس نے مزاحیہ انداز میں کہا۔لیکن اس کے ساتھ ہی اس نے اپنی حالت تبدیل کر لی تھی ۔
ایک دم فائرنگ شدت اختیا رکر گئی ۔پلوشہ نے دوربین رکھ کر کلاشن کوف اٹھا لی اور اکادکا فائر کرنے لگی ۔میں نے البتہ گولی چلانے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی ۔میری ہمیشہ سے یہ عادت تھی کہ میں گولی کو یونھی ضائع نہیں کیا کرتا تھا ۔ایک میگزین خالی کرنے کے بعد وہ بھی کلاشن کوف کو گود میں لے کر میرے پاس آن بیٹھی ۔اسی وقت ایک آدمی ہمارے جھکے جھکے دوڑتا ہوا ہمارے مورچے کے قریب آیا اور ہاتھ میں پکڑی کپڑے کی ایک تھیلی میرے حوالے کرتا ہوا بولا۔
”اس میں گولیاں ہیں ،آپ لوگ اکادکا فائر کرتے رہیں ورنہ دشمن ہم پر چڑھ دوڑے گا ۔“
میں تھیلی اس کے ہاتھ سے لیتے ہوئے پوچھا ۔”زخمی کی حالت کیسی ہے ؟“
”شکر ہے بچ گیا ہے ۔گولی اس کی گردن سے رگڑکھاتی ہوئی گزر گئی ہے ۔“
”جہانداد کا کوئی شخص بھی زخمی ہوا ہے کہ نہیں ۔“
”معلوم نہیں ۔ویسے اگر ہوا ہوتا تو گولی چلانے والے کو پتا ہوتا اور ابھی تک ہمارے کسی فائرر نے یہ دعوا نہیں کیا ۔“یہ کہہ کر وہ اگلے مورچوں کو ایمونشن دینے کے لیے درختوں کی آڑ لیتا ہوا وہاں سے نکل گیا ۔
پلوشہ خالی میگزین اتار کر اس میں ایمونیشن بھرنے لگی ۔میری کلاشن کوف کی میگزین میں بھی چند گولیوں کی گنجائش موجود تھی ۔میں نے وہ میگزین مکمل بھرنے کے لیے پلوشہ کی جانب بڑھا دی ۔
دونوں میگزینیں بھر کر اس نے گولیوں کی تھیلی بند کر کے ایک جانب رکھ دی ۔
ایک میگزین یرے جانب بڑھا کر اس نے دوسری میگزین اپنے ہتھیار پر چڑھائی اور دوبارہ فائر کرنے کے لیے تیار ہو گئی ۔
”چندا !....ایک منٹ میرے نزدیک آﺅ ۔“فائر کے لیے تیار ہوتا دیکھ کر میں نے اپنے قریب بلایا ۔
فائر کا ارادہ موخّر کرتے ہوئے وہ میرے قریب آ بیٹھی ۔
”چندا !....پتا ہے ،فائر کرنے سے پہلے کچھ باتیںبہت ضروری ہوتی ہیں ،گو تمھارے استادوں نے تمھیں اس بارے بتا دیا ہوگا اس کے باوجود دو تین باتیں میری بھی یاد رکھنا ۔میں تمھیں کافی دیر سے فائر کرتے ہوئے دیکھ رہا ہوں اور تم وہ غلطیاں کر رہی ہو۔سب سے پہلی غلطی یہ ہے کہ ہر ہتھیار کے ٹریگر کے اندر تھوڑی سی لچک موجود ہوتی ہے جسے ”پل آف سرفس“کہتے ہیں ۔یعنی ٹریگر کو بالکل آہستگی سے دبایا جائے ٹریگر نرمی سے دبتا چلا جاتا ہے اور ایک جگہ پر آکر رک جاتے ہے ۔اس جگہ ہمیں ٹریگر پر تھوڑا زیادہ دباﺅ ڈالنا پڑتا ہے تاکہ فائر ہو اور اس وقت ہم ذہنی طور پر فائر کے لیے بالکل تیار ہو جاتے ہیں ۔ذہنی طور پر فائر کے لیے تیار ہونے کا نقصان کیا ہوتا ہے کہ فائر سے ہونے والے جھٹکے کو سہارنے کے لیے اپنے کندھے کو یا تو سخت کر دیتے ہیں یا جھٹکا سہارنے کے لیے کندھے کو آگے کی طرف بڑھاتے ہیں اور رائفل کی شست اس ہلکی سی حرکت تبدیل ہوجاتی ہے سر میں مارے جانے والی گولی یا تو چھاتی یا پیٹ میں لگتی ہے یا سر کے اوپر سے گزر جاتی ہے ۔اس خامی پر قابو پانے کے لیے ضروری ہے کہ ٹریگر میں انگلی ڈال کر ایک جھٹکے سے مکمل ٹریگر دبایا جائے دوسرا جھٹکے کو برداشت کرنے کے لیے کندھے کو سخت یا آگے کو نہ بڑھایا جائے ۔دوسری بڑی غلطی سانس پر قابو پانا ہے ۔جب بھی شست لے کر گولی چلائی جائے گولی چلانے والے کو چاہیے کہ جیسے ہی ٹریگر دبانے لگے اس وقت سانس لے رہا ہو یا خارج کر رہا ہو بس اسی جگہ سانس روک لے ۔اس کے برعکس کچھ حضرات سانس کھینچ کر روک لیتے ہیں اور سانس اندر کھینچنے کی صورت میں بھی ان کی شست اپنی جگہ سے ہل جاتی ہے ۔اس کے علاوہ رائفل کی سائیٹوں پر بھی دھیان دینے کی ضرورت ہے گوالی چلانے والے کی نگاہ ................“میں اپنے استادوں سے سیکھے ہوئے سبق اس کے سامنے دہرانے لگا ۔استادِ محترم راﺅ تصور صاحب بھی ہمیں یونھی ایک ایک بات وضاحت سے سمجھاتے تھے ۔رائفل کے جھٹکے کو سہارنے والی غلطی کو سمجھانے کے لیے وہ عموماََ میگزین میں مخصوص مقدار میں گولیاں بھرتے اور فائرر کو یہ نہ بتاتے کہ میگزین میں گولیاں کتنی ہیں ۔اس کے فائر کرتے وقت وہ خود اس فائر ر کی پشت پر کھڑے ہو جاتے ۔فائرر بے چارے کو یہ معلوم ہی نہ ہوتا کہ کب اس کی گولیاں ختم ہوئیں ۔آخری بار ٹریگر دباتے ہوئے وہ حسب عادت کندھے کو آگے کی طرف کرتا مگر گولیاں چونکہ ختم ہو گئی ہوتیں اس لیے اسے اپنی غلطی معلوم ہو جایا کرتی تھی ۔
میری ساری باتیں وہ غور اور محویت سے سنتی رہی ۔اس دوران اس کی پرکشش آنکھیں میرے چہرے ہی پر گڑی رہیں ۔جونھی میں نے بات ختم کی وہ دھیرے سے بولی ۔
”راجو !....مجھے سنائپر رائفل کے بارے بھی تو سکھاﺅ نا ؟“
میں نے تھیلے سے بیرٹ ایم 107کی ٹیلی سکوپ سائیٹ نکال کر کہا ۔”سنائپر رائفل میں سب سے اہم یہ ٹیلی سکوپ سائیٹ ہوتی ہے جو ایک سنائپر رائفل کو اسالٹ رائفلز سے جدا کرتی ہے ۔ہر ٹیلی سکوپ سائیٹ کے اوپر عموماََ دو ناب لگی ہوتی ہیں ۔ایک ایلی ویشن کے لیے مطلب سادے الفاظ میں رینج لگانے کے لیے اور دوسری ناب ڈیفلیکشن یعنی دائیں بائیں کی غلطی دور کرنے کے لیے ........“ میں اسے تفصیل سے ٹیلی سکوپ سائیٹ کے بارے بتاتا گیا ۔بیچ میں وہ کوئی نہ کوئی سوال بھی پوچھ لیتی تھی۔ اس کے سوالات کو سن کر مجھے اندازہ لگانے میں دیر نہ لگی کہ وہ ہت زیادہ ذةین تھی اور اس میں سیکھنے کی صلاحیت عام افراد کے مقابلے میں کہیں زیادہ تھی ۔ٹیلی سکوپ سائیٹ کے بعد میں نے اسے لیزر رینج فائینڈر پر فاصلہ ناپنے ،ونڈ میٹر سے ہوا کی رفتار معلوم کرنے ۔دوبین اور کمپاس وغیرہ کا استعمال سب کچھ اس کے سامنے دہراتا گیا ۔خوش قسمتی سے اس وقت یہ تمام چیزیں میرے پاس موجود تھیں ۔یہ وہ علم تھا جسے سیکھنے کے لیے مجھے جانے کتنا عرصہ لگا تھا ۔بلکہ اب بھی میں خود کو طالب علم ہی سمجھتا تھا ۔ استاد عمر دراز اورراﺅ تصور صاحب ہر ملاقات پر کوئی نہ کوئی نئی بات ضرور سکھا دیتے جو اس سے پہلے مجھے معلوم نہ ہوتی ۔ وہ بھی ایک دن میں یہ سب کچھ نہیں سیکھ سکتی تھی ۔لیکن اتنا ضرور تھا کہ اسے کچھ نہ کچھ اندازہ ضرور ہو جاتا ۔
فائرنگ بغیر کسی وقفے کے جاری تھی ۔ایک کلاشن کوف خاموش ہوتی تو دوسری گرجنے لگتی ۔ اس فائرنگ کا اور کوئی فائدہ تھا یا نہیں البتہ مخالفین کی نقل و حرکت میں ضرور رکاوٹ ڈال رہی تھی ۔ہم دونوں اس فائرنگ کی پرواہ کیے بغیر اپنی گفتگو میں مصروف تھے ۔
میری باتیں ختم ہوتے ہیں ہی شرارتی لہجے میں بولی ۔”اگر آپ پہلے دن ہی سے میری تربیت شروع کردیتے تو آج میں ایک منجھی ہوئی نشانہ باز ہوتی ۔“
”وہ تو اب بھی ہو ....دیکھتی نہیں ہوتمھاری نظروں کے چلائے ہوئے تیرسیدھا میرے دل میں پیوست ہوئے ہیں ۔“
’ہا....ہا....ہا“اس کے مترنم قہقہے نے میرے کانوں میں رس انڈیلا۔”چلیں میری کسی نہ کسی خوبی کے تو آپ قائل ہو گئے ہیں نا ۔“
”تم میں خامی کون سی ہے ؟“
”بہ قول آپ کے میں ہٹ دھرم ہوں ،ضدی ہوں ،واجبی شکل و صورت کی ہوں وغیرہ وغیرہ۔“
”اچھاااا ....“میں نے اچھا کی الف کو لمبا کھینچتے ہوئے ہنسا۔
اس نے لاڈ بھرے لہجے میں پوچھا ۔”راجو !....سچ میں بتائیں کیا میں ضد کرتی ہوئی آپ کو پیاری نہیں لگتی ۔“
”ہاں مگر ضد نہ کرتے ہوئے زیادہ پیاری لگتی ہو ۔“
”صاف کہیں نہ کہ پیاری نہیں لگتی ۔“اس نے منہ پھلا لیا تھا ۔
میں نے جلدی سے کہا ۔”ارے پاگل خود تو کہتی ہو کہ تم مجھے ہر وقت اور ہر حال میں پیاری لگتی ہو پھر پوچھنے کا فائدہ ۔“
”فائدہ ....“اس نے زبان نکال کر مجھے چڑایا ۔اسی وقت قابل خان جھکے جھکے انداز میں دوڑتا ہوا ہمارے پاس آ بیٹھا ۔
”لگتا ہے جہانداد خان نے اپنی ساری طاقت یہیں لگا دی ہے ۔تھوڑی دیر پہلے ہی اس کے مزید آدمی یہاں پہنچ گئے ہیں ۔“
میں نے پوچھا ۔”ہماری تعداد کتنی ہو گی ؟“
ایک لمحہ سوچنے کے بعد وہ بولا ۔”ساڑھے تین سو قریب ہوں ۔“
”اور جہانداد خان کے پاس کتنے جنگ جو ہوں گے ؟“
”ہزار یا اس سے سو پچاس اوپر نیچے ۔“
”ویسے سنا تو یہی تھا کہ قبیل خان کے پاس پندرہ سولہ سو افرادی قوت موجود ہے ۔“
”اتنے ہی ہوں گے ،لیکن تمام اس کے قبیلے کے افراد تو نہیں ہیں نا ۔اس خبیث کا کاروبار تو افغانستان تک پھیلا ہوا ہے اور اس کے لشکر میں پنجا ب اور دوسرے صوبوں کے افراد بھی شامل ہیں ۔کئی افراد چھٹی پر ہوں گے ،کئی اسمگلنگ کی کارروائیوں میں لگے ہوں گے ۔“
میں نے پوچھا ۔”پھر آپ کو یہ کیسے معلوم کہ اس وقت ان کی تعداد ہزار کے قریب ہے ؟“
”وہ کیا کہتے ہیں ۔”تمھارے درمیان ان کے سننے والے موجود ہیں “ جہانداد داد کے لشکر میں بھی اپنے ایک دو خیر خواہ موجود ہیں جو زیادہ نہیں تو اتنی امداد تو کر سکتے ہیں نا ہماری ۔“
دو تین کلاشن کوفیں ایک ساتھ گرجیں ،قابل خان بھی اوندھا لیٹ کر اپنی کلاشن کوف کی آواز ہمیں سنانے لگا ۔چند گولیاں فائر کر کے وہ سیدھا ہوا اور کہنے لگا ۔
”اگر یہاں تنگ ہو رہے ہو تو میں آپ کو واپس بیٹھک میں بھجوا سکتا ہوں ۔کم ازکم ہماری چھوٹی بہن کا تو خیال رکھو گے ۔“
قابل خان نے یہ بات مزاحیہ انداز میں کہی تھی لیکن پلوشہ کو بری لگی وہ فوراََ بولی ۔
”قابل بھائی !....برا نہ منانا ،قبیل کان کے آدمیوں سے آپ کی جان اسی چھوٹی بہن ہی نے بچائی تھی اور اگر مزید کوئی شک ہو تو اپنے کسی تگڑے جنگ جو کو خالی ہاتھ مجھ سے لڑا کر وہ شک بھی دور کر سکتے ہو ۔“
قابل خان نادم انداز میں بولا ۔”ارے بہنا!....آپ تو خفا ہونے لگیں ۔میں تو اپنی چھوٹی بہن سے مذاق کر رہا تھا ۔“
”آپ کا مذاق سر آنکھوں پر ،لیکن آپ کی باتوں سے راجو کی طرف داری کی بو آ رہی ہے ،پہلے بھی یہ مجھے ضدی ،ہٹ دھرم اور جانے کیا کیا کہہ رہا ہے آپ کی وجہ سے تو سر پر چڑھ جائے گا ۔“ پلوشہ نے بھی فوراََ اپنی باتوں کو مذاق کا رنگ دے دیا تھا ۔
”ہا....ہا....ہا ۔“قابل خان نے قہقہہ لگایا ۔”اگر ایسی بات ہے تو میں اپنے الفاظ واپس لیتا ہوں ۔“
”شکریہ بھیا !“پلوشہ نے ممنونیت بھرے لہجے میں کہا ۔
اسی وقت کوئی وائرلیس سیٹ پر قابل خان کو آواز دے کر دن کے کھانے کی آمد کا بتانے لگا ۔ گھڑی پر نگاہ دوڑانے پر مجھے ایک بجتے نظر آئے ۔
”انھیں ۔”آرہا ہوں ۔“کی خبر دے کر وہ ہم سے پوچھنے لگا ۔”کھانا یہیں بھیج دوں یا میرے ساتھ چلو گے ؟“
میرے کہنے سے پہلے پلوشہ نے کہا ۔”یہیں بھیج دیں ۔“
اور قابل خان سر ہلاتا ہوا رخصت ہو گیا ۔
٭٭٭
اس کے بعد شام تک وہی ٹخ ،ٹُخ لگی رہی ۔شام کو ایک بار پھر قابل خان ہمارے پاس پہنچ گیا۔
”میرا خیال ہے آپ لوگ رات کو آرام کے لیے بیٹھک میں چلے جائیں ،صبح ناشتے کے بعد میں آپ کو لینے آ جاﺅں گا ۔“
”میں نے انکار میں سر ہلاتے ہوئے کہا ۔”ہم یہیں ٹھیک ہیں ۔“میں نے پلوشہ کو بھی واپس جانے کا نہیں کہا تھا کیونکہ اس نے پھر بگڑ جانا تھا ۔میرے پاس سے دور ہونے کووہ بالکل بھی تیار نہیں ہوتی تھی ۔اس کی حالت مجھے اس دودھ پیتے بچے کی سی لگ رہی تھی جو اپنی ماں کی گود سے ایک منٹ کے لیے نکلنے کے لیے تیار نہیں ہوتا ۔نہ جانے اس نے مجھ میں ایسی کون سی بات دیکھی تھی جو یوں دل و جان سے فدا ہو گئی تھی ۔جہاں تک اس کی شکل و صورت کی بات تھی تو وہ لاکھوں میں ایک تھی اور اگر اس کے مقابلے میں میں اپنی شخصیت کو دیکھتا تو میں کوئی ایسا پرکشش اور وجیہہ نہیں تھا کہ لڑکیاں مجھ پر فدا ہوتی پھریں ۔ ڈیل ڈول اور جسمامت کے لحاظ سے بھی میں انوکھا یا نمایاں نہیں ہوں۔ میرا شمار عام مردوں میں ہوتا ہے۔ درمیانہ قد ، چھریرا بدن،ہلکی سانولی رنگت جسے زیادہ سے زیادہ گندمی کہا جا سکتا ہے ۔ایسی عام شکل و صورت کے مرد پر پلوشہ جیسی لڑکی کا فدا ہونا اچنبھا ہی تھا ۔ مجھے اس کی چاہت میں بناوٹ یا دکھاوا بھی نظر نہیں آتا تھا ۔اس کی ہر ادا اور ہر نظر یہ باور کراتی کہ وہ مجھے کس گہرائی سے چاہتی ہے ۔بلکہ شروع دنوں میں بھی وہ مجھ سے دور جانے پر تیار نہیں ہوتی تھی ۔ دوتین بار ایسا موقع آیا تھا کہ میں اسے ساتھ لے جانے پر راضی نہیں تھا ۔اس وقت وہلڑ جھگڑ کر زبردستی ہی ساتھ چل پڑی تھی ۔سردار نے پہلے دن ہی مجھ میں اس کی دلچسپی بھانپ لی تھی ۔اور یہ بات مجھے بتائی بھی تھی ۔لیکن اس وقت میں اس کی بات پر یقین کرنے کو تیار نہیں ہوا تھا ۔بعد میں پلوشہ کی حرکتیں دیکھ کر مجھے حیرانی ہوتی تھی،گو میرا دل نہیں چاہتا تھا کہ سردار کی بات پر یقین کروںمگر پلوشہ کا رویہ مجھے کرتا رہا یہاں تک کہ سب کچھ کھل کر سامنے آ گیا تھا ۔
رات کا کھانا کھا کر میں نے اپنے سفری تھیلے سے دونوں سلپنگ بیگ نکالے ایک نیچے بچھایا اور دوسرا اوپر اوڑھنے کے لیے پلوشہ کی جانب بڑھا دیا ۔
”جب نیند آنے لگے تو مجھے اٹھا دینا ۔“سلپنگ بیگ میں گھستے ہوئے اس نے مجھے تاکید کی ۔
”ٹھیک ہے ۔“میں نے اثبات میں سر ہلادیا ۔
”تکیے کی جگہ رکھنے کے لیے کوئی ہموار پتھر دے دو ۔“وہ بھی میری طرح سر کے نیچے تکیہ رکھنے کی عادی تھی ۔اور ہموار زمین پر سر رکھتے ہوئے یقینا وہ الجھن محسوس کر رہی تھی ۔
”تکیے کا بندوبست میں کر دیتا ہوں ۔“قریب ہو کر میں نے اس کا سر اپنے زانو پر رکھ لیا ۔
”راجو !....“جذبات سے بوجھل آواز میں کہتے ہوئے اس نے سسکی لی ۔مجھے لگا وہ رو رہی ہے ۔میں نے فوراََ اس کی آنکھوں پر ہاتھ پھیرا ،گرم سیال سے میری انگلیاں بھیگنے لگیں ۔
”یہ کیا ہے ۔“میں نے اسے پیار سے ڈانٹا۔
”کبھی کبھی خوشی کے موقع پر بھی آنسو بہنے لگتے ہیں ۔“
”اچھا اپنی فلسفے چھوڑو اور آرام کرو ۔“پتھریلی چٹان سے ٹیک لگا کر میں اس کے ریشمی بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگا ۔
چند لمحے بعد ہی وہ گہرے سانس لینے لگی ۔رات گئے مجھے ہلکی ہلکی سردی کا احساس ہوا لیکن میں اسی طرح پتھریلی چٹان سے ٹیک لگا کر بیٹھارہا ۔اتنی زیادہ ہنگامہ خیز زندگی گزارنے کے بعد بھی وہ سترہ اٹھارہ سال کی ایک الھڑ دوشیزہ تھی ۔اس عمر میں عموماََبہت گہری نیند آتی ہے ۔وہ بھی صبح تک بے خر سوتی رہی اور میرا بالکل بھی جی نہ چاہا کہ اسے جگا دوں ۔وہ جتنے حوصلے اور ہمت والی ہوتی جتنی سخت جان اور برداشت والی ہوتی تھی تو آخر عورت ذات جس کی تخلیق ہی ناز اٹھوانے کے لیے ہوئی ہے ۔ ایک مرد کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اپنی عورت کو حتی الوسع آرام اور تحفظ مہیا کرے ۔میں ایک سخت جان سنائپر تھا ۔مسلسل اڑتالیس اڑتالیس گھنٹے میں غیرآرام دہ مچان میں ھوکے پیاسے بیٹھ کر گزار چکا تھا ۔سخت قسم کی تربیت کے ساتھ عملی زندگی میں بھی میں کافی بار ان تکلیف دہ مراحل سے گزر چکا تھا ۔اس وقت پتھریلی چٹان سے ٹیک لگا رات گزارنا میرے لیے چنداں دشوار نہیں تھا ۔سب سے بڑھ کر میری جان حیات کا سر میری گود میں رکھا ہوا تھا میں بھلا تھکن اور بیزاری کیسے محسوس کر سکتا تھا ۔عملی زندگی اوردورانِ تربیت پلوشہ نے بھی کافی سختیاں جھیلی تھیں مگر اس وقت اس کی زندگی میں میں شامل نہیں تھا ۔اب اس نے مجھے اپنا سب کچھ مان کر خود کو میرے حوالے کر دیا تھا ۔اور اپنی عزت کی حفاظت کرنا میرا فرض بنتا تھا ۔
صبح صادق کے وقت ہلکے سے کسمسا کر وہ اٹھ بیٹھی تھی ۔”راجو !....کیا وقت ہوا ہے ؟“
”پتا نہیں ۔“میں نے جان بوجھ کر لاعلمی کا اظہار کیا ۔
تھیلے سے ٹارچ نکال کر اس نے گھڑی دیکھی ۔”راجو !....یہ کیا حرکت ہے ۔“اس کے لہجے میں گہری خفگی چھپی تھی ۔
”کیا ہوا ؟“میں نے انجان بنتے ہوئے پوچھا ۔
”مجھے جگایا کیوں نہیں ۔“
”پتھر سے ٹیک لگائے ہوئے مجھے بھی نیند آگئی تھی ۔“
”جھوٹ بولنا کب سے سیکھ لیا ۔“
”جب سے معلوم ہوا کہ تم میرے لیے کتنی ناگزیر ہو ۔“
”اچھا ا ب آپ بھی فلسفے نہ جھاڑیں اور سو جائیں ۔“
”نماز پڑھ کر لیٹوں گا ۔“میں اس کا ہاتھ تھام کر سہلانے لگا ۔
میرے کندھے سے سر ٹیک کر وہ خاموش بیٹھی رہی ۔دور کہیں موذّن کی آواز ابھری اور ہوا کے دوش پر تیرتا ہوا وہ مقدس اعلان میرے کانوں میں گونجنے لگا ۔اس کے ساتھ ہی وشلام گاﺅں سے بھی اللہ پاک کی کبریائی کی صدا بلند ہوئی اور میں پانی کی بوتل اٹھا کر وضو کرنے لگا ۔نماز پڑھ کر میں سلپنگ بیگ میں گھسا تو وہ میرے قریب کھسک آئی ۔
”چندا ابھی روشنی ہو جائے گی خواہ مخواہ کا تماشا نہ بناﺅ ۔“
”یہ تماشا کیسے ہو گیا ؟“وہ مصر ہوئی ۔
میں جھلاتے ہوئے بولا۔”کیا تم نے میری ہر بات نہ ماننے کا تہیہ کیا ہوا ہے ۔“
”ٹھیک ہے سوئیں آپ ۔میری گود میں تو کانٹے اگے ہوئے ہیں نا ؟“منہ پھلاتے ہوئے وہ پیچھے ہٹ گئی ۔میں رضائی میں سر دے لیٹ گیا ۔اس وقت اسے منانے کا مطلب تھا اس کی بات ماننا اور یوں دن کی روشنی میں سب کے سامنے اس کی گود میں لیٹنا بے شرمی ہی تو تھی ۔دیکھنے والے بے شک اسے ایک نوخیز لڑکا ہی سمجھتے ہوں تب بھی یہ کوئی اچھا فعل نہیں تھا ۔اس علاقے میں تو یہ اور بھی قابل ِ اعتراض ہو جاتا تھا ۔میں زیادہ دیر نہیں سو سکا تھا جلد ہی فائرنگ کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو گیا لیکن اس مرتبہ ہونے والی فائرنگ بے کار نہیں گئی تھی ۔خوشحال خان کا ایک آدمی چھاتی میں گولی لگنے سے جان کی بازی ہار گیا تھا جبکہ تین زخمی ہو گئے تھے اور ان زخمیوں میں ایک کی حالت تشویشناک تھی ۔قابل خان سے پتا چلا کہ جہانداد خان نے تین چار نشانے باز کہیں سے منگوا لیے تھے ۔تمام مورچوں کو خوشحال خان نے حکم جاری کر دیا تھا کہ بغیر آڑ کے کوئی حرکت نہ ہو ۔دن کا کھانا لے جانے والوں کو بھی انھی سنائپروں کی فائرنگ کا سامنا کرنا پڑا اور ایک آدمی زخمی کرا کر وہ واپس لوٹ آئے ۔
ایک بجے کے قریب قابل خان پتھروں اور درختوں کی آڑ لیتا ہوا ہمارے مورچے کے قریب آیا ۔
”ذیشان بھائی !....اگر آپ اپنے پاس موجود دور مار رائفل عارضی استعمال کے لیے مجھے دے دیں تو ہمار اایک آدمی کافی اچھا نشانے باز ہے ،کم از کم ہم بھی جہانداد خان کو کوئی آدمی زخمی کر لیں ۔“
”استعمال تو میں خود بھی کر لیتا ،مگر اس کی پچیس تیس گولیان بچی ہیں اور وہ میں نے کسی برے وقت کے لیے بچا رکھی ہیں ۔“
”تو اس سے برا وقت اور کیا آئے گا ؟“قابل کے ہونٹوں پر زخمی مسکراہٹ نمودار ہوئی ۔
”چلو پھر میں ہی کچھ کرتا ہوں ۔“میں نے بیرٹ ایم 107کے تھیلے کی طرف ہاتھ بڑھایا ۔ میرا خیال تھا کہ شاید یہ لڑائی ٹل جائے اور دونوں جانب اموات ہونے کی صورت میں یہ لڑائی زیادہ زور پکڑ سکتی تھی ۔لیکن ا ب جہانداد کی طرف سے اتنی سخت کارروائی کے بعد ہمارا بھی منہ توڑ جواب دینے کا حق بنتا تھا ۔اگر وہ اچھے نشانہ باز منگوا سکتے تھے تو الحمداللہ خوشحال خان کے پاس بھی میں موجود تھا ۔
جاری ہے

No comments: