اول جنت کے پتے قسط 58
جنت کے پتے
از
نمرہ احمد
ناول؛ جنت کے پتے
قسط 58
موسلا دھار پانی اس کے سر سے پھسل کر نیچے گر رہا تھا۔ بال بھیگ کر موٹی لٹوں کی صورت بن گئے تھے۔ اس کا پورا لباس گیلا ہو چکا تھا۔ وہ یک ٹک سامنے ٹائلز سے مزین دیوار کو دیکھ رہی تھی۔
ولید کے پاس وہ ویڈیو کہاں سے آئی وہ نہیں جانتی تھی مگر ایک بات طے تھی۔ اللہ نے اسے معاف نہیں کیا تھا۔ اس کے گناہ دھلے نہیں تھے۔
وہ آج بھی اس کے سائے کی طرح اس کا پیچھا کر رہے تھے اور اگر وہ سب کچھ اس کے خاندان والوں کے سامنے آ گیا تو؟
پانی کی بوجھاڑ ابھی تک اسے بھگو رہی تھی۔ اس کے چہرے بالوں اور سارے وجود پہ موٹی موٹی بوندیں گر رہی تھیں۔ ایسے جیسے بارش کے قطرے ہوتے ہیں۔ جیسے سیپ سے نکلتے موتی ہوتے ہیں۔ جیسے ٹوٹے ہوئے آنسو ہوتے ہیں۔
وہ پوری طرح بھیگ چکی تھی۔ مگر وہ ابھی تک یوں ہی شل سی بیٹھی تھی۔ یہ کیا ہو گیا تھا؟ وہ اب کیا کرے گی؟
ولید کے ہاتھ اس کی کمزوری لگ گئی تھی۔ وہ اس کے خلاف گواہی نہ دے تو کیا ولید بس کر دے گا؟ نہیں وہ جان چکا ہے کہ اس کے پاس کیا چیز ہے۔ وہ اسے بار بار استعمال کرنا چاہے گا۔ کیا وہ اسی طرح اس کے ہاتھوں بلیک میل ہوتی رہے گی؟ اس نے کیوں ولید کو تھپڑ نہیں دے مارا؟ وہ کیوں ڈر گئی؟ وہ کیوں ظاہر نہیں کر سکی کہ اسے اس بات سے فرق نہیں پڑتا؟ مگر وہ یہ ظاہر نہیں کر سکتی تھی۔ وہ سب کچھ اتنا غیر متوقع ہوا تھا کہ انسان ہونے کے ناطے وہ سنبھل نہیں سکی تھی اور ولید جیت گیا تھا۔
اللہ نے اسے معاف نہیں کیا۔ نیلی مسجد میں بیٹھ کر اس نے کتنی معافی مانگی تھی۔ کتنا نور مانگا تھا اور اب خود کو اس کی پسند کے مطابق ڈھالنے کے بعد جب اسے اپنے گناہ بھولتے جا رہے تھے تو اچانک وہ سب اس کے سامنے لاکھڑا کر دیا گیا تھا۔ وہ بری لڑکی نہیں تھی اس کا کوئی افئیر نہیں رہا تھا۔ دکان دار کو روپے پکڑتے وقت بھی احتیاط کرتی تھی کہ ہاتھ نہ ٹکرائے مگر خوبصورت دکھنے کی خوائش سے اس سے چند غلطیاں ہوئی تھیں اور وہ اب تک معاف نہیں ہو سکی تھیں۔
جانے کب وہ اٹھی شاور بند کیا اور بھیگے بالوں اور کپڑوں سمیت بیڈ کے ساتھ نیچے کارپٹ پہ آ بیٹھی۔ آنسو تھے کہ رکنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔ اکڑو بیٹھے سینے کے گرد بازو لپیٹے سر گھٹنوں میں دیے وہ کب سو گئی اسے پتا بھی نہیں چلا۔
***
جب وہ اٹھی تو عشا کی اذان ہو رہی تھی۔ کمرے میں تاریکی پھیلی تھی۔ لباس اور بال ابھی تک نم تھے۔ ذرا حواس بحال ہوئے تو روحیل اور اس کی بیوی کا خیال آیا۔ اس نے تو اسے ٹھیک سے دیکھا بھی نہیں تھا پتا نہیں اماں نے کیا نام لیا تھا۔
فریش ہو کر انگوری لمبی قمیض کے ساتھ میرون چوڑی دار پاجامہ اور میرون دوپٹہ لے کر وہ گیلے بالوںکو ڈرائیر سے سکھا کر باہر آئی تو گھر میں چہل پہل سی تھی۔ سحرش اور ثناء عابدہ چچی کے ساتھ آئی ہوئی تھیں۔ ارم سونیا اور صائمہ تائی بھی لاونچ میں تھیں۔
روحیل کی بیوی فاطمہ کے ساتھ والے صوفے پہ دوپہر کے انداز میں بیٹھی تھی۔ ٹیک لگا کر ٹانگ پہ ٹانگ رکھے۔ گلابی قمیض کے ساتھ کیپری۔ بال سیاہ گھنگریالے مگر بھوری سنہری اسٹریکنگ میں ڈرائی کروا رکھے تھے۔
نقوش سے وہ نیپالی کم اور ذرا صاف رنگت کی ایفرو امریکن زیادہ لگتی تھی۔ رنگ گندمی رخسار کی ہڈیاں اونچی بھنویں بے حد باریک اور چہرے کی جلد عام امریکن لڑکیوں کی طرح فیس ویکسنگ کروانے کے باعث جیسے چھلی ہوئی سی لگتی تھی۔ لبوں پہ اہک ہلکی سی مسکرہٹ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حیا کو سمجھ نہیں آیا کہ وہ اسے اچھی لگی تھی یا بری۔
***
سوری! صبح میری طبیعت ٹھیک نہیں تھی، صحیح سے مل نہیں سکی۔ انگریزی میں اس سے بات کرتے ہوئے اس نے ایک نظر اماں پہ ڈالی۔ اماں اتنی نارمل کیوں تھیں؟کیا اماں اور ابا نے اس لڑکی کو قبول کر لیا تھا؟ اتنی آسانی سے؟
اٹس اوکے! نہ تو انداز میں رکھائی تھی نہ ہی والہانہ گرمجوشی۔ بس نارمل سوبر سا انداز۔ حیا ابھی تک کھڑی تھی۔ اس سے بیٹھا ہی نہ گیا۔ عجب سی بے چینی تھی۔ سو معذرت کر کے کچن کی طرف چلی آئی۔ کچن اور لانچ کے بیچ کی آدھی دیوار کھولی تھی سو اسے دور سے پھپھو کام کرتی نظر آ گئی تھی۔
تم ٹھیک ہو؟ وہ ایک ڈش کی ڈریسنگ کرتے ہوئے آہٹ پہ پلٹیں۔ وہی جہان والی آنکھیں وہی نرم مسکراہٹ۔
جی، سوری میں دوپہر میں ذرا تھکی ہوئی تھی۔
نتاشا سے مل لیں؟ پھوپھو نے دور لاونچ کے صوفوں پہ بیٹھی عورتوں کی طرف اشارہ کیا۔ وہ چونکی۔
اس کا نام نتاشا ہے؟ سرگوشی میں پوچھتے بظاہر چیزیں اٹھا اٹھا کر پھوپھو کو دے رہی تھی۔
ہاں کیوں کیا ہوا؟اوہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پھوپھو سمجھ گئیں۔ اگر روسی اس خوب صورت نام سے کچھ غلط مطلب لیتے ہیں تو اس میں اس نام کا کیا قصور؟ قصور تو روسیوں کا ہے نا۔
صیح مگر روحیل اچانک آ گیا، ابا کا کیا ری ایکشن تھا؟ اب وہ ولید کی باتوں کے اثر سے ذرا نکلی تھی تو ان باتوں کا خیال آیا؟
وہ اسی لیے بغیر بتائے آیا ہے۔ بس بھائی نے تھوڑا بہت جھڑکا اور پھر روحیل نے معافی مانگ لی اور نتاشا نے بھی اسلام قبول کر لیا ہے سو بھائی مان گئے۔
وہ بے یقینی سے انہیں دیکھے گئی۔
اتنی آسانی سے یہ سب کیسے ہوا؟ اسے یاد تھا کہ اس شادی کی وجہ سے ابا کو ہارٹ اٹیک ہوا تھا۔
اوون میں ڈش رکھ کر ڈھکن بند کرتے پھپھو نے گہری سانس لی۔
تو پھر اور کیا کرتے بھائی؟ اب وہ شادی کر ہی چکا ہے اور نتاشا کو مسلمان کر ہی چکا ہے تو بس بات ختم۔ روحیل ان کا اکلوتا بیٹا ہے۔ پہلوٹھی کی اولاد۔
اوون کا ٹائم سیٹ کر کے وہ اس کی طرف پلٹیں تو ان کے چہرے پہ ایک تھکان زدہ مگر بے شکوہ مسکراہٹ تھی۔
وہ ان کا بیٹا ہے حیا اور بیٹوں کے قصور جلدی معاف کر دیے جاتے ہیں۔ صلیب پر لٹکانے کو صرف بیٹیاں ہوتی ہیں۔
کچھ تھا جو اس کے اندر ٹوٹ سا گیا تھا۔ پھوپھو اب کاونٹر کی طرف چلی آئی تھیں۔ بہت سے آنسو اس نے اپنے اندر اتارے اور پھر چہرے پہ ظاہری بشاشت لا کر وہ ان کی طرف پلٹی۔
آپ یہ سب کیوں کر رہی ہیں؟ اور نور بانو کدھر ہے؟
وہ ڈرائینگ روم میں بھائی وغیرہ کو چائے دینے گئی ہے۔ میں نے سوچا میں کھانے کو آخری دفعہ دیکھ لوں کھانے کا کام عورت کو خود کرنا چاہیے تا کہ کھانے میں عورت کے ہاتھ کا ذائقہ بھی آئے۔
تو نور بانو ہے نا پھوپھو!
بیٹا! عورت کے ہاتھ کا ذائقہ صرف اس کی فیملی کے لئے ہوتا ہے۔ نور بانو کے بنائے کھانے میں اس کے اپنے بچوں کو ذائقہ آئے گا مگر اس کے مالکوں کو نہیں۔
وہ جہان کی ماں تھیں ان سے کون بحث کرتا؟ سو وہ واپس لاؤنچ میں آ کر بیٹھ گئی۔ ذہن میں ولید کی باتیں ابھی تک گردش کر رہی تھیں۔ کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ اب کیا ہو گیا؟ درمیان میں ابا ایک دفعہ کسی کام سے آئے تو اسے بلا کر پوچھا۔
الہی بخش کہہ رہا تھا کہ ولید نے تمہارا رستہ روکا ہے؟ ولید کا نام لیتے ہوئے ان کی آنکھوں میں برہمی در آئی تھی۔ ویسے وہ نارمل لگ رہے تھے جیسے نتاشا سے کوئی مسئلہ نہ ہو۔
جی! وہ دھمکی دے رہا تھا کہ اگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر ہم نے اس کے خلاف کوئی قدم اٹھایا تو ہم پر ذاتی حملے بھی کر سکتا ہے۔ اٹک اٹک کر اس نے چند فقرے جوڑے۔
میں اس کو دیکھ لوں گا۔ اب اکیلے باہر مت جانا۔ ابا کہہ کر آگے بڑھ گئے۔ اب کیا فائدہ؟ کل تو ویسے بھی اسے استنبول چلے جانا تھا۔
کھانے کے بعد ثنا نے اس سے کہا کہ وہ ترکی کی تصاویر دکھائے سب کو۔ وہ لیپ ٹاپ لینے کمرے کی طرف جانے لگی تو ارم اس کے ساتھ آ گئی۔ اس کے سر میں درد تھا اور وہ ذرا لیٹنا چاہ رہی تھی۔
تم نے دیکھا، عابدہ چچی اور سحرش کیسے سارا وقت پھپھو کے آگے پیچھے پھر رہی تھیں۔ ارم بیڈ پہ تکیہ درست کر کے لیٹتی بولی تھی۔ واقعی سحرش سارا وقت صرف پھپھو سے بات چیت کرتی رہی تھی۔
جیسے مجھے ان کی پروا ہے۔ وہ لیپ ٹاپ اٹھائے باہر آ گئی۔
جب وہ لیپ ٹاپ میز پہ رکھے، اپنے ساتھ بیٹھی ثنا کو ایک ایک کر کے تصاویر دکھا رہی تھی تو نتاشا ثنا کے دوسری جانب سنگل صوفے پہ بیٹھی تھی۔ وہ زیادہ وقت خاموش ہی رہی تھی بس کبھی کسی بات کا جواب دے دیتی کبھی مسکرا دیتی وار کبھی امریکیوں کے مخصوص انداز میں نخرے سے شانے اچکا دیتی۔
ایک منٹ پیچھے کرنا۔ وہ بیوک ادا کی اپنی اور ڈی جے کی تصاویر آگے کرتی جا رہی تھی جب اس نے نتاشا کو سیدھا ہوتے دیکھا۔ وہ بے اختیار رکی مڑ کر نتاشا کو دیکھا اور تصویر پیچھے کی۔
وہ ڈی جے تھی۔ ادا کے بازار کا منظر۔ عقب میں جہان کھڑا بگھی بان سے بات کر رہا تھا۔ وہ بگھی کی سواری سے چند منٹ قبل کا فوٹو تھا۔ وہ تصویریں نہیں بنواتا تھا مگر اتفاق سے اس تصویر میں نظر آ ہی گیا تھا۔
یہ جہان ہے نا۔ نتاشا جیسے خوش گوار حیرت سے بولی۔ لاؤنج میں موجود تمام خواتین رک کر اسے دیکھنے لگیں۔ وہ ذرا آگے ہو کر بیٹھی، مسکراتے ہوئے اسکرین کو دیکھ رہی تھی۔
تم کیسے جانتی ہو؟ فاطمہ نے اچھنبے سے اسے دیکھا۔
یہ ہمارے پاس آیا تھا ایک دفعہ، نائٹ اسٹے کیا تھا ہماری طرف۔ بہت سویٹ ہے۔ ہے نا؟ اس نے تائیدی انداز میں حیا کو دیکھا۔ حیا نے ایک نظر سب پہ ڈالی اور پھر اثبات میں سر ہلا دیا۔ وہ کتنا سویٹ ہے مجھ سے بڑھ کر کون جانتا ہے۔
ہاں، اس نے بتایا تھا۔ مجھے خوشی ہے کہ تمہیں یاد رہا۔ پھپھو مسکرائی تھیں۔ روحیل سے وہ ان ٹچ تھیں مگر نتاشا سے نہیں سو انہیں اچھا لگا تھا۔
آف کورس آنٹی! اس نے بالخصوص بتایا تھا کہ وہ روحیل کی بہن کا شوہر ہے سو میں کیسے بھول سکتی تھی؟
سحرش نے عابدہ چچی کو دیکھا اور عابدہ چچی نے صائمہ تائی کو۔ چند متذبذب نگاہوں کے تبادلے ہوئے اور جیسے لمحے بھر کے لیے خاموشی چھا گئی۔
پہلی بار اسے نتاشا بہت اچھی لگی۔ ولید کی باتوں سے چھائی کلفت ذرا کم ہو گئی اور وہ انہیں باقی تصاویر دکھانے لگی۔ پھر جب لیپ ٹاپ رکھنے کمرے میں آئی تو ارم اس کے بیڈ پہ بیٹھی اس کے فون کو کان سے لگائے دبی دبی غصیلی آوااز میں بات کر رہی تھی۔
یہ لڑکی بھی نا۔ حیا نے بمشکل نا غصہ ضبط کیا۔ ارم اسے دیکھ کر تیزی سے الوداعی کلمات کہنے لگی۔
پلیز کال لاگ کلیئر مت کرنا۔ میرے اہم نمبر ضائع ہو جائیں گے۔ اس نے ابھی کال کاٹی ہی تھی کہ حیا نے فون کے لیے ہاتھ بڑھا دیا۔
ارم نے بغیر کسی شرمندگی کے فون اس کو واپس کر دیا اور کمرے سے نکل گئی۔
حیا نے کال لاگ چیک کیا۔ اسی نمبر پہ جو اس نے اپنے موبائل کے اندر ایک میسج میں محفوظ کر رکھا تھا ارم نے آدھا گھنٹہ بات کی تھی۔ تیس منٹ اور پچاس سیکنڈ چونکہ نمبر فون بک میں محفوظ نہیں تھا سو ارم ک نمبر ملاتے معلوم نہ ہو سکا کہ یہ نمبر اس فون میں پہلے سے درج ہے۔ وہ تاسف بھری گہری سانس لے کر رہ گئی۔ یہ لڑکی پتا نہیں کیا کر رہی تھی۔
عائشے گل کہتی تھی ”اچھی لڑکیاں چھپے دوست نہیں بناتیں۔“
کاش! وہ یہ بات ارم کو سمجھا سکتی۔
وہ واپس لاؤنج میں آئی تو باتوں کا دور ویسے ہی چل رہا تھا۔ پھر صائمہ تائی نے ایک دم اسے مخاطب کیا۔
جہان کی واپسی کا کیا پروگرام ہے حیا؟ شاید یہ جتانا مقصود تھا کہ اسے جہان کی خبر تک نہیں۔ اس نے بہت ضبط سے گہری سانس لی۔ سبین پھپھو ابھی اٹھ کر کچن تک گئی تھیں۔
کل میں استنبول جا رہی ہوں نا، تو پھر دیکھتے ہیں کیا پروگرام ڈیسائڈ ہوتا ہے۔
تمہاری کب واپسی ہو گی؟ سحرش نے بہت سادگی سے پوچھا۔ اسے لگا، سب مل کر اس کی تحقیر کر رہے ہیں۔
کچھ نہیں کہہ سکتی۔ جہان کے پروگرام پر منحصر ہے۔ اس نے بے پروائی سے شانے اچکائے۔ شاید ہفتہ لگ جائے، پھر ہم ساتھ میں واپس آئیں گے۔
اس کے لہجے کی مضبوطی پہ سب نے حتٰی کہ فاطمہ نے بھی اسے بے اختیار دیکھا۔ وہ نظر انداز کر کے ثنا کی طرف متوجہ ہو گئی، جو پیالی میں پانی بھر کر لائی تھی اور اپنے پرس سے سرخ، گلابی اور کاسنی نیل پالش کی شیشیاں نکال کر میز پر رکھ رہی تھی۔ اسے ماربل نیل پالش لگانی تھی اور وہ جانتی تھی کہ حیا سے بہتر کوئی یہ کام نہیں کر سکتا۔
لگا کر دے رہی ہوں، مگر وضو کرنے سے پہلے دھو لینا۔سب ابھی تک اسے دیکھ رہے تھے وہ جیسے بے نیاز سی ہو کر ہر نیل پالش کا ایک ایک قطرہ پانی میں ٹپکانے لگی۔ تینوں رنگ بلبلوں کی صورت میں پانی کی سطح پہ تیرنے لگے۔ اس کی امیدوں اور دعوں جیسے بلبلے۔ وہ جانتی تھی کہ وہ بہت بڑی بات کہہ گئی ہے۔ جہان ترکی میں نہیں تھا اور وہ اس کے ساتھ واپس نہیں آئے گا، مگر وہ ان کو مزید خود پہ ہنسنے کا موقع نہیں دینا چاہتی تھی۔
اب انگوٹھا ڈالو۔ اس کے کہنے پہ ثنا نے انگوٹھا پانی میں ڈبو کر نکالا تو ناخن پہ تینوں رنگوں کا ماربل پرنٹ چھپ گیا تھا۔
واؤ! ثنا ستائش سے انگوٹھے کو ہر زاویے سے دیکھنے لگی۔ وہ قدرتی سا ڈیزائن تھا اور بہت خوبصورت تھا۔ قدرت کے ڈیزائن بھی کس قدر خوبصورت ہوتے ہیں ناں۔ انسان کی ڈیزائننگ سے زیادہ خوبصورت۔
*****
رات دیر سے وہ روحیل کے ساتھ تایا ابا کے طرف گئی تھی تا کہ جانے سے قبل ان سے مل لے اور طبعیت بھی پوچھ لے۔ تایا ابا کی پٹی بندھی تھی اور وہ قدرے بہتر لگ رہے تھے۔
تم بہن بھائیوں کا بھی آنا جانا لگا رہتا ہے۔ انہوں نے اپنے مخصوص انداز میں کہا۔ وہ بیڈ پہ تکیوں سےٹیک لگا کر نیم دراز تھے۔ پرسوں اگر اسے لگا تھا کہ وہ پہلے جیسے تایا فرقان بن گئے ہیں تو وہ غلط تھی گو کہ سرد مہری کی دیوار گر چکی تھی اور وہ نارمل انداز میں اس سے بات کر رہے تھے پھر بھی پہلے والی بات نہ تھی۔ اس نے اپنے حجاب سے ان کے زخم کو مرہم دیا تھا، یہ بات جیسے پرانی ہو گئی تھی۔ فطرت کبھی نہیں بدلتی۔
اور جہان کا کیا پروگرام ہے؟
جہان میرے ساتھ ہی واپس آئے گا۔ تایا کے جواب میں اس نے ذرا اونچی آواز میں کہتے ہوئے قریب بیٹھی صائمہ تائی کو پھر سے سنایا تھا۔ تائی کو جیسے یہ بات پسند نہیں آئی تھی، انہوں نے رخ پھیر لیا۔
واپسی پہ دونوں گھروں کا درمیانی دروازہ عبور کرتے ہوئے روحیل نے پوچھا۔ صائمہ تائی صبح بتا رہی تھیں کہ جہان تمہیں تمہارے برقعے کی ضد کی وجہ سے چھوڑ کر گیا ہے؟
حیا نے گہری سانس لیتے ہوئے درمیانی دروازہ لاک کیا اور پھر روحیل کی طرف مڑی۔
تمہارے ایف ایس سی پری انجینئرنگ میں کتنے مارکس آئے تھے؟
میرے مارکس؟ وہ حیران ہوا۔ نو سو اکانوے۔ کیوں؟
اور جب تمہارت نو سو اکانوے نمبر آئے تھے تو صائمہ تائی نے کہا تھا کہ اس فیڈرل بورڈ والوں سے پیپر گم ہو گئے تھے، سو انہوں نے Randomly مارکنگ کرتے ہوئے شیرینی کی طرح نمبر بانٹے ہیں اور اس بات کو خاندان والوں سے سن کر تم نے کہا تھا کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک منٹ مجھے تمہارے الفاظ دہرانے دو۔ وہ اس شام میں پہلی مرتبہ مسکرائی۔
تم نے کہا تھا، صائمہ تائی اس دنیا کی سب سے جھوٹی خاتون ہیں۔
اوکے، اوکے! سمجھ گیا۔ روحیل ہنستے ہوئے سر جھٹک کر اس کے ساتھ پورچ کی طرف بڑھ گیا۔
چھ ماہ قبل اس نے ایک بھیانک خواب دیکھا تھا۔ اس واہیات ویڈیو کی سی ڈی گھر پہنچ گئی تھی۔ ارم لاؤنچ میں زمین پہ بیٹھی رو رہی تھی اور تایا، ابا، روحیل سب وہاں موجود تھے۔ تب اس نے سوچا تھا کہ روحیل تو امریکہ میں ہے، پھر ادھر کیسے آیا؟ مگر اب روحیل ادھر آ گیا تھا۔ اس بھیانک منظر کے سارے کردار یہاں موجود تھے۔ جب وہ ترکی سے واپس آئے گی تو کیا اس کا استقبال اس خواب جیسا ہو گا؟ اس سے آگے وہ کچھ سوچنا نہیں چاہتی تھی۔
***
استنبول ویسا ہی تھا جیسے وہ چھوڑ کر گئی تھی۔ ٹاقسم کے مجسمئہ آزادی کے پتھروں کا رنگ، ٹیولیپس کی مہک، استقلال جدیسی میں چلتے لوگ، سبانجی کی مصنوعی جھیل، ہر شے پہلے جیسی تھی۔ بس ڈی جے نہیں تھی اور جہان نہیں تھا، مگر ان دونوں کا عکس استنبول کے ہر گلی کوچے اور باسفورس کے نیلے جھاگ کے ہر بلبلے میں جھلملا رہا تھا۔ اس شہر نے اس کی زندگی بدل دی تھی اور اب اس بدلی ہوئی پوری زندگی میں وہ اس شہر کو بھول نہیں سکتی تھی۔
بیوک ادا کی بندرگاہ سے چند کوس دور وہ پتھروں کے ساحل پہ ایک بڑے پتھر پہ بیٹھی، ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ کی انگلی میں پڑے پلیٹنم بینڈ کو گھماتی سمندر کو دیکھ رہی تھی۔ پرسوں جب وہ استنبول آئی تھی، تب سے اب تک وہ جہان کا ہر نمبر ملا چکی تھی، مگر سب بند تھے۔ وائس میسج اس نے پھر بھی نہیں چھوڑا تھا۔ کیا کہے؟ الفاظ ہی ختم ہو جاتے تھے۔ کلیئرنس کے تمام معاملات اس کی توقع سے جلدی حل ہو گئے تھے۔ ویزا اس نے بڑھوا لیا تھا۔
پہلے اسے لگا کہ وہ دیر سے واپس آئی ہے مگر فلسطینی لڑکے اور اسرائیلی ٹالی بھی ابھی گئے نہیں تھے۔ ان کی آج رات کی فلائٹ تھی اور فریڈم فلوٹیلا نے جو دوستی توڑی تھی، وہ اب تک جڑ نہ پائی تھی۔ صبح ادالار آنے سے قبل اس نے معتصم کو پھر سے عبایا کے لیے شکریہ کہا تھا۔ وہ جواباً مسکرا کر رہ گیا تھا۔ بالآخر آج شام ان کا ترکی میں یادگار سمسٹر اختتام پذیر ہو جانا تھا۔ خود اس کا کیا پروگرام تھا۔ وہ ابھی کچھ فیصلہ نہیں کر پائی تھی۔ جہان لندن میں ہی تھا اور وہ ادھر نہیں جا سکتی تھی اور اس کو لیے بغیر وہ واپس جانا نہیں چاہتی تھی۔ کیا کرے؟
ایک لہر تیرتی ہوئی اس کے قریب آئی اور پھر واپس پلٹ گئی۔ وہ اپنے خیالوں سے چونکی۔ لہر اس کے قریب ایک چھوٹا سا سیپ ڈال گئی تھی۔
اس نے سیپ چننے عرصہ ہوا ترک کر دیے تھے۔ خالی سیپ کھولنے سے بڑی مایوسی کیا ہو گی بھلا؟ مگر نہ جانے کیوں وہ اٹھی اور ذرا آگے جا کر جھکتے ہوئے وہ سیپ اٹھا لیا۔ دائیں پیر پہ زور پڑنے سے اب بھی تکلیف ہوئی تھی۔
سیپ لے کر وہ واپس بڑے پتھر پہ آ بیٹھی اور دونوں ہاتھوں میں اسے الٹ پلٹ کر دیکھا۔ سفید، سرمئی سیپ جس پہ بھوری، گلابی رگیں سی بنی تھیں۔ سیپ گیلا تھا، اور ریت کے ذرات بھی اس پہ لگے تھے۔ اس نے پرس سے ٹشو نکالا، سیپ کو اچھی طرح صاف کیا، یہاں تک کہ ٹھنڈا، سخت خول چمکنے لگا۔ اور پھر وہاں سے اٹھ آئی۔ پکنک کے لیے دور دور تک ٹولیوں میں بیٹھے سیاحوں سے اسے چھری ملنے کی توقع تھی۔ مگر ایک خوانچہ فروش سامنے ہی کھڑا نظر آ گیا۔ اس کے پاس چاقو تھا۔
حیا نے اس سے چاقو لیا اور وہیں اس کی ریڑھی کے ساتھ کھڑے کھڑے سیپ کو چاقو سے کاٹا۔
اس نے طے کر لیا تھا کہ یہ اس کی زندگی کا آخری سیپ ہو گا۔ اس میں سے یا تو سفید موتی نکلے گا یا پھر نہیں نکلے گا۔ مگر ان دونوں ممکنات میں سے جو بھی ہو، وہ دوبارہ کبھی سیپ نہیں چنے گی۔
اس نے کٹے ہوئے سیپ کے دونوں باہم ملے ٹکڑوں کو آہستہ سے الگ کرتے ہوئے کھولا۔ دھیرے دھیرے دونوں ٹکڑے الگ ہوتے گئے۔
وہ یک ٹک سی کھلے سیپ کو دیکھ رہی تھی۔
تیسرا امکان بھی ہو سکتا تھا۔ یہ اس نے نہیں سوچا تھا۔
***
قریباً آدھے گھنٹے بعد وہ بہارے گل کے سامنے، حلیمہ آنٹی کے فرشی نشست والے کمرے میں بیٹھی تھی۔
تم کہاں چلی گئی تھیں حیا! سب مجھے چھوڑ کر چلے گئے۔ وہ بہت اداسی سے کہہ رہی تھی۔ وہ دونوں آمنے سامنے زمین پہ بیٹھی تھیں۔ بہارے نے سبز فراک کے اوپر گھنگھریالے بھورے بالوں کو ہمیشہ کی طرح ہم رنگ پونی میں باندھ رکھا تھا۔ مگر اس کا چہرہ ہمیشہ جیسا نہ تھا۔
تو تم نے اپنا پاسپورٹ کیوں جلایا؟ اس نے جب سے حلیمہ آنٹی سے یہ بات سنی تھی، وہ اچنبھے کا شکار ہو گئی تھی۔
تا کہ وہ نیا پاسپورٹ دینے کے لیے میرے پاس آ جاۓ۔ بہارے نے کہتے ہوۓ سر جھکا لیا۔ حیا نے الجھن سے اسے دیکھا۔ بہارے بہت سمجھدار، بہت ذہین بچی تھی، مگر اس طرح کی بات کی امید اس نے بہارے سے نہیں کی تھی۔
تمہیں کیوں لگا کہ وہ اس طرح واپس آۓ گا۔ وہ اس کے جھکے سر کو غور سے دیکھتے ہوئے بولی۔ بہارے خاموش رہی۔
بہارے گل! تمہیں کس نے کہا کہ ایسا کرنے سے وہ واپس آ جاۓ گا۔ اب کے اس نے سر اٹھایا اس کی بھوری سبز آنکھوں میں بے پناہ اداسی تھی۔
سفیر نے کہا تھا کہ ایسا کرو گی تو وہ آ جاۓ گا۔
اچھا! وہ اب کچھ کچھ سمجھنے لگی تھی۔ تو سفیر بے کیوں چاہتے ہیں کہ وہ ادھر آ جاۓ جب کہ ادھر آنا اس کے لیے ٹھیک نہیں ہے؟ بہارے ٹکر ٹکر اس کا دیکھنے لگی۔ حیا نے افسوس سے نفی میں سر ہلایا۔ یہ سفیر کوئی گڑبڑ کر رہا ہے۔
کیا تمہیں پتا ہے کہ عبدالرحمن کدھر ہے اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ ہچکچائی کیا تمہیں پتہ ہے وہ تمہارا۔
ہاں مجھے سب پتہ ہے اور اب اس بات کا ذکر مت کرو۔ اس نے جلدی سے بہارے کو چپ کرایا۔ دروازہ کھلا تھا۔ حلیمہ آنٹی کچن تک ہی گئی تھیں۔
تم نے کہا تھا ہم مل کر اسے ڈھونڈیں گے۔ بہارے نے بے چینی سے اسے کچھ یاد دلایا۔
وہ ترکی میں نہیں ہے اور ہم اسے نہیں ڈھونڈ سکتے۔ میرے ابا نے اجازت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ باہر آہٹ ہوئی تو وہ جلدی سے خاموش ہو گئی۔ حلیمہ آنٹی دوائی کی شیشی پکڑے اندر آ رہی تھیں۔ ہمیشہ کی طرح دوپٹہ اوڑھے مسکراتا حلیم چہرہ۔ ان کو یقینا خود بھی نہیں پتہ تھا کہ ان کا بیٹا کیا کرتا پھر رہا ہے۔ کچھ تو تھا جو غلط تھا۔
مجھے نہیں کھانی دوائی۔ بہارے نے برا سا منہ بنایا تو وہ گہری سانس بھر کر رہ گئیں۔
اس کو کل سے بخار ہے پلیز اسے دوائی پلا دو حیا! میں تب تک کچن دیکھ لوں۔ انہوں نے سیرپ اس کی طرف بڑھایا تو اس نے جلدی سے پکڑ لیا۔
میں پلا دیتی ہوں۔
تھینک یو بیٹا۔ میں تب تک کھانا نکالتی ہوں۔ تم کھانا کھا کر جانا۔ مسکرا کر کہتی وہ باہر نکل گئیں۔ حیا نے گردن ذرا سی اونچی کر کے دروازے کو دیکھا۔ جب وہ اوجھل ہو گئی تو وہ بہارے کی طرف مڑی۔
کیا تم نے انہیں بتایا کہ یہ سب کرنے کے لیے تمہیں سفیر نے کہا تھا۔ ساتھ ہی اس نے چمچ میں بوتل سے جامنی سیرپ بھرا۔ بہارے نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے منہ کھولا۔ اس نے چمچ اس کے منہ میں رکھا۔
اللہ اللہ! میرا منہ کڑوا ہو گیا۔ سیرپ پینے کے بعد وہ منہ کے زاویے بگاڑے شکایت کرنے لگی تھی۔
اللہ تمہیں سمجھے، اللہ تمہیں سمجھے! وہ جلدی جلدی پانی کا گلاس پیتی برا سا منہ بناۓ کہہ رہی تھی۔ پانی پی کر بھی اس کے منہ کی کڑواہٹ ختم نہیں ہوئی تھی۔ وہ جیسے اپنی اصل اداسی کا چڑچڑا پن اس سیرپ پہ نکال رہی تھی۔
اتنا بھی کڑوا نہیں تھا۔ ٹھہرو میرے پاس کینڈی یا چاکلیٹ ہو گی۔ اس نے قالین پر رکھا اپنا پرس کھولا اور اندر ہاتھ سے ٹٹولا۔ صبح پرس میں چیزیں ڈالتے ہوۓ اس نے دیکھا تھا کہ کینڈی اندر رکھی تھی۔ ایک گلابی ریپر والی کینڈی اور ایک خالی ریپر۔ اس نے دونوں چیزیں باہر نکالی اور کینڈی بہارے کو دی۔
شکریہ! بہارے نے جلدی سے کینڈی کھول کر منہ میں رکھی۔ حیا نے خالی ریپر کو الٹ پلٹ کر دیکھا۔ اسے اس ریپر کے ساتھ ڈاکٹر ابراہیم کی باتیں بھی یاد آئی تھیں۔ احزاب کی پہیلی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہارے! تمہیں یاد ہے، عائشے نے کہا تھا کہ حجاب لینا احزاب کی جنگ جیسا ہے۔ ساری کڑواہٹ بھلاۓ کینڈی چوستی بہارے نے اثبات میں سر ہلایا۔
پتا ہے مجھے کسی نے کہا کہ اس میں کچھ مسنگ ہے۔ کیا عائشے کچھ بتانا بھول گئی تھی؟ بہارے کی ہلتے لب رکے، آنکھیں میں خوشگوار سی حیرت ابھری۔
جاری ھے

No comments: