Ads Top

حیا از فاخرہ وحید قسط نمبر 13 Haya By Fakhira Waheed Episode No

 حیا
  از 
فاخرہ وحید


 حیا  از فاخرہ وحید
13 قسط نمبر  
Haya By Fakhira Waheed 
Episode No 13
"حیا"
از
فاخرہ وحید

قسط 13
رات کے گیارہ بج رہے تھے جب حمزہ اپنے کمرے میں آ یا.. سب کچھ سلیقے سے اپنی جگہ رکھا تھا. کوئی کہہ نہیں سکتا تھا یہاں کل رات کوئی طوفان آیا تھا. ردابہ نے حمزہ کے بیسمنٹ سے آنے سے پہلے اسے تکلیف دینے والی ہر چیر ہٹا دی تھی. چاہے وہ بے جان تصویریں ہوں یا جیتی جاگتی حیا.
لنچ کے بعد گھر سے نکلا وہ اب واپس آیا تھا. اس نے لائٹس آف کی ہوئی تھیں. روشن کمرے میں اسے کوفت ہوتی تھی.
ابھی اسے آئے پندرہ منٹ گزرے تھے کہ دروازے کے باہر کسی کے قدموں کی آہٹ پر اس نے آنکھیں بند کر کے چہرے پر بازو رکھ لیا.
آنے والے نے دروازہ کھولا.
بھائی. آپ سو رہے ہیں؟
حمزہ کچھ نہیں بولا. وہ دوبارہ آہستہ سے درزازہ بند کر کے واپس چلا گیا.

حمزہ نے منہ سے بازو ہٹایا. اور دروازے کی طرف دیکھا.
دروازہ بند دیکھ کرا س نے ایک گہرا سانس بھرا.

حمزہ کی زندگی میں سب تھا. پیسہ, دولت, نام, پیار کرنے والے رشتے جومشکل وقت میں اسے تھام سکیں. لیکن وہ سب سے بھاگ رہا تھا. خود سے بھاگ رہا تھا.
" اگر حیا کو کچھ ہو گیا تو" یہ سوچ کر ہی اس کے رونگھٹے کھڑے ہو رہے تھے. وہ کس کس کو مارے گا.
شاید سب کی لاشیں دیکھ کر ہی اسے چین آنا تھا.

کافی دیر وہ یوں ہی لیٹا چھت کو دیکھتا رہا.. اب وہ فون پر کسی کا نمبر ملا رہا تھا.
ہاں کچھ پتا چلا؟ حمزہ نے چھوٹتے ہی پوچھا.
نہیں یار. ابھی ڈھونڈ رہے ہیں.
اس کے گھر دیکھا؟
ہاں سب سے پہلے وہیں پتا کیا. لیکن وہاں تالا لگا تھا.
ہمم..
تو فکر نہ کر. جیسے ہی کچھ پتا چلتا ہے. میں تجھے فون کرتا ہوں. دوسری طرف علی تھا.

حمزہ نے کچھ کہے بغیر فون رکھ دیا.
🌸🌸🌸🌸🌸🌸
ہیلو فضول آدمی!
ہیلو. وہ سو رہا تھا جب اس کا فون بجا.
سو رہے تھے؟
ہاں. وہ نیند میں بڑبڑایا.
بتاؤ اوپر کیا ہے. اس نے عجیب سوال کیا.
اوپر چھت ہے رانیہ. اس نے فون یوں ہی کان پر رکھ کر ہاتھ پیچھے کر لیا.
اچھا بتاؤ 2+2 کتنے ہوتے ہیں. وہ شاید اسکی میتھ کا ٹیسٹ لے رہی تھی. .
مجھے نیند آرہی ہے تم کیلکولیٹر پر دیکھ لو. وہ بھی حمزہ تھا. رانیہ کا کلاس فیلو, دوست اور اب منگیتر.

بتاؤ پلیز.
4 وہ اسی طرح نیند میں بڑبڑایا.

چاند پر جائیں. تو زمین نیچے نظر آتی ہے یا اوپر. اب وہ فزیکس کا ٹیسٹ لے رہی تھی.
آپ کا مطلوبہ نمبر سو رہا ہے. دو گھنٹے بعد وہ خود آپکو کال کر لے گا. کہہ کر حمزہ نے فون رکھ دیا.
ابھی چند سیکنڈ گزرے تھے کہ فون دوبارہ بجا.
اس نے فون کان سے لگایا.
رانیہ قسم سے.. اس کی بات ادھوری رہ گئی تھی.

For all those times you stood by me
For all the truth that you made me see
For all the joy you brought to my life
For all the wrong that you made right
For every dream you made come true
For all the love I found in you
I'll be forever thankful baby

ہیپی برتھ ڈے ٹو یو. ہیپی برتھ ڈے ٹو یو.
ہیپی برتھ ڈے پیارے لڑکے. رانیہ اس کے لیے برتھ ڈے سانگ گا رہی تھی.

اس نے وال کلاک پر نگاہ ڈالی. پورے بارہ بجے تھے.
وہ مسکرایا.

You were my strength when I was weak
You were my voice when I couldn't speak
You were my eyes when I couldn't see
You saw the best there was in me
Lifted me up when I couldn't reach
You gave me faith 'cause you believed
I'm everything I am
Because you loved me

تھینک یو پیاری لڑکی. اس نے وہیں سے گانا پکڑا اور پھر رانیہ کے انداز میں ہی اسے شکریہ کہا.
اس کے اس انداز پر رانیہ کا دل پیار سے بھر گیا تھا.
لو یو. ان دو لفظوں میں رانیہ نے اپنی جان رکھ دی تھی. لو یو ٹو. آنکھیں بند کیے وہ اس کے پیار کو محسوس کر رہا تھا.
ان الفاظ کے آگے کہنے کو کچھ تھا ہی نہیں. کافی دیر وہ چپ ایک دوسرے کے بولنے کا انتظار کرتے رہے.

کیمرہ آن کرو. رانیہ بولی تھی.
کیا دیکھو گی. آنکھیں بدستور بند تھی.
تمہیں. لہجے میں پیار تھا.
ویسا ہی ہوں.

ہاں تو میں کون سا کہہ رہی ہوں تمہارے سینگ اگ آئے ہیں. وہ بگڑی.
حمزہ ہنسا.
اچھا رکو. حمزہ نے کیمرہ آن کیا.

حمزہ ہ ہ.. وہ دھیمے سے بولی.
جی جناب. حمزہ سیدھا ہو کر بیٹھ گیا تھا.
میرا دل کر رہا ہے میں اڑ کر تمہارے پاس آجاؤں.
آجاؤ. وہ مسکرایا.
اچھا چلو سوچو میں تمہارے پاس ہوں. تکیہ گود میں دبائے وہ بھی سیدھی ہو کر بیٹھ گئی.
سوچ لیا. حمزہ کی مسکراہٹ گہری ہو گئی تھی.

اندھیرے میں جگمگ کرتی ایل ای ڈی لائٹس. میز پر کیک اس کے ساتھ کینڈل. اپنی وائٹ ٹی شرٹ اور اس پر بلیو جیکٹ پہنے تم اور ہینڈسم لگ رہے ہو. اس نے ایک سانس میں منظر کشی کی.
اور تم کہاں ہو.
میں. میں نے کہاں ہونا ہے تمہارے پاس ہی ہوں.
نہیں. تم تو نہیں ہو. وہ اسے تنگ کر رہا تھا.
تو میں کہاں ہوں. را نیہ نے منہ بنایا.
تم. تم میرے بازوؤں کی قید میں ہو.
رانیہ نے مسکراہٹ چھپاتے سر جھکایا. وہ شرما رہی تھی.

حمزہ بد ستور اسے اپنی آنکھوں کے حصار میں لیے ہوئے تھا.
اب بولو. حمزہ نے اسے چھیڑا.
تم برے ہو. وہ سمجھ گئی تھی.
حمزہ نے قہقہہ لگایا.
اور تم ہمیشہ کی طرح بہت اچھی ہو.
وہ مسکرا رہا تھا.

ہو از دس ہینڈسم بوائے.
وہ چونکا. وہاں ردابہ تھی. اپنے خیال سے وہ باہر نکل آیا تھا. مسکراہٹ ہلکی پڑ گئی تھی.

ماسی ی ی.
یہ سب ضروری ہے؟ آپ کو پتہ ہے مجھے اب یوں برتھ ڈے منانا اچھا نہیں لگتا.

بچے گھر کا ماحول تین دن سے اتنا ٹینس ہے. شیری خوش ہو جائے گا اور تمہیں بھی اچھا لگے گا. ردابہ نے اسے شیشے میں دیکھتے ہوئے کہا.
میں جا رہی ہوں. تم بھی جلدی سے آ جاؤ سب انتظار کر رہے ہیں. وہ چلی گئ تھی.
دو دن وہ بے حد مصروف رہا تھا. اور اب جب وہ گھر آیا تو پورا اسکواڈ وہاں موجود تھا. حمزہ کی سالگرہ تھی. لاؤنج کو برتھ ڈے وینیو میں بدل دیا گیا تھا.
اور ردابہ کے اصرار پر حمزہ چینج کرنے اوپر آیا تھا.
شیشے کے سامنے کھڑا رانیہ کی پسند کی ڈریسنگ کیے وہ ماضی میں چلا گیا. دو دن بعد یا دس دن بعد وہ جب گھر جاتا رانیہ اس کا گزرا برتھ ڈے ضرور مناتی تھی. رانیہ کے بعد یہ پہلی بار تھا کہ وہ اپنی سالگرہ منا رہا تھا. یا کہا جائے ردابہ نے یہ ممکن کر دیا تھا.
سیڑھیوں سے نیچے لاؤنج تک مختلف پھولوں سے سجاوٹ کی گئی تھی. اور سیڑھیوں کے ساتھ کالے غبارے لگے ہوئے تھے. لاؤنج کے ایک کارنر میں میز لگا تھا. جس پر کیک, پیسٹریز, مختلف برتھ ڈے پراپس پڑے تھے. میز کے پیچھے دیوار پر گولڈن رنگ کا مصنوعی بیک گراؤنڈ تھا. صوفوں کو گھما کر میز کی طرف کر دیا گیا تھا.
سفید ٹی شرٹ پر بلیو جیکٹ پہنے وہ اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتا کمرے سے باہر آیا.
سو دی برتھ ڈے بوائے از ہیئر. حمزہ کو دیکھتے ہوئے شیری نے اعلان کیا.
اہاں. ہینڈسم اینڈ دی ڈیشنگ پرسنالٹی آف دی ہاؤس از ہیئر. یہ شیروان تھا.
کیسا ہے میرا شیر. علی نے حمزہ کو گلے لگایا.
مجھے کیا ہونا ہے. تو سنا.. کام کہا تھا. آخری الفاظ حمزہ نے آہستہ کہے.
ہو جائے گا. علی نے بھی اسی انداز میں جواب دیا.


(جاری ہے)

No comments:

غازی از ابو شجاع ابو وقار قسط نمبر60 Ghazi by Abu Shuja Abu Waqar

Ghazi  by  Abu Shuja Abu Waqar  غازی از ابو شجاع ابو وقار  پیشکش محمد ابراہیم 60 آخری قسط نمبر  Ghazi by Abu Shuja Abu...

Powered by Blogger.