ﻧﺎﻭﻝ سنائپر از ریاض_عاقب_کوہلر قسط نمبر 30
ﻧﺎﻭﻝ سنائپر
از
ریاض_عاقب_کوہلر
سنائپر قسط نمبر30
ریاض عاقب کوہلر
کافی دیر ہو گئی میں اسی طرح لیٹا رہا ۔اچانک مجھے محسوس ہوا جیسے کوئی کمرے میں داخل ہوا ہو۔ میں نے ایک دم پلوشہ کی قمیص چہرے سے ہٹائی ۔وہ کمرے کے وسط میں کھڑی تھی۔
”کیا یہ خوا ب ہے؟“میرے ذہن میں پیدا ہونے والا سوال فطرتی تھا۔جواب جاننے کے لیے میرے چٹکی کاٹنے سے پہلے اس کی شوخ آواز میرے کانوں میں گونجی۔
”میں اپنے کپڑے یہاں بھول گئی تھی وہی لینے آئی ہوں ۔“اس نے میرے ہاتھوں میں پکڑی قمیص کی جانب اشارہ کیا ۔مجھ پر گویا گھڑوں پانی پڑ گیا تھا ۔
”وہ ....میں ....“مجھ سے کوئی بات نہیں بن پائی تھی ۔
”ویسے تنہائی میں کسی نا محرم لڑکی کی قمیص کو گلے لگانے اور چومنے والے شخص کو شریعت کیا سزاسناتی ہے ؟ میرا خیال ہے تمھیں قتل کرنے کا ارادہ دوبارہ کرلینا چاہیے ۔“اس نے ایک مرتبہ پھر شوخ مسکراہٹ سے پوچھا ۔اور میں نے نادم انداز میں سر جھکا لیا،نہ چاہتے ہوئے بھی میرے ہونٹوں سے پھسلا”قتل کے ارادے کی ضرورت ہی کیا ہے،تم نہ لوٹتیں میں خود بہ خود مر جاتا ۔“
” اچھا قمیص والی سامنے کھڑی ہے، اب تو اس بے چاری قمیص کی جان چھوڑ دو ۔“اس نے ایسے لہجے میں کہا کہ ایک دم میں نے قمیص تکیے پر پھینکی اور قمیص والی سے وہی سلوک کرنا شروع کر دیا جو میں اس کی قمیص کے ساتھ کر رہا تھا ۔بہت سی دیر گزر گئی اور پھر اس کی مسرت بھری آواز نے میرے کانوں میں رس انڈیلا ۔
”ویسے تم اتنے بزدل بھی نہیں ہو جتنا میں نے سمجھا تھا ۔“
”تو تم نے کتنا بزدل سمجھا تھا ۔“اس کاسر گود میں سر رکھ کرمیں اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگا ۔سارے اندیشوں اور سارے گمانوں کو میں نے پس پشت ڈال دیا تھا ۔اس کے جانے کے بعد جو چند گھنٹے مجھ پر بیتے تھے اس کے بعد مجھ میں اتنی ہمت باقی نہیں بچی تھی کہ اس کے سحر انگیز وجود سے نظریں چرا سکتا ۔
”بڑا باتیں کرنا آ گیا ہے ۔“اس نے لیٹے لیٹے نظریں اوپر اٹھائیں ۔
”تو پہلے گونگا تھاکیا؟....باتیں کرنا آ گیا ہے ۔“میں نے زبان نکال کر اسے چڑایا ۔
”تو میرے جانے کے بعد تم سر پکڑ کر کیوں بیٹھ گئے تھے ۔اور اگر یونھی بیٹھنا تھا تو جانے کیوں دیا تھا ؟“
”تمھیں کیسے پتا ؟“میں نے حیرانی سے پوچھا ۔
”تو میں یہیں پرتو تھی ،کافی دیرتم پر نظر رکھے رہی ۔ جونھی تم قمیص اٹھا کر کچھ زیادہ ہی غمگین ہونے لگے تبھی کھانا بنانے لگی ۔مجھے معلوم ہو گیا تھا کہ اب تم اپنی محبوبہ کی قمیص کے ساتھ ہی غم غلط کرتے رہو گے ۔“ اس نے یوںشرارتی انداز میں کہا کہ مجھے ہنسی آ گئی تھی ۔
زیر لب مسکراتے ہوئے میں نے پوچھا ۔”محبوبہ کون ؟“
”وہی ،جسے گود میں لٹایا ہوا ہے ۔“اس نے ناز بھرے انداز میں جواب دیا ۔
”میں نے سوچا تم چلی گئی ہو ؟“
”تم سے دورکیسے رہ پاتی ؟“اس نے یاسیت بھرے لہجے میں ایسا اعتراف کیا کہ میری روح تک سرشار ہو گئی تھی ۔
”پلوشہ !....کبھی دھوکا تو نہیں دو گی نا۔“میں نے اس کی ٹھوڑی کے نیچے ہاتھ رکھ کر اس کا چہرہ تھوڑا اوپر کیا ۔
”اور اسی خوف میں شاید تم پہلے سے میری گردن توڑنے لگے ہو۔“اس نے سر میری گود میں رکھا ہوا تھا ۔ ٹھوڑی اوپر کرنے سے اس کی گردن پیچھے کی طرف ٹیڑھی ہو گئی تھی ۔
”نہیں ،بس تمھیں چھو کر یقین کر رہا ہوں کہ میں خواب نہیں دیکھ رہا۔“
”میرا خیال ہے تمھیں کچھ زیادہ ہی بھوک لگ رہی ہے جو یوں الٹی سیدھی بکواس شروع کر دی۔“میری گود سے سر اٹھاتے ہوئے اس نے منہ بنایا ۔”میں کھانا لاتی ہوں ۔“
”نہیں ،یونھی لیٹی رہو ۔“میں نے دوبارہ اس کا سر گود میں رکھ دیا ۔
”معلوم تو ہے نا کہ میری ماں نے پچاس لاکھ لے کر ہی میرا رشتا دینا ہے ۔“
میں اس کے چہرے پر جھکتا ہوا بولا۔”میں پچاس لاکھ پورے کرنے کے لیے اپنی زمین جائیداد گھر بار سب کچھ بیچ دوں گا لیکن تمھاری امی جان کا مطالبہ ضرور پورا کروں گا ۔“
”ہا....ہا....ہا۔“وہ خوب صورت انداز میں مسکرائی ۔”امی جان کو اگر میرے پچاس روپے بھی مل گئے تو اس نے نہ نہیں کرنی ۔“
”اب تم نے بکواس شروع کر دی ہے ۔“میں مصنوعی غصے سے بولا۔
”بکواس نہیں سچ کہہ رہی ہوں ۔اور آپ پہلے مرد ہیں جس کی آنکھوں میں مجھے اتنی چاہت اور محبت نظر آئی ہے ۔اگر امی جان نہ مانیں تو میں آپ کے ساتھ بھاگنے کو بھی تیار ہوں ۔“
”بھاگنے کی بچی ، میں تم سے آپ کب ہو گیا ؟“
وہ جذباتی لہجے میں بولی ۔”پہلے دن سے تھے ،بس کہنے کا موقع نہیں دے رہے تھے ۔جانتے ہو جس وقت آپ نے غار میں میری پٹائی کی تھی اس وقت مجھے آپ سے اتنی زیادہ نفرت محسوس ہوئی تھی کہ میرا بس چلتا توآپ کواسی وقت قتل کر دیتی ۔لیکن بعد میں جب آپ سردار بھائی کے ساتھ باتیں کر رہے تھے کہ میں آپ کو کتنی معصوم اور پیاری لگی تھی ۔اس وقت میرے دل میں ایک دم آپ کی چاہت بھر گئی۔ اسی وقت میں نے خود سے عہد کر لیا تھا کہ آپ ہی کواپناﺅں گی چاہے اس کے لیے مجھے کتنی کوشش ہی کیوں نہ کرنا پڑے ۔بعد میں آپ کی آنکھوں سے چھلکنے والی چاہت اور محبت نے مجھے یہ اطمینان دلا دیا تھا کہ آپ کا بیزاری ظاہر کرنا اور مجھ سے جان چھڑانا بس خود کو دھوکا دینے کے لیے ہے ورنہ آپ بھی مجھے پہلے دن ہی سے چاہنے لگے تھے ۔آپ کی وجہ سے پہلی بار مجھے احساس ہوا کہ میں لڑکی ہوں اور اس قابل ہوں کہ مجھے کوئی چاہے ،پیار کرے اور مجھے دیکھ کر اسے اپنے وہ محبوب یاد آ جائیں جنھیں پانے کی حسرت وہ دل میں رکھتا ہے ۔ورنہ اس سے پہلے فقط گندی نگاہیں ہی میری قسمت رہی ہیں ۔یا پھر مجاہدین کیمپ کے اساتذہ تھے جو مجھے بیٹا سمجھ کر باپ جیسی شفقت سے نوازتے تھے ۔“
”اچھا اب سہ پہر ہونے کو ہے کیا اگلی شب بھی یہیں قیام کا ارادہ ہے ؟“
اس نے چاہت سے لبریز لہجے میں جواب دیا ۔”میرا دل تو چاہتا ہے تمام عمر آپ کے ساتھ یہیں بِتا دوں ۔“
”تم تو ہو ہی بے وقوف ۔“میں نے اس کی چھوٹی چھوٹی ریشمی زلفوں میں انگلیاں پھیریں ۔
”پتا ہے راجو!....وزیرستان میں عورت کو کوئی مقام حاصل نہیں ہے ۔باپ کسی بھیڑ بکری کی طرح اس کا سودا کرتا ہے ۔نہ تو شادی کے وقت عورت کی مرضی دریافت کی جاتی ہے اور نہ اس کی رائے کو کوئی اہمیت دی جاتی ہے ۔بلکہ اس معاملے میں کوئی بھی لڑکی زبان کھولنے کی مجاز نہیں ہوتی ۔اصولاََ تو عورت کی ذمہ داری گھر کے کام سنبھالنا ہوتے ہیں مگر یہاں جنگل سے لکڑیاں لانا ،کھیتی باڑی کرنا عورت ہی کی ذمہ داری ہوتی ہے ۔یہاں مرد کا کام صرف جھوٹی غیرت دکھانا ،بیٹی کی تعلیم پر پابندی لگانا ، جوان ہونے پر اس کا سودا کرکے پیسے کھرے کرنا ہوتا ہے ۔خاص کر تعلیم تو عورت کے لیے شجر ممنوعہ ہے ۔مجھے بھی کسی وجہ سے پڑھنے کا موقع ملا ورنہ آج میں بھی سپوگمائے باجی کی طرح ان پڑھ ہوتی ۔اور سچ کہوں تو اگر آپ مجھے نہ ملتے تب بھی میں نے وزیرستان میں شادی نہیں کرنا تھی ۔“
”تو کیا ،تم جیسی لڑکی کو پاکستان میں رشتوں کی کوئی کمی ہے ؟ایک چھوڑ لاکھوں مرد تمھیں اپنانے پر تیار ہو جاتے ۔“
”ہاں ،مگر ان میں کوئی بھی راجو تو نہ ہوتا نا ۔“
”تو مجھ میں کون سے سرخا کے پر لگے ہیں ۔اگر کسی قابل ہوتا تو بار بار یوں نہ دھتکارا جاتا ۔“
”دھتکارنے والیاں بے وقوف اور بد قسمت تھیں ۔اپنی اہمیت مجھ سے پوچھیں ۔“
”پتا نہیں وہ بد قسمت تھیں یا میں ۔“
”وہ بدقسمت تھیں ....کیونکہ آپ کو تو مجھ جیسی پیاری لڑکی مل گئی ہے نا ؟“اس نے شرارتی لہجے میں قہقہہ لگایا۔
”اس میں شک ہی کیا ہے ۔“میں نے جذبات سے لبریز لہجے میں کہا ۔یقینا وہ بہت قیمتی ساتھی تھی۔
”اچھا مجھے اپنی کہانی تفصیل سے سنائیں نا ۔“
”پھر کبھی سہی ۔فی الحال تم کھانا لے آﺅ تاکہ کھا کر نکلیں ۔“
وہ میری گود سے سر اٹھاتے ہوئے بولی ۔”کھانا تو میں لے آتی ہوں ،مگر آج رات یہیں گزاریں گے ۔“
”پلوشے یار!.... سمجھنے کی کوشش کرو ۔“
وہ مسکراتے ہوئے شوخی بھرے لہجے میں بولی ۔”سچ کہو ،کبھی پہلے بھی آپ کی بات مانی ہے ۔“
اس کا انداز دیکھتے ہوئے میں بے بسی سے مسکرا دیا تھا ۔وہ بھی ہونٹوں پر دل آویز مسکراہٹ سجائے باہر نکل گئی ۔
زندگی ایک عجیب ڈگر پر آ گئی تھی ۔کہاں تو میں نے ماہین کی بے وفائی اور رومانہ کے جھوٹ کے بعد عورت ذات پر اعتبار نہ کرنے کا تہیّہ کر لیا تھا او رکہاں پلوشہ کے بغیر ایک لمحہ گزارنا کاِ ردار لگ رہا تھا۔وہ پہلی نظر کے ساتھ ہی میرے دل میں اتر گئی تھی مگر میں نے خود کو دھوکے میں مبتلا کیے رکھا ۔اور اب ایک دم اس کی چاہت کھل کر سامنے آ گئی تھی بلکہ ہم نے ایک دوسرے کو اپنانے کا فیصلہ بھی کر لیا تھا ۔مجھے یقین تھا کہ ابوجا ن اور پھوپھو جان نے بھی اس رشتے پر خوشی سے پھولے نہیں سمانے تھے ۔میرے لیے ایسی دلھن تو شاید وہ ساری زندگی تلاش نہ کر پاتے ۔
میں پلوشہ کو تلہ گنگ بھجوانے کی بابت سوچنے لگا ۔اب اسے اپنے ساتھ پھرانا بے وقوفی تھی ۔ لیکن اس بارے سب سے بڑی رکاوٹ خود پلوشہ کی ذات تھی ۔میں جانتا تھا کہ اس نے مشکل ہی سے راضی ہونا تھا ۔البتہ فی الفور شادی کا لالچ دے کر میں اسے تلہ گنگ لے جا سکتا تھا ۔اس کے بعد شاید وہ ہٹ دھرم مان جاتی ۔سب سے بڑھ کر میں خود بھی مزید اس سے دور نہیں رہ سکتا تھا ۔اسے زندگی میں شامل کرنا مجھے اپنی سب سے بڑی خواہش لگ رہی تھی ۔
پلوشہ کی واپسی روٹی کے چھابے اور سالن کے کٹورے کے ساتھ ہوئی تھی ۔
”ارے آپ نے ابھی تک پیسے نہیں اٹھائے ۔“اس نے زمین پر بکھرے نوٹوں کو دیکھ کر مسکرا کر پوچھا ۔اس وقت میری نظر بھی ان نوٹوں پر پڑی جو وہاں سے جاتے ہوئے وہ غصے میں پھینک کر گئی تھی ۔
میں نے صاف گوئی سے کہا ۔”مجھے نوٹ اٹھانے کا ہوش ہی کہاں تھا ۔“
”واپس آ تو گئی ہوں ،ہوش بھی واپس آ جانے چاہیے تھے ۔“میرے سامنے کھانے کے برتن دھر کر وہ زمین پر بکھرے نوٹ سمیٹنے لگی ۔گلاک بھی اٹھا کر اس نے چارپائی پر رکھ دیا تھا ۔
”پہلے تمھاری واپسی کی خوشی ہضم تو کر لوں ۔“
”اتنی پیاری تھی تو جانے ہی کیوں دیا تھا ۔“وہ میرے ہمراہ بیٹھ کر کھانا کھانے لگی ۔ ٹماٹر پیاز کے بغیر صرف ابلی ہوئی دال جس میں تھوڑا سا گھی سرخ مرچیں اور نمک شامل تھا ،لیکن اس وقت وہ دال بھی بہت لذیز لگ رہی تھی ۔
میں نے شرارت بھرے لہجے میں کہا۔”جانے کہاں دیا؟مجھے روکنے کا موقع دیے بغیر تم بھاگ گئی تھیں ۔“
”جھوٹا ۔“اس نے خفگی بھری نگاہیں میری جانب اٹھائیں اور مجھے مسکراتے دیکھ کر دل آویز تبسم ہونٹوں پر بکھیرتے ہوئے کھانا کھانے لگی ۔کھانا کھا کر اس نے پھر وہیں رات گزارنے پر اصرار کیا ، مجبوراََ مجھے ماننا پڑا۔رات کو اس نے اپنی چارپائی میری چارپائی سے جوڑ کر لگا دی۔
”یہ کیا ؟“میں ہلکا سا معترض ہوا ۔
”آج رات آپ سے بہت سی باتیں کرنا ہیں ۔پتا نہیں کب سے میرے کان آپ کی زبان سے آپ کی کہانی سننے کو ترس رہے ہیں ۔“
”تو کیا چارپائی جہاں پہلے پڑی تھی ،وہاں تک میری آواز نہ جاتی ۔“
”راجو !....دماغ خراب نہ کریں ۔جب آپ کو معلوم ہے کہ ہونا وہی ہے جو میں کہہ رہی ہوں پھر اپنی توانائی ضائع کرنے کا فائدہ ؟“
میں کھسیانا ہو کر خاموش ہوگیا ۔
رات گئے تک وہ میری داستانِ حیات سنتی رہی ۔میں نے اپنی زندگی میں آنے والی تینوں لڑکیوں کی کہانی بلا کسی کمی بیشی کے اس کے سامنے دہرا دی تھی ۔وہ خاموشی اور محویت سے سب کچھ سنتی رہی ۔البتہ ماہین کی بے وفائی والے ذکر پر اس نے بے اختیار ہو کر میرا ہاتھ پکڑ کر اپنے ہونٹوں سے لگا لیا تھا ۔رات دیر تک جاگنے کی وجہ سے صبح کی نماز بھی قضا ہو گئی تھی ۔ہم دونوں کی آنکھ نو دس بجے کے قریب کھلی تھی ۔اٹھتے ساتھ وہ ناشتا بنانے چلی گئی ۔میں نے بھی اٹھ کر بیت الخلا کا رخ کیا ۔اور پھر واپس آکر اس کا انتظار کرنے لگا ۔اس کی واپسی قہوے کی کیتلی اور پراٹھوں کے چھابے کے ساتھ ہوئی تھی ۔
”راجو جی !....اپنا دانہ پانی یہاں ختم ہو چکا ہے ۔بہ مشکل دو پراٹھے ہی بنے ہیں، آٹا ختم ہو گیا ہے ۔“
میں نے اسے یاد دلاتے ہوئے کہا ۔”میں تو کل ہی جانے پر تیار تھا ۔“
”کوئی بات نہیں آج چلے جانا ۔“اطمینان بھرے لہجے میں کہتے ہوئے اس نے میرے سامنے پراٹھوں کا چھابہ رکھ دیا ۔
”ویسے روٹی بنانا کب سیکھا ہے ،جبکہ تم نے لڑکا بن کر زندگی گزاری ہے اور لڑکے یہ کام نہیں کرتے ۔“اس کے بنائے ہوئے خوب صورت پراٹھوں کو دیکھتے ہوئے میں پوچھے بنا ہ رہ سکا۔
”آپ کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ مجاہدین کے ٹریننگ کیمپ میں کھانا بنانا بھی سیکھنا پڑتا ہے ۔اس کے علاوہ جب چند دن چھٹی پر جاتی ،امی جان بھی اس بات پر زور دیتیں کہ میں روٹی بنانا سیکھ جاﺅں کیونکہ میں نے ساری زندگی لڑکوں کے بھیس میں تو نہیں رہنا تھا نا ۔“
اچھا ایسا ہے کہ یہاں سے سیدھا انگور اڈے ،تمھارے گھر جائیں گے ۔وہاں سے تمھاری والدہ اور چھوٹے بھائی کو ساتھ لے کر تلہ گنگ کا رخ کریں گے ۔وہاں پہنچنے کے اگلے دن ابو جان اور پھوپھو جان تمھاری امی جان سے باقاعدہ رشتا مانگیں گے ،تمھارے رواج کے مطابق منہ مانگی رقم ادا کریں گے اور اس سے اگلے دو دن میں ہماری شادی ہو جائے گی ۔“
”سچ ۔“اس نے ہاتھ میں تھامی قہوے کی پیالی نیچے رکھتے ہوئے وفور جذبات سے میرا ہاتھ تھام لیا تھا ۔اس کی آنکھوں میں خوشی کے رنگ قوس قزح کی طرح جھلملانے لگے تھے ۔اتنی خوش وہ مجھے زندگی میں پہلی بار نظر آئی تھی ۔اگر درمیان میں کھانے کے برتن نہ ہوتے تو یقینا وہ مجھ سے لپٹ گئی ہوتی ۔
”بالکل سچ ۔لیکن شرط یہ ہے کہ واپسی پر تم میرے ساتھ آنے کی ضد نہیں کرو گی ۔“
”تو یہاں آپ کی حفاظت کو ن کرے گا ،کون آپ کا خیال رکھے گا ؟“اس کے لہجے میں حقیقی پریشانی کی جھلک تھی ۔
اس کے انداز نے میرے دل میں اس کی چاہت کو مزید بڑھاوا دیاتھا ۔کوئی تو تھا جسے میری پروا اور فکر تھی ۔میں نے جواب دینے کے لیے منہ کھولا تو یہ چاہت میرے لہجے میں شامل تھی ۔”پگلی!اس سے پہلے بھی تو میری حفاظت میرا اللہ پاک کرتا تھا اب بھی وہی کرے گا ۔“
”وہ تو ٹھیک ہے ،لیکن اسباب بھی تو اسی رب عظیم نے بنائے ہیں ۔“
”اللہ پاک نے مرد کو محافظ بنایا ہے نہ کہ عورت کو ۔اور تمھاری یہاں موجودی مجھے کتنا پریشان کرتی ہے یہ تمھیں اچھی طرح معلوم ہے ۔اگر تم کسی مقام پر حفاظت کے ساتھ موجود ہو گی تو میں تسلی سے اپنا کام کر سکوں گا ۔“
وہ شرارت سے بولی ۔”ہاں جیسے میرے سر پر رکھے گلاس کو نشانہ ناتے وقت آپ کے ہاتھ کانپ رہے تھے ۔“
”بے شک ۔“میں نے کھلے دل سے اعتراف کیا کہ وہ بات شبے سے بالاتر تھی۔
قہوے کی پیالیاں اور چھابہ دوسری چارپائی پر رکھ کر وہ میری گود میں سر رکھ کر لیٹ گئی ۔
”اچھا میری تعریف کرو نا ۔“اس نے لاڈ بھرے انداز میں کہا ۔اس کے معصومانہ انداز پر مجھے ہنسی آ گئی تھی ۔
”یہ اچھی زبردستی ہے کہ خود منہ سے کہہ کر اپنی تعریف کرائی جائے ۔“
”بتاﺅ نا میری آنکھیں کیسی ہیں ،گال کیسے ہیں ہونٹ اور بال کیسے ہیں ،میں ہنستے ہوئے کیسی لگتی ہوں ؟بتاﺅ نا راجو ....کبھی تو میرے سامنے بھی میرے حسن کی تعریف کرو ۔“
میں اس کے چہرے پر جھکتا ہوا بولا۔”کیا میری آنکھیں تمھیں نہیں بتاتیں کہ تم کیسی ہو ؟“
وہ ترکی بہ ترکی بولی ۔”زبان بھی تو گونگی نہیں ہے نا ؟“
میں جھٹ سے بولا ۔”تمھارے سامنے آکر گونگی ہو جاتی ہے ۔“
”اچھا یہ بتاﺅ کہ میں خوب صورت ہوں یا رومانہ ۔“میں نے چونکہ رومانہ کے حسن کی بہت زیادہ تعریف کی تھی اس لیے عورت کی ازلی سوچ کے مطابق اب تک اس کے دماغ میں وہی سوچ گھسی تھی۔
”رومانہ ۔“میں بہ ظاہر سنجیدگی سے بولا۔
”کیا ۔“اس نے خفگی بھرے انداز میں کہتے ہوئے اپنا سر میری گود سے اٹھا لیا ۔
میں نے اس کے چھوٹے چھوٹے بال مٹھی میں بھرتے ہوئے اسے دوبارہ واپس لٹایا ۔ ”تم اپنا سوال صحیح طریقے سے کرتیں تو جواب بھی منشا کے مطابق ملتا ۔“
”تو کیا کہتی ؟“اس کی آواز میں حقیقی خفگی شامل تھی ۔
”یہ پوچھتیں کہ ساری دنیا میں مجھے کون پیارا ہے ۔یا یہ کہ مجھے رومانہ خوب صورت لگتی ہے یا تم۔“
”بس بس رہنے دیں ۔مجھے پتا چل گیا ہے ۔“اس نے منہ بسورا ۔
”جو بھی قسم کہو میں کھانے کو تیار ہوں ۔“میں نے اس کی سرخ ہوتی ستواں ناک کو نرمی سے مروڑا۔
”اسی بارے کہ آپ کی زندگی میں آنے والی لڑکیوں میں سب سے بد صورت لڑکی میں ہوں، ہیں نا؟“ وہ سچ مچ سخت خفا تھی ۔
”خدا کی قسم ان میں کوئی بھی تم سے زیادہ تو کیا تمھاری جتنی بھی پیاری نہیں تھی ۔“
”کوئی ضرورت نہیں ہے جھوٹی قسمیں کھانے کی سمجھے ۔“اس کا غصہ ختم ہونے میں نہیں آرہا تھا ۔
میں نے خاموش ہوتے ہوئے دیوارسے ٹیک لگالی ۔جب تک اس کا غصہ نہ اترتا اس نے یونھی جلی کٹی سناتے رہنا تھا ۔
”اب خاموش کیوں ہو گئے ہیں۔مجھے منائیں نا ....معذرت کریں مجھے ۔سوری ،بلکہ آئی ایم ویری ویری سوری کہیں ۔“میری خاموشی زیادہ دیر اس سے برداشت نہیں ہو سکی تھی ۔
میں نے فوراََ کہا ۔” معافی چاہتا ہوں میری جان ،میری گڑیا ،میری چندا !....میری توبہ جو آیندہ ایسی بکواس کی ۔“
میرادایاں ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھامتے ہوئے وہ جذباتی لہجے میں بولی ۔” خبردار جو آئندہ مجھ سے زیادہ کسی اور کو پیارا کہا اللہ پاک کی قسم خود کشی کر لوں گی ۔“
”پہلے تو تم کچھ اور کہا کرتی تھیں ۔“
اس نے فلسفیانہ انداز میں کہا ۔”ہاں پہلے وہ بڑی دھمکی تھی اور اب یہ بڑی دھمکی ہے ۔“
”بڑی سمجھ دار ہو گئی ہو ۔“
”پہلے سے تھی ۔اسی لیے تو آپ کو جیون ساتھی چنا ہے ۔“اس نے یوں معصومانہ انداز میں کہا کہ میں بے ساختہ قہقہہ لگا کر ہنس پڑا ۔
”اب چلنے کی تیاری کریں،اپنی لاڈلی کو گود میں لٹا کر آپ کو کچھ زیادہ ہی ہنسی آرہی ہے ۔“
”میری لاڈلی تو تم ہو اوروعدہ کرتا ہوں ہمیشہ رہو گی ۔“
”اس وعدے سے پھر نہ جانا اور میری غلطیوں ،کوہتاہیوں کو معاف کرتے رہنا ۔“
میں نے حیرانی بھرے لہجے میں کہا ۔”بعض اوقات تم اتنی بڑی بڑی باتیں کرنے لگ جاتی ہو جیسے تم میں کوئی بوڑھی روح چھپی ہو۔“
”یہ بڑی بڑی باتیں نہیں ہیں راجو !....یہ اس خوف کا اظہارہے جو ہر لڑکی کے دل میں اپنے محبوب کے چھن جانے کے متعلق چھپا ہوتا ہے ۔“
”تو کیا لڑکوں کو اپنے محبوب کے چھننے کا خوف نہیں ہوتا ؟“
”بالکل نہیں ہوتا ۔“یہ کہہ کر اس نے شرارت بھرا قہقہہ لگایا ۔”اور اس کی زندہ مثال آپ ہیں کہ تین لڑکیوں کے جانے کے بعد چوتھی کو پھانس لیا ہے ۔“
”مار کھاﺅ گی پلوشے ۔“میں نے اس کے دونوں کانوں سے پکڑ کر آہستہ سے کھینچا ۔
”یہ شوق تلہ گنگ جا کر پورا کرنا ۔“میری گود سے اٹھ کر وہ پاﺅں میں سپورٹس شوز ڈالنے لگی ۔ میں بھی اٹھ گیا کہ گیارہ بجنے والے تھے اورمیں چاہتا تھا کہ ہم شام تک میں انگور اڈے پہنچ جائیں ۔فی الحال تو ہمیں یہ اندازہ بھی نہیں تھا کہ ہم انگور اڈے سے کتنا دور تھے ۔
ہم سامان سمیٹ ہی نہیں پائے تھے کہ داخلی دروازے پر زور دار دستک ہوئی ۔
پلوشہ نے چونک کر میری جانب دیکھا ۔”شاید مالک مکان لوٹ آیا ہے ۔“
میں نے اطمینان سے کہا ۔”کوئی بات نہیں ۔اسے معقول معاوضا دے دیں گے ۔“
” آپ کے کہنے سے پہلے ہی میں نے نمک کے ڈبے میں پانچ ہزار روپے رکھ دیے ہیں ۔“
”بہت اچھا کیا ۔“میں تعریفی انداز میں کہا ۔اسی وقت ایک مرتبہ پھر زور دار دستک ہوئی ۔اور پھر دروازہ مسلسل کھٹکھٹایا جانے لگا ۔
”کہیں مالک مکان کے علاوہ یہ کوئی اور نہ ہو ۔“میں نے اندیشہ ظاہر کیا ۔
”ٹھہرو میں دیکھتی ہوں ۔“پلوشہ نے لوہے کی پیٹی پر پڑا ٹرنک کھول کر اس میں سے سرخ رنگ کا زنانہ گھگرا نکالااور اپنی قمیص کے اوپر پہن لیا۔اس لمبے گھگرے نے اسے ٹخنوں تک ڈھانپ لیا تھا ۔ ایک دم اس کے حسن میں اضافہ ہو گیا تھا ۔میں بہ مشکل خود کواس سے لپٹنے سے باز رکھ سکا تھا ۔
میرے احساسات سے بے نیاز اس نے سرخ رنگ کا بڑا سا دوپٹا اوڑھا جس میں اس کی آنکھیں ہی نظر آ رہی تھیں ۔
”کسی لگ رہی ہوں ۔“وہ میری جانب متوجہ ہوئی ۔لیکن میری آنکھوں سے ظاہر ہونے والے تاثرات دیکھتے ہی اس نے شرما کر سر جھکا لیا تھا ۔
”بے شرم پرائی لڑکیوں کو گھورتا ہے ۔“زیر لب مسکراتے ہوئے اس نے سائیلنسر لگا گلاک اٹھایا اور بیرونی دروازے کی طرف چل دی ۔دستک دینے والے اب پشتو میں آوازیں بھی دینے لگے تھے۔
”جی کون ؟“دروازے کے قریب جا کر پلوشہ نے پوچھا ۔دستک کی آواز بند ہوئی اور کسی نے مقامی لہجے میں پوچھا ۔”گھر میں کوئی مرد نہیں ہے کیا ؟“
”نہیں وہ باہر گیا ہوا ہے ۔“
”کیا یہاں آج یا کل کوئی اجنبی دیکھا ہے تم لوگوں نے ؟“
”نہیں ۔“پلوشہ نے نفی میں جواب دیا ۔اس کا سوال سن کر میرے دل کی دھڑکنیں بھی تیز ہو گئی تھیں ۔
ایک لمحے کی خاموشی کے بعد باہر سے آواز آئی ۔”اچھا دروازہ کھولوہم نے گھر کی تلاشی لینی ہے ۔“
”آپ تھوڑی دیر بعد آجائیں ،اس وقت گھر میں کوئی نہیں ہے ۔“پلوشہ نے بناوٹی گھبراہٹ سے کہا ۔
”ہمارے پاس اتنا وقت نہیں ہے ۔ہم بس ایک نظر ڈال کر اپنی تسلی کر نا چاہتے ہیں پھر چلے جائیں گے ۔“
پلوشہ نے میری جانب دیکھا ۔میں نے ہاتھ کے اشارے سے اسے دروازی کھولنے کا کہا اور خود کمرے کا دروازہ بند کر کے کواڑ کی درزسے آنکھ لگا دی ۔بریٹا پستول میں نے ہاتھ میں تھام لیا تھا ذرا سی گڑبڑ پر میں پلوشہ کی مدد کے لیے باہر نکل سکتا تھا ۔
پلوشہ دروزاے کی کنڈی کھول کر ذرا پیچھے کو ہٹ گئی ۔اتنا تو مجھے معلوم تھا کہ وہ مکمل طور پر تیار تھی ۔
کنڈی کھلتے ہی دو درمیانہ قامت کے مرد اندر گھس آئے ۔دونوں نے ہاتھوں میں کلاشن کوفیں تھامی ہوئی تھیں ۔ایک ذرا بھاری تن و توش کا تھا جبکہ دوسرا چھریرا بدن رکھتا تھا ۔موٹے نے پلوشہ کو دیکھتے ہوئے پوچھا ۔
”تمھارا گھر والا کس وقت لوٹے گا ۔“
اس نے گھریلو خاتون کے انداز میں کہا ۔”بس تھوڑی دیر تک آ جائے گا ۔“
اس دوران دوسرے آدمی نے ایک سرسری نظر صحن میں دوڑائی ۔اور وہ بھی پلوشہ کی جانب متوجہ ہو گیا ۔مجھے محسوس ہوا کہ ان دونوں کی دلچسپی تلاشی لینے کے بہ بجائے پلوشہ کی ذات میں تھی ۔
موٹے نے اپنے ساتھی کی طرف دیکھ کر آنکھ سے اشارہ کیا اور وہ سرہلاتا ہوا دروازہ کنڈی کرنے لگا ۔
”یی....یہ آپ دروازہ کیوں کنڈی کر رہے ہیں ؟“پلوشہ نے گھبرائے انداز میں پوچھا ۔
”کچھ نہیں میری جان ،بس تمھارے کپڑوں کی تلاشی لینا ہے کہیں تم نے خطرناک ہتھیار نہ چھپایا ہو۔“موٹے نے شیطانی انداز میں کہا ،جبکہ اس کا ساتھی بے شرمی سے ہنسنے لگا تھا ۔
موٹے نے کلاشن کوف اپنے ساتھی کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا ۔”ذرا یہ پکڑو میں اس بلبل کو کپڑوں کی قید سے نجات دلا دوں ۔اور مخابرہ بھی آف کر دو “
اس نے موٹے سے کلاشن کوف لے کر کندھے سے لٹکالی اور آئی کام سیٹ آف کرتے ہوئے بولا ۔”یہاں یہ شور کرے گی اندر لے جا کر اس کی تلاشی لیتے ہیں ۔“
اور پھر موٹے کے کچھ کہنے سے پہلے پلوشہ نے مزاحیہ انداز میں کہا ۔”یہ صحیح مشورہ دے رہا موٹے ریچھ ۔“ان دونوں نے چونک کر پلوشہ کی طرف دیکھا لیکن ان کے کچھ کرنے سے پہلے پلوشہ نے دوپٹے کی آڑ سے دایاں ہاتھ باہر نکال کر بے دریغ تین گولیاں موٹے کے ساتھی کی چھاتی میں مار دیں کیونکہ اسی کے پاس دونوں ہتھیار تھے ۔گولی کھا کر وہ زمین پر گر کر تڑپنے لگا تھا ۔پلوشہ نے پستول کا رخ موٹے کی جانب موڑ دیا ۔میں بھی دروازہ کھول کر باہر نکل آیا ۔موٹے کا رنگ خوف کی شدت سے زرد پڑ گیا تھا ۔وہ خشک ہوتے ہونوٹوں پر زبان پھیرنے لگا ۔
”تو کیا خیال ہے موٹے !....کمرہ ٹھیک رہے گا یاپریہیں میری تلاشی لو گے ۔“
اس نے ہکلاتے ہوئے کہا ۔”مم ....میں معافی چاہتا ہوں آپ کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے ۔“
”تم کسے تلاش کر رہے تھے ؟“میں نے قریب جا کر پوچھا ۔
”کک....کسی کو بھی نہیں ۔ہم تو بس یونھی ........“لیکن اس کی بات پوری ہونے سے پہلے میرا بازو گھوما ۔”چٹاخ ۔“کی آواز سے صحن گونج اٹھا تھا ۔
”جھوٹ بول کر تم فقط اپنی اذیت بڑھاگے ۔“
”ہم سردار قبیل خان کے قاتلوں کی تلاش میں ہیں اور ہم اکیلے نہیں اس سارے علاقے کو قیل خان کے آدمیوں نے گھیرا ہوا ہے ۔“اس مرتبہ اس نے جھٹ اصل بات اگل دی تھی ۔
”اندر چلو ۔“میں نے اسے کمرے کی طرف جانے کا اشارہ کیا ۔
”اگر مجھے چھوڑ دو تو میں کسی کو نہیں بتاﺅں گا کہ آپ یہاں چھپے ہیں ۔“
”معاہدے بعد میں ہوں گے ،فی الحال اندر چلو ۔“میں نے اسے بریٹا پستول کی نال سے ٹہوکا دیا اور وہ مرے مرے قدموں سے اندر کی جانب بڑھ گیا ۔پلوشہ مرنے والے کی تلاشی لینے لگی ۔
اندر لے جاکر میں نے موٹے کی قمیص اتروا کر اسی قمیص سے اس کے ہاتھ پشت پر باندھے اور اسے چارپائی پر بیٹھنے کا اشارہ کر کے اس کے سامنے بیٹھ گیا ۔اس دوران پلوشہ دونوں کلاشن کوفیں اٹھائے اندر گھس آئی ۔میں اس پر توجہ دیے بغیر اس موٹے جس کانام انعام خان تھا سے سوال و جواب کرنے لگا ۔ تھوڑے بہت تشدد اور پھینٹی سے اس نے کافی مفید باتیں بتائی تھیں ۔تمام باتوں کا لبِ لباب یہ تھا کہ قبیل خان کے جانشین جہاندادنے اس سارے علاقے میں اپنے آدمی پھیلا دیے تھے ۔تمام پارٹیاں دو دو اور تین تین افرادکی تعدادپرمشتمل تھیں ۔ہر پارٹی کے پاس آئی کام سیٹ موجود تھا ۔پرسوں گولی لگنے کے بعد قبیل خان نے جہانداد خان کو بتا دیا تھا اس پر گھات لگانے والوں میں ایک اچھا نشانہ باز موجودہے ،جس کا مطلب یہی تھا کہ گھات لگانے والوں میں ایس ایس یعنی میں شامل تھا ۔جہانداد خود اس کی مدد کے لیے وہاں پہنچا مگر میری فائرنگ سے ہونے والے نقصان کے بعد اسے مورچہ بند ہونا پڑا ۔ ہمارے چلے جانے کے بعد بھی وہ کافی دیر تک گولی کے ڈر سے آڑ میں رہے ۔اور پھر جب انھیں یقین ہو گیا کہ ہم وہاں سے چلے گئے ہیں۔ اس کے بعد ڈرتے ڈرتے آڑ سے باہر آگئے ۔وہاں اپنے ساتھیوں میں انھیں دو آدمی زندہ بھی مل گئے تھے گو وہ شدید زخمی تھے ۔نالے میں پڑی قبیل خان کی لاش دیکھ کر جہانداد غصے سے پاگل ہو گیا تھا ۔وہ قبیل خان کا سوتیلا بھائی تھا ۔اور اس کی موت کے بعد قبیلے کا سردار وہی تھا ۔ان کی تینوں گاڑیوں کے دو دو پہیے میں نے بے کار کر دیے تھے ۔اس نے ایک گاڑی کے دو گاڑیوں کے فالتو ٹائر لے کر ایک گاڑی کو سفر کے قابل بنایا اور اس میں قبیل خان کی لاش اور دو زخمیوں کو لے کر واپس روانہ ہو گیا ۔باقی افراد کو اس نے ہمارا پیچھا کرنے کا حکم دے دیا تھا ۔اگلے دن قبیل خان کے جنازے کے بعد وہ اپنی پوری قوت کے ساتھ میدان میں اتر آیا۔مجھے اور پلوشہ کو اس نے پہاڑی پر چڑھتے دیکھ لیا تھا اور اتنا تو اسے معلوم ہو گیا کہ گھات لگانے والے صرف دو آدمی تھے ۔اس سے پہلے ثقلین خان کے بیٹے کی شادی میں قبیل خان کے جن آدمیوں نے ہمیں دیکھا ہوا تھا انھوں نے پہلے سے اپنے ساتھیوںکے سامنے ہمارا حلیہ بیان کیاہواتھا ۔اس طرح دو جمع دو چارکی طرح ان کے سامنے ہم دونوں بہ طورقبیل خان کے قاتل ظاہر ہو گئے تھے ۔
انعام خان سے ساری تفصیل معلوم کرتے ہی میں پلوشہ کی طرف متوجہ ہوا ۔”اس کا کیا کریں؟“
اس نے گلاک پستول کی نال انعام خان کی طرف کرتے ہوئے دو بار ٹریگر دبایا۔”ٹھک ٹھک۔“کی آواز کے ساتھ وہ چہرے پر خوف و دہشت کے اثرات سجائے پیچھے کی طرف گر گیا ۔دونوں گولیاں اس کی چھاتی میں لگی تھیں ۔
”اس کے علاوہ کیا کر سکتے ہیں ؟“اسے گولی مارکر وہ اطمینان بھرے انداز میں پوچھنے لگی ۔
”اب یہاں سے نکلنا ایک مسئلہ ہو گا ۔ویسے کچھ اندازہ نہیں ہے کہ ہم کس جگہ پر ہیں ۔“
نفی میں سر ہلاتے ہوئے وہ بولی ۔”میرا خیال ہے چھت پر چڑھ کر جائزہ لے لیتے ہیں شاید کچھ اندازہ ہو جائے ۔“
”ٹھیک ہے تم اوپر چڑھ کر جائزہ لو پھر نکلتے ہیں ۔“وہ یوں بھی زنانہ لباس میں تھی کسی کی نظر اس پر پڑ بھی جاتی تب بھی کوئی خاص فرق نہ پڑتا ۔
ایک مرتبہ پھر اپنے چہرے کے گرد دوپٹا لپیٹتے ہوئے وہ باہر نکل گئی ۔گھر کے ایک کونے میں لکڑی سیڑھی لگی ہوئی تھی اسی کے ذریعے وہ چھت پر چڑھنے لگی ۔میں ان کا آئی کام آن کر کے سن گن لینے لگا ۔آئی کام آن کرتے ہی مختلف قسم کی آوازیں آنے لگیں تھیں ۔ایک دوسرے کو اپنی جگہ کے بارے میں بتانے کے ساتھ ساتھ وہ تازہ صورت حال سے بھی آگاہ کر رہے تھے ۔چار پانچ سوافراد اس علاقے میں پھیل کر گھر گھر کی تلاشی لے رہے تھے ۔اس کے ساتھ وہ درختوں کے جھنڈ اور غاروں وغیرہ کی چھان بین بھی باریکی سے کر رہے تھے ۔
”برے پھنسے ذیشان میاں ۔“میں خود کلامی کے انداز میں بڑبڑایا ۔پلوشہ ابھی تک چھت پر تھی ۔میں نے انعام خان کے ساتھی کی لاش بھی گھسیٹ کر اسی کمرے میں پھینکی اور اپنا سامان باہر نکال کر کمرے کے باہر سے وہی ٹوٹا ہوا تالا لٹکا دیا ۔اسی اثناءمیں پلوشہ بھی نیچے اتر آئی ۔
”کیا کچھ پتا چلا ۔“میں بے صبری سے مستفسر ہوا ۔
”تھوڑا بہت اندازہ تو ہوگیا ہے ۔لیکن ارد گرد کافی آدمی گھومتے ہوئے نظر آ رہے ہیں اور کسی بھی لمحے ان دونوں کی طرح کوئی اور بھی یہاں پہنچ سکتا ہے ۔“
”میرا خیال ہے نکل چلتے ہیں ۔تم انھی کپڑوں میں ٹھیک ہو میں بیرٹ ایم 107کو چادر میں لپیٹ کر گٹھڑی کے انداز میں اٹھا لیتا ہوں تم اپنی کلاشن کوف دوپٹے کے نیچے چھپا لینا ۔
”ٹھیک ہے ۔“اس نے کلاشن کوف کندھے سے لٹکا کر اوپر دوپٹا لیتے ہوئے کہا ۔”لیکن سنائپر رائفل کی گٹھڑی مجھے اٹھانا پڑے گی کیونکہ مقامی رواج کے مطابق سامان عورتوں نے سر پر اٹھایا ہوتا ہے ۔غیرت مند مرد کے پاس اس کی مردانگی کی نشانی فقط ہتھیار ہوتا ہے ۔“آخری فقرہ اسنے طنزیہ انداز میں کہا تھا ۔
”اچھا یہ لو ۔“میں چادر میں لپیٹی ہوئی بیرٹ ایم 107اس کی جانب بڑھا دی ۔
رائفل اور تھیلے کو اکھٹا باندھ کر اس نے مہارت سے سر پر رکھا اور چل پڑی ۔میں نے بھی سر باریک چادر سر پر پگڑی کے انداز میں لپیٹ کر اس کے پیچھے قدم بڑھا دیے ۔
باہر نکل کر میں نے بیرونی دروازے کی کنڈی میں بھی تالا پھنسایا اور ہم درختوں کی آڑ لے کر چل پڑے ۔نالے میں اترنے کے بجائے ہم ڈھلان پر نالے کے متوازی سفر کرنے لگے ۔ہماری کوشش تھی کے درختوں سے باہر نہ نکلیں ۔دشمن سے اچانک سامنا ہونے کے تدارک کے لیے میں نے سائیلنسر لگا گلاک اپنے ہاتھ ہی میں رکھا تھا ۔بریٹا بھی میرے پاس موجود تھا لیکن اس پر سائیلنسر لگا ہوا نہیں تھا ۔ البتہ پلوشہ کے پاس قبیل خان سے چھینا ہوا جو قیمتی پستول موجود تھا اس پر بھی سائیلنسر تو لگا ہوا تھا مگر اس کی گولیاں بہت کم تھیں ۔
پلوشہ مجھ سے دو تین قدم آگے چل رہی تھی ۔یونھی آگے پیچھے چلتے ہم گھنٹا بھر چلتے رہے ۔اس دوران میں نے آئی کام مسلسل آن رکھا تھا ۔اس کے شور کے تدارک کے لیے میں نے ایئر فون کی لیڈ لگا کر کان میں اڑسی ہوئی تھی ۔پچھلے دو تین منٹ سے مسلسل انعام خان اور ثمین خان کو پکارا جا رہا تھا ۔ثمین خان یقینا اس موٹے انعام کے ساتھی کا نام تھا ۔
ایک جگہ وہ جھاڑیوں کے جھنڈ سے باہر نکلی اور ایک دم ٹھٹک کر رک گئی ۔میں اس سے کچھ پوچھنے ہی لگا تھا کہ اپنا دوپٹا جھاڑی کے کانٹوں سے چھڑانے کے بہانے وہ پیچھے مڑی اور ہلکی سرگوشی میں بولی ۔”دو آدمی ہیں ۔“یہ کہہ کر وہ دوبارہ آگے بڑھ گئی ۔میں وہیں جھاڑیوں میں دبک گیا ۔آئی کام سیٹ آف کر کے میں نے جیب میں ڈالا اور گلاک نائینٹین کو تیاری حالت میں پکڑ لیا ۔اسی وقت میرے کانوں میں ایک کرخت آواز پڑی ۔”اوئے لڑکی !....کہاں جا رہی ہو ؟“
جواباََ پلوشے نے لوچ دار آواز میں کہا ۔”ڈیرازل جا رہی ہوں ۔“اب مجھے یہ معلوم نہیں تھا کہ ڈیرازل واقعی قریب میں کوئی آبادی موجود تھی یا اس نے یونھی فرضی نام لیا تھا ۔
”رستے میں تم نے دو آدمی تو نہیں دیکھے ۔“اسی کرخت آواز والے نے دوبارہ پوچھا تھا ۔
”نہیں ۔“کہہ کر آگے چل پڑی ۔میں نے احتیاط سے جھاڑی کی اوٹ سے جھانکا ۔وہ اطمینان سے آگے بڑھتی جارہی تھی جبکہ دو مسلح آدمی اس سے چند قدم کے فاصلے پر کھڑے اسے گھور رہے تھے ۔پلوشہ کے جھاڑیوں میں روپوش ہوتے ہی ایک مرتبہ پھر وہ آگے بڑھے اور دائیں بائیں نگاہیں دوڑاتے ہوئے مجھ سے بیس پچیس قدم کے فاصلے پرسے گزرتے چلے گئے ۔ان کے تھوڑی دور جاتے ہی میں اٹھ کر احتیاط سے آگے بڑھ گیا ۔میر ی نگاہیں اب بھی جانے والوں کی طرف نگران تھیں ۔جھکے جھکے انداز میں میں نے پلوشہ کے جانے کے رستے قدم بڑھائے ۔اسی وقت اچانک جھاڑیوں کی اوٹ سے ایک کلاشن کوف بردار آدمی برآمد ہوا ۔ہم دونوں اچانک آمنے سامنے ہو گئے تھے ۔اور پھر میں اس سے زیادہ پھرتیلا ثابت ہوا ۔اس کے کچھ کہنے یا ہتھیار سیدھا کرنے سے پہلے میرے ہاتھ میں موجود گلاک نے چند گرام سیسہ اگل دیا تھا ۔ماتھے میں پیوست ہونے والی گولی چیخنے کا موقع نہیں دیا کرتی ۔وہ انھی جھاڑیوں میں الٹا ہو کر گر گیا ۔وہ شاید رفع حاجت وغیرہ کے لیے اپنے ساتھیوں سے پیچھے رہ گیا تھا ۔اسی وقت تھوڑے فاصلے سے وہی کرخت آواز سنائی دی ۔
”کرم خان !....کہاں مر گئے ہو ۔“مگر کرم خان غریب ایسی جگہ پہنچ گیا تھا جہاں وہ آواز سن بھی لیتا تو جواب نہیں دے سکتا تھا ۔
میں چلنے کے بجائے بھاگتا ہوا پلوشہ کے پیچھے روانہ ہوا۔لیکن دو تین قدم لیتے ہی مجھے احساس ہوا کہ کرم خان کی لاش ملتے ہی اس کے ساتھیوں نے اس علاقے کو گھیرے میں لے لینا تھا ۔اس کے بجائے اگر میں ان دونوں کو بھی ہلاک کر دیتا تو لازماََ فی الفور ہونے والے تعاقب سے جان چھڑا سکتا تھا ۔ کیونکہ جب تک ان تینوں کی لاشیں دریافت نہ ہوتیں کسی کو ہمارا خیا ل نہیں آ سکتا تھا ۔
یہ سوچتے ہی میں فوراََ ان دونوں کے جانے کی سمت دوڑ پڑا ۔وہ سو دوسو گز سے دور نہیں گئے تھے ۔جھکے جھکے انداز میں پنجوں کے بل دوڑتا ہوا میں اس طرف بڑھا ۔
ان میں سے ایک نے پھر مقتول کرم خان کو پکارا اور مجھے ان کی جگہ کے بارے اندازہ لگانے میں آسانی ہو گئی ۔درختوں اور جھاڑیوں جھنڈ مجھے چھپ کر ان کے قریب جانے میں مدد دے رہے تھے ۔ وہ اپنے ساتھی کے انتظار میں دو ہموار پتھروں پر بیٹھ گئے تھے ۔البتہ ان کا رخ پیچھے کی طرف ہی تھا ۔ اپنے ہتھیار انھوں نے گود میں رکھ لیے تھے ۔
میں دم جھاڑیوں کی اوٹ سے باہر نکلا ۔ان میں سے ایک اس وقت بوتل سے منہ لگا کر پانی پی رہا تھا ۔دوسرے کو بھی حیرت کا جھٹکا لگا مگر اس کے سنبھلنے سے پہلے گلاک کی گولی اپنا کام کر چکی تھی ۔
”ٹھک ۔“کی آواز اور اپنے ساتھی کے نیچے گر کر ایڑیاں رگڑنے کی آواز سن کر دوسرے نے بوتل ہونٹوں سے ہٹا ئی ۔اور اس سے پہلے کہ صورت حال اسے واضح ہوتی گلاک کی گولی اسے تمام دنیاوی پریشانیوں سے دور لے گئی ۔
ان کے قریب جا کر میں نے باری باری دونوں کو ٹانگوں سے پکڑ کر جھاڑیوں میں پھینکا تاکہ انھیں آسانی سے تلاش نہ کیا جا سکے اور واپس مڑ کر دوڑ پڑا ۔کرم خان نامی آدمی قدرتی طور پر جھاڑیوں میں گرا تھا ۔
پلوشہ کے جانے کی سمت مجھے معلوم تھی ۔میں اسی طرف آگے بڑھتا گیا ۔مجھے زیادہ دور نہیں جانا پڑا تھا ۔تھوڑی دور ہی مجھے وہ تشویش ناک حالت میں کھڑی نظر آ گئی ۔بڑے بڑے خطروں میں میں نے اس کے چہرے پر پریشانی نہیں دیکھ تھی لیکن اس وقت وہ کافی پریشان نظر آ رہی تھی ۔مجھ پر نظر پڑتے ہی اس کی پریشانی ،برہمی میں تبدیل ہو گئی تھی ۔
”کہاں رہ گئے تھے آپ ۔معلوم بھی ہے کتنی پریشانی ہو رہی تھی مجھے ۔“
”مجبوری تھی یار !....ان خبیثوں سے ٹاکرا ہو گیا تھا ........“میں اس کے پوچھے بغیر اسے تفصیل بتلانے لگا ۔
ساری بات سنتے ہی وہ بولی ۔”پھر اس طرف چلو ۔“سمت تبدیل کرتے ہوئے وہ اوپر چڑھنے لگی ۔اس کے پیچھے قدم بڑھاتے ہوئے میں نے آئی کام آن کر کے اس کی لیڈ کان میں لگا لی تھی۔
ایک آدمی اپنی جگہ کے بارے بتا رہا تھا کہ وہ اس وقت کہاں ہے ۔ اس کے چپ ہوتے ہی ایک دوسری آواز آئی جو پہلے والوں کو حکم دے رہی تھی کہ۔” انعام خان اور ثمین خان اسی علاقے میں غائب ہوئے ہیں اور اب مخابرے پر ان کی طرف سے کوئی جواب نہیں آرہا۔انھیں ڈھونڈو کہ کہاں مر کھپ گئے ہیں ۔“
”ٹھیک ہے کمانڈر ۔“پہلی والی آواز میں ادب کا عنصر نمایاں تھا ۔
اس کے بعد کمانڈر کسی اسفندخان کو پکارنے لگا مگر اسفند کی طرف سے کوئی جواب نہ آیا ۔دو تین بار۔” اسفند ،اسفند۔“کہہ کر اس نے ۔شیر دل اور کرم خان کا نام پکارنا شروع کر دیا تھا ۔کرم خان کا نام آتے ہی میری سمجھ میں آگیا تھا کہ وہ تھوڑی دیر پہلے میرے ہاتھوں انجام کو پہنچنے والی پارٹی کو پکار رہا ہے ۔
تھوڑی دیر انھیں پکارنے کے بعد وہ خاموش ہو گیا تھا ۔
پلوشہ کے قدموں کی رفتار بہت تیز ہو گئی تھی ۔وہ کسی لومڑی کی طرح پہاڑکی بلندی سر کرتی تھی۔ بعض اوقات تو مجھے اس پر رشک آنے لگتا ۔خود کو بہت زیادہ سخت جان سمجھنے کے باوجود میں ان پہاڑوں میں بہ مشکل اس کے ساتھ قدم ملا پاتا تھا ۔
پہاڑ کی بلندی پر پہنچتے ہی وہ دوسری سمت نالے میں اتر گئی ۔دوسری طرف کے نالے میں درخت نہ ہونے کے برابر تھے ۔اس لیے وہ نالے میں چلنے کے بجائے اگلی چڑھائی ،چڑھنے لگی ۔
مشقت کی وجہ سے ہمار اپسینہ دھاروں کی صورت میں بہہ رہا تھا ۔اگلی چڑھائی کے درمیان میں کافی گھنے درخت موجود تھے ۔ہم انھی درختوں میں آگے بڑھنے لگے ۔ تھوڑا سا آگے بڑھتے ہی مجھے نالے تین آدمی اسی سمت حرکت نظر آئے جس طرف ہم روانہ تھے ۔میں نے پلوشے کو اس طرف متوجہ کیا ۔
”ہونہہ ۔“کہہ کر وہ رک گئی تھی ۔
جاری ہے

No comments: