Ads Top

ﻧﺎﻭﻝ سنائپر از ریاض_عاقب_کوہلر قسط نمبر 29

ﻧﺎﻭﻝ  سنائپر 

 از 

 ریاض_عاقب_کوہلر

سنائپر قسط نمبر29
ریاض عاقب کوہلر
پلوشہ دوربین آنکھوں سے لگائے اسی طرف نگران تھی ۔
”اسی خبیث کا قافلہ ہے ۔“وہ بڑبڑانے کے انداز میں بولی ۔اسے ریموٹ کنٹرول تھما کر میں نے راکٹ لانچر کندھے پر رکھ لیا تھا ۔اگر ہمارا لگائی ہوئی IED ریموٹ کنٹرول سے نہ پھٹتی تو میں نے راکٹ لانچر کے ذریعے پہلی گاڑی کو اڑانا تھا ۔وہ جگہ اتنی تنگ تھی کہ گاڑی موڑ نہیں کاٹ سکتی تھی ۔اور اگلی گاڑی کے تباہ ہونے کے بعد وہ آگے بھی نہیں جا سکتے تھے ۔جس جگہ ہم نےIED (Improvised Explosive Device)لگائی تھی اس کے بعد ایک خطرناک موڑ تھا اس لیے اس جگہ گاڑیوں کی رفتار لامحالہ آہستہ ہونا تھی ۔یوں بھی وہ سڑک کچی تھی اوراس پر بہت زیادہ رفتار سے گاڑی نہیں چلائی جا سکتی تھی ۔تمام گاڑیاں ایک قطار میں چل رہی تھیں موڑ آنے سے پہلے ہی ڈرائیور نے رفتار کم کرنا شروع کر دی تھی ۔دوربین آنکھوں سے لگائے پلوشہ کا ایک ہاتھ آئی ای ڈی کو پھٹانے والے بٹن پر تھا ۔جونھی ہی اگلی گاڑی مخصوص جگہ پر پہنچی اس نے بٹن دبا دیا ۔حفظ ماتقدم کے طور پر میں نے بھی راکٹ لانچر کی ٹیلی سکوپ سائیٹ میں پہلی گاڑی پر نشانہ سادھ لیا تھا ۔لیکن مجھے فائر کرنے کی ضرورت پیش نہ آئی ۔
کان پھاڑ دینے والا دھماکاہوا اور اگلی گاڑی چند فٹ ہوا میں اچھل کر الٹی ہو گئی ۔پیچھے والی گاڑیاں فوراََ رک گئی تھیں ۔پلوشہ نے فوراََ آخر میں لگائی جانے والی آئی ای ڈی کو پھاڑنے والا بٹن دبا دیا اس مرتبہ زور دار دھماکے کے ساتھ چوتھے نمبر پر موجود گاڑی تباہ ہوئی تھی ۔آخری گاڑی چند گز پیچھے تھی ۔ میں نے فوراََ راکٹ لانچر کا رخ اس جانب کرتے ہوئے راکٹ داغ دیا ۔اڑھائی سو میٹر سے ایک ساکن ہدف کو نشانہ بنانا اتنا مشکل بھی نہیں تھا کہ میرا نشانہ خطا جاتا ۔گاڑی اچھل کر کھڑی چٹانوں سے ٹکرائی اور دوبارہ سڑک پر گر گئی تین گاڑیاں اور ان میں موجود افراد لقمہ اجل بن گئے تھے ۔دو سری اور تیسری گاڑی میں موجود قبیل خان کے آدمیوں نے فوراََ گاڑیوں کے عقب میں مورچے سنبھال لیے تھے ۔انھیں ہمارے چھپنے کی جگہ معلوم ہوگئی تھی کلاشن کوفو ں کی گولیاں ہمارے سامنے پڑے پتھروں سے ٹکرانے لگی تھیں ۔
”قبیل خان دوسری گاڑی کے عقب میں چھپا ہے ۔“پلوشہ نے بغیر کسی تاخیر کے مجھے مطلع کرنا ضروری سمجھا تھا۔
میں نے اپنی شست تیسری گاڑی پر مرکوز کرتے ہوئے اسے کہا ۔”راکٹ لوڈ کرو ۔“
اس نے فوراََ پہلے سے تیار کیا ہوا راکٹ اٹھا کرآگے سے راکٹ لانچر کی مزل میں دھکیل دیا ۔ اور میں نے ایک لمحہ ضائع کیے بغیر سانس روکتے ہوئے راکٹ داغ دیا ۔تیسرے نمبر پر موجود گاڑی کا حشر بھی پہلے والی گاڑی جیسا ہوا تھا اور اس کے عقب میں چھپے آدمی قبیل خان کی مدد کرنے کے قابل نہیں رہے تھے ۔
اسی وقت دوسری گاڑی کے عقب میں موجود آدمی گاڑی کے عقب سے نکل کر موڑ کی جانب بھاگے ۔مجھے اندازہ تھا کہ وہ کچھ ایسا ہی کریں گے اور میں اس کے لیے تیار تھا ۔اس کے لیے بیرٹ ایم 107تیار رکھی تھی ۔ 
”سفید کپڑوں والا قبیل خان ہے ۔اسے مرنا نہیں چاہیے ۔“مجھے سنائپر رائفل پر شست لیتے دیکھ کر وہ پکار اٹھی تھی ۔
ان کی تعداد چھے تھی اور موڑ تک اتنا فاصلہ نہیں تھا کہ میں تمام کو نشانہ بنا سکتا ۔اگر وہ موڑ مڑنے میں کامیاب ہو جاتے تو یقینا خود بھی بچ جاتے اور ہمارے لیے بھی خطرے کا باعث بن سکتے تھے۔ ان تمام میں قبیل خان اہم تھا اسی وجہ سے انھوں بھاگتے ہوئے اسے اپنے سامنے رکھا تھا ۔میرے پاس زیادہ وقت نہیں تھا بس چند سیکنڈ ہی تھے ۔سب سے پہلے میں نے قبیل خان کی پشت پر دوڑنے والے بندے کی پیٹھ پر گولی ماری ۔سر کو نشانہ میں نے جان بوجھ کر نہیں بنایا تھا کہ وہ بھاگ رہے تھے اور اس حالت میں سر پر گولی مارنا مشکل ہو جاتا ہے ۔اور میرے پاس اتنا وقت نہیں تھا کہ گولی کے خطا جانے کا خطرہ مول لے سکتا ۔اڑھائی سو گز کے فاصلے پر بیرٹ ایم 107کے خطا جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا ۔مقتول منہ کے بل گرا تھا ۔اس کے ساتھ ہی میں نے دوبارہ رائفل کاک کی اور اگلی گولی قبیل خان کے کولہے میں جھونک دی ۔ دو تین سیکنڈکی دیر ہونے پر اس نے موڑ مڑ جانا تھا ۔وہ نیچے گرا اور اس کے ساتھ بھاگنے والے چاروں اسے سنبھالنے کے لیے نیچے جھک گئے۔اسی وقت میں نے اگلی گولی فائر کی اور ان کی تعداد میں ایک کی کمی ہو گئی ۔دو آدمیوں نے قبیل خان کی بغل میں ہاتھ ڈال کر اسے موڑ کی جانب گھسیٹا اور ایک نے گھٹنا زمین پر ٹیک کر کلاشن کوف کی بیرل کا رخ ہماری جانب کرتے ہوئے ٹریگر دبا دیا تھا ۔کلاشن کوف تڑتڑاتے ہوئے آگ اگلنے لگی مگر یہ ایک اضطراری حرکت تھی ۔اس نے مسلس ٹریگر دبائے رکھا ۔گھٹنا زمین پر ٹیک کر بیٹھنے کی وجہ سے وہ ایک آسان ہدف ثابت ہوا تھا ۔بیرٹ ایم 107کی گولی اسے ماتھے میں لگی ۔پشت کے بل گرتے ہوئے بھی اس کی کلاشن کوف گولیاں اگل رہی تھی ۔میرے دوبارہ رائفل کاک کرنے تک قبیل خان کے آدمی اسے گھسیٹ کر موڑ مڑ گئے تھے ۔موڑ مڑ کر ایک بہت بڑے پتھر کے عقب میں لیٹ کر انھوں نے ہمارے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ شروع کر دیا ۔
اس صورت حال میں مجھے خطرہ محسوس ہونے لگاتھا،کہ یہ نہ ہو ایک آدمی ہمارے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ کرتا رہے اور دوسراقبیل خان کو سہارا دے کر وہاں سے نکل جائے ۔ 
”پلوشے !....مجھے خطرہ ہے قبیل خان ایک آدمی کے ساتھ فرار نہ ہو جائے اور دوسرا آدمی ہمارے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ کرتا رہے ۔“سردار خان اسے پیار سے پلوشے کہا کرتا تھا ۔نہ جانے اس وقت کیوں میں نے بھی اسے اتنی بے تکلفی سے پکار دیا تھا ۔مگر وہ صورت حال اس طرح کی نہیں تھی کہ وہ میرے ایسا کہنے پر غور کر سکتی ۔اور اگر اس نے غور کیا بھی تھا تو وہ اس پر تبصرہ کرنے کی پوزیشن میں بہ ہر حال بالکل بھی نہیں تھی ۔
”صحیح کہا ۔“اس نے فوراََ میری تائید میں سر ہلاد یا تھا ۔
”تم یہاں سے سنائپر رائفل کے ذریعے انھیں فائرنگ کا جواب دیتی رہو میں پیچھے سے جا کر انھیں قابو کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔“
”نہیں ....“اس نے نفی میں سر ہلادیا۔”تم سنائپر رائفل پرمجھ سے بہتر فائر کر سکتے ہو اور میں تم سے زیادہ تیز رفتاری سے حرکت کر سکتی ہوں ۔“
”مگر ....“
”کوئی اگر مگر نہیں ،میرا عتبار کرو ۔“اس نے میرا ہاتھ تھامتے ہوئے میری آنکھوں میں جھانکا۔ وہ ہمیشہ کی طرح با اعتماد نظر آ رہی تھی ۔
”میری بات سمجھنے کی کوشش کرو ۔“میں نے ایک بار پھر اسے روکنے کی کوشش کی ۔میرا ضمیر اسے خطرے میں جھونکنے پر آمادہ نہیں ہو رہا تھا ۔
”پریشان نہ ہوں مجھے کچھ نہیں ہوتا ۔“اس نے ایک آئی کام جیب میں ڈالا او رکلاشن کوف ہاتھ میں پکڑتے ہوئے بولی ۔”آئی کام آن کر لینا ،چینل نمبر گیارہ ۔“یہ کہتے ہوئے وہ مورچے سے نکل کر بھاگتے ہوئے ایک نزدیکی چٹان کے عقب میں چھپ گئی ۔وہاں ایک لمحہ ٹھہر کر وہ بھاگتے ہوئے چند گز دور ایک دوسرے پتھر کے پیچھے لیٹ گئی ۔اس دوران دشمنوں کی طرف سے اکا دکا فائر کی آواز آتی رہی۔مگر وہ پتھر سے سر نکالے بغیر فائر کر رہا تھا ۔میرا اندازہ تھا کہ اسے پلوشہ کی حرکت کے بارے معلوم ہی نہیں ہوا ہو گا ۔پتھر کی وہ چٹان اتنی بڑی تھی کہ اس پر راکٹ کا بھی کوئی اثر نہ ہوتا ۔میں نے سنائپر رائفل کی ٹیلی سکوپ سائیٹ میں سے دیکھتے ہوئے اس پتھر پر اپنی شست مرکوز کر دی ۔مگر لگتا یہی تھا کہ قبیل خا ن وہاں سے فرار ہونے کی کوششوں میں تھا اور ایک آدمی اس نے پتھر کے عقب میں صرف اپنے عقب کو محفوظ رکھنے کے لیے چھوڑ دیا تھا ۔اور شاید اس آدمی کو بھی اچھی طرح یہ بھی سمجھا دیا تھا کہ اس کا کوئی عضو نظر آنے کی صورت میں وہ جسم کا حصہ نہیں رہے گا ۔ایسا یقینا اس وجہ سے ہوا ہو گا کہ ان دنوں میں قبیل خان کے ایک ایسے دشمن کے روپ میں سامنے آ رہا تھا جو مسلسل اس پر حملے کر رہا تھا ۔اور میری نشانہ بازی مبالغہ آمیز واقعات کے ساتھ پیش کی جا رہی تھی ۔یہ سارا اندازہ میں اس بنا پر لگا رہا تھا کہ چٹان کے عقب میں چھپا ہوا دشمن اپنے ہاتھ تک کو پتھر کے عقب سے نہیں نکال رہا تھا ۔
پلوشہ بھاگتے ہوئے نالے کے دوسرے سرے پر پہنچ گئی تھی ۔قبیل خان اور اس کے دونوں آدمی اس جانب چھپے تھے جس طرف ان کی گاڑیوں کا رخ تھا ۔جبکہ پلوشہ کا رخ علام خیل کی جانب تھا ۔ کیونکہ اس جانب سے اوپر چڑھا جا سکتا تھا ورنہ تو نالے کے کھڑے کناروں کے اوپر چڑھنا بہت مشکل تھا۔
 سڑک کے اوپر پہنچ کر وہ بائیں جانب سے چکر کاٹ کر مزیداوپر چڑھنے لگی ۔یقینا وہ وہاں سے ہوتے ہوئے قبیل خان کے آدمیوں کے عقب میں پہنچنا چاہ رہی تھی ۔
سڑک پر چکر کاٹتے ہی وہ میری نگاہوں سے اوجھل ہو گئی ۔میں دوبارہ قبیل خان کے آدمیوں کی جانب متوجہ ہو گیا ۔گو وہ مکمل طور پر پتھر کی چٹان کے عقب میں تھے اس کے باوجود میں نے راکٹ لانچر استعمال کرتے ہوئے بچے ہوئے دو راکٹ اس جانب داغ دیے ۔ تاکہ وہ میرے جانب متوجہ رہیں۔ ان کی طرف سے صرف ایک کلاشن کوف وقفے وقفے سے چند گولیاں اگل دیتی ۔راکٹوں نے اس بڑی چٹان کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا تھا ۔اور چٹان کے عقب میں چھپے ہوئے دشمن لامحالہ محفوظ تھے ۔مجھے اپنے اندیشے سچ ہوتے دکھائی دے رہے تھے ۔لیکن اس کے ساتھ یہ اطمینان بھی تھا کہ پلوشہ وہاں پہنچنے ہی والی تھی ۔
اور پھر مجھے ایک نئی کلاشن کوف کی تڑتڑاہٹ سنائی دی ۔دو تین منٹ بعد پلوشہ کی آواز ابھری۔ ”حالات قابو میں ہیں ....اگر قبیل خان کا دیدار کرنا ہے تو نالے میں اتر آﺅ میں اسے وہیں لا رہی ہوں ۔“
اپنے پاس پستول کے ہونے کا یقین کرکے میں نیچے اترنے لگا ۔پلوشہ نے حالات قابو میں ہونے کا مژدہ سنا دیا تھا اس کے باوجود میں بے پرواہی نہیں برت سکتا تھا نیچے اترتے ہوئے مجھے وہ نظر آنے لگی تھی ۔قبیل خان لنگڑاتا ہوا اس کے آگے چل رہا تھا ۔اس موڑ کے آگے چونکہ نالے کے کنارے اس قابل تھے کہ وہاں سے پیدل آدمی نیچے اتر سکتا تھا اس لیے وہ اسے اسی جانب سے نیچے لا رہی تھی ۔
میرے قریب پہنچنے تک اس نے اپنی کارروائی شروع کر دی تھی ۔
قبیل خان کو پہلی مرتبہ میں اس طرح روبرو دیکھ رہا تھا لیکن اس بری حالت میں کہ اس کاکوئی قریبی عزیز بھی اسے نہ پہچان سکتا ۔پلوشہ جنوبہ کیفیت میں اس پر ٹھوکریں برسا رہی تھی ۔قبیل خا ن کا تمام جسم یوں کانپ رہا تھا گویا وہ رعشہ کا مریض ہو ۔وہ بے تحاشااس کی مضروب ٹانگ اور جسم کے نازک حصوں کو اپنی ضربات کا نشانہ بنا رہی تھی ۔
قبیل خان ایک بے رحم ظالم اور غدار شخص تھا لیکن اس وقت مظلومیت کی تصویر بنا نظر آ رہا تھا ۔
”لڑکے !....تم بہت زیادتی کر رہے ہو ،یاد رکھنا میرے آدمی بدلہ ضرور لیں گے ۔“پلوشہ کے ذرا سے دم لینے پر وہ ایک جانب خون تھوکتے ہوئے دھمکی دینے لگا ۔
”پہلے میں اپنا بدلہ تو لے لوں ۔تیرے آدمیوں کو اگر موقع ملا تو یقینا میں منع نہیں کروں گا۔“یہ کہہ کر اس نے دو تین ٹھوکریں اس کے پہلو میں جڑ دیں ۔
”میرا قصور تو بتا دو ۔“اس کے لہجے میں عجیب قسم کی بے بسی اور غصہ ابل رہا تھا ۔
”اگر تو مجھے پہچان لیتا توتجھے یہ سوال کرنے کی ضرورت پیش نہ آتی ۔“اس کے ساتھ اکڑوں بیٹھتے ہوئے وہ اس کی آنکھوں میں جھانکنے لگی ۔
”تو کرا دو پہچان تاکہ میں معافی مانگنے کے بارے سوچ سکوں ۔“قبیل خان نے جائز بات کہی تھی ۔
”سپوگمائے کو جانتے ہو؟“پلوشہ نے اپنی بڑی بہن کا نام لیا ۔
قبیل خان کا سر نفی میں ہل گیا تھا ۔
”جانو گے بھی کیسے ،کوئی ایک سپوگمائے تو تیری ہوس کی بھینٹ نہیں چڑھی نا ۔“پلوشہ نے زہر خند لہجے میں کہتے ہوئے اس کے سر کے بالوں سے پکڑ کر جھٹکا دیتے ہوئے اس کا سر زمین سے ٹکریا ۔
”آہ ....“اس کے منہ سے زوردار کراہ خارج ہوئی ۔
وہ دوبارہ اس کے بالوں سے پکڑ کر جھٹکا دیتے ہوئے بولی ۔”قبیل خان !....یاد کرو ایک لڑکی کو تیرے آدمیوں نے لبِ سڑک علام خیل کے مضافات سے اٹھایا تھا ، اس کے چھوٹے بھائی کی مداخلت پر تیرے آدمی نے اس معصوم لڑکے کو لات مار کر چلتی گاڑی سے نیچے پھینک دیا تھا اور بعد میں اس کا والد بھی تیرے درندے محافظ کی گولی کا نشانہ بن گیا تھا۔“
قبیل خان نے ہکلاتے ہوئے پوچھا ۔”تت....تم یامین خان کے کیا لگتے ہو ؟“
”شکر ہے ،اباجان کا نام تو تجھے یاد ہے ۔“
”مم....مگر اس کا تو کوئی بیٹا نہیں تھا ۔“قبیل خان کے لہجے میں حیرانی تھی ۔
”صحیح کہا ۔لیکن بیٹی تو تھی نا ۔“کھڑے ہو کر پلوشہ نے کندھے سے لٹکائی کلاشن کوف ہاتھ میں تھام لی تھی ۔
”بیٹی ....تو کیا ؟“
”ہاں ذلیل انسان میں یامین خان کی بیٹی اور سپوگمائے کی بہن پلوشہ ہوں ۔تیرے مردود ساتھی انار گل کو میں نے ہی واصل جہنم کیا ہے،تیری حویلی میرے ہی ہاتھوں تباہ ہوئی ہے ، روشن خان اور اس کے ساتھیوں کو بھی میں نے انجام تک پہنچایا ہے ۔اب تیری باری ہے ۔“
”تو وہ تم تھیں ۔میں کسی اورکو مورد الزام ٹھہراتا رہا ۔“
”تو تجھے کس پر شک تھا ۔“
”مجھے تو کسی ایس ایس نامی شخص کے بارے خبر ملی تھی ۔“اس نے خیال ظاہر کیا ۔
”فکر نہ کرو ،جسے موردِالزام ٹھہراتے رہے وہ بھی اس کے ساتھ ہی ہے ۔“میں نے پہلی بار زبان کھولی ۔
”ویسے بڑے خوش قسمت ہو مرنے سے پہلے تونے ایس ایس کا دیدار بھی کرلیاہے۔“پلوشہ نے میری جانب اشارہ کرتے ہوئے مزاحیہ انداز میں کہا ۔
”تو میرا اندازہ درست تھا ۔“مجھ پر ایک نظر ڈال کر وہ دوبارہ پلوشہ کی جانب متوجہ ہوا ۔ ”پلوشہ ....دیکھو تم نے اپنا بدلہ لے لیا ،ا ب ہم صلح کر کے اس دشمنی کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم کر سکتے ہیں۔ تم جتنا جرمانہ کہو میں بھرنے کو تیار ہوں ۔“
”ذلیل خان !....تجھے قتل کرنے کے لیے صرف میری بہن کے اوپر بری نگاہ ڈالنے کی وجہ کافی تھی ۔تو نے تو میرا پورا گھرانہ اجاڑ دیا ۔اور جہاں تک دشمنی ختم کرنے کا تعلق ہے تو دشمنی ختم کرنے کا آسان طریقہ دشمن کو قتل کرنا ہوتا ہے نا کہ اس سے مذاکرات کرنا ۔“
”پلوشہ !....میرا خیال ہے ہمارے پاس اتنا وقت نہیں ہے کہ اس تماشے کو طول دے سکیں ۔“ ان کی بات چیت لمبی ہوتے دیکھ کر میں لقمہ دیے بغیر نہیں رہ سکا تھا ۔
مجھے تیکھی نظروں سے گھور کر وہ دوبارہ قبیل خان کی طرف متوجہ ہو گئی ۔
”قبیل خان!.... افسوس کہ میں تجھے اتنی اذیتیں نہ پہنچا سکی جتنی میں نے جھیلی ہیں ۔بہ ہرحال تیرے ساتھی کافی بے چینی سے جہنم میں تیرا انتظار کر رہے ہوں گے اس لیے وہاں پہنچنے کی کرو۔“یہ کہتے ہی اس نے کلاشن کوف کی بیرل کا رخ اس کی ٹانگوں کی طرف کر کے دو تین گولیاں داغ دیں ۔وہ کراہتے ہوئے تڑپنے لگا ۔اگلی دفعہ اس نے قبیل خان کے دونوں بازووں کو نشانہ بنایا ۔اور پھر جھک کر کلاشن کوف کی مزل اس کی ٹھوڑی سے لگاتے ہوئے ٹریگر کو مکمل دبا دیا ۔
گولیوں کے برسٹ نے اس کی کھوپڑی کو ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا تھا ۔فائر رکتے ہی اس نے گھٹنے زمین پر ٹیکے اور دو زانو ہو کر بیٹھ گئی۔ کلاشن کوف اس کے ہاتھوں سے چھوٹ گئی تھی ۔وہ یک ٹک قبیل خان کی لاش کو گھور رہی تھی ۔دوتین منٹ انتظار کے بعد میں نے گلا کھنکارتے ہوئے اسے آواز دی۔
”پلوشہ !....میرے خیال میں چلنا چاہیے ۔“
”آں ....“وہ گہرے خیالات سے باہر آکر چونکتے ہوئے مجھے گھورنے لگی ۔اگلے ہی لمحے اس کے چہرے پر خوشی سے بھرپور ہنسی نمودار ہوئی اور کھڑے ہو کر وہ مجھ سے بری طرح لپٹ گئی ۔
”شکریہ راجے !....یہ سب تمھاری وجہ سے ممکن ہوا ۔“
”اچھا ....اچھا ٹھیک ہے ۔“اس کے گداز جسم کا لمس مجھے بوکھلانے کے لیے کافی تھا۔ زبردستی اس کی گرفت سے خود کو آزاد کراتے ہوئے میں نے کہا ۔”یہ شکریہ زبانی کلامی بھی ادا کیا جا سکتا تھا۔ کم از کم اتنا خیال تو کر لیا کرو کہ تم لڑکی ہو ۔“
میری باتوں کا برا منائے بغیر وہ شوخی بھری مسکراہٹ سے بولی ۔”کیا یاد کرو گے آج میں اتنی خوش ہوں کہ قبیل خان کے بعد تمھیں قتل کرنے کے فیصلے کو بھی ترک کرتی ہوں ۔“
”بہت بہت شکریہ ۔“طنزیہ لہجے میں کہتے ہوئے میں نے پوچھا ۔”اب چلیں ؟“
”اگر چاہو تو میں ایک بار اور بھی گلے لگ سکتی ہوں ۔“
”بے حیا ۔“اپنی بے ربط ہوتی دھڑکنوں کو قابو میں کرتے ہوئے میں مورچے کی جانب مڑ گیا۔
”ہا....ہا....ہا۔“اس کا سریلاقہقہہ بلند ہوا ۔مگر میں خاموشی سے چلتا رہا ۔اس تیز طرار لڑکی کا مقابلہ کرنا میرے بس سے باہر تھا ۔
میرے ساتھ قدم ملاتے اس نے کہا ۔”اچھا بات تو سنو ۔“
”جی فرماﺅ۔“میں نے سوالیہ نظروں سے اسے گھورا۔
”قبیل خان کی جیب سے کافی بڑی رقم میرے ہاتھ آئی ہے ۔یہ پسٹل بھی ہاتھ لگا ہے ۔“اس نے گلاک سے اچھا پستول میری نظروں کے سامنے لہرایا ۔”میرا تو خیال ہے باقی تمام کی تلاشی بھی لے لیتے ہیں ۔یقینا کافی رقم ہاتھ لگے گی ان کی کلاشن کوفیں بھی سمیٹ کر کہیں چھپا دیتے ہیں ۔“
”نہیں، ہمارے پاس اتنا وقت نہیں ہے ۔اگر گھات میں آتے ہی قبیل خان نے اپنے آدمیوں کو آئی کام پر بتا دیا ہوا تو وہ آتے ہی ہوں گے ۔“
اس نے منہ بناتے ہوئے کہا ۔”اگر ایسا ہوتا تو اب تک اس کے آدمی پہنچ گئے ہوتے ۔“ 
”اگر اس کے آدمی نہیں تو کوئی اور تو پہنچ سکتا ہے ۔بلکہ پہنچ گیا ہے ۔“ سفید رنگ کی کار موڑ مڑ کر تباہ شدہ گاڑیوں کے قریب رک رہی تھی ۔
”تو اس سے ہمیں کیا فرق پڑے گا ۔“وہ مصر ہوئی ۔
اس سے پہلے کہ میں اس کی بات کا جواب دیتا مجھے علام خیل کی طرف سے تین چار ڈبل کیبن اس طرف آتی دکھائی دیں ۔
”وہ نظر آرہی ہیں ۔“میں نے قدموں کی رفتار میں تیزی لاتے ہوئے اسے گرد کا طوفان اڑاتی گاڑیوں کی جانب متوجہ کیا ۔
”اگر یہ اس کے آدمی ہوتے تو انھیں کچھ دیر پہلے پہنچنا چاہیے تھا ۔“
”ہو سکتا ہے اس نے گولی لگنے کے بعد فرارہوتے وقت انھیں مدد کو پکارا ہو ۔“میں اپنے مورچے والی جگہ پر پہنچ گیا تھا ۔بیرٹ ایم 107کو کندھے پر رکھتے ہوئے میں نے خیال ظاہر کیا ۔
اس نے سامان کا تھیلا پشت پر لادا راکٹ لانچر کندھے پر رکھا اوردائیں ہاتھ میں کلاشن کوف تھامتے ہوئے چڑھائی چڑھنے لگی ۔میں نے اس کے پیچھے قدم بڑھا دیے تھے ۔ہماری چڑھائی چڑھنے سے پہلے تینوں گاڑیاں وہاں پہنچ گئی تھیں ۔ہر گاڑی میں چار پانچ مسلح آدمی سوار تھے ۔اگلی گاڑی سے اترنے والے دو آدمی سفید کار کی جانب بڑھ گئے ۔ان کی باتوں کے دوران ہم بلندی پر پہنچنے والے تھے ۔ میں مسلسل انھی کی جانب متوجہ تھا ۔سفید کار والے نے ہاتھ اٹھا کر ہماری جانب اشارہ کیا تھا شاید اس نے ہمیں نالے سے بلندی کی جانب حرکت کرتے دیکھ لیا تھا ۔سفید کار والے سے بات چیت کرنے والے دونوں آدمیوں نے ہاتھ میں پکڑی کلاشن کوفوں کا رخ ہماری جانب کرتے ہوئے فائر کھول دیا ۔
بلندی کے آخری چند قدم ہم نے دوڑ کر طے کیے اور اوپر پہنچتے ہی ایک چٹان کی آڑ لے کر خود کو اس اندھا دھند فائرنگ سے محفوظ کر لیا ۔
”یہ یقینا پیچھا کریں گے ۔“پلوشہ نے خیال ظاہر کیا ۔اس کے لہجے میں ذرا بھر تشویش شامل نہیں تھی ۔میں نے بارہا جانچا تھا کہ وہ بہت دلیر اور بہادر تھی ۔
”چلو پھر ان کے تعاقب میں ذرا رکاوٹ پیدا کر دیں ۔“بیرٹ ایم 107کی دوپائی کھول کر میں نے نیچے رکھ دی ۔
اس نے اب تک خالی میگزین ہی چڑھائی ہوئی تھی ۔پشت پر لدا تھیلا اتار کر وہ اس میں سے بھری ہوئی میگزین نکال کر کلاشن کوف پر چڑھانے لگی ۔اس دوران میں ٹیلی سکوپ سائیٹ کے شیشوں کی حفاظت کرنے والے کور اتار کر نالے میں اترنے کے لیے مناسب جگہ تلاش کرنے والے مسلح افراد کا نشانہ لے چکا تھا ۔پہلی بار میں نے اس آدمی کو نشانہ بنایا جو جھک کر نالے کے سیدھے کنارے سے نیچے کے لیے پر تول رہا تھا ۔اپنے ہتھیار سمیت وہ دس پندرہ گز کی اونچائی سے نیچے گرا تھا ۔باقیوں کے چونکنے اور سنبھلنے تک اور ایک آدمی بھی اپنے سردار قبیل خان کے پاس پہنچ چکا تھا ۔وہ سرپٹ دائیں بائیں بھاگے اور میرے تیسرے فائر سے پہلے انھوں نے خود کو گاڑیوں اور پتھروں کی آڑ میں کر لیا تھا ۔اس کے ساتھ ہی کئی کلاشن کوفیں گولیاں اگلنے لگیں ۔سفید کار کے ساتھ موجود آدمی بھی ایک دم زمین پر لیٹ گیا تھا ۔
 آدمیوں کے غائب ہوتے ہی میں گاڑیوں کے ٹائروں کو نشانہ بنانے لگا ۔تینوں گاڑیوں کے اپنی طرف والے چھے ٹائروں کو بے کا رکر کے میں نے ٹیلی سکوپ سائیٹ کے شیشوں پر دوبارہ کور چڑھائے اور پلوشہ کو کہا ۔
”کیا خیال ہے چلیں ۔“
”چلو ۔“وہ فوراََ میرے ساتھ متفق ہو گئی تھی ۔
اسی طرح زمین پر لیٹے لیٹے ہم پیچھے کی طرف کھسکے اور جونھی ایسی جگہ پر پہنچے جہاں کھڑے ہو کر بھی ہم ان کی نظروں میں نہیں آ سکتے تھے وہاں سے اٹھ کر عقبی جانب موجود ڈھلان میں اترنے لگے ۔ دشمنوں کی طرف سے مسلسل فائر کی آواز متواترہمارے کانوں میں پہنچ رہی تھی ۔ہم تیز رفتاری سے وہاں سے دور ہٹنے لگے ۔گو وہ پندرہ بیس آدمی ہمارا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے تھے لیکن مقابلہ طول کھینچتا تو ان کی مدد کو مزید آدمی بھی پہنچ سکتے تھے یوں بھی قبیل خان کے پاس بہت بڑا لشکر موجود تھا ۔
تھوڑی دیر بعد فائرنگ کی آواز میں وقفہ آنے لگا اور پھر فائرنگ بالکل ہی رک گئی ۔یقینا انھیں بھی محسوس ہو گیا تھا کہ وہ یک طرفہ فائرنگ کر رہے ہیں ۔لیکن اس کے باوجود مجھے امید یہی تھی کہ وہ اتنی جلدی آڑ سے باہر نکل کر ہمارا پیچھا نہیں کر سکتے تھے ۔شاید قبیل خان آئی کام پر انھیں میرے بارے بھی بتا چکا ہو کیونکہ اس کی آخری گفتگو سے یہی اندازہ ہو رہا تھا کہ اس نے اپنے آدمیوں کو بلاتے ہوئے کچھ نہ کچھ ضرور بتایا ہوگا۔اسی بات کا ذکر اس نے اپنی آخری گفتگو میں بھی کیا تھا ۔اگر قبیل خان نے نہیں بتایا تھا تب بھی اپنے مرنے والے آدمیوں اور گاڑیوں کے پھٹنے والے ٹائر ان کے سامنے تھے ۔
اس پہاڑی کے عقب میں موجود نالے میں اترتے ہی وہ نالے ہی میں آگے بڑھنے لگی ۔میں اس کے ساتھ قدم ملا کر چل رہا تھا ۔وہاں سے تھوڑی دور آتے ہی اس نے ایک مناسب جگہ پر راکٹ لانچر کو چھپا دیا کہ بغیر راکٹوں کے وہ ہمارے لیے فالتو وزن ہی تھا ۔
راکٹ لانچر سے جان چھڑا کرہمارا سفر دوبارہ شروع ہو گیا ۔ودتین گھنٹوں بعد ہم وہاں سے کافی دور نکل آئے تھے ۔اس دوران ہم نے ایک اور بلندی سر کے اس کی دوسری جانب ڈھلوان میں نیچے اتر گئے تھے ۔سورج پہاڑوں کے عقب میں چھپ گیا تھا ۔روشنی آہستہ آہستہ کم ہوتی جا رہی تھی ۔دور سے نظر آنے والے چند گھروں کو دیکھ کر پلوشہ نے اپنی سمت تبدیل کی اور بائیں ہاتھ موجود پہاڑی پر چڑھنے لگی ۔اسی وقت جھاڑیوں کے عقب سے گدھے پر لکڑیاں لادے ایک ادھیڑ عمر شخص نمودار ہوا ۔اس کا رخ چند سو گز دور نظر آنے والے گھروں کی جانب تھا ۔اس نے ہمیں دیکھ لیا تھا ۔ہمیں اسے نظر انداز کیے ڈھلوان پر چڑھتے رہے۔پہاڑی پر پہنچتے ہی وہ دوسری جانب اترے بغیر اوپر ہی اوپر چلنے لگی ۔مسلسل چلنے کی وجہ سے ہمارا پسینہ بہنے لگا تھا ۔مجھے سخت پیاس محسوس ہو رہی تھی ۔
”پانی تو دے دو ۔“میں نے نام لیے بغیراسے آواز دی۔
سفری تھیلے سے پانی کی بھری بوتل نکال کر اس نے میری جانب بڑھائی اور ایک پتھر پر بیٹھ گئی۔میں بھی ایک ہموار پتھر دیکھ کرنیچے بیٹھ گیا ۔شام کا ملگجا اندھیراتاریکی میں تبدیل ہونے لگا تھا ۔
پانی پی کر میں نے بوتل اس کی جانب بڑھادی ۔بوتل لے کر اس نے منہ سے لگا لی ۔
چند منٹ آرام کرنے کے بعد وہ کھڑی ہو گئی ۔
میں نے اٹھتے ہوئے پوچھا ۔”ویسے ہم کہاں جا رہے ہیں ؟“
”ابھی ہم جس طرف نکل آئے ہیں یہ علاقہ میرا بھی دیکھا بھالا نہیں ہے ۔صبح کی روشنی ہی میں اندازہ لگا سکوں گی کہ ہمارا رخ کس جانب ہے ۔“
”تو کیا ساری رات ہم یونھی ٹامک ٹائیاں مارتے رہیں گے ۔“
کوئی مناسب جگہ دیکھ کر رات گزار لیتے ہیں ۔“وہ بھی میری طرح آرام کرنے کے حق میں تھی ۔ہم اسی طرح بلندی پر سفر کرتے رہے ۔دس پندرہ منٹ بعد وہ پہاڑی دائیں جانب ایک دوسری پہاڑی کی طرف مڑ گئی لیکن دونوں پہاڑیوں کے بیچ گہری جگہ موجود تھی ا ب اندھیرے میں یہ اندازہ لگانا مشکل تھا کہ وہ دبی ہوئی جگہ کتنی گہری تھی ۔اندھیرا کافی گہرا ہو گیا تھا ۔مجھے ٹھوکر لگی اور میں نے بہ مشکل خود کو گرنے سے بچایا ۔
میں نے فوراََ کہا ۔”ٹارچ تو جلا لو ۔“
تھیلے سے ٹارچ نکال کر اس نے میری جانب بڑھا دی ۔وہ اترائی اتنی زیادہ نہیں تھی ۔اس دبی ہوئی جگہ کے بعد ہمارے سامنے ایک پہاڑی کی بلندی شروع ہو رہی تھی جبکہ دائیں بائیں دو نالوں کی اترائی تھی ۔بجائے اوپر جانے کے وہ بائیں نالے میں اترنے لگی ۔نالہ کافی تنگ تھا ۔ٹارچ کی روشنی دائیں بائیں پھینک کر میری نظریں کسی مناسب جگہ کی تلاش میں بھی بھٹک رہی تھیں ۔ساری دن کی بھاگ دوڑ کے بعد میں کافی تھکن محسوس کر رہا تھا ۔کوشش کے باوجود کوئی مناسب جگہ نظر نہیں آ رہی تھی ۔
”پستول تیار حالت میں رکھو یہاں کسی جنگلی جانور سے بھی مڈبھیڑ ہو سکتی ہے ۔“کافی دیر کی خاموشی کے بعد اس کی آواز ابھری تھی ۔
”ہونہہ !....“کرتے ہوئے میں نے ٹارچ بائیں ہاتھ میں تھامتے ہوئے دائیں ہاتھ میں بریٹا تھام لیا تھا ۔بیرٹ ایم 107یوں بھی میں نے پیٹھ پر لادی ہوئی تھی ۔
نالے کا اختتام ایک چوڑے نالے میں ہوا تھا ۔اگلے دو گھنٹے ہم اسی نالے میں چلتے رہے اس دوران دو تین آبادیوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا تھا ۔ہمارے سفر کا اختتام درختوں کے جھنڈ میں چھپے ہوئے اکیلے مکان پر ہوا جو کہ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا ۔دروازے پر جھولتے تالے نے ہمیں مکان کے خالی ہونے کا مژدہ سنایا ۔
پلوشہ نے کہا ۔”میرا خیال ہے یہی جگہ مناسب ہے ۔“
”صحیح کہا ۔“میں نے پستول کو نال سے پکڑ کر دستے سے تالے کو ضرب لگائی ۔چھوٹا سا تالا فوراََ کھل گیا ۔اندر داخل ہو کر ہم نے دروازہ اندر سے کنڈی کیا ۔ٹارچ کی روشنی پھینک کر میں نے جائزہ لیا۔ وہ ایک چھوٹا سا مکان تھا ۔داخلی دروازے والی جانب چھوڑ کر مکان کے تین اطراف میں دو دو کمرے بنے ہوئے تھے ۔مقامی طرز تعمیر کے مطابق چھت پر دو مورچے بھی بنے ہوئے تھے ۔کمروں کے سامنے برآمدہ موجود نہیں تھا ۔سامنے والے دو کمروں کے دروازوں کو تالے لگے ہوئے تھے جکہ باقی کمروں کے دروازے باہر سے کنڈی تھے ان میں تالے لگے ہوئے نہیں تھے ۔پلوشہ نے ایک کمرے کا تالا توڑ کر دروازہ کھولا میں نے قریب ہو کر اندر ٹارچ کی روشنی پھینکی ۔کمرے میں بان کی بنی ہوئی تین چارپائیاں دیواروں کے ساتھ ترتیب سے پڑی تھیں ۔ایک کونے میں لوہے کی بڑی پیٹی رکھی تھی اور اس پر دو ٹرنک رکھے ہوئے تھے ۔تینوں چارپائیوں پر ایک ایک تکیہ رکھا ہوا تھا ۔کھجور کے پتوں سے بنی دوتین چٹائیاں لپیٹی ہوئی لوہے کی پیٹی پر رکھی تھیں ۔چند استعمال کے برتن بھی ایک کونے میں دھرے تھے ۔ کمرے کا جائزہ لے کر ہم نے دوسرے کمرے کا تالا توڑنے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی ۔لوہے کی بڑی پیٹی میں ہمیں بستر رکھے ہوئے بھی مل گئے تھے ۔پیٹی کے اوپر رکھے ٹرنکوں میں زنانہ و مردانہ ملبوسات بھرے تھے ۔یوں لگتا تھا جیسے گھر والے عارضی طور پر کہیں گئے ہوں ۔ا س کمرے کا دروازہ بھی اندر سے کنڈی کر کے ہم نے دو بستر چارپائیوں پر بچھائے اور لیٹ گئے بریٹا پستول میں نے تکیے کے نیچے ہی رکھ دیا تھا ۔یوں بھی رات کے وقت کسی کے وہاں آنے کا امکان نہ ہونے کے برابرتھا ۔قبیل خان کے آدمی بھی اتنی سرعت سے ہمارے پیچھے وہاں نہیں پہنچ سکتے تھے ۔میں نے سوچ لیا تھا کہ اگلی صبح ڈی بلاک کر پہنچنے کی کوشش کروں گا ۔پلوشہ کا کام اب ختم ہو چکا تھا یقینا وہ خدا حافظ کرنے میں تاخیر نہ کرتی ۔اس کے ساتھ بہت اچھا وقت گزرا تھا ۔
موسم ایسا نہیں تھا کہ ہمیں رضائی لپیٹنے کی ضرورت پڑتی ۔تھکن کی وجہ سے میں زیادہ دیر تک سوچوں کا کھیل جاری نہیں رکھ سکا تھا ۔صبح میری آنکھ پلوشہ کے چارپائی سے اٹھنے پر ہوئی وہ شاید بیت الخلا کی تلاش میں باہر جا رہی تھی ۔میں لیٹا رہا ۔اس کی واپسی کافی دیر بعد ہوئی تھی ۔لیکن اس کے ایک ہاتھ میں پراٹھوں کا چھابہ اور دوسرے ہاتھ میں پکڑی کیتلی نے مجھے حیران کر دیا تھا ۔
”یہاں باورچی خانہ موجود ہے تھوڑا بہت سامان بھی پڑا تھا بس ایک دو تالے توڑنے پڑے۔“میری آنکھوں میں سوالیہ حیرانی دیکھتے ہوئے اس نے فوراََ وضاحت کر دی تھی ۔
میں نے پسندیدگی کے انداز میں سر ہلاتے ہوئے تھیلے سے پانی کی بوتل نکالی اورکمرے سے باہر جا کر پانی کے چھینٹے منہ پر مارنے لگا۔منہ دھوکر میں اندر آ گیا ۔وہ میری ہی منتظر تھی ۔ہم خاموشی سے ناشتا کرنے لگے ۔پلوشہ خاموش خاموش سی تھی۔ اس کی خاموشی میرے لیے حیران کن تھی لیکن میں نے اسے چھیڑنے کی کوشش نہ کی ۔
دودھ نہ ہونے وجہ سے اس نے قہوہ بنایا تھا ۔قہوہ پی کر اس نے میری جانب دیکھے بغیر آہستہ سے پوچھا ۔”تو اب کیا ارادہ ہے ؟“
”ارادہ کیا ہونا ہے ۔یہاں سے میں ڈی بلاک کا رخ کرتا ہوں اور تم پہنچو انگور اڈے ۔اب یوں بھی اپنا کام مکمل ہو گیا ہے ۔“
”کیا ....؟“مجھے اس کے چہرے پر غیض و غضب کے آ ثار ابھرتے نظر آئے ۔
اس کا غصہ میرے لیے حیران کن تھا ۔”اس میں حیران ہونے یا غصہ ہونے کی کیا بات ہے؟“میں پوچھے بنا نہیں رہ سکا تھا ۔
”تم ایک بزدل ،کم ہمت اور بے وقوف شخص ہو ۔مجھے تمھیں قتل کرنے کا ارادہ تبدیل نہیں کر نا چاہیے تھا ۔یقینا ماہین نے بالکل ٹھیک کیا تھا تمھارے ساتھ ۔تم ہو ہی اس قابل ۔“وہ بپھرتے ہوئے بولی۔
”تمھارا دماغ تو ٹھیک ہے؟“میں نے ہکلاتے ہوئے پوچھا۔ گواس کی گفتگو کا سر پیر ہی نظر نہیں آ رہا تھا ۔مگر ایک دم مجھے اس کی بے سروپا باتوں میں چھپا مکمل شکوہ نظر آنے لگا ۔وہ مجھے چھوڑ کر نہیں جانا چاہتی تھی ۔اور اس کے ساتھ اس کی یہ بھی خواہش تھی کہ میں اسے خود روکوں ۔مگر اب میں کوئی نیا زخم کھانے پر تیار نہیں تھا ۔وہ جتنی بھی با صلاحیت ہوتی ،جتنی بھی خوب صورت ،چنچل اور شوخ ہوتی میرے لیے عورت ذات تھی ۔ایک ایسی صنف جس سے مجھے ہمیشہ دکھ ،درد اور دھوکا ہی ملا تھا ۔
”اب ٹھیک ہو گیا ہے ۔بزدل، احمق ۔سڑتے رہو اکیلے ،بھاڑ میں جاﺅ ،میں تھوکتی بھی نہیں ہوں تم پر ،اتنے یوسف ثانی نہیں ہو کہ میں تمھارے پیچھے بھاگتی پھروں ۔“ایک ایک لفظ چبا کر کہتے ہوئے وہ مڑی چارپائی پر پڑی اپنی کلاشن کوف اٹھائی اور دروازے کی جانب بڑھ گئی ۔دروازے کے قریب پہنچ کر وہ ایک مرتبہ پھر رکی اور میرے جانب مڑتے ہوئے نیفے میں اڑسا گلاک نکال کر زہر خند لہجے میں بولی ۔
”اپنا کھلونا بھی پاس رکھو اور یہ پیسے بھی لے لو کہیں بعد میں پچھتاتے نہ رہو ۔“یہ کہتے ہوئے اس نے جیب سے پانچ پانچ ہزار والے چند نوٹ اور گلاک نائینٹین میری جانب اچھا ل دیے ۔
میں خالی خالی نظروں سے اسے جاتے دیکھتا رہا ۔میں جانتا تھا وہ جانا نہیں چاہتی تھی۔وہ میرے ساتھ رہنا چاہتی تھی ، میرے زخموں پر مرہم رکھنا چاہتی تھی ، مجھے سمیٹنا چاہتی تھی ،عورت ذات کے بارے میرے دل میں جو بغض اور کینہ بھرا تھا اسے ختم کرنا چاہتی تھی ۔لیکن مجھ میں اب اتنا حوصلہ نہیں تھا کہ دل پر کوئی تازہ گھاﺅ برداشت کر سکتا ۔حالانکہ وہ کئی بارپہلے بھی اشارے ،کنائے میں مجھے اپنی پسندیدگی باور کرا چکی تھی ،لیکن آج تو اس نے سب کچھ کھل کر کہہ دیا تھا ۔
کمرے سے نکلتے ہی وہ میری نگاہ سے اوجھل ہو گئی تھی کہ داخلی دروازہ اس کمرے سے نظر نہیں آتا تھا ۔اس کے باہر جاتے ہی مجھے یوں محسوس ہوا جیسے کمرے میں اندھیرا چھا گیا ہو ۔صبح کے آٹھ نو بجے مجھے تاریکی محسوس ہونے لگی تھی ۔اچانک مجھے اپنی سرگوشی سنائی دی ۔
”اب بھی وقت ہے اسے روک لو ۔“مگر میں اس تنبیہہ پر عمل نہ کر سکا اور اپنی جگہ پربیٹھا رہا ۔ لمحے گھڑیوں میں بیتے اور میں اسے نہ روکنے کے فیصلے پر پچھتانے لگا ۔یہ سوچتے ہوئے کہ پلوشہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے چلی گئی ہے مجھے سانس لینا دشوار لگنے لگاتھا ۔
”میں اب بھی اس کے پیچھے جا کر اسے واپس لا سکتا ہوں ۔“میں نے خود کو تسلی دی ۔لیکن اس کے ساتھ ہی یہ روح فرسا خیال میرے دماغ میں گونجا کہ وہ نہ جانے کس سمت کو گئی تھی اور پھر میرے پاس اس کے گھر کا پتا موجود نہیں تھا۔انگور اڈے میں وہ اپنے ماموں کے پاس رہتی تھی،لیکن نہ تو مجھے اس کے ماموں کا نام معلوم تھا اور نہ اس کے گھر کا پتا معلوم تھا ۔یہ بھی ممکن تھا کہ وہ اب وہاں سے بھی کہیں چلی جاتی اور پھر وزیرستان میں ایک لڑکی کو تلاش کرنا بھوسے کے ڈھیر سے سوئی تلاشنے سے بھی مشکل تھا۔ یوں بھی عورتیں عموماََ گھر میں رہتی ہیں ۔پردے کی بھی اچھی خاصی پابندی کی جاتی ہے ۔اس نے اپنے دشمن کو ٹھکانے لگا دیا تھا اب یقینا اس کی والدہ اور ماموں وغیرہ اس کے لڑکوں کی طرح گھومنے پر پابندی عائد کر دیتے ۔وہ خود بھی اپنی صنف سے بھاگ تو نہیں سکتی تھی ۔پہلے تو مجبوری کی وجہ سے اس نے لڑکے کا بھیس بھرا تھا اب تواسے ایسا کوئی مسئلہ نہیں تھا ۔سب سے بڑھ کر وہ عورت کے روپ میں قبیل خان کے آدمیوں سے چھپ سکتی تھی ۔پلو خان کو تلاش کرنے والے کب کسی پلوشہ کا برقع الٹنے کا سوچ سکتے تھے ۔ مجھے لگا میں موقع گنوا چکا ہوں بہ قول شاعر
میں خود تھا اپنی جان کے پیچھے پڑا ہوا
میرا شمار بھی تو میرے دشمنوں میں تھا 
”اس کے پاس آئی کام بھی تو تھا ۔“اچانک میرے ذہن میں خیال آیا اور میں اچھل پڑا ۔میں فوراََ چارپائی پر پڑے تھیلے کی جانب لپکا اور تھیلے کو چارپائی پر الٹ دیا ۔اندر سے برآمد ہونے والے دونوں آئی کام میرا منہ چڑا رہے تھے ۔
اسی وقت میری نظر اس کے فالتو لباس پر پڑی جو وہ اپنے ساتھ لائی تھی ۔ اگلے ہی لمحے اس کی کالی قمیص میرے ہاتھوں میں تھی ۔اسے چہرے سے لگاتے ہوئے میں نے ایک گہرا سانس لیا پلوشہ کے بدن کی مہک میرے رگ و پے میں اتر تی چلی گئی۔ قمیص کو بازوﺅں میں بھینچتے ہوئے میں اپنی چارپائی کے پاس آیا اور نڈھال انداز میں لیٹتے ہوئے میں نے وہ قمیص ہونٹوں سے لگا کرچہرے پر رکھ لی تھی ۔ 
”تم ایک بزدل ،کم ہمت اور بے وقوف شخص ہو۔“میرے دماغ میں اس کا غیض و غضب سے پر لہجہ گونجا ۔اور مجھے اس کے الفاظ پر یقین آ گیا ۔واقعی میں ایسا ہی تو تھا ۔اگر کم ہمت نہ ہوتا تو اسے کیوں کر جانے دیتا ۔خاص کر جب اس نے اتنے غصے کا اظہا رکر ہی دیا تھا اس کے بعد تو اسے روکنا میرا حق بنتا تھا ۔لیکن میں خود میں حوصلہ پیدا نہیں کر سکا تھا ۔میری یہ سوچ ہی غلط تھی کہ ہر عورت دھوکے باز ہوتی ہے ۔مجھے دھوکا تو صرف ماہین نے دیا تھا رومانہ بے چاری نے تو فقط اپنی شادی کی بات مجھ سے چھپائی تھی اور ایسا اس نے میری محبت میں ڈوب کر کیا تھا نہ کہ مجھے دھوکا دینے کی غرض سے ۔باقی جینفر تھی تو اس کا مسئلہ ہی علاحدہ تھا ۔اپنے ملک کے لیے اسے اتنا جھوٹ تو بولنا ہی چاہیے تھا ۔جانے میں کتنی دیر خود کو کوستا رہا ۔میرے سارے نظریات اور سوچوں پر پلوشہ کے جانے سے پانی پھیر گیا تھا۔دل کی ایک ہی رٹ تھی ”وہ مجھے چاہیے اور بس چاہیے ۔“
مجھے وہاں سے واپس جانا چاہیے تھا ۔اب وہاں رہنا مناسب نہیں تھا لیکن مجھ میں طاقت ہی ختم ہو گئی تھی ۔یوں لگ رہا تھا جیسے پلوشہ نہ گئی ہو میرے جسم کی طاقت کہیں چلی گئی ہو ۔
جاری ہے

No comments:

غازی از ابو شجاع ابو وقار قسط نمبر60 Ghazi by Abu Shuja Abu Waqar

Ghazi  by  Abu Shuja Abu Waqar  غازی از ابو شجاع ابو وقار  پیشکش محمد ابراہیم 60 آخری قسط نمبر  Ghazi by Abu Shuja Abu...

Powered by Blogger.