Ads Top

حیا از فاخرہ وحید قسط نمبر 25 Haya By Fakhira Waheed Episode No

 حیا
  از 
فاخرہ وحید


 حیا  از فاخرہ وحید
25 قسط نمبر  
Haya By Fakhira Waheed 
Episode No 25حیا
از
فاخرہ وحید

(قسط 25)
اگلے دو دن سست اور بے زار سے گزرے. حیا نے خود کو حمزہ کے کمرے میں قید رکھا اور حمزہ اپنے ڈسچادج ہونے کا انتظار کرتا رہا. ڈاکٹر ہارون ایک دو کام نمٹا کر پہلے ہی اسلام آباد جا چکے تھے, جنت کی چھٹی بھی اس کے ساتھ ہی ختم ہو گئی تھی. باقی رہ گئے ردابہ اور انیقہ تو حمزہ کی حالت سنبھل چکی تھی وہ بھی آج صبح ہی اسلام آباد کے لیے نکل گئے تھے.
مغرب کے بعد حمزہ کو ڈسچارج ہو کر گھر آنا تھا اور پانچ دن بعد آج شیری نے اس گھر میں قدم رکھا تھا. وہ سیڑھیاں پھلانگتا اوپر آیا, حمزہ کے کمرے میں داخل ہوا پر وہاں تو وبال مچا تھا, پورا کمرہ بکھرا پڑا تھا اور حیا دوپٹہ کندھے سے اپنی کمر پر باندھے اس کی سیف میں جھکی تھی.
" یہ کیا حال کر رکھا ہے آپ نے کمرے کا؟ حمزہ بھائی دیکھیں گے تو جان لے لیں گے." وہ واقعی پریشان نظر آنے لگ گیا تھا. حیا چونک کر سیدھی ہوئی اور پھر بھنوؤں کو سکیڑتی اس کی طرف آئی. " تمہارے بھائی کو تو میں بعد میں دیکھ لوں گی, پہلے تم بتاؤ زرا." سینے پر ہاتھ باندھے اب وہ اس کے سامنے کھڑی تھی.
" تم نے مجھ سے کہا تھا حمزہ میرا پوچھ رہا تھا. " وہ نظریں اس کی آنکھوں پر جمائے ہوئی تھی. " مگر جب میں اندر گئی تو اس نے مجھے پہچاننے سے بھی انکار کر دیا. " آخری الفاظ اس نے دانت پیستے ہوئے کہے تھے. بے اختیار شیری کا ایک ہاتھ بالوں میں گیا. اور سر کھجاتے وہ پر سوچ انداز میں بولا. " آپ باہر بیٹھی تھیں, مجھے اچھا نہیں لگا تو.. میں.. نے.. جھوٹ کہا تھا. " وہ رک رک کر بولا. حیا نے ایک ٹھنڈی سانس لبوں سے خارج کی اور واپس سیف کی طرف مڑ گئی.
" دونوں بھائی ایک جیسے ہیں. جھوٹے! " وہ بڑبڑائی. شیری کے کانوں تک اس کی آواز نہیں گئی تھی. ورنہ وہ احتجاج ضرور کرتا.
" حمزہ بھائی کی شرٹ دے دیں. شام کو وہ گھر آ رہے ہیں." وہ اب بھی دروازے میں کھڑا تھا.
ہونہہ. حیا نے برہم سی نظر شیری پر ڈالی اور سیف کے اوپر والے پورشن سے اس کی شرٹس دیکھنے لگی. وہ واپس مڑی تو اس کے ہاتھ میں ایک سیاہ ٹی شرٹ اور سیاہ جینز تھی. حمزہ کے کندھوں کے زخموں کی مناسبت سے اس نے کھلے گلے کی ٹی شرٹ نکالی تھی.
" نائس چوائس بھابھی." شیری نے شرٹ تھامتے اسے سراہا. باہر گیا اور پھر واپس آیا. " بائے دی وے! حمزہ بھائی آپ کو پہچانتے نہیں, تو آپ کیا کریں گی اب؟ " اس کے ذہن میں آیا تو وہ پوچھنے واپس آیا تھا. " اسے میں بتاؤں گی کہ حیا کون ہے, اور ایسا بتاؤں گی کہ وہ ساری زندگی نہیں بھولے گا. " وہ گردن تان کر کھڑی تھی. شیری کے لب بے اختیار گہری مسکراہٹ میں ڈھلے.
" مزہ آ ئے گا." اس نے بائیں آنکھ دبائی.
" بہت مزہ آئے گا." حیا نے شیطانی مسکراہٹ کے ساتھ اسے دیکھا. دونوں کا ایک ساتھ لگایا قہقہہ گھٹن زدہ ماحول کا تناؤ کم کر گیا.
*********************************************
عشاء کی نماز پڑھ کر وہ کچن میں آ گئی تھی. جہاں بی اماں مزے مزے کے کھانے بنانے میں مصروف تھیں. شیری, شیروان اور زویان حمزہ کو گھر لانے کے لیے نکلے تھے علی اور باقی لوگ اس کے استقبال کو گھر پر موجود تھے. سمایا اس وقت حیا کے ساتھ کچن میں کھڑی تھی اور وہ اس سے گزرے دنوں کا احوال سن رہی تھی. بریانی, قورمے اور تکوں کی مہک پورے لاؤنج میں پھیلی ہوئی تھی. دفعتاً علی کی آواز پر سمایا باہر نکلی اور حیا کچن کے ریکٹینگل سے, جس سے لاؤنج کا منظر واضح ہوتا تھا, باہر دیکھنے لگی.
سیاہ شرٹ اور جینز میں ملبوس وہ نقاہت سے قدم اٹھاتا اندر داخل ہوا تھا.
" بھائی, بھائی, بھائی. " علی اس کی طرف بڑھا اور اس کے گرد بازو لپیٹتے گلے لگایا. حمزہ کے زخم کافی بہتر تھے, جواباً اس نے بھی علی کے گرد بازو لپیٹے. علی نے پیچھے ہوتے ہوئے عادتاً ایک مکا اس کے بائیں کندھے سے نیچے سینے پر مارا اور وہ درد سے کراہا.
" جاہل انسان اب یہ واقعی درد کرتا ہے." اس نے دبا دبا سا احتجاج کیا. علی نے مسکراتے ہوئے دونوں ہاتھ اٹھا کر معذرت کی اور سب وہیں لاؤنج میں محفل سجا کر بیٹھ گئے.
اب اگر کھڑکی سے دیکھو تو حیا سفید شلوار, قمیص میں ملبوس کھڑی تھی, سیاہ دوپٹہ گلے سے لگا تھا اور سیدھے لمبے بال کمر کو چھو رہے تھے. ہلکے میک اپ کے ساتھ بھی وہ کافی سجی سنوری لگ رہی تھی. شاید عرصے بعد تیار ہوئی تھی اسی لیے!
وہ ٹانگ پر ٹانگ جمائے لیٹنے کے سے انداز میں صوفے پر نیم دراز تھا.
" جوس لے لیں." نسوانی آواز پر اس نے چونک کر آنکھیں کھولیں وہ شیشے کا گلاس چھوٹی ڈش میں رکھے معصومیت سے مسکراتے اسے ہی دیکھ رہی تھی. حمزہ نے اپنی پھیلی ٹانگیں سمیٹی اور تھوڑا سنبھل کر بیٹھ گیا. وہ خوبصورت لگ رہی تھی. یہ پہلا خیال تھا جو اسے آیا, اس نے فوراً اس کے چہرے سے نظریں ہٹائیں, پھر ایک نظر لاؤنج میں بیٹھے لوگوں پر ڈالی جو اب اسے ہی دیکھ رہے تھے. حمزہ نے ہاتھ بڑھا کر گلاس اٹھایا, دو گھونٹ بھرے اور آنکھوں پر آنکھیں جمائے گلاس واپس رکھ دیا. اس کی آنکھوں میں بے نیازی تھی اور سامنے آنکھوں میں محبت, احساس, اور اعتماد تھا. وہ مڑنے لگی تو علی کی آواز اسے سنائی دی.
" حیا ایک گلاس پانی پلیز!" اور چند سیکنڈ بعد وہ گلاس علی کو تھما رہی تھی. پھر گلاس واپس لیتے ہوتے وہ نرمی سے اس سے مخاطب ہوئی.
" علی بھائی! آپ مجھے حیا بھی کہہ سکتے ہیں, لیکن اگر آپ مجھے بھابھی کہیں گے. " زرا کی زرا نظر ٹی وی کا چینل بدلتے حمزہ پر ڈالی جس کے کان ادھر ہی تھے, " تو مجھے بہت اچھا لگے گا." علی نے مسکراہٹ دباتے بمشکل کہا. " ضرور حیا بھابھی!"
اور حیا بھابھی اعتماد سے سر اٹھائے, حمزہ بھائی کے سامنے سے گزرتی کچن میں غائب ہو گئی.
*********************************************
کھانے کا میز سج چکا تھا, سربراہی کرسی پر حمزہ گود میں نیپکن پھیلائے بیٹھا تھا, اس کے دائیں طرف شیری اور بائیں طرف کی کرسی خالی تھی, پھر آگے سمایا, زویان,علی اور شیروان بیٹھے تھے.
" مجھے تو یہ سب دیکھ دیکھ کر بھوک لگ رہی ہے. " علی نے ہاتھ ملتے میز پر دیکھا.
" میں نے حمزہ صاحب کی پسند کا کھانا بنایا ہے." بی اماں برتن سیٹ کرتی پر جوش سی بولیں. کھانا شروع ہو گیا. حمزہ اپنی پلیٹ میں قورمہ ڈال رہا تھا جب سفید جوڑا زیب تن کیے حیا کچن سے بر آمد ہوئی.
" آپ کو ڈاکٹر نے سپائسی کھانے سے منع کیا ہے." وہ اب اس کے سر پر کھڑی مسکراتی ہوئی کہہ رہی تھی. " آپ کے لیے میں نے الگ کھانا بنایا ہے." اس حمزہ کے سامنے سے قورمے کی پلیٹ اٹھا لی. اور حمزہ جبڑے بھنچے اسے دیکھتا رہا.

"ووہو! چشمِ بد دور! چشمِ بد دور! "
"واؤ "
" لکی حمزہ سر! "
آوازیں سنائی دیں. اور حمزہ نے بے زاری سے ان پر ترش نظر ڈالی. وہ کوشش کر رہا تھا کہ حیا کو جواب نہ ہی دے. تو وپہ چپ رہا.

" کیا بات ہے بھابھی! کھانے وانے! ہاں؟ " شیری جس کی پلیٹ اب تک خالی تھی ایک مشکوک مسکراہٹ کے ساتھ اسے دیکھ رہا تھا. جواباً مسکراہٹ دباتے حیا نے کندھے اچکائے. " میں نے دلیہ اور کھچڑی بنائی ہے " وہ اب جھک کر اس کے سامنے دو باؤل رکھ رہی تھی.
" اوہ " اب کہ افسوس کیا گیا.
" پوور حمزہ بھائی." شیری نے پلیٹ میں بریانی ڈالتے کہا.

حمزہ کا ہاتھ اہنی کنپٹی مسل رہا تھا. اور نظریں حیا کے حرکت کرتے ہاتھوں پر تھی. " ڈاکٹر کی ہدایات کے مطابق آپ کے کھانے اور دوائیوں کا خیال میں رکھتی رہوں گی. اینڈ یو آر ویلکم! حیا نے سر کو خم دے کر نہ کہے گئے شکریہ کا جواب دیا. حمزہ نے اچنبھے سے اسے دیکھا. ( زیادہ ہی نہیں بول رہی؟) پھر سر جھٹک کر باؤل ہاتھ سے پرے ہٹایا.
" آئی ڈونٹ وانٹ ٹو ایٹ آل دس" وہ ہاتھ بڑھا کر قورمہ پکڑنے لگا تھا جب شیری نے زور سے چمچ پلیٹ میں مارا.
" اتنے سال ہو گئے ہیں آپکو کھانا بناتے لیکن مجال ہے کبھی ڈھنگ کا کھانا بنایا ہو " مخاطب بی اماں تھی. سب ہونقوں کی طرح اس کی شکل دیکھ رہے تھے. حمزہ کا بڑھتا ہاتھ رک گیا. چہرے پر سختی در آئی.

" شیری! یہ کیا طریقہ ہے بڑوں سے بات کرنے کا." مگر شیری نے اس کو نظر انداز کر دیا تھا.
" آپ عورتوں سے بہتر وہ.. وہ کھسرے اچھا کھانا بنا لیتے ہیں. کم از کم کھانے کو دل تو کرتا تھا." وہ اب کھڑا ہو گیا تھا. حمزہ کے ہاتھ کی رگیں پھولنے لگی تھیں. شیری کو یہ کیا ہو گیا ہے. غصے کی جگہ پریشانی نے لے لی تھی.
" کم آن شیری! میں نے وہ کھانا کھایا ہے انتہائی فضول ہوتا تھا. " شیروان نے مذاق اڑانے سے کے انداز میں کہا. شیری کی انگلی شیروان کی طرف اٹھی. " اپنا منہ بند رکھو. " اس کی ہوا میں اٹھی انگلی لرز رہی تھی. ماتھا پسینے سے تر تھا. حمزہ کی طرف سے دیکھو تو اس کا پورا جسم کپکپا رہا تھا. حمزہ میز کا سہارا لیتے کھڑا ہونے لگا اور پھر کراہ کر کرسی پر گر گیا. حیا اس کی طرف بڑھی اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا, حمزہ کا ہاتھ اب کندھے کے نیچے سینے پر تھا.شیری اس کی طرف مڑا اور دوبارہ اٹھتے حمزہ کی طرف ہاتھ اٹھایا. " بیٹھ جائیں آپ, مجھے کوئی لیکچر نہیں سننا." لہجہ تلخ تھا.

" کھانا بھی ڈھنگ کا نہیں دے سکتے. " بڑبڑاتا وہ اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا. علی اس کے پیچھے جانے کو کھڑا ہوا مگر حمزہ نے اسے روک دیا. " میں بعد میں اس سے بات کر لوں گا, فی الحال اسے اس کے حال پر چھوڑ دو." اس نے ایک نظر حیا کو دیکھا جو اس کو کندھے سے پکڑے ہوئی تھی وہ پیچھے کو اپنی کرسی پر بیٹھ گئی. اور پھر خاموشی سے کھانا ختم کیا گیا اور سب اپنے گھروں کو نکل گئے.
*********************************************
گیارہ بجے تمام کام نمٹا کر وہ اوپر سیڑھیوں کی طرف بڑھی نظر حمزہ کے کمرے پر تھی, جس کے پیچھے وہ غالباً حیا کا انتظار کر رہا تھا. (یہ حیا کا خیال تھا) وہ کمرے کے سامنے جا کر کھڑی ہوئی گہرا سانس اندر کو کھینچا. دو دن کی گئی اپنی پلاننگ کو ایک لمحے میں دہرایا. اور دھڑکتے دل کے ساتھ دروازہ کھولا, منظر واضح ہوا, کمرے میں زرد روشنی تھی, آنکھیں سکیڑ کر دیکھو تو حمزہ بیڈ پر سنگھار میز کی طرف کمر کے بل سیدھا لیٹا تھا, آنکھوں پر بازو دھرا تھا, اب اس کے نیچے آنکھیں کھولی تھیں یا بند وہ جان نہیں پائی. چھوٹے اور محتاط قدم اٹھاتی وہ سنگھار میز کے سامنے پڑے اسٹول پر جا بیٹھی جس میں سے اب حمزہ کا ایک رخ نیم تاریکی میں نظر آرہا تھا. وہی سیاہ شرٹ جس کا گلہ آگے سے کھلا تھا. شیو پہلے سے بڑھی ہوئی تھی, وہ بظاہر سوتا ہوا لگتا تھا. حیا نے ہلکے سے کنکھارا.
" ویلکم بیک ٹو دی ہوم مسٹر حمزہ!" اور مسٹر حمزہ اپنی جگہ سے ہلے بھی نہیں. " مجھے پتا ہے تم جاگ ریے ہو." لاؤنج میں بیٹھا عزت دار ' آپ' کر کے مخاطب کیا جانے والا شوہر اب ' تم ' ہو گیا تھا.
" ٹڈیاں بھی بولنے لگ گئی ہیں." وہ بڑبڑایا. آواز حیا کو سنائی دی مگر کیا بولا تھا وہ غور کرتی رہی. پھر چپکے سے اٹھی اور حمزہ کے دوسری طرف پڑے خالی بیڈ پر دھپ سے بیٹھ گئی. حمزہ نے فوراً آنکھوں سے بازو ہٹایا, بھوری چھوٹی آنکھوں نے گھور کر حیا کو دیکھا جو بظاہر بے نیازی سے اپنے فون پر جھک گئی تھی.
" تم.. " ایک کہنی بیڈ پر ٹکائے دوسرے ہاتھ کی انگلی اس کی طرف اٹھائی. مگر زخم تازہ تھا بیڈ پر پڑی کہنی وزن برداشت نہیں کر سکی اور وہ کراہ کے رہ گیا.
" جب نہیں ہوتا تو کیوں خود کو زحمت دیتے ہو." جھٹکے سے حمزہ کی طرف مڑی, بال پھسل کر حمزہ کے گالوں کو چھو رہے تھے, تھوڑا آگے جھکی. اور زور دے کر جملہ مکمل کیا "ڈئیر..حمزہ...سر! " اندر اس کا اپنا دل دھک دھک کر رہا تھا, مگر وہ مسکراتی رہی, کچھ لمحے یوں ہی آنکھوں ہی آنکھوں میں گزر گئے, حمزہ کا اپنا دل بے ترتیب ہونے لگا تھا, وہ اس کے پاس تھی. بالکل سامنے. اس پر جھکی ہوئی. اس نے بیڈ کو مضبوطی سے تھاما اور اس سے پہلے کہ وہ کوئی ردِ عمل دیتا دروازے پر دستک ہوئی, حیا بجلی کی سی تیزی سے سیدھی ہو کر بیٹھ گئی, حمزہ کا اٹھتا ہاتھ دوبارہ بیڈ پر گر گیا. دروازہ کھلا, شیری اندر داخل ہوا. بال گیلے تھے وہ شاید نہا کر آیا تھا اور پہلے سے بہتر دکھ رہا تھا.
" میں اندر آجاؤں؟" وہ اندر کھڑا ہی پوچھ رہا تھا. حمزہ نے آنکھوں پر بازو رکھ لیا. " تم اندر ہی کھڑے ہو لڑکے" شیری کے پاس سے گزرتی حیا نے اسے یاد دلایا. اور وہ جھینپ کر اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگا. حیا سنگھار میز کے سامنے پڑے اسٹول پر جا بیٹھی اور شیری حمزہ کے پیروں میں دوسری طرف پڑی خالی جگہ پر بیٹھ گیا.
" بھابھی آپ نے بلایا تھا مجھے؟" حمزہ سے ڈرتے اس نے حیا کو بیچ میں گھسیٹا. اور وہ ' سیریسلی؟' والی نظروں سے اسے دیکھنے لگی. چند لمحے اشاروں میں منت کی گئی اور حیا نے کنکھار کر حمزہ کو مخاطب کیا.
" آ جی سنیں آپ کا بھائی آپ سے بات کرنا چاہتا ہے." اپنی مسکراہٹ چھپاتے وہ قدرے سنجیدگی سے بولی. اور آ جی نے بازو آنکھوں سے ہٹا کر اسے گھورا. ( ٹڈی)
اا سے پہلے کہ وہ چند اور منٹ حیا کو سخت ست سنانے مین گزارتا ( اپنے خیالوں میں) شیری بول پڑا.
" آئی ایم سوری بھائی. " وہ اب سر جھکا کر بیٹھا تھا. حمزہ نے اوپر ہوتے بیڈ کے کراؤن سے ٹیک لگائی.

" میں جان سکتا ہوں یہ تمہارے رویے کی وجہ کیا ہے؟" حمزہ کی آنکھوں میں پریشان سی خفگی تھی.
" میں نہیں جانتا." تین لفظوں میں جواب آیا. حیا شیشے میں ان کے عکس دیکھ سکتی تھی.

" مجھے اس کھانے سے الٹی آتی ہے. میرے اندر کچھ ہے. جو مجھے سکون نہیں لینے دیتا." آواز میں بے بسی در آئی.
" اور کیا ہے تمہارے اندر؟" حمزہ مضطرب نظر آنے لگا تھا. شیری نے ایک نظر حیا کو دیکھا, حمزہ نے بھی نظر اس کی طرف گھمائی. اس کی پشت تھی اس طرف.
" میں نہیں سن رہی. " کانوں سے ٹاپس اتارتی وہ بولی اور شیری نے سر جھٹکا. " نہیں جانتا کیا ہے."
" تم مجھ پر بھروسہ کر سکتے ہو." حمزہ کی آواز اسے دور سے آتی سنائی دی.

" آپ پر ہی تو بھروسہ ہے." وہ سرک کر آگے آگیا تھا حمزہ کے پاس. اور سر اس کے سینے پر گرا دیا تھا.
" میں ٹھیک نہیں ہوں حمزہ بھائی. " وہ سامنے لگے ٹی وی کی سیاہ اسکرین کو دیکھتے کہہ رہا تھا.
" یار پتا تو چلے کیا ہوا ہے. کیا مسئلہ ہے؟ کیوں ٹھیک نہیں ہو تم؟ " وہ اس کی کمر تھپک رہا تھا. حیا دونوں ہاتھ گود میں گرائے, شیشے میں ان کا عکس دیکھتی رہی. خون کا رشتہ نہیں تھا مگر سگے بھائیوں سے بڑھ کر تھا.
" سمایا نے کہا ہے کہ صبح ڈاکٹر کے پاس جائیں گے. شاید کچھ پتا چل سکے." وہ اب حمزہ سے الگ ہو رہا تھا. زرد روشنی میں شیری کا رنگ اور زرد دکھ رہا تھا.
" ہاں ٹھیک ہے, تم فکر نہیں کرو, میں تمہیں کچھ نہیں ہونے دوں گا. ہاں؟" وہ اس کے گال پر ہاتھ رکھے اسے یقین دلا رہا تھا. شیری اس کے ہاتھ کو دباتا کھڑا ہو گیا. ابھی وہ دروازے تک گیا تھا کہ واپس مڑا. اف! اس کی یہ جاتے جاتے مڑنے کی عادت.

" اینڈ سوری حیا بھابھی! میں نے آپ لوگوں کا مومنٹ سپائل کر دیا. " سنجیدہ سا کہہ کر وہ دروازہ بند کرتا باہر نکل گیا. حیا نے ہاتھ منہ پر رکھ کر مسکراہٹ چھپائی. حمزہ کا رنگ فق ہوا تھا. مگر وہ ڈھٹائی سے یوں ہی بیٹھا دروازے کو دیکھتا رہا. اور اب وہ سمایا کو میسج کر رہا تھا.
" ڈاکٹر کی رپورٹ مجھے ای میل کر دینا." دوسری طرف سے فوراً جواب آیا تھا. " اوکے سر!"
حیا کپڑے تبدیل کر کے حمزہ کے مخالف سمت بیڈ پر بیٹھی موسچرائزر سے ہاتھ مل رہی تھی. حمزہ شیری کی حالت کے مطابق متوقع بیماریوں کا اندازہ لگا رہا تھا جب اس نے حیا کو تکیہ سیٹ کرتے بیڈ کراؤن سے ٹیک لگاتے دیکھا. اس نے آنکھیں بند کر لی تھیں.
" وہ صوفہ تمہارے لیے ہے." اس نے حیا کو صوفے کا رخ دکھایا. " یہ میرا کمرہ ہے." حیا نے بند آنکھوں سے کہا.
" یہ میرا... کمرہ... ہے." حمزہ نے چبا کر کہا.
" اتنا شوق ہے تو خود جا کر صوفے پر.. " وہ احتجاج کرتی سیدھی ہوئی مگر اس کا بازو حمزہ کی گرفت میں آچکا تھا. " ایک بار کہی بات تمہیں سمجھ نہیں آتی؟ " وہ اس سے چند انچ دور تھا. حیا کی سانس تھم گئی. گلے میں گلٹی ڈوب کر ابھری, وہ جانتی تھی اس کی ہر پلاننگ اس ایک لمحے آ کر غارت ہو جانی تھی, اور وہ لمحہ آن پہنچا تھا. حمزہ کی آنکھیں اس پر جمی تھیں. وہ خود اس کی خالی آنکھوں میں گم ہونے لگا تھا اور یکا یک حیا نے فیصلہ لیا, اسے حمزہ سے ڈرنا نہیں تھا. بالکل نہیں ڈرنا تھا. دھڑکتے دل کے ساتھ اس نے دونوں بازو حمزہ کی گردن میں حمائل کیے, لبوں کو زبردستی کھینچ کر مسکرائی, " غصہ کرتے تم اور بھی پیارے لگتے ہو." وہ مسکائی اور حمزہ اس ناگہانی آفت پر کرنٹ کھا کر پیچھے ہوا. سیاہ شرٹ کو گردن سے پکڑ کر اوپر کو کھینچا. " کیا بے ہودگی ہے." وہ شعلہ بار آنکھوں سے اسے دیکھ رہا تھا اور وہ مسکراہٹ دبائے اس کی حالت سے محفوظ ہو رہی تھی مگر گزرے لمحے کی کپکپاہٹ ابھی تک باقی تھی. وہ ہاتھوں کو پیچھے کیے آپس میں رگڑ رہی تھی. حیا کا پلڑا بھاری ہو گیا تھا. اب وہ کہاں سوتی ہے کہاں نہیں, حمزہ نے دوبارہ تذکرہ نہیں کیا اور منہ پھیر کر لیٹ گیا.

*********************************************
دونوں کی رات یوں ہی اس ایک لمحے میں مقید ہو گئی تھی. حمزہ کبھی شیری کے بدلتے رویے کے بارے میں سوچنے لگتا اور پھر سوچ بھٹکتے ہوئے بیڈ کے دوسری طرف لیٹی حیا پر آ رکتی. اچھی بھلی چلی گئی تھی اب آئی اور دوبارہ اس کے حواسوں پر چھانے لگی تھی.
دوسری طرف حیا تو ہوا میں تھی. اس نے حمزہ کو چاروں شانے چت کیا تھا. ( آیا بڑا )
رات لمحہ بہ لمحہ سرکتی رہی. سیاہ آسمان چھپ گیا اور صبح کی سفیدی پر سورج کی لالی ابھرنے لگی, حیا بیڈ سے اٹھی, حمزہ کو دیکھا, وہ زیادہ دیر کندھے پر وزن نہیں ڈال سکتا تھا. تو اب اوپر چھت کی سمت منہ کیے سویا پڑا تھا. وہ کچھ دیر یوں ہی اسے دیکھتی رہی. رات کا منظر آنکھوں کے سامنے لہرایا, لب مسکراہٹ میں ڈھلے, اور بے اختیار ہونٹوں سے پھسلا. " پیارا لڑکا."
اپنے الفاظ پر وہ چونکی. اور محفوظ سی ہوتی دروازے کی طرف بڑھی, ہینڈل گھما کر پیچھے کو کھینچا وہ نہیں کھلا. ایک بار, دو بار مگر وہ نہیں کھلا. اسے وہ پہلی رات یاد آئی جب وہ دروازہ نہیں کھول سکی تھی اور حمزہ کے ہینڈل گھماتے ہی دروازہ کھلتا چلا گیا تھا. پرانی حیا ہوتی تو ڈر جاتی مگر اب کے اس کے پاس اعتماد تھا اور اپنی بیڈ پر پڑی غافل محبت پر بھروسہ تھا سو وہ واپس مڑی اور اسے بازو سے ہلایا. وہ نہین ہلا تو زور سے ہلا کر بولی.

" اٹھو, مجھے یہ دروازہ کھول کر دو." محبت سوتی بنی رہی تو حیا نے ہاتھ اس کے کندھے پر رکھ کر دبایا اور وہ کراہ کر اٹھا. " بے غیر..." گالی اس کے منہ میں ہی رہ گئی. وہ آنکھیں پھاڑے سامنے کھڑی تھی. اور وہ ناگواری سے منہ میں کچھ بڑبڑاتا دوبارہ آنکھیں موند کر لیٹ گیا.
" یہ دروازہ کھول کے دو. " وہ قریباً چلائی اور حمزہ نے فٹ سے بازو آنکھوں سے گرایا. آنکھوں میں پہلی سی ناگواری نہیں تھی,چمک تھی فاتحانہ چمک.

" دروازہ کھولنا کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے. خود کھول لو. " برا سا منہ بناتے وہ منہ پھیر گیا.
" سمارٹ نہیں بنو. کھولو یہ. " وہ دونوں ہاتھ کمر پر رکھے کھڑی تھی. اور وہ ازل کا بے نیاز ڈھیٹ بن کر لیٹا رہا. جب وہ نہیں اٹھا تو حیا ٹانگ پر ٹانگ جمائے اسٹول پر بیٹھ گئی.
" ہم تم ایک کمرے میں بند ہوں. " پھر ایک نظر حمزہ پر ڈالی. " اور چابی کھو جائے. " وہ آنکھیں گھماتی اونچا گنگنا رہی تھی. حمزہ کو تو گویا لگ گئی تھی. ایک لمحے میں دماغ نے مسافت کی اور رات کا منظر دماغ کے نہاں خانے میں نظر آیا. وہ کہنیوں کے بل اٹھا اسے گھورا اور شرٹ ٹھیک کرتا دروازے تک آیا, "یہ آخری بار ہے " گھوم کر انگلی اٹھائی, وہ اب دروازہ کھولے اسے باہر کا رستہ دکھا رہا تھا.
" شکریہ مسٹر ہسبنڈ " اس کے پاس سے گزرتے اس نے سر کو خم دیا. ( آیا بڑا )
اس کے پیچھے کھٹاک سے دروازہ بند ہوا. ( ٹڈی)
(جاری ہے)

No comments:

غازی از ابو شجاع ابو وقار قسط نمبر60 Ghazi by Abu Shuja Abu Waqar

Ghazi  by  Abu Shuja Abu Waqar  غازی از ابو شجاع ابو وقار  پیشکش محمد ابراہیم 60 آخری قسط نمبر  Ghazi by Abu Shuja Abu...

Powered by Blogger.