Ads Top

حیا از فاخرہ وحید قسط نمبر 20 Haya By Fakhira Waheed Episode No

 حیا
  از 
فاخرہ وحید


 حیا  از فاخرہ وحید
20 قسط نمبر  
Haya By Fakhira Waheed 
Episode No 20
حیا
از
فاخرہ وحید

(قسط 20)
رات آہستہ آہستہ گہری ہو رہی تھی. مٹی کے اس بڑے صحن والے گھر میں پچھلی شام سے عجب گہما گہمی تھی. ہر کوئی منفرد طور پر خود کو سجا رہا تھا. اور اب آہستہ آہستہ لوگ کم ہوتے جا رہے تھے. وہ باہر نہیں آرہے تھے اندر ہی کہیں غائب ہوتے جا رہے تھے. مگر کہاں؟
باہر دروازے سے اندر کو مضبوط اجسام کے کھسرے کسی کا انتظار کر رہے تھے. وہ الرٹ کھڑے تھے. انتظار ختم ہوا. بتیاں بجھ گئیں. اور اندھیرے میں بہت سے قدموں کی آہٹیں سنائی دینے لگی.
دور کھڑی پہلی گاڑی کا منظر اب بھی کم و بیشتر وہی تھا. پیچھے سمایا, عنایا اور تراب. آگے ڈرائیونگ سیٹ پر زویان اور ساتھ فکر مند سا بیٹھا علی. ان کی نظریں سامنے اسکرین پر تھی. اسی گاڑی سے کچھ فاصلے پر کھڑی دوسری گاڑی اب خالی تھی. بتیاں بجھنے کا ہی تو انتظار تھا. وہ بجھ چکی تھیں. گاڑی میں بیٹھے لوگ اب نائٹ گوگلز پہنے اندھیرے میں ہوتی سر گرمی دیکھنے کی کوشش کر رہے تھے. فاصلہ زیادہ تھا, بس کچھ وجود ہلتے نظر آرہے تھے.
بھاری قدم اٹھاتا وہ اس بڑے صحن والے گھر کی طرف بڑھ رہا تھا. دروازے کے پاس پہنچا تو کئی لوگوں کو اندر جاتے دیکھا. وہ دروازے سے اندر قدم رکھتے اور سیکیورٹی کے نام پر کھڑے مضبوط اجسام کے مالک کھسروں کے کان میں کچھ کہتے اور آگے بڑھ جاتے.
وہ ٹھٹھکا. اندر جانے کے لیے کوئی کوڈ؟ اس نے دماغ پر زور دیا کچھ تو بتایا تھا شیری نے. اس نے ناگواری سے آنکھیں بند کر کے کھولیں. وہاں اب وہ اکیلا رہ گیا تھا.

" تجھے چٹھی لکھیں تب آئے گی؟ " سیکیورٹی والے مرد نما عورتوں میں سے ایک نے کہا تو وہ چونکا. دل چاہا یہیں پکڑکر گاڑ دے. مگر تھوک کے ساتھ غصہ بھی اندر نگلا. دونوں ہاتھوں کو موڑا اور تالی بجاتے اندر قدم رکھا.
" ہائے ہائے! چٹھی تو یوں کہہ رہا ہے جیسے تیری معشوق ہوں میں. " مصنوعی نروٹھے سے انداز میں کہتا وہ ان کی طرف گیا. ساتھ کھڑے دوسرے کھسرے مذاق اڑانے کے سے انداز میں ہنسے. آواز علی اور دوسرے لوگوں تک پہنچی. دھڑکتے دلوں سے وہ مسکرائے. واہ! حمزہ کا نیا انداز.
" اب باتیں گھڑتی رہے گی یا اندر بھی جائے گی؟" پہلے والی نے منہ بناتے کہا اور وہ آگے بڑھنے کے لیے وہاں سے ہلا اور یہ روک دیا گیا. لمبا مردانہ ہاتھ دیوار کی طرح سامنے حائل تھا. " پہلے بزم تو سجا جا, شعر سنا " اس نے ایڑھیاں اٹھا کر کہا گویا ابئ گھوم دے گی.

" اوہ شعر! " اس نے انگوٹھے کا ناخن آنکھ کے اوپر رگڑا. پریشانی اور ہر بڑی میں غلطی ہو گئی تھی. اس نے کیسے نہیں سوچا کہ اتنا بڑا گینگ اتنی آسانی سے کسی کو بھی بھلا کیسے اپنے گھر گھسنے دے گا. اس نے دماغ پر زور دیا. شیری نے بتایا تھا کچھ. ہاں مگر صرف اتنا کہ شعر سنا کر اندر جانا ہوتا ہے. پر کون سا شعر؟ ادھر ادھر کی باتوں میں وہ بتانا بھول گیا.
" اب دوبارہ چٹھی لکھوں؟ " اس نیلے بڑے کرتے والی آدمی نما عورت اب اسے گھور رہی تھی. جسم میں خون کی گردش بڑھ گئی. دل دھک دھک کر نے لگا. وہ پکڑا جانا افورڈ نہیں کر سکتا تھا. اسے شیری اور شیروان تک پہنچنا تھا. گلے میں گلٹی ابھر کر معدوم ہوئی. گاڑی میں بیٹھے لوگوں کی سانس اٹک گئی. خدایا! کھیل شروع ہونے سے پہلے ختم. نہیں نہیں!
جب وہ کافی دیر چپ رہا تو آس پاس کھڑے باقی لوگ بھی اسے دیکھنے لگے. گاڑی میں بیٹھے علی نے سر اٹھا کر پیچھے دیکھا شاید کسی کو پتا ہو مگر وہاں خاموشی تھی.
" چلو اب دروازے بند بھی کر دو, دو بج گئے ہیں, بی بی حاجن سب کو بلا رہی ہیں" ابھی یہ ہی بات چل رہی تھی کہ پیچھے سے آواز آئی. سیکیورٹی والے زنانے مڑے. حمزہ کو سوچنے کا وقت مل گیا. کیسے جان چھڑوائے.
" یا اللہ اب کہ بچا لے " دھڑکتے دل سے خدا کو پکارا.
" شعر نہیں سنا رہی یہ." نیلے کرتے والے نے ہاتھ سے اشارہ کیا. پیچھے بر آمدے میں کھڑے کھسرے نے بغور اسے دیکھا.
" آنے دے, بندہ بھول بھی جاتا ہے کبھی." وہ آگے آئی. حمزہ کی نظروں سے نظریں ملی. گاڑی میں لگی اسکرین پر چہرہ ابھرا اور سب اپنی نشستوں پر قریباً ڈھے گئے. وہ بچ گیا. لمبے تیل سے چپڑے بال, آنکھوں میں کالے ڈورے لیے یہ دانی تھا. حمزہ کے تنے اعصاب ڈھیلے پڑے. مگر کچھ یاد آیا تو آنکھوں میں ڈھیروں الجھن در آئی. دانی تو صحیح سلامت یہیں کھڑا تھا. پھر وہ میسج کس نے بھیجا تھا؟ وہ الجھ گیا. اور گاڑی میں بھی یک دم سنسنی سی پھیلی. پہیلی تھی کہ سلجھ ہی نہیں رہی تھی.
پر رر.. سیکیورٹی والے زنانے کچھ کہنا چاہتے تھے مگر دانی کے گھورنے پر خاموش ہو گئے.
چل تو میرے ساتھ آجا! وہ ہاتھ لہراتا کھسروں کی طرح آگے بڑھا اور حمزہ کے کندھے پر ڈالا. اس کے لیے اس کا آنا غنیمت تھا. وہ چپ چاپ پریشان سا اس کے ساتھ چل دیا. جب دونوں بر آمدہ عبور کر کے کمرے میں آ گئے تو حمزہ سیدھا ہوا. کہنے کو منہ کھولا. مگر دانے نے ہونٹون پر انگلی رکئ اور اس کے کان میں سر گوشی کی.
" کچھ مت بولنا. یہاں ہر طرف مائیکرو فون ہیں. "
"بھاڑ میں جائیں مائیکرو فون" وہ دبا دبا سا غرایا.
" شیری اور شیروان کہاں ہیں؟ " اس سے پہلے کہ وہ جواب دیتا اندر کمرے سے کمو باہر آئی. " باقیوں کو بلانے آئی اور خود ادھر رہ گئی تو ہاں؟ " گلے میں پڑے دوپٹے کو انگلیوں میں گھماتے وہ خفا لگ رہی تھی.

" ہاں ہاں آرہے ہیں. " دانی عجلت دکھاتا حمزہ کو دیکھے بغیر کمو کے پیچھے بڑھا اور حمزہ جبڑے بھنچے ان کے ساتھ چل دیا. شیری اور شیروان کے لیے اس کا تفکر اور بڑھ گیا تھا.
*********************************************
" کیسی جا رہی ہے تمہاری تیاری؟ " سامنے اسکرین پر سفید شرٹ اور گرے ڈریس پینٹ میں وہ فارمل لگ رہے تھے. وہ ہاسٹل کے کمرے میں بیڈ پر لیٹی ڈاکٹر ہارون کی دی گئی کتابوں میں سے ایک کتاب پڑھ رہی تھی. جب ان کی وڈیو کال آئی.
" اچھی جا رہی ہے, بس تھوڑی خوفزدہ ہوں." ہاتھ جھولی میں رکھے نظریں جھکائے وہ کہہ رہی تھی. ڈاکٹر ہارون نے, جو اب انگلینڈ تھے, ہاتھ میں پکڑے کاغذ پرے رکھے اور سکون سے صوفے پر ٹیک لگاتے اس کی طرف مکمل طور پر متوجہ ہوئے.

" بیٹا علاج کے لیے بیماری کا پتا ہونا ضروری ہے. تو پہلے تو یہ بتائیں کہ کس چیز کا خوف ہے؟" اس نے دوپٹے سے نکل کر چہرے پر آتے بال کان کے پیچھے اڑیسے. اور پریشانی بتانا شروع کی.
" کالج میں جب کوئی پریزنٹیشن ہوتی تھی اور مجھے کلاس کے سامنے بولنا پڑتا تھا تو میری آواز کپکپانے لگ جاتی تھی. ہاتھ کانپنے لگ جاتے تھے, مجھے لگتا تھا میں گر جاؤں گی. " اس نے رک کر ڈاکٹر ہارون کو دیکھا جو بغور اسے ہی سن رہے تھے. انہیں صرف بولنا نہیں سننا بھی آتا تھا. بولنے کا پہلا اصول ہے کہ سنا جائے اور جو سن نہیں سکتے وہ کبھی بول بھی نہیں پاتے!
"اب مجھے ڈر ہے کہ میں بول پاؤں گی یا نہیں, وہ تو پھر بھی میری کلاس فیلوز تھیں, یہ تو اجنبی اور وہ بھی اتنی لڑکیاں, اگر میری آواز کانپی تو؟ میری ٹانگیں کپکپانے لگیں تو؟ وہ مجھ پر ہنسیں گے. اور آپکا سارا سیشن بے کار چلا جائے گا." انگلیوں کو آپس میں الجھاتے وہ اپنے خوف بتا رہی تھی.
" اوہ! " ڈاکٹر ہارون نے سمجھنے کے سے انداز میں سر ہلایا اور ہلکا تبسم ہونٹوں پر پھیلا. " تو مسئلہ یہ ہے کہ لوگ کیا کہیں گے." مسکراہٹ گہری ہو گئی. اور وہ پریشان سی مسکرائی اور سر اثبات میں ہلایا. اب وہ اپنا ہر مسئلہ آرام سے ڈاکٹر ہارون کے ساتھ شئیر کر لیتی تھی اسے پتا تھا یہاں سے جب وہ ہٹے گی تو ہلکا محسوس کر رہی ہو گی. ابھی بھی اس نے صاف گوئی سے کام لیا. ڈاکٹر ہارون نے آئی پیڈ کو زرا سیدھا کیا. اور سنجیدگی سے بولنے لگے.
" بیٹا! ڈر یا تو فزیکل ہوتا ہے یا سائیکولوجیکل. اب اگر آپ نے کچھ غلط بولا مثال کے طور پر تو کم از کم وہ آپ کو انڈے یا ٹماٹر نہیں ماریں گے. تو فزیکل ڈر کو نکال دیں."
" اب رہی بات سائیکولوجیکل ڈر کی کہ لوگ ہنسیں گے, میں بول نہیں سکوں گی وغیرہ, تو حیا یہ ڈر پلیننگ سے نہیں جاتے, نہ پریکٹس سے جاتے ہیں. " کہہ کر رکے پھر کنپٹی پر انگلی رکھی.

"سمجھنے سے جاتے ہیں. " دو بار کنپٹی پر انگلی ماری اور آگے بولے. " یہ اسکو سمجھا لو ہر خوف دور ہو جائے گا. " وہ کنفیوز سی ان کو دیکھ رہی تھی.
" مطلب اگر میں دماغ سے کہوں کہ یہ نہ ڈرے تو یہ نہیں ڈرے گا؟ " ساتھ ہی ڈاکٹر ہارون نے نفی میں گردن ہلائی. " بچپن سے ہمارا مائینڈ ڈفالٹ پر ہوتا ہے. ڈفالٹ سمجھتی ہو؟ جس طرح موبائیل کی ڈفالٹ تھیم ہوتی ہے, ڈفالٹ رنگ ٹون ہوتی ہے یعنی بلٹ ان. "
پھر اسے اپنا من پسند بنانے کے لیے ہم اسے ڈفالٹ سے ہٹا کر باہر سے تھیمز اور ایپس انسٹال کرتے ہیں. اسی طرح دماغ کی بھی ڈفالٹ سیٹنگ ہے. اسی طرح کچھ چیزیں ہمارے اندر بھی بلٹ ان ہیں. جیسے آپ ہر کام سیدھے ہاتھ سے کرتے ہیں, دماغ کی ڈفالٹ سیٹنگ ہے, الٹے سے کرنا چاہیں نہیں کر پائیں گے. زیادہ تر لوگ اپنا والٹ دائیں جیب میں رکھتے ہیں. بائیں میں رکھیں گے تو ڈھونڈنے میں دقت ہو گی. ڈفالٹ سیٹنگ. کچھ لوگ رات کو لیٹ نہیں جاگ سکتے اور کچھ صبح جلدی نہیں اٹھ سکتے, ڈفالٹ سیٹنگ."
" اور پھر اس میں مختلف خوف آ جاتے ہیں جیسے مکڑیوں کے کاٹ دینے کا خوف, مر جانے کا خوف, ڈوب جانے کا خوف وغیرہ." وہ تمہید باندھ چکے تھے.
"اور دنیا کے دس بڑے فیئرز میں سے پتا ہے سب سے پہلے نمبر پر کون سا ڈر ہے؟ " وہ رکے اور اس نے نفی میں سر ہلایا. " فیئر آف پبلک سپیکنگ, لوگوں کے سامنے بولنے کا ڈر. کیوں کہ دماغ نے کبھی ایسی سچویشن نہیں دیکھی تو وہ اس کو خطرہ بنا کر دکھانے لگ جاتا ہے, ایسے ہارمونز سیکریٹ ہونا شروع ہو جاتے ہیں جس سے انزائٹی بڑھتی ہے, خون کی گردش بڑھ جاتی ہے, پسینہ آنے لگ جاتا ہے, کدماغ کے لیے اتنا لوگوں کو دیکھنا اور ان کے سامنے بولنا ان یوزل ہے. "
" چلو میں تمہیں ایک لڑکے کی کہانی سناتا ہوں. " وہ فرصت سے اسے سمجھا رہے تھے.
" میں ساتویں کلاس میں تھا, جب میرے ابا کا تبادلہ لاہور سے اسلام آباد ہوا, نئے اسکول میں داخلہ لیا. پہلے دن جب میں اسکول گیا تو ٹیچر کے آنے سے پہلے میں اپنی رف کاپی پر اسکیچ بنا رہا تھا. ٹیچر آئی اور کہا... وہ جیسے خود کو وہیں تصور کرنے لگے.
درمیانے سے سائز کا کمرہ, سامنے ٹیچر کا ڈیسک اور کرسی اور پھر ساتھ بیٹحے قریباً چالیس اسٹوڈنٹ.
"ہارون سب کو اپنا انٹروڈکشن کرواؤ." ٹیچر نے عینک کے پیچھے سے اسے دیکھ کر کہا. اپنا نام سن کر لڑکا کاپی بند کرتا سستی سے کھڑا ہوا. ایک نظر کلاس کو دیکھا اور نظریں جھکا لیں. یوں لگا حلق میں کچھ اٹک گیا ہے. آواز بند ہو گئی. ماتھے پر پسینہ آنے لگا. اسے اپنے آس پاس بچوں کے ہنسنے کی آوازیں آنے لگیں. اور وہ رو دیا."
اس اسکول کی کلاس سے نکل کر دوبارہ انہوں نے خود کو حیا کے سامنے پایا. وہ دونوں ہاتھو کو ملائے ان پر ٹھوڑی رکھے بغور سن رہی تھی.
" وہ ڈر لے کر لڑکا بڑا ہوا. وہ ڈر اس کی روح کا حصہ بن گیا. میٹرک کیا, کالج پہنچ گیا اور ڈر پلتا گیا. دوسروں کو یوں اسٹیج پر کھڑے بولتا دیکھتا تو بہت ہرٹ ہوتا."
گ
گوگل پر ڈھیروں طریقے ڈھونڈے , ' ہاؤ ٹو اوور کم دی فئیر آف پبلک سپیکنگ؟"

" اور پھر اسے ایک فارمولہ مل گیا. فارمولہ ٹو گیٹ اینی تھنگ ان دی ورلڈ. " ہاتھ اٹھا کر پانچ انگلیاں دکھائیں.
" بیٹا پانچ سیکنڈ میں آپ دنیا کی کوئی بھی چیز حاصل کر سکتے ہیں. اور پانچ سیکنڈ میں آپ اپنے دماغ کو ڈفالٹ سے ہٹا سکتے ہیں. "

"صبح اٹھ نہیں پاتے, الارم لگائیں, اور جب الارم بجے تو لیٹے سوچتے مت رہیں کہ اٹھوں یا نہ اٹھوں. پانچ سیکنڈ اگر گزر گئے تو آپ نہیں اٹھ سکتے. "
" ایسے ہی کوئی نظر آیا, بات کرنےکو دل چاہا. پانچ سیکنڈ میں اگر آپ نے اس کی طرف قدم نہیں بڑھایا تو آپ اس سے بات نہیں کر سکیں گے. جو کرنا ہے زندگی میں پانچ سیکنڈ میں اس کا آغاز کر دیں ورنہ کبھی نہیں کر سکیں گے. " وہ چپ ہوئے.
" حیا ہمیں ڈر چیزوں سے نہیں ان کے نتائج سے لگتا ہے.جیسے کہ بچے پیپر میں اگر چیٹنگ کریں تو ڈر چیٹنگ کرنے کا نہیں بلکہ پکڑے جانے کا ہوتا ہے. "
" تو زندگی میں جب کبھی کوئی پریشانی آئے یا کچھ بھی کرنا چاہو تو بس سوچ لینا کہ اس کا نتیجہ میکسیمم کیا ہو گا؟ جب نتیجہ پتا چل جائے گا تو ڈر نہیں رہے گا. "
" اسٹیج پر جا کر غلط بولو گی تو بتاؤ میکسیمم کیا ہو گا؟ "
" لوگ ہنسیں گے. "
" تم بھی ہنس دینا. جو خود پر ہنس لیتے ہیں ان کو دوسروں کا ہنسنا پھر برا نہیں لگتا. "
"حیا! ہمیں اپنی ہی زندگی میں لوگوں کا اپروول کیوں چاہئیے ہوتا ہے؟ وہ کہیں گے کہ تم اچھے لگ رہے ہو تو ہم مانیں گے ورنہ ایک نے کہہ دیا یہ کیا پہن آئی ہو اور یہ ہم ڈاؤٹ فل ہوئے. " انہوں نے مایوسی سے کہا.
" پتا نہیں ہمیں یہ اپروول کیوں چاہئے. ورنہ تیار ہو کر شیشے میں دیکھو اگر اپنا آپ بھلا لگ رہا ہے تو یو شوڈ ہیو بلیو ان یور سیلف. "
" اور بیٹا لوگ تو ہر صورت جج کرتے ہیں. " وہ چپ ہو گئے. چند لمحے خاموشی رہی. جاننا چاہو گی لوگ کتنا غلط جج کرتے ہیں؟ " اس نے اثبات میں سر ہلایا. انہوں ایک گہرا سانس کھینچا, پیچھے صوفے کی پشت سے ٹیک لگائی.
" فرانس میں ایک چیلنج لوگوں کے سامنے رکھا گیا کہ لک لائک چارلی چپلن (مشہور سائلنٹ کامیڈین). چارلی چپلن کی بڑی بڑی تصویریں آوایزا کر دی گئیں. لوگ میک اپ اور مختلف طریقے اپناتے خود کو چارلی چپلن کا گیٹ اپ لیے وہاں آئے. چارلی چپلن نے جب یہ دیکھا تو اس نے سوچا کیوں نا وہ بھی اس لک آ لائک چارلی چپلن چیلنج میں حصہ لے. اور وہ بھی وہاں پہنچ گیا. جب نتیجہ آیا تو اصل چارلی چپلن کو تیسری پوزیشن دی گئی تھی. تب چارلی چپلن نے کہا کہ مجِ یہ تو پتا تھا کہ لوگ جج کرتے ہیں پر آج پتا چلا کہ وہ اتنا غلط جج کرتے ہیں."
" تو حیا! لوگ ہمیشہ جج کریں گے پر اتنا ہی غلط جتنا اصل چارلی چپلن کو کیا گیا. " وہ بہتر محسوس کر رہی تھی. چہرے کا تناؤ کم ہو گیا تھا.
" اپنے سیشن کے موضوع پر اتنا پڑھ کر جاؤ کہ جب بولو تو خود بخود بولتی چلی جاؤ. نالج کو اپنا یو ایس پی (یونیک سیلنگ پوائنٹ, جو آپکو یا آپکے پراڈکٹ کو لوگوں میں منفرد دکھائے) بنا لو. "
" یو ایس پی." وہ زیر لب بڑبڑائی.
"اور ہاں آخری بات. ٹانگ پر ٹانگ دھرتے وہ مسکرائے."
" زبان سے بولو گی, لوگ کانوں سے سنیں گے. دل سے بولو گی لوگ دل سے سنیں گے." وہ چپ ہو گئے. ڈر کی مریضہ نے خود کو شفا یاب محسوس کیا.
*********************************************
یہ ایک نہایت کشادہ ہال تھا. یہ بڑے بڑے ستون جو کسی محل کی مشابہت دے رہے تھے. دیواروں پر نیلے جالی دار پردے, جن کو دیکھتے ہی ان کی قیمت کا اندازہ ہو رہا تھا. ان پردوں کے پیچھے چھوٹی ایل ای ڈی لائٹس جگمگا رہی تھیں. نظر آگے بڑھاؤ تو زمین سے پانچ, چھ انچ اونچی جگہ تھی, شاید اسٹیج تھا. اس پر قد آور کرسیاں اور کرسیوں پر برا جمان شاہی کپڑوں سے کہ ملبوسات زیب تن کیے مرد نما عورتیں. سامنے ترتیب سے لگی آخری دیوار تک کرسیاں. اسی طرح آس پاس ایسے اور بہت سے زنانے کام کرتے ادھر ادھر پھر رہے تھے. ہر طرف عید کا سا سماں تھا, عجب افرا تفری تھی. کسی نے کب سوچا تھا اس مٹی کہ کچے گھر کے نیچے ایک جہان آباد ہے اور وہ بھی اس قدر آنکھوں کو محصور کرنے والا!
وہ آخری سیڑھی پر کھڑا آنکھیں پھاڑے یہ دنیا دیکھ رہا تھا. بیسمنٹ اس کے گھر بھی تھا پر یہ تو انڈر گراؤنڈ محل تھا. وہ دانی سے بہت کچھ پوچھنا چاہتا تھا مگر وہ مسلسل اسے نظر انداز کر رہا تھا. ابھی بھی اس سے پہلے کہ وہ کچھ پوچھتا وہ بہانہ بنا کر وہاں سے غائب ہو گیا. سب کچھ مشکوک مشکوک سا تھا. اتنے لوگوں میں شیری اور شیروان کو کہاں ڈھونڈے. سر جھٹکتا وہ آگے بڑھا.
نظریں آس پاس جاتی دوسری مرد نما عورتوں پر تھی. ابھی تلاش جاری ہی تھی کہ ہال کے دوسرے کونے سے آواز بلند ہوئی.

" سب لوگ اپنی اپنی جگہوں پر بیٹھ جائیں." اور پھر ہڑ بڑی مچ گئی. لوگ کرسیوں کی طرف بڑھے اور کچھ ہلکی نیلی ساڑھیوں کے ایک ہی جیسے ڈریس میں ملبوس زنانے آگے بڑھ کر سب کو نشستوں کی راہ دکھانے لگے. شاید وہ یہاں کی سیکیورٹی تھی. وہ سست قدم اٹھاتا یہ تماشہ دیکھ رہا تھا جب کوئی اس سے ٹکرایا.
" آؤچ! " ٹکرانے والی نے ادا سے کہا. اور وہاں سے غائب ہو گئی. دھکا زور کا تھا. حمزہ کو لگا کچھ گرا ہے. اور ادھر گاڑی میں لگی اسکرین پر اندھیرا چھا گیا.
" سب لوگ بیٹھ جائیں. " دوبارہ اعلان ہوا اور سیکیورٹی میں سے کسی نے اس کو آکر بیٹھ جا نے کا کہا. اسے نہیں بیٹھنا تھا. مگر اس کی کون سن رہا تھا. وہ بھنویں سکیڑے جا کر ایک کرسی پر بیٹھ گیا. یہ آگے سے گیارہویں قطار تھی جس کی باہر والی نشست پر وہ بیٹھا تھا مگر نظریں اب بھی متلاشی تھیں.
" ویسے تو آج ایک اہم تقریب ہے مگر ر ر.. " کہتے ہوئے بی بی حاجن رکی. حمزہ نے سر اٹھا کر دیکھا.
آج کی...تقریب....ملتوی.... کر دی گئی ہے. وہ رک رک کر بولی.
تقریب رک گئی؟ ہال میں ہلچل ہوئی. پتا نہیں کیوں رک گئی. میں تو اتنے دنوں سے تیاریاں کر رہی ہوں. کیا لڑکیاں بھاگ گئیں جن کی بولی لگنی تھی؟ کیا کوئی فوت ہو گیا ہے؟ چہ میگوئییاں ہونے لگیں. اتنے دن جس تقریب کی تیاری ہو رہی تھی. وہ عین موقع پر ملتوی؟ یہ نارمل نہیں تھا. یہ تقریب پچھلے کئی سالوں سے ہوتی آئی تھی اور آندھی آئے یا طوفان اسے ہر قیمت ہونا تھا. وہ ان سب چہ میگوئیوں سے بے نیاز ادھر ادھر کسی کو ڈھونڈ رہا تھا. جب نظریں سیکیورٹی عملے کے لباس میں ملبوس کھسرے پر پڑی, وہی ہلکی نیلی ساڑھی وہ ساتھ کھڑے دوسرے کھسرے سے کچھ کہہ کر تالی مار رہا تھا. سیکنڈ کے دسویں حصے میں اس نے ان کھسروں کو پہچان لیا تھا. شیری اور شیروان اف! آنکھیں سکون سے بند کی. سر نشست کی ٹیک پر گرایا.

سب خاموش ہو جائیں. خاموش ہو جائیں. بی بی حاجن نے ہاتھ اٹھا کر کہا. ادھر اس نے آنکھیں کھولیں. اب اسے ان سے بات کرنا تھی مگر کیسے وہ بہت دور تھے. اور وہ اٹھ کر نہیں جا سکتا تھا.
یہاں جمع ہونے کی وجہ تقریب نہیں تھی, یہ محض بہانہ تھا. سسپنس بڑھتا جا رہا تھا. یہاں اندر میرے کمرے میں رکھی سیف سے فلیش غائب ہو ئی ہے. آواز میں کوئی فکر مندی نہیں تھی. حمزہ کا دماغ بھک سے اڑا. یہ اور کون کر سکتا تھا. ایک نظر ان دونوں پر ماری اور وہاں ہنستے ہوئے ان کی بتیسی گم ہوئی. چوروں کو لگا سب ان کو ہی دیکھ رہے ہیں. حمزہ نے بڑھ کر کان پر ہاتھ رکھا کہ کچھ کہہ سکے مگر وہاں مائیکروفون نہیں تھا. تھوڑی دیر پہلے خود سے ٹکرایا کھسرا یاد آیا. ہاتھ فوراً سینے پر گیا. نہیں! کیمرہ بھی وہاں نہیں تھا. ماتھے پر پسینے کے چند قطرے ابھرے. یہ اتفاق نہیں ہو سکتا تھا. جاسوسی دماغ نے کسی سازش کی بھنک دی.
" چور کتنا بھی ہوشیار ہو وہ سراغ چھوڑ ہی جاتا ہے. "
اس نے لہراتے ہوئے کہا تو چوروں کا منہ دیکھنے والا تھا. سانسیں بے ترتیب ہو گئ تھیں. نظرین ارد گرد گھمائی وہ بہت زیادہ تھے. اعصاب شل ہونے لگے.

" اب بہتر یہ ہی کہ وہ خود سامنے آکر فلیش ہمارے حوالے کر دیں, میں پانچ تک گنوں گا. ورنہ ہمیں اپنی چیز واپس لینے کے اور بھی طریقے آتے ہیں." اب کہ آواز بھاری اور گھمبیر ہو گئی. باقی کھسروں میں کھلبلی سی مچ گئی ہر کوئی دوسرے کو شکی نظروں سے دیکھنے لگا.
حمزہ نے سختی سے آنکھیں بھنچی. ایسا اس نے نہیں سوچا تھا. کاش یہ کوئی خواب ہو.
" پانچ..."
چوروں کے دل بے ترتیب سے دھڑکے.
" چار... "
انہوں نے کن اکھیوں سے ایک دوسرے کو دیکھا.
" تین... "
ہو سکتا ہے یہ بس ان کو نکالنے کے لیے ٹریپ ہو.
" دو.. "
وہ اپنی جگہ پیر جمائے کھڑے رہے.

"ایک " اور بھک. سب بتیاں بجھ گئیں. اندھیرے میں شور بڑھ گیا. وہ گن نکالنا چاہتا تھا مگر. اتنے لوگ. وہ کس کس کو مارتا. بتیاں روشن ہو گئیں. شور قدرے کم ہوا. ہر طرف سیکیورٹی کے ملبوسات والے ہجڑے کھڑے تھے.
" اب تو تمہیں ماننا پڑے گا حمزہ فیض بیگ, اپنے بھائی کو یہاں بھیج کر تم نے غلطی نہیں کی تھی." مردانہ آواز میں وہاں گونجا. بی بی حاجن ہاتھ میں فون لیے مائک کے آگے لہرا رہی تھی. فون کے اسپیکر سے پھر کسی سائرن کی آواز آئی. اور دوبارہ کوئی بولا. "شیری نکل جلدی کر نکل یہاں سے. " کسی کو یہ الفاظ سنے ہوئے لگے تھے اور اس کے کندھے ڈھلک گئے. حمزہ کے تنے اعصاب اور تن گئے.
" اب شیری خود نکل کر وہ فلیش ہمیں دے گا یا ہم حمزہ کو نکالیں. " انتہائی خباثت سے دانت نکال کر وہ ہنسا. اوہ خدایا وہ جانتے ہین مین یہاں ہوں. اس کے دماغ مین دّاکے ہونے لگے. شیری کے اعصاب شل ہو رہے تھے. اگر وہ جانتے شیری کون ہے تو تین دن انتظار نہ کرتے. انہوں نے نہایت نفاست سے یہ جال بنا تھا.
" نہیں! شیری وہ نہیں جانتے شیری کون ہے. نارمل ہو جا, نارمل ہو جا. " حمزہ اس جال کو اپنے گرد پھیلتے دیکھ رہا تھا. حمزہ کی وہاں موجودگی سے بے نیاز وہ خود کا کام کر رہا تھا. جب چند منٹ کوئی فلیش لے کر آگے نہیں بڑھا تو اسٹیج پر کھڑی بی بی حاجن نے کسی کو اشارہ کیا اور وہ کسی قدم قدم بڑھتا حمزہ کی طرف آیا اور حمزہ کو لگا اس کے گرد سب اندھیر ہو گیا ہے. نہیں گھر کا بھیدی لنکا نہیں ڈھا سکتا تھا.
اس کے سامنے دانی کھڑا تھا جو اب بازو سے پکڑ کر اسے ہجوم سے الگ کر رہا تھا. کرسیوں کے ایک طرف خالی جگہ پر اسے کھڑا کرتا وہ اس سے دور جا کر کھڑا ہو گیا. نظریں اب بھی نہیں ملائی تھیں. دھوکہ! حمزہ نے سختی سے مٹھیاں بھینچیں. ہال دم سادھے سب کچھ دیکھ رہا تھا. شیری اور شیروان اپنے بچ جانے کی دعائیں مانگ رہے تھے. مگر کھیل ختم ہو چکا تھا.
حمزہ نے سر سے وگ اتاری, اپنی قمیص کے پلو سے لپ اسٹک اتاری, اور یوں ہی چہرے کو اس سے رگڑتا سیدھا ہوا. شیری کو لگا اس کے پیر بھاری ہو گئے ہیں. زمین الٹ گئی ہے. سب گھوم رہا تھا. شیروان بھی بے یقینی سی کی کیفیت میں سب دیکھتا رہا.
" اگر پتا چل ہی گیا ہے تو اور کیا چھپانا." اس نے وگ ایک طرف اچھالی. اسٹیج پر قہقہہ ابھرا.
" شروع سے پتا تھا. "
حمزہ نے ایک کاٹ دار نگاہ دانی پر ڈالی اور اس کا سر جھک گیا.
" کیا اب بھی شیری فلیش ہمیں نہیں دے گا؟ " بظاہر آرام سے کہا گیا.
" شیری اپنی جگہ سے ہلے گا بھی نہیں." شیری کی طرف دیکھے بغیر حمزہ چلایا. اور اس کا خون خشک ہو گیا.
گلے میں گلٹی ابھری اور اسے اندر اتارنا مشکل ہو گیا. شیروان نے نظریں زمین پر گاڑ دیں کہ یہاں کسی نے اس کی آنکھوں میں دیکھا اور یہ وہ پکڑے گئے.

"شیری بھائی کی موت کا غم بڑا درد ناک ہوتا ہے." آواز گونجی. شیری کی دماغ سنسنانے لگا. " بھائی کی موت" وہ بڑبڑایا. اب حمزہ کے گرد سیکیورٹی والے دائرہ بنا رہے تھے. دائین طرف کرسیوں پر بیٹھے لوگ سانس روکے یہ منظر دیکھ رہے تھے.
" شیری مجھے کچھ نہیں ہو گا. فلیش کو سنبھال کر رکھنا. " وہ تھوک نگلتا بولا. شیری کے کانوں میں تو کچھ نہیں جا رہا تھا دماغ سائیں سائیں کر رہا تھا. وہ آگے بڑھنے لگا اور شیروان نے اس کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ کے نفی میں گرد ہلائی.
" ٹھیک ہے دانی تو جانتا ہی ہے. " اسٹیج پر وہ بولا. تو حمزہ نے قہر آلود نگاہ دانی پر ڈالی. وہ جانتا تھا اگر بتانا ہوتا تو دانی بتا چکا ہوتا یا یہ بھی کوئی چال تھی.
" اگر میرے بھائی کو کچھ ہوا تو اسی بیسمنٹ میں. اسی بیسمنٹ میں تم لوگوں کی لاشوں کے ڈھیر لگا دوں گا میں. " وہ غصے, بے بسی اور ہیجان کی سی کیفیت میں انگلی اٹھاتا ان کو دھمکی دے رہا تھا. ہاتھ کانپ رہے تھے, سانس اکھڑ رہا تھا. کان کی لوؤیں تپ رہی تھیں, وہ بے قابو تھا.
ہاہاہاہاہا! قہقہ ابھرا. باقی کے لوگ اب صورتحال کافی حد تک سمجھ چکے تھے. وہ بھی اس کی بے بسی اور تنی گردن پر ہنس دیے. رسی جل گئی مگر بل نہیں گیا.

"اچھا چلو وقت ضائع نہیں کرتے. شیری تم اب مت باہر آنا. "نروٹھے سے کہتی وہ پیچھے پلٹی. کسی کو اشارہ کیا. ہال میں گولی چلنے کی ہولناک آواز گونجی, کئی ہاتھ کانوں پر گئے. اس کا کندھا پیچھے کو جھٹکا کھا کر سن ہو گیا. شیری کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئی.
" بھائی ی ی." وہ اتنا زور سے چلایا کہ سب گردنیں اس کی طرف مڑ گئیں. باہر رات کے سناٹے میں کہیں گولی چلنے کی آواز سنائی دی. گاڑی میں بیٹھے لوگوں کا دل حلق تک اچھلا. وہ کب سے حمزہ سے رابطے کی کوشش کر رہے تھے. شاید سب کھل گیا تھا انہوں نے اندازہ لگایا. پیچھے تھانے فون کر کے نفری کے لیے پیغام دیا. اور خود گاڑی سے اتر کر مخصوص فاصلہ بنائے دبے قدموں بڑے صحن والے گھر کی طرف بڑھے.
شیری حواس باختہ ہو کر آس پاس دیکھنے لگا. شیروان نے ماتھے پر آیا پسینہ صاف کیا. حمزہ نے کھا جانے والی سے اسے گھورا. گولی کندھے پر لگی تھی. درد سے آنکھوں میں آنسو تھے. دانی کی طرف دیکھا وہاں مجبوری تھی.
کئی سیکیورٹی والے ہجڑوں نے شیری کو اپنے حصار میں لیا. اس کی جیبیں تلاشنے لگے فلیش نہیں تھی. بی بی حاجن کے چہرے پر ناگواری ابھری. اشارہ کیا. ایک اور گولی اس کے جسم کے پار ہوئی. دوسرا کندھا پیچھے کو ڈھلکا. وہ درد سے کراہا. شیری کو دیکھا. سارا کرب آنکھوں میں سمٹ آیا. آنکھیں بھاری ہونے لگیں. شیری کو لگا حمزہ سے پہلے وہ خود گر جائے گا.
" فلیش دے دو لڑکے ورنہ یہ ساری گولیاں تیرے بھائی کے اندر اتار دی جائیں گی." بی بی حاجن مردانہ آواز میں غرائی.
شیروان نے تھوک نگلا. شیری کو کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا, پھر ٹھاہ کی آواز گونجی اور یہ ایک اور گولی اس کے جسم میں پیوست ہوئی. شیری کو دیکھتے وہ نیچے گرنے لگا. سب دھند لا گیا. زندگی اندھیر!
جسم ساکت. سانس ساکن!
(جاری ہے)

No comments:

غازی از ابو شجاع ابو وقار قسط نمبر60 Ghazi by Abu Shuja Abu Waqar

Ghazi  by  Abu Shuja Abu Waqar  غازی از ابو شجاع ابو وقار  پیشکش محمد ابراہیم 60 آخری قسط نمبر  Ghazi by Abu Shuja Abu...

Powered by Blogger.