ﻧﺎﻭﻝ سنائپر از ریاض_عاقب_کوہلر قسط نمبر 23
ﻧﺎﻭﻝ سنائپر
سنائپر
قسط نمبر23
ریاض عاقب کوہلر
میں زیادہ دیر اس نظارے کی تاب نہ لا سکا اور فوراََ اسے اوندھے منہ لٹادیا ۔اس کے ہاتھ ہی اس کی قمیص کو تین چار ٹکڑوں میں تبدیل کر کے ان لمبی پٹیوں سے اس کے ہاتھ اور پاﺅں باندھ دیے ۔اس طرف سے فارغ ہو کر میں نے گردن کی ایک مخصوص رگ کو دبا کر اس کی عارضی بے ہوشی کی طوالت کو بڑھا دیا تھا۔
اب تو مجھے سو فیصد یقین ہو گیا تھا کہ وہ قبیل خان کی رکھیل تھی ۔اور اسی کے حکم پر مردانہ حلیہ بنایا ہوا تھا ۔یہ بھی ہو سکتا تھا کہ مردانہ حلیے میں گھومنا اس کا اپنا شوق ہو ۔اسی وجہ سے اس نے لڑائی بھڑائی میں بھی اچھی خاصی مہارت حاصل کر لی تھی ۔ایک گمان مجھے یہ بھی ہوا کہ وہ اس کی دوسری بیوی نہ ہو ،لیکن پھر میں نے سختی سے اس گمان کو رد کر دیا ۔کیونکہ ایک تو وہ بہت کم سن تھی، دوسرا بیویوں کو گھر میں رکھا جاتا ہے عیش و آرام کے اڈے پر نہیں ،تیسرااس کے نقوش خائستہ گل سے بالکل نہیں ملتے تھے جس کے بارے سنا تھا کہ وہ قبیل خان کی دوسری بیوی کا بھائی ہے اور سب سے بڑھ کر اپنے بھائی کی موت پر اس کے یہاں رہنے کی کوئی تُک نظر نہیں آ رہی تھی ۔ اسے تو علام خیل میں ہونا چاہیے تھا ۔
بہ ہرحال اس بارے سوچنے کا بہت وقت ملنا تھا فی الحال میں نے وہاں کی تلاشی لینا تھا ۔اس گیلری کے دائیں بائیں صرف دو کمرے تھے ۔میں اسی کمرے میں گھس گیا جہاں سے وہ باہر نکلی تھی ۔
وہ ایک پر تعیش خواب گاہ تھی ۔کمرے کے وسط میں لکڑی کا ڈبل بیڈ پڑا تھا جو بھوری پالش سے چمک رہا تھا ۔اس پر تہہ کیا ہوا گہرے نیلے رنگ کا خوب صورت کورین کمبل رکھا تھا ۔گہرے نیلے رنگ ہی کی بیڈ شیٹ اور تکیوں کے غلاف تھے ۔کھڑکیوں کے پردے بھی اسی رنگ کے تھے ۔البتہ کمرے کی چاروں دیواروں میں ہر دیوار مختلف رنگ کے ڈسٹمبر میں رنگی ہوئی تھی ۔میں جلدی جلدی کمرے کی تلاشی لینے لگا ۔لیکن وہاں کوئی کام کی چیز مجھے نہ مل سکی ۔بس عیاشی کا مختلف سامان بھرا تھا ۔ایک مکمل الماری تو مختلف قسم کی شراب کی بوتلوں سے بھری ہوئی تھی ۔بیڈ سائیڈ ٹیبل کے دراز وغیرہ کھنگالنے کے بعد میں دوسرے کمرے میں گھس گیا وہ بھی ایک خواب گاہ ہی تھی ۔وہاں ایک الماری میں مردانہ لباس ٹنگے ہوئے دیکھ کر میں نے ایک قمیص اتار کر اپنے پاس رکھ لی تھی ،کیونکہ اس لڑکی کا کردار کیسا ہی کیوں نہیں تھا مجھے میرا اخلاق یہ اجازت نہیں دیتا تھا کہ اس پر قابو پانے کے بعد میں اسے برہنہ حالت میں پھراتا رہتا۔
دوسرے کمرے نکل کر میں نے گیلری کے آخری کونے تک جا کر دیکھا ۔وہاں بھی ایک کھڑکی بنی ہوتی تھی ۔قریب پہنچنے پر مجھے کھڑکی کا ٹوٹا ہوا شیشیہ دکھائی دیا ۔دبیز پردے کی وجہ سے ٹوٹا ہوا شیشیہ دور سے نظر نہیں آ رہا تھا ۔واپس ڈرائینگ روم میں آکر میں نے اس لڑکی کی ہاتھ کی بندشیں کھولیں اور اسے قمیص پہنا کر دوبارہ اس کے ہاتھ پشت پر باندھ دیے۔وہاں سے نکل کر میں نے دوسری عمارت کا بھی سرسری جائزہ لیا لیکن کام کی کوئی چیز نظر نہ آئی ۔دوسرے کمروں کا جائزہ لیتے ہوئے میں نے احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا تھا ۔پہلے بھی بڑی مشکل سے بچ پایا تھاکہ سترہ اٹھارہ سال کی لڑکی نے مجھے ناکوں چنے چبوا دیے تھے ۔ممکن تھا کہ کسی اور کمرے اس سے بھی بڑی آفت متھے لگ جاتی ۔
عمارت کے باقی کمروں میں بھی بس ضرورت ہی کا سامان رکھا ہوا تھا ۔کمروں کا جائزہ لیتے ہی میں نے داخلی دروازے کی ذیلی کھڑکی کھول کر سردار کو اندر بلالیا۔
”سردار !....اس کمرے میں سنگل کیبن کی چابی یا تو دیوار سے لٹکی ہو گی یا کسی لاش کی جیب میں ہوگی ۔وہ چابی اور وہاں رکھے ہتھیار اٹھا کر سنگل کین میں رکھو میں آتا ہوں ۔“مذکورہ کمرے کی طرف اشارہ کرکے میں اس لڑکی کو اٹھانے چل پڑا ۔
میری واپسی تک سرداربھی ٹویوٹا کی چابی اور تین کلاشن کوفیں اٹھا کر باہر نکل آیا تھا ۔
”یہ کون ہے ؟“اس نے میرے کندھے پراٹھائی لڑکی کی طرف اشارہ کیا ۔
اس لڑکی کو ٹویوٹا کی باڈی میں رکھتے ہوئے میں نے جواب دیا۔”یہ بہت خاص پرزہ ہے ، یوں سمجھو قبیل خان تک پہنچنے کی چابی ہے ۔“
اس پر نظر پڑتے ہی بے ساختہ سردار کے منہ سے نکلا ۔”یارا!....دا خو ڈیر اخلی ہلک دے ۔“ (یار،یہ تو بہت خوب صورت لڑکا ہے )
میں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا ۔”ویلے خو مے دی چہ دا اسپیشل شیے دے ۔“ (کہا تو ہے کہ یہ خاص چیز ہے )
”اس کا مطلب ہے قبیل خان بھی لونڈوں کا شوقین ہے ۔“سردار نے سمجھنے والے انداز میں سر ہلایا۔
”خان صاحب !....پٹھانوں والی بات نہ کرو،یہ لڑکی ہے ۔“
”کیا ؟“اس نے حیرانی سے ایک مرتبہ پھر اس لڑکی کا جائزہ لیا ۔”لیکن اس نے حلیہ تو بالکل لڑکوں والا بنایا ہوا ہے ۔“
میں نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھالتے ہوئے کہا ۔”حلیے کو چھوڑو، چہرے کے نقوش پر غور کرو ۔“
”تو اب اسے لے کر کہاں جا رہے ہیں ؟“میرے ساتھ بیٹھنے کے لیے اس نے دروازہ کھولنا چاہا ۔
اس کی بات کا جواب دیے بغیر میں نے پوچھا ۔”دروازہ کون کھولے گا ؟“
”دروازہ واپس بند کرتے ہوئے وہ منہ بناتے ہوئے بولا۔”جونیئر ہونے کے ناتے دروازہ کھولنا تو تمھیں چاہیے تھا ۔لیکن کیا کریں آج کل تو سینئر جونیئر کی تمیز ہی نہیں رہی ۔“
میں زیر لب مسکراتے ہوئے گاڑی سلف گھمانے لگا ۔گاڑی سٹارٹ کر کے میں نے پیچھے لے جا کر داخلی دروازے کی سیدھ میں کی اس وقت تک وہ دروازہ کھول چکا تھا ۔میں نے جونھی گاڑی باہر نکالی وہ دروازہ بند کر کے میرے پاس آن بیٹھا ۔
”اب بتاﺅ اس مصیبت کو کہاں لے جانا ہے ۔“
”جہاں اپنا سامان رکھا ہے وہاں لے جا کر پوچھ گچھ کرتے ہیں اگر مناسب لگا تو اس کے ذریعے قبیل خان کو بلیک میل بھی کیا جا سکتا ہے ۔“
سردار نے تائیدی انداز میں سر ہلاتے ہوئے کہا ۔”ویسے اس کی شکل و صورت کو دیکھ کر تو یہی اندازہ ہو رہا ہے کہ ہم قبیل خان کو ٹھیک ٹھاک دھچکا پہنچا چکے ہیں ۔“
میں نے کہا ۔”یہ تو اس سے بات چیت کرنے پر معلوم ہو گا ۔“
درختوں سے بچنے کے لیے مجھے مسلسل اسٹیئرنگ گھمانا پڑ رہا تھا ۔رستا بھی نا ہموار تھا کہ گاڑی کو مسلسل جھٹکے لگ رہے تھے ۔گاڑی کو غار کے دہانے تک لے جانا ممکن نہیں تھا کیونکہ غار ڈھلان پر بنی ہو ئی تھی ۔غار کے دہانے کے متوازی گاڑی روک کر میںنے سردار کو کہا ۔
”گاڑی واپس لے جاﺅ اور دونوں گاڑیوں کے آئل ٹینک میں سوراخ کر کے تیل نکال کر وہاں موجود تمام سامان اور گاڑیوں کو آگ لگا دو اب جبکہ اس کے محافظوں کی موت کے بعد یہ بات کھل گئی کہ اس عمارت تک ہم پہنچ گئے ہیں توقبیل خان کا کچھ نقصان کرنا تو بنتا ہے ۔“
”یہ کام مجھے واقعی پسند ہے ۔“سردار خوشی سے چہکتے ہوئے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا ۔
گاڑی سے اتر کر میں نے لڑکی کوکھینچ کر نیچے اتارا اور لڑکی والی اور باقی تین محافظوں والے ہتھیار بھی گاڑی سے اتار کر نیچے رکھ دیے۔سردار گاڑی کو موڑ کر دوبارہ قبیل خان کی حویلی کی جان بڑھ گیا جبکہ میں اس لڑکی کو کندھے پر اٹھا کر اوپر چڑھنے لگا ۔غار کے دہانے کے سامنے کافی درخت موجود تھے جن کے عقب میں دہانہ بالکل چھپا ہوا تھا ۔لڑکی کو غار میں لٹا کر میں دوبارہ نیچے پہنچا اور تمام ہتھیار بھی وہاں اٹھا لایا۔ لڑکی کو ابھی تک ہوش نہیں آیا تھا ۔اسے دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر بٹھا کر میں نے تھیلے سے پانی کی بوتل نکال لی۔آدھی بوتل اپنے معدے میں اتار کر میں نے باقی پانی اس کے منہ پر انڈیل دیا تھا ۔ اس نے کراہتے ہوئے آنکھیں کھول دیں ۔ہوش میں آتے ہی وہ ایک طرف لڑھک گئی ۔اسے دوبارہ بازو سے پکڑ کر میں نے دیوار کے ساتھ بٹھا دیا ۔گہرے سانس لیتے ہوئے اس نے نفرت بھری نگاہیں میرے چہرے پر ڈالیں ۔اس وقت میری آنکھوں سے پھوٹنے والی نفرت بھی کچھ کم درجے کی نہیں تھی ،نا معلوم کیوں مجھے اس پر حد سے زیادہ غصہ آ رہا تھا ۔
”تمھارا نام ؟“میں نے اس کی شعلہ بار آنکھوں میں جھانکتے ہوئے پہلا سوال کیا ،مگر وہ ہونٹ بھینچے اسی انداز میں مجھے گھورتی رہی ۔
میرا ہاتھ بجلی کی سی سرعت سے گھوما ۔”چٹاخ ۔“کی آواز کے ساتھ اس کا بایاں گال سفید سے سرخ ہو گیا تھا ۔وہ دائیں طرف لڑھک گئی تھی ۔اس کے بوائے کٹ بالوں کو بے دردی سے پکڑ کر میں نے دوبارہ سیدھا بٹھایا ۔
”تم سے نام پوچھا ہے ۔“میں نے زہر خند لہجے میں اپنا سوال دہرایا ۔لیکن وہ اسی طرح شعلہ بار نظروں سے مجھے گھرتی رہی اس کی آنکھوں میں موجود نفرت دو چند ہو گئی تھی ۔اس کے چہرے پر مجھے ذرہ بھر بھی خوف کے آثار نظر نہیں آ رہے تھے ۔
اسے خاموش پا کر میرا دایاں ہاتھ دوبارہ گھوما ۔اور پھر میں اسی پر اکتفا نہیں کیا تھا ،تین چار تھپڑ میں نے ایک تسلسل سے اس کے گالوں پر جڑ دیے تھے ۔لیکن اس مرتبہ اس نے خود کو لڑھکنے سے بچائے رکھا ۔میرے تھپڑوں کا تسلسل رکتے ہی اس نے منہ میں جمع خون ایک جانب تھوکا اور آنکھیں بند کر کے بیٹھ گئی ۔
مجھے اس کی دلیری پر حیرانی ہو رہی تھی ۔ایسی فاحشہ عورتیں تو حد درجہ کی بزدل اور ڈرپوک ہوتی ہیں ذرا سی دھمکی پر تھر تھر کانپنے لگ جاتی ہیں مگر اسے میرے اتنی شدت سے مارے گئے تھپڑوں کا بھی کوئی اثر نہیں ہوا تھا ۔
میں نے اس کے بالوں سے پکڑ کر زور دار جھٹکا دیتے ہوئے بولا ۔
”شاید تمھیں عزت راس نہیں ہے ۔تمھاری بہتری اسی میں ہے کہ میرے ہر سوال کا بے چوں و چراں جواب دے دو ۔“
اس نے آنکھیں کھول کر حقارت بھری نظر مجھ پر ڈالی اور غار کے کھلے دہانے کی جانب دیکھنے لگی ۔
مجھ پر جیسے دورہ سا پڑ گیا تھا ۔میں نے اس پر تھپڑوں کی بارش کر دی ۔”چٹاخ چٹاخ ۔“کی آواز سے غار کی اندرونی فضا گونج اٹھی تھی ۔یقینا اس کے چہرے کو کافی پزیرائی ملتی رہی ہو گی لیکن اس وقت وہ اس آدمی کے سامنے تھی جو عورت ذات سے نفرت کا دعوے دار تھا ۔ماہین کی بے راہ روی کے بعد اس طرح کی آبرو باختہ عورتیں تو مجھے اور بھی بری لگنے لگی تھیں ۔اور اس لڑکی پر مجھے جو غصہ آ رہا تھا وہ خود میرے لیے حیرانی کا باعث تھا ۔شاید ایسی معصوم اور پاکیزہ شکل و صورت والی کی بے راہ روی مجھے طیش میں ڈالے ہوئی تھی ۔مسلسل تھپڑ کھا کر وہ خود کو سنبھال نہ سکی اور ایک جانب لڑھک گئی اس کے بالوں سے پکڑ کر میں گھسیٹ کر غار کی دوسری دیوار کی طرف پھینکا اور اس کے جسم کو ٹھوکروں پر رکھ لیا ۔ہاتھ پاﺅں بندھے ہونے کی وجہ سے وہ مجھ سے دور لڑھک کر بھی نہیں جا سکتی تھی ۔
”نام پوچھا ہے میں نے ،نام پوچھا ہے ،فاحشہ !“چند ٹھوکر یں کھانے کے بعد ہی اس کی آنکھیں بند ہو گئی تھیں ۔پانی کی دوسری بوتل نکال کر میں نے پانی کے دو تین چھینٹے اس کے چہرے پر مارے ۔اور اس نے کراہتے ہوئے دوبارہ آنکھیں کھول دیں ۔ایک زور دار تھپڑ کر ساتھ اس کا استقبال کرتے ہوئے میں غرایا ۔”جواب دو ۔میں کہہ رہاہوں جواب دو ۔“اس کا بدن تکلیف کی شدت سے آہستہ آہستہ کانپنے لگ گیا تھا ۔اسے خاموش پا کر میں نے دوبارہ اس کے بالوں سے پکڑ کر ایک جھٹکے سے مخالف دیوار پر دے مارا ۔
اذیت بھری آہ منہ سے نکالتے ہوئے وہ اوندھے منہ لیٹ گئی تھی ۔اس کی پیٹھ پر دو تین لاتیں رسید کر کے میں نے اس کے بالوں سے پکڑ کر دوبارہ غار کی دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر بٹھا دیا ۔
”میرا خیال ہے تمھیں اذیت ناک موت کو گلے لگانے کا شوق ہے ۔“
”اگر اتنے ہی مرد ہو تو ایک بار مجھے آزاد کر کے دیکھو ۔“اس کی آواز میں نفرت ،حقارت غصہ ،غیض و غضب اور جانے کیا کیا شامل تھا ۔
”تو میں نے تمھیں سوتے ہوئے تو گرفتار نہیں کیا ۔ہاتھاپائی کرتے ہوئے تم بے ہوش ہوئی تھیں ۔“یہ کہتے ہی میرا بایاں مکا پوری قوت سے اس کے دائیں جبڑے پر لگا ۔وہ بے اختیار خون تھوکنے لگی ۔
”نام کیا ہے تمھارا ۔“میں نے دوبارہ اپنا سوال دہرایا۔
وہ حسبِ سابق خاموش رہی تھی ۔میں اس کے پاس سے اٹھ غار کے دہانے کے پاس پڑی کلاشن کوف کے قریب پہنچا ۔اس کی میگزین اتار کر میں نے تین گولیاں نکالیں اور واپس اس کے قریب پہنچ کر میں نے تینوں گولیاں اس کی پشت پر بندھے دائیں ہاتھ کی انگلیوں کے درمیان میں رکھ کر اس کی انگلیوں کی پوروں کو آپس میں ملادیا۔اپنے ہونٹ سختی سے آپس میں بھینچتے ہوئے اس نے اس درد کو سہنے کی کوشش کی لیکن کب تک بے اختیار اس کے منہ سے سسکیاں نکلنے لگیں ۔
”نام پوچھا ہے ؟“مجھے اس کی سخت جانی دیکھ کر جیسے مزید تپ چڑھ رہی تھی ۔
”پپ....پلو خان!“اس کے منہ سے گویا بے اختیاری میں پھسلا تھا ۔
”بالکل تیرے کردارہی کی طرح ہی گھٹیا ہے تمھارا نام بھی ۔“کلاشن کوف کی گولیاں اس کی انگلیوں سے نکال میں نے نیچے پھینکیں ۔
”علاقہ کون سا ہے تمھارا ؟“
”علام خیل ۔“اس نے آنکھیں بند کرتے ہوئے جواب دیا ۔
”اب اپنے متعلق تمام تفصیل بتاﺅ ۔“میں اگلا سوال کیا لیکن وہ ایک مرتبہ پھر خاموش ہو گئی تھی۔
”سنا نہیں ۔“میرے ہاتھ نے ایک مرتبہ پھر اس کے گال کا مزاج پوچھا ۔مگر وہ خاموش رہی تھی ۔میں نے دوبارہ اسے بالوں سے پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے غار کے فرش پر پٹخا اور منہ ناک کا خیال کیے بغیر اس پر ٹھوکروں کی بارش کر دی ۔
”میں کیا پوچھ رہا ہوں غلیظ فاحشہ عورت ........“ہذیان بکتے ہوئے میں نے اسے زدو کوب کرناجاری رکھا ۔عجیب ڈھیٹ لڑکی تھی ،گھٹی گھٹی آواز میں کراہ رہی تھی لیکن میرے سوال کا جواب دینا اسے گوارا نہیں تھا ۔
”راجا !....کیا ہو گیا ہے تمھیں ۔“اسی وقت سردار غار میں داخل ہوا۔ اس نے ہاتھ میں کچھ سامان بھی اٹھایا ہوا تھا ،مجھے غصے کی شدت سے کف اڑاتے دیکھ کراس نے ہاتھ میں پکڑا سامان نیچے رکھا اور فوراََ مجھے کھینچ کر اس سے دور لے گیا ۔
میں گہرے گہرے سانس لے رہا تھا ۔
”کیا ہوا ہے ؟....بتاﺅ نا تمھیں ہو کیا گیا ہے ۔“سردار کے لہجے میں تشویش تھی ۔
”کچھ نہیں ہوا ....وہ فاحشہ کچھ بتانے کو تیار نہیں ۔“میں غضب ناک لہجے میں چلایا ۔
”تو عورتوں سے پوچھ گچھ کا یہ کون سا طریقہ ہے ؟“سردار نے افسوس بھرے انداز میں سر ہلایا۔
”یہ عورت ہے ؟....“میں غصے میں چلایا ۔”یہ ایک فاحشہ ہے ،عورت کے نام پر دھبا ہے ،کلنک کا ٹیکا ہے ، یہ ....یہ ....اس قابل ہے کہ اس کے ساتھ اس سے بھی برا سلوک کیا جائے ۔“
”کسی عورت کی بے راہ روی اس بات کی متقاضی نہیں ہوتی کہ اس کے ساتھ یہ سلوک کیا جائے ۔اور یہ تو معصوم لڑکی ہے ،جانے کس بات نے اسے اس غلیظ مرد کی جھولی میں لا پھینکا ہے ۔“سردار کو پلو خان کے ساتھ میرے ناروا سلوک پر بہت دکھ ہوا تھا ۔”یار راجے !....مجھے تم سے یہ امید نہیں تھی ، یقینا تم اپنے حواس میں نہیں ہو ۔کسی دوسری عورت کی بے وفائی کا بدلہ تم نے ایک معصوم اور بے گنا ہ لڑکی سے لینے پر تل گئے ۔“
میں نے بپھرتے ہوئے کہا ۔”یہ ایک دہشت گرد کی رکھیل ہے ۔یہ بے گناہ اور معصوم کیسے ہو گئی ۔“
”دہشت گرد وہ ہے یہ نہیں ۔اور اس کی عمر دیکھو کیا تمھیں نہیں لگتا کہ اس اڈے پر یہ کسی مجبوری کی وجہ سے پھنسی ہوئی تھی ۔ہو سکتا ہے اس کے کسی سر پرست نے قبیل خان سے رقم لے کر اسے اس کے حوالے کیا ہو ؟اس ضمن میں اور بھی کئی توجیحات کی جا سکتی ہیں ۔اور پوچھ گچھ کا کوئی طریقہ کار ہوتا ہے۔ یقین مانو اگر مجھے معلوم ہوتا کہ تم اس کے ساتھ یہ سلوک کرو گے تو میں یہاں سے کبھی نہ جاتا ۔“
”چلو تم ہی پوچھ لو ۔“غصے بھرے لہجے میں کہتے ہوئے میں نے پانی کی بوتل اٹھائی اور غٹاغٹ آدھی بوتل پی گیا ۔
میرے بوتل کو ایک طرف رکھتے ہی سردار نے پانی کی بوتل اٹھائی اور اوندھے منہ پڑی لڑکی کی طرف بڑھا۔سب سے پہلے اس نے اسے بازووں سے پکڑ کر اٹھایا اور دیوار کے سہارے بٹھاتے ہوئے پانی کی بوتل اس کے منہ سے لگا دی ۔میں اس منظر سے نگاہیں چرا کر پاﺅں پسارے دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گیا ۔
”مجھے افسوس ہے بہن !....اور اپنے ساتھی کے ناروا سلوک کی میں معافی چاہتا ہوں ۔“ سردار کا نرم اور نادم لہجہ مجھے ایک آنکھ نہیں بھایا تھا ۔
اسی وقت میں نے لڑکی کی تیز سسکی سنی میں نے نظریں گھما کر اس کی جانب دیکھا ۔اس کی آنکھوں سے پانی کا سیلاب رواں تھا ۔
سردار نے جیب سے چاقو نکال کر اس کے ہاتھوں اور پاﺅں کی بندشیں کاٹ دیں ۔میں اسے کہنے لگا تھا کہ وہ لڑکی کتنی خطرناک لڑاکا ہے لیکن پھر خاموش ہو گیا ۔اسے روتے دیکھ کر مجھے بھی ندامت محسوس ہوئی مگر پھر اس کے کردار کا خیال آتے ہی مجھے لگا کہ میں نے ٹھیک کیا تھا ۔
”اچھا روﺅ مت ،اب کوئی بھی تمھیں کچھ نہیں کہے گا ۔اگر تم کچھ بھی نہیں بتا نا چاہتیں تب بھی خیر ہے ۔“اس کے رونے پر سردار کا دل پسیج گیا تھا ۔دشمن کے لیے رحم کی رمق نہ رکھنے والے پٹھان سے ایک لڑکی کے دوتین آنسوﺅ ں ہی برداشت نہیں ہوئے تھے ۔
”وہ میری بہن کا قاتل ہے۔مہینا بھر اپنے پاس قید رکھ کر وہ میری بہن کو زیادتی کا نشانہ بناتا رہا ،جب اس کا دل بھر گیا تو اسے اپنے کتوں کے سامنے ڈال دیا ۔اس وقت اس کی عمر سترہ سال تھی ، وہ معصوم اتنے وحشیوں کی زیادتی برداشت نہ کرسکی اور جان کی بازی ہار گئی ،کیا اب بھی تمھارے لعنتی سردار کو قتل کرنا غلط اور ناجائز ہے ۔“
”ہمارا سردار !....کون ہمارا سردار ؟“سردار نے حیرانی بھرے لہجے میں پوچھا ۔
”تمھارا ایک ہی تو سردار ہے قبیل خان ۔“اس نے رندھی ہوئی آواز میں جواب دیا ۔ اس کا جواب سن کر سردار کے ساتھ میں بھی اچھل پڑا تھا ۔مجھے لگا وہ سردار کو الو بنانے کی کوشش کر رہی ہے ۔
سردار نے حیرانی بھرے لہجے میں کہا ۔”مگر قبیل خان تو ہمارا دشمن ہے اور میرا ساتھی تم سے قبیل خان ہی کے تو متعلق پوچھ رہا تھا ۔“یہ کہتے ہوئے اس نے میری جانب دیکھا ۔
میں نے فوراََ کہا ۔”بکواس کر رہی ہے یہ ،ہمیں الو بنانا چاہتی ہے ۔“
وہ ترکی بہ ترکی بولی ۔”بکواس تم کر رہے ہو گھٹیا انسان !....ایک بندھی ہوئی عورت کو زدو کوب کر کے تم خود کو بڑا تیس مار خان سمجھ رہے ہو نا ۔“
”سردار !....اس کے منہ میں لگا م دو ورنہ یہ نہ ہو اس مرتبہ اسے میرے ہاتھوں سے پٹنے سے تم بھی نہ بچا پاﺅ۔“
”اسے چھوڑو ،مجھ سے بات کرو ۔“سردار نے میری بات در خور اعتنا ءنہ جانتے ہوئے اسے اپنی جانب متوجہ کیا ۔”تمھارے کہنے کا مطلب ہے قبیل خان تمھاری بہن کا قاتل ہے اور تم اسے قتل کرنے کے لیے حویلی میں گئی تھیں ؟“
”ہاں ۔“اس نے اثبات میں سر ہلادیا تھا ۔
کیا تم اپنی بات کی وضاحت کر سکتی ہو ؟“
”مجھے اس کے بارے اطلاع ملی کہ وہ اپنے عیاشی کے اڈے پر موجود ہے ۔میں فوراََ یہاں پہنچی لیکن اس کے گرد حفاظتی انتظام بہت سخت تھے ۔اس کے قریب پہنچنا مشکل ہی نہیں ناممکن تھا ۔میں اسی جنگل میں چھپی رہی ۔جب وہ چلا گیا تو میں اس حویلی کے شمال مغربی کونے سے اندر داخل ہوئی اس حویلی کا نقشہ مجھے ایک ہمدرد نے ہاتھ بنا کر دیا تھا ۔میں اس کی خواب گاہ کا جائزہ لینا چاہتی تھی تاکہ اگلی مرتبہ جب وہ وہاں آرہا ہو تو اس کی آمد سے پہلے وہاں چھپ جاﺅں ۔سامنے والے محافظوں سے بچنے کے لیے میں گیلری کی کھڑکی کا شیشہ توڑ کر اندر داخل ہوئی اور وہاں تمھارے سورما ساتھی سے ہاتھا پائی ہو گئی ۔ میں اسے قبیل خان کا آدمی سمجھ رہی تھی ۔ہاتھا پائی کے دوران اسے غالباََ کچھ زیادہ ہی چوٹیں لگ گئیں جن کا بدلہ یہ مجھے باندھ کر لیتا رہا ۔“
اس کی تفصیل ختم ہوتے ہی سردار مشکوک لہجے میں مستفسر ہوا ۔”کیا میرے ساتھی نے تم سے قبیل خان کے متعلق کچھ نہیں پوچھا ۔“
نفی میں سرہلاتے ہوئے اس نے کہا ۔”اس نے تو بس میرا نام پوچھا ہے اور مجھے تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔
سردار نے ملامتی نظروں سے مجھے گھورا ۔
میں نے منہ بناتے ہوئے کہا ۔”یہ اپنا نام بتانے پر ہی راضی نہیں تھی تو میں قبیل خان کے متعلق کیا پوچھتا ۔“
”اچھا جو کچھ ہوا ہے غلط فہمی میں ہوا ہے ۔میرا ساتھی تمھیں قبیل خان کی ساتھی سمجھ کر تشدد کرتا رہا۔اس نے سمجھ شاید تم بھی اس کی طرح دہشت گرد ہو ۔“
”تمھارے ساتھی سے بڑا دہشت گرد کون ہو سکتا ہے ۔“وہ مجھ پر تپی ہوئی تھی اور دیکھا جاتا تو اس کا غصہ بھی بجا تھا ۔
میں نے کہا ۔”خان صاحب !....یہ تمھیں الو بنا رہی ہے ۔یہ قبیل خان ہی کی ساتھی ہے ۔“
وہ تنک کر بولی ۔”چلو، میں اس کی ساتھی ہوں ،تم میرا کیا بگاڑ لو گے۔“
میں نے طنزیہ انداز میں کہا ۔”تھوڑی دیر پہلے والی ماربھول گئی ہو کیا ؟“
وہ ترکی بہ ترکی بولی ۔”اس وقت میرے ہاتھ پاﺅں بندھے تھے ،اب ہاتھ لگا کر دیکھو ۔“
میں غصیلے لہجے میں سردار کو مخاطب ہوا ۔”خان صاحب !....اگر تم اسے لگام نہیں دے سکتے تو پھر مجھ سے گلہ نہ کرنا ۔“
سردارنے خفگی بھرے لہجے میں کہا ۔”یار راجا!....کیا بچوں جیسی باتیں کر رہے ہو ۔“
میں اس کی بات کا جواب دیے بغیر غار سے باہر نکل گیا ۔دل ہی دل میں ندامت محسوس کرنے کے باوجود میں نہ تو پلو خان سے معذرت کہنے کو تیا رتھا اور نہ اپنی غلطی ہی کا اعتراف کرنا مجھے گوارا تھا۔اس کا نام بھی عجیب سا تھا پلو خان ۔پتا نہیں اس نے مجھے اپنا نام صحیح بتایا بھی تھا یا نہیں ۔سر جھٹک کر میں قبیل خان کی حویلی کی جانب دیکھنے لگا ۔لیکن اس جانب سے مجھے دھواں وغیرہ اٹھتا ہوا دکھائی نہیں دیا حالانکہ میں نے سردار کو واضح طور پر کہا تھا کہ حویلی کو آگ لگا دے ۔ایک دفعہ تو میرا دل چاہا کہ اس طرف خود جا کر آگ لگا آﺅں مگر پھر میں نے یہ ارادہ ترک کردیا کیونکہ ہمارے کام کا اصول یہی تھا کہ جب تک میں سردار سے مکمل تفصیل معلوم نہ کر لیتا میرا اس طرف جانا نہیں بنتا تھا ۔
سردار نے غار کے دروازے پر نمودار ہو کر کہا ۔”راجے !....کھانا کھا لو۔“
”کھانا ؟“میں نے حیرانی بھرے لہجے میں پوچھا ۔
”قبیل خان کے آدمیوں نے جو اپنے لیے جو کھانا بنایا تھا میں ساتھ لے آیا ہوں کہ ضائع نہ ہو جائے ۔“
”ٹھیک ہے ،تم لوگ کھاﺅ مجھے بھوک نہیں ہے ۔“
”بے وقوفی کی باتیں نہ کرو سمجھے ۔“اس نے قریب آ کر مجھے بازو سے پکڑکر کھینچا۔”وہ ایک مظلوم لڑکی ہے ۔“
”یار !....کہہ دیا نا کہ بھوک نہیں ہے ۔“
”اچھا کھانا نہ کھاﺅ لیکن ہمارے ساتھ بیٹھ تو جاﺅ نا ۔“ زبردستی مجھے اندردھکیل کروہ خود باہر سے خشک لکڑیاں اٹھانے لگا ۔
وہ دیوار سے ٹیک لگائے پتھریلی چھت میں کچھ ڈھونڈنے کی کوشش کر رہی تھی ۔اس کے ہونٹوں سے ابھی تک خون رس رہا تھا ۔سفید چہرہ میرے مارے ہوئے تھپڑوں کی وجہ سے گہرا سرخ ہو گیا تھا ۔اس کے چہرے پر چھائے غم کے بادل دیکھ کر میرے دل میں مستور ندامت کے اثرات اور گہرے ہو گئے تھے ۔
سردار نے پہلے سے بنے ہوئے پتھروں کے چولھے کے درمیان میں لکڑیاں رکھ کر انھیں آگ لگائی اور اپنے تھیلے سے سٹیل کا کٹورا نکال کر شاپر میں موجود سالن انڈیلنے لگا ۔ دوسرے شاپر میں روٹیاں بند تھیں ۔سالن کا کٹوار آگ پر رکھ کر اس نے پانی کی بھری ہوئی بوتل اور سٹیل کا گلاس بھی تھیلے سے نکال لیا ۔سالن گرم ہوتے ہی اس نے درمیان میں سالن رکھ کر کہا ۔
”پلوشہ !....آﺅ کھانا کھا لو ۔“
میں نے سوچا۔”تو گویا اس کا نام پلوشہ خان ہے ۔شاید مردانہ حلیے کی وجہ سے یہ لوگوں کو اپنا نام پلو خان بتاتی ہو ،اسی وجہ سے اس کے منہ سے غیر ارادی طور پر بھی پلو خان ہی پھسلا تھا ۔“
منہ سے کچھ کہے بنا وہ قریب ہو گئی ۔صبح ناشتے کے بعد سے میں نے بھی کچھ نہیں کھایا تھا ،پورا دن یونھی بھاگ دو ڑ میں گزرگیا تھا ۔اوراس وقت سورج غروب ہونے کی تیاری میں تھا ۔ مجھے اچھی خاصی بھوک محسوس ہو رہی تھی ۔
وہ کھانا بنانے والے کے نصیب میں نہیں تھا ۔اور کھانا بناتے وقت اس نے یہ سوچا بھی نہیں ہو گا کہ یہ کھانا وہ اپنے قاتلوں کے لیے بنا رہا ہے ۔واقعی انسان بہت بے خبر، انجان اور ناواقف ہے ۔ سالوں بعد کے منصوبے بنانے والے کو اگلے پل کا پتا نہیں ہوتا ۔
اگر کھانا لذیز نہیں بھی تھا تو اس وقت بھوک کی شدت نے اسے مزیدار بنا دیا تھا ۔
پلوشہ جبڑوں پرلگنے والے مکوں کی وجہ سے نوالہ صحیح طور پر چبا نہیں پا رہی تھی ۔اسی وجہ سے دو تین نوالے لے کر وہ پیچھے ہو گئی ۔
سردار نے فوراََپوچھا۔ ”ولے سہ چل دے خورے؟“(کیوں ،کیا بات ہے بہن)
اس نے غصے بھری نگاہ مجھ پر ڈال کرکہا ۔”کچھ نہیں بھائی !“
میں اطمینان بھرے لہجے میں بولا۔”تم بغیر بتائے سب کچھ اگل دیتیں ،تو ابھی پیٹ بھر کر کھانا بھی کھا لیتیں،یہ سب تمھاری ضد بازی ہی کا نتیجہ ہے ۔“
”تم فکر نہ کرو ....قبیل خان کے بعد تمھارا ہی نمبر ہے ۔اسے قتل کر کے میں تمھیں اپنے ہاتھوں سے گولی ماروں گی ۔“
میں نے بے پرواہی سے کندھے اچکائے ۔”ہاں اس خواہش میں پہلے بھی کافی منوں مٹی تلے آرام کر رہے ہیں ان میں ایک کا اضافہ ہو جائے گا ۔“
وہ طنزیہ انداز میں ہنسی ۔”اتنے تیس مار خان ہوتے تو ایک لڑکی کے ہاتھ پاﺅں باندھ کر اس پر تشدد نہ کرتے ۔“
”عجیب بات ہے کہ تم خود کو لڑکی سمجھتی ہو ۔“میں نے اس کے حلیے پر پھبتی کسی ۔
وہ اطمینان بھرے لہجے میں بولی ۔”تم جیسوں کے لیے میں یقینا لڑکی نہیں ہوں ۔“
”تم لوگوں کو لڑنے کے علاوہ بھی کچھ سوجھتا ہے ۔جب دونوں جانتے ہو کہ یہ لڑائی غلط فہمی کا نتیجہ تھی تو ا ب پرانی بات کو بھول جانا چاہیے ۔یوں بھی معافی تلافی ہونے کے بعد گزری باتوں کی اہمیت ختم ہو جایا کرتی ہے ۔“
”سردار بھائی !....معافی تلافی کب ہوئی ؟“وہ حیرانی بھرے لہجے میں سردار کو مخاطب ہوئی۔”معاف تو میں اسے تب کرتی، جب یہ معذرت کرتا ،اپنی غلطی اور زیادتی کا اعتراف کرتا ۔اور یقین کرو میں اس کے بعد بھی اسے معاف کرنے پر تیار نہیں ہوں ۔ہاں اس کے بعد اتنا ہوتا کہ قبیل خان کو قتل کرنے کے بعد جب اس کی باری آتی تو میں اسے درد ناک طریقے سے قتل نہ کرتی ،بس سر میں گولی مار کر جلد از جلد اس کی جان نکال دیتی ۔“
میں نے طنزیہ انداز میں کہا ۔”ویسے تمھیں کسی نے یہ نہیں بتایا کہ تمھاری زبان کچھ زیادہ ہی تیز چلتی ہے ۔“
وہ ترکی بہ ترکی بولی ۔”وقت آنے پر پتا چل جائے گا کہ میری زبان تیز چلتی ہے یا ہاتھ پاﺅں۔“
سردار زچ ہوتے ہوئے بولا۔”یار راجے !....تمھی چپ کر جاﺅ ۔“
میں کھانے سے ہاتھ کھینچتے ہوئے بولا۔”کس وقت چلیں گے ؟“
سردار نے کہا ۔”آج رات تو مشکل ہے ۔“
”کیوں ،مروانے کا ارادہ ہے کیا ۔“
”نہیں ،پلوشہ کو اکیلا چھوڑ کر تو نہیں جا سکتے ۔“اس نے نفی میں سر ہلایا۔
”ہم نے اس کا ٹھیکا تو نہیں لے رکھا ۔یہ شکر کرے کہ اسے قتل کیے بغیر جانے کی اجازت دے رہے ہیں ۔“
”شکر تم کرو کہ سردار بھائی کی وجہ سے تمھاری جان عارضی طور پر بچ گئی ہے ۔کہ اب قبیل خان کی موت کے بعد ہی تمھارا نمبر آئے گا ۔“
سردار پلوشہ کی بات پر توجہ دیے بغیر بولا۔”یہ اکیلی کیسے رہ پائے گی ۔اور یہ بھی تو سوچو اس کی حالت کے ذمہ دار ہم دونوں ہیں ۔“
میں نے غیض بھری حیرانی سے پوچھا ۔”تو کیا جب تک یہ ٹھیک نہیں ہوجاتی ہم اس کی تیمار داری کرتے رہیں گے ۔“
”تمھاری گھٹیا تیمارداری کی مجھے بالکل بھی ضرورت نہیں ہے ،البتہ سردار نے مجھے بہن کہا ہے اور بہنوں کا خیال بھائیوں کو رکھنا پڑتا ہے ۔“اس کی ہر بات اور ہر جملے میں میری ذات سے نفرت کا اظہار بھرا ہوا تھا ۔لیکن اس کے باوجود نہ جانے کیوں مجھے ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ وہ یہ سب دل کی گہرائی سے نہیں کہہ رہی ۔
”سردار خان !....میں نے تمھیں کہا تھا کہ حویلی کی ہر اس چیز کو تیلی دکھا دو جو آگ پکڑ سکتی ہے ،لیکن تم نے ایسا نہیں کیا ۔اگر یہ کام تم کرتے تو یقینا اتنی جلدی لوٹ کر واپس نہ آتے ۔شاید اس وقت تک میں اس کی یہ لمبی زبان بھی کاٹ چکا ہوتا ۔اور اس کی یہ گیدڑ بھبکیاں سننے سے بچ جاتا۔“
”راجا صاحب !....وہاں ایک تہہ خانہ بھی موجود ہے جس میں دنیا جہاں کی آئی ای ڈیز اور بارود جمع ہے ۔ٹائم بم اور مختلف بارودی پھندے بھی پڑے تھے ۔پس میں نے دو ٹائم بم تہہ خانے میں لگا دیے اور دونوں گاڑیوں کے آئل ٹینک کے ساتھ بھی ایک ایک ٹائم بم لگا دیا ۔تمام پر میں نے چوبیس گھنٹے کا وقت سیٹ کر دیا ہے ۔تہہ خانے کے دروازے کے ساتھ میں نے سوئچ نمبر 4پل مارک ون لگا دیا ہے ۔کہ اگر کوئی چوبیس گھنٹوں سے پہلے وہاں آجائے تو ان ٹائم بموں کو پھٹنے سے نہ روک سکے۔“
”ویسے ایک پٹھان سے مجھے قطعاََ اس عقل مندی کی توقع نہیں تھی ۔“میں نے ہنستے ہوئے اردو میں کہا تاکہ پلوشہ کی سمجھ میں میری بات نہ آسکے۔ویسے ممکن تھا کہ وہ ارود جانتی ہو ۔لیکن اس علاقے کی عمومی خواتین اردو زبان سے نابلد ہیں ۔اور پلوشہ کے بارے بھی میرا اندازہ یہی تھا کہ وہ اردوزبان نہیں جانتی ۔میری بات پر اس نے کسی قسم کا تبصرہ نہیں کیا تھا ۔ یہ دیکھ کر تو میرا گمان یقین میں بدل گیاتھا۔ورنہ سردار کے تسلی دینے اور معذرت کرنے کے بعد سے تو وہ ہر فقرے میں مجھے مطعون کرنے کی کوشش کر رہی تھی ۔
”ہاں میں جانتا ہوں کہ تم کتنے ایک عقل مند ہو ۔اس کا ثبوت ایک بے قصور لڑکی کے زخمی جسم کی صورت میری آنکھوں کے سامنے دھرا ہے ۔“سردار نے بھی جواب دینے کے لیے اردو زبان ہی کا سہارا لیا تھا ۔
”بہتر ہو گا کہ تم تھوڑی دیر آرام کر لو ۔اور میں اس وقت کوئی بد مزگی نہیں چاہتا ۔“میں اٹھ کر غار سے باہر آگیا ۔ سورج پہاڑی کے پیچھے غائب ہو گیا تھا ۔ملگجے اجالے میں میں نے دائیں بائیں نظر دوڑائی لیکن کوئی ایسی حرکت نظر نہ آئی جو مجھے کسی حفاظتی انتظام کی ترغیب دیتی ۔یوں بھی حویلی میں آنے والوں کادھیان اس طرف نہیں آ سکتا تھا ۔دشمن کس کو نقصان پہنچا کر وہیں بیٹھا نہیں رہتا ۔
اندھیرا گہرا ہونے تک میں غار کے باہر ہی پھرتا رہا اس دوران میں نے کافی لکڑیاں اکٹھی کر لی تھیں۔گو موسم خوشگوار تھا ،لیکن رات کے دو تین بجے سردی بڑھ جاتی تھی اس وجہ سے میں نے لکڑیاں اکٹھی کرنا ضروری سمجھا تھا ۔
میں لکڑیاں اندر لے جانے کا سوچ ہی رہا تھا کہ سردار غار کے دہانے پر نمودار ہوا ۔”راجا صاحب !....اگر چاے پینا ہے تو آجاﺅ ۔“
میں نے اکٹھی کی ہوئی لکڑیوں کے ڈھیر سے آدھی لکڑیاں اٹھا کر کہا ۔”ہاں چاے تو ضرور پیوں گا ،تم ذرا لکڑیاں غار کے اندر لے جانے میں میری مدد کرو ۔“
سردار نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے باقی لکڑیاں اٹھا لیں ۔چولھے میں پہلے والی لکڑیاں ابھی تک جل رہی تھیں ۔ان کی روشنی میں مجھے پلوشہ سلپنگ بیگ میں گم نظر آئی ۔
”یہ مصیبت سو گئی ہے ۔“میں سٹیل کے کٹورے سے کپ میں چاے انڈیلنے لگا ۔
”ہاں ،میں نے اسے دردکش گولیاں کھلاکر سلا دیا ہے ۔“
”کہیں اسے میرے والے سلپنگ بیگ میں تو نہیں سلا دیا ۔“
”مجبوری تھی یارا !....تمھارا سلپنگ بیگ تھوڑا آرام دہ ہے ۔میں نے سوچا اس کی حیثیت ہمارے پاس مہمان کی سی ہے اور پھر یہ لڑکی بھی ہے تو ........“
”شکریہ ۔“میںتلخ انداز میں قطع کلامی کرتا ہوا غار کی سنگلاخ دیوار سے ٹیک لگا کربیٹھتے ہوئے گرم چاے سے لطف اندوز ہونے لگا۔پلوشہ کی گہری سانسیں اس بات کا اعلان کر رہی تھیں کہ اسے نیند آ گئی تھی ۔
”ویسے راجے یار !....تم ایسے چڑچڑے ،بد اخلاق اور ظالم تو نہیں تھے ۔“سردار میرے ساتھ لگ کر بیٹھتا ہوا دکھی لہجے میں پوچھنے لگا ۔
”سردار خان !....جانتے ہو میں نے اپنی بیوی کو طلاق کیوں دی تھی ۔“پلوشہ کے نیند میں ہونے کے باوجود میں نے اردو زبان ہی کوذریعہ اظہار بنایا تھا ۔
”نہیں ۔“اس نے نفی میں سر ہلایا۔مجھے اردو میں بات کرتے دیکھ کر اس نے بھی پشتو بولنے سے احتراز برتا تھا ۔
”یاد ہے جس دن امریکہ سے لوٹے تھے ،ہم کتنے خوش تھے ۔تمھیں چنارے بیگم کے پاس جانے کی جلدی تھی اور میں ماہین کے پاس جانے کو بے تا ب تھا ۔اور اپنے دکھ سکھ کے ساتھی سے ملنے کی لگن ایسی تھی کہ ہم نے گھر وںکا رخ کرنے میں کوئی دیر نہیں لگائی تھی ۔“
”ایسے لمحات بھولتے تو نہیں ہیں نا یار !“
”سردار شہر سے میں نے اسپیشل ٹیکسی کروا کر گاﺅں کا رخ کیا ۔اور پھر ابو جان کی نیند خراب نہ کرنے کے خیال سے میں دروازے پر دستک دینے کے بجائے دیوار پھلانگ کر اندر داخل ہوا اور جب لا تعداد خواہشوں ،امنگوں اور محبت سے لبریز دل کے ساتھ اپنی خواب کے دروازے پر پہنچا تو خواب گاہ کی لائیٹ جل رہی تھی اور میری بیوی اکیلی نہیں تھی ۔میری شریک حیات ،میری لاڈلی بیوی ،مجھ سے محبت کی دعوے دار ،ہزاروں وعدے اور قسمیں کھانے والی ایک اور مرد کی آغوش میں پڑی تھی ۔سردار تم اندازہ کر سکتے ہو کہ اس وقت مجھ پر کیا بیتی ہو گی ۔میری سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا کروں ؟اس مرد کو قتل کروں ، بیوی کی گردن اتاروں ،دونوں کوزندہ زمین میں دفن کردوں یا خودکشی کر نا بہتر ہوگا ۔لیکن پھر میں نے ان میں سے کوئی کام نہ کیا اور ان دونوں کو اسی وقت گھر سے نکال کر بیوی کو طلاق دے دی ۔جینیفر کے بارے تم جانتے ہو کہ آخری دن تک وہ مجھ سے محبت کا ڈراما رچاتی رہی ۔کس لیے ؟....فقط اس لیے کہ میں ایک اچھا نشانے باز تھا اور اس کے سینئرز کو میری ضرورت تھی ۔یقین مانو اس کے بعد مجھے عورت ذات سے نفرت ہو گئی ،گھن آنے لگی اس ذات کی مکاریوں اور چالبازیوں سے ۔بات یہاں تک رہتی تو ٹھیک تھا لیکن ابھی پچھلے دنوں رومانہ نے اس نفرت کو ہوا دینے میں اہم کردار ادا کیا ۔شادی شدہ ہونے کے باوجود وہ مجھے شادی پر اکساتی رہی ۔آخر کسی کی بیوی تو تھی نا وہ ۔یہ ساری باتیں میرے ذہن میں ہر وقت گردش کرتی رہتی ہیں ۔درحقیقت پلوشہ کے چہرے میں مجھے ان تینوں خواتین کی جھلک نظر آئی ،وہ تینوں جو مجھے پسند ہونے کے باوجود میرے لیے قابل نفرت ہیں ۔پلوشہ ان تینوں سے خوب صورت ہے اور اتنی خوب صورت لڑکی کا یوں بے راہ رو ہونا ،قبیل خان جیسے شخص کی داشتہ ہونا میرے لیے اتنا تکلیف دہ اور افسوس ناک تھا کہ میں اپنے جذبات پر قابو نہ پا سکا ۔اس نے بھی تو مجھے حقیقت نہیں بتائی چپ چاپ مار کھاتی رہی ۔بعد میں میرا ندامت ظاہر کرنا یا معذرت کرنا کس کام آتا ۔تم نہیں جانتے اس معصوم لڑکی کو میں نے کس قدر زدوکوب کیا ہے ۔اس کے پھول سے گالوں پر کتنے تھپڑ مارے ہیں ،اس کے ریشمی بالوں کو کس بے دردی سے کھینچا ہے ۔“میں ایک لحظے کے لیے رکا اور پھر گہرا سانس لیتے ہوئے گویا ہوا ۔”ان تینوں خواتین کا بدلہ میں نے اسی سے لے لیا ہے ۔اس سلوک کی حق دار وہ تینوں تھیں لیکن اس کا نشانہ ایک معصوم بن گئی جو پہلے سے قبیل خان جیسے غلیظ کی ڈسی ہوئی تھی ۔“
سردار نے غمگین لہجے میں کہا ۔”مجھے تمھارے دکھ کا ادراک ہے راجے !....یقینا ایک مرد کے لیے سب سے افسوس ناک اور دکھ دینے والی بات اس کی بیوی کی بے وفائی ہوتی ہے ۔یہاں تک کہ دنیا بھر کی عورتوں کے ساتھ غلط تعلق رکھنے والا مرد بھی اس بات کو گوارا نہیں کرتا کہ اس کی بیوی کسی غیر کی طرف التفات رکھے ۔اور میں یہ بھی جانتا ہوں کہ آج تم نے جو کچھ کیا جذبات سے مغلوب ہو کر کیا ہے ۔ لیکن بعد میں اس معصوم لڑکی کی دل جوئی ہی کے لیے سہی ،اس سے معذرت توکر لینا تھی ۔“
”نہیں کر سکتا ،کسی عورت سے بھی معذرت نہیں کروں گا ۔اب تو اس صنف سے میری نفرت پہلے سے کئی گنا بڑھ گئی ہے ۔میری طرف سے بھاڑ میں جائے ۔اس کا کام بنتا تھا کہ مجھے حقیقت بتا دیتی۔“میری ذہنی رو پھر بھٹک گئی تھی ۔ایک لمحے پہلے میں اسے معصوم گردان رہا تھا لیکن جب سردار نے معذرت کی بات کی تو میرے اندر وہی عورت بیزار ذیشان جاگ اٹھا ۔
”اچھا چھوڑو اس موضوع کو ۔“وہ اصرار ترک کرتا ہوا بولا۔”یوں بھی اس نے صبح چلے جانا ہے ۔بعد میں یہ جانے اور قبیل خان جانے۔ہو سکتا ہم سے پہلے وہ اسی کے ہاتھوں نشانہ بن جائے ۔“
”تہہ خانے میں بارود کے علاوہ کچھ نہیں تھا ؟“میں نے فوراََ اس کی با ت پر عمل کرتے ہوئے موضوع تبدیل کر دیا ۔
”تھوڑا بہت ایمونیشن بھی پڑا تھا ۔البتہ مجھے اپنے کام کی کوئی چیز نظر نہ آئی ۔اور بارود تو اتنا زیادہ تھا کہ اس حویلی کی کوئی اینٹ بھی سلامت نہیں رہے گی ۔“
”اپنی منہ بولی بھائی نما بہن کو بھی اچھی طرح سمجھا دینا تھا ،یہ نہ ہو ہم سے علاحدہ ہوتے ہی پھر اس حویلی میں گھس جائے ۔“
” تمھیں بتاتے وقت وہ بھی تو یہ تفصیل سن رہی تھی ۔مجھے نہیں امید کہ وہ ایسی غلطی کر سکتی ہے۔“
”ممکن ہے وہ ہمیں دھوکا دے رہی ہو ۔یقین مانو میں نے تو عورت کے ایسے ایسے روپ دیکھے ہیں کہ اب کسی عورت پر اعتبار کرنے کو دل نہیں چاہتا ۔“
”نہیں اس کی باتوں میں حقیقت ہے ،یوں بھی یہ جس شیشے کو توڑ کر قبیل خان کی خواب گاہ میں گھسی ہے وہ میں دیکھ کر آیا ہوں ،صاف نظر آ رہا تھاکہ کوئی شخص وہ شیشہ توڑ کر اندر داخل ہوا ہے ۔ اس کے ساتھ یہ بھی تو دیکھو کہ بہ قول تمھارے جب اس کا اور تمھارا سامنا ہوا اس وقت تم دونوں ایک دوسرے کے وجود سے بے خبر تھے ۔تو ایسی حالت میں اسے اپنے ہاتھوں میں کلاشن کوف لے کر گھومنے کی کیا ضرورت تھی ۔دو اور دو چار کی طرح یہ بات واضح ہے کہ وہ خود تمھاری طر ح حویلی والوں کی دشمن تھی ۔اور سب بڑھ کر یہ بات کہ تم نے اس سے قبیل خان کی ذات کے متعلق کوئی سوال ہی نہیں کیا ۔“
”اچھا زیادہ طرف داری کی ضرورت نہیں مجھے یقین آ گیا کہ وہ تمھاری منہ بولی بہن ہے ۔ اب جاﺅ آرام کرو مجھے یوں بھی نیند نہیں آ رہی ۔“
”ٹھیک ہے یار !....جب نیند آنے لگے تومجھے جگا دینا ۔“وہ اٹھ کر اپنے تھیلے سے سلپنگ بیگ نکالنے لگا ۔
سردار لیٹنے کے چند لمحوں بعد ہی سو گیا تھا۔دن بھر کی بھا گ دوڑ کے باوجودنیند میری آنکھوں سے کوسوں دور تھی ۔بیٹھے ہوئے جانے کون کون سے خیالات میرے دماغ میں گردش کر رہے تھے۔ ماہین کی بے وفائی ،جینیفر کا دوغلا پن ،رومانہ کی بے وقوفی ،ابو جان کی بہو اور بچے کی خواہش ،پھوپھو جان ، اپنے موجودہ حالات ،اپنی جان کی قربانی دے کر مجھے بچانے والا استاد صادق ،مجھے سنائپر اور ہتھیاروں کی سمجھ بوجھ عطا کرنے والا راﺅ تصور،استاد عمر دراز اپنا یار اویس اور پھر عجیب و و غریب کردار کی مالک پلوشہ ۔میں انھی خیالات میں کھویا رہا ۔یہاں تک کہ فضاﺅں کا سینہ چیرتی ہوئی آذان کی پر نور آواز میرے کانوں تک پہنچی ۔
گرم چادر اپنے بدن کے گرد لپیٹتا ہوا میں غار سے باہر نکل آیا ۔پانی کی چاروں خالی بوتلیں بھی میں نے ہاتھ میں پکڑ لی تھیں ۔چھے سات سو گز کے فاصلے پر چشمہ موجود تھا ۔ٹھنڈے پانی سے وضو کر کے میں نے بوتلیں بھریں اور غار میں واپس لوٹ آیا ۔
آگ کب کی بجھ چکی تھی ،سردار کے لیٹنے کے بعد میں نے آغ جلانے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی تھی ۔اس وقت اچھی خاصی خنکی محسوس ہو رہی تھی ۔چولھے میں لکڑیاں رکھ کر میں نے لائیٹر سے آگ جلائی اور چادر بچھا کر نماز ادا کرنے لگا۔نماز بھی عجیب شان والی عبادت ہے لگتا ہے انسان نے اپنے رب سے ملاقات کرلی ہو ۔ساری دنیا سے اپنے دکھ درد چھپانے والا انسان اپنا ایک ایک غم ،کمی ، پریشانی اپنے رب کی بارگاہ میں یان کرتے ہوئے کوئی جھجک محسوس نہیں کرتا ۔میں نے بھی دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتے ہوئے اپنی ساری پریشانیاں ،سارے دکھ ،ساری مصیبتیں اپنے مالک کے حضور رکھ دیں ۔
چادر جھاڑ کر میں نے تھیلے پر رکھی اور چاے بنانے لگا ۔اسی وقت سردار کی نیند سے بوجھل آواز میرے کانوں میں پڑی ۔
”کیا ٹائم ہوا ہے ؟“
”اگر کوشش کرو تو نماز پڑھ سکتے ہو ۔“
”مجھے جگایا کیوں نہیں ؟“سلپنگ بیگ کی زنجیر کھول کر وہ باہر نکل آیا ۔
”نیند ہی نہیں آ رہی تھی ۔“
”اچھا میں نماز پڑھ لوں ۔“کہتے ہوئے وہ غار سے نکل گیا ۔اس کی واپسی تک میں چاے بنا کر پی بھی چکا تھا ۔وہ نماز چشمے کے کنارے ہی پڑھ کر لوٹا تھا ۔
اپنے لیے گلاس میں چاے ڈال کر اس نے تھیلے سے بسکٹ نکالے اور ناشتا کرنے لگا ۔
”اب کیا اراد ہ ہے ؟“بسکٹ کو دانتوں سے کاٹ کر اس نے اس نے چاے کا بڑا سا گھونٹ لیا۔
”چاے پی کر نکلتے ہیں ،تاکہ دھماکے ہونے کے بعد ہم اس علاقے سے کافی دور جا چکے ہوں۔“
”ٹھیک ہے ۔“اثبات میں سر ہلاتے ہوئے اس نے سوئی ہوئی پلوشہ کو آواز دی ۔” پلوشے !“
”جی بھائی !“سلپنگ بیگ سے برآمد ہوتے ہوئے اس نے توبہ شکن انگڑائی لی ۔میں اس کے بدن سے نظر چرا کر غار سے باہر دیکھنے لگا جہان سورج طلوع ہو رہا تھا ۔
سردار نے پانی کی بوتل اس کی جانب بڑھا کر کہا ۔”منہ ہاتھ دھو لو ۔“
پانی کی بوتل لے کر وہ لنگڑاتے ہوئے غار سے باہر نکل گئی ۔اس لنگڑاہٹ میں بھی ایک خاص قسم کی روانی نظر آ رہی تھی ۔مردانہ قمیص اس پر کافی کھلی تھی لیکن وہ بے ڈھنگا لباس بھی اس کی خوب صورتی کو نہیں گہنا سکا تھا ۔یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ وہ لباس کسی بھی فیشن ایبل لباس سے سے زیادہ اس پر جچ رہا تھا۔
ہاتھ منہ دھو کر وہ اندر آئی اور میری چادر اٹھا کر چہرہ خشک کرنے لگی ۔
میں نے طنزیہ انداز میں کہا ۔”ویسے اتنا اخلاق انسان میں ہونا چاہیے کہ کسی چیز استعمال کرنے سے پہلے مالک سے اجازت مانگ لے ۔“
”ہاں یہ ہے نا ریشم و کمخواب کی چادر کہ یوں پھبتیاں کس رہے ہو ۔اور بالفرض میں نے یہ گندی چادر استعمال کر بھی لی تھی تو تمھیں ہی اخلاق کا مظاہرہ کر لینا چاہیے تھا ۔“یہ کہتے ہوئے وہ سردار کو مخاطب ہوئی ۔”سردار بھائی !....اگر پانی کی اور بوتل موجود ہے تو میں دوبارہ ہاتھ منہ دھونا چاہوں گی ۔“
”پلوشے !....بے وقوفوں کی سی بات نہ کرو اور چاے پیو ۔“
”اگر چاے اس نے بنائی ہے تو مجھے نہ بتانا ورنہ میں پی نہیں سکوں گی ۔“یہ کہہ کر وہ چوکی کے قریب آ کر بیٹھ گئی ۔اس نے چپ رہنا تو سیکھا ہی نہیں تھا ۔عجیب بد مزاج ،جھگڑالواور باتونی لڑکی تھی ۔ مجھے معلوم تھا کہ اگر میں یہ کہہ بھی دیتا کہ وہ چاے میں نے بنائی ہے تب بھی وہ چاے پینے کا کوئی نہ کوئی رستا نکال لیتی ۔
سردار نے چاے کا گلاس بھر کر اس کی جانب بڑھایا اور ساتھ تین چار بسکٹ بھی اس کے ہاتھ میں پکڑا دیے ۔ عام بسکٹوں کے برعکس یہ کافی موٹے اور لمبے بسکٹ تھے ۔تین چار بسکٹ کھا کر آدمی پورا دن مزید کچھ کھائے بغیر آرام سے گزار سکتا تھا ۔
چاے میں ڈبو کر بسکٹ کھاتے ہوئے اس کے جبڑوں پر کوئی زور نہیں پڑ رہا تھا وہ آرام سے سارے بسکٹ کھاگئی ۔اس کے چاے پینے تک ہم اپنا سامان سمیٹ کر سفری تھیلوں میں ڈال چکے تھے ۔ قبیل خان کے آدمیوں سے چھینی ہوئی فولڈنگ بٹ کی کلاشن کوفیں بھی ہم نے تھیلوں ہی میں ڈال لی تھیں۔
پلوشہ کی کلاشن کوف اس کی جانب بڑھاتے ہوئے سردار نے پوچھا ۔”تم نے کہاں جانا ہے؟“
وہ اطمینان بھرے لہجے میں بولی ۔”فی الحال تو تمھاری مہمان ہوں ۔“
میں نے بپھر کر کہا ۔”ایسا سوچنا بھی مت ۔“
”میں سوچنے میں وقت ضائع نہیں کیا کرتی ۔جوکرنا ہو کر گزرتی ہوں ۔ویسے بھی میں نے تم سے نہیں پوچھا ،میں اپنے بھائی کو بتا رہی ہوں ۔“
”ٹھیک ہے ،جاﺅ اپنے بھائی کے ساتھ ۔“میں ڈریگنوو رائفل کندھے پر اٹھا کر چل پڑا۔
سراد نے لجاجت بھرے لہجے میں مجھے آواز دی ۔”یار راجے !....بات تو سنو ۔“
میں نے رک کر اس کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے طنزیہ انداز میں کہا ۔”جی خان صاحب!“
وہ ملتجی ہوا ۔”انگور اڈے تک تو یہ ہمارے ساتھ جا سکتی ہے نا ؟“
اس نے اردو میں بات کی تھی اس لیے میں بھی اردو ہی میں جواب دیا ۔”ہم انگور اڈے نہیں جا رہے ۔“
”تو کہاں جا رہے ہیں ؟“اس کے لہجے میں حیرانی در آئی ۔
”رغزئی ۔“
سردار نے کہا ۔”تو یہ وہاں تک چلی جائے گی ۔“
میں نے پوچھا ۔”اس کے بعد کیا ہوگا ؟“
”وہاں سے اس کی مرضی جہاں جانا چاہے ۔“
”تم کسی مستند ڈاکٹر سے میرا علاج کراﺅ گے ،مجھے نیا لباس خرید کر دو گے اس کے بعد شایدمیں تمھاری جان چھوڑ دوں ۔“
جاری ہے

No comments: