حیا از فاخرہ وحید قسط نمبر 19 Haya By Fakhira Waheed Episode No
حیا
از
فاخرہ وحید
حیا از فاخرہ وحید
19 قسط نمبر
Haya By Fakhira Waheed
Episode No 19
حیا
از
فاخرہ وحید
(قسط 19)
یہ بارہ مرلے کا بڑا اور کشادہ گھر تھا. نقشہ وہی حمزہ کے گھر کا مگر کچھ سب سمٹا سمٹا تھا. حویلی کے بجائے گھر ہی نظر آتا تھا. دروازے سے اندر جاؤ تو لان تھا جہاں ایک انیس بیس سال کی لڑکی اپنے باپ کے ساتھ بیٹھی ان کی باتیں سن کر سمجھنے کے سے انداز مین سر ہلا رہی تھی. آگے بڑھو اور لاؤنج عبور کرتے سامنے کمرے میں دیکھو تو گھر کی مالکن بیڈپر بہت سے کپڑے پھیلائے, چن چن کر ایونٹ, موسم اور ملک کی مناسبت سے کپڑے سوٹ کیس میں رکھ رہی تھی. جب دونوں بیگ بند کر چکی تو ان باپ بیٹی کو دیکھنے باہر نکلی جو اب لاؤنج میں ہی داخل ہو رہے تھے.
" مسٹر ہارون اب آپ چینج کر لیں. 11 بجے فلائٹ ہے. " وہ مسکراتی ان کی طرف بڑھی. وہ بھی جواباً مسکرائے. " ہاں سوچ رہا تھا, پہلے اپنی پیاری بیوی کے ہاتھون سے بنا کچھ کھا لوں, بھوک لگ رہی ہے." وہ اپنی بیگم کو نظروں کے حصار میں لیے بولے تو اس نے گڑ بڑا کر اپنے قد کو پہنچتی بیٹی کو دیکھا جو ٹانگ پر ٹانگ دھرے صوفے پر بیٹھ چکی تھی.
" کم از کم بیٹی کا خیال کر لیا کریں. " اس نے آگے ہوتے سر گوشی کی. جو بیٹی نے سن لی تھی اور مسکراہٹ چھپاتے فون اٹھا لیا.
" بھئی جب لڑتے بچوں کے سامنے ہیں, تو ایک دوسرے کے لیے پیار کا اظہار بچوں کے سامنے کیوں نا کریں.؟" ڈاکٹر ہارون نے دلیل دی تھی اب بھلا کون بحث کرتا. اور اس ردابہ نگر میں میاں بیوی کے پیار سے شروع ہونے والی بات, بیٹی کے بڑے ہو جانے سے ہوتی ہوئی ڈاکٹر ہارون کے جملے پر آخر ختم ہو جاتی تھی. ہاں یہ ردابہ کا گھر تھا. حمزہ کی ماسی کا گھر.
ہارون نے ایک بازو ردابہ کے گرد پھیلایااور وہ سر اٹھاتی اپنے شوہر کے ساتھ فخر سے چلتی صوفے پر آکر بیٹھی.
" آپ بیٹھیں. میں کچھ کھانے کو لاتی ہوں. " وہ کچن کی طرف بڑھ گئی. تھوڑی دیر بعد وہ ڈش میں کوفتے, لزانیہ اور کسٹرڈ رکھے باہر آئی. ڈش کو ڈائیننگ ٹیبل پر رکھا. ڈاکٹر ہارون پہلے ہی اس کو آتا دیکھ کر اٹھ چکے تھے.
" انیقہ تمہیں بھوک نہیں ہے؟" ٹیبل پر برتن لگاتے ردابہ نے فون پر مصروف بیٹی کو دیکھا.
" نہیں ہارون صاحب کی پیاری بیوی." ردابہ کے ہارون کو مخاطب کرنے کے الفاظ اور ہارون کے ابھی کچھ دیر پہلے کہے گئے الفاظ کو ملا کر بظاہر لا پرواہی سے کہا گیا مگر فوراً ایک ہاتھ کان پر لے جاتے بغیر کچھ کہے معافی مانگ لی اور معافی مل گئ ساتھ میز پر خاموش مسکراہٹوں کا تبادلہ ہوا. اور بیچ میں ہلکا سا مردانہ قہقہہ.
یار آپ سوچ لیں ایک بار. ہارون کی پلیٹ میں کوفتے ڈالتے اس نے پر سوچ انداز میں کہا.
اتنا بڑا سیشن ابھی سے حیا کو سونپ دینا. شاید مناسب نہیں. وہ لڑکی بولنے سے پہلے رونے لگ جاتی ہے. وہ اپنے خدشات کا اظہار کر رہی تھی. ڈاکٹر ہارون نے بغور اسے سنا اور پھر تسلی دی.
" قریباً چار ہفتے ہو گئے ہیں اسے یہاں آئے تم اس سے ملو گی تو اس کا اعتماد دیکھ کر حیران رہ جاؤ گی. " ردابہ نے بھی سمجھتے ہوئے سر ہلایا. ڈاکٹر ہارون کا فیصلہ غلط نہیں ہو سکتا تھا.
کھانا یوں ہی آرام سے چلتا رہا اور تبھی ردابہ کا فون بجا. اسکرین پر نمبر دیکھ کر چہرے پر سارا پیار امڈ آیا. کس کا فون ہے؟ نوالہ منہ میں رکھتے انہوں نے سر سری سا پوچھا. انیقہ بھی کرسی کھینچ کر بیٹھ رہی تھی.
" ارے بابا! چہرے سے بتایا جا سکتا ہے کہ حمزہ بھائی کا فون ہے." اس نے اعتماد سے تکہ لگایا اور وہ لگ گیا.
ردابہ نے اسے گھورتے فون کان پر لگایا.
" ماسی کی جان, میرا بچہ کیسے ہو؟ " چھوٹتے ہی وہ حمزہ پر واری جانے لگیں.
" ٹھیک ہوں. " سر سری کہا گیا.
اور وہ شرارتی لڑکا کہاں ہے؟ مجھے بھیجتے ہوئے تو کہہ رہا تھا کہ صبح شام کال کیا کرے گا. وہ مصنوعی خفگی سے بولی اور حمزہ نے ہونٹ بھینچے.
آپ کی یاد آرہی تھی. سوچا کال کر لوں. اس نے ردابہ کے سوال کو نظر انداز کیا.
"میرا بچہ. میں انگلینڈ سے آتے ہی تمہارے پاس چکر لگاؤں گی. تم کیوں اداس ہوتے ہو." ردابہ کو حمزہ کے ساتھ یوں لاڈ کرتے دیکھ انیقہ محفوظ ہو رہی تھی. اتنے بڑے حمزہ بھائی اور ماما کا ان کو بچوں کی طرح ٹریٹ کرنا. کیا پیار ہے. وہ سوچ کر خود ہی مسکرا دیتی.
"انگلینڈ؟ " وہ چونکا.
" ارے تمہیں میں بتانا ہی بھول گئی. تمہارے چاچو کسی ایونٹ کے سلسلے میں جا رہے ہیں تو کہنے لگے میں اور انیقہ بھی ساتھ چلیں. تو بس گیارہ بجء کی فلائٹ سے جارہے ہیں. " وہ جوش سے بتا رہی تھی. اور ادھر ردابہ کو ملنے کی خواہش دم توڑنے لگی. ہارون ردابہ کو دیکھ کر اداسی سے مسکرایا.
" اوکے! ہیو آ سیف جرنی." فون بند ہو گیا.
ہارون چاچو! آنکھوں میں سایہ سا لہرایا. دہرا رشتہ مگر رشتے میں دوریاں!
*********************************************
رات کا اندھیرا چھٹ رہا تھا مگر سرمئی بادلوں کی سیاہی بر قرار تھی. صبح نیلی روشن ہوئی تھی. اسی چکور پب میں بیٹھا وہ کسی کا انتظار کر رہا تھا. اور انتظار میں وقت کب جلدی گزرتا ہے؟
صبح کے چھ بجے بھی پب اپنی تمام تر رنگینیوں سے روشن تھا. وہاں چہل پہل میں کوئی کمی نہیں تھی. پر ہاں آج وہ لڑکی وہاں نہیں تھی. اور لڑکی کا انتظار تھا بھی کس کو. اس وقت اس کا دماغ ماضی کی یادوں سے حال کی حقیقت اور اس حقیقت سے مستقبل کے خدشوں کا سفر طے کر رہا تھا. اب تو منہ میں رکھی چیونگم بھی بد ذائقہ ہو گئی تھی. مگر اس کی زندگی سے زیادہ نہیں. تو وہ پرواہ کیے بغیر منہ ہلاتا رہا. انتظار لمبا ہوتا جا رہا تھا مگر اس لمبے تیل سے چپڑے بالوں والے کا کچھ پتا نہیں تھا.
سفید شرٹ اور کالا بلیزر اوپر سے پب کی رنگینی, کتنی ہی لڑکیاں اس پر تبصرہ کرتی وہاں سے اٹھی تھیں. دونوں ہاتھ باہم جوڑے ٹھوڑی کے نیچے اور کہنیاں سامنے کاؤنٹر پر ٹکائے وہ مسلسل ایک پیر ہلا رہا تھا. تھوڑی دیر وہ یوں ہی بیٹھا رہا, پھر فون اٹھایا, نمبر ملایا, جواب ندارد. بھنویں سکیڑ کر اوپر نمبر والے کے نام کو دیکھا. ناگواری چہرے سے عیاں تھی. بایاں ہاتھ فون سے ہٹایا. دو بار کھول کے بند کیا گویا خود کو نارمل کر رہا ہو. دوبارہ کال ملائی. بیل جاتی رہی, ایک, دو, تین اور فون بند ہو گیا. کیا لا پرواہی ہے. اس نے بے بسی سے اس کو کوسا.
" اگلے پانچ منٹ میں تم یہاں ہو. ورنہ اگلے پانچ سیکنڈ میں دوبارہ سانس نہیں لے سکو گے. " حمزہ نے اپنا تمام تر غصہ قابو کرتے میسج ٹائپ کیا. اور یہ میسج سینڈ. گہرا سانس اندر کھینچا, پانچ منٹ پانچ سال کی طرح گزرے مگر کوئی نہیں آیا. غصے سے بے حال وہ اپنی جگہ سے اٹھا اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا پب سے باہر نکلا. اس سے پہلے کہ وہ گاڑی کا دروازہ کھولتا کسی نے اسکا ہاتھ پکڑا. وہ چونک کر پیچھے مڑا. ایک آٹھ, نو سال کا بچہ, بال گرد سے اٹے, کپڑوں پر, چار مختلف رنگ کے پیوند, وہ یقیناً مانگنے آیا تھا. وہ جلدی میں تھا. اس سے پہلے کے جیب سے چند نوٹ اسے تھماتا, ایک خاکی لفافہ حمزہ کے ہاتھ میں پکڑاتا بچہ آناً فاناً نظروں سے اوجھل ہو گیا. وہ لمبے بالوں والی آدمی نما عورت نہیں آئی تھی پر پیغام آگیا تھا. حمزہ گاڑی میں بیٹھا, اگنیشن میں چابی گھمائی اور گاڑی سڑک پر ڈال دی. جب اس علاقے سے نکل چکا تو بائں ہاتھ سے اسٹیرنگ پکڑے دوسرے ہاتھ سے لفافے میں سے کاغذ بر آمد کیا. غور سے دیکھا. یہ کیا بکواس لکھا ہے. کچھ سمجھ نہین آیا تو اس نے کاغذ جیب میں ڈالا. عجلت سے دائیں بائیں نظر گھمائی اور پھر سامنے سڑک پر. ایک ہاتھ سے اسٹئیرنگ پکڑے دوسرے کو ٹانگ پر رکھے اس نے دو تین بار بند کر کے کھولا. پھر دو انگلیوں سے کنپٹی کو سہلایا. اور کان پر لگے بلیوٹوتھ پر کسی سے بات کرنے لگا.
"ہاں علی! وہ" اس نے وہ کو کھینچا. " باہر جو خالی فیکٹری ہے. وہ جہاں کنسٹرکشن ہو رہی ہے. وہاں آکر مل. ابھی. میں بھی پہنچ رہا ہوں, پندرہ منٹ میں. " کہہ کر اس نے کان پر لگا بلیو ٹوتھ اتار کر ڈیش بورڈ کی طرف اچھالا.
********************************************
"یہ کیا ہے؟ " علی نے کاغذ پر عجیب سے انگریزی حروف کو دیکھا اور پھر الجھے سے انداز میں پوچھا.
" پڑھو." کاغذ کی طرف اشارہ کیا گیا. علی نے ایک نظر کاغذ پر ڈالی اور پھر حمزہ کو دیکھا. ایسا عجیب سپیلنگ والے الفاظ اس نے پہلے کبھی نہیں پڑھے تھے.
" عجیب آدمی ہے. " وہ بس سوچ کر رہ گیا. کاغذ کو بے فضول جھاڑا اور لکھے الفاظ پڑھنے لگا. اور عجیب آدمی وہاں پڑے ایک سیمنٹ کے پکے ٹیلے پر بیٹھ کر اس کی طرف متوجہ ہوا. اور ہاتھ سے پڑھنے کا اشارہ کیا.
" dit dit dit dit/dit dah/dah dah/dah dah dit dit/dit dah "
پہلی لائن کے اختتام پر اس نے ایک نظر اٹھا کر حمزہ کو دیکھا جو کان اس کی طرف لگائے مگر ہاتھ سے سیمنٹ کھرچنے کی کوشش کر رہا تھا. وہ دوبارہ کاغذ پر جھکا.
" dit dit dit/dit dah/dit dit dit dah/dit "
اب اسے یہ آوازیں نکالنے میں مزہ آ رہا تھا اور وہ لہرا لہرا کر پڑھنے لگا.
"dit dit dah/ dit dit dit"
آخری لائن پر سر لگایا اور خاموش ہو گیا. سوالیہ نگاہوں سے حمزہ کو دیکھا. " اب بتا کیا ہے یہ؟"
" اسے کوڈ کہتے ہیں مسٹر علی. سیکرٹ میسج. " اس نے خفگی سے وہاں ایک پکے سیمنٹ کے اونچے جمے ہوئے ٹیلے پر بیٹھتے اسے خفگی سے دیکھا. علی سے اس جہالت کی اسے توقع نہیں تھی. وہ گڑبڑا کر شرمندہ سا مسکرایا.
" اینڈ آئی ہیو نیور سین سچ کوڈز" اس نے کندھے اچکائے. اور حمزہ کے گھورنے پر لڑکیوں کی طرح دونوں ہاتھ آنکھوں پر رکھے. اوہ یہ لڑکیوں سی کی ادائیں. خفت سے اس نے آنکھیں گھمائیں. کوئی بھی بھلا چنگا مرد نہیں ہے اس کے آس پاس. وہ بس سوچ کر رہ گیا.
" ہیلو سری دیوی صاحبہ! اب ہاتھ نیچے کریں اور میری بات دھیان سے سنیں. " حمزہ نے ایک چھوٹا کنکر اٹھا کر علی کے پیٹ کا نشانہ بناتے مارا جو اب تک منہ پر ہاتھ رکھے بیچ انگلیوں سے اسے دیکھ رہا تھا.
" اچھا بتا کس نے بھیجا ہے یہ میسج؟ " سنجیدہ سا وہ اس کی طرف بڑھا.
" پہلے میسج ڈی کوڈ کریں گے. " حمزہ نے کاغذ اس کے ہاتھ سے پکڑا اور اپنے بلیزر کے اندرونی حصے سے پین نکالا.
" یہ سگنلز ہیں. جن کی مدد سے دور سے سمندروں میں بیٹھے لوگ ایک دوسرے کو میسج بھیجتے ہیں. یہ میسج روشنی کی مدد سے دیا جاتا ہے. انگلش کے تمام حروف کو یہ ڈاٹ اور ڈیش اسائن کر دیے گئے ہیں. جیسے ایک بار ڈِٹ مطلب ای اور ایک بار ڈیہہ مطلب ٹی. اسی طرح یہ ڈِٹ اور ڈیہہ کا کامبینیشن کمپلیکس ہوتا جاتا ہے, جیسے کے ہمارے میسج میں بہت سے ڈٹ اور ڈیہہ ہیں. " علی کے ہاتھ میں پڑے کاغذ کی طرف اشارہ کیا. سارے رستے وہ یہ ہی تو سرچ کرتا آیا تھا.
" تو ڈی کوڈ کر اسے" علی نے عجلت سے کاغذ آگے بڑھایا.
" مجھے آتا ہوتا تو کر چکا ہوتا. " اس نے بھوری آنکھیں سکیڑی جو اور چھوٹی ہو گئیں. " تو اب؟" علی نے لب کاٹے. " نائس کویسچن" حمزہ نے انگلی اٹھا کر سر ہلایا. اور اپنا فون نکالا. گوگل پر' مورس کوڈ ڈیکوڈر ' لکھا. پیج لوڈ ہوا. انگوٹھا تیسے نمبر والی ویب سائٹ پر رکھا. سائٹ کھل گئی. کاغذ پر لکھے الفاظ وہاں باکس میں ٹائپ کیے, ڈی کوڈ کا بٹن دبایا. اور علی بالوں میں ہاتھ پھیرتا کسی سسپنس سیریل کی سی کیفیت مین اگلے سین کا انتظار کرنے لگا. اور یہ میسج ڈی کوڈ ہوا. وہ رکا. اففف! خدشات درست ثابت ہو رہے تھے. علی نے اس کے چہرے کے تاثرات دیکھے اور کاغذ پر جھکا.
" حمزہ سیو اَس (hamza save us)." اسکرین پر باکس مین لکھا آرہا تھا. اس نے فون کی اسکرین سے حمزہ کے چہرے تک کا سفر کیا. وہ زمین پر پڑے بے ترتیب سیمنٹ کے جمے چھوٹے, بڑے ڈھیلوں کو دیکھ رہا تھا.
" یہ کس نے بھیجا ہے؟ " پہلے کیا سوال دوبارہ دہرایا. حمزہ ہاتھ جھاڑتا کھڑا ہوا. " پتا نہیں! یا شاید پتا ہے" کاغذ بلیزر کی اندرونی جیب میں ڈالتے اس نے کندھے اچکائے.
" پتا؟ یا نہیں پتا؟ " علی نے اس کے سیاسی سے بیان پر اسے گھورا.
"دیکھ! سیو اَس مطلب؟ ہمیں بچاؤ. ہمیں کسے؟ شیری اور شیروان؟ " انگلی ٹھوڑی پر رکھ کر ہلکے چبھتے بالوں پر پھیری. " مگر! شیری یا شیروان دونوں میں سے کوئی بھی مجھے حمزہ نہیں کہتا. اور جتنا میں شیری, شیروان کو جانتا ہوں ان کو یہ مورس کوڈنگ نہیں آتی. کم از کم جو مجھے نہیں آتا وہ ان کو بھی نہیں آتا." یقین سے کندھے دوبارہ اچکائے.
" پھر دانی؟ " علی نے اپنے خیالات کا اظہار کیا.
"ارے نہیں اسے کہاں آتا.." رکا. "ہو گا.." آنکھوں میں چمک آئی. اور تیزی سے علی کی طرف مڑا.
" ہاں ہاں اسے ہی تو آتا ہے." اپنی بائیں ہتھیلی پر دایاں ہاتھ الٹا کر مارا.
"میں اس پر غصہ ہو رہا تھا کہ وہ نہیں آیا.مگر پیغام آیا ہے." کلیو مل گیا تھا.
دیکھ دانی بحری فوج میں تھا. اسے پتا ہے سمندر مین کیسے میسج بھیجا جاتا ہے. ایک طرف سے مناسب وقفے سے لائٹ سے سگنل دیا جاتا ہے اور پھر دوسری طرف بیٹھے لوگ میسج ڈی کوڈ کرتے ہیں. چونکہ یہ بحری فوج وغیرہ استمعال کرتی ہے تو اسی لیے ہمیںں یہ کوڈ نہیں آتا تھا. " وہ کوڈ کی تفصیلات سے علی کو آگاہ کر رہا تھا.
رہی بات دانی کی اسے مجھ سے ملنے آنا چاہئیے تھا. میں نے اسے بلایا تھا. وہ نہیں آیا اور جب میں اس سے ملنے جانے لگا تو باہر ایک بچہ آیا اور پکڑا کر چلا گیا. "
" اب یہاں دو باتیں ہیں یا تو شیری اور شیروان نے یہ پیغام بھجوایا اور شاید پریشانی میں میرا نام لکھ دیا. جو کہ ڈاؤٹ فل ہے. " وہ رسان سے بولتا جا رہا تھا.
"دوسرا. یہ دانی نے بھیجا ہے لیکن! " وہ رکا اور پھر ادھورا جملہ مکمل کیا. " وہ سیو اَس کیوں کہہ رہا ہے؟ وہ تو اکیلا ہے. اور شیری لوگ وہاں اس کی موجودگی سے انجان ہیں." یہ کیا کنفیوزن تھی. پیغام آیا تھا مگر ادھورا تھا. یا مکمل بھی تھا تو کنفیوزن تھی.
" اب کیا پلان ہے؟" قدم قدم چلتے وہ گاڑی کی طرف جا رہے تھے.
" بلایا ہے تو جانا پڑے گا."
"میں سب کو انفارم کر دیتا ہوں تیار رہیں. " علی نے کال
کرنے کے لیے فون نکالا. مگر حمزہ کے جواب پر ہاتھ رکے.
"تیرا دماغ خراب ہے, وہ لوگ شاید پکڑے گئے ہیں. پکڑے جانا مطلب ٹریپ. تیرے لیے ٹریپ. تو اکیلا نہیں جا رہا. "
وہ پیچھے سے چلایا. حمزہ اس سے چند قدم آگے تھا.
" واپس میرے ساتھ جائے گا یا پیدل آنے کا ارادہ ہے؟" گاڑی کا دروازہ بند ہونے سے پہلے یہ آخری الفاظ تھے جو علی نے سنے.
*********************************************
رات کا سناٹا بڑھا, اور چھ لوگ کالے سوٹ میں ملبوس, لاہور سے باہر اس چھوٹے گوٹھ میں ان کچے گھروں سے فاصلہ بنائے دور سڑک پر گاڑی ایک طرف لگائے کھڑے تھے. سب کی نظریں چھوٹے گھروں کے بیچ گھرے بڑے صحن والے گھر پر تھی. کب یہ بتیاں بجھتی اور کب وہ اپنا کام شروع کرتے.
یہاں سے دور کچھ فاصلے پر ایک اور گاڑی کھڑی تھی. جس میں ایک لمبے بالوں والی آدمیوں کے سے وضع کی عورت فرنٹ مرر میں اپنی ڈارک اورنج لپ اسٹک کو ہلکا کر رہی تھی. " کیا عذاب ہے. " ہونٹ ٹشو سے تھپتھپاتی وہ بڑبڑائی.
" اسے مت اتارو. " کان میں کوئی چلایا. اور پھر ہلکے قہقہوں کی آوازین سنائی دین. اس کا دل چاہا وہ یہ مائیکرو فون اور سامنے لگا منی کیمرہ اٹھا کر باہر پھینک دے. مگر وہ نہیں کر سکی. گہرا سانس اندر کھینچا.چہرے پر آتے بالوں کو پیچھے کیا. کان میں بولنے والا
' بھلا چنگا آدمی' لگ رہا تھا. اور وہ خود؟ کھسرا وہ بھی دو نمبر. اپنی سوچ پر اس نے خود ہی لعنت بھیجی. انسان کو بڑے بول نہیں بولنے چاہئیے. وہ سمجھ گیا تھا.
" میں ان عجیب سے کپڑوں" کپڑے پکڑ کر کھینچے. اور یہ, یہ ان سنہری بالوں" بالوں کو ہاتھ لگایا. " اور اس بے ہودہ میک اپ کے بغیر بھی جا سکتی تھی. " کان میں ایک اونچا قہقہہ اور پیچھے ہلکے قہقہے سنائی دیے.
" مطلب تھا." وہ گڑ بڑایا. صبح سے پریکٹس کر کر کے وہ اب خود کو مونث ہی سمجھ بیٹھا تھا.
" میرے بھائی. تو فٹ لگ رہا ایک دم مادھوری!" فاصلے پر کھڑی دوسرے گاڑی میں اسی طرح سیکنڈ سیٹ پر بیٹھے علی نے وہیں سے ہونٹ گول کر کے اسے چوما. سب نے پھر قہقہ لگایا. بے ہودہ قہقہہ سنتے (کم ازکم اس کو بے ہودہ ہی لگا تھا) اس نے نائٹ گوگلز آنکھوں سے لگائے. سے دور کچی آبادی کو دیکھا. ہلچل نہیں تھی مگر بتیاں بجھنے کا انتظار تھا.
"جب تک میں نہ کہوں تم لوگ مت آنا. " وہ حکم دے رہا تھا. " اور ہاں اضافی نفری کے لیے پیچھے پیغام دے دینا, تا کہ کسی بھی غیر متوقع سچویشن میں وہ ہمیں اسسٹ کر سکیں. یو نو بیک اپ. " خود کو دوبارہ شیشے مین دیکھتا وہ بولا. دوسری گاڑی میں کچھ سر اثبات میں ہلے. اب ہلتے سر اس کو کیسے نظر آتے؟ علی بھی کچھ نہیں بولا. وہ اس کے اکیلے جانے سے مطمئن نہیں تھا. اور اب پچھلے لمحے کی ہنسی غائب تھی.
"حمزہ یہ ان لوگوں کا قلعہ ہے, وہ بہت ہوں گے, میرے خیال سے ہمیں ایک ساتھ دھاوا بولنا چاہئے. " علی نے اپنے خدشات کا اظہار کرتے رائے دی.
" علی! شیری اور شیروان ان کے پاس ہیں. زیادہ لوگ مطلب زیادہ آہٹیں. ہماری زرا سی غلطی ان کو ہوشیار کر سکتی ہے. اور میں کوئی غلطی نہیں چاہتا. " اس نے ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے کہا. وہ ان کو نہین دیکھ سکتا تھا مگر میک اپ میں بھی اس کے چہرے کے سخت تاثرات وہ دیکھ سکتے تھے.
" ہمیشہ کا ضدی." علی نے منہ پھیر کر ونڈو سے باہر دیکھتے کہا. پیچھے بیٹھے فکر مند چہروں پہ ہلکی مگر اداس مسکراہٹ پھیلی.
یہاں وہ اپنا پلان ترتیب دے رہے تھے اور وہاں اس کچے گھر کے نیچے کوئی بڑا سر پرائز ان کا منتظر تھا.
*********************************************
(جاری ہے)

No comments: