ﻧﺎﻭﻝ سنائپر از ریاض_عاقب_کوہلر قسط نمبر 19
ﻧﺎﻭﻝ سنائپر
از
ریاض_عاقب_کوہلر
سنائپر
قسط نمبر 19
ریاض عاقب کوہلر
میں نے سیٹ آن کر کے ائیر فون کی لیڈ اس میں لگاکر کان میں اڑس لی ۔اب سیٹ کی آواز دور تک سنائی نہیں دے سکتی تھی ۔اس کے ساتھ ہی میں نے سیٹ آن کیا لیکن خاموشی چھائی ہوئی تھی ۔میں چینل تبدیل کرنے لگا ۔چینل انیس پر مجھے مطلوبہ گفتگو سنائی دینے لگی ۔
”میں نے صرف دو آدمی دیکھے ہیں اور دونوں غالباََ مشرقی طرف بھاگے ہیں ۔“
”ٹھیک ہے تم اسی جگہ موجود رہو ،تمھارے ساتھ دوسرا کون ہے ؟“پوچھنے والا روشن خان تھا ۔
اس نے مختصراََ کہا ۔”بسمل جان ۔“
اس مرتبہ اسے جواب دینے کے بجائے وہ کسی دلبر خان کو پکارنے لگا ۔
”سن رہا ہوں ۔“دلبر خان نے جواب دینے میں دیر نہیں لگائی تھی ۔
”شاید ان کا رخ تمھاری طرف ہے ....دو آدمی ہیں ،کوشش کرنا زندہ ہاتھ لگ جائیں ۔نہیں تو اڑا دو لیکن بھاگنے نہ پائیں ورنہ سردارقبیل خان ہماری جان کو آجائے گا ۔“
”بے فکر رہو ۔“دلبر خان نے اعتماد بھرے لہجے میں جواب دیا ۔
ناصر خان!....تمھارے پاس کتنے آدمی ہیں ؟“اس مرتبہ وہ ایک اور آدمی کو مخاطب ہوا تھا ۔
”دس آدمی ہیں کمانڈر!“جواب دینے والا لازماََ ناصر ہی تھا۔
”پانچ آدمی نالے کے سامنے بھی بھیج دو ،تاکہ وہ نالے میں اتریں تو مکمل گھیرے میں ہوں ۔“
”ٹھیک ہے ۔“ناصر خان نے جواب دیا ۔
”عظمت جان!....تمھارے ساتھ آٹھ آدمی تھے ؟“وہ باقاعدہ کسی فوجی کمانڈر کی طرح اپنے ماتحتو ںسے بات کر رہا تھا ۔
”جی کمانڈر!“عظمت نامی شخص نے جواب دینے میں تاخیر نہیں کی تھی ۔وہ تمام آئی کام کے استعمال کے ساتھ پہاڑی علاقے میں جنگ کے طرقہ کار سے بھی اچھی طرح واقف تھے ۔
”میرا خیال ہے ان آدمیوں کے ساتھ لگرائے کی طرف آنے والا کوئی آدمی بچ کر نہیں نکل سکے گا ۔“
”جی کمانڈر!“عظمت جان نے پر اعتماد لہجے میں جواب دیا تھا۔
”سردار خان !....برے پھنسے دوست !“میں نے ساتھ بیٹھے سردار خا ن کودبی آواز میں صورت حال سے آگاہ کیا ۔”ان پہاڑیوں کو انھوں نے چاروں طرف سے گھیرا ہوا ہے ۔“
سردار نے اعتماد بھری سرگوشی سے جواب دیا ۔”اگر ان کے پاس سو بندے بھی ہوں تب بھی ان پہاڑیوں کو نہیں گھیر سکتے ۔“
”بات تو ٹھیک ہے لیکن فی الحال ہم گھیرے میں ہیں دوست ۔“
”لگرائے کی طرف نیچے اترنے کے بارے کیا خیال ہے ؟“سردار نے مشورہ دینے والے انداز میں پوچھا ۔
میں نے نفی میں سر ہلایا ۔”نہیں اس جانب کوئی عظمت جان آٹھ آدمیوں کے ساتھ ہمار منتظر ہے۔“
”ویسے تمھارا مشورہ مان کر میں نے بہت بے وقوفی کا ثبوت دیا ہے ۔“
میں ہنسا ۔”اس کے بجائے اگر تم یہ کہو کہ میرا مشورہ مان کر تم نے پٹھان ہونے کا ثبوت دیا ہے تو کیسا رہے گا ۔“
”راجا ذیشان حیدر صاحب !....ایک بات بتا دوں اگر ہم رات کے اندھیرے میں ان کے گھیرے سے نہ نکل سکے تو دن کی روشنی میں ہمارا بھاگنا ناممکن ہو جائے گا ۔“
اس کی بات رد کرنے کے قابل نہیں تھی ۔”صحیح کہا ۔“میں نے اثبات میں سر ہلایا۔
”کوئی سگریٹ سلگا رہا ہے ۔“سردار نے مجھے ہلکے سے شعلے کی جانب متوجہ کیا ۔اس کا فاصلہ ہم سے پچاس گز سے زیادہ نہیں تھا ۔
”یہ اس کی زندگی کا آخری کش ہو گا ۔“دھیمے لہجے میں کہتے ہوئے میں نے ٹیلی سکوپ کے کور اتارے بغیر ہی ڈریگنوو کی مزل کو اس کی جانب سیدھا کیا اتنے نزدیکی فاصلے پر مجھے ٹیلی سکوپ سائیٹ کے استعمال کی ضرورت نہیں تھی ۔ٹریگر دباتے ہی دھماکے کی گونج کے ساتھ ایک درد بھری کراہ نے مجھے بتا دیا کہ میں کامیاب رہا تھا ۔اسی وقت کلاشن کوف کا اندھا دھند فائر اس پتھر کی جانب آنے لگا ۔
”سردار !....نیچے لیٹ کراسی سمت جانا ہے جدھر سے فائر آ رہا ہے ۔“میں نے سرگوشی کی ۔
”گویا مجھے ایک بار پھر پٹھان ہونے کا ثبوت دینا پڑے گا ۔“دبی آواز میں ہنستے ہوئے اس نے کہا ۔”میرا مطلب ہے تمھاری بات مان کر ۔“
”مذاق کا وقت نہیں ہے خان صاحب !....“انھیں ہماری جگہ کے بارے معلوم ہو گیا ہے ۔“
”میں مذاق تو نہیں کر رہا ۔“سردار نے جوا ب دیا ۔اسی وقت کسی نے ٹارچ کی روشنی ہماری سمت پھینکی ۔وہ شاید ہمارے چھپنے کی جگہ کا جائزہ لینا چاہتا تھا ۔وہ اس بات میں کامیاب بھی ہو گیا ،لیکن زندگی کی بازی ہار گیا ۔وہ بے وقوف شاید نہیں جانتا تھا کہ روشنی پر نشانہ سادھنا کتنا آسان کام تھا ۔ڈریگنوو کی ایک اور گولی کم ہو گئی تھی ۔
”اب اگر کسی الو کے پٹھے نے روشنی کرنے کی کوشش کی تو اسے میں خود گولی مار دوں گا ۔“ روشن خان کی دھاڑتی ہوئی آواز سنائی دی ۔اسی وقت کلاشن کوف کے دو تین برسٹ ہماری طرف آئے ، مگر ہم نے جوابی فائر سے گریز کیا تھا ۔ہمارے پاس اتنا فالتو ایمونیشن نہیں تھا کہ ان کے ہر فائر کا جوا ب دیتے ۔
”تم لوگ چاروں طرف سے گھیرے میں ہو بہتر یہی ہو گا کہ خود کو ہمارے حوالے کر دو ۔“وہ روشن خان کی آواز تھی اس کی آواز کو میں اچھی طرح پہچان گیا تھا ۔اس کی بات کا جواب سردار نے دو گولی فائر کے ساتھ دیا تھا ۔سردار کے فائر کے ساتھ دو تین برسٹ فائر آئے لیکن ہم پتھر کی چٹان کے باعث محفوظ رہے ۔
مجھے آئی کام پر روشن خان کی آواز سنائی دی وہ دلبر خان کو پکار رہا تھا ۔دلبر خان کے جواب دینے پر وہ کہنے لگا ۔
”دلبر خان اپنے آدمیوں کے ساتھ ہماری طرف بڑھتے آﺅ ۔“
جواباََ دلبر خان نے ”جی کمانڈر!“کہہ کر حکم پر عمل پیرا ہونے کا عندیہ دیا ۔
اس کے ساتھ ہی روشن خان کسی برمن خان کو آواز دینے لگا ۔
برمن خان کے ”حکم جناب !“پر وہ پوچھنے لگا ۔
”تمھارے پاس ہینڈ گرنیڈ موجود ہیں ۔“
”جی ہاں ،تین گرنیڈ موجود ہیں ۔“برمن خان کا اقراری جواب سن کر وہ بولا ۔
”فوراََمیرے پاس آجاﺅ ،میں اس وقت لگی نرائے کی بلندی پر کھڑا ہوں ۔“
”کمانڈر!....پانچ دس منٹ لگ جائیں گے ۔“
”میں منتظر ہوں ۔“کہ کر روشن خان خاموش ہو گیا تھا ۔
”سردار !....روشن خان کسی آدمی سے ہینڈ گرنیڈ منگو ا رہا ہے ،یقینا اس کا ارادہ ہمارے خلاف ہینڈ گرنیڈ استعمال کرنے کا ہے ،اس لیے جتنا جلدی ہو یہاں سے نکلنا چاہیے ۔“
”میرا خیال ہے سامنے کے بجائے دائیں طرف نکل چلتے ہیں ۔“سردار نے مشورہ دیا۔
میں نے نفی میں سر ہلایا۔”اس طرف تنگ نالہ ہے اگر اس میں اتر گئے تو چوہے دان میں پھنس جائیں گے ۔انھوں نے نالے کو پہلے سے گھیرا ہوا ہے ۔“
”مکمل نہیں اترتے ،ڈھلان پر ہو کر زیڑہ کیل کی جان بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں ،اگر روشن خان پارٹی کی حد بندی سے گزر گئے تو آگے جانامشکل نہیں ہو گا۔“سردار اپنی بات پر مصر رہا ۔
”ہونہہ !....لگتا ہے لی زونا کے ساتھ دو ماہ گزار کر تم میںبھی تھوڑی عقل آ گئی ہے ۔“
اس نے پوچھا ۔”تو چلیں ،اس سے پہلے کہ ہینڈ گرنیڈ کا سامنا کرنا پڑ جائے ۔“
”میرے پیچھے رہنا اور تم فائر نہ کرنا میرے پاس سائیلنسر لگا پستول موجود ہے کسی بھی اچانک نمودار ہونے والے ہدف کو میں خود سنبھال لوں گا ۔“اس سے بات کرتے ہوئے میں نے ڈریگنوو رائفل کی سلنگ سر سے گزار کر اپنی چھاتی کے سامنے لائی اس طرح کہ رائفل میرے پشت پر بندھے تھیلے پر مضبوطی سے ٹھہر گئی ۔سائیلنسر لگا گلاک نائینٹین میں نے ہاتھ میں تھا م لیا تھا ۔
”ٹھیک ہے ۔“سردار نے کہا اور اس کا جواب سنتے ہی میں جھکے جھکے انداز میں آگے بڑھ گیا ۔
ہم جس چٹان کے پیچھے دبکے تھے اس کے سامنے روشن خان نے مورچہ بنا رکھا تھا ،اس کے عقبی جانب دلبر خان اپنے آدمیوں کے ساتھ آ رہا تھا۔دائیں جانب عظمت خان اور بائیں جانب ناصر خان اپنے آدمیوں کے ساتھ موجود تھا ۔لیکن ناصر خان نالے کی پرلی طرف اور سامنے کی سمت میں موجود تھا ۔وہ نالہ زیڑہ کیل سے نکل رہا تھا ۔لازمی طور پر زیڑہ کیل کی بلندی پر بھی ان کے آدمیوں نے موجود ہونا تھا ۔ روشن خان جیسے شاطر سے بعید تھا کہ اس نے وہ سمت نظر انداز کر دی ہو ۔لیکن زیڑہ کیل کی پرلی جانب اگر ہم پہنچ جاتے جس طرف امریکن سنائپر میرا نشانہ بنا تھا تو ہمارا نکلنا مشکل نہیں تھا ۔
نالے میں دس پندرہ گز نیچے جا کر ہم اسی ڈھلان پر متوازی آگے بڑھنے لگے ۔ہوا کافی تیز رفتاری سے چل رہی تھی ۔اور یہ ہوا جہاں سردی میں اضافے کا باعث بن رہی تھی وہیں ہمارے لیے اس لحاظ سے نہایت مفید تھی کہ ہماری ہلکی پھلکی آہٹ دشمن کو سنائی نہیں دے رہی تھی ۔
ہم تیس پینتیس گز ہی آگے بڑھے ہوں گے کہ ایک زور دار دھماکا سنائی دیا ۔یقینا انھوں نے ہینڈ گرنیڈ پھینکا تھا ۔
”جانانہ !....میرا خیال ہے ان کمینوں کا کام تو ہوگیا ۔“مجھے ہلکی ہنسی کے ساتھ کسی کی آواز سنائی دی ۔ہمارے استقبال کے لیے اس جانب بھی روشن خان نے اپنے آدمی کھڑے کیے ہوئے تھے ۔ ہماری خوش قسمتی کہ ہوازیڑہ کیل کی جانب سے ہمارے رخ چل رہی تھی ۔اس لیے وہ آواز آسانی سے سنائی دے گئی تھی ۔سردار نے بھی وہ آواز سن لی تھی ۔ہم دونوں دب کر نیچے بیٹھ گئے۔ اسی وقت ایک اور زور دار دھماکا ہوا انھوں نے حفظِ ماتقدم کے طور پر ایک اور گرنیڈ بھی پھینک دیا تھا ۔
سردار کو وہیں ٹھہرنے کا اشارہ کر کے میں رینگتا ہوا آگے بڑھا ۔ان کے باتیں کرنے کی دھیمی آواز میری رہنمائی کر رہی تھی ۔جلد ہی ان کے ہیولے مجھے نظر آ گئے تھے ۔ان کا رخ ہماری جانب ہی تھا۔
اسی وقت میرے کان میں لگے رسیور میں روشن خان کی آواز ابھری ،اور ساتھ ہی وہی آواز مجھے ان آدمیوں کے پاس موجود آئی کام سے بھی آ رہی تھی ۔
”تما م پارٹیاں ہوشیار رہیں ۔وہ یہاں سے غائب ہیں ۔“
”اس کا مطلب پھر بچ گئے ہیں کمینے ۔“مجھے وہی پہلے والی آواز سنائی دی اور اس کے ساتھ ہی میں نے گلاک سیدھا کرتے ہوئے مسلسل دو مرتبہ ٹریگر دبادیا۔
”ٹھک ٹھک ۔“کی آواز کے ساتھ دو درد بھری کراہیں بلند ہوئیں ۔ میں زمین سے اٹھ کر تیزی سے آگے بڑھا ۔سردار نے بھی میری تقلید کی تھی ۔ان کے تڑپتے اجسام کو پھلانگتے ہوئے ہم آگے بڑھ گئے ۔دس پندرہ گز آگے جاتے ہی ہم دوبارہ بلندی چڑھنے لگے ۔ڈھلوان سے ہموار سطح پر آتے ہی ہم تیزی سے زیڑہ کیل کی طرف بڑھ گئے ۔
”ناصر خان!....تیار ہو جاﺅ،میرا خیال ہے وہ نالے میں اتر گئے ہیں ۔“
”ہم تیار ہیں کمانڈر !“ناصر کی اعتماد بھری آواز ابھری ۔
ہم زیڑہ کیل کی بلندی پر چڑھنے لگ گئے تھے ۔وہ لگی نرائے سے اتنی زیادہ بلند نہیں تھی ۔
”گل خان!....تمھارے ساتھ کتنے آدمی ہیں ؟“روشن خان کسی نئے بندے کو پکار رہا تھا ۔
”ہم دو آدمی ہیں کمانڈر!“گل خان کی آواز سنائی دی ۔
”برمن خان!....تم اپنے ساتھ ایک آدمی کو لے کر گل خان کے پاس پہنچو ۔
”ٹھیک ہے کمانڈر!“برمن نے جواب دیا ۔
اب معلوم نہیں برمن خان اس وقت کہاں تھا ۔چڑھائی ختم ہونے کے قریب ہی ہم دبے قدموں چلنے لگے اسی وقت سردار کے پاﺅں کے نیچے ایک پتھر آکر لڑھک گیا ۔ہم فوراََ لیٹ گئے ۔یہ بروقت لیٹنا ہمارے کام آگیا تھا ۔اسی وقت ایک طاقتور ٹارچ کی روشنی اس طرف آئی ۔سردار میرے آگے تھا ۔اس نے ایک لمحہ ضائع کیے بغیر کلاشن کوف کا فائر کھول دیا ۔
”تڑ تڑ اہٹ کی آواز میں ایک چیخ بھی شامل تھی ۔ٹارچ سمیت وہ اوندھے منہ گرا ،ٹارچ ابھی تک روشن تھی ۔
”سردار !....ادھر ہو جاﺅ۔“ایک قریبی پتھر کی آڑ لیتے ہوئے میں نے سردار کوسرعت سے پکارا ۔
اسی وقت روشن خان بھی اپنے آدمی سے پوچھنے لگ گیا تھا ۔”گل خان !....فائر تم نے کیا ہے۔ “گل خان غریب زندہ ہوتا تو جواب دیتا ۔
سردارایک سیکنڈ بھی ضائع کیے بغیر لیٹے لیٹے ہی لڑھکتے ہوئے میرے قریب پہنچا ۔اور اسی وقت کسی نے کلاشن کوف کا فائر کھول دیا ۔کلاشن کوف مسلسل گرجنے لگی ۔اس نے اس وقت تک ٹریگر سے انگلی نہ اٹھائی جب تک ”ٹرنچ ۔“کی آواز کے ساتھ کلاشن کوف خالی نہ ہو گئی ۔
ہم پتھر کے پیچھے سمٹ کر لیٹے ہوئے تھے ۔اگر وہ پتھر نہ ہوتا تو یقینا ہم مارے گئے تھے ۔ ”ٹرنچ ۔“کی آواز سنتے ہی میں نے کہا ۔”سردار !....فائر ۔“اور اس نے لیٹے لیٹے مطلوبہ جانب کلاشن کوف کی نال کرتے ہوئے ٹریگر دبا دیا ۔مسلسل دھماکوں کی وجہ سے ہمیں پتا نہیں چلا تھا کہ وہ فائرنگ کامیاب گئی تھی یا ناکام۔آئی کام پر روشن خان مسلسل گل خان کو پکار رہا تھا ۔میگزین خالی ہوتے ہی سردار نے نئی میگزین لگاتے ہوئے کلاشن کوف کاک کی ۔لگی نرائے کی جانب سے دوتین برسٹ فائر ہوئے ۔ یقینا وہ اسی جانب ہی بڑھتے چلے آ رہے تھے ۔
”سردار !....خطرہ تو مول لینا پڑے گا ۔“میں اٹھ کر تھوڑادائیںمڑا اور جھکے جھکے انداز میں آگے بڑھنے لگا ۔سامنے سے فائر نہ آتے دیکھ کر میں سمجھ گیا تھا کہ سردار کی گولیاں رایگاں نہیں گئی تھیں۔
زیڑہ کیل کی بلندی چڑھتے ہی میں نے اس طرف کا رخ کیا جہاں سے میں دن کو اتر کر امریکن سنائپر والی پہاڑی پر چڑھا تھا ۔سردار میرے پیچھے ہی دوڑتا ہوا آرہا تھا ۔عقب میں مجھے مسلسل فائرنگ کی آواز سنائی دے رہی تھی ۔
روشن خان نے ناصر خان کو چند بندے اس جانب بھیجنے کا حکم دیا ۔ساتھ یہ بھی بتا دیا کہ زیڑہ کیل پر ان کا کوئی آدمی باقی نہیں بچا تھا ۔
میں اور سردار ٹھوکریں کھاتے کسی نہ کسی طرح اس جگہ پہنچ گئے جہاں سے میں دن کونیچے اترا تھا۔وہ رستا کافی ہموار تھا ۔اس پر چھدرے چھدرے درخت بھی موجود تھے ۔جلد ہی ہم نیچے کچی سڑک پر پہنچ گئے تھے ۔ہم تیز رفتاری سے زیڑہ کیل سے دور ہٹنے لگے ۔آگے وہ نالہ انگلش کے لفظ وائی کی طرح دو شاخہ ہو گیا تھا ۔ہم نے مشورے سے بائیں جانب اختیا رکر لی تھی ۔تیز رفتاری سے حرکت کرنے کے باعث ہمارے سانس پھول گئے تھے ۔زیڑہ کیل کی جانب سے اب بھی فائرنگ کی آواز آرہی تھی لیکن آئی کام خاموش تھا ۔
شاید وہ کسی دوسرے چینل پر شروع ہو گئے تھے ۔میں نے چینل تبدیل کر نا شروع کر دیا ۔جلد ہی روشن خان کی منحوس آواز پھر سے میرے کانوں میں پڑنے لگی ۔وہ انھیں تین پارٹیوں میں بانٹ کر ایک پارٹی کو لگرائے کا رخ کرنے کا کہہ رہا تھا ۔دوسری پارٹی کو اس نے وہ سمت بتائی کہ جس طرف ہم دونوں روانہ تھے اور تیسری ناصر خان والی پارٹی کو اسی نالے پر تعینات رکھا تھا ۔مجھے یہ پتا نہیں چل سکا تھا کہ اس نے چینل کیسے تبدیل کرا یا تھا ۔کیونکہ میں نے پچھلے چینل پر اس کے منہ سے کوئی کوڈ ورڈ یا کوئی لفظ نہیں سنا تھا ۔گھڑی پر نگاہ ڈالنے پر ہندسے سوا نو بجے کا اعلان کرتے نظر آئے ۔میں نے اندازہ لگایا کہ شاید نو بجے کے بعد انھیں پہلے سے چینل تبدیل کرنے کا بتایا ہوا تھا ۔پہلے والا چینل نو بجے تک ہی استعمال ہونا تھا ۔وائرلیس سیٹ کو استعمال کرتے وقت اس طرح کے چٹکلے ہر کوئی آزماتا رہتا ہے ۔
میں نے سردار کو تفصیل بتاتے ہوئے کہا ۔”سردار خان!....اب ہمارا مقابلہ روشن خان کے ایک تہائی لشکر سے ہے ۔“
سردار نے دانت پیستے ہوئے جواب دیا ۔”جس وقت بھی یہ روشن خان ہاتھ لگا اسے تو میں اپنے ہاتھ سے گولی مارو ںگا ۔“
میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا دور ٹارچ کی روشنی نظر آئی تھی ۔ہم نے اپنے قدموں کی رفتار تیز کر لی۔ ایک لحاظ سے ہماری رفتار کو ان پر فوقیت حاصل تھی کہ انھوں نے ہمیں تلاش کرتے ہوئے آگے بڑھنا تھا جبکہ ہم بغیر دائیں بائیں کا جائزہ لیے آگے بڑھتے جا رہے تھے ۔مسلسل تیز رفتاری سے سفر کرتے ہمیں تین گھنٹے ہونے کو تھے ۔
شیطان کی آنت کی طرح کا وہ لمبا نالہ اب اوپر کو بلند ہونے لگا تھا ۔اچانک پچاس ساٹھ گز کے فاصلے پر ایک طاقتور ٹارچ کی روشنی ہم پر پڑی ۔ہم نے نیچے لیٹنے میں ایک لمحہ بھی نہیں لگایا تھا ۔اسی وقت سامنے سے ایک برسٹ فائر ہوا ۔
”یہ وہی گروپ ہے یا ان کے کوئی اور ساتھی ہیں ؟“سردار ہکلایا ۔
”جو بھی ہیں اب تو برے پھنس گئے ہیں خان جی !“میں آہستہ آہستہ پیچھے کو کھسکا ۔
ٹارچ ایک بار پھر روشن ہوئی اور اس روشنی میں چند قدم آگے لگی کانٹا دار تار کو دیکھتے ہی میرا دل خوش گوار انداز میں دھڑکنے لگا ۔
”سردار خان!....یہ آرمی کی کوئی پوسٹ ہے ۔“میں نے خوشی سے بے قابو لہجے میں کہا ۔اور اس کے ساتھ ہی میں نے جیب سے ٹارچ نکال کر بار بار جلا کر ٹارچ کا اشارہ کرنے لگا ۔
”کون ؟“دبنگ لہجے میں پوچھا گیا ۔
”ہم دوست ہیں دشمن نہیں ۔“سردار کو اٹھنے کا کہہ کر میں ہاتھ بلند کر کے کھڑا ہو گیا ۔پستول میں نے ہولسٹر میں رکھ لیا تھا ۔سردار بھی کلاشن کوف زمین پر رکھتے ہوئے میرے ساتھ ہاتھ بلند کر کے کھڑا ہوگیا ۔
”آگے آ جاﺅ ۔“اسی آواز نے ہمیں پکارا ۔اور ہم ہاتھ بلند کیے آگے بڑھنے لگے ۔کانٹا دار تار کے درمیان میں ایک جگہ رستا بنا نظر آرہا تھا ۔ہم اسی سے گزر کر آگے بڑھنے لگے ۔
ہم ٹارچ والے سے دس پندرہ گز دور پہنچے ہوں گے کہ اس نے اگلا حکم صادر کیا ۔”رک ،اپنے ہتھیار اور سامان یہیں چھوڑ دو ۔“
ہم نے بے چوں و چراں ان کے کہنے پر عمل کیا ۔
”اب آگے بڑھو۔“ہتھیار اور تھیلے زمین پر رکھتے ہی ہمیں دوبارہ آگے بلایا گیا ۔
نزدیک پہنچنے پر ہمیں تین فوجی نظر آئے ایک نے ہاتھ میں ٹارچ تھام رکھی تھی جبکہ دو کے ہاتھوں میں ہتھیار تھے ۔ایک اپنا ہتھیار سلنگ اپ کر کے آگے بڑھا اور ہماری تلاشی لینے لگا ۔
تلاشی کے بعد ان کے سینئر نے ایک سپاہی کو ہمارا سامان لینے بھیجا جو ہم ان کے حکم پر پیچھے چھوڑ آئے تھے ۔تھوڑی دیر بعد ہم پوسٹ کمانڈر کے سامنے کھڑے تھے ۔وہ ایک جونیئر آفیسر تھا ۔
”جی جناب !....اپنا تعارف کرائیں ۔“اس نے ہلکی سی مسکراہٹ سے پوچھا ۔ہمارے پر اعتماد لہجے میں کی جانے والی بات چیت سے اسے اتنا اندازہ تو ہو گیا تھا کہ ہم دشمن نہیں تھے ۔
”میں اپنے آئی کام سیٹ پر آپ کی بات کسی سے کرانا چاہتا ہوں ۔“
”بات کراﺅ۔“اس نے اجازت دینے والے انداز میں سر ہلایا۔اس کا جواب سن کر ایک بندے نے آئی کام سیٹ میری جانب بڑھا دیا ۔
”پوسٹ کا نام ؟“آئی کام سیٹ پکڑتے ہوئے میں نے جونیئر آفیسر سے پوچھا ۔
”یہ ایف بلاک ہے ۔“اس نے بغیر کسی تردّد کے پوسٹ کا نام بتا دیا ۔
سیٹ آن کر کے میں نے چینل نو لگایا اورون الفا کو پکارنے لگا ۔
”سینڈ یور میسج اوور۔“میرے دو تین دفعہ پکارنے پر ون الفا کی بھاری آواز سپیکر سے برآمد ہوئی ۔
”ہم اس وقت ایف بلاک پر پہنچ گئے ہیں اوور !“بغیر کسی تمہید کے میں مطلب کی بات پر آ گیا کہ وائرلیس سیٹ پر تمہیدیں نہیں باندھی جا سکتیں ۔
”مگر کیوں ؟....اوور۔“اس کا لہجہ حیرانی سے پر تھا ۔
”کہانی لمبی ہے اوور۔“میں نے تفصیل بتلانے سے گریز کیا تھا ۔
”کام بتاﺅاوور۔“اس نے بھی تفصیل پوچھنے پر اصرار نہیں کیا تھا ۔
”پوسٹ کمانڈر کو ہماری شناخت کروا دو اوور۔“
”ٹھیک ہے پوسٹ کمانڈر کو ابھی آرڈر مل جائیں گے اور تم نے اگلے حکم تک یہیں رہنا ہے اوور۔“
اور میرے ”راجر ۔“(سمجھ گیا )کہنے پر اس نے اوور اینڈ آل کہہ کر رابطہ منقطع کر دیا ۔
پانچ منٹ بعد پوسٹ کمانڈ کے بینکر میں پڑے فیلڈ ٹیلی فون کی گھنٹی بجنے لگی ۔اس نے رسیور اٹھا کر کہا ۔”یس !....صوبیدار رمضان بات کر رہا ہوں ۔“
اور پھر دوسری جان سے اسے کچھ ہدایات دی جانے لگیں ۔ہمیں تو بس اس کی ۔”یس سر ،یس سر۔“ہی سنائی دیتی رہی ۔
بات ختم کرتے ہی اس نے رسیور میری جانب بڑھا دیا ۔
”اسلام علیکم سر !....ذیشان حیدر بات کر رہا ہوں ۔“میں نے رسیور کان سے لگاتے ہوئے اپنا تعارف کرایا ۔
”وعلیکم اسلام ،ذیشان !....کل کا دن ایف بلاک پر گزارو اور پرسوں تم دونوںڈی بلاک پر چلے جانا، وہاں ون الفا تمھارا منتظر ہے ۔ڈی بلاک کا رستا تمھیں صوبیدار رمضان سے معلوم ہو جائے گا۔“
اور میرے ”ٹھیک ہے سر !“کہنے پر اس نے ۔”خدا حافظ۔“کہہ کر رابطہ منقطع کر دیا ۔
”یقینا آپ لوگوں نے کھانا نہیں کھایاہو گا ؟“میرے رسیور رکھتے ہی صوبیدار رمضان مستفسر ہوا ۔
”جی سر !“سردار نے اثبات میں سر ہلایا۔
ایک آدمی کو کھانا لانے کا کہہ کر وہ ہم سے گپ شپ کرنے لگا ۔ہماری دن بھر کی کارروائی چونکہ اپنی فوج کے لیے کوئی راز کی بات نہیں تھی اس لیے ہم نے اسے مکمل تفصیل سے سب کچھ بتا دیا ۔ ساری تفصیل سردار نہیں سنائی تھی ۔اس کی بات ختم ہوتے ہی صوبیدار رمضان نے باقاعدہ ہمیں گلے لگا کر ہماری پیٹھ تھپتھپائی تھی ۔اسی وقت تازہ کھانا تیار ہو کر آ گیا ۔گرم گرم روٹیوں اور بھیڑ کے گوشت سے سیر لطف اندوز ہونے کے بعد ہم نے ملک پاﺅڈر کی بنی چاے پی اور بستر میں گھس گئے ۔سارے دن کی بھاگ دوڑ کے بعد سخت تھکن محسوس ہو رہی تھی ۔وزیرستان نے ہمیں کافی اچھے انداز میں خوش آمدید کہا تھا۔ قسمت اچھی تھی ورنہ سردارقبیل خان کے آدمیوں نے تو ہمیں مارنے میں کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہیں کیا تھا ۔اگلاپورا دن ہم ایف بلاک پر آرام کرتے رہے ۔سہ پہر کے وقت ہم نے صوبیدار رمضان سے ڈی بلاک کا رستا معلوم کر لیا تھا جہاں ون الفا ہمارا منتظر تھا ۔اس نے ایک دور ایک پہاڑی کی جان اشارہ کیا اور ساتھ ہمیں وہاں تک جانے کے رستے کے بارے بھی تفصیل سے بتا دیا ۔اگلی صبح کا انتظار کرنے کے بجائے ہم شام کا کھانا کھا کر ہی ڈی بلاک کا رستا ناپنے لگے ۔امریکن سنائپر کا کمپاس میرے پاس موجود تھا۔ یوں بھی اس کی گھڑی میں بھی ایک جدید کمپاس فٹ تھا ۔ڈی بلاک کا فاصلہ وہاں سے نو دس کلومیٹر کے بہ قدر تھا ۔وہ پوسٹ ایف بلاک سے زیادہ اونچائی پر واقع تھی ۔
کمپاس کی مدد سے ہم اونیچے نیچے رستوں اور خشک و تر نالوں کو عبور کرتے ہوئے رات ارہ بجے کے ڈی بلاک کے قریب پہنچ گئے تھے ۔سنتری کو اپنی پہچان کرا نے کے تھوڑی دیر بعد ہی ہم ون الفا سے معانقہ کر رہے تھے ۔
وہ پینتیس چھتیس سال کا خوش رو جوان تھا ۔اس کا تعلق ایک خفیہ ایجنسی سے تھا ۔اس کا رینک میجر اورنام اورنگ زیب خٹک تھا ۔وہ ہم سے بڑے تپاک سے ملا ۔گزشتا دن کی تفصیل سن کر اس نے ہمیں ایک بار پھر شاباش دی اور مطلب کی بات پر آ گیا ۔
”قبیل خان کا تعلق وزیر قوم سے ہے اور اس کے پاس پندرہ سولہ سو کا لشکر (لڑاکالوگ) موجود ہے ۔اس کا اصل علاقہ وادی شوال میں موجود گاﺅں علام خیل ہے جہاں تک ابھی آرمی نہیں پہنچی ۔ یہ انڈین ایجنسی را کا خاص پرزہ ہے ۔دوسری ایجنسیاں بھی اس سے کام لیتی رہتی ہیں ۔بہ ہر حال زیادہ عرصہ بچ نہیں سکے گا ۔تم دونوں کو ایک خاص کام کے بعد اس کی سرکوبی کے لیے جانا ہو گا ۔وادی شوال میں ہمارے تین آدمی موجود ہیں۔لیکن وہ کھل کر تمھارا ساتھ نہیں دے پائیں گے ۔وہ بس رابطے کا ایک ذریعہ ہی ہیں ۔ان میں سبیل خان نامی آدمی تمھارے ساتھ رابطے میں رہے گا ،اس سے بھی تم ایس ایس کے کوڈ نام سے چینل سات پررابطہ کر سکتے ہو ۔وہ اپنا کوڈ نام الفا ٹو بتائے گا ۔“
سردار نے پوچھا ۔”خاص کام کیا ہے سر ؟“
”یہاں ایک بلند چوٹی ذخیرہ ٹاپ ہے جہاں دہشت گردوں کے دو سنائپر موجود ہیں ۔ان میں سے ایک کانام ذوالجدین ہے اور دوسرے کو مرشد کے نام سے جانا جاتا ہے ۔تمھیں یقینا حیرانی ہو گی کہ یہ ذوالجدین نامی آدمی پاک آرمی کی کمانڈو بٹالین سے بھگوڑا ہو کر دہشت گردوں کے ساتھ شامل ہوا ہے ۔یونٹ میں کسی آفیسر سے اس کا جھگڑا ہوا اور یہ باغی ہو کر دہشت گردوں کے پاس چلا گیا ۔اور پھر یہاں روپے پیسے کی وافر دستیابی نے اسے مزید شہہ دی ۔یہ دونوں بہت اچھے سنائپر ہیں ۔ہمارے شہید ہونے والے جس جوان کے سر میں گولی لگی ہو تو ہمیں معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ ذوالجدین کی فائر کی ہوئی گولی ہے اور چھاتی میں لگنے والی گولی کو مرشد کی حرکت مانا جاتا ہے ۔جنگل ٹاپ پر دہشت گردوں کے مضبوط مورچے بنے ہوئے ہیں ۔ہیلی کاپٹر کی شیلنگ بھی وہاں فائدہ مند نہیں ہوئی ۔وہاں سب سے خطرناک یہی دو آدمی ہیں اور انھیں کس طرح نشانہ بنانا ہے یہ آپ دونوں کی صواب دید پر ہے ۔“
”ویسے ذوالجدین کا نام میں نے سنا ہوا ہے ۔“میں نے تائیدی انداز میں سر ہلاتے ہوئے کہا ۔”کمانڈو ز کے ساتھ ایک کورس کے دوران اس کی غائبانہ تعریف سنی تھی ۔“
”صحیح پہنچے ۔“میجر اورنگ زیب نے اثبات میں سر ہلایا۔
”اگر ہم دونوں جنگل ٹاپ پر جا کر خود کو دہشت گرد ظاہر کریں تو یقینا انھیں آسانی سے جہنم واصل کر سکیںگے ۔“سردار نے خیال ظاہر کیا ۔
”نہیں ،پہلی بات تو یہ ہے کہ ،یہ لوگ بہت شاطر ہیں ،کسی نئے آدمی پر اعتماد نہیں کرتے ۔اور ان کے پاس آنے والے دہشت گرد کسی سردار یا ایجنسی کی وساطت سے آتے ہیں ۔یوں نہیں کہ کوئی بھی آدمی منہ اٹھا کر ان کے پاس پہنچ جائے ۔ہمارے جو آدمی ان میں شامل ہیں وہ بھی ہم نے جانے کتنی مشکلوں سے ان کا حصہ بنائے ہیں ۔دوسرا جو آدمی قریب جا کر کسی دہشت گرد کو ہلاک کرے گا خود اس کا بچنا بھی ناممکن ہو جائے گا اور میں تم دونوں جیسے تربیت یافتہ اور بہترین سنائپر زکو اتنے سستے میں قربان نہیں کر سکتا ۔“
”شکریہ سر !“میں اس کی پر خلوص بات سن کر بولا۔”ویسے ذخیرہ ٹاپ کے قریب کوئی اونچی چوٹی موجود نہیں ہے ؟“
”زیڑہ کیل سے شمال کی جانب ایک بلند چوٹی وچہ نرائے ہے جس کا ذخیرہ پوسٹ سے ہوائی فاصلہ ڈیڑھ کلومیٹر سے کچھ زیادہ ہی ہے ۔لیکن وہ ایسی جگہ ہے جہاں فوج پوسٹ نہیں بنا سکتی کیونکہ ایک تو پانی کا نزدیک ترین چشمہ بھی اس سے اتنی دور ہے کہ روزمرہ ضروریات کا پانی وہاں تک پہنچانا نہایت مشکل ہو جاتا ہے ۔اسی طرح وہاں گاڑی کا رستا بھی موجود نہیں ہے اس لیے راشن بھی ذخیرہ نہیں کیا جا سکتا ۔اس کے بیس میں پوسٹ بنانے میں یہ قباحت ہے کہ دہشت گرد عارضی طور پر وچہ نرائے کی چوٹی پر چڑھ کر آرمی کو نشانہ بنا سکتے ہیں ۔ اس طرح کی چند اور مجبوریاں بھی ہیں ۔البتہ تم لوگ اس چوٹی کو عارضی طور پر اپنے مقصد کے لیے استعمال کر سکتے ہواور یقینا اس کے لیے تمھیں ہیوی سنائپر بھی دستیاب ہو گی کیونکہ اس جگہ سے ذخیرہ ٹاپ ڈریگنوو کی رینج سے باہر ہو جاتی ہے ۔“
میں نے ہنستے ہوئے کہا ۔”آج مارا جانے والا امریکن سنائپر ہمارے لیے بیرٹ ایم 107 کاتحفہ چھوڑ گیا ہے ۔“
”بیرٹ ایم 107؟“میجر اورنگ زیب کے لہجے میں حیرانی تھی ۔
میں وضاحت کرتے ہوئے بولا۔”جی ہاں ،یہ بھی ہیوی سنائپر ہی ہے ۔“
”تم لوگوں کے پاس نظر تو نہیں آ رہی ؟“
میں جواب دیتے ہوئے بولا۔”ایک جگہ پر چھپا دی ہے ۔اور ہو سکے تو اس کا ایمونیشن منگوا دیں کیونکہ اس کے ساتھ صرف ستائیس گولیاں ہمیں ملی ہیں ۔“
”اچھا میں اپنے پاس لکھ لیتا ہوں ۔“اس نے نوٹ بک نکال کر اس پر بیرٹ ایم 107 کا نام لکھ لیا ۔
”اور ہاں گلاک نائینٹین کا ایمونیشن بھی ۔“مجھے اچانک پستول یاد آ گیا جس کی چند گولیاں ہی میرے پاس رہ گئی تھیں ۔
میجر اورنگ زیب نے فوراََ کہا ۔”اس کی پچاس گولیاں میرے پاس موجود ہیں ۔جاتے ہوئے لیتے جانا ۔“
”شکریہ سر !“میں نے اطمینان بھرا سانس لیا ۔
”میرا خیال ہے یہ گھڑی بھی تمھیں امریکن سنائپر ہی سے ہاتھ لگی ہے ؟“اس نے میری کلائی پر بندھی گھڑی کی طرف اشارہ کیا ۔
”جی سر !....“میں نے اثبات میں سر ہلایا۔”اگر پسند ہے تو میں آپ کو دے دیتا ہوں ۔“
”میں ضرو ر لیتا اگر تمھیں اس کی قیمت معلوم ہوتی اور تب تم یہ پیش کش کرتے ۔“اس نے گویاانکشاف کرتے ہوئے کہا ۔”یہ گھڑی پاکستانی کرنسی میں کم از کم ڈیڑھ لاکھ کی ہوگی ۔“
”سر !....ابھی چند ماہ پہلے جب ہم امریکہ میں سنائپر کورس کر رہے تھے اس وقت اس کی قیمت تیس ہزار امریکن ڈالر کے قریب تھی ۔آپ نے تو اس کی قیمت آدھے سے بھی گھٹا دی ہے ۔“
میری بات سن کر اس کے چہرے پر خفت بھرے تاثرات نمودار ہوئے ۔”معذرت خواہ ہوں ، میں نے محتاط اندازے کے مطابق کہا تھا ۔“
”کوئی بات نہیں سر !....یہ لیں ۔“میں نے گھڑی کلائی سے اتار کر اس کے جانب بڑھائی ۔ ”میرا خیال ہے اپنے الفاظ کا پاس آپ ضرور رکھیں گے ۔“
”کن الفاظ کا ؟“اس نے حیرانی سے پوچھا ۔
”یہی کہ اگر مجھے اس گھڑی کی قیمت معلوم ہوتی اور میں تب بھی آپ کو تحفہ دینا چاہتا تو آپ ضرور قبول کرتے ۔“
وہ پھیکی مسکراہٹ سے بولا ۔”میں نے سوچا شاید تم ناواقفیت کی بنا پر مجھے دے رہے تھے۔“
”نہیں میں اس لیے آپ کو دے رہا تھا کہ آپ کے ہاتھ پر یہ اپنی پہچان کرا سکے گی ۔ہم جیسے اگر اتنی قیمتی گھڑی باندھ لیں تو دیکھنے والے اسے نقل ہی سمجھتے ہیں ۔“
”شکریہ ذیشان !....“اس مرتبہ وہ گھڑی میرے ہاتھ سے لے کر اپنی کلائی پر باندھنے لگا ۔ میں نے جیب سے اپنی پرانی گھڑی نکال کر کلائی پر باندھ لی تھی۔
”اچھا ہم ذخیرہ ٹاپ کی بات کر رہے تھے ۔“میجر اورنگ زیب نے گفتگو کا رخ دوبارہ ہمارے مشن کی طرف موڑا۔
”سر !....اتنی دور سے ہمیں پہچان کیسے ہو گی کہ فلاں شخص ذوالجدین یا مرشد ہے ؟“میں نے کافی دیر سے ذہن میں کلبلاتے سوال کو الفاظ کی صورت میں ڈھالا۔
”اچھا سوال ہے ۔“اس نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے میرے سوال کو پسندیدگی کی سند سے نوازا۔”ذخیرہ ٹاپ سے ہماری پوسٹ ای بلاک اورشاہ جہان شہید پوسٹ پر زیادہ فائر آتا ہے مذکورہ دونوں پوسٹوں پر کوئی آدمی آڑ لیے بغیر حرکت بھی نہیں کر سکتا ۔اور ذخیرہ ٹاپ میں ان سنائپرز ہی کی وجہ سے ان دونوں پوسٹوں پر ایک مورچے سے دوسرے مورچے تک کے لیے فائری خندقیں کھودی گئیں ہیں۔ اب ہو گا یہ کہ....“وہ ہمیں اپنا منصوبہ بتانے لگا ۔اس کی بات ختم ہوتے ہی ہم دونوں نے بیک زبان کہا ۔
”سمجھ گئے سر ۔“
”گڈ ۔“اس نے اطمینان بھرے لہجے میں کہا ۔اور پھر مزید معلومات ہمارے گوش گزار کرنے لگا ۔ہم صبح کی نماز پڑھ کر ہی سو پائے تھے ۔
”اگلے دن شام کا کھانا کھا کر ہمیں رخصت کرتے وقت میجر اورنگ زیب نے کہا ۔ ”میں اگلے دس دن یہیں ہوں ،اس کے بعد شاید میں وانہ چلا جاﺅں لیکن کسی نہ کسی کی وساطت سے تمھیں میرے احکام اور ہدایات ملتی رہیں گی ۔“
”ٹھیک ہے سر !“کہہ کر ہم نے اس سے الوداعی معانقہ کیا اوروہاں سے روانہ ہو گئے ۔
٭٭٭
ڈی بلاک سے لگی نرائے کا زمینی فاصلہ پندرہ سولہ کلومیٹر سے زیادہ بن رہا تھا ۔ہم نے وہاں سے لگی نرائے ہی کا رخ کیا تھا کیونکہ اس کے دامن میں ہم نے بیرٹ ایم 107چھپائی ہوئی تھی ۔اس کے بغیر تو وچہ نرائے سے ذخیرہ ٹاپ پر فائر کرنا ناممکن تھا ۔صبح کے تین بج رہے تھے جب ہم وہاں پہنچے ۔ وہاں رکے بغیر ہم نے بیرٹ ایم 107 لی اور وہیں سے وچہ نرائے کی طرف بڑھ گئے ۔ڈریگنوو رائفل بھی میں نے وہاں نہیں چھوڑی تھی ،کیونکہ بیرٹ ایم 107 سے فائر کرنے کے بعد اس کو میں نے کہیں چھپا دینا تھا ۔یہ رائفل ہمیں کسی خاص موقع ہی پرضرورت پڑنا تھی ورنہ ڈریگنوو کی رینج میرے لیے کافی تھی۔ یوں بھی اس کا وزن ڈریگنو سے کافی زیادہ تھا اور اتنی وزنی رائفل کو ہر وقت ساتھ پھرانا آسان کام نہیں تھا۔ جبکہ اس کی ضرورت بھی کبھی کبھی پڑنا ہو ۔ طلوع آفتاب تک ہم وچہ نرائے کے دامن میں پہنچ گئے تھے۔ ایک مناسب غار ڈھونڈ کر ہم نے اپنا سامان وہیں رکھا سردی اتنی زیادہ نہیں تھی کہ ہمیں آگ جلانے کی ضرورت پڑتی ۔یوں بھی اپریل کا مہینہ ختم ہونے کو تھا ۔بلندی پر البتہ اچھی خاصی سردی پڑ رہی تھی ۔ خاص کر تیز ہوا سردی کی شدت کو بڑھا دیتی تھی ۔نومبر میں دسمبر میں تو برف باری بھی شروع ہو جاتی ہے ۔
سردار کو آرام کرنے کا کہہ کر میں بیرٹ ایم 107کو بیگ سے نکال کر جوڑنے لگا۔رائفل کو مکمل جوڑ کر میں غار کے دہانے پر آگیا ۔غار کے سامنے کافی گھنے درخت تھے ۔درختوں ساتھ ایک چھوٹی سی ٹیکری پر لیٹ کر میں نے پانسو میٹر کے فاصلے پر ایک چھوٹا پتھر چنا اور مطلوبہ رینج لگا کر ایک گولی فائر کر دی ۔اعلا کوالٹی کے سائیلنسر کی وجہ سے ہلکی سی ٹھک کی آواز آئی تھی ۔وہ پتھردو تین ٹکڑوں میں بٹ پر بکھر گیا تھا ۔ہر سنائپر اپنی رائفل کی صفر کاری اپنے طریقے سے کرتا ہے (صفرکاری کا مطلب ہے رائفل کو درست نشانہ لگانے کے لیے جانچنا) اور ضروری نہیں کہ ایک سنائپر کی صفر کی ہوئی رائفل سے دوسرا سنائپر بھی درست نشانہ لگا پائے کیونکہ ہر انسان کی ماسٹر آئی مختلف ہوتی ہے ۔اس کے باوجود امریکن سنائپر کی صفر کی ہوئی رائفل حیرت انگیز طور پر میرے مزاج کے موافق رہی تھی ۔(بہت سے قارئین کو توشاید یہ بھی معلوم نہ ہو کہ ماسٹر آئی ہوتی کیا ہے ۔فائر کرتے وقت ہر شخص کو ایک آنکھ بند کر کے فائر کرنا پڑتا ہے اور درست فائر کے لیے ضروری ہے کہ ہر فائرر اپنی ماسٹر آئی کھول کر فائر کرے ۔گو ضرورت تو نہیں لیکن قارئین کی معلومات کے لیے ماسٹر آئی معلوم کرنے کا طریقہ درج کر دیتا ہوں ۔اپنا بایاں بازو مکمل کھل کر اپنی شہادت کی انگلی کھڑی کریں ۔اپنی دونوں آنکھیں کھلی رکھتے ہوئے اس انگلی سے کسی بھی نشان پر شست لیں ۔اب باری باری اپنی دونوں آنکھیں بند کر کے دیکھیں کہ کس آنکھ کو کھلا رکھتے ہوئے اس نشان پر شست برقرار رہتی ہے ۔بس وہی آپ کی ماسٹر آئی ہے )
ایک گولی ہزار میٹر کے فاصلے پر فائر کر کے میں نے رائفل کے صفر ہونے کا یقین کیا ۔اور واپس غار میں پلٹ آیا ۔بیگ کھول کر سامان کا جائزہ لیتے ہوئے میں بے اختیار اپنا سر پیٹنے لگا ۔اس میں رکھی NSV-80 کلپ آن نائیٹ ویژن سائیٹ میرا منہ چڑا رہی تھی ۔دو تین دن پہلے زیڑہ کیل پر اگر یہ سائیٹ ہم استعمال کرتے تو روشن خان پارٹی کے کئی بندوں کو نشانہ بنا سکتے تھے ۔حالانکہ امریکن سنائپر سے سامان قبضہ کرتے وقت میں نے اچھی طرحNSV-80 کلپ آن نائیٹ ویژن سائیٹ کو دیکھا تھا، لیکن جب ضرورت پڑی اس وقت یہ سائیٹ ذہن ہی سے نکل گئی تھی ۔یہ ایک بہترین سائیٹ ہے اور سنائپر رائفل پر لگا کر اس سے رات کے اندھیرے میں بھی فائر کیا جا سکتا ہے ۔بہ ہرحال جو بے وقوفی ہونا تھی وہ تو ہو چکی تھی اس پر ماتم کرنے کا کوئی فائدہ نہیں تھا ۔
غار کے ٹھنڈے فرش پر پاﺅں پسار کر میں نے اپنے سفری تھیلے سے چنوں کے بنے ہوئے غذائیت سے بھرپور بسکٹ نکال کر کھانے شروع کر دیے ۔بسکٹ کھا کر میں نے غار سے باہر جا کر خشک لکڑیاں اکٹھی کیں اور آگ جلا کر چاے بنانے لگا ۔
سردار اپنی مرضی سے دوپہر کو بارہ بجے اٹھ گیا تھا ۔اس کے بستر سے نکلتے ہی میں لیٹ گیا ۔ تھکاوٹ سے یوں بھی آنکھیں بند ہو رہی تھیں ۔سردار کے آواز دینے پر آنکھ کھلی تو شام کا ملگجا اندھیرا چھا چکا تھا ۔رات کے وقت وچہ نرائے کی بلندی طے کرنے کا کوئی فائدہ نہیں تھا ۔یہ کام اگلے دن پر اٹھا کر ہم نے وہ رات بھی اسی غار میں گزاری ۔صبح سویرے ہم بالکل تازہ دم تھے ۔چاے پی کر ہم نے وچہ نرائے کی چڑھائی پر قدم رکھ دیے ۔ذخیرہ ٹاپ سے اس کی بلندی ذرا ہی کم تھی لیکن اس کی چڑھائی نہایت دشوار گزار اور خطرناک تھی ۔مسلسل اوپر چڑھتے ہوئے ہمیں دو گھنٹے لگ گئے تھے ۔وچہ نرائے کی چوٹی ایسی تھی کہ وہاں رہائش نہیں بنائی جا سکتی تھی ۔اس جگہ ہوا بھی خاصی تیز چل رہی تھی ۔ایک پتھر یلی چٹان سے ٹیک لگا کر ہم سستانے لگے ۔
ذخیرہ ٹاپ وہاں سے صاف نظر آ رہی تھی ۔دو بینکر سامنے تھے اور باقی کھدائی کر کے پہاڑی کے اندر بناے گئے تھے ۔میں نے دوربین نکال کر جائزہ لیا ۔ایک آدمی ان بینکرز کے اوپر ٹہلتا نظر آیا ۔
آئی کام پر میں نے ای بلاک سے رابطہ کیا ۔
”ہم بٹالین میں پہنچ گئے ہیں اوور۔“میں نے کوڈورڈ میں انھیں بتایا کہ ہم اپنی جگہ پر پہنچ چکے تھے ۔
پوسٹ کمانڈر نے جوا ب دیا ۔”شاباش،کل چھٹی نکل جانا ۔باقی پوسٹ کی فکر نہ کرو ہم چوکنا ہیں اوور۔“
”ٹھیک ہے واپسی پردوسرے چینل بات ہو گی اوراینڈ آل۔“کہہ کر میں نے بات چیت ختم کر دی ۔میں نے اسے بتا دیا تھا کہ ہم وچہ نرائے کی بلندی پر تیار بیٹھے ہیں ۔مجھے یقین تھا کہ میجر اورنگ زیب خٹک فیلڈ ٹیلی فون پرانھیں سارا منصوبہ سمجھا چکا ہوگا ۔
”سردار !....تیار ہو جاﺅ۔“بیرٹ ایم 107کی دوپائی کھول کر میں نے مناسب جگہ پر لگائی اور رائفل کاک کر کے اس کے پیچھے لیٹ گیا ۔
سردار نے سب سے پہلے تو ایل آر ایف (لیزر رینج فائینڈر)نکال کر فاصلہ ناپا۔
”سترہ سو دس میٹر۔“کہہ کر اس نے ایل آر ایف آنکھوں سے ہٹایا اور اور ونڈ میٹر نکال کر ہوا کی رفتار ناپنے لگا ۔”پندرہ کلومیٹر فی گھنٹا۔“ہوا کی رفتار بتا کر وہ ونڈ چارٹ دیکھنے لگا۔ اس دوران میں ذخیرہ پوسٹ کا زاویہ دیکھنے لگا ۔ذخیرہ پوسٹ ہم سے بلند تھی اور فائر کرتے وقت بلندی ، گہرائی اور متوازی ہدف پر فائر کرنے کے الگ الگ طریقے ہیں ۔جیسے اپنی پوزیشن سے نیچے فائر کررہے ہوں تو کشش ثقل کی وجہ سے گولی آگے جائے گی اورجب اپنی پوزیشن سے اوپر فائر کر رہے ہوں تو گولی پہلے لگے گی۔فائر کرتے وقت سنائپر کوبلندی اور پستی کا فرق نکالنا پڑتا ہے ۔حقیقت میں سنائپنگ ایک سائنس ہے ۔اورجب تک ایک سنائپر رائفل کو صحیح طریقے سے استعمال نہ کر سکے تو کامیابی کے حصول میں ناکام رہتا ہے ۔میں بہ مشکل مکمل تیار ہو پایا تھا کہ ہدف مجھے نظر آ گیا ۔بیرٹ ایم 107 کی طاقتور ٹیلی سکوپ سائیٹ میں مجھے دو آدمی بھاگ کر بینکر سے نکلتے دکھائی دیے ۔ایک نے دونوں ہاتھوں میں سنائپر رائفل اٹھائی ہوئی تھی ۔بینکر کی چھت پر سنائپر کو دوپائی پر لگا کر وہ اس کے پیچھے لیٹ گیا ۔گویا وہی میرا ہدف تھا ۔
میں نے سردار کو آئی کام آن کرنے کی ہدایت کی ۔اسی وقت ذخیرہ پوسٹ پر لیٹے سنائپر نے گولی فائر کی اور پھر مکا ایسے لہرایا جیسے اس نے کامیاب فائر کر دیا ہو ۔اس کے ساتھ ہی وہ گھٹنوں کے بل بیٹھ کر دوربین میں ای بلاک کا جائزہ لینے لگا ۔
”تھری ،ٹو ون ....“میں نے آہستہ سے دہرایا ۔اورایک سیکنڈ انتظار کر کے ٹریگر دبا دیا۔
جبکہ سردار نے وہی ہندسے آئی کام پر دہراتے ہوئے ایک کے بعد فائر کہا ۔اس کے ساتھ ہی ای بلاک کی طرف سے 12.7ایم ایم کابرسٹ چلایا گیا ۔مذکورہ سنائپر سر کے بائیں جانب میری گولی کھا کر پشت کے بل گرا تھا ۔ذخیرہ ٹاپ وچہ نرائے سے شمال کی سمت میں واقع تھی جبکہ ای بلاک ذخیرہ ٹاپ سے مغرب کی جانب تھا ۔مذکورہ سنائپر کا رخ ای بالک کی طرف ہونے کی وجہ سے اس کی بائیں جانب میری طرف تھی ۔ای بلاک سے 12.7کا فائرہ کرانے کا یہی مقصد تھا کہ دہشت گردوں کا دھیان وچہ نرائے کی طرف نہ آئے اور وہ اپنے سنائپر کی ہلاکت کی وجہ 12.7کا فائر ہی سمجھیں۔یہ علاحدہ بات کہ ذرا سا غور کرنے پر وہ حقیقت کی تہہ تک پہنچ سکتے تھے ۔
سردار خوشی سے چہکا۔”راجا صاحب!....“تمھارے فائر کی تعریف کیے بنا رہا نہیں جاتا ۔“
”شکریہ یار!“کہہ کر میں نے ٹیلی سکوپ کے عدسے سے آنکھ پیچھے ہٹا لی ۔وہ اپنے ساتھی لاش لے کر نیچے اتر گئے تھے ۔
”کنٹرول فا رای بلاک اوور۔“سردار سے آئی کام لے کر میںای بلاک کو پکارنے لگا ۔
”ای بلاک فار کنٹرول !....ہمارا ایک آدمی سنائپر کی گولی سے شہید ہو گیا ہے اوور۔“
”ہمیں تو 12.7ایم ایم کے فائر کی آواز سنائی دی تھی اوور۔“
”12.7ایم ایم سے جوابی فائر ہم نے کیا ہے اوور۔“
”ٹھیک ہے محتاط رہو ایک ہی سنتری کو گولی لگی ہے دوسرے کو نہیں اوور۔“میں نے کوڈ ورڈ میں بتا دیا کہ ایک سنائپر کو میں کامیابی سے نشانہ بنا چکا ہوں ۔
”ٹھیک ہے سر !....ہم فی الحال شہید ہونے والے کی لاش کو اگلی پوسٹ تک پہنچانے کا بندوبست کرتے ہیں اوور۔“
”کل تک خدا حافظ اوور اینڈ آل۔“میں نے اسے بتا دیا کہ اگلی کارروائی کل ہو گی ۔چونکہ آئی کام وغیرہ پر گفتگو بالکل محفوظ نہیں تھی اور ہر وقت کسی اور کے سننے کا خدشہ رہتا ہے اس لیے ہم نے ساری گفتگو یوں کی کہ کوئی اگر سن بھی رہا ہو تو وہ یہی سمجھے کہ آرمی کا آدمی دہشت گردوں کی گولی کا نشانہ بن چکا ہے ۔حالانکہ حقیقت میں ایسا کچھ نہیں تھا ۔انھوں نے کپڑوں اور روئی وغیرہ سے انسان کے اوپری جسم کا پتلا بنایا تھا یوں کہ اسے مکمل سنتری کا روپ دیا گیا تھا۔کمر سے نیچے ایک ڈنڈا باندھ کر ایک آدمی اس ڈنڈے کو پکڑ کر فائری خندق میں چھپ کر اس پتلے کو یوں دائیں بائیں حرکت دینے لگا جیسے کوئی سنتری چھت پر ٹہل رہا ۔یہ ہم نے چارے کے طور پر کیا تھا ۔کیونکہ اس سے پہلے بھی یہی ہوتا تھا کہ جونھی کوئی فوجی سامنے نظر آتا ذخیرہ ٹاپ سے فوراََ سنائپر کا فائر آ جاتا ۔ہماری چال کامیاب رہی تھی ۔فوجی کو چھت پر ٹہلتے دیکھ کر ذوالجدین یا مرشد دونوں میں سے کوئی ایک فوراََ اسے شکار کرنے کو بھاگا یوں مجھے آسانی سے پتا چل گیا کہ وہاں پر سنائپر کون ہے ۔اس کے علاوہ اتنی دور سے تو کسی کی پہچان مشکل تھی ۔
ہم اپنا سامان سمیٹ کر بلندی سے تھوڑا نیچے اتر ے ۔درختوں کے جھنڈ کے درمیان ہم رات گزارنے کی جگہ بنانے لگے ۔گو اترے تو ہم جنوب کی طرف سے تھے لیکن رات گزارنے کی مناسب جگہ ہمیں شمال کی جانبب ملی تھی ۔جگہ بنا کر میں آئی کام سے چھیڑ خانی کرنے لگا مختلف چینل تبدیل کر کے میں دشمن کی بات سننے کی کوشش کرنے لگا ۔ایک چینل پر روشن خان کی مدہم آواز سنائی دی لیکن وہ جس آدمی سے بات کر رہا تھا اس کی آواز نہیں آرہی تھی ۔ روز مرہ کی چند باتیں کرنے کے بعد ر اس کی آواز بھی غائب ہو گئی ۔ایک دو چینلز پر کوئی عام آدمی ایک دوسرے سے گفتگو کرتے نظر آئے ۔چونکہ موبائل فون اس علاقے میں کام نہیں کرتا اس لیے عام لوگ بھی آئی کام کو رابطے کے ذریعے کے طور پر کام میں لاتے ہیں ۔گو اس کی رینج اتنی زیادہ نہیں ہوتی ،لیکن چند کلومیٹر کے فاصلے پر بات ہو جانا بھی غنیمت ہی ہوتا ہے ، کہ پہاڑی علاقے میں تو چند کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنا بھی مشکل ہوجاتا ہے ۔میںزیادہ دیر اس شغل کو جاری نہ رکھ سکا یوں بھی خواہ مخواہ آئی کام کی بیٹری کو استعمال کرنا مناسب نہیں تھا ۔
رات کو ہم آگ جلا ئے رکھی تھی ۔اگلے دن ساڑھے گیارہ بجے کے قریب ہم دوبارہ بلندی کے سفر پر روانہ ہوئے ۔واپسی کے لیے ہم نے وہی رستا استعمال کیا جس سے نیچے اترے تھے ۔اپنی جگہ پر ہم پہنچنے ہی والے تھے کہ شوں کی آواز کے ساتھ ایک گولی میرے کافی قریب سے گزرتی ہوئی ہمارے عقب میں موجود چٹان سے ٹکرائی ۔میں نے لیٹنے میں دیر نہیں لگا ئی تھی ۔گولی کے پتھر سے ٹکرانے کی آواز سردار بھی سن چکا تھا ۔وہ بھی فوراََ زمین بوس ہو گیا ۔
”بال بال بچے ہیں راجا صاحب !“سردار اطمینان بھرا سانس لیتے ہوئے بولا ۔
یقینا زیادہ فاصلے کی وجہ سے نشانہ خطا ہوا ہے ۔“
”نہیں ۔“سردار نے نفی میں سر ہلایا۔”وہ بے وقوف بے صبری کا مظاہرہ کر گیا ہے ۔اگر وہ ہمارے رکنے کا انتظار کر لیتا تو شاید کامیا ب ہو جاتا ۔
رینگ کر پتھر کی آڑ لیتے ہوئے میں نے بیرٹ ایم 107 کی ٹیلی سکوپ سائیٹ کے ڈسٹ کور اتارے اور ذخیرہ ٹاپ کا جائزہ لینے لگا ۔یقینا اپنے ساتھی کے سر کی بائیں جانب لگی ہوئی گولی کی وجہ سے انھیں معلوم ہو گیا تھا کہ ان پر کس جانب سے فائر کیا گیا ہے ۔ہم بے خبری میں مار کھا گئے ہوتے لیکن فاصلے کے زیادہ ہونے اور ہمیں حرکت کے دوران نشانہ بنانے کی بے وقوفی کی وجہ سے وہ کامیاب نہیں ہو پایا تھا ۔کیونکہ حرکتی ہدف کو نشانہ بنانا ناممکن نہیں توبہت زیادہ مشکل ضرور ہے ۔
سورج قریباََ ہماری پشت پر چمک رہا تھا ۔ہوا بالکل تھمی ہوئی تھی ۔جلد ہی مجھے ٹیلی سکوپ سائیٹ کے شیشے کی چمک دکھائی دے گئی تھی ۔مخالف سنائپر قریباََ چھت سے چمٹا ہوا تھا ۔لیکن اس کی ٹیلی سکوپ سائیٹ کا شیشہ اپنی چمک کی وجہ سے واضح نظر آرہا تھا ۔اسی وقت ایک اور گولی ہمارے سامنے پڑے پتھر کی جڑ میں لگی ۔
میری رائفل کی ٹیلی سکوپ سائیٹ پر ابھی تک گزشتہ کل والی ایلی ویشن اور ڈی فلکشن لگی تھی ۔ کل چونکہ کافی ہوا چل رہی تھی اس لیے میں نے ڈی فلیکشن ناب کو ونڈ چارٹ کی ریڈنگ کے مطابق گھمادیا تھا ۔آج ہوا ساکن تھی میں نے فوراََ ڈی فلیکشن ناب کوگھما کر صفر ریڈنگ پر لگایااور دشمن کی ٹیلی سکوپ سائیٹ کے عدسے پر شست باندھ لی،کیونکہ ٹیلی سکوپ کے آئی گلاس پر لازماََ سنائپر کی آنکھ نے ہونا تھا ۔سانس روکتے ہوئے میں نے ٹریگر دبایا۔سردارنے آنکھوں سے دوربین لگائی ہوئی تھی ۔گولی کی ”ٹھک ۔“ہوتے ہی اس نے کہا ۔
”لیں جی راجا صاحب !....مشن مکمل ۔دوسرا سنائپر بھی گیا جان سے ،اس غریب کو پتا ہوتا کہ عزرائیل ثانی کا شاگرد عزرائیل ثالث مقابلے میں ہے تو یقینا ٹکر نہ لیتا ۔“
مجھے اس کی بات پر ہنسی چھوٹ گئی تھی ۔
”میں صحیح کہہ رہا ہوں یار !....ٹیلی سکوپ سائیٹ کے عدسے گولی گزارنا شاید استاد عمر دراز کے لیے بھی ممکن نہ ہو ۔“
”نہیں ۔“میں نے فوراََ نفی میں سر ہلایا۔”استاد جی !....کا فائر مجھ سے کئی گنا بہتر ہے ۔“
”چلو ای بلاک کو تو خوش خبری سنا دیں ۔“اس نے آئی کام آ ن کیا اور مطلوبہ چینل کے لیے بٹن دبایا۔ابھی تک وہ مطلوبہ چینل تک نہیں پہنچا تھا کہ ایک چینل پر روشن خان کی منحوس آواز سنائی دینے لگی ۔ اس کی صاف اور واضح آواز سنتے ہی میں نے فوراََ کہا ۔
”سردار !....ٹھہرو اس کی بات سننے دو ،ای بلاک کو بعد میں بھی اطلاع دی جا سکتی ہے ۔“وہ بٹن دبا چکا تھا ۔میری بات پر دوبارہ روشن خان والا چینل لگا دیا ۔
”آج کسی کی غلطی معاف نہیں ہو گی ۔اس لیے احتیاط سے کام لینا ۔وہ دونوں دن کی روشنی میں کہیں حرکت نہیں کر سکتے ۔?

No comments: