حیا از فاخرہ وحید قسط نمبر 18 Haya By Fakhira Waheed Episode No
حیا
از
فاخرہ وحید
حیا از فاخرہ وحید
18 قسط نمبر
Haya By Fakhira Waheed
Episode No 18
حیا
از
فاخرہ وحید
قسط 18
رات کا تیسرا پہر تھا. باہر ہوا تیز تھی. وقفے وقفے سے بادلوں کے گرجنے کی آواز آتی تو وہ چونکتا ورنہ بیسمنٹ تک باہر کی ہوا رستہ نہیں بنا پا رہی تھی.
کانفرنس میز سے آگے سامنے دیوار پر لگی گھڑی رات کے تین بجا رہی تھی.
میز پر کاغذ بکھرے پڑے تھے اور لیپ ٹاپ کو موڑ کر ٹیبلٹ موڈ پر کیا گیا تھا. سامنے سربراہی کرسی پر پین ہاتھ میں پکڑے وہ پچھلے آٹھ گھنٹوں سے مختلف تانے بانے جوڑنے کی کوشش کر رہا تھا. آنکھیں نیند سے بے حال. مگر فکر تھی کہ سونے نہیں دے رہی تھی.
شیری اسے ہمیشہ ہی بہت عزیز تھا مگر اپنی عادات کے باعث وہ اس قدر اس سے بات چیت نہیں کر پاتا تھا. آج پتا نہیں کیوں دل بے چین تھا. اسے شیری کی طلب ہو رہی تھی. ہاں ویسے ہی جیسے پیاسے کو پانی کی.
وہ اس سے باتیں کرنا چاہتا تھا. کچھ باتیں.
کہیں سے ایک جملہ اس کے کانوں میں گونجا تھا. آواز شیری کی تھی.
" تمغے یوں ہی نہیں ملتے." جملہ کسی بھی محب وطن کے لیے تریاق تھا. اس نے جملہ دہرایا.
"تمغے یوں ہی نہیں ملتے."
" پھر کیسے ملتے ہیں؟ " دماغ پر زور دیا.
"کیسے ملتے ہیں." جواب آرہا تھا. خوف سے کچھ گلے میں اٹکا. یہ جواب اسے نہیں سننا تھا. پین ہاتھ سے نیچے گرا. وہ اس آواز کو بند کر دینا چاہتا تھا. مگر خیالات کی آوازیں کب بند ہوتی ہیں. اس کی ہر کوشش دم توڑ گئی. بیسمنٹ میں پھر آواز گونجی تھی.
" مر کر ملتے ہیں تمغے."
کون بولا تھا؟ دماغ. ہاں یہ دماغ چلایا اور اس کا دل ڈوب گیا. اس نے دائیں ہاتھ کو منہ پر رکھا اور بائیں ہاتھ سے بال جکڑے.
شیری بچہ تھا. اسے نہیں جانا چاہئیے تھا. کاش وہ خود چلا جاتا اس کی ضدنہ مانتا.. لو ایک اور پچھتاوا. اور اس کے سینے میں تھوڑی گھٹن اور بڑھ گئی.
" کیا ایک اور زندگی اس کی وجہ سے.." وہ پورا سوچ بھی نہیں پایا تھا.
نہیں شیری کو وہ نہیں کھو سکتا تھا. وہ سب کچھ یوں ہی میز پر بکھرا چھوڑ کر اٹھ گیا. بہت انتظار ہو چکا.
وہ اپنے کمرے میں آیا. سیف سے گن اٹھائی. گولیا گنی. اور اسے سامنے اپنی پینٹ میں اڑیسا, سفیدشرٹ پینٹ سے کھینچ کر گن پر ڈال کر اسے چھپا دیا. سیف میں لٹکے کپڑوں کو ادھر ادھر کیا. کالا بلیزر کھینچا, یوں ہی ہینگر بیڈ پر پھینک دیا. اسے جلد وہاں جانا تھا. بلیزر کو پہنتا یوں ہی وہ کمرے سے نکل آیا. اس کا رخ باہر گیٹ کی طرف تھا.
*********************************************
یہ انسٹیٹیوٹ کے چوتھے فلور پر موجود ہال تھا. ہال میں قریباً پانچ سو کرسیاں لگی تھیں. سامنے اسٹیج تھا جو فرش سے چند انچ ہی اونچا تھا. اسٹیج پر چار قد آور کرسیاں تھیں, جن کے سامنے ایک میز جس پر چار ہی مائیک لگے تھے. دائیں طرف روسٹرم اور پیچھے دیوار پر آج کے سیشن سے متعلق پینا فلیکس تھا. اوپر لکھا تھا.
" نیو جنریشن, نیو پرابلمز "
"ملینیلز: وائے ہارڈ ٹو مینج؟"
(ملینیلز 'mallenials' انیس سو اسی کے ابتدا سے سن 2000 کے ابتدا میں پیدا ہونے والی جنریشن)
آہستہ آہستہ کرسیاں بھرنے لگیں اور پورے گیارہ بجے ہال کا دروازہ بند کر دیا گیا. ڈاکٹر ہارون دائیں طرف سے دوسری کرسی پر برا جمان تھے. سیشن شروع ہوا اور وہ قدم اٹھاتے روسٹرم کے پاس آکر کھڑے ہوئے.
" ہال میں موجود کوئی ایسا جوڑا ہے جس کے گھر میں ڈبا ٹی وی ہو؟ " آتے ہی سوال کیا. کئی گردنیں نفی میں ہلیں.
"کوئی ایسا جو مٹی کے گھر میں رہتا ہو؟" دوسرا سوال کیا. مسکراہٹیں نظر آئیں.
" کوئی جو آج بھی گدھے, گھوڑوں پر سفر کرتا ہو؟" وہ سنجیدہ تھے. مگر ہال والوں کے لیے یہ مزاح تھا.
"سر! اب تو جہاز آگئے ہیں." ہال سے آواز آئی. سر ہلاتے وہ مسکرائے. " ہاں یہ نیا زمانہ ہے"
"اچھا بچپن میں جب آپ شرارت کرتے تھے تو آپ کے والدین کیا کرتے تھے؟" ہال میں نظر دوڑائی.
"وہ آپ کو روکتے تھے؟ " ہال نے حمایت کی.
پھر آپ شرارت کرتے تھے تو وہ آپ کو ٹوکتے تھے. ایسا ہے؟" ہال نے پھر حمایت کی.
"اور آپ تب بھی بات نہیں مانتے تھے تو وہ کیا کرتے تھے؟" فوراً کسی نے کہا "ٹھوکتے تھے. "
ہال میں قہقہے ابھرے. لوگوں نے ایک دوسرے کی طرف نظروں کا تبادلہ کیا. ڈاکٹر ہارون کو اس لڑکے کے لفظ نے محفوظ کیا تھا.
" ہاں پھر وہ ٹھوکتے تھے" انہوں نے کہا تو پھر سب ہنس دیے.
"اچھا وہ تو پرانا دور تھا, مٹی کے گھروں کا, گدھے گھوڑوں کا اور ڈبے والے ٹی وی کا. اب جب آپ کے بچے آپ کی بات نہیں مانتے یا شرارت کرتے ہیں تو آپ کیا کرتے ہیں؟ "
"روکتے ہیں؟ ٹوکتے ہیں؟ اور پھر؟ پھر ٹھوکتے ہیں" حاضرین کے انداز میں کہا گیا.
ایسا ہی ہے؟ حمایت چاہی اور حمایت مل گئی.
بیٹا! جب سب بدل گیا ہے تو آپ کا پیرینٹنگ اسٹائل کیوں نہیں بدلا؟" بہت آرام سے کیے گئے سوال نے ایک لمحے کے لیے حاضرین میں ہلچل مچا دی تھی. اور پھر دوبارہ خاموشی چھاتی گئی.
"چلیں ٹھیک ہے ہو سکتا ہے یہ طریقہ کار آمد ہو تبھی آپ نے بھی اپنے والدین کا انداز اپنا رکھا ہے. تو بتائیں جب آپ اپنے بچے کو روکتے, ٹوکتے اور ٹھوکتے ہیں تو وہ آپ کی بات مان جاتا ہے؟ کبھی ایسا ہوا کہ آپ نے بچے کو روکا, ٹوکا, ٹھوکا اور کچھ دیر بعد بچا آپ کے پاس آیا ہو اور کہا ہو ماما آپ نے تو میری آنکھیں ہی کھول دیں." سامنے پھر قہقہے تھے. ڈاکٹر ہارون بھی زیر لب مسکرائے.
"یقیناً نہیں ہوتا! بلکہ تھوڑی دیر بعد دوبارہ بچہ وہ ہی سب کرنے لگ جاتا ہے. اس کا یہ مطلب ہوا کہ طریقہ ہے ہی غلط, اگر صحیح ہوتا تو کچھ نتیجہ نظر آتا. نہیں؟" سامنے سے حمایت ہوئی.
" بیٹا. اس جنریشن میں اور آپکی جنریشن میں بہت فرق ہے. یہ جنریشن آپ سے زیادہ ٹیلینٹڈ ہے. آپ کے ٹی وی کی سیٹنگ بدل جاتی ہے, یا رنگ ٹون بدل جاتی ہے تو آپ ان بچوں سے کہتے ہیں کہ صحیح کر دیں. زرا بتائیں جب آپ اپنے بچوں کی عمر کے تھے آپ کو یہ سب آتا تھا؟" کئی گردنین دائیں بائیں ہلی تھیں.
" اچھا ایک مثال لیتے ہیں. آپ نے گاڑی لینی ہے, سب گھر والے بیٹھے سوچ رہے ہیں کہ کون سی گاڑی لیں. آپ کی ملازمہ جھاڑو لگاتے وہاں آتی ہے اور کہتی ہے سر/ میڈم فلاں گاڑی لے لیں. کیا آپ اس کی بات مانیں گے؟" وہ روسٹرم چھوڑ کر آگے آ گئے.
"نہیں. " ہال میں سے آوازیں آئیں.
"کیوں؟ "
"کیونکہ اس کا اسٹیٹس لو ہے. دوسری قطار میں بیٹھی عورت نے کہا. " ڈاکٹر ہارون نے نفی میں گردن ہلائی.
یوں ہی ایک دو اور جواب آیا مگر ڈاکٹر ہارون مطمئن نہیں ہوئے.
"اچھا. اب آپ کو کسی مکینک نے کہا کہ آپ فلاں گاڑی لے لیں. آپ اس کی بات مانیں گے؟" انہوں نے پچھلی بات کی وضاحت کے لیے ایک اور سوال پوچھا.
"ہاں." لوگ حامی تھے.
"کیا مکینک کا اسٹیٹس آپ سے میچ کرتا ہے؟ "
"نہیں. "آوازیں آئیں.
"تو آپ نے ملازمہ کی بات کیوں نہیں مانی. اور مکینک کی کیوں مان لی؟" سوال مختلف انداز میں سامنے آیا. پھر خود ہی جواب دیا.
"کیونکہ ملازمہ کے پاس آپ سے کم ٹیلنٹ ہے اور مکینک کے پاس گاڑیوں کا آپ سے زیادہ ٹیلنٹ ہے. اس لیے آپ نے ایک کی بات مانی اور دوسری کی نہیں مانی." کئی سر اثبات میں ہلے.
"تو بیٹا! جب آپ کے بچے کے پاس آپ سے زیادہ ٹیلنٹ ہے تو وہ بھی آپ کی بات نہیں مانے گا کہ ماما یا پاپا کو تو کچھ نہیں پتا. " وہ خاموش ہوئے. ہال تالیوں سے گونجا.
"اسی طرح آ کے دور میں ٹیکنالوجی اس قدر نہیں تھی. آپ کو ٹیکنالوجی کا تجربہ بھی نہیں ہے, آپ کو لگتا ہے آپ کا بچہ بگڑ گیا ہے جبکہ آپ تو سدھرے ہوئے تھے." لوگ خود کو ان کی باتون سے ریلیٹ کر رہے تھے.
" تو جناب آپ اس لیے سدھرے ہوئے تھے کیونکہ بگاڑنے کو اس دور میں اتنا کچھ تھا ہی نہیں. نہ فیس بک تھی. نہ انٹر نیٹ تھا. نہ وڈیو گیمز تھی. "
" تو مطلب آپ سدھرے ہوئے تھے کیوں کہ بگاڑنے کو کچھ تھا ہی نہیں. ہاں اگر فیسبک ہوتی اور پھر بھی آپ کتابوں کو فیس کرتے تو میں مانتا. وڈیو گیمز ہوتیں پر آپ نہ کھیلتے تو بھی میں مانتا. " ہال میں سیٹیاں اور تالیاں بج رہی تھیں.
" کتنے لوگ ہیں یہاں جن کے بچے ان سے بچپن میں اپنی باتیں شئیر کرتے تھے؟" انہوں نے پیچھے دیوار تک نظر دوڑائی. بہت سے ہاتھ کھڑے ہوئے.
"اور کتنے لوگ ہیں جن کے بچے اب بڑے ہو کر بھی آپ سے اپنی باتیں شئیر کرتے ہیں؟ " بہت سے ہاتھ نیچے ہو گئے.
"جب وہ چھوٹے تھے اسکول سے آتے تھے. آپ ان سے پوچھتے تھے آج اسکول میں کیا ہوا, ٹیچر نے کیا کہا, کوئی دوست بنا نہیں بنا, کھانا کھایا تھا نہیں کھایا. وہ اپنی کوئی شرارت بتاتا آپ ہنس دیتے. اسی طرح وہ آپ کو اپنی باتیں بتاتا رہا. ایک دن وہ گھر آیا اور کہا ماما آج ہم سب دوستوں نے بنک کیا تھا. وہ اسی خوشی سے آپ کو بتا رہا تھا. مگر آپ کے تاثرات بدلے, آپ ہنسے نہیں بلکہ غصہ کیا. اسے ڈانٹا. "
"پھر کیا ہوا؟ کیا اس نے یہ سب کرنا چھوڑ دیا؟ نہیں. بلکہ بتانا چھوڑ دیا. فون پر پاسورڈ لگا لیا. تا کہ ماما کو کچھ نہ پتا چلے, بابا کو کچھ نہ پتا چلے. " وہ صرف مسائل ڈسکس کر رہے تھے. جواب سامنے بیٹھے لوگ خود بن رہے تھے.
" بیٹا بچے غلط نہیں ہیں. آپ کا رویہ غلط ہے. آپ کا ان کو ہینڈل کرنے کا طریقہ غلط ہے." آواز میں کرب تھا.
" آپ کہتے ہیں کہ کوے کا بیٹا کوا ہوتا ہے تو آپ کا بچہ بھی آپ کی طرح ہو, تو معزرت کے ساتھ ایسا نہیں ہو گا. "
"کیونکہ وہ آپ کا دور تھا جب بیٹے کا رول ماڈل باپ اور بیٹی کی آئیڈیل ماں ہوتی تھی. تبھی ڈاکٹر کا بیٹا ڈاکٹر اور درزی کا بیٹا درزی ہوتا تھا. اب والدین رول ماڈل نہیں رہے. اب درزی کا بیٹا ڈاکٹر بننا چاہتا ہے اور ڈاکٹر کا بیٹا ڈریس ڈزائنر. اسی طرح حجام کا بیٹا انجینئیر بننا چاہتا ہے اور انجینئیر کا بیٹا ہئیر ڈریسر. " الفاظ تھے کہ دل میں اترتے جا رہے تھے. رشتوں پر آئی گرد چھٹتی جا رہی تھی.
" ایک اور بہت بڑا مسئلہ بچوں کی ٹین ایج. مجھے پتا ہے والد اپنی بیٹیوں سے بہت پیار کرتے ہیں. مگر پھر بھی کچھ چیزیں ایسی ہیں جن پر آکر ان کا بیٹوں سے رویہ الگ ہوتا ہے اور بیٹی سے الگ. " چلتے ہوئے دوبارہ روسٹرم کی طرف گئے.
" یہاں کئی لوگ ہوں گے جن کے گھر اس چیز کو لے کر بے سکونی رہی ہو گی. بیٹا کسی لڑکی کو پسند کرے, راستہ روک کے کھڑا ہو, دن رات باتیں کرے, تو جوانی ہے. ٹائم پاس ہے. بیٹی کسی کو پسند کر لے تو توہین سمجھتے ہیں. اعتماد کھو دیتے ہیں. بات کرنا بند کر دیتے ہیں."
"پہلی بات انا بنا لیتے ہیں. اسے نفرت سے دیکھتے ہیں. اور اگر شادی وہیں کر بھی دیں اور وہ نہ چل سکے تو کہیں گے تمہاری ہی مرضی تھی. بھگتو. اور اگر ارینج میرج نہ چل سکے؟ " وقفہ دیا پھر دوبارہ بولے.
"تو کہیں گے نصیب تھا. میرا بیٹا میں یہ نہیں کہہ رہا کہ بچے اپنی مرضی سے ہی شادی کریں. پر سمجھیں آپ اپنے بچوں کو سمجھیں. خدا سے مشورہ لیں. ہو سکتا ہے یہ ہی اللہ کا فیصلہ ہو. ورنہ میں نے کئی ارینج میرج والوں کو سسکتے ہوئے زندگی گزارتے دیکھا ہے. "
" بیٹوں کو سمجھائیں. یہ بیٹیاں بڑی نازک ہوتی ہیں. چاہے اپنی ہوں یا دوسروں کی. ان سے گھر میں کوئ اونچی آواز میں بات کر لے تو رونے لگ جاتی ہیں تو بتائیں جن کو یہ بچے گلیوں محلوں, کالجوں کے باہر آوازیں کستے ہیں ان پر کیا گزرتی ہو گی؟ خدارا ان کا خیال کریں کہ پھر دکھی دل کی بد دعا بھی عرش تک جاتی ہے. " ایک لہر وہاں بیٹھی خواتین کی ریذھ کی ہڈی میں اٹھی تھی. بہت کچھ یاد آ گیا تھا.
" مدرز سے کہتا ہوں بچوں کو دینا سیکھائیں. ایدھی صاحب کہتے ہیں ان کی ماں ان کو دو دیتی تھی ایک خود کے لیے ایک کسی ضرورت مند کے لیے. اور آج کل کی مائیں کیا کرتی ہیں؟ بچا گھر آتا ہے تو کہتی ہیں خود کھایا یا کسی اور کو کھلایا؟ اگر کبھی ٹیچر کچھ چکھ لے تو اسکول پہنچ جاتی ہیں کہ اس نے میرے بچے کا ٹفن کھا لیا. یون وہ جان جاتا ہے کہ اس نے کسی کو نہیں دینا. اور جب وہ دیتا نہیں تو اس کے پاس آتا بھی نہیں ہے. پیسہ, پیار, محبت, علم سب دینے سے بڑھتے ہیں. " وہ رکے. ہال میں سناٹا تھا. ہر لفظ سچ ہی تو تھا.
" فادرز سے کہتا ہوں یار سخت باپ نہ بنو. آپ کے اصول لاکھ ٹھیک سہی پر وقت بدل گیا ہے. زمانہ اپ ڈیٹ ہو گیا ہے آپ اپناطریقہ بھی اپ ڈیٹ کر لیں. وہ آپ کے بچے ہیں. آپ کا ان کا نہ کوئی مقابلہ ہے اور نہ ہی کوئی موازنہ ہے. ان سے ضد نہ لگائیں. وہ آپ سے دور ہو جائیں گے. " وہ خاموش ہو گئے.
چائے کا وقفہ تھا. مہمانوں اور حاضرین میں کھانے کے باکس اور جوس کے ڈبے بانٹے گئے. آدھے گھنٹے بعد وہ دوبارہ اٹھ کر روسٹرم کے پیچھے کھڑے ہوئے. مائیک سیٹ کیا اور بات آگے بڑھائی.
"دو طرح کے والدین ہیں ایک وہ جو بچوں کو آذاد چھوڑ دیتے ہیں اور ایک وہ جو پابند کر دیتے ہیں. دونوں طریقے غلط ہیں. بیلنس لانا سیکھیں. "
" اپنے بچے کو دماغی طور پر تھوڑا آذاد کریں, اسے فیصلہ لینے دیں کہ اسے کیا بننا ہے. آپ اس خوف سے کہ وہ غلط فیصلہ نہ کر لے اس کے سارے فیصلے خود لیتے رہتے ہیں اور پھر ہوتا یہ ہے کہ اسے فیصلہ لینا ساری زندگی نہیں آتا. اسے اپنے پروں کے نیچے سے نکالیں پلیز, تھوڑی گرم ہوا لگنے دیں. ہمارے ہاں تو ٹیچر بھی بچے کی طرف انگلی اٹھا دے تو انگلی کاٹنے پہنچ جاتے ہیں ہم. بھئی تھوڑا سیکھنے دیں اسے اور انسان اپنی ہڈیوں سے ہی سیکھتا ہے. اسے ذمہ داری دیں. " الفاظ پر زور دیا.
"مغرب میں بچہ بلوغت کو پہنچتا ہے اور ماں باپ ہاتھ اٹھا لیتے ہیں کہ اپنی ذمہ داری خود اٹھاؤ. امریکہ کے سابق صفر اباما کی بیٹی ایک ریسٹورنٹ میں ویٹرس تھی. اسی طرح ایک بڑی طاقت کے وزیر اعظم کا بیٹا لوگوں کے گھروں مین اخبار ڈالتا تھا. کیا ان کے پاس پیسہ نہیں تھا کہ اپنے بچوں کو سکون کی زندگی دیتے؟ آپ سے زیادہ وسائل تھے پر انہوں نے بچوں کو باہر نکالا تا کہ وہ ذمہ داری اٹھانا سیکھ سکیں. "
"آج آپکا بچہ غلط فیصلے لے گا تو ہی کل صحیح فیصلے لے سکے گا. "
" وہ اپنے کیریر میں جو کرنا چاہتا ہے کرنے دیں. مجبور مت کریں. کہ تم نے ڈاکٹر ہی بننا ہے. وہ نہ بن سکا تو ساری زندگی یہیں اٹک جائے گا. اگر وہ فیل ہو جاتا ہے زندگی کے کسی میدان میں تو اسے نالائق تصور نہ کریں. میں کہتا ہوں ناکامی قسمت والوں کو ہی نصیب ہوتی ہے. ہو سکتا ہے جس دروازے کو اپنے بچے کا نصیب سمجھ کر آپ دستک دلوا رہے ہوں زبردستی کھلوانے کی کوشش کر رہے ہوں وہ اس کا ہو ہی نا. اتنے بچے ہر سال تعلیمی وجوہات کی بنا پر خود کشی کر لیتے ہیں. یار جب بچہ ہی نہیں رہے گا تو ڈاکٹر انجینیر کا کیا کریں گے آپ؟ "
" میں ان خوش قسمت لوگوں میں سے ہوں جن کو ناکامی ملی. میرے والدین کی خواہش تھی میں ایم بی بی ایم ڈاکٹر بنوں. نہیں بن سکا. بہت طعنے سنے. بہت کچھ سہا. بالآخر سائیکالوجی میں ایڈمیشن لیا اور آج خدا کا شکر ادا کرتا نہیں تھکتا کہ اس وقت اگر فیل نہ ہوا ہوتا تو آج یہاں کھڑا یہ سیشن نہ دے رہا ہوتا. "
مائیک خاموش ہو گیا. ہال کا سناٹا ٹوٹا. تالیوں کی آواز گونجی. لوگوں کو لگا وہ ان کی ہی بات کر کے گئے ہیں ہر لفظ ان کی اپنی زندگی ہی تو تھا. وہ واقعی الفاظ سے شفا دے دیتے تھے اور اس وقت بہت سے والدین اور بچوں کے رشتے کو نئی زندگی مل گئی تھی.
*********************************************
خدا سے شکوے کرنا تو اس نے کب سے چھوڑ دیے تھے. الفاظ رک گئے تھے. مگر آنسو؟ وہ تو اپنے آپ گرنے لگ جاتے تھے. خود کو کمپوز کیے وہ اسی چھوٹے سے کمرے میں بیٹھی تھی. سامنے کرسی پر ٹانگ پر ٹانگ دھرے ڈاکٹر ہارون. وہ اسے کسی بات کے لیے منا رہے تھے. وہ ان کو کبھی منع نہیں کر سکتی تھی مگر اسے لگا یہ اس کی کی اوقات سے باہر ہے. وہ ڈاکٹر ہارون کی جگہ سیشن ڈلیور نہیں کر سکتی تھی. ان کے الفاظ میں شفا تھی. مگر وہ تو خود مریضہ تھی.
" سر! میرے پاس نہ آپ کی طرح الفاظ کا ذخیرہ ہے اور نہ ہی اتنا نالج. میں کبھی بھی آپکی طرح سیشن ڈلیور نہیں کر سکتی." وہ ٹھہر ٹھہر کر بولی تو ڈاکٹر ہارون نے ٹانگ سے ٹانگ اتاری, مسکرائے.
" تو آپ سے کون کہہ رہا ہے آپ میری طرح سیشن دیں؟ آپ اپنی طرح سیشن دیں." انہوں نے دوٹوک کہا اور الفاظ کے ردوبدل پر اس کے ہونٹوں پر بھی مسکراہٹ پھیلی.
"رہی بات نالج کی تو بیٹے اکیلا نالج کچھ نہیں ہوتا."
"تجربہ اور علم." دونوں ہاتھوں کی انگلیاں قریب لائے.
"طاقت بن جاتے ہیں." انگلیاں آپس میں ملا کر طاقت دکھائی.
"علم تم کتابوں سے لے سکتی ہو, تجربہ کچھ ہے کچھ مل جائے گا." ڈاکٹر ہارون کے بولتے بھلا کون بول سکتا تھا؟ وہ بھی چپ چاپ سنتی رہی.
" یہ چند کتابیں ہیں." انہوں نے سامنے میز پر پڑی کتابوں کی طرف اشارہ کیا.
" تقریباً پندرہ دن تو ہیں ہی. آپ ان کتابوں کو پڑھ لیں.دوسروں کے تجربوں سے سیکھنا آرٹ ہے اور کتابوں میں دوسروں کے ہی تجربے درج ہوتے ہیں." وہ کچھ بول نہین پائی. سر جھکائے سنتی رہی.
" یہ سیشن ہر صورت آپ کو ہی دینا ہے. کیونکہ مجھے کل انگلینڈ جانا ہے, وہاں انسانیات سے متعلق ایک ایونٹ ہے جو ایک کے بعد ایک شہر میں منعقد ہو گااور میں پاکستان کو ری پریزنٹ کر رہا ہوں." ان کی آواز سے ایکسائٹمنٹ ظاہر تھی.
" تو ایک ماہ لگ ہی جائے گا. " انہوں نے سوچنے کے سے انداز میں سر ہلایا.
" پر سر! آپ کسی اور سے کہہ دیں. میرے میں یہ قابلیت نہیں ہے. میرے سے قابل لوگ ہیں انسٹیٹیوٹ میں" اس کی سوئی وہیں اٹکی تھی. ڈاکٹر ہارون نے بغور اسے سنا اور گہرا سانس لیا.
" حیا! ایک کہانی سنو گی؟ " کچھ کہے بغیر حیا نے اثبات میں گردن ہلائی. مگر اسے سیشن ڈلیور نہیں کرنا تھا اس نے سوچ لیا تھا.
" ایک آدمی ایک اسکول کے سامنے غبارے بیچا کرتا تھا. کاروباری ذہن تھا تو جب بچوں کو چھٹی ہوتی تو وہ ان کو دکھانے کے لیے, امیز کرنے کے لیے چند غبارے ہوا میں چھوڑ دیتا. گیس سے غبارے اڑتے چلے جاتے. بچے انکو اڑتا دیکھتے تو بڑھ کر غبارہ خرید لیتے. یوں اگر وہ چار غبارے چھوڑتا تو چالیس بک جاتے. دس چھوڑتا سو بک جاتے." حیا کو دیکھتے وہ کہتے جا رہے تھے.
" ایسے ہی چلتا رہا. مگر غبارے والے نے دیکھا کہ ایک بچہ جس کا رنگ کالا سیاہ ہے." انہوں نے کالے سیاہ پر زور دیا. "وہ بس دور کھڑا دیوار سے لگا غباروں کو اڑتا دیکھتا ہے مگر خریدتا نہیں ہے. اسے پتا لگا کہ وہ بچہ غریب ہے. اس نے بچے کو بلایا اور کہا 'بیٹا پیسے نہیں ہیں تو کوئی بات نہیں تم یوں ہی مفت کا غبارہ لے لو' بچے نے بات سنی اور کہا, ' انکل بات یہ نہیں ہے بس میرا ایک سوال ہے کہ آپ اتنے دن سے غبارے اڑا رہے ہیں, آپ بلیک غبارہ کیوں نہیں اڑاتے؟ غبارے والے کو سمجھ آئی کہ بچے کو کمپلیکس ہے کیوں کہ اس کا اپنا رنگ کالا ہے. تو اس نے ایک کالا غبارہ لیا اور ہوا میں چھوڑا اور پھر ایک بات کہی. " حیا کے تاثرات دیکھے پھر آگے بولے.
"کہ بیٹا, یہ نیلا, پیلا, لال, ہرا کچھ نہیں ہوتا, اڑتا وہ ہی ہے جس کے اندر کچھ ہوتا ہے. " آخری جملہ کہتے انہوں نے بغور حیا کی آنکھوں میں جھانکا.
"حیا بیٹا! قابل وہ ہی ہے جس کے اندر کچھ ہے."
"اور اگر میں آپ کو یہ موقع دے رہا ہوں تو سمجھ جائیں وہ 'کچھ' میں نے آپ کے اندر دیکھا ہے."
"میں مجبور نہیں کروں گا. کیونکہ چاہے میں بار بار کہتا رہوں دیٹ یو کین ڈو دس. ساری دنیا کہتی رہے حیا کین ڈو دس. پر اگر آپ کا دل کہے گا نا کہ آئی کانٹ ڈو دس.تو آپ واقعی نہیں کر سکو گی. اور اگر پوری دنیا کہتی رہے ہم سب کہتے رہیں کہ آپ یہ نہیں کر سکتی, اور آپ کا دل کہے کہ آپ یہ کر سکتی ہو تو آپ یہ کر کے دکھاؤ گی. " وہ خاموش ہو گئے.
حیا جو انکار کرنے کے لیے الفاظ ڈھونڈ رہی تھی اب ان کا منہ تک رہی تھی. اس آدمی کے الفاظ میں کیا تھا؟ اس کادل بدل گیا تھا. وہ ابھی سے خود کو وویمن کالج کی لڑکیوں کے سامنے بولتا دیکھ رہی تھی. ایک بڑا سیشن ڈاکٹر ہارون نے اسے سونپ دیا تھا, وہ خوش قسمت ہے.اس نے سوچا. کل کے آنسوؤں کی کڑواہٹ اس لمحے زائل ہو گئی تھی.

No comments: