Ads Top

ﻧﺎﻭﻝ سنائپر از ریاض_عاقب_کوہلر قسط نمبر 26

ﻧﺎﻭﻝ  سنائپر 

 از 

 ریاض_عاقب_کوہلر


سنائپر
قسط نمبر 26
ریاض عاقب کوہلر

اسی وقت کسی کو خیال آیا اور اس نے ساﺅنڈ سسٹم بند کر دیا ۔پانچ چھے آدمی میرے اور انار گل کے ساتھیوں کے درمیان میں آ گئے تھے ۔وہاں پر اس کے چار ساتھی اور بھی موجود تھے ۔
ثقلین خان نزدیک آ کر تشویش بھری نظروں سے لاشوں کو دیکھنے لگا ۔
”یہ کیا کر دیا تم لوگوں نے ۔“اس کی آواز میں غم وغصہ ابل رہا تھا ۔
میں اکھڑ پن سے بولا ۔”بالکل وہی کیا ہے جو کرنا چاہیے تھا۔میرا دوست پیشہ ور ناچنے والا نہیں ہے ۔وہ تو بس سردارزادہ دلدار کے کہنے پر ناچ رہا تھا ۔اور اس گھٹیا انسان نے سب کے سامنے اسے بے عزت کرنے کی کوشش کی ۔“
”انار گل کو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا ۔“میرے دائیں جان کھڑے جوان نے واضح انداز میں میری تائید کی ۔میں نے اس کی جانب دیکھا۔وہ وہی تھا جو میرے سر پر پیسے پکڑ رہا تھا ۔
”چلو انار گل کی تو خیر ہے ،شمس کو تو نہیں مارنا چاہیے تھا ۔“ایک آدمی نے میری گولی سے مرنے والے کا نام لیا ۔
میں نے کہا ۔”پہل اس نے کی تھی ،کیا میں چپ چاپ تماشاد یکھتا رہتا ۔“
میری بات کے جواب میں تین چار آدمی مسلسل بولنے لگے ۔انار گل کے ساتھی بھی تمتمائے ہوئے چہرے کے ساتھ ہمیں خطرناک نتائج کی دھمکیاں دے رہے تھے ۔
اچانک مجھے اپنے بازو پر کسی کا لمس محسوس ہوا ۔میں اس کی طرف دیکھا، وہ پلوشہ تھی ۔میرے متوجہ ہوتے ہی وہ دبی زبان میں بولی ۔
”We need to run away from here“ 
”اتنا آسان ہے نا ؟“میں نے بھی انگریزی ہی میں جواب دیا تھا ۔
”میں جا رہی ہوں مجھے روکنے کے بہانے تم بھی پیچھے آ جانا ،اگر موٹر سائیکل تک پہنچ گئے تو پھر نکلنا مشکل نہیں ہوگا ۔“اس کے تیز دماغ نے ایک منٹ میں تجویز سوچ لی تھی ۔
”ٹھیک ہے ۔“میں نے فوراََ اثبات میں سر ہلادیا ۔
اس وقت ثقلین خان لوگوں کو لاشوں سے دور ہٹنے کا کہہ رہا تھا ۔انار گل کے ساتھی شور کر رہے تھے کہ وہ اسی وقت بدلہ لیں گے ۔
دلدار خان اور اس کے دو تین دوست انھیں ٹھنڈا کرنے کی تگ و دو میں تھے ۔
ثقلین خان پلوشہ کو مخاطب ہوا ۔”لڑکے تمھیں اس طرح نہیں کرنا چاہیے تھا ۔بلا شبہ غلطی انار گل کی بھی تھی لیکن تمھیں انتہائی قدم نہیں اٹھانا چاہیے تھا ۔“
”چچا جان آپ بھی اس خبیث کی طرف داری کر رہے ہیں ،ٹھہرو میں اپنے حاجی چچا کو بلاکر لاتا ہوں ۔“پلوشہ نے بہانہ گھڑنے میں دیر نہیں کی تھی ۔یہ کہتے ہوئے وہ تیز قدموں سے بیرونی دروازے کی طرف چل پڑی ۔
”نہیں پلو خان !....حاجی صاحب کو کچھ نہ بتا نا ....رک جاﺅ ....ہم خود اس معاملے سے نبٹ لیں گے ۔“میں نے با آواز بلند اسے پکارا ۔مگر وہ سنی ان سنی کرتے ہوئے دروازے کی جانب بڑھتی رہی ۔
”پلو خان !....واپس آ جاﺅ ۔“میں نے ایک بار پھر اسے پکارا ۔اس وقت وہ دروازے کے پاس پہنچ چکی تھی ۔
ثقلین خان مجھے مخاطب ہوا ۔”جوان اسے جانے نہ دو ۔جب تک فیصلہ نہیں ہوجاتا یہ کہیں نہیں جا سکتا ۔“
”ٹھیک ہے سردار !....میں اسے پکڑ کر لاتا ہوں ۔بچہ ہے نا ڈر گیا ہے اور چاہتا کہ اس کا کوئی سر پرست یہاں موجود ہو ۔“ثقلین خان کو یہ کہہ کر میں نے ساتھ کھڑے آدمی کی طرف اپنی کلاشن کوف بڑھاتے ہوئے کہا ۔”بھائی جان !....ایک منٹ یہ گن پکڑو میں اس بے وقوف کو پکڑ لاﺅں ۔“
اس آدمی نے بے اختیار میرے ہاتھ سے گن تھامی اور میں جلدی سے دروازے کی طرف بڑھ گیا ۔
”یہ کہاں جا رہا ہے ۔“دروازے کی طرف بڑھتے ہوئے میرے کانوں میں انار گل کے ایک ساتھی کی آواز گونجی ،مگر میں دھیان دیے بغیر تیز قدموں سے چلتا رہا ۔
”وہ اپنے دوست کو پکڑنے جا رہا ہے ۔“جس آدمی کو میں نے گن پکڑائی تھی غالباََ اسی نے جواب دیا تھا ۔دروازے سے نکلتے ہی میں نے دیکھا پلوشہ موٹر سائیکل اسٹارٹ کر چکی تھی ۔
”پلو خان !....رک جاﺅ ۔“میں نے چیخ کر زوردار انداز میں کہا اور اس کی جانب اس طرح بھاگنے لگا گویا اسے روکنا چاہتا ہوں ۔قریب پہنچتے ہی میں نے بغیر کسی تاخیر کے اس کے پیچھے نشست سنبھال لی ۔وہ میری ہی منتظر تھی ۔میرے بیٹھتے ہی اس نے کلچ چھوڑتے ہوئے موٹر سائیکل بھگا دی ۔
”وہ بھاگ رہے ہیں ۔“میں نے اپنے عقب میں ایک چیختی ہوئی آواز سنی ۔پلوشہ نے گیئر تبدیل کرتے ہوئے رفتا کچھ اور بڑھا دی تھی ۔اس حویلی تک آنے کے لیے سو دو سو گز کا رستا بنا ہوا تھا اس کے بعد پختہ سڑک تھی ۔ پلوشہ چند سیکنڈز میں سڑک تک پہنچ گئی تھی ۔دائیں جانب موٹر سائیکل موڑتے ہوئے اس نے رفتار کم کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی تھی ۔میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا دروازے سے چند آدمی دوڑتے ہوئے نکلے اوردیوار کے قریب کھڑی ڈبل کیبن کی طرف بڑھ گئے ۔
اس کے ساتھ ہی کلاشن کوف کے فائر کی تڑتڑ میرے کانوں میں پڑی ۔دروازے کے قریب کھڑے ہو کر ایک آدمی ہمیں نشانہ بنانے کی کوشش کر رہا تھا ،مگر اس کا کوئی فائدہ اس لیے بھی نہیں تھا کہ کلاشن کوف سے تین سو میٹر کے فاصلے تک نشانہ لے کر فائر کیا جا سکتا ہے اور ہم اس سے زیادہ فاصلے پر آچکے تھے ۔پلوشہ جس طرح موٹر سائیکل چلا رہی تھی شاید اس مہارت سے میں بھی نہ چلا سکتا ۔ہنڈا ایک سو پچیس گولی کی سی رفتار سے آگے بڑھ رہی تھی ۔گلاک نائنٹین میں نے ہاتھ میں پکڑ لیا تھا ۔پلوشہ والی کلاشن کوف میں یوں بھی وہیں چھوڑ آیا تھا ۔اس کلاشن کوف کی وجہ ہی سے انھیں میرے لوٹنے کی امید تھی ورنہ وہ مجھے اتنی آسانی سے پلوشہ کے پیچھے نہ جانے دیتے ۔ڈبل کیبن کے روڈ پر چڑھنے تک ہم کافی دور نکل گئے تھے ۔وہ اس رفتار سے موٹر سائیکل دوڑا رہی تھی کہ مجھے اچھا خاصا خوف محسوس ہو رہا تھا ۔لیکن اس کی جگہ میں ہوتا تب بھی شاید موٹر سائیکل اسی رفتار ہی سے دوڑاتا ۔
اس کے کان کے نزدیک منہ لے جا کر میں نے پوچھا ۔”کہاں جائیں گے ؟“
”پتا نہیں ....“
”وہ ہمارے تعاقب میں آرہے ہیں اور ان کے پاس ڈبل کیبن ہے ۔یقینا وہ جلد ہی ہمیں آ لیں گے ۔“
”علام خیل تک تو سڑک ہی پر جانا پڑے گا ۔یہاں کوئی ایسا رستا موجود نہیں ہے جس پر موٹر سائیکل دوڑ سکے ،البتہ کہتے ہو تو موٹر سائیکل چھوڑ کر پیدل بھاگتے ہیں ۔“اس نے قریباََ چیختے ہوئے میری بات کا جواب دیا تھا ۔
”جو مناسب سمجھو کرو ۔“میں نے ساری ذمہ داری اسی کے سر پھینکتے ہوئے جان چھڑائی ۔
وہ جواب دیے بغیر اسی رفتار میں موٹر سائیکل بھگائے چلی گئی ۔سڑک کے بائیں ہاتھ نالہ تھا اور دائیں ہاتھ پہاڑیاں ۔اگر ہم دائیں طرف موٹر سائیکل اتارتے تو سو ڈیڑھ سو گز سے زیادہ آگے نہیں جا سکتے تھے جبکہ دائیں ہاتھ یوں بھی ڈھلان تھی ۔
ایک خطرناک موڑ کے قریب آتے ہوئے پلوشہ نے موٹر سائیکل کی رفتار ذرا سی کم کی اسی وقت ہمیں اپنے عقب میں کلاشن کوف کی تڑتڑاہٹ سنائی دی ،لیکن ابھی تک وہ چند سو میٹر دور تھے ۔موڑ کاٹ کر پلوشہ نے دوبارہ رفتار بڑھا دی ۔موٹر سائیکل کی رفتار زیادہ ہونے کے باوجود ڈبل کیبن آہستہ آہستہ ہمارے قریب آتی جارہی تھی ۔علام خیل عبور کر کے نالے کی کھڑی چڑھائی ڈھلان میں تبدیل ہو جاتی تھی وہاں ہم انھیں جل دے کر نکل سکتے تھے ۔یقینا یہی بات پلوشہ کے ذہن میں بھی تھی اسی لیے اس نے سڑک ہی پر جانے کا خطرہ مول لیا ہوا تھا ۔علام خیل کی آبادی کے آثار نظر آتے ہی میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا ،ڈبل کیبن تین چار سو گز دور ہی تھی ۔مجھے اطمینان سا محسوس ہوا کہ اب ہمارے بچنے کی امید پیدا ہو گئی تھی ۔مگر میرا یہ اطمینان اس وقت گہری پریشانی میں ڈھل گیا جب میں نے سامنے سے ایک ڈبل کیبن کو آتے دیکھا ۔وہ ڈبل کیبن علام خیل سے نکل کرآندھی و طوفان کی طرح ہماری طرف بڑھنے لگی ۔یقینا انھوں نے اپنے ساتھیوں کو وائرلیس سیٹ پر اطلاع دے دی تھی ۔اور ہم دونوں ایسے بے عقل تھے کہ یہ خیال بھی ہمارے ذہنوں میں نہ آیا کہ علام خیل تو قبیل خان کا علاقہ ہے ۔
”مارے گئے ۔“میرے منہ سے بے ساختہ نکلا ۔پلوشہ دوسری ڈبل کیبن کو دیکھتے ہی موٹر سائیکل کی رفتار کم کرنے لگی ۔ہم دائیں بائیں پیدل بھاگ کر نکل سکتے تھے لیکن اس وقت یہ کوشش کرنا خود کشی کے مترادف تھا ۔سامنے والی گاڑی ہمارے قریب پہنچ چکی تھی ۔
ہم سے دس پندرہ قدم کے فاصلے پر گاڑی روک کر چار مسلح آدمی باہر نکل آئے ،اسی وقت عقبی گاڑی بھی قریب آ کر رک گئی ۔اس میں انار گل کے چاروں ساتھی سوار تھے ۔
ہمارے تعاقب میں آنے والوں میں سے ایک نے آتے ہی میرے منہ پر تھپڑ رسید کیا ۔
”خییث کا بچہ ،تمھارا کیا خیال تھا بھاگ جاﺅ گے ۔“
اس وقت منہ کھولنے کا مطلب اپنی کم بختی کو دعوت دینے کے مترادف تھا ۔مجھے ایک اور تھپڑ سے نواز کر وہ پلوشہ کو گندی گالی بکتے ہوئے بولا۔
”تمھارے ساتھ تو میں وہ کروں گا کہ کسی کو بتا بھی نہیں سکو گے ۔“پلوشہ بھی خاموش رہی تھی ۔ علام خیل سے آنے والی گاڑی سے اترنے والے ایک شخص نے مجھے تھپڑ مارنے والے کو کہا ۔
”فیروز خان!....کمانڈر روشن خان نے کہا کہ انھیں وہیں حویلی میں لے آئیں ۔“
”اسے حویلی میں لے جانے کی کیا ضرورت ہے ۔“فیروز خان نے میرے جانب اشارہ کرتے ہوئے معنی خیز لہجے میں کہا ۔”حویلی کے لیے ”قراراراشہ “ کافی ہے ۔“اس کا گھٹیا اشارہ پلوشہ کی جانب تھا ۔
”نہیں روشن خان نے دونوں کو زندہ لانے کا حکم دیا ہے ۔“
”چلو چند منٹ اور سانس لے لو ۔“مجھے کہہ کر وہ اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گیا ۔
”چلو ۔“فیروز خان سے بات کرنے والے نے مجھے کلاشن کوف کی نال سے گاڑی کی طرف چلنے کا اشار ہ کیا ۔
”عصمت خان !....اس مجنوں کے پاس پستول اور چھوکرے کے پاس تیز دھار خنجر موجود ہے ۔“گاڑی کے قریب پہنچتے ہوئے اچانک فیروز خان کو یاد آیا اور اس نے اپنے ساتھی تک یہ بات پہنچانے میں ایک سیکنڈ بھی نہیں لگایا تھا ۔
”ادھر دو ۔“کہتے ہوئے عصمت خان نے فوراََ ان ہتھیاروں کا مطالبہ کرتے میری جانب ہاتھ بڑھایا ۔میں نے نیفے میں اڑسا پستول نکال کر اس کی جانب بڑھادیا جبکہ پلوشہ نے فرماں برداری سے پنڈلی کے ساتھ بندھا خنجر اس کے ہاتھ پر رکھ دیا ۔ہمارے ہاتھ پشت پر باندھ کر انھوں نے ہمیں گاڑی کی باڈی میں بٹھایااور آگے بڑھ گئے ۔
پچھلی گاڑی کا ایک آدمی ہماری موٹر سائیکل پر بیٹھ دونوں گاڑیوں کے درمیان چلنے لگا ۔گاڑی کی باڈی میں ہمارے ساتھ دو آدمی بیٹھ گئے تھے ۔پانچ دس منٹ کے اندر ہم قبیل خان کی وسیع و عریض حویلی کے پاس پہنچ گئے تھے ۔اس کی حویلی اور بیٹھک کی دیوارملی ہوئی تھی ۔بیٹھک کا رقبہ حویلی سے زیادہ تھا ۔بلکہ قبیل خان کی بیٹھک رقبے میں ثقلین خان کی بیٹھک سے بھی بڑی تھی ۔
دونوں گاڑیاں آگے پیچھے دوڑتی ہوئی بیٹھک کے دروازے پر پہنچیں ۔دروازے پر کھڑے ہتھیار بردار چوکیدار نے سرعت سے دروازہ کھول دیا ۔گاڑیوں کے اندر گھستے ہی اس نے جس تیزی سے دروازہ کھولا تھا اسی رفتار سے دروازہ بند کر دیا۔
بیٹھک کے صحن میں کمروں کی قطار کے بالکل سامنے ایک جہازی سائز چارپائی پر ٹانگیں پسارے روشن خان لیٹا تھا ۔اس کے زخمی پاﺅں پر مجھے سفید پٹیاں لپٹی نظر آئیں ۔یہ وہی پاﺅں تھا جو میری گولی کا نشانہ بنا تھا ۔
ہمیں گاڑی سے اتار کر اس کے سامنے کھڑا کر دیا گیا ۔
”ہونہہ!....تو یہ ہیں وہ سورما ۔“اس نے منہ بگاڑ کر طنزیہ لہجے میں پوچھا ۔
”جی کمانڈر ۔“فیروز خان نے جواب میں سر ہلایا۔
وہ فیروز کی طرف متوجہ ہوا ۔”مجھے ذرا تفصیل سے پوری بات بتاﺅ ۔“
جواباََ فیروز خان نے تمام تفصیل دہرا دی ۔
”اس چھوکرے نے انارگل کو قتل کیا ہے ۔“روشن کے لہجے میں بلا کی حیرانی تھی ۔جواباََ فیروز خان نے منہ سے کچھ کہنے کے بجائے اثبات میں سر ہلادیا ۔
”اورتم نے شمس خان کو گولی ماری ہے ۔“وہ براہ راست مجھے مخاطب ہوا ۔
”پہل اس کی طرف سے ہوئی تھی ۔اس نے میرے ساتھی کو گولی مارنے کی کوشش کی اور اپنے بچاﺅ کے لیے ہر آدمی گولی چلانے کا حق رکھتا ہے ۔“
میں نے جونھی زبان کھولی اس کے چہرے پر حیرت بھرے تاثرات اجاگر ہوئے ۔
”تمھارا نام کیا ہے ؟“دونوں ہاتھوں کو ٹیک کر اس نے اپنا اوپری دھڑ سیدھا کیا ۔اسی وقت وہاں کھڑے ایک آدمی نے جلدی سے دو بڑے تکیے اس کی کمر کے ساتھ لگا دیے ۔
”ذیشان۔“میں محتاط انداز میں بولا۔
”تمھاری آواز سنی سنائی لگتی ہے ۔کیا ہم اسے پہلے مل چکے ہیں ۔“
”یقینا نہیں ۔“میں نے نفی میں سر ہلایا۔
”فیروز خان !.... تھوڑی دورلے جا کر اس کی میرے ساتھ مخابرے(وائرلیس) پر بات کراﺅ۔“
”میں سمجھا نہیں کمانڈر ۔“فیروز خان حیران رہ گیا تھا ۔
وہ وضاحت کرتا ہوا بولا۔”میں بس اپنا شک دور کرنا چاہتا ہوں ۔اسے دروازے کے قریب لے جا کر اس کی میرے ساتھ مخابرے پر بات کراﺅ۔“
مجھے پتا چل گیا تھا کہ اس نے مجھے پہچان لیا ہے ۔یقینا اپنی زندگی کے سب سے بڑے دشمن کی آواز کیسے اس کی سماعتوں کو بھول سکتی تھی ۔
”میرا خیال ہے اس کی ضرورت نہیں ہے روشن خان ۔“میں نے اس ڈرامے سے جان چھڑانے کے لیے اعتراف کرنا مناسب سمجھا تھا ۔
”شمس خان کو گولی کس جگہ پر لگی ہے ۔“وہ فیروز کان کی طرف متوجہ ہو کر مستفسر ہوا ۔
”ماتھے پر ۔“فیروز خان اب تک گومگو کی کیفیت میں تھا ۔
”ہونہہ!....“اوپر نیچے سر ہلاتے ہوئے روشن خان نے گہری نگاہ مجھ پر ڈالی ۔”تو تم ایس ایس ہو ۔“
”ہاں ،مگر انار گل کو ہم نے کسی منصوبے سے قتل نہیں کیا ۔اس نے میرے دوست کے ساتھ غلط حرکت کرنے کی کوشش کی اور نتیجہ اسے بھگتنا پڑا ۔“
”اور شمس کا کیا قصور تھا ؟“ 
”پہل اس نے کی تھی ۔اگر میں اسے گولی نہ مارتا تو اس نے میرے دوست کو قتل کر دینا تھا ۔“
”بہت پیار ہے اپنے دوست سے ۔“قبیل خان نے معنی خیز لہجے میںپوچھا ۔
”روشن خان !....جب بات دوستی کی آجائے تو پھر پیار محبت ثانوی چیز رہ جاتی ہے ۔“
روشن خان نے منہ بناتے ہوئے جواب دیا ۔”فلسفے بیان نہ کرو جوان !....اس لڑکے کی شکل دیکھ کر پتا چل رہا ہے کہ تمھاری کتنی کچھ دوستی ہے ۔بہ ہر حال یہ میرا درد سر نہیں ہے ۔میرا مسئلہ یہ ہے کہ تمھارے دوست یا معشوق نے میرے ایک اہم آدمی کو چھوٹی سی بات پر قتل کر دیا ہے اور تم نے بدلہ لینے کی کوشش کرنے والے آدمی کو گولی مار دی ۔اب سوال یہ ہے کہ کیا ہمیں بدلہ لینے کا حق ہے یا نہیں ہے ؟ اور جواب یہ ہے کہ بالکل ہے ۔“ایک لمحہ کی خاموشی کے بعد اس نے مسکرا کرمیری طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔”ویسے تم اپنے دل جانی کو گولی مار کر جان بچا سکتے ہو ۔“
جواباََ میں ہونٹ کاٹ کر رہ گیا تھا ۔پلوشہ سے کوئی جذباتی لگاﺅ نہ ہونے کے باوجود میں ایسی بے غیرتی نہیں کر سکتا تھا ۔
مجھے خاموش پا کر وہ اعتماد بھرے لہجے میں بولا۔”مجھے معلوم تھا کہ تم ایسا کچھ نہیں کرو گے ۔ اور یقینا جس کے لیے تم ایسا کر رہے ہواگر اسے موقع ملا تو وہ پیچھے نہیں ہٹے گا ۔“یہ کہتے ہوئے وہ پلوشہ کی جانب متوجہ ہوا ۔”لڑکے !....تمھارا کیا خیال ہے ۔کیا اسے گولی مار کر اپنی جان بچانا چاہو گے ؟“
”ہاں ۔“پلوشہ نے اطمینان بھرے انداز میں سر ہلاد یا ۔
مجھے سخت قسم کی توہین اور خفت محسوس ہوئی لیکن میں خاموش رہا ۔
”دیکھ لیا ۔“اپنے اندازے کی درستی پر وہ مسکرایا۔”خیرگھبراﺅنہیں میں نے تمھارے لیے کچھ اور سوچ رکھا ہے ۔“یہ کہہ کر وہ میرے ساتھ کھڑے فیروز کو مخاطب ہوا ۔”اپنی کلاشن کوف مجھے دو اور اپنے سارے آدمیوں کو کہو کہ کہ جناب ایس ایس کو اپنے ہتھیاروں کے نشانے پر رکھ لیں ۔“
فیروز خان نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے اپنی کلاشن کوف اس کی جانب بڑھائی اور اپنے آدمیوں کی طرف متوجہ ہوگیا ۔تمام نے اپنے کلاشن کوفیں ہاتھوں میں تھامتے ہوئے مجھ پر نشانہ سادھ لیا تھا ۔اتنی کلاشن کوف کی گولیاں لگنے کے بعد میں صرف اسی صورت میں زندہ بچ سکتا تھا کہ میں پنجابی فلموںکا ہیرو ہوتا ۔میں زیر لب کلمہ شہادت دہرانے لگا کہ یہی ایک مسلمان کا شیوہ ہے ۔مگر روشن خان کی اگلی بات نے میرے دل کی دھڑکن تیز کر دی تھی ۔وہ فیروز خان کو مخاطب تھا ۔
”اخکلی جانان دیوال سرا اودروااو دے پہ سر یو گلاس کیکدا۔“(خوب صورت محبوب کو دیوار کے ساتھ کھڑا کرو اور اس کے سر پر ایک گلاس رکھ دو )
فیروز خان کے چہرے پر ایک منحوس مسکراہٹ نمودار ہوئی یقینا اسے پتا چل گیا تھا کہ روشن خان کا مطمح نظر کیا ہے ۔اس نے پلوشہ کو دیوار کی طرف چلنے کا کہا اور اور روشن خان کی چارپائی کے ساتھ لکڑی کی میز پر پڑا گلاس اٹھا لیا ۔وہ ایک وسیع بیٹھک تھی ۔صحن کے درمیان سے دیوار تک اچھا خاصا فاصلہ بن رہا تھا ۔پلوشہ فیروز خان کے کہنے پر خاموشی سے دیوار کی طرف مڑ گئی تھی ،دیوار کے ساتھ کھڑا کر کے فیروز خان نے اس کے سر پر گلاس رکھ دیا ۔
روشن خان نے فیروز خان کی کلاشن کوف کاک کر کے میری جانب بڑھا دی ۔ ”یہ لو ایس ایس اب تمھاری اور تمھارے دوست کی زندگی کا دارومدار تمھاری نشانے بازی کی مہارت پر ہے ۔اگر تم نے ایک گولی سے اپنے دوست کے سر پر رکھے گلاس کو نشانہ بنا دیا تو میں وعدہ کرتا ہوں تمھیںمع موٹر سائیکل اور دوسرے سامان کے یہاں سے جانے کی اجازت دے دوں گا ۔اور تمھارے یہاں سے نکلنے کے ادھ گھنٹا تک کوئی بھی تمھارا پیچھا نہیں کرے گا ۔البتہ اس کے بعد فیروز خان کے آدمیوں نے تمھیں پکڑ لیا تو میری ذمہ داری ختم ۔اور اگر تم نشانہ نہ بنا سکے تو میں فیروز خان کے آدمیوں کو نشانہ آزمانے کا موقع دوں گا۔“
روشن خان نے مجھے عجیب مخمصے میں ڈال دیا تھا ۔مجھے اپنے نشانے پر بھروسا اور اعتماد تھا لیکن ایسا موقع اس سے پہلے میری زندگی میں کبھی نہیں آیا تھا کہ کسی کی زندگی کا دارومدار اس بات پر ہوتا کہ میرے گولے نشانے پر لگنے کی صورت میں اس کی زندگی بچ جائے گی ۔
”کس سوچ میں ڈوبے ہو ایس ایس !....“روشن خان استہزائی انداز میں پوچھا ۔”یاد ہے تم نے اڑھائی تین سو میٹر کی دوری سے مجھے کہا تھا کہ اگر میں نے آڑ سے ایک ہاتھ بھی باہر نکالا تو وہ ہاتھ میرے جسم کا حصہ نہیں رہے گا ۔یہ فاصلہ تو اس کے آدھے سے بھی کم ہے اور گلاس بھی اچھا خاصا حجم رکھتا ہے ۔“
”مجھے تین گولیاں چاہئیں تاکہ میں ہتھیار کو جانچ سکوں ۔“ایک لمحہ سوچنے کے بعد میرے منہ سے پھنسی پھنسی آواز نکلی ۔
”ٹھیک تین لے لو مگر تیسری گولی اس لیے ہو گی کہ دو میں نشانہ نہ بنا سکے تو تیسری گولی اپنے دل میں مارنا جہاں تمھارا محبوب بسا ہے ۔“ یہ کہہ کر اس نے بلند بانگ قہقہہ لگا یا تھا ۔اور چارپائی پر پڑی میگزین سے دو گولیاں نکال کر میری طرف بڑھا دیں ۔”یہ لو ،لیکن ایک گولی فائر کرنے کے بعد ہی تمھیں دوسری گولی لوڈ کرنے کا حق ہو گا ۔
میں نے گولیاں اس کے ہاتھ سے لے کر جیب میں ڈالیں اور زمین پر بیٹھ کر پلوشہ کے دائیں جانب مگر اس سے دس پندرہ گز کے فاصلے پر زمین پر پڑے اینٹ کے ایک ٹکرے پر نشانہ سادھنے لگا ۔ کلاشن کوف پر میں نے سو میٹر کی رینج لگا لی تھی ۔ایک سنائپر کے لیے کسی بھی چیز کو نشانہ بنانے کے لیے سب سے زیادہ اہمیت اس ہتھیار کی ہوتی ہے جو اس کے ہاتھوں میں ہوتا ہے ۔اسی وجہ سے سنائپر ز اپنے ہتھیار کی حفاظت اور دیکھ بھال اپنی جان سے بھی بڑھ کر کرتے ہیں ۔لیکن اس وقت میرے ہاتھوں میں ذاتی ہتھیار نہیں تھا ۔اور پھر اتنی باریک بینی سے فائر کرنے کے لیے ضروری تھا کہ کوئی سنائپر رائفل ہوتی۔ کلاشن کوف اور وہ بھی کسی دوسرے کی ....اس سے کسی آدمی کے سر پر رکھے گلاس کو نشانہ بنانا ناممکن نہیں تو بہت مشکل ضرور تھا ۔سب سے بڑھ کر اگر نشانہ خطا جاتا تو فیروز خان کے آدمی اپنا نشانہ آزماتے گویا پلوشہ کی موت یقینی ہو جاتی اور اس کے بعد لازماََ میرا نمبر آجاتا ۔
سورج پہاڑیوں کے پیچھے گم ہو چکا تھا لیکن اس کے غروب ہونے میں ابھی بیس پچیس منٹ باقی تھے ۔ روشنی کی صورت حال ایسی تھی جو ایک فائرر کے لیے پسندیدہ ہوتی ہے ۔میں نے زیادہ دیر نشانہ سادھنے پر نہیں لگائی تھی ۔ٹریگر دباتے ہی کلاشن کی گولی اس اینٹ کے ٹکڑے کی تھوڑا سا دائیں اور نیچے کی طرف لگی تھی ۔اب میرے پاس دو گولیاں باقی تھیں ۔استاد عمردراز کے بہ قول اچھے سنائپر کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ وہ ایک گولی چلا کر ہتھیار کا نشانہ جانچ لے ۔اسی طرح راﺅ تصور صاحب کہا کرتے تھے کہ جو سنائپرکسی ہتھیار سے ایک گولی چلا کر یہ اندازہ نہیں کر پاتا کہ ہتھیار کس جگہ گولی مار رہا ہے اسے سنائپنگ چھوڑ کر گڈریا بن جانا چاہیے ۔اپنے دو نوں استادوں کے اقوال میرے دماغ میں گونج کر رہ گئے تھے ۔
اگر میں دوسری گولی بھی ہتھیار کا نشانہ جانچنے پر استعمال کر لیتا تو پلوشہ کے سر پر رکھے گلاس کو نشانہ بنانے کے لیے میری پاس ایک گولی بچتی ۔یوں بھی مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ کلاشن کوف کی گولی دائیں اور نیچے کی طرف لگ رہی ہے ۔
میں نے کلاشن کوف کی بیرل پلوشہ کے سر کی جانب موڑی ۔اور ایک دم میرا دل زور زور سے دھڑکنے لگا ۔اس کے چہرے پر مجھے بے فکری اور بے خوفی کے تاثرات صاف نظر آ رہے تھے ۔اس کے بہادر اور نڈر ہونے کا مجھے پہلے سے معلوم تھا، لیکن اس حالت میں کم از کم تھوڑی بہت پریشانی کے آثار تو اس کے چہرے پر نمودار ہونے چاہیے تھے ۔نامعلوم اسے میرے نشانے پر اعتماد تھا یا پھر موت کا کوئی خوف اس کے دل میں موجود نہیں تھا ۔میں نے گلاس کے اوپری اور بائیں کنارے کا نشانہ سادھا تھا کیونکہ کلاشن کوف دائیں اور نیچے مار کر رہی تھی ۔پسینے سے میری ہتھیلیاں گیلی ہو گئی تھیں ۔فائر کرتے ہوئے اتنی زیادہ گھبراہٹ مجھے اس سے پہلے کبھی نہیں ہوئی تھی ۔نہ جانے کیوں ایک دم پلوشہ کی اہمیت میرے دل میں بڑھ گئی اور اس کی موت کا سوچ کر میرے ہاتھ پاﺅں گویا بے جان سے ہونے لگے تھے ۔ حالانکہ میری سوچ کے مطابق تو اس کا میری زندگی میں کوئی کردار نہیں تھا ۔ بہ قول اس کے وہ میری جان کے درپے تھی۔بلکہ چند منٹ پہلے ہی روشن خان کے پوچھنے پر اطمینان بھرے انداز میں مجھے گولی مارنے پر تیار ہو گئی تھی ۔لیکن اس سب کے باوجود میرے دل کو کچھ ہو رہا تھا ۔یوں جیسے وہ میرے لیے بہت اہم ہو ،یوں جیسے وہ حقیقت میں میرا قریبی دوست ہو ،یوں جیسے اس کے نہ ہونے سے میری زندگی میں کوئی بہت بڑا خلا پیدا ہو جائے گا ،یوں جیسے ماہین ،جینیفر اور رومانہ بھی میرے لیے اتنی اہم نہیں رہی تھیں جتنا وہ تھی ۔
میرے ساتھی سنائپر مجھے بہت تیز رفتار فائرر سمجھا کرتے تھے ۔اور اس میں شک بھی نہیں تھا کیونکہ میں شست لینے میں چند سیکنڈ سے زیادہ وقت نہیں لیا کرتا تھا ۔لیکن اس وقت میری انگلی ٹریگر کو دبا ہی نہیں پا رہی تھی ۔اسی وقت میرے کانوں میں روشن خان کی طنزیہ آواز پڑی ۔
”ایس ایس !....سو تو نہیں گئے ہو ۔بہترہو گا کہ تمھی اس گلاس کو نشانہ بنا لو ورنہ یقین مانو فیروز خان کے آدمیوں کا نشانہ بہت برا ہے ۔ان کی سر پر چلائی گئی گولی پیٹ میں لگتی ہے ۔“تمام روشن خان کی بات پر زور زور سے ہنسنے لگے تھے ۔
میری نظریں گلاس سے پھسل کر پلوشہ کے چہرے پر گردش کرنے لگیں وہ یوں بے فکری سے کھڑی تھی گویا کسی ڈرامے یا فلم کی شوٹنگ میں حصہ لے رہی ہو ۔میں نے ایک گہرا سانس لیا اور دوبارہ گلاس پر نظریں گاڑ لیں ۔میرے اساتذہ کہا کرتے تھے کہ زیادہ دیر شست لینے سے گولی کے دائیں بائیں نکل جانے کا خطرہ ہوتا ہے ۔لیکن اس وقت نہ تو میں راﺅ تصور صاحب کی نصیحت پر کان دھرنے پر تیار تھا ، نہ استاد عمر دراز کی ماننے پر راضی اور نہ کسی اور استاد کی سننے کو تیار ۔
”میں دس تک گنوں گا اگر اس دوران تم نے گولی نہ چلائی تو مجبوراََ مجھے کسی اور کو موقع دینا پڑے گا ۔“روشن خان نے دھمکی دینے والے انداز میں کہا اور با آواز بلند گنتی گننے لگا ۔
”ایک ....دو....تین ....چار....پانچ ....چھے ....سات........“
مجھے لگا کہ میرے ہاتھوں میں ہلکی ہلکی لرزش ہو رہی ہے ۔میں نے آخری بار اپنی شست کے صحیح ہونے کا اندازہ کیا اور اس کے نو کہتے ہی ٹریگر دبا دیا ۔
اس کے ساتھ ہی میں نے آنکھیں بند کر لی تھیں لیکن میری سماعتوں میں سٹیل کے گلاس سے گولی کے ٹکرانے کی آواز اور پھر گلاس کے دیوار سے ٹکرا کر نیچے کی گرنے کی آواز پہنچ گئی تھی ۔اس آواز نے میری بے ربط ہوئی دھڑکنوں کو سنبھالا دیا اور میں نے آنکھیں کھول دیں ۔
پلوشہ کے چہرے پر ویسے ہی اطمینان بھرے تاثرات چھائے تھے ۔روشن خان تعریفی لہجے میں بولا ۔
”ایس ایس مجھے معلوم تھا کہ تم آسانی سے اپنے معشوق کو بچا لو گے ،بہ ہر حال تمھارے پاس آدھا گھنٹا ہے اس کے بعد میری ذمہ داری ختم سمجھو ۔“مجھے کہتے ہوئے وہ فیروز خان کی طرف متوجہ ہوا ۔ ”فیروز خان !.... سامان اس کے حوالے کر دو ۔“
”جی کمانڈر ۔“کہہ کر اس نے گلاک پستول اور موٹر سائیکل کی چابی میرے حوالے کر دی ۔
”شکریہ روشن خان ۔“پستول نیفے میں اڑستے ہوئے میں نے موٹر سائیکل چابی ہاتھ میں پکڑتے ہوئے پلوشہ کو چلنے کا اشارہ کیا ۔مجھے لگ رہا تھا کہ میں کسی بہت بڑی آزمائش سے باہر نکلا ہوں ۔
روشن خان نے ایک دم میرے سر پر بم پھوڑا۔”ایس ایس !....جانے کی اجازت تمھیں دی ہے اس لڑکے کو نہیں ۔“میں اس کی طرف مڑا ۔”روشن خان !....تم اپنے الفاظ سے پھر رہے ہو ۔“
”نہیں ،بالکل بھی نہیں ۔“وہ اطمینان سے بولا ۔”تم نے میری جان بخشی کی تھی ،میں بھی تمھیں جان کی معافی دے رہا ہوں۔“
”مگر تم نے پہلے کچھ اور کہا تھا ۔“غصے سے میری آواز تبدیل ہو گئی تھی ۔
”میں نے کہا تھا کہ تمھیں جانے دوں گا اور تمھیں سے مراد تم دونوں نہیں صرف تم ہو ۔“
ہم دونوں بحث میں پڑے تھے مجھ پر کلاشن کوفیں تاننے والے بھی ہم دونوں کی طرف متوجہ تھے ۔پلوشہ اس وقت فیروز خان کے قریب کھڑی تھی ۔اچانک میرے کانوں میں فیروز خان کی زور دار کراہ پڑی ۔میں نے اس طرف دیکھا وہ گھٹنوں کے بل گر گیا تھا اور اس کی کلاشن کوف تھامتے ہوئے پلوشہ اس کے عقب میں ہو گئی تھی ۔دائیں بائیں کھڑے آدمیوں نے اپنی کلاشن کوفیں اس کی طرف سیدھی کیں لیکن اگر وہ گولی چلاتے تو ان کی گولی پہلے فیروز خان کو لگتی ۔میرے پاس سوچنے کا وقت نہیں تھا۔میں نے فوراََچھلانگ لگائی اور ایک ہاتھ حیران و پریشان روشن خان دائیں کندھے سے نیچے گزار کر دوسراہاتھ اس کی گردن سے لپیٹ کر اسے پیچھے گھسیٹ لیا ۔
تکلیف بھری آواز اس کے منہ سے خارج ہوئی لیکن میں اسے گھسیٹ کرقریبی دیوار کے قریب ہو گیا ۔گلاک پستول اس کے سر سے لگا کر میں دھاڑا” اگر کسی نے حرکت کرنے کی کوشش کی تو اس کا سراس کے جسم کا حصہ نہیں رہے گا ۔“
”تم بچ نہیں سکتے ۔“روشن خان خرخرایا۔
میں اطمینان سے بولا ۔”مگر اس سے پہلے تمھارا نمبر آئے گا ۔“
پلوشہ کلاشن کوف کی نال فیروز کان کے سر سے لگا کر خود اس کے عقب میں کھڑی تھی ۔
”ٹھیک ہے تم دونوں جا سکتے ہو ۔“روشن کان تکلیف سے کراہتا ہوا بولا ۔یہ الفاظ اس کے منہ میں تھے کہ فیروز خان کے ایک ساتھی نے پلوشہ کی طرف کلاشن کوف تان کر دو تین گولیاں فائر کیں ۔لیکن یہ ایک اضطراری حرکت تھی گولیاں فیروز خان اور پلوشہ کے سر کے اوپر سے گزر گئی تھیں ۔اس کے ساتھ ہی وہ غرایا۔
”ہتھیار پھینک دو ورنہ ....“مگر ورنہ سے آگے وہ کچھ بولنے کے قابل نہیں رہا تھا ۔روشن خان کی گردن سے پستول ہٹا کر میں نے اس کی طرف گولی داغ دی تھی ۔وہ ترچھا میرے سامنے کھڑا تھا۔ گولی اس کے بائیں کان سے دو انچ اوپر کھوپڑی میں پیوست ہو ئی تھی ۔اس کے دوسرے ساتھی نے ایک دم کلاشن کوف کا رخ میری جانب موڑ کر فائر کھول دیا ۔تین چار گولیاں روشن خان کی چھاتی میں لگی تھیں ۔میں نے فوراََ روشن خان کے موٹے جسم کی پناہ میں ہو گیا ۔اس کے ساتھ ہی میرے کانوں میں کلاشن کوف کی مسلسل تڑتڑاہٹ کی آواز گونجی ۔وہ پلوشہ تھی اس نے مزید انتظار کیے بغیر ہاتھ میں پکڑٰ کلاشن کوف کو برسٹ پر سیٹ کرتے ہوئے بیرل گھما دی تھی ۔تین بندے نیچے گرے اور چار آڑ کی تلاش میں بھاگے ۔میں نے ایک دم پستول سیدھا کرتے ہوئے دو تین دفعہ ٹریگر دبایا ۔دو آدمی مزید گر گئے تھے۔اسی وقت بھاگتے ہوئے دونوں آدمی ایک کمرے میں گھس گئے تھے ۔دوسرے کمرے سے ایک آدمی بھگا کر باہر نکلا اور پلوشہ کی گولی کا شکار ہو کر نیچے گر گیا ۔ہمیں وہاں موجود آدمیوں کی صحیح تعداد کا اندازہ نہیں تھا ۔میں بھاگتا ہوا موٹر سائیکل کی طرف بڑھ گیا ۔پلوشہ نے مسلسل فائرکرتے ہوئے میگزین خالی کی اور پھر ہاتھوں میں موجو دکلاشن کوف نیچے پھینک کر اس نے ایک مرے ہوئے آدمی کی کلاشن کوف اٹھا لی ۔میں موٹر سائیکل اسٹارٹ کر کے داخلی دروازے کے قری پہنچا اور دروازہ کھولنے لگا ۔پلوشہ گھٹنا ٹیک کر مسلسل اس دروازے کی جانب فائر کر رہی تھی جس میں وہ دونوں غائب ہوئے تھے ۔بغیر کسی شک و شبہ کے وہ ایک تریت یافتہ کمانڈو کی طرح میرا ساتھ دے رہی تھی ۔جب تک میں نے دروزاہ کھول کر موٹر سائیکل باہر نہ نکال لی وہ زمین پرلیٹ کر کمرے کی جانب مسلسل فائر کرتی رہی ۔وہ کمرے میں جانے والوں کو کوئی موقع نہیں دینا چاہتی تھی کہ وہ ہماری جانب فائر کر سکے ۔موٹر سائیکل باہر نکالتے ہی میں نے ہارن بجایا ۔وہ زمین سے اٹھ کر الٹے قدموں پیچھے آنے لگی ۔قریب آتے ہی میرے پیچھے نشست سنبھالتے ہوئے وہ بولی ۔”چلو ۔“وہ موٹر سائیکل کے کیریئر کی جانب منہ کر کے بیٹھی تھی ۔میری پیٹھ کے ساتھ اس نے پیٹھ جوڑ دی تھی ۔یقینا وہ اپنے عقب کو غیر محفوظ نہیں چھوڑنا چاہتی تھی ۔
اس کے کہنے سے پہلے ہی میں کلچ چھوڑ کر ریس گھما دی تھی ۔موٹر سائیکل آگے بڑھی اور اس کے ساتھ اس نے فائر کھول دیا۔میں نے اپنی توجہ موٹر سائیکل چلانے پر مبذول رکھی ۔
سڑک پر چڑھتے ہی میں نے پوچھا ۔
”کہاں جانا ہے ؟“
”انگور اڈے تک تو نہیں پہنچ پائیں گے ،بہتر یہی ہے کہ موٹر سائیکل کمانڈر عبدالحق کے حوالے کر کے پیدل ہی کہیں نکلنے کی کوشش کریں گے ۔“یہ کہتے ہی وہ گھوم کر سیدھی بیٹھ گئی کیونکہ قبیل خان کے آدمی ابھی تک باہر نہیں نکل پائے تھے ۔
”دماغ تو ٹھیک ہے ۔“میں نے موٹر سائیکل کی رفتار بڑھاتے ہوئے پوچھا ۔
”ٹھیک ہوتا، تو تمھارے ساتھ ہوتی ۔“
میں نے طنزیہ انداز میں کہا ۔”بڑا احسان ہے تمھار ا۔یہ جو ابھی بھگت کر آرہے ہیں اس کی وجہ میں ہی تو ہوں ۔“
”اگر وجہ میں ہوں تو تمھارے جیسے اناڑی نشانہ باز کا سامنا بھی تو مجھے ہی کرنا پڑا ۔“
”ہا....ہا....ہاصحیح کہا ۔“اس مرتبہ میں نے کھلے دل سے قہقہہ لگاتے ہوئے اس کی تائید کی تھی ۔
”ہی ....ہی ....ہی ۔“ نقل اتارے ہوئے اس نے مجھے چڑایا ۔
مجھے معلوم تھا کہ قبیل خان کے آدمی ہماری تلاش میں سڑک ہی پر حرکت کریں گے لیکن اس کے باوجود میں اس وقت تک سڑک نہیں چھوڑ سکتا تھا ۔جب تک کسی محفوظ جگہ پر نہ پہنچ جاتا۔ اچانک میرے ذہن میں خیال آیا کہ ان کے جو آدمی انگور اڈہ میں موجود تھے وہ ہمیں پکڑنے میں اپنے آدمیوں کی مدد کر سکتے تھے۔جیسے انھوں نے ہمیں علام خیل میں گھیر لیا تھا ۔یہ سوچتے ہی میں ایک دم رک گیا ۔
”اب کیا ہوا ؟“
”کہیں ان کے آدمی رستے ہی پر ہمارے منتظر نہ ہوں ۔“میں نے دل میں پلنے والا اندیشہ اس کے سامنے بیان کر دیا ۔
وہ فوراََ بولی ۔”اسی لیے تو پہلے سے منع کر دیاتھا، مگر تم نے پہلے بھی کسی کی سنی ہے ۔“
ایک لمحہ سوچنے کے بعد میں نے موٹر سائیکل اس جانب موڑ دی جس طرف میں اور سردار قبیل خان کے سالے خائستہ گل کو لے گئے تھے ۔
”اب کس طرف چل پڑے ؟“
” فی الحال اپنی جان بچانے کے لیے ہمیںکسی ایسی جگہ چھپنا پڑے گا جہاں قبیل خان کے آدمی ہمیں ڈھونڈ نہ سکیں ۔“
”بڑے عقل مند ہو گئے ہو ۔“میرے پیٹ میں انگلی چبھوتے ہوئے وہ مسکرائی ۔
میں نے بر ا مناتے ہوئے کہا ۔”تمھیں کتنی بار منع کیا ہے کہ میرے ساتھ بے تکلف ہونے کی کوشش نہ کیا کرو ۔“
”افف،قسم سے کتنا دکھاوا کرتے ہو ،ورنہ گلاس پر گولی چلاتے وقت تمھارا سانس نکلا جا رہا تھا۔“
میں نے دانت پیستے ہوئے کہا ۔”وہ اس وجہ سے کہ میں نہیں چاہتا تھا کوئی بے گناہ میرے ہاتھوں جہنم رسید ہو ۔“
”بس کرو یا ر!....میں جانتا ہوں ۔“
میں اس کی فضول بات کا جواب دیے بغیر موٹر سائیکل آگے بڑھاتا گیا۔اندھیرا آہستہ آہستہ گہرا ہوتا جا رہا تھا ۔
”اگر موٹر سائیکل مجھے چلانے دو تو شاید ہمیں کسی محفوظ جگہ پہنچنے میں آسانی ہو ۔“
”آرام سے بیٹھی رہو ۔“اسے جھڑکتے ہوئے میں نے رفتار بڑھا دی ۔تمام رستا پتھریلا تھا موٹر سائیکل اچھلتی ہوئی آگے بڑھتی رہی ۔ ہیڈ لائیٹ جلانا میری مجبوری بن گئی تھی ۔ورنہ روشنی کے دور سے نظر آنے کا خطرہ بہت زیادہ تھا ۔اس وقت ہم ایک نالے میں سفر کر رہے تھے ۔آگے جا کر یہ اس نالے کے ساتھ بھی مل رہا تھا جس میں ہم نے خائستہ گل کو قتل کیا تھا ۔لیکن میں نے اس طرف نہیں مڑا تھا کیونکہ اس نالے میں دو تین سو میٹر آگے جا کر چڑھائی اتنی سخت ہو جاتی تھی کہ موٹر سائیکل پر سفر کرنا ممکن نہیں رہنا تھا ۔
نالہ پہلے تو سڑک کے ساتھ متوازی چلتا رہا آگے جا کر آہستہ آہستہ سڑک سے دور ہٹنے لگا ۔ سڑک ہمارے دائیں ہاتھ رہ گئی تھی ۔اندھیرا مزید گہرا ہونے لگا تھا ۔
”کیا تم بتا سکتی ہو کہ یہ نالہ آگے کس جگہ جا کر نکلے گا ؟“
وہ بے پرواہی سے بولی ۔”جب تم نے اپنی مرضی ہی کرنی ہے تو ،ضرورت کیا ہے پوچھنے کی ۔“
”جتنا پوچھا جائے اتنا جواب دیا کرو،کیونکہ تم میرے ساتھ کام کرنے کا معاوضا وصول کر کے خرچ بھی کر چکی ہو ۔“میرے لہجے میں طنز کے بہ جائے مزاح کا عنصر نمایاں تھا ۔جانے کیوں اس سے بے تکلف ہونے کو دل کرنے لگ گیا تھا ۔یا شاید پہلے ہی سے دل کر رہا تھا مگرجبر کرکے خود پر سنجیدگی اور بے زاری طاری کر رکھی تھی ۔
”ہونہہ!....بہت باتیں کرنا آ گیا ہے ۔“اس نے طنزیہ انداز اپنانے کی کوشش کی مگر لہجے میں شامل خوشی نہیں چھپا سکی تھی ۔
” محترما !.... اس بار دشمن کے ہاتھ چڑھ گئے توپوچھ گچھ میں وقت ضائع نہیں کریں گے ۔“
”پہلی بات تو یہ کہ میں محترما نہیں ہوں اورتم بار بار مجھے اسی طرح مخاطب کررہے ہو ، دوسرا پہلے ہم بے خبری میں مار کھا گئے تھے ۔“
”اب کون سی توپ ہے تمھارے پاس ۔ایک کلاشن کوف اور پستول سے کب تک مقابلہ کریں گے ۔“
وہ زور دار انداز میںبولی ۔”ڈرپوک....“
اور پھر میرے جواب دینے سے پہلے موٹرسائیکل جھرجھرا کر خاموش ہو گئی ۔
”یک نہ شد دو شد ....“خود کلامی کے انداز میں بڑبڑاتے ہوئے میں نیچے اتر گیا ۔وہ بھی خاموشی سے نیچے اتر گئی تھی۔قریب موجوددرختوں کے ایک چھوٹے سے جھنڈ میں موٹر سائیکل چھپا کر میں اس کی طرف متوجہ ہوا ۔اس کے ہیولے کو دیکھ کر اندازہ ہوتا تھا کہ وہ بھی میری ہی جانب متوجہ تھی ۔
”اب کیا کریں ؟“
”مجھے کیا معلوم ؟....“وہ ہنسی ۔”میں تو یوں بھی بہ قول تمھارے ملازم ہوں ۔“
”اس میں شک ہی کیا ہے ۔“کہہ کر میں نالے ہی میں آگے بڑھ گیا ۔
”تو پھر پوچھتے کیوں ہو ؟“
”مالک کا پوچھنا اور ملازم کا جواب دینا فرض بنتا ہے ۔“
”چلو وہ تو بعد کا معاملہ ہے پہلے تم پستول میرے حوالے کر و۔“
”کس خوشی میں ؟“
”کیونکہ وہ تم میرے حوالے کر چکے تھے۔“
”یاد کرو ،عارضی طور پر دیا تھا ۔“
”نہیں ،کوئی عارضی نہیں تھا اور اس بارے میں پہلے بتا چکا تھا ۔“قریب پہنچ کر اس نے میرے بازو سے پکڑ کر مجھے رکنے پر مجبور کیا ۔”اور تم یہ کلاشن کوف اپنے پاس رکھو ۔“
پستول اس کے حوالے کر کے میں نے کلاشن کوف تھامی اور منہ بناتے ہوئے کہا ۔”جانتی ہو یہ پستول تمھاری کلاشن کوف سے چھے گنا زیادہ قیمتی ہے ۔“
وہ اطمینان سے بولی ۔”یہ تو یوں بھی میرا معاوضا ہے۔“
میں نے بگڑے ہوئے لہجے میں کہا ۔”مار کھانے کے لیے کوئی موقع محل بھی دیکھ لیا کرو ۔“
”میرا خیال ہے آج دو دو ہاتھ ہو جانے چاہئیں ،تاکہ تمھاری یہ غلط فہمی تو دور ہو جائے ۔“اس نے پیچھے سے میری قمیص کو پکڑ کر کھینچا۔
”ہر وقت بکواس کے موڈ میں نہ رہا کرو۔“ایک جھٹکے سے اس کے ہاتھ سے قمیص چھڑاکر میں آگے بڑھ گیا ۔
”ہونہہ بزدل ....صرف باتیں کرنا آتی ہیں ۔“چڑانے والے انداز میں کہتے ہوئے وہ مجھ سے آگے بڑھ گئی ۔چڑھائی شروع ہو گئی تھی اور چڑھائی چڑھنے میں پوری کوشش کے باوجود میں اس سے مقابلہ نہیں کر پاتا تھا ۔اس لیے میں اس سے آگے بڑھنے کی کوشش کرنے کے بجائے اس کے عقب میں چلتا رہا ۔آکسیجن کی سطح اس علاقے میں بہت کم ہے اس وجہ سے تھوڑی سی مشقت ہی سے بہت زیادہ سانس چڑھ جاتا ہے ۔
تھوڑا سا چلتے ہی پلوشہ نے اپنا رخ تبدیل کر لیا تھا لیکن میں نے اس سے کچھ پوچھنے کی ضرورت اس لیے بھی محسوس نہیں کی کہ وہ مجھ سے کئی گنا زیادہ اس علاقے سے واقف تھی ۔
سولہ سترہ کا چاند نکل آیا تھا لیکن ابھی تک وہ مشرقی جانب موجود بلندپہاڑ کی اوٹ میں تھا ۔ اس کے باوجود اچھی خاصی روشنی ہو گئی تھی ۔
چڑھائی چڑھتے ہی ہمیں سڑک نظر آنے لگی تھی ۔تین گاڑیاں انگور اڈے کی طرف جا رہی تھیں۔میرے اندازے کے مطابق وہ گاڑیاں قبیل خان کے آدمیوں ہی کی تھیں۔لیکن یہ یقینی بات نہیں تھی ۔ہو سکتا تھا کہ وہ کوئی اورلوگ ہوں ۔پلوشہ تیز رفتاری سے اپنے رستے پر بڑھی جا رہی تھی میں بڑی مشکل سے اس کا ساتھ دے پا رہا تھا ۔وہ پہاڑی کی بلندی ہی پر آگے بڑھتی رہی ۔گھنٹا بھر اسی طرح چلنے کے بعد وہ ایک نالے میں اترنے لگی ۔چاند کی روشنی میں ہمیں رستا واضح نظر آ رہا تھا ۔نالے میں اتر کر وہ اسی نالے میں آگے بڑھنے لگی ۔میں بھی خاموشی سے اس کی معیت میں چل رہا تھا ۔ وہ پہاڑی علاقے میں چلنے کی ماہر تھی اور اس کی وجہ یہی تھی کہ پہاڑوں ہی میں پلی بڑھی تھی ۔اس کے ساتھ مجاہدین کے ماہر لڑاکوں سے لڑائی بھڑائی کی تربیت بھی حاصل کر چکی تھی ۔ایک تربیت یافتہ سنائپر ہونے کے باوجود مجھے لگتا تھا کہ وہ مجھ سے زیادہ سخت جان ہے ۔اس کا تجربہ مجھے تب ہوا تھا جب میں اسے بدترین تشدد کا نشانہ بنانے کے باوجوداس سے فقط نام ہی نہیں اگلوا سکا تھا ۔
”تھک تو نہیں گئے ۔“اس نے کافی دیر سے چھائی خاموشی کو توڑا۔
”چلتے رہو ۔“
اس نے رکتے ہوئے پوچھا ۔”اگر چاہو تو چند منٹ آرام کر لیتے ہیں ۔“
”ضرورت نہیں ۔“کہہ کر میں اس سے آگے بڑھ گیا ۔
”اچھا میں تھک گئی ہوں ۔چند منٹ آرام کر لیتے ہیں ۔“اس مرتبہ اس نے اپنا نام لیا لیکن اتنا تو میں جانتا تھا کہ وہ بالکل بھی نہیں تھکی تھی ۔
”تھک گئی ہو یا تھک گئے ہو ؟“میں ایک قریبی پتھر پر بیٹھتے ہوئے مسکرایا۔
”میری مرضی جو کہوں ،البتہ تم مجھے لڑکا ہی سمجھاکرو۔“وہ میرے ساتھ پڑے پتھر پر بیٹھ گئی ۔
”کتنی دیر میں پہنچ جائیں گے ۔“
”چار پانچ گھنٹے لگ جائیں گے ۔“
”اس کا مطلب ہے رات چلتے ہوئے بیتے گی ۔“
اس نے سنجیدہ لہجے میں مشورہ دیا ۔”اگر چاہو تو کوئی مناسب جگہ دیکھ کر آرام کر لیتے ہیں ۔“
”نہیں ۔“میں نے نفی میں سر ہلاد یا۔
”تو پھر چلو ۔“وہ اٹھ کر چل پڑی ۔ہمارا سفر دوبارہ شروع ہوا ۔نالہ در نالہ ہم تیز رفتاری سے چلتے رہے ۔رستے میں دو تین دفعہ پانی پینے کے لیے رکنے کے علاوہ ہم نہ رکے ۔رات کوئی ایک بجے کا عمل ہو گا جب ہم کمانڈر نصراللہ کی بیٹھک کے سامنے پہنچے ۔چابی میری جیب میں موجود تھی ۔
”سخت بھوک لگی ہے ۔“چارپائی پر ڈھیر ہوتے ہوئے وہ پیٹ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولی ۔
بھوک مجھے بھی لگی تھی لیکن اس وقت کھانے کا بندوبست ہونا ممکن نہیں تھا اس لیے میں خاموشی سے ایک کونے میں لٹکی لالٹین جلانے لگا ۔
اس نے کہا ۔” ہمیں چند دن تک چھپ کر رہنا پڑے گا ۔اور بہتر ہو گا تم اس بیٹھک سے نہ نکلنا۔ جبکہ میں کچھ دن اپنے گھر گزاروں گا ۔“
”ہونہہ!“میں گہرا سانس لیتے ہوئے چارپائی پر بیٹھ گیا ۔
”ایسا کرو ایک مخابرہ مجھے دے دو میں روزانہ رات کو آٹھ بجے سے نو بجے کے درمیان مخابرہ آن رکھوں گا اگر کوئی ضروری بات ہو تو مجھے بلا لینا ورنہ ہفتے کے بعد میں آجاﺅں گا اور اکٹھے بیٹھ کر کوئی لائحہ عمل بنا لیں گے ۔“
میں طنزیہ لہجے میں بولا۔”میرا خیال ہے یہ طے کرنا میرا کام ہے کہ ہمیں کیا کرنا ہے ۔“
اس نے سنجیدہ لہجے میں جواب دیتے ہوئے کہا ۔”راجے صاحب !....ان حالات میں اس سے بہتر تم کچھ سوچ ہی نہیں سکتے ۔چند دن تک قبیل خان کے آدمی شکاری کتوں کی طرح ہماری تلاش میں سرگرداں رہیں گے ۔ اور ان میں کم از کم دو آدمی ایسے ضرور ہیں جو ہمیں شکل سے جانتے ہیں ۔بلکہ ثقلین خان کے بیٹے کی شادی میں شرکت کرنے والے تمام افراد ہمیں شکل و صورت سے پہچانتے ہیں ۔گو وہ قبیل خان کے آدمی تو نہیں ہیں مگر ان میں کئی ایک ایسے ضرور ہوں گے جن کے قبیل خان کے مختلف آدمیوں سے اچھے تعلقات ہوں ۔ اس لیے ہماراچند دن تک منظر عام سے ہٹ جانا بہتر رہے گا ۔“
”تو کیا چند دن کے بعد وہ ہماری تلاش ترک کر دیں گے ؟“
”نہیں ۔“اس نے نفی میں سر ہلایا۔”لیکن تلاش میں ایسی تندی نہیں رہے گی ۔“
”میرے سفری تھیلے سے ایک آئی کام اور اس کی فالتو بیٹری نکال لو ۔“میں نے میز پر پڑے اپنے تھیلے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے گویا اس کے ساتھ متفق ہونے کا اعلان کیا تھا ۔
میرا تھیلا کھولتے ہوئے اس نے آئی کام سیٹ اور اس کی بیٹری نکال کر کہا ۔”یاد رکھنا چینل نمبر گیارہ پر رات آٹھ سے نو بجے کے درمیان میں مخابرہ آن کیاکروں گا۔“
”تو کیا تم ابھی جا رہے ہو ۔“اسے جانے پر آمادہ دیکھ کر میں نے حیرانی سے پوچھا ۔
”ہاں ....“اثبات میں سر ہلاتے ہوئے وہ شرارت سے مسکرائی ۔”مجھے تم پر بالکل اعتبار نہیں ہے ۔اور پھر میں نے شادی میں ڈانس کر کے کچھ رقم بھی اکٹھی کی ہے ۔اس سے پہلے کہ تم یہ رقم چوری کر لو میں یہ بھی امی جان کے حوالے کر آﺅں ۔“
میں نے سر جھٹکتے ہوئے کہا ۔”فضول گو۔“
”ویسے یاد آیا ،تم میری کلاشن کوف کہاں پھینک آئے ؟“
”بڑی جلدیاد آگیا۔“
”نہیں یاد تو کافی دیر سے تھا پوچھنے کا موقع نہ مل سکا ۔“
”ثقلین خان کی بیٹھک سے نکلتے وقت میں نے پاس کھڑے آدمی کے حوالے کر دی تھی تاکہ کسی کو شک نہ ہو کہ میں بھی بھاگنے کے چکر میں ہوں ۔“
اثبات میں سر ہلاتے ہوئے اس نے گہری نگاہ مجھ پر ڈالی چند لمحے مجھے گھورنے کے بعد وہ عجیب سے لہجے میں بولی ۔”اپنا خیال رکھنا اور دروازہ یاد سے کنڈی کر دینا ۔“ یہ کہہ کر وہ باہر نکل گئی ۔
جاری ہے

No comments:

غازی از ابو شجاع ابو وقار قسط نمبر60 Ghazi by Abu Shuja Abu Waqar

Ghazi  by  Abu Shuja Abu Waqar  غازی از ابو شجاع ابو وقار  پیشکش محمد ابراہیم 60 آخری قسط نمبر  Ghazi by Abu Shuja Abu...

Powered by Blogger.