حیا از فاخرہ وحید قسط نمبر 6 Haya By Fakhira Waheed Episode No
حیا
از
فاخرہ وحید
حیا از فاخرہ وحید
6 قسط نمبر
Haya By Fakhira Waheed
Episode No 6
حیا
جیل میں اسے چار گھنٹے ہونے کو تھے. ان چار گھنٹوں میں کوئی لمحہ ایسا نہیں تھا جس میں اس نے حمزہ کو بد دعا نہ دی ہو. وہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ اسے کوئی دن یوں جیل میں گزارنا ہو گا. اس کے علاوہ جیل میں دو عورتیں اور تھیں. جو شکل سے ہی خرانٹ لگ رہی تھیں. ان کی نظریں برابر حیا کا جائزہ لے رہی تھیں.
"لڑکی مست ہے. پتا نہیں کس کے ہتھے چڑھے گی." دونوں عورتوں میں سے جس نے بھی یہ الفاظ کہے حیا کے کانوں میں وہ سیسے کی طرح اترے تھے.
حمزہ کے لیے اس کی نفرت اور بڑھ گئی تھی.
جیل میں گھٹن تھی اور ہر سانس سولی پر تھا.. اس نے ٹی وی پر بہت پروگرام دیکھ رکھے تھے جن میں جیل میں لڑکیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم سے وہ بخوبی واقف تھی. مسلسل اس کی جان سولی پر لٹکی تھی. ہر آہٹ پر وہ اور سمٹ کر بیٹھ جاتی.
"مجھے جس نے یہ اذیت دی اللہ کرے وہ خود ایسی اذیت سے گزرے. اپنی آنکھوں کے سامنے اسے تڑپتا دیکھوں." حیا نے سسکیوں میں حمزہ کو بد دعا دی. الفاظ بہت سخت تھے. لیکن اس وقت جس اذیت سے وہ گزر رہی تھی. اسے دعاؤں اور بد دعاؤں کے علاوہ کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا.
ہیلو. تمہیں لینے آئے ہیں." وہ حمزہ کو کوسنے میں گم تھی. جب لیڈی افسر کی آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی.
اسے لگا اس کا دل رک جائے گا. اسے کون لینے آسکتا ہے. سارے ڈراؤنے خیال ایک ساتھ اس کے دماغ میں آدھمکے تھے.
"میں کسی کے ساتھ نہیں جاؤں گی. " اس نے اپنے پاؤں سختی سے زمین پر جمائے.
"تو کیا ساری زندگی جیل میں گزارے گی؟" وہ ہی سخت لہجہ.
"کون لینے آیا ہے." اس کی آنکھوں میں خوف واضح تھا. آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا رہا تھا. اگر وہ دیوار سے ٹیک لگا کر نہ بیٹھی ہوتی تو اب تک گر چکی ہوتی.
" کھسم آیا ہے تیرا. " فریحہ نے لاک کھولتے ہوئے کہا. شکل سے وہ اچھی خاصی تھی لیکن لہجہ اس کا ایسا ہی تھا بے ہودہ.
جیل کی سلاخوں کے پیچھے حیا کو ایک ہیولہ دکھائی دیا. اس کے حواس بحال ہو رہے تھے. اس نے آنکھیں سکیڑی.
ٹراؤزر شرٹ میں ملبوس دونوں ہاتھ سینے پر باندھے چہرے پر مخصوس سنجیدگی لیے وہ حمزہ تھا.
حیا کو اپنے حواس پر سکون ہوتے محسوس ہوئے. وہ پتا نہیں کیا کیا سوچ چکی تھی. لیکن وہ حمزہ تھا اسے تسلی ہوئی. ابھی کچھ لمحوں پہلے جو وہ اسے بد دعائیں دے رہی تھی اب خدا کا شکر ادا کر رہی تھی کہ وہ حمزہ ہی تھا.
حمزہ کو دیکھ کر اس کی آنکھوں میں جو ناگواری تھی وہ حمزہ سے چھپی نہیں تھی.
دونوں کچھ فاصلے سے چلتے گاڑی میں جا کر بیٹھ گئے. حیا بیک سیٹ پر بیٹھی تھی.
"کچھ کھاؤ گی." ایک ریسٹو رینٹ کے سامنے گاڑی روکتے ہوئے حمزہ نے پچھلی سیٹ پر بیٹھی حیا کو مرر سے دیکھا.
حیا نے منہ پھیر لیا.
" اوکے. " حمزہ نے لمبا سانس بھرا. وہ گاڑی سے اترا. اور حیا کی سیٹ کا دروازہ کھولا.
"باہر آؤ. " یہ حکم تھا. جب وہ باہر نہیں آئی تو حمزہ نے اس کا بازو پکڑ کر اسے باہر کی طرف کھینچا. اب یہ بدتمیزی تھی. حیا بادل نخواستہ نیچے اتری.
"حیا دیکھو. " حمزہ نے اس کا بازو نہیں چھوڑا تھا. سانسیں بے ترتیب ہوئی تھیں. وہ اس سے چند انچ کے فاصلے پر تھی. رو رو کر اس کی آنکھیں سوجی ہوئی تھیں. حمزہ کو سمجھ نہیں آرہا تھا وہ کیا کہے. اسے جیل بھیجنے کے لیے معافی مانگے یا اس کے والد کی وفات کا بتا کر افسوس کرے. حمزہ کو اس وقت وہ ایک کمزور لڑکی لگ رہی تھی. جو اپنے باپ کی موت کا سن کر چیخ چیخ کر رو دے گی. اس ایک لمحے سے وہ ڈرتا تھا.. اپنوں کے یوں چلے جانے کا دکھ حمزہ بخوبی سمجھتا تھا. وہ بھی ٹوٹ جائے گی جیسے وہ سات سال پہلے ٹوٹ گیا تھا. اسے سمیٹنے والے تھے لیکن جو خود اپنے آپ کو بمشکل سنبھالے ہوئے تھا وہ حیا کو نہ سمیٹ پاتا.
"تمہیں بھوک لگی ہو گی. آؤ کھانا کھاتے ہیں. " اس نے بات بدل دی تھی. حیا کا ہاتھ اب حمزہ کے ہاتھ میں تھا. وہ ہاتھ چھڑوانے کی کوشش کر رہی تھی. لیکن گرفت مضبوط تھی. وہ یوں ہی اس کا ہاتھ پکڑے ریسٹورنٹ میں داخل ہوا. ڈور پر کھڑے سیکیورٹی گارڈ نے آگے بڑھ کر کانچ کا دروازہ کھولا.
مینیجر حمزہ کو دیکھ کر اس کی طرف بڑھا.
"حمزہ سر! " اس نے دور سے ہی آواز لگائی.
اور نہایت گرمجوشی سے حمزہ کو ہاتھ ملایا.
" کیسے ہیں آپ. بڑے عرصے بعد چکر لگایا. اور علی صاحب نہیں آئے." مینیجر نے حیا کو دیکھتے ہوئے کہا.
"ہاں یار! کب تک علی کے ساتھ ہی پھرتا رہتا. اب میری بیوی آگئ ہے. " وہ ہنسا. حیا نے پہلی بار حمزہ کو ہنستے دیکھا تھا. مسکراتے ہوئے اس کی آنکھیں چھوٹی ہو جاتی تھیں. جس سے وہ اور پر کشش لگتا تھا. وہ ہینڈسم تھا.
"اوہ. از شی یور وائف؟ " مینیجر کی آنکھوں میں خوشگوار حیرت تھی.
"یپ. مائی وائف . حیا حمزہ فیاض بیگ. " حمزہ نے حیا کے گرد بازو پھیلایا. حیا نے سختی سے آنکھیں بھینچی. اور گھور کر حمزہ کو دیکھا. آنکھوں میں احتجاج تھا.
"ہیلو میم. ویلکم ٹو دس پلیس. " منیجر ادباً جھکا.
حیا زبردستی مسکرائی. حمزہ نے گرفت اور مضبوط کر دی. حیا کا دل چاہا وہ بھاگ جائے یہاں سے. لیکن وہ صرف حمزہ کو دیکھ کر رہ گئی.
"سر ! پلیز کم. ہیو آ سیٹ." مینیجر دونوں کو کارنر پر پڑے میز کی طرف لے گیا. حمزہ حیا کا ہاتھ پکڑے اسے ٹیبل تک لے آیا. حیا کو اپنے کان کی لوئیں گرم ہوتی محسوس ہوئی.
"سر. بہت خوشی ہو رہی ہےآپ کو اتنے عرصے بعد دیکھ کر." جب حیا اور حمزہ اپنی کرسیاں سنبھال چکے تو مینیجر نے کہا. حمزہ جواباً مسکرایا.
"حد ہے ایسے بھی کیا موتی جڑیں ہیں اس کو." حیا نے خفگی سے حمزہ کو دیکھتے ہوئے سوچا.
"میں ویٹر کو بھیجتا ہوں. " مینیجر نے حمزہ سے ہاتھ ملایا. اور کاؤنٹر کے پیچھے غائب ہو گیا.
منیجر کے جاتے ہی حیا کی نظروں کا زاویہ بدلا. وہ مسلسل حمزہ کو گھور رہی تھی. ہر گزرتے لمحے کے ساتھ حیا کا دل باہر نکلنے کو تھا. اس کے پاس یقیناً کشش ثقل تھی. جو اس کا دل کھینچ رہی تھی.
حمزہ اس کی نظروں سے بے خبر نہیں تھا. حمزہ کا چہرہ اس کی نظروں کی تپش محسوس کر رہا تھا.
"ایسے کیا دیکھ رہی ہو؟ " جب حمزہ کی برداشت جواب دے گئی تو اس نے حیا کو دیکھتے ہوئے پوچھا.
"یہ سب کیا تھا." حیا بگڑی.
"کیا تھا. " وہ انجان بنا رہا.
"یہ یوں مجھے پکڑنا. چھونا. " حیا نے نہ صرف منہ بنایا بلکہ باقاعدہ ہاتھ سے اپنا کندھا جھاڑا.
"پبلک میں لوگوں کو دکھانے کے لیے یوں کرنا پڑتا ہے. " اس نے دونوں ہاتھ ہوا میں بلند کرتے ہوئے انگڑائی لی. وہ اپنے اور حیا کے بیچ خفگی کم کرنا چاہتا تھا.
" آئندہ مجھ سے پوچھے بغیر مجھے ہاتھ مت لگانا. " حیا اس کی لا پرواہی پر آگ بگولا ہوئی.
"پوچھ کر لگا سکتا ہوں؟" حمزہ نے اجازت چاہی. کوئی اور لڑکی ہوتی تو وہ حمزہ کی اس ادا پر فدا ہو جاتی. لیکن وہ حیا تھی. جسے حمزہ سے نفرت تھی. اس کے ساتھ رہنا مجبوری. وہ حمزہ کے گھر کے علاوہ کہیں اور محفوظ نہیں تھی.
"سر ہاؤ آئی کین اسسٹ یو؟ " حیا کے کچھ کہنے سے پہلے ہی ویٹر کی آواز سنائی دی. حمزہ سیدھا ہو کر بیٹھ گیا.
"کیا کھاؤ گی. " حمزہ نے مینیو کارڈ پر نظر گھماتے حیا سے پوچھا.
"مجھے بھوک نہیں ہے. " گو کہ حیا کو بہت بھوک لگ رہی تھی. اور یہاں کھانے کی خوشبو اس کی بھوک اور بڑھا رہی تھی. لیکن وہ حمزہ کے کہنے پر کچھ نہیں کرنا چاہتی تھی.
حمزہ نے پاس کھڑے ویٹر کو دیکھا. اور زبردستی مسکراتے ہوئے حیا کو دیکھا.
"جانا! ہم کھانا کھانے آئے ہیں تو بھوک کیسے نہیں لگی." حمزہ نےکمال اداکاری سے پیار جتایا. حیا بس منہ کھولے اسے دیکھتی رہی.
"تو بتاؤ. تم کیا کھاؤ گی." حمزہ نے مینیو کارڈ حیا کی طرف پھیرا.
حیا "جانا" لفظ کے استمعال پر دوبارہ احتجاج کرنا چاہتی تھی. لیکن حمزہ کے انداز سے اسے لگا یہ بات ابھی دبا دینی چاہئیے. اور اس نے فرمانبردار بیوی کی طرح حمزہ کے ہاتھ سے مینیو کارڈ لیا. اور دو فوڈ آئٹمز پر انگلی رکھ کر ہاتھ پیچھے کھینچ لیا.
حمزہ نے کارڈ اٹھایا. اور ایک دو اور ڈشز کا نام نوٹ کروایا. حیا کو حمزہ کا یوں اس کے ساتھ بے تکلف ہونا کھٹک رہا تھا. وہ اتنا سویٹ تھا نہیں جتنا بن رہا تھا.
کھانا کھاتے اور گھر واپس آنے تک چار بج چکے تھے.
🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸
گیٹ علی نے کھولا تھا. وہ حیا سے پہلی بار مل رہا تھا.
"اسلام علیکم بھابھی. " علی نے اپنائیت سے کہا. حیا نے بس مسکرانے پر اکتفا کیا.
"مجھے شاید آپ نہیں جانتی. میں حمزہ کا دوست ہوں. "
"تو نے بھابھی کو میرا تو نہیں بتایا ہو گا." اپنا تعارف کروانے کے بعد علی نے حمزہ سے شکوہ کیا.
"بھول گیا. " حمزہ نے اس کے کندھے پر ہاتھ مارتے ہوئے معذرت چاہی.
"نائس ٹو میٹ یو علی. " حیا کو نیند آرہی تھی. وہ دونوں کو وہیں چھوڑ کر اندر چلی گئ.
" کیا بات ہے باس. ڈنر ونر. ہاں" علی نے حمزہ کو چھیڑا.
" ہاں تو. بھوک لگی تھی اسے. فریحہ نے جو اسے ڈرا کر وہاں رکھا ہوا تھا. بے چاری." حمزہ نے بات کور کرنے کے لیے فریحہ کو بیچ میں گھسیٹا.
"بتایا اس نے مجھے تو نے کیا کروایا اس سے. شرم تو نہیں آتی تجھے. میری معصوم بیوی کو ولن بنا دیا. "علی نے اس کے سینے پر مکا مارا.
"جاہل انسان. درد ہوتا ہے." حمزہ نے اپنے سینے کو سہلایا.
"میرے یار. " علی نے حمزہ کو اپنے بازؤوں میں بھینچا. وہ تھوڑی دیر پہلے تک اس نکاح کو لے کر پریشان تھا. اب حیا سے مل کر قدرے مطمئن اور حمزہ کے لیے خوش تھا.
"کیا ہو گیا ہے تجھے. " حمزہ نے جواباً اپنے بازو اس کے گرد باندھے.
"خوش ہے تیرا بھائی. اور کیا ہونا ہے." وہ پیچھے ہوا.
"تجھے کس نے بتایا ہم ڈنر کے لیے گئے تھے. تو نے میرے پیچھے بندے لگائے ہوئے ہیں؟ "حمزہ نے مشکوک انداز میں علی کو دیکھا.
"اوئے نہیں یار! تجھے کیا لگا. تو مجھے چھوڑ کر اب بھابھی کو لے کر جائے گا تو مجھے پتا نہیں چلے گا؟ ہماری بھی کوئی پہنچ ہے بھئی." علی نے اپنا کالر پکڑا.
حمزہ نے اس کے انداز پر بے ساختہ قہقہ لگایا. اور دونوں اندر کی طرف بڑھ گئے.
🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸
علی حمزہ کے ساتھ اس کے روم میں تھا. جبکہ حیا کو نیچے الگ کمرہ دے دیا گیا تھا. حمزہ کے کہنے پر کمرے میں حیا کی ضرورت کے مطابق سب کچھ بی اماں نے رکھ دیا تھا. حیا کو تو رہنے سے غرض تھی. پھر چاہے کمرہ جیسا بھی ہو. حمزہ حیا کو لے کر کافی پریشان تھا. وہ جلد ازجلد حیا کو اس کے والد کے انتقال کا بتا دینا چاہتا تھا. لیکن اسے مناسب الفاظ نہیں مل رہے تھے.
" یہ موت بھی زندگی کی عجیب حقیقت ہے. جن کے بغیر ہم جینے کا تصور بھی نہیں کر سکتے. وہ ہمیں چھوڑ کر منوں مٹی تلے سو جاتے ہیں. ہمیں چھوڑ کر چلے جاتے ہیں. "
بیڈکی پشت سے ٹیک لگائے آنکھیں موندے وہ علی سے کہہ رہا تھا.
"اب تو کیوں پریشان ہے." علی پچھلے آدھے گھنٹے سے اس کی ایسی ہی باتیں سن رہا تھا.
"یار. میں حیا کو کیسے بتاؤں. مجھے اس کے ری ایکشن سے ڈر لگتا ہے. "
"حمزہ تو ڈر پوک تو نہیں تھا. اب تجھے کیا ہو گیا ہے. "
"مجھ سے یہ موت کی خبریں نہیں سنائی جاتی. "حمزہ سیدھا ہو کر بیٹھ گیا.
"میں بتا دوں؟" علی نے اجازت طلب نظروں سے حمزہ کو دیکھا.
"یا فریحہ سے کہہ دوں؟ " جب حمزہ کی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا تو اسنے دوسری رائے دی.
"نہیں. میں خود اسے بتاؤں گا. "
"یہ ہی بہتر رہے گا. " علی نے اثبات میں سر ہلایا.
🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸
صبح کا ١ بج رہا تھا. حیا اب تک سو رہی تھی. حمزہ ابھی باہر سے آیا تھا. علی فریحہ کو لینے گھر گیا تھا.
لڑکے مختلف کام نمٹاتے خوش گپیوں میں مصروف تھے. شیری سب کو.اپنے سنجیدہ انداز میں چٹکلے سنا کر داد وصول کر رہا تھا.
"سر اب تو بھابھی سے ملوا دیں. " شیری نے حمزہ کو دیکھتے ہی ساتویں بار فرمائش کی.
"بتایا تو سو رہی ہے. " حمزہ نے اب کے شیری کی ڈھٹائی پر اسے گھورا. وہ جب سے آیا تھا یہ ہی رٹ لگائے بیٹھا تھا.
شیری سب کا لاڈلا ہونے کے ساتھ حمزہ کا چہیتا بھی تھا. شیری کا اس دنیا میں کوئی نہیں تھا. ماں باپ تھے جو ایک حادثے میں وفات پا گئے تھے. وہ اکلوتا تھا. در بدر کی ٹھوکریں کھاتا ایک خطرناک گینگ کے ہتھے چڑ گیا تھا. ابھی اسے وہاں دو دن بمشکل ہوئے تھے کہ حمزہ اسکواڈ نے ائیریا پر ریڈ کروا دیا. تفتیش میں واضح ہوا کہ شیری کو وہاں آئے محض دو دن ہوئے تھے. حمزہ نے آئی جی سے ریکویسٹ کر کے شیری کو اپنے زیر سایہ لیا. بقول شیری کے حمزہ نے سترہ سالہ شیری کو اڈاپٹ کر لیا. اسے شیری میں ایک قابل شخصیت دکھتی تھی. یہ بھی شیری کا ہی کہنا تھا.
حمزہ کی شیری پر تمام تر عنایتوں کی وجہ سے سب اسے سن آف حمزہ بلاتے تھے. گو کہ حمزہ اور شیری کی عمر میں چھ سات سال سے زیادہ کا فرق نہیں تھا. لیکن ذاتی اور پروفیشنل زندگی کے تجربے نے حمزہ کو واقعی وقت سے پہلے بڑا کر دیا تھا.
اس کی شخصیت میں سنجیدگی اور ٹھہراؤ آگیا تھا.
فریحہ آچکی تھی. گھر میں اب شادی کا سماں لگ رہا تھا. ہال میں سب محفل جمائے بیٹھے تھے.
حیا کمرے سے باہر نکلی. مگر اتنے لوگوں کو دیکھ کر وہ دوبارہ اندر چلی گئی.
حمزہ نے اسے دروازے سے واپس جاتے دیکھ لیا تھا. وہ اس کے پیچھے کمرے میں آیا.
" سات بجے ریسیپشن ہے. اسی سلسلے میں سب آئے ہوئے ہیں. تم فریش ہو جاؤ. وہ سب تم سے ملنا چاہتے ہیں. صبح سے تمہارا پوچھ رہے ہیں. "
"میں ان کو نہیں جانتی. "حیا پہلی بار میں حمزہ کی بات مان جائے ایسا کیسے ہو سکتا تھا. حمزہ چل کر اس کے سامنے آ گیا.
" تو جان جاؤ گی. یہ ہی میری فیملی ہے حیا. اور اب تمہاری بھی. میں دو دن یہاں ہوتا ہوں چھ دن نہیں ہوتا. میرے بعد یہ ہی تمہارا خیال رکھیں گے. " حمزہ نے باہر بیٹھے لوگوں کا بہترین تعارف کروایا تھا.
"کیوں مجھے ہر چیز کے لیے فورس کرتے ہو تم. تمہاری فیملی ہے تو تم ملو. میں کسی سے نہیں ملوں گی. کوئی شو پیس نہیں ہوں میں." وہ بات غلط سمت لے کر جا رہی تھی.
حمزہ کو پہلے ہی سمجھ جانا چاہئیے تھا. وہ ایک بار کہنے سے کہاں ماننے والی تھی. .
"کھڑی ہو. کھڑی ہو. " وہ چلایا.
باہر شور اتنا تھا کہ آواز کمرے سے باہر نہیں گئی.
حیا نہ چاہتے ہوئے بھی کھڑی ہو گئی. اسے حمزہ کے غصے سے ڈر لگتا تھا. وہ ایک منٹ میں آپے سے باہر ہو جاتا تھا. .
اس نے حیا کا ہاتھ پکڑا اور اسے لاؤنج میں لے آیا.
"اسلام م م م م م علیکم م مم مم بھا ااا بھی ی ی ی ی ."
دونوں کو دیکھ کر ایک منٹ مودبانہ خاموشی چھائی رہی. اور پھر بیک وقت سکول کے بچوں کی طرح سب نے باآواز بلند سلام کیا. حیا کو عجیب لگا وہ نرسری کلاس کی ٹیچر نہیں تھی.
"ما شااللہ. ماشااللہ. " حیا نے آواز کا تعاقب کیا. یہ انیس بیس سال کا لڑکا تھا. جو صوفہ پھلانگتا ان دونوں کے سامنے آ کھڑا ہوا. آتے ہی لڑکے نے اپنا سر آگے کر دیا.
حیا ایک قدم پیچھے ہٹی.
"ارے پیار دیں. چھوٹے ہیں ہم." وہ اور جھکا. حیا نے سوالیہ نظروں سے حمزہ کو دیکھا. وہ ابھی اتنی بڈھی تو نہیں ہوئی تھی کہ اپنے سے دو تین سال چھوٹے لڑکوں کے سر پر ہاتھ رکھتی.
"یہ شیری ہے. " حمزہ نے حیا کا ہاتھ شیری کے سر پر رکھتے ہوئے اس کا تعارف کروایا.
"شیری ی ی ی . شیری. شیری ی ی ی. شیری." سب نے ردھم میں سر لگایا.
حیا کو ان کی دماغی حالت پر شک ہوا. تبھی فریحہ ہنستے ہوئے اپنی جگہ سے اٹھی.
"برا مت ماننا. سب سے چھوٹا ہے تو نا سمجھ ہے. " فریحہ نے شیری کے سر پر چپت رسید کی.
"اور بد تمیز بھی. " یہ شیروان تھا.
شیری نے محض شیروان کو گھورنے پر اکتفا کیا. جبکہ باقی لوگ شیری کی شامت پر چہک رہے تھے.
"ہائی. آئی ایم فریحہ. نام تو سنا ہو گا" فریحہ نے آگے بڑھ کر حیا کو گلے لگایا. اسے کیسے وہ بھول سکتی تھی. جیل میں جس طرح ہر دو منٹ بعد آکر فریحہ اسے ڈرا دھمکا رہی تھی. اسے یاد تھا. حیا نے حمزہ کی طرف دیکھا.
"اپنے علی کی وائف ہے. " حمزہ نے حیا کا ہاتھ اب تک پکڑا ہوا تھا.
"جی اور آپ کے کھسم کی دوست. میرا مطلب آپکے شوہر نامدار کی." ہلکے قہقہے بلند ہوئے. حیا اور حمزہ کے نکاح کی حقیقت اب سب جان چکے تھے. حمزہ نے کون سا پردہ رکھا تھا. حیا کے رات جیل میں رہنے اور وہاں ہوئے واقعات فریحہ نے چہک چہک کر سب کو بتائے تھے.
"تم مجھ سے ناراض ہو گی. پر کیا کریں مجبوری ہے. باس کا حکم ہم ٹال نہیں سکتے. " فریحہ کو دیکھ کر حیا کو بالکل اچھا نہیں لگا تھا.
"پہلی ملاقات اچھے حالات میں نہیں ہوئی لیکن میں اتنی خوفناک نہیں جیسی جیل میں تم سے ملی. " فریحہ تلخی کم کرنے کی کوشش کر رہی تھی. واقعی اب جس فریحہ سے وہ مل رہی تھی وہ جیل والی فریحہ سے بالکل مختلف تھی.
خوش مزاج اور بالکل مختلف لب و لہجہ.
"مائی نیم از زویان. " فریحہ مل کر پیچھے ہوئی تو صوفے کے بازو پر بیٹھے زویان نے ہاتھ بلند کیا.
"اینڈ آئی ایم ناٹ آ ٹیرارسٹ. " شیری نے بیچ میں ٹانگ اڑائی.
سب کے چہروں پر مسکراہٹ پھیل گئی.
"دس از شیروان. " شیروان نے آخر میں اپنے تعارف کے لیے ہاتھ اٹھایا.
"عمر چوبیس سال. رنگ گورا. دماغی حالت ٹھیک نہیں. دو دن سے لا پتہ. جسے ملے خود ہی رکھ لے. ہمیں ضرورت نہیں. " سیل فون پر جھکے شیری نے انتہائی سنجیدہ انداز میں شیروان کو لاپتہ قرار دے دیا.
"گدھا ہے تو." شیروان بھڑکا. لاؤنج قہقہوں سے گونجا.
حیا اب ان کی نوک جھونک انجوائے کر رہی تھی.
"تھوڑی دیر تک ہم پارلر جا رہے ہیں. تمہیں چھوڑ کر میں آ جاؤں گا. کچھ چیزیں ہیں جو مجھے یہاں دیکھنی ہیں.
تم تیار ہو جانا پھر میں تمہیں لے آؤں گا. " جب سب اپنا تعارف کروا چکے تو حمزہ نے حیا کو اگلے دو گھنٹوں کا لائحہ عمل بتا یا.
جاری

No comments: