Ads Top

ﻧﺎﻭﻝ سنائپر از ریاض_عاقب_کوہلر قسط نمبر 25

ﻧﺎﻭﻝ  سنائپر 

 از 

 ریاض_عاقب_کوہلر




سنائپر 
قسط نمبر 25
ریاض عاقب کوہلر

”کیا ؟“
”ایک لاکھ ،گلاک پستول مع سائیلنسراور مخابرہ(آئی کام سیٹ)“
”مجھے پہلے صرف شک تھا کہ تمھارا دماغ خراب ہے ۔“
وہ معنی خیز لہجے میں بولی۔”تم ساری زندگی شک ہی میں پڑے رہنا ۔“
میں اس کی بات کا جواب دیے بغیر آئی کام سیٹ نکال کر ون الفا کو پکارنے لگا ۔یوں تو وہ شام کے وقت آئی کام سیٹ آن کر تا تھا لیکن آج چونکہ اسے ہماری آمد کے بارے معلوم تھا اس لیے مجھے امید تھی کہ وہ میرا انتظار کر رہا ہوں گا ۔میرے اندازے کے مطابق جلد ہی اس کا جواب آنے لگا ۔رسمی گفتگو میں پڑنے کے بجائے اس نے فوراََ میری جگہ کے بارے پوچھا اور میں نے بس اڈے کے قریب موجود اس ہوٹل کا نام بتا دیا جس کے سامنے ہم اس وقت کھڑے تھے ۔
اس نے کہا ۔”ٹھیک ہے وہیں رکو میں آ رہا ہوں ۔“ہمیں بہ مشکل پندرہ بیس منٹ انتظار کرنا پڑا ہو گا ۔ سفید رنگ کی ڈبل ڈور ہمارے ساتھ آکر رکی ۔وہ گاڑی میں اکیلا تھا ۔مجھے بیٹھنے کا اشارہ کر کے اس نے اگلی نشست کا دروازہ کھول دیا۔اس کے ساتھ بیٹھتے ہی میں نے دروازہ بند کرتے ہوئے کہا ۔
”چلیں سر !“پلوشہ نے عقبی دروازے کا ہینڈل پکڑ کر دروازہ کھولنے کی کوشش کی تھی لیکن دروازہ بند تھا ۔
اس نے پوچھا ۔”یہ لڑکا تمھارے ساتھ ہے ؟“
”اسے چھوڑیں سر!.... اور چلیں ۔“میں نے جلدی سے کہا ۔نہ جانے کیوں میں پلوشہ سے بھاگنا چاہ رہا تھا ۔اورنگ زیب صاحب نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے گاڑی آگے بڑھا دی ۔وہ وہیں کھڑی رہ گئی تھی ۔تھوڑی دور آتے ہی میں نے مڑ کر دیکھا وہ وہیں کھڑی تھی ۔
”ویسے کون تھا یہ لڑکا ؟“اورنگ زیب صاحب نے اشتیاق سے پوچھا ۔
”سر !....گاڑی روکیں ۔“میرے منہ سے بے ساختہ پھسلا ۔
”کیا ہوگیا ؟“بریک پر پاﺅں رکھتے ہوئے اس نے پریشانی سے پوچھا ۔
”سر !....اس لڑکے کو ساتھ لے کے چلنا ہے ۔“میں نے خفت بھرے لہجے میں کہا ۔
”یار !....کیا اوٹ پٹانگ کام کر رہے ہو ۔“ اس کے لہجے میں حیرانی تھی لیکن اس کے ساتھ ہی اس نے گاڑی موڑ لی تھی ۔
میں نے میجر صاحب کی بات کا جواب نہیں دیا تھا ۔
وہ ابھی تک وہیں کھڑی تھی ۔میجر صاحب نے اس کے قریب جا کر گاڑی روک دی ۔میں نے ہاتھ بڑھا کر عقبی دروازہ ان لاک کیا ۔وہ اطمینان سے اندر گھس آئی ۔
”پہلے بھول گئے تھے یا یہ دکھانا چاہتے تھے کہ تم آسانی سے مجھ سے جان چھڑا سکتے ہو ۔“ میجر صاحب کو نظر انداز کرتے ہوئے اس نے طنزیہ لہجے میں پوچھا ۔
”نہیں میں نے سوچا اس طرح شاید تم غیرت کا مظاہرہ کرو اور میرا پیچھا چھوڑ دو ۔“میں نے اسے شرمندہ کرنے کی کوشش کی ۔لیکن ایسی باتیں وہ خاطر میں نہیں لاتی تھی فوراََ بولی ۔
”نہیں مجھے ڈر ہے ،اگرمیں نے تم پر نظر نہ رکھی تو تم کہیں چھپ جاﺅ گے۔آخر ایک ضروری کام کے بعد میں نے تمھیں قتل تو کرنا ہے نا ۔اس وقت کہاں ڈھونڈتا رہوں گا ۔“
پیچھے مڑ کر میں نے اپنے ہونٹوں پر انگلی رکھتے ہوئے اسے خاموش رہنے کا اشارہ کیا اور دوبارہ سیدھا ہو کر بیٹھ گیا ۔میں نہیں چاہتا تھا کہ اورنگ زیب صاحب اس کی بکواس سنے ۔
”کیا بات کر سکتا ہوں ۔“اورنگ زیب صاحب نے پلوشہ کی وجہ سے پوچھنا ضروری سمجھا تھا۔“
میں اطمینان سے بولا۔”ہاں ،انگریزی زبان میں کر سکتے ہو۔“
”واہ ،تم انگریزی سمجھ بول لیتے ہو۔“اس نے تعریفی لہجے میں کہا ۔
اور اس سے پہلے کہ میں جواب دے پاتا عقبی نشست پر بیٹھی پلوشہ کی اطمینان بھری آواز نے میرے سر پر بم پھوڑ ڈالا۔ وہ میجر اورنگ زیب کو مخاطب تھی ۔”تو انگریزی بولنا اتنا مشکل تو نہیں ہے کہ آپ اس کی اتنی تعریف کر رہے ہیں ۔“اور مزے کی بات کہ اس نے یہ فقرہ انگریزی زبان ہی میں ادا کیا تھا ۔
”جی ذیشان!....اب تمھارا کیا خیال ہے ۔“ اورنگ زیب صاحب نے طنزیہ انداز میں پوچھا ۔
”کہیے سر !....اس کے ہونے نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔“
”کیا مطلب؟“وہ حیران رہ گیا تھا ۔
میں اطمینان بھرے لہجے میں بولا ۔ ”مطلب یہ کہ آپ نے جو پوچھنا یا کہنا ہے جاری رکھیں۔“ 
”سردار کو اس کی بیوی کی موت کا بتایا تھا ؟“
”نہیں سر !....بس بچے کی پیدائش کی خوش خبری سنا کر بھیج دیا ہے۔“
”مشن کہاں تک پہنچا ہے ۔“
جواباََ میں نے خائستہ گل سے لے کر قبیل خان کی حویلی کی تباہی تک کا احوال مختصراََ سنا دیا ۔
”ہونہہ!....“اثبات میں سر ہلاتے ہوئے اس نے کہا ۔”ویسے یہ خبریں مجھ تک پہنچ گئی تھیں۔اور حویلی تباہ کرنے کی وجہ میری سمجھ میں نہیں آئی ۔“
”جب اس کے ملازموں کو بہ حالت مجبور ی قتل کرنا پڑ گیا تو ہم نے دونوں نے یہی سوچا کہ جب ہمارا وہاں آنا ثابت ہو ہی گیا ہے تو اس کا کچھ نقصان ہی کر دیا جائے ۔“
”اس لڑکے کو کہاں سے ڈھونڈا ہے ۔“اس نے عقبی سیٹ پر بیٹھی پلوشہ کی جانب اشارہ کیا ۔
”یہ مجاہدین کا ساتھی ہے ۔آپ کو کمانڈر عبدالحق کا بتایا ہے نا ،یہ اسی کا شاگرد ہے اور فی الحال تو رہنمائی کے لیے ساتھ رکھا ہوا ہے کہ اس کا تعلق اسی علاقے سے ہے۔“
”ہونہہ....“کہتے ہوئے اس نے ایک درمیانی مگر پختہ عمارت کے گیٹ پر گاڑی روک دی۔ ہارن دینے سے پہلے ہی دروازہ کھل گیا تھا ۔وہ گاڑی اندر لیتا گیا ۔گیراج میں گاڑی روک کر ہم نیچے اتر آئے ۔اس عمارت میں چہل پہل دیکھ کر مجھے یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگی تھی کہ اورنگ زیب صاحب کا گھر نہیں تھا ۔ہمیں ساتھ لے کر وہ ایک کمرے میں داخل ہوا ۔کمرہ کافی بڑا تھا ۔کمرے کے ایک کونے میں میز لگی تھی ۔میز کے عقب میں گھومنے والی لکڑی کی کرسی رکھی تھی جبکہ سامنے تین فوم کی کرسیاں پڑی تھیں ۔کمرے کے دوسرے کونے میں لکڑی کا سنگل بیڈ لگا ہوا تھا ۔گویا وہ کمرہ دفتر ہونے کے ساتھ اس کی خوب گاہ کے طور پر بھی استعمال ہوتا تھا ۔
”شاید آپ لوگ ناشتا کر چکے ہوں گے ۔“ میز کے عقب میں پڑی کرسی سنبھالتے ہوئے اس نے ہمیں بیٹھنے کا اشارہ کیا ۔
”بالکل بھی نہیں کیا ہے ۔“میرے کچھ کہنے سے پہلے پلوشہ نے منہ کھول دیا ۔
میجر اورنگ زیب نے مسکراتے ہوئے گھنٹی بجائی اور دروازہ کھول ایک آدمی اندر داخل ہوا ۔ یقینا میجر صاحب کے وہاں آتے ہی وہ دروازے پر پہنچ گیا تھا ۔
”اس لڑکے کو ساتھ لے جا کر اچھا سا ناشتا کرا دو ۔اور ہمارے لیے دو پیالی چاے لے آﺅ۔“
”تم نے ناشتا نہیں کرنا ۔“پلوشہ مجھے مخاطب ہوئی ۔
”مجھے چھوڑو اور اپنی فکر کرو ۔“
وہ مزید کچھ کہے نووارد کے ساتھ باہر نکل گئی ۔
”اب بتاﺅ اس لڑکے کا کیا چکر ہے ۔“ میجر اورنگ زیب نے پلوشہ کے وہاں سے نکلتے ہی پوچھا ۔
”تمام کہانی آپ کو سنا دی ہے سر!....بس اتنا اضافہ کر لیجیے کہ قبیل خان نے اس کی بہن کو زیادتی کا نشانہ بنایا ،اس کے بھائی اور باپ کو قتل کیا اور اب یہ ان کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے بے تاب ہے ۔“
”مجھے تو یہ قابل بھرسا نہیں لگ رہا ۔“اورنگ زیب صاحب کے لہجے میں ہلکی سی تشویش تھی ۔
”میں مطمئن ہوں ۔“میں نے دل کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اس کی طرف داری کی ۔
”ایسا نازک اندام لڑکا آپ لوگوں کی کیا مدد کرے گا ۔مجھے تو لگتا ہے کسی کے ذرا سا جھڑکنے پر آپ لوگوں کا سارا کٹھا چٹھا کھول دے گا ۔“
میرے چہرے پر دھیمی مسکراہٹ نمودار ہوئی ۔”سر !....اس کا نام پلوشہ ہے اور یہ لڑکا نہیں لڑکی ہے ۔اور یقین کرو میں اس کے ہاتھوں مرتے مرتے بچا ہوں ،بس تکا ہی لگ گیا تھا کہ میں اسے بے ہوش کرنے میں کامیاب ہوگیا ورنہ اس نے میرا کام کر دیا تھا ۔اور اس کے بعد میں نے اس کی حقیقت اگلوانے کے لیے اس پر اتنا تشدد کیا کہ اتنا تشدد کوئی عادی مجرم بھی برداشت نہ کرتا اور اس کا نام بھی اس کے منہ سے نہیں اگلوا سکا ۔“
اورنگ زیب صاحب کا منہ حیرت سے کھل گیا تھا ۔”یہ لڑکی ہے ....“عجیب سے انداز میں کہتے ہوئے وہ معنی خیز انداز میں مسکرایا۔”میں بھی کہوں اس لڑکے میں ایسی کیا بات ہے کہ بار بار اسے دیکھنے کو دل چاہتا ہے ۔اور شاید اسی لیے اس نے گاڑی میں داخل ہوتے ہی تمھیں قتل کرنے کی دھمکی دی کہ تم نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا تھا ۔“
”جی سر !....“میں نے اثبات میں سر ہلادیا ۔اسی وقت ایک آدمی چاے کے برتن لیے اندر داخل ہوا ۔چاے کی پیالیاں ہمارے سامنے رکھ کر وہ جس خاموشی سے اندر داخل ہوا تھا اسی طرح باہر نکل گیا ۔
چاے پیتے ہوئے ہم آگے کا لائحہ عمل طے کرنے لگے ۔ہماری باتوں کے درمیان ہی پلوشہ لوٹ آئی تھی ۔میرے دائیں طرف پڑی کرسی پر بیٹھ کر وہ ہماری باتیں سننے لگی ۔مزید گھنٹا بھر وہیں گزار کر میں نے میجر صاحب سے اجازت لی اور ہم وہا ں سے نکل لائے ۔پلوشہ کی حقیقت معلوم ہونے کے باوجود میجر اورنگ زیب نے اسے لڑکے کے طور پر ہی مخاطب کیا تھا۔ویگن اڈے تک ہم میجر صاحب کی گاڑی میں آئے تھے ۔ویگن اڈے میں انگور اڈے کی ویگن تیار کھڑی تھی ۔ہمارے پہنچنے کے پندرہ بیس منٹ بعد ویگن اڈے سے نکل آئی ۔پلوشہ خامو ش خامو ش سی تھی ۔انگور اڈے پہنچ کر ویگن سے اترتے ہی وہ کہنے لگی ۔
”کچھ رقم دے سکتے ہو ؟“
”رقم ....کس لیے ؟“میرے لہجے میں حیرانی تھی ۔
”دے سکتے ہو تو دے دو ،نہیں تو سوالات کی کوئی ضرورت نہیں ۔“
”کتنے چاہئیں؟“
”اگر ہو سکے تو دس پندرہ ہزار دے دو ۔“
ایک لمحہ سوچنے کے بعد میں نے جیب سے چار بڑے نوٹ نکال کر اس کی جان بڑھا دیے۔ ”یہ بیس ہزار ہیں ۔“
بغیر کسی تکلف کے وہ میرے ہاتھ سے پیسے لیتے ہوئے بولی ۔”واپس نہیں ملیں گے ۔“
”لیکن میں نے اس کی بات کا جواب دینے کی ضرورت نہ سمجھی ،یوں بھی یہ رقم میں نے خائستہ گل کی جیب سے نکالی تھی ۔
کمانڈر نصراللہ کے دروازے کے سامنے پہنچ کر وہ بولی ۔”میں نے کہیں جانا ہے ،کل تک لوٹوں گی ۔تم یہیں پر میرا انتظار کرنا ۔“
”کہاں جانا ہے ۔“
”اگر بتانا ہوتا تو میں کہیں کے بجائے اس جگہ کانام لے لیتی ۔“
میں نے تلخی سے کہا ۔”اتنا بتانے کی بھی کیا ضرورت تھی ،جاﺅ جہاں دفع ہونا ہے ۔“
وہ برا منائے بغیر بولی ۔”اگر گلاک نہیں دے سکتے تومجھے سردار بھائی والا پستول ہی دے دو۔“
”یہ لو ....“اس مرتبہ بھی بغیر کسی حجت کے میں نے گلاک مع سائیلنسر کے ہولسٹر سے نکال کر اس کی جانب بڑھا دیا ۔
اس کے چہرے پر حیرت کے آثار نمودار ہوئے مگر اس کے ہونٹوں سے شکریہ وغیرہ کا کلمہ ادا نہیں ہوا تھا ۔
پسٹل نیفے میں اڑستے ہوئے وہ کمانڈرنصراللہ کے دروازے پر دستک دینے لگی جبکہ میں بیٹھک کے دروازے پر لگا تالا کھولنے لگا ۔میرا دماغ اسی کو سوچ رہا تھا ۔پہلے میں شد و مد سے اس سے جان چھڑانا چاہ رہا تھا لیکن میجر اورنگ زیب تک اس کا حال پہنچانے کے بعد نہ جانے کیوں ایک دم میں ذہنی طور پر اس کے ساتھ کام کرنے پر تیار ہو گیا تھا ۔پہلے میں اس کی خوب صورتی سے ڈرا ہوا تھا ،لیکن پھر بہت سوچنے کے بعد میرے دماغ میں یہی بات آئی تھی، کہ اسی طرح اگر میں ہر خوب صورت لڑکی کا سامنا کرنے سے ڈرتا رہا تو زندگی گزارنا بہت مشکل ہو جائے گا ۔یوں بھی اس جیسی خطرناک لڑکی سے محبت کوئی بےوقوف ہی کر سکتا تھا ۔اور سب بڑھ کروہاں اس سے بہتر رہنمائی کرنے والا ہمیں نہیں مل سکتا تھا ۔
تھوڑی دیر بعد موٹر سائیکل اسٹارٹ ہونے کی آواز سن کر مجھے معلوم ہو گیا کہ وہ موٹر سائیکل ہی پرکہیں روانہ ہوئی ہے ۔
اس کی تصدیق کمانڈر نصراللہ کی آمد سے ہوئی ۔وہ میرے لیے دن کا کھانا لایا تھا ۔اس نے خود بھی میرے ساتھ ہی کھانا کھانا پسند کیا تھا ۔اسی دوران اس نے پلوشہ کے بارے بھی پوچھ لیا کہ ۔ ”پلوخان موٹر سائیکل پر بیٹھ کر کہاں گیا ہے ۔“
میں نے نفی میں سر ہلا کر لاعلمی کا اظہار کیا اور اس نے اثبات میں سر ہلادیا ۔
٭٭٭
”اگلے دن دوپہر کو وہ واپس پہنچی ۔کافی خو ش دکھائی دے رہی تھی ۔
”ویسے مجھے امید تو نہیں تھی کہ تم مجھے واپسی پر یہیں ملو گے ۔“خالی چارپائی پر بیٹھتے ہوئے اس نے بغیر لگی لپٹی کہا ۔
میں خاموشی سے لیٹا رہا ۔
وہ فوراََ مطلب کی بات پر آ گئی ۔ ”پرسوں اپنا کام شروع ہو گا ۔“
”کیا مطلب ؟“میں پوچھے بنا نہیں رہ سکا تھا ۔
”پرسوں ثقلین خان کے بیٹے کی شادی ہے ،اورثقلین خان ،قبیل خان کا حلیف ہے ۔“
”تمھار امطلب ہے وہاں قبیل خان آئے گا ۔“
اس نے وثوق سے کہا ۔”بالکل آئے گا ۔“
”پھر تو وہاں جانا پڑے گا ۔“میں فوراََ تیار ہو گیا تھا ۔
”لیکن یہ یاد رکھنا کہ وہ خبیث ہر وقت محافظوں کے نرغے میں ہوتا ہے ۔“
”ویسے یہاں اس کے مخالف بھی تو موجود ہوں گے ،میرا مطلب وہ اکیلا ہی سمگلر اور دہشت گرد تو نہیں ہے نا ۔“
”بالکل ہیں ،لیکن ان میں ایک بھی ایسا نہیں ہے کہ کھل کر اس کا سامنا کر سکے ۔ثقلین خان کافی با رسوخ شخص ہے لیکن اس کے قبیل خان کے ساتھ بہت اچھے تعلقات ہیں ۔البتہ سنگدل خان محسود کے آدمیوں کا اس کے آدمیوں کے ساتھ دو تین بار فائرنگ کا تبادلہ ہوچکا ہے پر بعد میں صلح وغیرہ ہو گئی ۔ گو یہ صلح بھی بس خانہ پری ہی کے لیے تھی لیکن وہ کسی اورکے لیے قبیل خان کے خلاف میدان میں نہیں اتر سکتا۔“
”تم وزیر ہو کہ محسود؟“
و ہ معنی خیز لہجے میں بولی ۔”تمھیں اس سے کیا لینا کہ میں وزیر ہوں یا محسود۔“
میں جل کر بولا ۔”بھاڑ میں جاﺅ تم اور تمھاری قوم ۔“
وہ کھل کھلا کر ہنس پڑی ۔”ویسے کسی لڑکی کا قوم قبیلہ تب معلوم کیا جاتا ہے جب وہاں رشتا بھیجنے کا ارادہ ہواور ہمارے ہاں تو لڑکی کے والدین بہت زیادہ رقم مانگتے ہیں ۔امی جان تومیرا رشتا دینے کے لیے پچاس لاکھ سے ایک روپیا بھی کم نہیں کریں گی ۔اور سب سے بڑی بات یہ کہ تم اگر مجھ سے شادی کر لو تب بھی قبیل خان کی موت کے بعد میں تمھیں زندہ نہیں چھوڑ سکتی ۔“
میں منہ بناتے ہوئے بولا ۔”تم سے شادی کرنے سے بہتر ہے کہ میں خود کشی کر لوں ۔“
وہ شوخ لہجے میں بولی ۔”خود کشی کی زحمت نہ کرنا ۔اپنی موت کا کام مجھ پر چھوڑ دو ۔“
”ہم سنگدل خان محسود کے بارے بات کر رہے تھے ۔“میں نے گفتگو کا رخ اصل موضوع کی جانب موڑا ۔
”اس کی بات مکمل ہو چکی ہے اور اب قبیل خان کو ٹھکانے لگانے کا لائحہ عمل سوچو۔“
”اس بارے تم نے کافی کچھ سوچ رکھاہو گا ۔“
”ہاں ....اگر وہ سامنے آ گیا تو یقین کرو میں اپنی جان کی پروا کیے بغیر اسے ٹھکانے لگانے کی کوشش کروں گی ۔“
میرے منہ سے بے اختیار پھسلا ۔”کوئی بے وقوفی نہ کرنا ۔“میرے لہجے میں شامل فکر مندی اس سے زیادہ خود مجھے حیران کر گئی تھی ۔
اس نے منہ بناتے ہوئے کہا ۔”اس بارے مجھے کسی کے مشورے کی کوئی ضرورت نہیں ۔“
مجھے خود بھی احساس ہو گیا تھا کہ میں نے خوامخواہ فالتو کی بات کر دی ہے ۔اس کا خشک لہجہ سن کر میری خفت میں اضافہ ہو گیا تھا ۔
مجھے خاموش پا کر وہ بولی ۔”شادی پرسوں ہے اس لیے کل ہی نکل چلیں گے ۔“
میں اس مرتبہ بھی خاموش لیٹا چھت میں لگے شہتیروں کو گھورتا رہا ۔
” تم شاید اس لیے پریشان ہو کہ میری وجہ سے تم پر کوئی مصیبت نہ آجائے ہے نا ؟“میری خاموشی بھی اسے چپ پر آمادہ نہیں کر پا رہی تھی ۔
”اگر تمھیں زبان پر قابو رکھنا آتا تو یقینا تمھیں ساتھ رکھنے کے فیصلے پر مجھے پچھتانا نہ پڑتا ۔“
وہ قہقہہ لگاتے ہوئے بولی ۔”اسی لیے تو کہتی ہوں ،مستقبل کے پچھتاوں سے بچنے کے لیے تمھیں امی جان سے بات کر لینا چاہیے ۔میرے کہنے پر وہ پچاس لاکھ سے چند ہزار کم کرنے پر راضی ہو جائیں گی ۔اور میرے لیے بھی آسانی رہے گی کہ قبیل خان کی موت کے بعد تمھیں ڈھونڈنے کی زحمت سے بچ جاﺅں گی ۔“
میں نے طنزیہ لہجے میں کہا ۔”ویسے تمھیں ،کس بے وقوف نے یہ کہا ہے کہ تم خوب صورت ہو۔“
”اتنی جلدی اپنے کہے الفاظ تمھیں بھول گئے ہیں ۔“اس نے میری سردار سے کی گئی گفتگو یاد دلائی ۔
”سوائے بکواس کرنے کے تمھیں کچھ نہیں آتا ۔“کروٹ بدل کر میں نے سر پرچادر رکھ لی ۔ 
وہ جلدی سے بولی ۔”بات سنو ۔“
لیکن نے اسے جواب دینا ضروری نہ سمجھا ۔
وہ دوبارہ بولی ۔”راجا ذیشان حیدر صاحب !....اٹھ جاﺅ بازار تک جانا ہے ۔“
میں نے چہرے سے کپڑا ہٹانے کی زحمت کیے بغیر کہا ۔”تو منع کس نے کیا ہے ،جاﺅ نا ۔“
وہ مصر ہوئی ۔”نہیں تمھارا ساتھ جانا ضروری ہے ۔“
”فضول گوئی سے پرہیز کرو یہ نہ ہو میں سچ مچ تمھیں یہاں سے دفع ہو جانے کا کہہ دوں ۔“
”یعنی پہلے تم مذاق میں مجھے چلے جانے کا کہہ رہے تھے ۔اس کا مطلب ہوا میرا اندازہ صحیح ہے کہ تم شروع سے مجھ پر بری نظر رکھے ہوئے ہو ۔“
”پلوشہ !....فضول گوئی کی کوئی حد ہوتی ہے ۔“میں چڑ گیا تھا ۔
”تمھاری اطلاع کے لیے عرض ہے کہ میرا نام پلوشہ خان وزیر ہے ۔باقی بازار تک تو تمھیں جانا پڑے گا ۔“
میں بگڑ کر بولا۔”زبردستی ہے کیا ؟“
وہ بے تکلفی سے میری چارپائی پر بیٹھتے ہوئے بولی ۔”چلو نا ۔“
میں اٹھ کر اس سے ذرا سافاصلہ پیدا کرتے ہوئے بولا ۔”تم میں لڑکیوں والی تو کوئی بات ہی نہیں ہے۔“
وہ اطمینان سے بولی ۔”تومیں نے کب کہا ہے کہ میں لڑکی ہوں ۔“
”کیا تمھارے بال چھوٹے کروانے ،زیور نہ پہننے یا مردانہ لباس استعمال کرنے سے تم لڑکا بن جاﺅ گی ۔“
”راجا صاحب !....یہ اخلاق سدھارنے کا کام میرے بڑوں کے لیے چھوڑ دو اور اٹھو میرے ساتھ بازار تک چلو ۔“
”کل سے تم جانے کہاں کہاں سے گھوم پھر کر آ رہی ہو ،بازار تک اکیلے جانے میں کیا قباحت ہے ۔“
”تم نے چلنا ہے کہ نہیں ۔“میرے سوال کا جواب وہ گول کر گئی تھی ۔
”اگر میں نہ کہوں پھر ۔“
”تو پھر میں اس وقت تک کہتی رہوں گی جب تک تم میرے ساتھ چل نہیں پڑتے ۔“
”سنا تھا عورتیں مصیبت اور پریشانی کا دوسرا نام ہیں ۔“میں نے پاﺅں میں چپل ڈالتے ہوئے تلخ لہجے میں کہا ۔
وہ منہ بنا کر بولی ۔”یہ بات بیویوں کے متعلق کہی گئی ہے اور میں تمھاری بیوی نہیں ہوں سمجھے۔“
”عورت تو ہو نا ۔“
”نہیں ،تمھارے لیے عورت بھی نہیں ہوں ،مرد ہوں ۔اگر شک ہے تو آ جاﺅ میدان میں ۔“
میں نے طنزیہ لہجے میں کہا ۔”یقینا تمھارے جبڑے ٹھیک ہو گئے ہوں گے ۔“
”بڑا طنز کر رہے ہو،بندھی ہوئی لڑکی پر تشددکرنا یقینا ایک کارنامہ ہی تو ہے ۔“
”اچھا ا ب اپنی ٹیں ٹیں بند کرو اور چلو ۔“میں بیرونی دروازے کی طرف بڑھ گیا ۔
اس نے خاموشی سے میری تقلید میں قدم بڑھا دیے تھے ۔میری تلخ اور طنزیہ باتوں کا اس ڈھیٹ پر کوئی اثر نہیں ہوتا تھا ۔
میں نے بیٹھک کا دروازہ تالا کرتے ہوئے پوچھا ۔”تم نے میرا پستول واپس نہیں کیا ۔“
وہ بے پرواہی سے بولی ۔”تم دوسرا خرید لینا ۔“
میں نے اسے شرمندہ کرنے کی کوشش کی ۔”جانتی بھی ہو اس کی قیمت کتنی ہے؟“
”جانتی ہوں تو واپس نہیں کر رہی نا ۔“اس کے لہجے میں شامل اطمینان مجھے تپا گیا تھا ۔
”پھر تم نے سوچ بھی کیسے لیا کہ اتنا قیمتی پستول میں تمھارے حوالے کردوں گا ۔“
اس نے انکشاف کیا ۔”یہ میرا معاوضا ہے ۔“
”کیا ۔“میں حیرانی سے اچھل پڑا تھا ۔”تمھاری منتیں سن کر تمھیں ساتھ رکھا اور اب تمھیں معاوضا چاہیے ،واہ کیا انداز ہے ۔“
”تو میرے کہنے سے کیا فرق پڑتا ہے ،ہر آدمی نوکری کے حصول کے لیے نوکری دینے والے کی منتیں کرتا ہے ۔“
میں گہرا سانس لیتے ہوئے خاموش ہو گیا ۔بازار میں گھستے ہی اس نے ایک حجام کی دکان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ۔
”میں نے بال چھوٹے کروانے ہیں ۔“
”اب کون سے اتنے بڑے ہیں ۔“
”نہیں ،اگر میرے بال تھوڑے سے بھی لمبے ہو گئے تو میں بالکل لڑکی لگنے لگوں گی ۔“
”تو کیا ....؟“
”اس سوال کے جواب کا وقت میرے پاس نہیں ہے ۔“وہ حجام کی دکان کی طرف بڑھ گئی ۔
بوڑھے حجام کو اس نے بال چھوٹے کرنے کا کہا ۔میں خاموشی سے ایک جانب بیٹھ گیا ۔بال بنواتے ہی وہ مجھے مخاطب ہوئی ۔
”حجام چاچا کو پیسے دے دو ۔“ 
کڑی نظروں سے اسے گھورتے ہوئے میں نے پچاس کا نوٹ حجام کی طرف بڑھا دیا ۔
دکا ن سے باہر آتے ہی وہ کہنے لگی ۔ ”مجھے شادی کے لیے نئے کپڑے لے کے دو ۔“
میں جانتا تھا کہ اسے مطعون کرنے سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہونا تھا اس کے باوجود خاموش نہیں رہ سکا تھا ۔
”تمھیں کل بیس ہزار دیے تھے وہ کہاں گئے ؟“
”جانتے ہو تمھاری مثال بالکل اس بکری کی سی ہے جو دودھ تو دیتی ہے مگر مینگنیاں ڈال کر سارا مزہ کرکرا کر دیتی ہے ۔“
”تمھاری زبان کچھ زیادہ ہی لمبی ہوتی جا رہی ہے ۔جاﺅ نہیں خرید کر دیتا ۔“
ٹھیک ہے واپس چلو ۔وہ بیٹھک کی جانب مڑ گئی ،مجھے ہلکی سی ندامت تو ہوئی مگر میں نے اسے روکنے کی کوشش نہیں کی تھی ۔رستے میں ہم خاموشی سے چلتے رہے ۔بیٹھک میں داخل ہو تے ہی وہ تو غسل خانے میں گھس کر نہانے لگی اور میں چارپائی پر جا کر لیٹ گیا ۔
غسل خانے سے برآمد ہو کر وہ بھی خاموشی سے چارپائی پر آ کر لیٹ گئی چند لمحوں کے بعد میرا نام لیے بغیر اس کی دکھ بھری آواز ابھری ۔
”امی جان اور میرا چھوٹا بھائی ، پچھلے آٹھ نو سال سے رشتے کے ایک ماموں کے گھر پر رہ رہے ہیں ۔ماموں خود بھی غریب آدمی ہیں ۔امی جان عیدالفطر پر کپڑوں کا ایک جوڑا خریدتی ہیں اور پورا سال اسی میں گزارتی ہیں ،چھوٹے بھائی نے شاید ہی کبھی کھلونے کا منہ دیکھا ہو۔تم سے اسی لیے بے غیرت ہو کر پیسے مانگے حالانکہ تم جیسے آدمی سے پیسے مانگنا اپنی انا کے گلے پر چھری چلانے کے مترادف ہے ۔اور اب نئے کپڑوں کا بھی اس لیے کہہ رہی تھی کل ثقلین خان کے بیٹے کی شادی میں شرکت کے لیے جا رہے ہیں کم از کم حلیہ تو باراتیوں کا بنا کر جائیں ۔“
اس کی بات سن کر مجھے شدید ندامت محسوس ہوئی مگر ندامت ظاہر کیے بغیر میں نے غصے سے کہا۔”تو یہ بکواس پہلے بھی کی جا سکتی تھی ۔“
وہ ترکی بہ ترکی بولی ۔”تو اب کر دی ہے نا ۔“
”اچھا چلو اٹھو ۔“میں دوبارہ اٹھ بیٹھا ۔گو مجھے امید نہیں تھی کہ وہ اب میرے ساتھ چلنے پر تیار ہو گی ۔مگر وہ بغیر کچھ کہے میرے ساتھ جانے پر تیار ہو گئی ۔وہ ایسی ہی تھی فضول ناراضی میں وقت ضائع نہیں کرتی تھی ۔یا شاید اسے اپنی اہمیت ہی کا اندازہ نہیں تھا ۔
٭٭٭
ثقلین خان کے بیٹے کی شادی میں جانے کے لیے کمانڈر عبدالحق کی موٹر سائیکل ہمارے کام آئی تھی ۔ وہاں تک جانے کے لیے ہمیں علام خیل سے گزر کر جانا پڑا ۔اس کے گاﺅں کا نام ڈمبریانی تھا ۔ اس کی بیٹھک کسی وسیع و عریض حویلی سے بھی زیادہ رقبے میں پھیلی ہوئی تھی ۔شادی کی تیاریاں زور و شور سے جاری تھیں ۔بھاری بھرکم تن و توش کا مالک ثقلین خان ہمیں بیٹھک ہی میں اپنے آدمیوں کے جھرمٹ میں نظر آیا ۔
ہمیں خندہ پیشانی سے خوش آمدید کہتے ہوئے اس نے ایک ملازم کو کھانا لانے کا حکم دیا ۔ دوپہر کا وقت ہونے کی وجہ سے اس نے ہم سے پوچھنے کی زحمت ہی نہیں کی تھی اور نہ یہ پوچھا تھا کہ ہم آئے کہاں سے ہیں ۔اس علاقے کی خوبیوں میں ایک بڑی خوبی مہمان نوازی ہے ۔ملازم ہمیں ایک کمرے میں لے گیا جہاں کچھ اور لوگ بھی کھانا کھانے میں مشغول تھے ۔کھانا کھا کر ہم باہر آئے اور ثقلین خان کی سجائی ہوئی محفل میں بیٹھ گئے ۔وہاں اس کے محافظوں کے علاوہ اور بھی کافی لوگ موجود تھے ۔ اس وقت زور و شور سے یہ بحث ہو رہی تھی کہ کل کس گویے کو بلایا جائے ۔اس میں قریباََ تمام آدمی اپنی اپنی رائے پیش کر رہے تھے ۔ثقلین خان نے ہم دونوں سے بھی پوچھا ،جواباََپلوشہ نے ایک خاتون گلوکارہ کا نام لے دیا تھا ۔
رات کا کھانا وغیرہ کھا کر جب مقامی لوگ گھروں کو لوٹنے لگے تبھی ثقلین خان نے سرسری انداز میں ہم سے پوچھ لیا تھا کہ ہم کہاں سے تشریف لائے ہیں ۔
”ہم شامون سے آئے ہیں ۔حاجی ارسلان گل میرے چچا جان ہیں ۔ان کی طبیعت ناساز تھی اس لیے اس نے میرے ہاتھ اپنی معذرت بھجوائی ہے ۔اور یہ میرے دوست ہیں ان کا تعلق مردان سے ہے ۔“پلوشہ نے فوراََ اپنا اور میراتعارف کرادیا ۔
”حاجی ارسلان ....“ثقلین خان کے چہرے پر سوچ کے آثار نمودار ہوئے اور پھر وہ اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہنے لگا ۔”اچھا اچھا شامون والے حاجی ارسلان گل صاحب !....ویسے کیا ہوا انھیں ،طبیعت زیادہ خراب تو نہیں ہے ۔“
”نہیں چچا جان !....اب کافی بہتر ہے ،لیکن سفر کرنے قابل نہیں تھے ۔“
”چلو واپسی پر میری جانب سے پوچھ لینا ،شادی کے ہنگامے نمٹا کر شاید میں شامون کا چکر لگا لوں ۔“
”ضرور چچا جان !“وہ خوش دلی سے مسکرائی ۔”آپ کو ہمیشہ خوش آمدید کہا جائے گا ۔“
”ٹھیک ہے آپ لوگ آرام کرو ۔“وہ اٹھ کر بیٹھک کے داخلی دروازے کی جانب بڑھ گیا ۔ محافظوں نے اس کو تین اطراف سے گھر لیا تھا ۔
اس کے دور جاتے ہی میں نے پلوشہ سے پوچھا ۔”یہ حاجی ارسلان گل کون ہے ؟“
وہ مسکرائی ۔”پتا نہیں ۔“
”کیا مطلب ؟....پتا نہیں کا۔“میں نے حیرانی سے پوچھا ۔
”مطلب یہ کہ میں نے فرضی نام لیا ہے اور ثقلین خان جیسے بڑے سرداروں کے پاس اتنا وقت نہیں ہوتا کہ وہ چھوٹے چھوٹے لوگوں کو ان کے نام سے یاد کرتے پھریں ۔“
میں نے پریشان ہو کر کہا ۔”مروا نہ دینا ۔“
وہ شوخی سے بولی ۔”نہیں تمھیں میرے علاوہ کوئی ہاتھ بھی نہیں لگا سکتا اور میں بھی قبیل خان کی ہلاکت کے بعد تم سے نبٹوں گی ۔“
میں چڑ کر بولا ۔”بکواس کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دینا ۔“
”تمھیں یہ بکواس لگ رہی ہے ،اس خبیث کو مرنے دو پھر پتا چل جائے گا ۔“
”فضول عورت ۔“کہہ کر میں سونے کے کمرے کی طرف چل دیا ،وہاں ہر کمرے میں پانچ چھے چھے آدمی سوئے تھے ہم دونوں بھی ایک کمرے میں گھس کر سو گئے ۔
٭٭٭
اگلے روز سورج ابھرتے ہی شادی کے ہنگامے شروع ہو گئے تھے ۔ثقلین خان کا بیٹا دلدار خان ،اونچے لمبے قد کا پر رعب جوان تھا ۔چھوٹی داڑھی اور کندھوں پر بکھری ہوئی گھنی زلفیں اس وجاہت میں اضافہ کر رہی تھیں ۔گویے نے رات کو آنا تھا ۔رات بارہ بجے کے بعد ناچنے گانے والی طوائفیں کا پروگرام تھا ۔لیکن یہ محفل چیدہ چیدہ مخصوص افراد کے لیے تھی ۔ہم دونوں کی کوشش یہی تھی کہ اس محفل میں بیٹھنے کی اجازت حاصل کر سکیں ۔نو دس بجے پشتو کے خوب صورت ساز ساﺅنڈ سسٹم پر بجنے لگے ۔ دیکھتے ہی دیکھتے منچلے نوجوان ان خوب صورت دھنوں پر ناچنے لگے ۔پلوشہ میرے ساتھ ہی بیٹھی تھی اس وقت میری حیرانی کی انتہا نہ رہی جب میں نے اسے ناچتے ہوئے نوجوانوں کا رخ کرتے دیکھا۔پستول وہ میری گود میں پھینک گئی تھی ۔ اگلے ہی لمحے وہ تھرکتے ہوئے ان میں شامل ہو گئی ۔اس کے بدن کی لچک ،ہاتھ پاﺅں کی ہم آہنگی خوب صورت انداز میں دائرے میں چکر کاٹنا ایک عجیب خوش کن منظر تھا ۔دیکھنے والے اسے ایک نو خیز لڑکا ہی سمجھ رہے تھے یہ تو صرف میں جانتا تھا کہ وہ لڑکی ہے اور اس وجہ سے مجھ پر اس کا نا چنا کچھ زیادہ ہی اثر انداز ہو رہا تھا ۔کئی بار میں نے اس کے بدن سے نظریں چرا کر دائیں بائیں دیکھنے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہو سکا ۔تھوڑی ہی دیر میں تمام لڑکوں نے پلوشہ کے لیے میدان خالی کر دیا تھا ۔اس کے مسحور کن ڈانس نے جلد ہی تمام کی توجہ اپنی جانب سمیٹ لی تھی ۔وہ کافی دیر ناچتی رہی ۔شوقین حضرات نے بے تحاشا پیسے پھینکنے شروع کر دیے جنھیں سمیٹنے کے لیے مقامی میراثی موجود تھا ۔وقت جیسے تھم گیا تھا ۔ دھن بدلتے ہی اس کے ہاتھ پاﺅں اور درمیانی بدن کی حرکت بھی تبدیل ہو جاتی تھی ۔کافی دیر گزر گئی شاید وہ تھکنا جانتی ہی نہیں تھی ۔یہ بات تو مجھے اس سے لڑتے وقت بھی معلوم ہو گئی تھی کہ اس میں بلا کی جان ہے۔گھنٹا ڈیڑھ مسلسل ناچنا کتنا مشکل ہے اس بارے وہی جانتے ہیں جن کا یہ پیشہ ہے ۔میں تو بس اندازہ ہی لگا سکتا تھا ۔اس کا ڈانس ختم ہوتے ہی ”ہاہو ۔“کا شور مچ گیا تھا ۔وہ سیدھا میرے پاس پہنچی پسینہ دھاروں کی صورت میں اس کے چہرے اور گردن پر بہہ رہا تھا لیکن اس کا سانس بالکل ہموار تھا ۔ دلدار خان بھی اس کا ڈانس بڑے شوق سے دیکھتا رہا تھا ۔اسے واپس آتے دیکھ کر وہ اپنی جگہ سے اٹھا اور جیب سے کئی بڑے نوٹ نکال کر اس کی طرف بڑھاتا ہوا بولا ۔
”شاباش جوان!....دل خوش کر دیا ۔“
پلوشہ نے اطمینان سے اس کے ہاتھ سے تمام نوٹ لے کر اپنی جیب میں ڈال لیے تھے ۔
”ویسے یہی کاروبار کرو کافی کمائی کر لو گی ۔“چارپائی پر وہ میرے ساتھ اکیلی ہی بیٹھی تھی ۔اس لیے میں نے اسے مطعون کرنے کا موقع ہاتھ سے جانے نہ دیا ۔
”اچھا مشورہ ہے ،لیکن پہلے قبیل خان اور تمھیں قتل کر دوں پھر اس بارے بھی کچھ سوچوں گی۔“
”بے حیا ۔“نہ جانے کیوں مجھے اس کی اس حرکت پر غصہ آ رہا تھا ۔
”یہ جو فوجی ہوتے ہیں نا ،نوکری پر آتے ہوئے عقل گھر چھوڑ آتے ہیں ۔بے وقوف انسان رات کی خصوصی محفل میں شمولیت کے لیے زمین ہموار کر رہی تھی ۔اب دولھے میاں کو میرا ناچنا پسند آ گیا ہے یقینا وہ مجھے اور میرے دوست کو خصوصی محفل میں شمولیت کا پروانہ عطا کر دے گا ۔“ میری ناگواری اور غصہ اسے بھی محسوس ہو گیا تھا اور عجیب بات یہ کہ اپنے عمل کی توجیہ میں اس نے ایک منٹ کی دیر بھی نہیں لگائی تھی ۔
”سچ کہو تم اسی لیے ناچنے گئیں تھیں ۔“مجھے اس کی بات پر یقین تھا لیکن اس کے باوجود میں حجت کرنے سے باز نہیں آیا تھا ۔
”ہاں ،مجھے معلوم تھا کہ تمام میری جانب متوجہ ہو جائیں گے ۔خوب صورت لڑکے یہاں کسی بھی طرح لڑکیوں سے کم اہمیت نہیں رکھتے ۔“
”بڑی آئی خوب صورت ۔“میں نے طنزیہ انداز میں کہا لیکن یہ طنز میرے حلق سے نیچے نہیں اتر سکا تھا ۔اس کا موہنا چہرہ کسی کی تعریف کا محتاج نہیں تھا ۔
”وہ کیا کہتے ہیں کھسیانی بلی کھمبا نوچے ۔“وہ شوخ لہجے میں بولی ۔”ویسے تم یوں آنکھیں پھا ڑ پھاڑ کر دیکھ رہے تھے گویا اس سے پہلے کسی لڑکی کو ناچتے ہوئے نہیں دیکھا ۔“
”یہ تو سچ ہے کہ میں نے کبھی کسی لڑکی کو ناچتے نہیں دیکھا مگر تم لڑکی کب ہو ؟“
”صحیح کہا ۔“اطمینان بھرے انداز میں کہتے ہوئے اس نے میری گود میں پڑی چادر اٹھائی اور اپنا پسینہ پونچھنے لگی ۔
میں تلخ ہوتا ہوا بولا ۔”کتنی بار منع کیا ہے کہ میری چیز کو بغیر پوچھے استعمال نہ کیا کرو ۔“
”جس دن دل سے کہو گے نہیں کروں گی ۔“
اور میں افسوس بھرے انداز میں سر ہلاتا ہوا دوسری جانب متوجہ ہو گیا ۔یوں بھی وہ انتہائی درجے کی ڈھیٹ تھی ۔
”میرا پستول ادھر کرو ۔“پسینہ صاف کر کے اس نے میری جانب ہاتھ بڑھایا۔اور میں نے خاموشی سے گلاک اس کی طرف بڑھا دیا ۔میرے پاس اس وقت پلوشہ کی ایس ایم جی موجود تھی ۔ چائنہ کی بنی ہوئی فلوڈنگ بٹ والی گن تھی ۔سردار والا بریٹا میں کمانڈر نصراللہ کی بیٹھک ہی میں چھوڑ آیا تھا ۔
دوپہر کے کھانے کے وقت ڈھول باجے کو خاموشی نصیب ہوئی ۔نماز ظہر کے بعد ایک بار پھر تیاریاں ہونے لگیں ۔یوں بھی دھوپ سے بچنے کے لیے بہت بڑا شامیانہ لگایا گیا تھا ۔
پلوشہ کھانا کھا کر کہیں غائب ہو گئی تھی ۔نہ میں نے پوچھا تھا کہ کہاں جا رہی ہو نہ اس نے بتانے کی زحمت کی تھی ۔میں وہیں کمرے میں تکیے سے ٹیک لگا کر چارپائی پر ڈھیر ہو گیا ۔شادی کا اصل ہنگامہ نماز عصر کے بعد ہی شروع ہو نا تھا ۔گھنٹے ڈیڑھ بعد ہی مجھے پلوشہ کی صورت نظر آئی ۔اس نے کمرے کے دروازے سے جھانک کر اندر نگاہ دوڑائی اور مجھے تکیے سے ٹیک لگائے دیکھ کر اندر گھس آئی ،یقینا میری تلاش میں اس نے دوسرے کمروں میں بھی جھانکا ہوگا ۔
میرے ساتھ چارپائی پر بیٹھتے ہوئے وہ سنجیدہ لہجے میں بولی ۔”ایک بری خبر ہے ۔“
میں نے طنزیہ لہجے میں کہا ”تمھارے منہ سے پہلے بھی کبھی اچھی خبر نہیں سنی اورکمرے میں تمام چارپائیاں خالی پڑی ہیں میرے ساتھ بیٹھنا ضروری تھا کیا ۔“
”تمھیں خوش کرنے کے لیے بیٹھتی ہوں ۔“
”تم جتنی دور ہوتی ہو میں اتنا خوش ہوتا ہوں ۔“
”جھوٹ بولنا بھی نہیں آتا ۔“اس نے منہ بنایا ۔
”تمھیں تو آتا ہے نا ؟اور یہی کافی ہے ۔“
”اچھا جو میں خبر لائی ہوں وہ سنو ۔“اس نے ڈانٹنے کے انداز میں کہا ۔ میرے پاس سے اٹھنے کی کوشش اس نے نہیں کی تھی ۔
”فرماﺅ ۔“
”وہ خبیث شادی میں شرکت کے لیے نہیں آ رہا ۔“
”کیا ۔“میں نے بد مزگی سے پوچھا ۔
”صحیح کہہ رہی ہوں ۔میں مکمل چھان بین کر کے آئی ہوں وہ اس وقت افغانستان میں ہے ۔“
”پھر تو واپس چلنا چاہیے ۔“
وہ نفی میں سر ہلاتے ہوئے بولی ۔”نہیں میرے ذہن میں ایک اور تجویز ہے ۔“
”کیا ؟“
”ثقلین خان ایک تگڑی آسامی ہے اور میں چاہتی ہوں کہ قبیل خان اورثقلین خان کے درمیان تھوڑی بہت چپلقش پیدا کی جائے جسے بعد میں ہم بڑھاوادے دیں ۔“
”اور اس سے ہمیں کیا ملے گا ؟“
”بہت کچھ ،اس کا ایک طاقت ور حلیف اگر حریف بن جائے تو کتنا اچھا ہو جائے گا ۔“
”تو یہ چپلقش پیدا کیسے ہوگی ؟“
”ایک طریقہ ہے تو سہی ، اگر تم ہمت کر سکو ۔“
”بولتی رہو ۔“
اس نے بے باک لہجے میں تفصیل بتاتے ہوئے کہا ۔”قبیل خان کے لشکر کا ایک اہم کمانڈر انار گل یہاں آیا ہوا ہے اور یہ انتہائی درجے کا بدکردار شخص ہے ۔ کمینہ عورتوں سے زیادہ کم سن لڑکوں میں دلچسپی رکھتا ہے ۔اگر میں دوپہر کی طرح ناچتے ہوئے خود کو سستا بنا کر پیش کروں تو یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ وہ مجھے چھیڑنے سے باز رہ سکے ۔ وہ لا محالہ مجھے چھیڑنے کی کوشش کرے گا اس وقت میں ہنگامہ کھڑا کر دوں گی اور تم فوراََ غیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کے سر میں گولی اتار دینا ۔کیونکہ میں تمھارا دوست ہوں۔ اور اس طرح غیرت کھا کر گولی چلانا بھی کوئی نئی بات نہیں ہے اس لیے ہنگامہ توہو گا لیکن اس کا نتیجہ ہمارے حق میں نکلے گا ۔سب سے بڑھ کر ہم ثقلین خان کے مہمان ہیں اور اپنے مہمانوں کو وہ کسی صورت قبیل خان کے آدمیوں کے حوالے نہیں کرے گا ۔انار گل بھی ان معاملات میں شیطان کی طرح بدنام ہے ۔“
میں گہرے طنز سے بولا ۔”گویا اب تم نے قبیل خان کے قتل سے پہلے مجھے مروانے کا منصوبہ سوچ لیا ہے ۔“
وہ مجھے حوصلہ دیتے ہوئے بولی ۔ ”راجا !....کچھ بھی نہیں ہو گا تم ہمت تو کرو ۔“
”اور تم اتنی حور پری کب سے ہو گئی ہو کہ تمھیں دیکھ کر انار گل جیسی گندی ذہنیت کا آدمی آپے سے باہر ہو جائے گا ۔“
وہ اعتماد سے بولی ۔”جس بات میں تمھیں شک نہیں اس پر سوال مت اٹھاﺅ ۔“
”اچھا اگر میرے گولی چلانے کے بعد اس کے آدمیوں نے بھی فائر کھول دیا تب ثقلین خان کس جادو سے میری جان بچائے گا ۔اور تمھاری آنکھوں میں تو میں یوں بھی کھٹک رہا ہوں ۔“
”انار گل ،قبیل خان نہیں ہے کہ اس کے دائیں بائیں محافظ موجود ہوتے ہوں ۔باقی قبیل خان کے جو آدمی شادی میں شرکت کے لیے آئے ہوئے ہیں ان میں سے کوئی کس وجہ سے انار گل کی اتنی طرف داری کرے گا کہ تم پر گولی چلا دے ۔البتہ قبیل خان ضرور اس بات کو بنیاد بنا کر ثقلین خان سے ہمارا مطالبہ کرے گا ۔اور اس وقت ثقلین چاہ کر بھی ہمیں قبیل خان کے حوالے نہیں کرے گا ،کیونکہ ہم اس کے پاس نہیں ہوں گے ۔جبکہ قبیل خان یہی سمجھے گا کہ ثقلین خان نے اس کے مجرموں کو پناہ دے رکھی ہے یا انھیں کہیں دور بھجوا دیا ہے ۔“
میں لگی لپٹی رکھے بغیر بولا۔”ویسے اب تک میں یہی سمجھتا آرہاتھا کہ خیالی پلاﺅ صرف شیخ چلی ہی پکاتا رہا ہے ۔آج یہ غلط فہمی بھی دور ہو گئی ہے ۔بے وقوف !....قبیل خان جیسے لوگوں کے نزدیک اپنے آدمیوں کی اہمیت اس وقت تک ہوتی ہے جب تک وہ زندہ ہوں ۔ان کے لیے وہ ثقلین خان جیسے سردار سے نہیں جھگڑ سکتا ۔دوسرا یہ فلمی طریقے اپنے پاس رکھو فی الحال میرا مرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے ۔“
وہ عزم سے بولی ۔”میں نے آج انار گل کو ٹھکانے لگانا ہے اور یہ میں طے کر چکی ہوں ۔“
”وجہ ....؟“
”میرے بھائی نے جب باجی کو بچانے کے لیے گاڑی کی میں سوار ہونے کی کوشش کی تھی تب یہی کمینہ تھا جس نے بھائی کو لات مار کر گاڑی سے نیچے گرایا تھا ۔اور نیچے گرتے ہی پتھر اس کے سر میں لگنے سے وہ زندگی کی بازی ہار گیا تھا ۔“
”تو کیا یہ کام بعد میں نہیں ہو سکتا ۔“
”نہیں ،میں اس غلیظ کو گندہ کر کے ہلاک کروں گی ۔میں چاہتی ہوں جب لوگوں تک اس کی ہلاکت کی وجہ پہنچے تو وہ اس پر تھو تھو کریں ۔اور جب یہ ایک نوخیز لڑکے کو اتنے ہجوم میں چھیڑے گا اور اس لڑکے کا دوست اس کے بھیجے میں گولی اتارے گا ۔یقینا یہ ایک گندی اور قابل ملامت موت ہو گی ۔“
”ٹھیک ہے ،اپنے کسی دوست کو بلا لو ....میں یوں بھی تم سے دوستی کا دعوے دار نہیں ہوں ۔“
”دیکھ لو راجا !....ہم دشمن سہی پر قبیل خان کی موت تک ساتھی ہیں ۔کسی وقت تمھیں بھی مجھ سے کام پڑ سکتا ہے ۔“
”تمھیں کام بتانے سے پہلے میں خود کشی کرنا پسند کروں گا۔“
”خیر تمھارے مرنے کی خواہش کوتو میں جلد پورا کر دوں گا ۔بہ ہرحال اتنا تو کرسکتے ہو نا کہ یہیں موجود رہو ۔“
”موجود ہوں ،لیکن مجھ سے کسی مدد کی توقع کرنا فضول ہی ہوگا ۔تم جیسی لڑکی کے لیے میں اپنی زندگی داﺅ پر نہیں لگا سکتا ۔“
”دیکھو ،مجھے بہ طور لڑکی مخاطب نہ کیا کرو ۔جب تمھیں کئی بار کہہ چکی ہوں کہ میں تمھارے لیے فقط ایک لڑکا ہوں تو براہ مہربانی مجھے پلو خان ہی کہا کرو ۔“
”تم خود مجھ سے باتیں کرتے وقت لڑکی کے انداز میں بات کرتی ہو اس میں میرا کیا قصور ۔“
”اب نہیں کروں گا ۔“اس نے گویا کونین چباتے ہوئے کہا تھا ۔
میں ترکی بہ ترکی بولا۔”تو مجھے بھی کوئی شوق نہیں ہے محترم۔“
ڈھول اور شہنائی کی آواز بلند ہوتے ہی اس نے کہا ۔”چلو باہر چل کر بیٹھتے ہیں ،شادی کا ہنگامہ شروع ہو گیا ہے ۔“
اور میں اس کے ہمراہ کمرے سے باہر نکل آیا ۔بیٹھک کے کھلے صحن میں سیکڑوں لوگ موجود تھے اور مزید لوگوں کی آمد جاری تھی ۔ایک بڑی چارپائی پر ثقلین خان تکیوں سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا ۔اس چارپائی پر خوب صورت چادر بھی بچھی ہوئی تھی ۔دو تین اور چارپائیاں بھی اسی انداز میں سجا کر رکھی گئی تھیں اور ان پر صاحب حیثیت لوگ بیٹھے تھے ۔ایک چارپائی پر ثقلین کا بیٹا دلدار خان اپنے تین دوستوں کے ساتھ بیٹھا مونچھوں کو تاﺅ دے رہا تھا ۔میں اور پلوشہ بیٹھنے کے لیے جگہ دیکھنے لگے ۔ایک چارپائی پر تھوڑی سی جگہ خالی تھی ۔میں اسی کی طرف بڑھ گیا ۔مجھے محسوس ہوا کہ وہ میرے ساتھ نہیں آ رہی ۔پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہ ایک مرد کے ساتھ کھڑی کوئی بات کر رہی تھی ۔
میں چارپائی پر بیٹھ گیا ۔دو تین منٹ اس کے ساتھ بات کرنے کے بعد وہ میری طرف بڑھ آئی ۔میرے بائیں ہاتھ چارپائی پر ایک ادھیڑ عمر کا باریش مرد بیٹھا تھا۔ ہمارے درمیان بہ ہرحال اتنا خلا موجود تھا جس میں وہ آسانی سے سما سکتی تھی ۔لیکن وہاں بیٹھنے کے بجائے ،مجھے اس مرد کی طرف دھکیلتے ہوئے وہ میرے دائیں جانب بیٹھ گئی ۔
ایک بات میں نے بڑی شدت سے محسوس کی تھی کہ وہ بیٹھتے وقت کوشش کرتی کہ میرے علاوہ کسی سے اس کا بدن مس نہ ہو ۔شاید اس کی وجہ یہی تھی کہ مجھے تو معلوم تھا کہ وہ عورت ہے اور کسی دوسرے کو اس کے بدن کے گداز سے معلوم ہو جاتا کہ وہ لڑکا نہیں ہے ۔لیکن پھر مجھے اپنی اس بات میں وزن نظر نہ آیا ، کیونکہ سردار کی موجودی میں بھی اس کی کوشش یہی ہوتی تھی ۔حالانکہ وہ اسے دل سے اپنی بہن سمجھتا تھا ۔کبھی کبھی مجھے سردار کی بات پر یقین آنے لگتا تھا کہ پلوشہ مجھ میں دلچسپی لے رہی ہے ۔بہ ہرحال کچھ بھی تھا میں اب اس راہ ِ خار زار پر اپنے قدم نہیں بڑھا سکتا تھا ۔یوں بھی پلوشہ لڑکی سے زیادہ لڑکا تھی اور ایسی لڑکیاں مجھے بالکل پسند نہیں ہیں جو لڑکی ہوتے ہوئے لڑکوں کا بھیس بنائے پھریں ۔گو پلوشہ اس ضمن میں مجبور تھی ،لیکن مجھے پھر بھی اس کی اس عادات سے چڑ تھی ۔
”وہ لال ٹوپی والا آدمی نظر آ رہا ہے ۔“بیٹھتے ساتھ اس نے مجھے کہنی سے ٹہوکا دیتے ہوئے ہمارے بائیں جانب دو چارپائیاں چھوڑ کر بیٹھے ہوئے ایک عام سی شکل کے پختہ عمر مرد کی طرف متوجہ کیا جس کی شکل پر پھٹکار برس رہی تھی ۔ہمارا رخ اس وقت جنوب کی طرف تھا جبکہ انارگل جس چارپائی پر بیٹھا تھا اس کا رخ مغرب کی جانب ہو رہا تھا ۔
میں پوچھنے لگا ۔”یہی انار گل ہے ۔“
”ہاں ....اور دیکھو کس طرح سفید کپڑوں والے نوعمر لڑکے کو ہوس ناک نظروں سے گھور رہا ہے ۔“اس نے ڈھول کی تھاپ پر ناچنے والے ایک لڑکے کی جانب اشارہ کیا ۔جو وہاں ناچنے والے باقی لڑکوں اور مردوں میں نمایاں نظر آ رہا تھا ۔
اس سے پہلے کہ میں اس کی بات کا جواب دے پاتا ایک آدمی ہمارے قریب پہنچا ۔اور پلوشہ کو مخاطب کر کے کہا ۔
”وڑکیہ !....سردارزادہ دلدار خان دے غواڑی ۔“(چھوٹے ،سردارزادہ دلدار خان بلا رہا ہے) 
”آتا ہوں ۔“اسے کہہ کر وہ میری جان متوجہ ہوئی ۔”لگتا ہے سردارزادے کو میرا ناچ کچھ زیادہ ہی پسند آ گیا ہے ۔“
میں نے طنزیہ لہجے میں کہا ۔”چلے جاﺅ ،کچھ خرچا پانی ہی بن جائے گا ۔“
”میرا خرچا پانی تو خیر تمھارے ذمہ ہے ،البتہ اس کام کے لیے میں خود اٹھنے والا تھا ۔اب تو بہانہ مل گیا ہے ۔“یہ کہہ کر وہ سردارزادے دلدارخان کی جانب بڑھ گیا جو اپنے تین چار دوستوں کے ساتھ گپ شپ میں مصروف تھا ۔
پلوشہ کے قریب جانے پر سردار زادہ دلدار خان نے کھڑے ہو کر اس سے ہاتھ ملایا ۔اور اس کی پیٹھ پر تھپکی دے کر کچھ کہنے لگا ۔ پلوشہ کا سر اوپر نیچے ہلا اور جواباََ سردار زادے کو کوئی بات کہہ کر میرے جانب پلٹ آئی ۔
”سردار زادہ مجھے ناچنے کا کہہ رہا ہے ،میں نے کہہ دیا کہ اپنے دوست سے بھی پوچھ لوں اور یہ کہ میں اس مقامی ڈھول پر نہیں ناچوں گا ۔“یہ کہہ کروہ کھلی جگہ کی طرف بڑھ گئی ۔اسی وقت ڈھول بجانے والے نے اپنے ہاتھ روک لیے ۔ایک لمحے کے لیے ماحول میں سکوت چھا گیا تھا ۔صرف لوگوں کے باتیں کرنے کی ہلکی ہلکی آواز سنائی دے رہی تھی ۔اگلے ہی لمحے بہترین ساﺅنڈ سسٹم پر پشتو کی بھڑکیلی سی دھن سنائی دینے لگی ۔اور اس کے ساتھ ہی پلوشہ کالچک دار بدن اس دھن سے ہم آہنگ ہو گیا ۔چند منچلوں نے پہلے تو اس کا ساتھ دینا چاہا مگر اس کی مہارت دیکھتے ہوئے وہ خود بہ خود پیچھے ہٹ گئے تھے ۔ وہ اپنے ہاتھ پاﺅں اور درمیانی جسم کا استعمال اس خو ب صورتی سے کر رہی تھی گویا اس کی ساری زندگی اسی شغل میں گزری ہو ۔اس خوش کن نظارے سے نظریں ہٹانا کافی دشوار تھا لیکن میں نے کوشش کر کے انار گل کی جانب نگاہیں گھمائیں ۔ اس کے چہرے پر جو تاثرات نظر آ رہے تھے انھیں دیکھ کر مجھے پلوشہ کی بات میں کوئی شک نہیں رہا تھا ۔اس وقت اس کی آنکھیں کسی گدھ کی طرح پلوشہ کے بدن پر گڑی تھیں ۔ بدلتی دھنوں کے ساتھ اس کے ہاتھ پاﺅں اور جسم کی حرکات بھی تبدیل ہو جاتی تھیں ۔جوں جوں وقت گزر رہا تھا اس کی حرکات میں سستی کے بجائے تیزی آتی جا رہی تھی ۔اور اس کے ساتھ ہی لوگوں کی جیبوں کے منہ بھی کھل گئے تھے ۔ڈھول بجانے والے کو پچھلے دو تین دن ڈھول پیٹنے پر اتنی رقم ہاتھ نہیں آئی ہو گی جو ان لمحات میں اکٹھی ہو رہی تھی ۔یوں بھی اتنا تو وہ بھی جانتا تھا کہ پلوشہ کوئی پیشہ ور ناچنے والا نہیں تھا جو اس کے ساتھ رقم میں حصہ داری کا دعوا کرتا ۔اور پھر میں نے دیکھا کہ وہ پیسے پھینکنے والوں کے ساتھ ناچتے ہوئے اٹھکیلیاں کرنے لگی ۔اس کا انداز بالکل کسی بازاری لڑکے کا ساتھا ۔کچھ لوگ جو اسے نہیں جانتے تھے انھوں نے اپنے کسی دوست اور ساتھی وغیرہ کے سر پر بڑا نوٹ رکھ کر پکڑا ،ڈھول اور شہنائی بجانے والوں نے جب وہ نوٹ پکڑنا چاہا تو انھوں نے پلوشہ کی جانب اشارہ کیا،کہ وہ خود آ کر نوٹ پکڑے ۔پلوشہ کو پیشہ ور تو نہیں تھی کہ ادھر جاتی ،مگر اس وقت میری حیرت کی انتہا نہ رہی جب وہ اس بندے کی طرف بڑھ گئی جس نے ایک بڑا نوٹ نکال کر اپنے ساتھی کے سر پر پکڑا ہوا تھا ۔اس کے سامنے چکر کاٹتے ہوئے پلوشہ نے دو تین نوٹ اس کے ہاتھ سے جھپٹے ۔اس دوران اس نے دو تین بار پلوشہ کی کلائی پکڑنے کی کوشش کی مگر وہ صفائی سے اپنی کلائی بچا گئی ۔اسی وقت ایک آدمی نے میرے سر پر دس روپے کا نوٹ پکڑا ۔میں حیرانی سے اس کی جانب دیکھا،وہ وہی جوان تھا جس سے تھوڑی دیر پہلے پلوشہ کوئی بات کر رہی تھی ۔
پلوشہ بھی شاید اسی لمحے کی منتظر تھی ۔وہ باقی آدمیوں کے بڑے نوٹوں کو نظر انداز کرتی ہوئی چکر کاٹتے ہوئے وہاں پہنچی اور آتے ساتھ میری گود میں بیٹھتے ہوئے وہ نوٹ اٹھانے لگی ۔میں تو بالکل سن ہو گیا تھا ۔
”یہ کیا مذاق ہے ۔“میرے منہ سے پھنسی پھنسی آواز نکلی ۔میں اس سے اتنی زیادہ بے باکی کی امید نہیں کر رہا تھا ۔
”خاموش بیٹھے رہو ،اٹھنے کی کوشش نہ کرنا ۔“اس نے مسکراتے ہوئے مجھے جھڑکا۔
مجھے محسوس ہوا کہ یہ سب وہ ایک منصوبے کے تحت کر رہی تھی ۔اس آدمی نے میرے سر پر پانچ چھے نوٹ پکڑے اور پھر آخری نوٹ پلوشہ کے گال کے ساتھ لگا کراس کے ہاتھ میں پکڑایا اور پیچھے ہٹ گیا ۔اس کی اس حرکت کا برا منائے بغیر وہ اٹھ کر دوبارہ اٹھ کر ناچتے ہوئے مجھ سے دور جانے لگی ۔ 
اسی وقت میں نے انار گل کو جیب سے پانچ سو کا نوٹ نکال کر اپنے ساتھ بیٹھے آدمی کے سر پر پکڑتے دیکھا ۔پلوشہ ناچتے ہوئے اس کے قریب پہنچی اور اس کے ہاتھ سے پیسے پکڑ لیے ۔چار نوٹ مسلسل پلوشہ کو پکڑوانے کے بعد انار گل نے

No comments:

غازی از ابو شجاع ابو وقار قسط نمبر60 Ghazi by Abu Shuja Abu Waqar

Ghazi  by  Abu Shuja Abu Waqar  غازی از ابو شجاع ابو وقار  پیشکش محمد ابراہیم 60 آخری قسط نمبر  Ghazi by Abu Shuja Abu...

Powered by Blogger.