Ads Top

حیا از فاخرہ وحید قسط نمبر 11 Haya By Fakhira Waheed Episode No

 حیا
  از 
فاخرہ وحید


 حیا  از فاخرہ وحید
11 قسط نمبر  
Haya By Fakhira Waheed 
Episode No 11


" حیا "
از
فاخرہ وحید (فری)

قسط 11
بابا آپ ایسا کیسے کہہ سکتے ہیں. حمزہ کی چھٹی ختم ہو گئی تھی. وہ جانے کی تیاری کر رہا تھا جب برہان نے ملازم کے ہاتھ اسے بلاوا بھیجا. وہ اسے واپس بھیجنے کے لیے راضی نہیں تھے. حمزہ ان کے فیصلے پر حیران تھا.
ایسا تمہاری امی چاہتی ہیں. اور اس میں کچھ غلط بھی نہیں. ہم اپنے بچے کو لے کر پریشان ہیں. برہان وضاحت کر رہا تھا.
تو بجائے اس کے کہ آپ امی کو سمجھائیں آپ خود مجھے روک رہے ہیں؟ اسے یقین نہیں آرہا تھا.

آج انہوں نے رانیہ کو اذیت دی ہے کل ہمیں نقصان پہنچانے کی کوشش کریں گے تب تم کیا کرو گے؟ بولنے والی صوفیہ تھی.
حمزہ بیٹا ہمیں تمہاری پرواہ ہے. ہم ڈر ڈر کر تو نہیں جی سکتے. برہان نے صوفیہ کی حمایت کی.
ابھی مجھے چار سال مشکل سے ہوئے ہیں. آپ ابھی سے مجھے پیچھے ہٹ جانے کا کہہ رہے ہیں؟ انداز استہزائیہ تھا.
ابھی چار سال ہوئے ہیں تو اتنا کچھ ہو گیا. اگر چار سال اور ہو گئے تو کیا ہو گا؟ تمہیں اور کیا انتظار ہے حمزہ؟
جب ہماری لاشیں اٹھاؤ گے تب تمہیں چین آئے گا؟

صوفیہ برہم تھی.
امی. ماں کی ایسی دل دہلا دینے والی بات پر وہ بس دیکھ کر رہ گیا.

میرا ایک ہی بیٹا ہے. اسے بھی آپ نے نکال دیا گھر سے. اب کے برہان سے شکایت کرتے وہ باقاعدہ رونے لگ گئی تھیں.
حمزہ تم تو سمجھو. مجھ میں ہمت نہیں ہے تمہیں کھونے کی. سفیان اور زلے کو میں پہلے یوں ہی مرتے دیکھ چکی ہوں. وہ بد ستور رو رہی تھی.
سفیان صوفیہ کا بھائی تھا جو دہشتگروں کے خلاف ایک مشن میں شہید ہو گیا تھا. اور زلے سفیان کا ہی چوبیس سالہ بیٹا تھا جو سفیان کی شہادت کے چار ماہ بعد ہی اسی قسم کے دوسرے مشن میں شہیدہو گیا تھا.
صوفیہ وہ شہید ہیں. ان کا درجہ اللہ کے ہاں اونچا ہے. برہان نے صوفیہ کے اپنے بھائی اور بھتیجے کے ذکر پر کہا.
امی آپ نے کبھی ٹی وی میں شہیدوں کی ماؤوں کو سنا ہے؟ ان کے حوصلے کتنے بلند ہوتے ہیں. ہر لفظ کے ساتھ اللہ کا شکر ادا کرتی ہیں وہ.اگر میں اللہ کی راہ میں جان دے دیتا ہوں تو آپکو مجھ پر فخر ہونا چاہئیے.
حمزہ رانیہ کا جسم.میری آنکھوں کے سامنے سے نہیں جاتا. وہ اٹھ کر حمزہ کے پاس آکر بیٹھ گئیں.
کتنی پیاری بچی تھی. کیا حال کر دیا ظالموں نے اس کا.
اگر تمہیں کچھ ہو گیا تو میں جیتے جی مر جاؤں گی.

امی رانیہ سے کیا وعدہ توڑنے کا انجام میں بھگت چکا ہوں اور بھگت رہا ہوں. رانیہ کی جتنی تکلیف مجھے ہے اس کا شاید کوئی اندازہ بھی نہیں کر سکتا. اتنی تکلیف ہے کہ لگا تھا مر جاؤں گا. لیکن نہیں مرا. شاید اللہ نے مجھے اس ملک کے لیے زندہ چھوڑ دیا. اب اگر کروڑوں لوگوں سے کیا وعدہ توڑوں گا تو خود بھی جی نہیں سکوں گا. پھر مجھے اپنے پاس رکھ کر آپ کیا کریں گی؟
اس کی آواز میں تکلیف تھی.
صوفیہ نے اس کی تکلیف محسوس کی تھی. وہ رکنے والا نہیں تھا. وہ سمجھ گئی تھی.
بیٹا. جیسے تمہاری مرضی. میں دعا کروں گی اللہ میرے بچے کی حفاظت کرے. وہ اکیلا سینکڑوں پر حاوی آئے.
وہ اب بیٹے کا ماتھا چوم رہی تھی.
جب تک آپکی دعائیں میرے ساتھ ہیں. مجھے کچھ نہیں ہو گا. وہ ماں کے ہاتھ چوم رہا تھا.
ماں بیٹا آپس میں ہی پیار کرتے رہیں گے یا باپ کے سینے کو بھی کوئی ٹھنڈا کرے گا. برہان نے حمزہ کی طرف اپنے بازو پھیلائے وہ اٹھ کر باپ کے گلے لگ گیا.
صوفیہ تمہارا بیٹا ہمارا نام روشن کرے گا. برہان نے حمزہ کا کندھا دبایا.
صوفیہ کے ہونٹوں پر غمگین مسکراہٹ تھی.
حمزہ کی گاڑی تیار کھڑی تھی. جب علی کا اسے فون آیا.
کدھر ہے؟

بس نکل رہا ہوں. حمزہ کھڑا ہو گیا.
خود آئے گا؟ علی نے دوبارہ سوال کیا.
ہاں. وہ مختصر جواب دے رہا تھا.
میں ادھر ہی آیا ہوا تھا. تو سوچا تجھے ساتھ لے چلوں.
ہاں ٹھیک ہے. انتظار کر رہا ہوں.

پندرہ منٹ بعد علی دروازے پر تھا.
میں اور تمہاری امی بھی رانیہ کی طرف جا رہے تھے. جاتے ہوئے راستے میں ہمیں بھی چھوڑ دینا. کیا خیال ہے. برہان نے علی سے جواب چاہا.
بابا آپ اپنی گاڑی لے جائیں میں وہ لے کر نہیں جا رہا. حمزہ نے مشورہ دیا.
ڈرائیور بھی تو نہیں ہے. برہان نے پریشانی بتائی.

تو انکل آپ کو کون سا ڈرائیو کرنا نہیں آتا.
ہاں یار بس کافی عرصہ ہو گیا ڈرائیو نہیں کیا. لیکن تم لوگ خیریت سے جاؤ. ہم چلے جائیں گے.

صوفیہ اور برہان سے مل کر وہ دونوں باہر نکل گئے تھے.
گاڑی میں بیٹھ کر حمزہ نے ایک بار مڑ کر ماں کو دیکھا تھا. اس کی آنکھوں میں آنسو اور حمزہ کو روکنے کی چاہ تھی.لیکن الفاظ زبان تک نہیں آئے تھے.
حمزہ کی ہمت جواب دے رہی تھی. اس کا دل بے چین تھا. اس نے ماں کو ہاتھ ہلایا اور اس کے ہاتھ ہلانے کا انتظار کیے بغیر منہ پھیر لیا تھا.

ابھی وہ لوگ شہر سے باہر بھی نہیں نکلے تھے کہ آنے والے فون نے حمزہ کو ہلا کر رکھ دیا تھا. حمزہ کی گاڑی جس مین برہان اور صوفیہ رانیہ کی طرف جانے کے لیے نکلے تھے وہ چند میل کا سفر طے کرتے ہی پھٹ گئی تھی. اس میں بم فٹ تھا جو حمزہ کے لیے لگایا گیا تھا. حمزہ پر تو یہ قیامت کے مصداق تھا. وہ ایسے دوسرے سانحے کے لیے تیار نہیں تھا.
علی کو بھی فون آگیا تھا. اسے سمجھ نہیں آرہا تھا وہ حمزہ کو کیا کہہ کر تسلی دے. وہ کچھ کہہ بھی رہا تھا تو اسے یقین نہیں تھا کہ حمزہ سن بھی رہا ہے یا نہیں.
یکے بعد دیگرے دو سانحوں نے حمزہ کو ختم کر دیا تھا.
اس کا ذمہ دار بھی حمزہ نے خود کو گردان لیا تھا. وہ دوبارہ کبھی اس گھر نہیں گیا تھا.
کس کس کے خون کا حساب دوں. حمزہ نے اپنا سر ہاتھوں میں گرایا. اس کی انگلیوں کی سختی بالوں پر بڑھتی جا رہی تھی. اس کا دماغ پھٹ رہا تھا.
حمزہ دیر مت کر.دینا.
ہماری لاشیں دیکھو گے تب تمہیں چین آئے گا؟
حمزہ میرے ساتھ رہنا ہمیشہ.
باپ کا سینہ بھی کوئی ٹھنڈا کرے گا یا نہیں.
اب تمہیں کس چیز کا انتظا ریے حمزہ.
حمزہ تم نے میری قسم اٹھائی ہے.
اگر تمہیں کچھ ہو گیا تو میں جیتے جی مر جاؤں گی.
ہماری لاشیں دیکھو گے تب تمہیں چین آئے گا.

آوازیں بلند ہوتی جا رہی تھی.
انگلیاں اس کے بال نوچ رہی تھیں.

اندھیرے میں کوئی چہرہ اسے نظر آیا تھا. آنے والے کو وہ دیکھ نہیں پا رہا تھا. اندھیرا کچھ چھٹا. اس نے دیکھا. وہ خود اپنے سامنے کھڑا تھا. وہ خود کو اپنے گلے لگانا چاہتا تھا. وہ آگے بڑھا.
آنے والا دور ہوتا جا رہا تھا..
اب چین ہے تمہیں؟ تمہاری ضد نے سب کی جان لے لی.
دور اندھیرے میں سے آواز آئی تھی.

مار دیا تم نے سب کو.
رانیہ کو.
ماں بابا کو.
قاتل ہو تم.
ظالم ہو.
آواز بلند ہوتی جارہی تھی.

اور ساتھ ہی حمزہ کی تکلیف اور انگلیوں کی بالوں پر گرفت بھی بڑھتی جارہی تھی.
رانیہ.. ماں. بابا. وہ چیخ رہا تھا. آواز حلق میں دب گئی تھی. اس نے ایک دم آنکھیں کھولی. سورج سر پر تھا. وہ کہاں تھا. وہ سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا.
اس نے آس پاس دیکھا. یہ اس کے کمرے سے ملحق بالکونی تھی. ماضی کی بھول بھلیوں میں کب اس کی آنکھ لگ گئی اسے پتا ہی نہیں چلا تھا.

اس کا سر درد سے پھٹ رہا تھا. آنکھیں گزری اذیت کا پتا دے رہی تھیں. وہ کمرے میں آ گیا. فرش پر پڑا کانچ اس کے پیر میں لگ گیا تھا. روح پر لگے گھاؤ اتنے گہرے تھے کہ وجود پر لگے زخم اسے تکلیف نہیں دیتے تھے. وہ نہا کر سیدھا نیچے بیسمنٹ میں چلا گیا تھا. جہاں سب اس کا انتظار کر رہے تھے.

(جاری ہے)

No comments:

غازی از ابو شجاع ابو وقار قسط نمبر60 Ghazi by Abu Shuja Abu Waqar

Ghazi  by  Abu Shuja Abu Waqar  غازی از ابو شجاع ابو وقار  پیشکش محمد ابراہیم 60 آخری قسط نمبر  Ghazi by Abu Shuja Abu...

Powered by Blogger.