حیا از فاخرہ وحید قسط نمبر 8 Haya By Fakhira Waheed Episode No
حیا
از
فاخرہ وحید
حیا از فاخرہ وحید
8 قسط نمبر
Haya By Fakhira Waheed
Episode No 8
"حیا"
از
فری
( قسط 8 )
صبح کے سات بج رہے تھے جب حیا کی آنکھ کھلی. وہ کب بیڈ پر آئی اسے یاد نہیں تھا. حیا نے کمرے میں نظر دوڑائی حمزہ وہاں نہیں تھا. لاکھ دماغ پر زور دینے کے بعد بھی آخری چیز جو حیا کو یاد تھی وہ اس کا رونا تھا. کب روتے روتے وہ سو گئی اسے یاد نہیں تھا. اور اب جب وہ اٹھی تو وہ بیڈ پر تھی.
حیا فریش ہو کر نیچے آ گئی. گھر پر کوئی نہیں تھا.
بی اماں دو دن پہلے ہی اپنے گاؤں گئی تھیں. حمزہ بھی کہیں دکھائی نہیں دے رہا تھا. حیا نیچے اپنے کمرے میں گئی جہاں اس کے کپڑے رکھے تھے. اس نے اپنا ایک سوٹ نکال کر بیڈ پر رکھا. یہ سفید رنگ کی شلوار قمیص تھی. قمیص کے گلے اور بارڈزر پر زرد رنگ کی کڑھائی تھی. جس کے ساتھ زرد رنگ کا شفون کا دوپٹہ تھا.
حیا تیار ہو کر کچن میں چلی گئی. فریج میں ضرورت کی ہر چیز موجود تھی. حیا نے اپنے لیے ٹوسٹ بنایا. اور لاؤنج میں ٹی وی آن کر کے بیٹھ گئی.
کافی دیر یوں ہی مختلف چینل دیکھتے جب وہ تھک گئی تو اس نے ٹی وی بند کر دیا. اب وہ بیٹھی لاؤنج کا جائزہ لے رہی تھی. سامنے کچن تھا. جو اوپن تھا. اس کی سلیب کے سامنے ہی ڈائننگ ٹیبل لگا ہوا تھا. لاؤنج کے درمیان میں جدید طرز کے صوفہ پڑے تھے. دیواروں کو مختلف پینٹنگز سے سجایا گیا تھا. پہلی بار جب حیا اس گھر میں آئی تو اسے کسی حویلی کا گمان ہوا تھا. اور یہ حویلی ہی تھی جس کا فی الحال ایک مخصوص حصہ حیا نے دیکھا تھا.
کیوں نا گھر کا چکر لگایا جائے. اس نے سوچا. وہ بور ہو رہی تھی. مختلف کمروں کا چکر لگاتے وہ دوبارہ لاؤنج میں آکر بیٹھ گئی تھی. کچھ کمروں کی حالت سے اندازہ ہو رہا تھا وہ کسی کے استمعال میں تھے. پہلا خیال جو حیا کے دماغ میں آیا وہ حمزہ کے دوست ہی تھے. پھر وہ حمزہ کے کمرے میں گئی. دروازہ کھولتے ہی سامنے قد آور بیڈ پڑا تھا. ایک طرف صوفہ پڑا تھا. دروازے کے ساتھ والی دیوار پر ایل ای ڈی لگی تھی. اسی دیوار میں آگے واش روم کا دروازہ تھا. یہیں سے ایک حصہ بالکونی میں کھلتا تھا. جہاں نیچے لان تھا. یہ حمزہ کی پسندیدہ جگہ تھی. ابیڈ کے اوپر دیوار پر حمزہ کی بڑی سی تصویر لگی تھی. حیا نے پہلی بار حمزہ کو ساکت دیکھا تھا. ہلکے بھورے بال جو اوپر کو اٹھے ہوئے تھے. گندمی رنگت, گہری بھنووں کے نیچے بھوری چھوٹی آنکھیں. باریک ہونٹ جو سختی سے بھینچے ہوئے تھے. چہرے پر ہلکے بال تھے جو اس کو مزید پر کشش بنا رہے تھے.
تصویر کے نیچے ایک کونے میں انگریزی میں کچھ لکھا تھا. حیا پڑھنے کے لیے تصویر کے پاس گئی.
Hate me. Because I hate myself.
حیا نے عبارت پڑھی.
"مجھ سے نفرت کرو. کیونکہ میں خود سے نفرت کرتا ہوں." حیا نے اس کا اردو ترجمہ کیا. کوئی کیوں چاہے گا اس سے نفرت کی جائے. حیا نے سوچا.
🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸
" ہم اپنے پلان میں کامیاب رہے ہیں. پچھلے ہفتے جہاں ہم نے ریڈ کروایا وہ ائیریا اب کلئیر ہے. بہت سی معصوم لڑکیاں جن کو وہاں زبردستی رکھا گیا تھا ان کو بازیاب کروا لیا گیا تھا. حالات کے پیش نظر ان کے گھر والوں سے ہمیں تعاون کی امید نہیں تھی. اس لیے ان لڑکیوں کو پوچھ گچھ کے بعد دارالامان بھجوا دیا گیا تھا. "
یہ علی تھا. جو کھڑا سب کو بریف کر رہا تھا. حمزہ کانفرنس ٹیبل کے گرد سامنے کرسی پر بیٹھا آنکھیں سکیڑے بغور سن رہا تھا. اس نے کالی ٹی شرٹ اور اس پر سفید بلیزر پہنا ہوا تھا. آنکھیں بتا رہی تھیں وہ ساری رات سویا نہیں تھا.
اس کے ساتھ سمایا اور سمایا کے سامنے تراب بیٹھا تھا.
اسی طرح تراب کے ساتھ شیری اور شیری کے سامنے زویان بیٹھا تھے. ساتھ شیروان اور پھر سامنے عنایا تھی.
"تو تم لوگوں کی کیا لگتا ہے جس لڑکیاں اغوا کرنے والے
گروہ کے ہم پیچھے تھے وہ اپنے انجام کو پہنچ گیا ہے؟"
علی کے خاموش ہونے پر حمزہ نے نے بیٹھے لوگوں سے سوال کیا.
" لگتا تو یہ ہی ہے." زویان نے اپنے خیالات کا اظہار کیا.
" لیکن حالات و واقعات ایسا دکھا نہیں رہے" حمزہ نے اپنے خدشات کا اظہار کیا.
لڑکیوں کے بتدریج اغوا کے کیس اب بھی سامنے آرہے ہیں. ایسا معلوم. ہوتا ہے کہ یہ گروہ کہیں اور مختلف لوگوں کے ساتھ دوبارہ فنکشنل ہو گیا ہے" حمزہ نے دلیل دی.
" آئی اگری. " کہنے والا شیری تھا.
"میرے پاس کچھ ہے." اس نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا.
شیری نے لیپ ٹاپ پروجیکٹر سے کنیکٹ کیا. اور ڈوائس لے کر سامنے آگیا.
سامنے بڑے پردے پر فیسبک گروپ کے سکرین شاٹس تھے.
" سر یہ ایک سیکریٹ فیس بک گروپ ہے. جس میں یہ لوگ لڑکیوں کو اغوا کرنے کے بعد ان کی تصویریں اپلوڈ کرتے ہیں. پھر لائیو سیشن میں ان پر بولی لگائی جاتی ہے. "
یہ خبر واقعی چونکا دینے والی تھی.
"تم اس گروپ کا حصہ ہو؟ "حمزہ نے انگلیوں میں پینسل گھماتے ہوئے شیری سے پوچھا.
"نو سر. میرا ایک دوست اس گروپ کا حصہ ہے. " شیری نے کچھ سوچ کر کہا.
" کون دوست.؟" شیری کا ایسا کوئی دوست نہین تھا جسے حمزہ نہ جانتا ہو.
" سر جس تھرڈ جینڈر گروپ کا میں پچھلے کچھ مہینوں سے حصہ ہوں وہاں پر ایک لڑکے سے..." وہ رکا.
" کھسرے سے." شیروان نے دونوں ہاتھوں کو ہوا میں اٹھا کر کالن بنایا.
"ہاں وہ ہی." شیری نے جھینپ کر کہا.
" وہاں ایک اُس سے میری خاصی دوستی ہو گئی ہے. اسی نے بتایا مجھے. " شیری نے احتیاطاً شیروان کا بتایا لفظ استمعال نہیں کیا تھا. سب کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی.
"تم اس گروپ کا حصہ کیوں نہیں ہو.؟" سمایا نے واقعی قابل غور سوال کیا تھا.
"کیوں کہ وہ اپنے قابل بھروسہ لوگوں کو ہی اس گروپ میں شامل کرتے ہیں. جب مجھے ان لوگوں کا حصہ بنے تین ماہ ہو جائیں گے تو مجھے بھی ایک خفیہ کوڈ دے کر اس گروپ میں شامل کر دیا جائے گا. " شیری نے سمایا کی طرف دیکھے بغیر کہا.
کوئی اور جگہ ہوتی تو شیری اسے جواب نہ دیتا. لیکن اس وقت وہ ایک اہم کیس میں ہوئی جانے والی پیش رفت اور آگے کا. پلان ترتیب دینے کے لیے بیٹھے تھے. جس وجہ سے وہ چاہ کر بھی اس کا سوال اگنور نہیں کر سکتا تھا.
"ابھی آپ وہاں کیا کرتے ہیں؟" شیروان نے اپنی ہنسی دبائے شیری سے سوال کیا.
سب اس کے سوال کا مطلب سمجھ گئے تھے. اور اب شیری کے جواب کا انتظار کر رہے تھے.
" ابھی میں ان کے لیے کھانا بناتا ہوں." شیری نے منہ بناتے شیروان کو جواب دیا.
" وہ آپکو اپنے ساتھ شادی بیاہ میں کیوں نہین لے کر جاتے.؟ " شیروان نے نہایت سنجیدگی سے دوبارہ سوال پوچھا.
"کیوں کہ میرا ٹھمکا ٹھیک نہیں ہے. " شیری نے وہی جواب دیا جو شیروان سننا چاہتا تھا.
بیسمنٹ میں قہقہے گونجے.
" سر مجھے لگتا ہے. ابھی ہمیں خاموش رہ کر حالات کا جائزہ لینا چاہئیے. پچھلے ہفتے والی ریڈ سے وہ چوکنا ہو گئے ہوں گے. " سمایا نے اپنی رائے دی.
"میرا نہیں خیال یہ کسی طرح سے بھی بہترین آئیڈیا ہے. تب تک وہ اور بہت سی لڑکیوں کو اغوا کر کے اس گھناؤنے عمل کا حصہ بنا چکے ہوں گے." شیری نے اپنی نشست سنبھالتے ہوئےسمایا کی مخالفت کی.
"ہم فوراً کوئی بھی فیصلہ لینے کے بجائے ایک دن اور لگا کر کیس کو مختلف زاویوں سے دیکھ کر پھر آگے بڑھیں گے. پھر کل پلان ترتیب دیں گے." حمزہ نے میٹنگ ختم ہونے کا عندیہ دیا.
🌸🌸🌸🌸🌸🌸
حیا کافی دیر یون ہی گھر کے مختلف حصوں کو ایکسپلور کرتی رہی تھی. حمزہ کے کمرے سے نکل کر دو کمرے چھوڑ کر ایک سٹڈی روم تھا. جہاں بہت سو کتابیں پڑی تھیں. میز پر بکھرے کاغذوں سے اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ اس روم کو باقاعدہ استمعال کیا جاتا ہے.
حیا نے حمزہ کے کمرے کو دوبارہ سیٹ کیا تھا. کہتے ہیں گھر میں جگہ ہو تو دل میں جگہ بن ہی جاتی ہے. حیا نے بھی کمرے کی سیٹنگ بدلی تھی.
وہ کافی کا مگ پکڑے کچن سے نکل رہی تھی. سامنے کا منظر دیکھ کر وہ ششد رہ گئی. اس کے کمرے کے ساتھ والے کمرے سے سب لوگ نکلتے لاؤنج میں آرہے تھے. حیا کو لگا یہ کوئی وہم ہے. اس نے وہ کمرہ دیکھا تھا وہاں کوئی نہیں تھا.
"ہیلو بیوٹیفل لیڈی." شیری کی آواز پر حیا ہوش میں آئی وہ واقعی وہاں تھے.
"ہائے." حیا کے منہ سے بس اتنا ہی نکلا تھا.
"کیا ہو گیا آپکو. یوں لگ رہا جیسے بھوت دیکھ لیا ہو" شیری نے اس کے چہرے کو بغور دیکھتے ہوئے کہا.
" اسلام علیکم بھابھی! " آنے والی سمایا تھی. اس نے آگے بڑھ کر حیا کو گلے لگایا. اور پھر اس کے ہاتھ کو ہونٹوں کے قریب لا کر چھوا. حیا اس کو دیکھ کر خوش ہوئی تھی.
"بھابھی. آپکو ایکٹنگ آتی ہے؟ " شیری نے فریج سے سیب نکالتے ہوئے حیا سے پوچھا. وہ تینوں اب کچن میں تھے.
"نہیں." سمایا سے بات کرتے حیا نے مڑ کر شیری کو دیکھا.
"سیکھ جائیں گی. کمپنی اچھی مل گئی ہے آپکو. " شیری کہہ کر باہر چلا گیا. سمایا نے اسے جاتے ہوئے دیکھا تھا.
حیا کو سمجھ نہیں آیا تھا. لیکن سمایا کے چہرے کی رنگت بدلتے اس نے دیکھی تھی.
علی اپنے گھر چلا گیا تھا. تراب بھی پیچھے ہی نکل گیا تھا. حمزہ ایک طرف سنگل سیٹ صوفہ پر بیٹھا فون استمعال کر رہا تھا.
اس کے ساتھ دوسرے صوفے پر ایک طرف زویان اور دوسری طرف شیروان لیٹے تھے. وہیں نیچے کارپیٹ پر شیری بیٹھا تھا. حمزہ کے سامنے سنگل صوفہ پر عنایا تھی.
" سر آج بھوک ہڑتال ہے.؟ " شیری نے پیٹ پر ہاتھ مارتے حمزہ کو مخاطب کیا. یہ شیری ہی تھا جو حمزہ کے ساتھ اس طرح بات کر سکتا تھا.
" ارے ہاں. تم لوگوں کو بھوک لگی ہو گی. ایک منٹ. حمزہ نے فون صوفہ پر رکھا اور کچن کی طرف بڑھا.
بی اماں. کیا بنایا ہے. کچن میں داخل ہوتے حمزہ نے کہا.
سامنے حیا اور سمایا کھڑے تھے.
" ارے ہاں. بی اماں تو نہیں ہیں. " حمزہ نے ماتھے پر انگلی پھیری. دوسرے ہاتھ کی دو انگلیاں جینز کی جیب میں تھی.
سمایا حمزہ کووہاں دیکھ کر نکل آئی تھی.
"تم ٹھیک ہو اب. " حمزہ نے کاؤنٹر سے ٹیک لگاتے ہوئے حیا سے پوچھا.حیا نے اثبات میں سر ہلایا.
"چلو.. دیٹس گریٹ." حمزہ نے ٹیک لگائے ہوئے ہی دونوں ہاتھ کاؤنٹر پر جمائے.
"میں کیا کہہ رہا تھا سر. " شیری نے کچن میں قدم رکھا.
"اوہ سوری میں نے آپ لوگوں کی پرائیویسی کو ڈسٹرب کر دیا. " وہ مڑا. وہ اب ڈرامہ کر رہا تھا.
"رک جاؤ ڈرامے باز. " حمزہ بھی اس کی رگ رگ سے واقف تھا.
"شیری میرا خیال اب تمہاری شادی کر دینی چاہئیے." حمزہ نے شیری کو بغور دیکھتے ہوئے کہا.
"میں آپکو چھوڑ کر کہیں نہیں جاؤں گا. " شیری آکر حمزہ کے گلے لگ گیا.
حمزہ نے اس کے سر پر چپت رسید کی.
"سیدھا کھڑا ہو. "
وہ کھڑا ہو گیا تھا. شیری کے ساتھ یہ حمزہ کا مختلف روپ تھا.
"کچھ کھانے کھلانے کا پروگرام بنائیں سر. " شیری نے حمزہ کو اس کے کچن میں آنے کا مقصد بتایا.
" بی اماں تو ہیں نہیں. تو باہر سے ہی منگوا لو. "حمزہ نے مشورہ دیا.
" یہ بھی صحیح ہے" شیری فون پر نمبر ملاتا باہر نکل گیا تھا.
"ویسے بھابھی آپ بھی ہمارے ساتھ آکر باہر بیٹھیں نا." شیری کچھ سوچ کر واپس آیا.
حیا, حمزہ کے ساتھ باہر آگئ تھی. کھانا آرڈر کر دیا گیا تھا.
سامنے تین سیٹر صوفہ پر سمایا کے ساتھ حیا بیٹھ گئی اور وہیں کارپیٹ پر شیری بیٹھ گیا تھا.
"بھا بھی. آپ کو ڈانس آتا ہے؟" شیروان نے سیدھے ہوتے ہوئے حیا سے پوچھا.
"ہاں؟ "حیا سٹپٹائی.
"ہاں وہ ہمارا ایک دوست ہے اس کا ٹھمکا سیٹ کروانا ہے. کمائی کرنے میں بڑی دقت ہے بیچارے کو. " شیروان نے شیری کو چھیڑا.
"بچے تمغے یوں ہی نہیں ملتے. " شیری نے اپنے سینے پر فخریہ انداذ میں ہاتھ مارا.
"ہاں کھسرا بننا پڑتا ہے." شیروان نے اسی جوش سے کہا.
"تو نہیں سمجھے گا. " شیری نے اس کی ٹانگ پر ہاتھ مارا. شیروان کراہا.
حمزہ فون کان پر لگاتا باہر نکل گیا تھا.
"بس کر دو اب تم لوگ بھی. تھکتے نہیں ہو جانو مانو کر کے. " شیری نے زویان کے ہاتھ سے فون کھینچا. جب سے یہ لوگ بیسمنٹ سے واپس آئے. عنایا اور زویان اپنا فون لے کر بیٹھے تھے.
"میرا فون واپس کر. " زویان اٹھا.
"یہ کیا لکھا ہے. استغفر اللہ.. " شیری نے زویان کے فون سے میسج پڑھا.
"شیری میرا فون دے." زویان اس کے پیچھے پیچھے تھا.
جب وہ شیری کے پاس پہنچا تو اس نے زویان کا فون شیروان کی طرف اچھالا. زویان شیروان کی طرف مڑا.
اس سے پہلے کہ وہ شیروان تک پہنچتا. فون دوبارہ شیری کے ہاتھ میں تھا.
سمایا اور حیا ان کو پورے لاؤنج میں گھومتا دیکھ رہیں تھیں.
" یار نہیں کرو. فون دو میرا. " زویان تڑپ رہا تھا.
"بھابھی غور فرمائیں. " شیری حیا کے پاس جا کر نیچے کارپٹ پر بیٹھ گیا.
"استغفراللہ. استغفراللہ. " شیری نے اسکرین پر دیکھ کر سر پکڑ لیا.
"کیا لکھا ہے اونچا پڑھ نا.." شیروان شیری کے ساتھ آکر بیٹھ گیا تھا.
"اچھا تو لکھا ہے. " شیری نے الفاظ کو کھینچ کر ادا کیا.
سب توجہ سے سن رہے تھے.
" تجھے قسم ہے شیری اگر تو نے میرے میسج پڑھے. "
زویان چلایا.
"ہا ہا ہا ہا. شیری مصنوعی ہنسی ہنسا.
"سنو سب سنو. عنایا تم بھی سنو. " شیری نے جان بوجھ کر عنایا کو بلایا. جو دل ہی دل میں اس آفت سے بچ جانے کی دعائیں مانگ رہی تھی.
"لکھا ہے.." شیری نے سسپینس بڑھایا.
"بتا کیا لکھا ہے." شیروان نے جھنجلا کر کہا.
"بچوں کے پڑھنے کا نہیں ہے. بھاگ یہاں سے. " شیری نے شیروان کو ذلیل کیا تھا.
"کمینہ ہے تو. " شیروان جو ابھی تک اسے زویان سے بچا رہا تھا وہاں سے اٹھ گیا. شیری زویان کی پہنچ میں تھا.
وہ فرش پر گتھم گتھا تھے. جب حمزہ اندر آیا. دونوں جہاں تھے وہیں رک گئے.
🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸
رات کے دس بجے تھے. سب لوگ کھانا کھا چکے تھے. سمایا, عنایا , شیروان اور زویان گھر کے لیے نکل گئے تھے. شیری یہیں رکا تھا.
حیا کافی دیر پہلے اوپر کمرے میں چلی گئی تھی. حمزہ اسٹڈی روم میں تھا.
ساڑھے بارہ کے قریب حمزہ کمرے میں گیا. حیا صوفے پر بیٹھی ٹی وی دیکھ رہی تھی. کمرے میں اندھیرا تھا.
سامنے حمزہ کی تصویر کے نیچے اور بہت سی تصاویر نائلون کی تار میں ڈال کر لٹکائی ہوئی تھیں. اور ان پر ایل ای ڈی لائٹس کو لپیٹا گیا تھا. جو مختلف رنگوں میں جل اور بجھ رہی تھیں. یہ پر سکون تھا.
حمزہ کو اچھا لگا تھا.
"ہیو یو ڈن دس؟ " حمزہ نے صوفے پر بیٹھی حیا سے پوچھا.
"م.میں. بور ہو رہی تھی. تو."حیا نے بات ادھوری چھوڑی.
"اٹس نائس." حمزہ بیڈ کی طرف بڑھا. حمزہ نے بلیزر اتار کر بیڈ پر رکھا.
"یہ تصویریں. " وہ رکا. وہ پانچ چھ مختلف تصویریں تھیں. حمزہ نے ایک ہاتھ ماتھے پر رکھتے گہرا سانس لیا.
"ہاؤ ڈئیر یو. " وہ چلایا تھا. حیا اس کے اچانک چیخنے پر کھڑی ہو گئی تھی.
"ہاؤ ڈییر یو ڈسپلے دیز پکچرز ہئیر. "وہ دوبارہ چلایا.
"و. وہ. م. میں. " حیا ایسے ری ایکشن کے لیے تیار نہیں تھی. وہ حیا کی طرف بڑھا. حیا پیچھے ہونا چاہتی تھی لیکن پیچھے صوفہ تھا.
حمزہ نے اس کے گالوں کو اپنی انگلیوں کے بیچ دبایا.
"کیا سوچ کر یہ تصویریں یہاں لگائی تم نے. تم دکھانا چاہتی ہو کہ میں ظالم ہوں. قاتل ہوں. تم مجھے بتانا چاہتی ہو کہ میں نے ان کو مارا. " وہ چیخ رہا تھا. اس کی آنکھوں میں خون اتر آیا تھا.
حیا خود کو چھڑوانے کی کوشش کر رہی تھی. حمزہ نے حیا کو پیچھے دھکا دیا. وہ پاگل ہو رہا تھا. صوفے کے سامنے میز پر رکھا گلدان حمزہ نے ہاتھ مار کر نیچے گرا دیا تھا. رات کے سناٹے میں آواز گونجی تھی.
شیری سونے کی کوشش کر رہا تھا جب وہ آواز سن کر اوپر آیا. شیری نے لائٹ آن کر دی تھی. سامنے کا منظر اس کے لیے شاکنگ تھا. حمزہ کا یہ روپ اس نے کبھی نہیں دیکھا تھا.
حیا کا بازو حمزہ کی گرفت میں تھا. آنکھیں غصے سے سرخ تھیں.
"میری زندگی جہنم ہو گئی ہے. روز روز ایک ہی چیز. روز یہ ہی تماشہ. " وہ چیخے جا رہا تھا. حیا اس کے ہاتھوں میں مچل رہی تھی.
"حمزہ سر کیا ہو گیا ہے آپکو.؟ شیری نے اسے کندھے سے پکڑ کر پیچھے کھینچنا چاہا.
" پاگل ہو گیا ہوں میں.. " حمزہ نے شیری کو پیچھے دھکیلا. اب وہ دیوار پر لگی تصویروں کو کھینچ رہا تھا. شیری ہونقوں کی طرح حمزہ کو کمرے میں ادھر سے ادھر جاتے دیکھ رہا تھا. حمزہ ایسا نہیں تھا.
"دوبارہ اس کمرے میں میں تمہاری شکل بھی دیکھنا نہیں چاہتا. " حمزہ نے حیا کا بازو پکڑ کر باہر کی طرف دھکا دیا.
"سر آپ یہ کیا کر رہے ہیں." شیری چلایا تھا.
" تم بھی جاؤ. سب جاؤ. آئی ڈونٹ وانٹ اینی ون. " حمزہ کی آواز بلند تھی. اس کی آنکھوں میں نفرت تھی. ڈریسنگ ٹیبل پر رکھی ہر چیز اب فرش پر پڑی تھی.
جاری ہے

No comments: