ﻧﺎﻭﻝ سنائپر از ریاض_عاقب_کوہلر قسط نمبر 22
ﻧﺎﻭﻝ سنائپر
سنائپر
قسط 22
ریاض عاقب کوہلر
ٹائر تبدیل کرنے میں مجھے دس منٹ سے زیادہ نہیں لگے تھے ۔اس دوران خائستہ گل نے ایک دوبار سردار کو کوئی صفائی دینے کی کوشش کی مگر سردار نے غصیلے لہجے میں کہا ۔
”اگر اس کے بعد تمھارے منہ سے بات نکلی تو بدلے میں کلاشن کوف کی مزل سے بھی گولی نکلے گی اور وہ لگتی کہاں ہے اس بارے مجھے بھی نہیں معلوم ۔“اس کے بعد ٹائر کے تبدیل ہونے تک میں نے خائستہ گل کی آواز نہیں سنی تھی ۔
ٹائر تبدیل کرتے ہی میں ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا ۔ ہمارارستے کے بیچوں بیچ ٹھہرنا گو بالکل ٹھیک نہیں تھا ۔لیکن وہاں قریب میں کوئی ایسی جگہ موجود نہیں تھی جہاں خائستہ گل سے پوچھ گچھ کر سکتے ۔ اس کے علاوہ وہاں ٹریفک بھی اتنی نہیں چلتی تھی کہ ہمیں زیادہ تردد کرنے کی ضرورت پڑتی ۔دن بھر میں چند گاڑیاں ہی نظر پڑ جاتی تھیں ۔لیکن اس کے باوجود رستا تو رستا تھا ۔میرے اسٹیئرنگ پر بیٹھتے ہی سردار بھی خائستہ گل کی کلاشن کوف کو فرنٹ سیٹ پر پھینک کر خود اس کے ساتھ عقبی جانب گھس گیا ۔
”میرا یقین کریں بھائی صاحب!....مشرزرولی خان کو غلط فہمی ہوئی ہے،اس کا مال سردار قبیل خان نے نہیں لوٹا ۔“ہمیں روانہ ہوتے دیکھ کر اس نے ایک بار پھر صفائی پیش کرنے کی کوشش کی اور اس مرتبہ سردار نے نہ تو اسے ٹوکا اور نہ اس کی غلط فہمی ہی دور کرنے کی کوشش کی ۔
”تمھیں کیسے پتا کہ یہ قبیل خان کا کام نہیں ہے ۔“
”آپ جانتے ہی ہوں گے کہ سردار قبیل خان کا کوئی کام مجھ سے چھپا نہیں ہے ۔“اس کے لہجے میں ہلکا سا تفاخر در آیا تھا ۔
”تو پھر یہ کس کا کام ہے ،مشر زرولی خان کو تو اپنا مال واپس چاہیے ۔“
”مجھے تو بادشاہ خان محسود پر شک ہے ۔وہ اسی طرح کے کام کرتا رہتا ہے ۔“خائستہ گل نے ہولے ہولے کراہتے ہوئے صفائی دینے کی کوشش جاری رکھی۔
اس دوران میں نے موڑ کاٹ کر ڈبل کیبن رستے سے نیچے اتار کر نالے میں کر لی تھی ۔اور پھر اسی طرح نالے اندر ہی گاڑی کو آگے لے جاتے ہوئے کسی مناسب جگہ کی تلاش میں نظریں گھمانے لگا ۔ میرا رخ اس وقت علام خیل سے مخالف جانب تھا ۔جلد ہی مجھے شرقی جانب سے ایک نالہ اس نالے میں شامل ہوتا نظر آیا ۔میں نالے کی مغربی سمت میں تھا اور اس وقت جنوب مغرب کی طرف رواں دواں تھا ۔ گاڑی کونالے کے چھوٹے پانی سے گزار کرمیں شرقی نالے میں گھس گیا ۔ان دونوں کی گفتگو جاری تھی ۔
”بے شک بادشاہ خان محسود اس طرح کے کام کرتا رہتا ہے لیکن اس سے مشر زرولی کی بات ہو چکی ہے وہ واضح انکار کر رہا ہے بلکہ ہر قسم کا اعتبار دینے کے لیے تیار ہے ۔“
وہ کراہتے ہوئے بولا ۔”میں حتمی طور پر تو نہیں کہہ سکتا کہ یہ کس کا کام ہے البتہ سردار قبیل خان کی طرف سے میںہر ضمانت دینے کو تیار ہوں ۔سردار اتنے چھوٹے کام کے لیے اپنی ساکھ اور عزت کو داﺅ پر نہیں لگاتا ۔“وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کے درد میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا ۔
”تو تمھاری نظر میں یہ چھوٹا کام ہے ؟“سردار نے تیکھے لہجے میں پوچھا ۔
”دیکھیں بھائی !....مجھے تو یہی معلوم ہوا ہے کہ بیس پچیس کلاشن کوفیں ،تین چار ہزار کلاشن کوف کی گولیاں اور تھوڑا سا ہائی ایکسپلوزیو بارود تھا ۔اب آپ خود انصاف کریں کیا سردار قبیل خان اس کے لیے مشرزرولی خان سے دشمنی کا بیج بو سکتا ہے ۔“
سردار نے فوراََ پوچھا ۔”تمھیں یہ تفصیل کہاں سے معلوم ہوئی ؟“
”ہم سوئے تو نہیں ہیں بھائی جان !....یوں بھی اس طرح کی باتیں کہاں چھپی رہ سکتی ہیں۔“
میں نے گاڑی درختوں کے ایک جھنڈ کی طرف موڑ دی ۔یوں بھی اس علاقے میں نالوں اور درختوں کی پہاڑوں ہی طرح بہتات ہے ۔درخت بھی ایسے جو سدا بہار ہیں ۔سارا سال سرسبز ہی رہتے ہیں ۔
گاڑی روک کر میں باہر نکلا اور پہلی بار زبان کھولتے ہوئے خائستہ گل کو مخاطب ہوا۔ ”تمھارے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ تمھیں قبیل خان کی ہر چھوٹی بڑی بات کے بارے معلوم ہے ۔“
”بالکل ۔“اپنے خشک ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے اس نے اثبات میں سر ہلایا۔
”ہونہہ!....“کہہ کر میں نے سردار کو اسے باہر نکالنے کا اشارہ کیا ۔وہ دونوں ہاتھ اپنی مضروب ٹانگ پر رکھے بیٹھا تھا ۔سردار نے دروازہ کھول کر اسے بازو سے پکڑا اور بے رحمی سے باہر گھسیٹ لیا ۔
”آہ ....کک....کیا کر رہے ہیں آپ ؟“تکلیف کی شدت سے اس کا چہرہ مسخ ہونے لگا تھا۔نیچے گرتے ہوئے اس کی ٹانگ میں یقینا غضب کا درد اٹھا ہو گا تبھی اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے تھے ۔
”اب زرولی کے ذکر کو بھاڑ میں ڈال کر ہم کام کی بات کرلیں ۔“میں اس کے ساتھ اکڑوں بیٹھ گیا تھا ۔
”افف....“ہونٹ بھینچتے ہوئے اس نے ٹانگ میں اٹھنے والے شدید دد کو برداشت کرنے کی کوشش کی ۔مگر ہمارے دل میں اس کے لیے رحم کی رمق بھی موجود نہیں تھی ۔وہ وطن دشمنوں کا آلہ کار ہونے کے ساتھ معصوم لوگوں کے قتل میں بھی ملوث تھا ۔ایسے لوگ کسی رحم اور کسی ہمدردی کے حق دار نہیں ہوتے ۔یہی وجہ تھی کہ ایسوں کو مارتے وقت میری ٹریگر کو دبانے والی انگلی کبھی نہیں کانپی تھی ۔
”ویسے خان صاحب!....تمھارا کیا خیال ہے اگر میں اس کے زخم پر زور دار مکا رسید کروں تو کیا یہ برداشت کر لے گا ؟“میں سردار کی طرف متوجہ ہوا ۔
سردار نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا ۔”کیوں نہیں ....جوان آدمی ہے ۔اسے مکوں اور لاتوں کی کیا پروا۔“
میں نے منہ بناتے ہوئے کہا ۔”مجھے تو نہیں یقین۔“
”چلو مار کر اپنا شک دور کر لو۔“سردار نے مجھے دعوت دی ۔
وہ منت بھرے لہجے میں ہکلایا۔”خخ....خدا لیے ....مم....مجھے بہت تکلیف ہو رہی ہے ۔“
”اگر تکلیف ہو رہی ہے اور تم مزید تکلیف سے بچنا چاہتے ہو تو ہائے وائے کو چھوڑو اور میرے چند سوالوں کے جواب دو ۔شاید ہماری ایک اور گولی ضائع ہونے سے بچ جائے ۔“
”مم....میں قسم کھاتا ہوں کہ مشر زرولی ....“
”بھاڑ میں گیا تمھارا زرولی یار !....تمھاری سوئی پھر اسی زرولی پرآن اٹکی ہے ۔“
”تت....تو تم مشر زرولی ....“وہ ہکلاتے ہوئے پوچھنے لگا تھا اور اس کے ہونٹوں سے مشر زرولی کے الفاظ نکلتے ہی میں نے ایک ہلکا سا مکا اس کے زخم پر جڑ دیا ۔
”آہ ....ہائے ....افف....“وہ تڑپ اٹھا تھا ۔
”اب اگر تمھارے منہ سے کسی مشر وشر کا نام نکلا تو تو اگلا مکا اتنا آہستہ نہیں ماروں گا ۔“میں نے سخت الفاظ میں اسے تنبیہہ کی ۔
اس مرتبہ وہ چہرے پر اذیت بھرے تاثرات سجائے کوئی جواب دیے بغیر خاموش رہا تھا ۔
”اب یہ بتاﺅ کہ قبیل خان سے کہاں ملاقات ہو سکے گی ؟“میں نے سوالوں کی ابتداءکی ۔
”آپ کو سردار سے کیا کام ہے ؟“میرے سوال کا جواب دینے کے بجائے اس نے اپنی راگنی الاپی ۔اس مرتبہ میں نے اس کی مضروب ٹانگ پرپہلے سے بھی تھوڑا زیادہ زورسے مکا جڑ دیا ۔
”ہائے مر گیا ۔“اس کے منہ سے زور دار چیخ خارج ہوئی تھی ۔”خخ....خدا کے واسطے میری ٹانگ میں بہت تکلیف ہو رہی ہے ۔“
”خائستہ گل یہ آخری تنبیہ تھی ،اس کے بعد جو پوچھا جائے اس کا جواب دو ۔کیوں ،کیا ،کیسے کو چھوڑ دو ۔بس میرے سوالوں کے جواب دو ورنہ پوچھ گچھ چھوڑ کر مجھے تمھارا دماغ جگہ پر لانا پڑے گا ۔ سمجھ میں آ گئی میری بات ۔“
منہ سے کچھ کہے بنا اس نے اثبات میں سر ہلادیا ۔
”تو جو پوچھا ہے اس بارے کچھ پھوٹو نا ؟“
وہ جلدی سے بولا۔”سردار اس وقت انگور اڈے میں اپنے خاص ٹھکانے پر ہے ،شاید دو تین دن مزید بھی وہیں رہے۔“
”ایک اور بات بھی یاد رکھنا خائستہ گل !....“میں نے ٹھوس لہجے میں اسے دھمکی دی ۔”ہم تمھیں اس وقت آزاد کریں گے جب تمھاری باتوں کی تصدیق ہو جائے گی ۔اس لیے اگر غلط بیانی کا ارادہ ہے بھی تو اسے ذہن سے نکال دو ۔اگر غلط بیانی کی ........“میں نے فقرہ ادھورا چھوڑ دیا کہ اسے بھی معلوم تھا ایک بے بس آدمی کے ساتھ کیا کچھ ہو سکتا ہے ۔
وہ گڑگڑایا۔”مم....میں غلط بیانی نہیں کروں گا ۔“
”اسی میں تمھاری بہتری ہے ۔“کہہ کر میں نے پوچھا ۔”اب اس خاص اڈے کا محل وقوع بھی بتا دو ۔“
”انگور اڈے سے جنوب مشرق کی جانب سڑک پرقریباََ آٹھ کلومیٹر کے بعد ایک چھوٹی سی آبادی خڑ کلے آتی ہے ۔خڑ کلے سے مشرق کی جانب ایک کچی سڑک جا رہی ہے جس کی طوالت پانچ کلومیٹر کے بہ قدر ہو گی۔رستے میں ایک نالہ اور ایک چھوٹی پہاڑی بھی آتی ہے ۔سڑک کے اختتام پر ایک جنگل ہے وہاں سردار کی ایک بڑی حویلی موجود ہے ۔عام دنوں میں وہاں دو تین محافظ موجود رہتے ہیں ۔لیکن جب سردار وہاں پرموجودہو تب محافظوں کی تعداد کسی بھی طرح پندرہ بیس افراد سے کم نہیں ہوتی ۔“
”تو قبیل خان وہاں کیا خاص کام کرتا ہے ؟“میں نے اگلا سوال کیا ۔
”وہاں وہ اپنے کاروباری دوستوں کے ساتھ شغل میلے کے لیے اکٹھا ہوتا ہے ۔“
”مطلب ،شراب ،شباب،گانا بجانا ....وغیرہ وغیرہ ۔“
میری بات پروہ شرمندگی ظاہر کیے بغیر بولا ۔”یہ سرداروں کے شوق ہیں بھائی صاحب !“
”تو وہ وہاں سے کب تک لوٹے گا ؟“میں نے سوالات کا سلسلہ جاری رکھا ۔
”یقینی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا ،کیونکہ ان کا ارادہ وہاں سے سیدھا افغانستان جانے کا تھا ۔ اب یہ نہیں معلوم کہ وہاں وہ کتنا عرصہ گزاریں گے ۔“
”اگر اسے تمھارے غائب ہونے کی بابت معلوم ہو جائے تب بھی وہ نہیں لوٹے گا ؟“
”اس نے کون سا خود میری تلاش میں بھٹکنا ہے ۔اس کے پاس اتنا بڑا لشکر موجود ہے وہ اپنے آدمیوں کو انگور اڈے سے بھی حکم صادر کر سکتا ہے اور افغانستان سے بھی، اس کے لیے اسے علام خیل آنے کیا ضرورت ہے ۔“
”اب ذرا اس خاص اڈے کی بناوٹ وغیرہ پر بھی روشنی ڈال لو ۔“
وہ اس وسیع اور پختہ حویلی کے بارے تفصیل سے بتانے لگا ۔وہ حویلی چلغوزوں کے جنگل میں واقع تھی ۔اور وہ جنگل قبیل خان ہی کی ملکیت تھا ۔حویلی کا عقبی حصہ پہاڑی کے ساتھ جڑا تھا ۔سامنے مضبوط لکڑی کا ایک بڑا گیٹ تھا جو مشرقی جانب پڑتا تھا۔دیواروں کی اونچائی دس گیارہ فٹ تھی ۔حویلی کے سامنے والی دیوار جہاں شمالی اور جنوبی سمت کی دیوار سے مل رہی تھی وہاں دو مورچے اس طرح بنے ہوئے تھے کہ ان کی چاروں دیواروں میں فائرنگ کرنے کے لیے ہول موجودتھے ۔اس نے کافی تفصیل سے حویلی کا نقشہ کھینچا تھا ۔مجھے لگا وہ ہمیں حویلی کے حفاظتی انتظامات سے مرعوب کر نا چاہ رہا تھا ۔
اس سے کچھ مزید معلومات پوچھنے کے بعد میں سردار کی طرف متوجہ ہوا ۔
”خان صاحب !....آپ نے کچھ پوچھنا ہے ؟“
”ہونہہ....“اثبات میں سر ہلاتے وہ خائستہ گل کو مخاطب ہوا ۔”محترم جناب سردار قبل خان کے چہیتے سالے صاحب !....کیا وہ تمھاری موت کی خبر سن کر بھی یہاں نہیں پہنچے گا ؟“
وہ تھوک نگلتا ہوا بولا ۔”مگر آپ لوگوں نے وعدہ کیا ہے کہ اگر میں نے تمام معلومات آپ کو دے دی تو مجھے گولی نہیں ماریں گے ۔“
ہم نے جو وعدہ کیا تھا اس پر ہم قائم ہیں دوست ۔“میں نے اطمینان بھرے انداز میں کہا ۔
وہ مایوسی بھرے لہجے میں بولا ۔”وہ سب سے پہلے اپنے اغراض و مقاصد مد نظر رکھتا ہے ۔میں بھی سالا ہونے کی وجہ سے اس کا منظور نظر نہیں ہوں ۔میری اپنی ذات میں بھی ایسی کئی باتیں موجود ہیں جن کی وجہ سے اس نے مجھے یہ مقام دیا ہوا ۔یہ علاحدہ بات کہ لوگ اس کی وجہ میں رشتا داری کو لے آتے ہیں ۔“
”ویسے تم نے ہمیں پہچان لیا ہے یا اب تک ہمیں زر ولی کا آدمی سمجھ رہے ہو ۔“
”مجھے شک ہے کہ تم وہی ہو جس نے روشن خان کو لنگڑا کیا ہے ۔وہ تمھارا تذکرہ ایس ایس کے نام سے کر رہا تھا ۔“
میں مسکرایا ۔”شک کی وجہ ؟“
”چلتی گاڑی کے ٹائر کو پہلی گولی سے نشانہ بنانااور پھر اتنی سرعت سے میرے دونوں محافظوں کے سر میں گولی اتارنا یہ کام ہر آدمی نہیں کر سکتا ۔“
میں نے اشتیاق امیز لہجے میں پوچھا ۔”تو پھر تم ہمیں کسی مشر زرولی سے کیوں منسوب کر رہے تھے ۔“
وہ صاف گوئی سے بولا۔”کیونکہ میں چاہتا تھا تم یہ سمجھو میں نے تمھیں نہیں پہچانا اور حقیقت تو یہ ہے کہ مشر زرولی نام کا کوئی سردار اس علاقے میں موجود ہی نہیں ہے ۔“
میں نے فوراََ پوچھا۔”تو اب کیوں اعتراف کر رہے ہو ؟“
”کیونکہ اب تم میری جان بخشی کا وعدہ کر چکے ہو ۔اور روشن خان کہہ رہا تھا کہ ایس ایس اپنے الفاظ سے نہیں پھرتا ۔“
”مگر میں نے تم سے ایسا کوئی وعدہ نہیں کیا ۔میں نے کہا تھا کہ تمھیں گولی نہیں ماروں گااور اس بات پر میں قائم ہوں ۔“
”نن....نہیں ....تم نے وعدہ کیا تھا کہ مجھے قتل نہیں کرو گے ۔“میری بات سن کر اس کا رنگ پیلا پڑ گیا تھا ۔
میں صاف گوئی سے بولا۔”یار !....سیدھی بات یہ ہے کہ تمھیں زندہ چھوڑنے سے ہماری سلامتی خطرے میں پڑ جائے گی ۔“
”میں ہر قسم کی ضمانت دینے کو تیار ہوں ،میں اس حملے کو ....“مگر اس کی بات درمیان میں رہ گئی تھی کیونکہ ایک ہاتھ اس کی ٹھوڑی کے نیچے رکھتے ہوئے میں نے دوسرا ہاتھ اس کے سرپر رکھا اور دونوں ہاتھوں کو مخالف جانب زور دار جھٹکا دیتے ہوئے اسے زندگی کی قید سے آزاد کر دیا ۔ایک ملک دشمن شخص سے وعدے وعید لینے کی ہمیں کوئی ضرورت نہیں تھی ۔اور نہ ہمیں اس سے کوئی ہمدردی تھی ۔
سردار نے کہا ۔”بندے کو مارنے کا یہ طریقہ مجھے بھی سکھا دو ۔“
میں ہنسا ۔”اب زندہ بندہ تو کوئی یہاں موجود نہیں ،مجھے تمھاری گردن کے ساتھ یہ کر کے ہی تمھیں سکھانا پڑے گا ۔“
وہ ترکی بہ ترکی بولا۔”نہیں تم مجھے زبانی بتادو اور میں تمھاری گردن پر پریکٹس کر لیتا ہوں ۔“
”تمھیں تو نہیں البتہ اپنی چنارے بہن کو میں یہ طریقہ ضرور سکھاﺅں گا ۔امید ہے لی زونا کی آمد کے بعد وہ اس طریقے کو کسی نہ کسی پر ضرور استعمال کرنا چاہے گی ۔“
وہ مجھے مطعون کرتا ہوا بولا ۔”اگر میں بھی کمانڈو والوں کے زیر نگرانی سنائپر کورس کر لیتا تو تمھاری منت کی ضرورت نہ پڑتی ۔“
”اچھا اتنا وقت نہیں ہے کہ ہم گپیں ہانکیں یہ سیکھنا سکھلانا بعد میں بھی چلتا رہے گا ۔“میں نے باڈی میں پڑی لاشوں کی تلاشی لی ان کی نقدی اور ہتھیار اٹھا کر میں نے لاشوں کو وہیں پڑا رہنے دیا تھا۔اس کے بعد خائستہ گل کی بھی تلاشی لے کر اسے ڈبل کیبن کی باڈی میں پھینک دیا ۔گاڑی کی تلاشی لینے پر مجھے ڈیش بورڈ سے بریٹا پسٹل ہاتھ لگا ۔پستول سردار کی جانب بڑھا کر میں نے کہا۔
” تھوڑی خشک لکڑیاں اکٹھی کرنا پڑیں گی ۔“
”خشک لکڑیوں کی کون سی کمی ہے ۔“سردارنے بریٹا پسٹل نیفے میں اڑس کر دائیں بائیں بکھری لکڑیاں اکٹھی کرنے لگا ۔میں بھی اس کا ہاتھ بٹانے لگا ۔چھوٹا سا ڈھیراکٹھا کر کے میں نے ڈل کیبن کے آئل ٹینک کے نیچے رکھا اور لکڑیوں کو آگ لگا دی ۔
”چلو ۔“سردار کو کہہ کر میں وہاں سے دور ہٹتا چلا گیا ۔گاڑی سے ساٹھ ستر گز دور آکر میں نے ایک گولی گاڑی کے آئل ٹینک پر فائر کر دی ۔اگر یہ پٹرول والی گاڑی ہوتی تو مجھے لکڑیاں اکٹھا کرنے کی تگ و دو نہ کرنا پڑتی ۔یہ ڈیزل والی گاڑی تھی اور ڈیزل کو آگ پکڑنے کے لیے آگ چاہیے ہوتی ہے ۔
ڈیزل ٹینک میں سوراخ ہوا اور ڈیزل سیدھا جلتی ہوئی لکڑیوں پر گرا ۔آگ کے شعلوں نے بلند ہوکر ٹینکی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا ۔
مطمئن انداز میں سر ہلاتے ہم وہاں سے دور ہٹتے گئے ۔ہم چند قدم ہی لے پائے ہوں گے کہ ایک کان پھاڑ دینے والا دھماکا ہوا ۔جو آئل ٹینک کے پھٹنے کا تھا ۔نالے تک جاتے ہوئے وقفے وقفے سے ٹائر پھٹنے کے دھماکے بھی سنائی دیتے رہے ۔ہم نے تیز رفتاری سے چلتے ہوئے نالا عبور کیا اور پھر مغرب ہی کی سمت بڑھتے رہے ۔شام کا ملگجا سا اندھیرا پھیل رہا تھا ۔نالے سے اوپر چڑھائی کافی سخت تھی ۔لیکن اتنی زیادہ نہیں تھی ۔وہ چڑھائی چڑھ کر ہم سڑک پر پہنچے ۔اس کے بعد بھی چڑحائی تھی لیکن اتنی زیادہ نہیں تھی تھوڑا آگے بڑھنے کے بعد ہم دائیں ہاتھ موجود نالے میں اتر گئے وہ نالا مغربی پہاڑوں کی طرف سے آرہا تھا ۔لیکن آگے جا کر یہ شمال کی سمت مڑ کر علام خیل کی طرف جا نکلتا اور وہاں سے اس نالے میں شامل ہو جاتا جس نالے کو ہم عبور کر کے آ رہے تھے ۔لیکن اس وقت ہمارا رخ مغربی پہاڑی کی طرف تھا۔نالے میں چڑھائی نسبتاََ آسان تھی ۔پہاڑی کی جڑ میں جا کر یہ نالے ایک دم اوپر کو اٹھ جاتے ہیں ورنہ نیچے ان کی چڑھائی قریباََ غیر محسوس ہی ہوتی ہے ۔ہم اس وقت تک اسی نالے میں چلتے رہے جب تک کہ چڑھائی دشوار گزار نہ ہو گئی ۔اس کے بعد ہم دائیں طرف کی ہلکی ڈھلان سر کرنے لگے ۔اور پھر پہاڑی کے متوازی ہوکر شمال کی جانب بڑھتے گئے ۔سیدھے رستے کے جائے یہ دشوار گزار رستا ہم نے اس لیے اختیار کیا تھا تاکہ علام خیل سے کوئی آدمی خائستہ گل وغیرہ کا پتا کرنے آئے تو اسے رستے میں ہم نہ ملیں ۔گو گاڑی کے آئل ٹینک اور ٹائروں کے پھٹنے کی آواز با آسانی علام خیل میں سنائی گئی ہو گی لیکن اس طرح کے دھماکے چونکہ یہاں کا روزمرہ ہیں اس لیے کوئی زیادہ توجہ نہیں دیتا ۔ مختلف قبائل کی لڑائیاں ،پاک آرمی اور دہشت گردوں کے ٹاکرے ،دہشت گردوں کی آپس میں فائرنگ ،مجاہدین کا کفار سے دو دو ہاتھ کرنا اور ذاتی دشمنی کے باعث ایک دوسرے پر ہتھیاروں کا استعمال آئے روز کا معمول ہے ۔اس کے باوجود کوئی بعید نہیں تھا کہ ان دھماکوں کو سن کر قبیل خان کے آدمی اپنے بندوں کا پتا کرنے کے لیے اس طرف کا رخ کرتے ۔
سردار بریٹا پستول کو پا کر کافی خوش تھا ۔ان تینوں کی کلاشن کوفیں بھی ہم ساتھ ہی اٹھا لائے تھے ۔کمانڈر سعید پہلے والی کلاشن کوفوں کو پا کر کافی خوش ہوا تھا ۔میں چاہتا تھا کم از کم ہم وہاں صبح شام جو کھانا کھا رہے تھے اس کا معاوضا ہی دہشت گردوں کے ہتھیاروں کے ساتھ ادا ہو جاتا ۔
ہم گپ شپ کرتے عشاءکی نماز کے بعد ہی کمانڈر عبدالرشید کے گھر پہنچ پائے تھے ۔دونوں کمانڈر عبدالحق کے کمرے میں بیٹھے کسی خاص بات چیت میں مصروف تھے ۔کمرے کا دروازہ چونکہ کھلا تھا اس لیے ہم کھٹکھٹانے کی زحمت سے بچ گئے تھے ۔
”آﺅ دوستو !....آج تو سارا دن ہی غائب رہے ہو ۔“ہمیں دیکھتے ہی عبدالحق خوش دلی سے مسکرایا ۔
”ہاں بھیا !....تھوڑا کام تھا ۔“ہم تینوں کلاشن کوفیں چٹائی پر رکھتے ہوئے ان سے مصافحہ کرنے لگے ۔
عبدالحق نے کہا ۔”شام کی نماز سے ذرا پہلے دھماکے کی آواز سنائی دی تھی ۔“
میں نے جواباََ کہا ۔”ہاں ہم نے بھی سنی تھی ۔میرا خیال ہے کسی نے خائستہ گل اور اس کے دو محافظوں کو قتل کر کے ان کی گاڑی کو آگ دی ہے ،یقینا آپ نے اس گاڑی کے پٹرول ٹینک کے پھٹنے کا دھماکا سنا ہوگا ۔“
عبدالحق نے ہمیں مخلصانہ مشورے سے نوازتے ہوئے کہا ۔”دوست کچھ زیادہ ہی تیز رفتاری کا مظاہرہ کر رہے ہو ۔احتیاط بہ ہر حال بہت اچھی ہوتی ہے اور جہاں تک میرے ناقص علم اور تجربے کی بات ہے تو قبیل خان نہایت چالاک ،مکار اور خطرناک شخص ہے ۔اور یہ غالباََ تیسرا چوتھا نقصان ہے جو اسے مسلسل تم لوگوں کی طرف سے پہنچ رہا ہے ۔“
میں نے ممنونیت بھرے لہجے میں کہا ۔”آپ کے مخلصانہ مشوروں کی ضرورت ہمیں ہمیشہ رہے گی عبدالحق بھائی !....باقی فی الحال تو ہم نے اپنے پیچھے کوئی سراغ نہیں چھوڑا ۔ہمارے پاس ان کی یہ کلاشن کوفیں ہیں جو ہم آپ کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں یقینا آپ کو ان کلاشن کوفوں کی ہیئت تبدیل کرنے میں کوئی دقت نہیں ہو گی ۔“
”شکریہ جوان !“خاموش بیٹھا کمانڈر عبدالرشید خوش دلی سے بولا ۔”اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ہتھیار ہمارے لیے ایک بہترین تحفہ ہیں ۔“یہ کہہ کر وہ تینوں کلاشن کوفوں کا جائزہ لینے لگا ۔
”سردار!.... اپنا تیس بور پستول عبدالحق بھائی کو دے دو ۔“
سردار نے سر ہلاتے ہوئے تیس بور پستوں اور اس کی فالتو گولیاں کمانڈر عبدالحق کی طرف بڑھا تے ہوئے کہا۔”عبدالحق بھائی !....یہ ہم نے وانہ سے خریدا تھا ۔“
”جزاک اللہ ۔“عبدالحق نے شکرگزاری کے کلمات کے ساتھ پستول تھام لیا ۔
میں نے کہا ۔”عبدالحق بھائی !....ایک چھوٹی سی درخواست تھی ۔“
”حکم کرو بھائی !....اگر ہمارے بس میں ہوا تو انکار نہیں کریں گے ۔“
”شاید ایک دو دنوں تک ہم انگور اڈے کا رخ کریں ،کیا وہاں بھی ہمیں مجاہدین کے لیے بنی ہوئی دال روٹی کھانے کو مل سکے گی ۔“
عبدالحق تفصیل بتاتا ہوا بولا۔”انگور اڈے میں ہمارا بہت بڑا تربیتی سنٹر موجود ہے لیکن میں آپ کو وہاں جانے کے بجائے نصراللہ خان خوجل خیل کے گھر جانے کا مشورہ دوں گا ۔وہ میرا دوست بلکہ استاد ہے ۔وہ خود بھی تربیتی سنٹر جاتا رہتا ہے ۔بہتر یہی ہو گا کہ آپ یہ دال روٹی اس کی بیٹھک میں رہ کر کھائیں ۔باقی انگور اڈے سے پہلے خم رنگ اور رغزئی نام کی دو آبادیاں آتی ہیں ۔خم رنگ میں مولوی عبداللہ اصغر اور رغزئی میں قاری غلام محمد کے گھر آپ کو خوش آمدید کہا جائے گا۔ بس وہاں یہ کہہ دینا کافی ہوگاکہ آپ کمانڈر عبدالرشید اور عبدالحق کے مہمان ہیں ۔باقی تصدیق وغیرہ وہ خود کرتے رہیں گے ۔“
میں شکر گزاری کے گہرے احساس کے زیر اثر بولا۔”یقینا آپ کا یہ احسان ہم کبھی نہیں اتار سکتے ۔“
”یہ کوئی احسان نہیں ہے میرے دوست !....پاکستان صرف تمھارا نہیں ہمارا بھی ملک ہے ۔ بلکہ سچ کہوں تو اسلام کا قلعہ ہے اور یہ سب ہم اپنے ملک کی خاطر کر رہے ہیں ۔اور کہتے ہیں نہ کہ نیت صاف ہو تو منزل آسان رہتی ہے ،اب یہی دیکھ لو کہ بہ ظاہر تو ہم احسان کر رہے ہیں مگر ہم سے کئی گنا زیادہ آپ لوگ ہمارے کام آ رہے ہو ۔نو عدد کلاشن کوفوں کی کافی زیادہ قیمت بنتی ہے اورایک کلاشن کوف بیچ کر ہی آپ لوگ پانچ چھے ماہ تک ایسی دال روٹی سے مستفید ہو سکتے ہو۔“
”صرف دال روٹی نہیں ہے عبدالحق بھائی !....چاردیواری کا تحفظ بھی بہت معنی رکھتا ہے ۔“
”اچھا کھانا کھالیا ہے کہ نہیں۔“اس نے خوب صورتی سے موضوع تبدیل کیا ۔
”یہ جو میں صبح سے دال کی تعریف پر تعریف کیے جا رہا ہوں اس سے بھی آپ کو اندازہ نہیں ہوا۔بھائی جان !....بھوکا آدمی ہی دال کی اتنی تعریف کر سکتا ہے ۔“میری بات پر وہ دونوں قہقہہ لگا کر ہنس پڑے تھے ۔سردار کے ہونٹ بھی مسکرانے کے انداز میں کھل گئے ۔عبدالحق نے فوراََ ایک آدمی کو لا کر ہمارے لیے کھانا لانے کا حکم دیا ۔
سردار نے پوچھا ۔”ویسے آپ نے ہمیں تربیتی سنٹر جانے سے کیوں منع کر دیا ہے ؟“
عبدالحق نے جواب دیا ۔”کیوں کہ وہاں مجاہدین ہر وقت تربیت میں شروع رہتے ہیں ۔اور آپ لوگوں کا تربیت میں حصہ نہ لینا کافی سوالات کو جنم دے گا ۔ہر کسی کے سامنے شاید آپ وضاحت نہ کرسکیں کہ آپ وہاں کیا کر رہے ہیں ۔البتہ یہ صرف میرا اپنا خیال ہے اگر آپ کی خواہش تربیتی سنٹر جانے ہی کی ہے تو وہاں بھی آپ کو رہائش اور کھانا پینا ضرور ملے گا ۔“
”نہیں ۔“میں نے نفی میں سرہلایا۔”ہمارے لیے نصراللہ صاحب کی بیٹھک ہی مناسب رہے گی ۔
اسی وقت کھانے کے برتنوں کے ساتھ ایک آدمی اندر داخل ہوا ۔کھانا کھا کر ہم خوشبو دار قہوے سے لطف اندوز ہوئے اور دونوں کمانڈروں سے اجازت لے کر اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئے ۔
٭٭٭
ان تینوں کی لاشیں اسی رات دریافت کر لی گئی تھیں ۔تینوں کا آبائی علاقہ بھی علام خیل ہی تھا ۔ ظہر کی نماز کے بعد ان کا جنازہ تھا ۔ہم نے بڑے اہتمام سے ان کے جنازے میں شرکت کی لیکن قبیل خان کا دیدار نہ ہو سکا ۔خائستہ گل کے بہ قول وہ ایک خود غرض اور مطلب پرست شخص ہی نکلا تھا ۔ اپنے سالے کے جنازے میں شرکت نہ کر کے اس نے خائستہ گل کی اس بات پر مہر تصدیق ثبت کر دی تھی۔ ورنہ انگور اڈے سے وہاں تک گاڑی میں کتنا کچھ وقت لگنا تھا۔اور پھر اسی روز مجاہدین کی ایک گاڑی انگور اڈے جا رہی تھی۔ ہم عبدالحق سے اجازت لے کر اسی گاڑی میں انگور اڈے روانہ ہو گئے ۔پہلے ہم نے سوچا تھا شاید قبیل خان اپنے سالے کی موت پر وہاں آجائے ۔لیکن اسے کوئی زیادہ ہی خوب صورت مصروفیت ملی ہوئی تھی کہ اس نے علام خیل آنے کی زحمت نہیں کی تھی ۔
شام کی آذان کے وقت مجاہدین ہمیں نصراللہ خان خوجل خیل کے گھر کے سامنے اتار کر آگے بڑھ گئے ۔جانے سے پہلے وہ نصراللہ خوجل خیل سے ہمارا تعارف کرانا نہیں بھولے تھے ۔وہ سفید ریش مجاہد ،عمر کی اس منزل میں تھا جہاں انسان کے قویٰ آرام کے طلب گار ہوتے ہیں لیکن وہ اپنی آخرت سنوارنے میں لگا ہوا تھا ۔اس نے ہمیں خوش دلی سے خوش آمدید کہا ۔اور اپنے گھر سے ملحق ایک خوب صورت سے بیٹھک میں ہمیں لے جا کر بٹھا دیا ۔ہماری ضروریات وغیرہ کا پوچھنے کے بعد وہ شام کی نماز کے لیے چلا گیا ۔ہم نے بیٹھک ہی میں نماز پڑھ لی تھی ۔رات کا کھانا عشاءکی نماز کے بعد ہی کھا سکے تھے ۔کھانا کافی پر تکلف بنا تھا ۔کھانے کے بعد اس نے چند منٹ ہم سے گپ شپ کی اور پھر ہمیں آرام کی تاکید کرتا ہوا چلا گیا ۔صبح ناشتے کے بعد ہم بیٹھک سے تو نکل آئے لیکن قبیل خان کے مخصوص اڈے کا رخ نہ کرسکے ، کیونکہ ہم بازار کھلنے کے منتظر تھے اور ہمیں زیادہ انتظار نہ کرنا پڑا ۔اسلحے کی دکانیں کھلتے ہی ہم ڈریگنوورائفل کے سائیلنسر کاپوچھنے کے لیے ایک دکان میں گھس گئے ۔دکان دار کے نفی میں سر ہلانے پر ہم اگلی دکان کی طرف بڑھ گئے ۔ اسلحے کی تیسری دکان میں ہمیں مطلوبہ چیز مل گئی ۔اس کی خریداری میں خائستہ گل کی جیب سے ملنے والی نقدی کام آئی تھی ۔ہمارے پاس جو بڑی رقم موجود تھی وہ ہم ڈی بلاک پر چھوڑ کر آئے تھے کیونکہ اتنی زیادہ رقم کو ساتھ پھرانا کسی طرح مناسب نہیں تھا ۔سائیلنسر خرید کر ہم جنوب مشرق کی سمت روانہ ہو گئے ۔وزیرستان کے لحاظ سے انگور اڈہ خاصا بڑا شہر ہے اور یہ بالکل پاکستان افغان بارڈر پر واقع ہے ۔ افغان وہاں سے مغرب کی جانب پڑتا ہے ۔ یہ پاکستان کا آخری شہر ہے ۔
گھنٹا ڈیڑھ پیدل چلنے کے بعد ہم خڑ کلے کے قریب پہنچ گئے تھے ۔مشرق کی جانب جانے والی سڑک خڑکلے میں داخل ہونے سے پہلے ہی نظر آ گئی تھی۔ہم اس سڑک سے تھوڑا فاصلہ رکھ کر چلنے لگے تاکہ کسی کو یہ شبہ نہ ہو کہ ہم قبیل خان کی حویلی کی جانب جا رہے ہیں ۔آگے چونکہ چڑھائی تھی اس لیے ہمیں گھنٹے سے زیادہ وقت آگے بھی لگ گیا تھا ۔اس طرف درخت کافی گھنے تھے اس لیے ہمیں چھپ کر جانے میں آسانی ہورہی تھی ۔پہاڑی عبور کرتے ہی ہمیں وہ وسیع و عریض پختہ حویلی نظر آ گئی تھی ۔اس کے قریب جانے کے بجائے ہم سامنے پھیلے جنگل میں گھس گئے ۔درختوں کی بہتات نے حویلی کو ہماری نظروں سے اوجھل کر دیا تھا ۔ہمارے قدم سامنے والی پہاڑی کی جانب بڑھ رہے تھے جس کی بلندی پر جا کر ہم حویلی کا اچھی طرح جائزہ لے سکتے تھے ۔اس پہاڑی کا زمینی فاصلہ تو اڑھائی تین کلومیٹر سے زیادہ تھا لیکن ہوائی فاصلہ کلو میٹر سے زیادہ نہیں تھا ۔پہاڑی کی بلندی پر جاتے ہی ہم ایک چٹان کی اوٹ میں لیٹ کر حویلی کا جائزہ لینے لگے ۔وہاں سے وہ وسیع و عریض حویلی بالکل واضح نظر آ رہی تھی ۔خائستہ گل نے حویلی کے بارے بالکل صحیح تفصیل بتلائی تھی ۔ابھی ہم حویلی کا مکمل جائزہ نہیں لے پائے تھے کہ ہمیں حویلی کا داخلی دروازہ کھلتا نظر آیا ۔دروازہ کھلتے ہی چار ڈبل کیبن باہر نکلیں اور درختوں میں غائب ہو گئیں۔ چند منٹ بعد وہ ہمیں اس پہاڑی رستے پر دکھائی دینے لگیں جس طرف سے ہم چل کر آئے تھے۔ بلندی سے نیچے اتر کر چاروں گاڑیاں ہماری نگاہوں سے اوجھل ہو گئی تھیں ۔
”خاں صاحب !....مجھے تو لگتا ہے وہ کمینہ یہاں سے نکل گیا ہے ۔“
”میں بھی تمھارے ساتھ متفق ہوں ۔“سردار نے تائیدی انداز میں سر ہلایا۔
میں نے منہ بنا کر کہا ۔”گویا یہاں آنا بے کار گیا ؟“
”نہیں ....حویلی کا جائزہ تو لے لیا نا ....بلکہ میرا تو مشورہ ہے اندر گھس کر بھی دیکھ لیتے ہیں ۔ خائستہ گل کے کہنے کے مطاق قبیل خان کے جانے کے بعد یہاں دو تین آدمی رہ جاتے ہیں ۔اگر یہ اطلاع درست ہے تو ایک وقت میں ایک آدمی کو ڈیوٹی پر ہونا چاہیے باقی دو آرام کرتے ہوں گے ۔اور ایک آدمی کو لاعلم رکھ کر اندر گھسنا تمھارے جیسے چور کے لیے مشکل نہیں ہو گا ۔“
”میں کیسے چور ہوا ۔لی زوناکا دل تم نے چرایا ہوا ہے اور چور میں ٹھہرا ۔“
”تمھیں کمانڈو والوں نے اتنے طریقے تو سکھائے ہی ہوں گے ۔“
”انھوں نے یقینا بہت کچھ سکھایا ہے لیکن اس سے زیادہ مجھے اپنی یونٹ کے استادوں نے تربیت دی ہے ۔“
وہ ہنسا ۔”مذاق کر رہا تھا یار !....تم تو سنجیدہ ہی ہو گئے ۔“
”اللہ کی شان اب پٹھا ن بھی مذاق کرنے لگ گئے ۔“
”اچھا بکواس کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور اب مورچوں کے ہولوں کا جائزہ لو کیا کوئی حرکت نظر آ رہی ہے ۔“
میں سنجیدہ ہوتے ہوئے بولا۔”میں کافی دیر سے ہولوں کا جائزہ لے رہا ہوں لیکن کوئی حرکت نظر نہیں آ رہی ۔“
”میرا خیال ہے اپنا سامان اور ہتھیار یہیں چھوڑ کر حویلی کے قریب جا کر دیکھتے ہیں شاید اندر جانے کی کوئی صورت نکل آئے ۔یوں بھی ہمارے پاس پستول موجود ہیں اور میرا خیال ہے گلاک اور بریٹا کی موجودی میں ہمیں کسی رائفل وغیرہ کی ضرورت نہیں پڑے گی ۔“
”پہلے سامان کے لیے کوئی مناسب جگہ ڈھونڈ لیں ۔“میں اس سے اتفاق کرتے ہوئے اٹھ گیا ۔
ادھ پون گھنٹا کی تلاش کے بعد ہمیں ایک غار مل گیا تھا ۔وہ غار اتنا اونچا ضرور تھا کہ اس میں ہم سر جھکا کر کھڑے ہو سکتے تھے ۔وہاں پتھروں سے بنا عارضی چولھا اور اس میں پڑی راکھ ہمیں یہ باور کرانے کے لیے کافی تھی کہ اس غار کو پہلے بھی کوئی انسان استعمال کر چکا ہے ۔لیکن وہ راکھ کافی پرانی تھی گویا یہ مہینوں پہلے کسی نے آگ جلائی تھی۔
اپنے سفری تھیلے اور ہتھیار وہاں چھوڑ کر ہم غار سے باہر نکل آئے ۔صرف پستول ہم نے اپنے پاس رہنے دیے تھے ۔البتہ میںنے چھوٹی سی طاقتور دوربین بھی تھیلے سے نکال کر جیب میں ڈال لی تھی ۔ ایک ہلکی چادر ہم نے مقامی لوگوں کے انداز میں سر پر پگڑی کے طور پرباندھی اوراس کا ایک طرف سے لٹکتا ہوا پلو ہم نے اپنے چہروں کے گرد اس طرح لپیٹا ،کہ پلو نے نقاب کی طرح ہمارا چہرہ چھپا لیا تھا ۔حویلی کے قریب پہنچ کر ہم نے درختوں کی آڑ میں رہتے ہوئے داخلی دروازے کا جائزہ لیا ۔مضبوط لکڑی کا دروازہ جس پر سرخ اور سبز رنگ کا پینٹ کیا گیا تھا ۔کسی قسم کی حرکت نہ ہوتی دیکھ کر میں نے دونوں مورچوں کا جائزہ لیا مگر وہا ں بھی سکون نظر آیا ۔
ہم جنوب کی جانب سے ایک چکر کاٹ کر حویلی کی عقبی جانب پہنچے عقبی جانب کی دیوار تو باقی تینوں دیواروں سے کم بلند تھی لیکن اس پر کانٹا دار تار اس انداز میں لگی ہوئی تھی اس کو کاٹے بغیر اندر جانا ممکن نہیں تھا ۔ہم نے پہاڑی ڈھلان پر چڑھ کر دوربین سے سامنے کی دیوار میں موجود مورچوں کا جائزہ لیا لیکن مورچوں میں سنتری موجود نہیں تھا ۔دونوں مورچوں کے نیچے پختہ کمرہ بنا ہوا تھا ۔اور کمرے کی چھت پر چڑھنے کے لیے لوہے کی ایک مضبوط سیڑھی بھی دکھائی دے رہی تھی ۔مورچوں کا دروازہ مغربی دیوار میں بنا ہوا تھا ۔ان دروازں میں کواڑ موجود نہیں تھے ۔اگر ان مورچوں میں کوئی ایک آدمی بھی موجود ہوتا تو ہم اس ڈھلان پر بیٹھے ہوئے آسانی سے نظر آ گئے ہوتے ۔
میں نے مشورہ دیتے ہوئے کہا ۔”میرا خیال ہے اندر داخل ہونے کے لیے جنوبی دیوار مناسب رہے گی ۔“
”انتظار کس بات کا ہے ۔“سردار فوراََ جنوبی دیوار کی جانب بڑھ گیا ۔
”میں اندر جاﺅں گا اور تم اسی دیوار کے مشرقی کونے پر میرے اشارے کا انتظار کرنا۔اگر مجھے تمھاری ضرورت محسوس ہوئی تو میں تمھیں اندر بلا لوںگا ورنہ تم باہر نگرانی کرتے رہنا ۔“
”میرا خیال ہے سینئر ہونے کے ناتے یہ فیصلہ کرنا میرا حق بنتا ہے کہ اندر کون جائے گااور باہر نگرانی کا کام کون سر انجام دے گا۔“ سردار فوراََ معترض ہوتا ہوا بولا۔
میں نے پوچھا۔”پتا ہے پٹھانوں کی سب سے بری عادت کون سی ہوتی ہے؟“
وہ منہ بناتے ہوئے بولا۔”تمھارے بہ قول تو پٹھانوں کی ساری عادات ہی بری ہوتی ہیں ۔“
”ہاں ،مگر اب میں سب سے بری عادت کا پوچھ رہا ہوں ۔“
”میں تو یہ کہتا ہوں اپنے ساتھی کو خطرے کا سامنا کرنے دینے کے بجائے اپنی ذات کو پیش کرنا اچھی عاد ت ہے ۔“
”بالکل درست جواب .... اسے کہتے ہیں پٹھانی مزاج ۔ا ب ذرا یہ بتاﺅ کیا تمھارا نشانہ مجھ سے بہتر ہے ؟“
”نہیں ....“اس نے نفی میں سر ہلایا۔
”کیا تمھارے پاس سائیلنسر لگا پستول موجود ہے ؟“
”نہیں ۔“اس نے اس مرتبہ بھی اپنا سر دائیں بائیں ہلادیا تھا ۔
”کیا تم جسمانی لڑائی بھڑائی میں مجھ سے بہتر ہو ؟“
اس نے حسب توقع کہا ”نہیں ۔“
”کیا تمھیں معلوم ہے کہ اندر جا کر کرنا کیا ہے ؟“
وہ سوچتے ہوئے بولا ۔”اس بارے تو ہم نے مشورہ ہی کوئی نہیں کیا ۔“
میں نے آخری سوال پوچھا ۔”اب بتاﺅ ....اندر کسے جانا چاہیے ؟“
”تمھی ہی مرو۔“منہ بناتے ہوئے اس نے دیوار سے پیٹھ ٹیکی اور اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے میں پھنسا کر دونوں ہاتھ اپنے سامنے پکڑ لیے ۔
میں نے ہنستے ہوئے اس کے دونوں ہاتھوں پر ایک پاﺅں رکھا اور دوسرا پاﺅں اس کے کندھے پر رکھ کر میں نے دیوار کا اوپری کنارہ پکڑ ا اور اچک کر دیوار پر چڑھ گیا۔اس چوڑی دیوار پر الٹا لیٹ کر مجھے تمام حویلی کا اندرونی منظر نظر آرہا تھا ۔داخلی گیٹ کے دائیں بائیں دو چھوٹے کمرے بنے ہوئے تھے۔کمروں کے ساتھ ہی سامنے کے رخ یعنی مشرقی دیوار کے ساتھ دونوں جانب گاڑیوں کی پارکنگ بنی ہوئی تھی ۔پختہ اینٹوں کے ستونوں پر لوہے کی چادروں کی چھت تھی ۔اس وقت وقت بھی جنونی طرف کی پارکنگ میں سفید رنگ کی ایک سنگل کیبن ٹویوٹا کھڑی تھی اور اس کے ساتھ ہی ایک بڑا ٹینکر کھڑا تھا جس میں یقینا حویلی کی ضروریات کا پانی لایا جاتا ہوگا۔سامنے کی دیوار کے دونوں کونوں میں بھی ایک کمرہ بنا ہوا تھا جس کی چھت پر دونوں مورچے بنے ہوئے تھے ۔شمالی دیوار میں مورچے والے کمرے کے ساتھ دو غسل خانے اوردو بیت الخلا ءبنے نظر آ رہے تھے ۔یقینا یہ ملازموں کے لیے بنائے گئے تھے ۔ جبکہ جنوی دیوار میں ایک باورچی خانہ بنا ہوا تھا ۔اس کے ساتھ حویلی کاوسیع صحن تھا ۔جس میں کسی بھی قسم کے شغل میلے کے لیے کافی گنجائش موجود تھی ۔خائستہ گل کے بہ قول وہ جو ناچ گانے وغیرہ کی محفل سجاتے تھے اس کے لیے یہ صحن بہت مناسب تھا۔اس کے بعد شمال مغربی دیوار میں ایک انیکسی جیسی بنی نظر آ رہی تھی ۔اس حویلی کے اندر ہوتے ہوئے بھی وہ باقی حویلی سے علاحدہ تھی ۔اس کی دو تین فٹ اونچی چاردیواری بھی بنائی گئی تھی جو بانس کی لکڑی کو چیر کر اس کے ٹکڑوں سے بنائی گئی تھی ۔معلوم یہی ہوتا تھا کہ وہ خصوصی مہمانوں کے لیے تھی ۔یا یہ بھی ممکن تھا کہ وہ صرف سردار قبیل خان کے استعمال کے لیے ہو ۔اس انیکسی اور جنوب مغربی طرف بنی ہوئی حویلی کی اصل عمارت کو ایک برآمدہ آپس میں ملحق کرتا تھا ۔میں دو تین منٹ دیوار پر لیٹ کر حویلی کا جائزہ لیتا رہا ۔ملازموں کے شمالی کمرے کا دروازہ مجھے کھلا ہوا نظر آرہا تھا۔ باورچی خانے سے اٹھتا ہوا دھواں اس بات کا مظہر تھا کہ کوئی کھانا وغیرہ بنا رہاہے ۔داخلی دروازے کے پاس ایک کرسی رکھی ہوئی تھی اور اس کے ساتھ ہی دیوار کے سہارے ایک کلاشن کوف کھڑی تھی ۔میں جس دیوار پر لیٹا تھا اس کے دو فٹ نیچے کمرے کی چھت بنی ہوئی تھی ۔میں آہستہ سے کمرے کی چھت پر اتر گیا۔ گو اس کمرے میں کسی کی موجودی بعید از قیاس تھی اس کے باوجود احتیاط کا دامن ہاتھ سے چھوڑنا مجھے گوارا نہیں تھا ۔دیوار کے ساتھ لگ کر چلتا ہوا میں اس جگہ پہنچا جہاں سے نیچے اتر کر ملازموں کے لیے بنے ہوئے باورچی خانے کا فاصلہ مجھ سے پندرہ بیس گز سے زیادہ نہ ہوتا ۔نیچے اترتے وقت میں چھت کی منڈیر پکڑ کر نیچے لٹکا اور پنجوں کے بل کود گیا ۔نیچے کودتے ہی میں اسی کونے میں دبک گیا اور اس کے ساتھ کمر سے بندھے ہولسٹر میں رکھا گلاک نائینٹن میرے ہاتھ میں آگیا ۔اس کی نال میں سائیلنسر فٹ کر کے میں آہستہ سے اٹھا میراارادہ اندرونی عمارت کا جائزہ لینے کا تھا لیکن میری یا اس ملازم کی بدقسمتی جو اس وقت باورچی خانے سے روٹیوں کا چھابہ اور سالن کا ڈونگا اٹھائے باہر نکلا ۔اگر وہ سامنے دیکھتا ہو ا ملازموں کے بنے ہوئے کمرے کا رخ کرتا تو یقینازندہ بچ گیا ہوتا ۔لیکن اس وقت اس نے بغیر کسی وجہ کے ٹھیک اس طرف نگاہ دوڑائی جہاں میں موجود تھا ۔
اس کا منہ حیرت سے کھلا رہ گیا تھا ۔لیکن اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہہ پاتا ۔”ٹھک “کی آواز کے ساتھ گلاک کی مزل نے گولی اگلی اور وہ ماتھے میں لگنے والی گولی کی وجہ سے پیچھے کی طرف گرا تھا ۔اس کے نیچے گرنے کے شور سے زیادہ اس کے ہاتھ میں تھامے ڈونگے کے گرنے کا شور ہوا تھا ۔
”ہلکا ہمایونا!....بیا دے سہ غل اوکو۔“(اوے ہمایون پھر کیا گند کر دیا ہے )یقینا ڈونگے کے گرنے کی آواز اس کمرے تک پہنچ گئی تھی ۔آنجہانی ہمایون نے واقعی گند کیا تھا کہ اپنے ساتھ اپنے ساتھیوں کی موت کابھی سبب بن گیا تھا ۔اب اگر میں انھیں زندہ چھوڑ دیتا تو خود میری میری سلامتی خطرے میں پڑ جاتی ۔میں تیز رفتاری سے اس کمرے کی طرف بڑھا جہاں سے آواز آئی تھی ۔مرنے والے کی طرف سے کوئی جواب نہ پاکر انھوں نے کمرے باہر جھانکنے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی ۔
دروازے پر رکے بغیر میں اندر داخل ہوا ،ایک آدمی کانوں میں ایئر فون لگائے موبائل فون پر گانابجانا یا اسی قسم کی کوئی اور چیز سن رہا تھا ۔جبکہ دوسرا کلاشن کوف کی بیرل میں راڈ مار کر صفائی کر رہا تھا۔پہلی گولی میں نے اسی کی کھوپڑی میں اتاری ۔جبکہ موبائل فون کے ساتھ مشغول آدمی کی تو آنکھیں بند تھیں اس لیے اسے گولی لگنے کے بعد بھی معلوم نہ ہو سکا کہ اس کے ساتھ کیا ہو گیا ہے۔یہ موبائل فون بھی عجیب ایجاد ہے کہ جہاں کال کے لیے سگنل موجود نہ ہوں وہاں بھی لوگ اسے استعمال کیے بنا نہیں رہ سکتے۔ایک چھوٹی سی مشین جس میں درجنوں سسٹم موجود ہیں ۔وزیرستان میں جہاں موبائل فون کی سروس نہیں ملتی وہاں بھی میں نے زیادہ تر نوجوانوں کے ہاتھ میں موبائل فون دیکھے ہیں۔
خائستہ گل کے کہنے کے مطابق قبیل خان کی غیر موجودی میںوہاں دو سے تین محافظ موجود ہوتے ہیں۔ اور تین آدمیوں کو میں ختم کرچکا تھا ۔میں وہاں سے نکل کر اس علاحدہ عمارت کی طرف بڑھ گیا جس کی چاردیواری میں بانس کی لکڑیاں استعمال کی گئی تھیں ۔وہی جگہ مجھے اس حویلی میں سب سے اہم نظر آ رہی تھی ۔ایک بار تو میرا ارادہ ہوا کہ سردار کو بھی بلالوں مگر پھر یہ سوچ کر کہ وہ باہر کی نگرانی کر رہا ہے میں نے اپنا ارادہ ملتوی کر دیا ۔
اپنے تیئں میں تمام محافظوں کا خاتمہ کر چکا تھا اس لیے پستول میں نے بے پرواہی کے انداز میں پکڑا ہوا تھا ۔بانسوں کی لکڑیوں کی بنائی ہوئی چار دیواری کے بیچوں بیچ ایک رستا اندر کی طرف جا رہا تھا جس کے ساتھ ساتھ پھولوں کی کیاریاں بنی ہوئی تھیں ۔اس رستے کے اختتام پر ایک چھوٹا سا برآمدہ تھا اس کے ساتھ ہی لکڑی کا بھورے رنگ کا منقش دروازہ تھا۔
دروازے کے ہنڈل کو ہاتھ سے نیچے کرتے ہوئے میں نے دروازے کو دھکیلا دروازہ بے آواز کھلتا چلا گیا ۔اندر خوب صورت ایرنی قالین بچھا ہوا تھا ۔اس کے اوپر چاروں اطراف میں صوفہ سیٹ رکھے ہوئے تھے ۔ہر صوفہ سیٹ کے سامنے شیشے کی ٹیبل پڑی تھی ۔جبکہ صوفوں کے دائیں بائیں شیشے کی تپائیاں رکھی ہوئی تھیں ۔وہ سٹنگ روم کافی وسیع تھا ۔تین اطراف کی دیواروں میں شیشے کی کھڑکیاں تھیں جن پر دبیز اور خوش رنگ پردے لٹکے ہوئے تھے ،جبکہ مغربی دیوار میں ایک گیلری کا رستا نظر آ رہا تھا ۔ صوفوں کے پیچھے بھی کافی جگہ خالی پڑی تھی۔میں اسی گیلری کی طرف بڑھا ۔گیلری کے دونوں جانب دو کمروں کے دروازے تھے ۔اس عمارت کے تمام دروازے بھورے رنگ کے تھے جن پر دیدہ زیب نقش نگاری کی گئی تھی ۔ابھی میں سوچ ہی رہا تھا کہ کس دروازے کو کھولوں، کہ اچانک شمالی جانب موجود کمرے کا دروازہ ایک جھٹکے سے کھلا۔وہاں سے برآمد ہونے والا چہرہ ایک خوب صورت اور دلکش لڑکے کا تھا اس کی عمر سولہ سترہ سال کے قریب ہو گی ،اس نے ہاتھ میں کلاشن کوف پکڑی ہوئی تھی، ہم دونوں ہی ایک دوسرے کو دیکھ کر اچھل پڑے تھے ۔
میں نے ایک دم اپنا پستول والا ہاتھ سیدھا کرنا چاہا لیکن اس سے پہلے ہی اس نے ہاتھ میں پکڑی کلاشن کوف کی بیرل ڈنڈے کی طرح میرے ہاتھ پر دے ماری ، پستول میرے ہاتھ چھوٹ کر دبیز قالین پر جاگرا ۔میں نے پستول سنبھالنے کے بجائے فوراََ اس کے کلاشن کوف والے ہاتھ پر زور دار ٹھوکر رسید کی ،کلاشن کوف بھی پستول کے پاس پہنچ گئی تھی ۔اس نے ایک دم جھک کر میرے پیٹ میں ٹکر ماری میں کولہوں کے بل نیچے گرااور مجھے اپنا سانس رکتا ہوا محسوس ہوا، لیکن اس وقت ہلکی سی سستی بھی مجھے موت سے ہم کنار کر سکتی تھی ۔میرے گرتے ہی وہ کلاشن کوف اٹھا نے کے لیے جھکا اور میں نے لیٹے لیٹے ہی اس کے دائیں پہلو پر زور دارلات رسید کردی۔وہ کلاشن کوف کو پکڑ چکا تھا ۔میری لات کھاتے ہی دیوار سے ٹکرایا ۔اس کے سنبھلنے تک میں اگلی ٹھوکر میں اس کی کلاشن کوف پر مار چکا تھا ۔گن ایک مرتبہ پھر اس کے ہاتھ سے گر گئی ۔کلاشن کوف اٹھانے کا خیال ترک کرتے ہوئے اس نے خالی ہاتھ ہی مجھ پر حملہ کر دیا ۔اپنا بایاں بازو گھماتے ہوئے اس نے میرے چہرے کو نشانہ بنانے کی کوشش کی ۔میں نے اپنا سر ذرا سا پیچھے ہٹایا اس کا زوردار مکا میری چھاتی میں پڑامیں بے ساختہ دو قدم پیچھے ہو گیا تھا ۔ایک مکا مار کر وہ رکا نہیں تھا بلکہ مسلسل میرے چہرے کو نشانہ بنانے کے لیے اپنے ہاتھ چلا رہا تھا ۔اس کے مشینی انداز میں چلتے ہوئے ہاتھ مجھے یہ باور کرانے کے لیے کافی تھے کہ وہ لڑائی کی اچھی خاصی شد بد رکھتا ہے ۔
ایک دو قدم پیچھے لیتے ہوئے میںگیلری سے نکل کر ڈرائینگ روم میں آگیا ۔وہ بھی مکے مارتا ہوا میرے ساتھ ہی چلا آیا تھا ۔ڈرائینگ روم میں آتے میں نے جھکائی دے کر اس کا مکا خطا کیا اور اس کے ساتھ میری زور دار لات اس کے پیٹ میں لگی ۔وہ کولہوں کے بل نیچے گرا ،اس کے خوب صورت اور دلکش چہرے پر اذیت بھرے اثرات نمودار ہوئے جن پر قابو پانے میں اسے دیر نہیں لگی تھی ۔ نیچے گرتے ہی وہ فوراََ اٹھا اسی وقت میں نے دائروی مکا گھما کر اس کی ٹھوڑی پر دے مارا ۔اگر وہ اسی جگہ پر لگ جاتا تو یقینا اسے بے ہوش ہونے سے کوئی نہیں بچا سکتا تھا ۔لیکن ایک قدم پیچھے لیتے ہوئے اس نے میرے حملے کو ناکام بنایا اور اس کے ساتھ ہی ایک زور دار لات میرے پیٹ میں رسید کر دی ،ٹھیک اسی جگہ جہاں اس نے سر کی ٹکر رسید کی تھی ۔میرے نیچے گرتے ہی اس نے چھلانگ لگا کر اپنی بائیں کہنی سے میری چھاتی کو نشانہ بنانے کی کوشش کی اگر اس کی کوشش کامیاب ہو جاتی تو آج شاید میں کہانی سنانے کے لیے زندہ نہ بچا ہوتا ۔سرعت سے کروٹ بدلتے ہوئے میں نے اس کی کہنی کے ضرب سے خود کو بچایا ۔اس کی کہنی دبیز قالین پر لگی تھی ۔جس شدت سے اس نے مجھے کہنی کا نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی اگر نیچے قالین نہ ہوتا تو اس کی کہنی کی ہڈی ٹوٹ گئی ہوتی ۔لیکن قالین کی وجہ سے اسے زیادہ ضرب نہیں آئی تھی ۔اس کے سنبھلنے سے پہلے میں نے دوبارہ کروٹ بدلتے ہوئے اسے چھاپنے کی کوشش کی مگر اس نے فوراََ سیدھا ہوتے ہوئے اپنی دونوں ٹانگیں اکٹھی کرکے میرے پیٹ میں ٹیکیں اور مجھے دیوار کی طرف اچھال دیا ۔ میری پیٹھ زوردار انداز میں دیوار سے ٹکرائی لیکن اپنا سر میں دیوارسے ٹکرانے سے بچا گیا تھا ۔میرے سنبھلنے تک وہ اچھل کر کھڑا ہو گیا ،ہم ایک مرتبہ پھر آمنے سامنے تھے ۔اس کی کالی سیاہ آنکھوں میں غیض و غضب ہلکورے لے رہا تھا ۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ اتنا خوب صورت لڑکا اس سے پہلے میری نظر سے نہیں گزرا تھا۔یقینا وہ قبیل خان کا کوئی خاص پرزہ تھا ۔اس علاقے میں ایک بڑی بیماری خوب صورت اور بے ریش لڑکوں کا شوق رکھنا بھی ہے ۔شاید قبیل خان کو بھی کوئی ایسا ہی مرض لاحق تھا ۔
اس نے زیادہ دیر انتظار نہیں کیا اور ایک بار پھر مجھ پر حملہ آور ہوا ،لیکن اب میں سنبھل چکا تھا ۔ اس سے پہلے میں نے اسے سنجیدگی سے نہیں لیا تھا ۔اس کے سرعت سے چلائے گئے مکوں سے خود کو بچاتے ہوئے میں نے اس کا ہاتھ پکڑنے کی کوشش کی ،لیکن تیزی میں اس کے بازو کے بجائے اس کی قمیص کا گریبان میرے ہاتھ میں آگیا ۔گریبان پر اپنی گرفت مضبوط کرتے ہوئے میں نے اسے زور سے گھما کر دیوار پر مارنے کے لیے اپنی جانب کھینچا۔اسے بھی میرے داﺅ کے بارے معلوم ہو گیا تھا ۔ اپنے پاﺅں زمین پر جماتے ہوئے اس نے اپنا گریبان میرے ہاتھوں سے چھوڑانے کی تگ و دو کی اور اس کے ساتھ ہی ۔”چر۔“کی آواز کے ساتھ اس کی قمیص سامنے سے پھٹتی چلی گئی ۔گریبان پر میری گرفت ڈھیلی ہوتے ہی وہ لڑکھڑا گیا تھا اور اس کے سنبھلنے سے پہلے ایک قدم آگے لیتے ہوئے میں نے اس کی ٹھوڑی پر دائروی مکا جڑ دیا ۔وہ لہرا کر منہ کے بل قالین پر گر گیا ۔

No comments: