ﻧﺎﻭﻝ رکھیل از ریاض_عاقب_کوہلر قسط نمبر 19
ٹھیک آٹھ بجے فصیح الدین کو اپنے خاص آدمی شکیل کی کال موصول ہوئی ۔”سر ،مال کافی دیر کا پہنچاہوا ہے اور آج تو کشمالہ بیگم نے بڑی خاص چیز بھیجی ہے ۔“
”اچھا ۔“فصیح الدین نے دلچسپی سے پوچھا ۔”کیا پچھلی دفعہ والی سے زیادہ خوب صورت ہے ۔“
شکیل نے ایس پی کے سکھائے ہوئے الفاظ دہرائے ۔”سر آج تک ایسی نہیں آئی ۔ خوب صورت ،پرکشش اور کم عمر بس دو چھوٹی چھوٹی خامیاں ہیں ایک بلاکی مے نوش لگتی ہے ،کہ جس وقت سے پہنچی ہے ایک بوتل خالی کر کے دوسری کو جڑی ہے اور دوسرا ذرا بے باک ہے ، آتے ہی لباس اتار کر فقط پینٹی کوٹ میں لیٹی ہے ۔گورے بدن پر کالا پینٹی کوٹ ،یقین مانیں اگر آپ کا ڈر نہ ہوتا تو مجھ سے ضرورکوئی گستاخی ہو گئی ہوتی ۔“
”ہاہاہا۔“فصیح الدین نے بے ہنگم قہقہہ لگایا ۔”عجیب بات کر رہے ہو یار ،کم سن بھی ، بلا کی مے نوش بھی اور بے باک بھی ۔بہ ہرحال میری نظر میں یہ خوبیاں ہیں ۔اور گستاخی کیسی کل تمھارے حوالے کر دوں گا ۔“
”شکریہ سر، خوشی ہوئی ۔اور آپ کس وقت پہنچ رہے ہیں میں نے ذرا کام سے جانا تھا۔“
فصیح الدین نے کہا۔”میں بس تمھاری طرف نکل ہی رہا ہوں ۔“آج مصروفیت کی وجہ سے تھوڑی دیر ہو گئی تھی ورنہ وہ آٹھ بجے تک وہاں پہنچ جایا کرتا تھا ۔
شکیل کی ۔”میں منتظر ہوں سر !“سن کر اس نے رابطہ منقطع کر دیا ۔خوب صورت ،کم سن اور پرکشش کے الفاظ نے اس کی اشتہا بڑھا دی تھی ۔ پہلے بھی کشمالہ اس کے پاس گئی گزری لڑکیاں نہیں بھیجا کرتی تھی ،مگر شکیل نے کبھی کسی کی تعریف نہیں کی تھی ۔آج تو اس نے خصوصی طور پر لڑکی کی خوب صورتی کا ذکرکیا تھا ۔ایک بار تو اس کا جی چاہا کہ کشمالہ سے بات کر کے اس کا شکریہ ادا کر دے مگر پھر اس نے یہ کام اس لڑکی سے ملاقات تک موخّر کر دیا ۔
تھوڑی دیر بعد اس کی کار تیزی رفتاری سے مخصوص کوٹھی کی طرف اڑی جا رہی تھی۔ شکیل اسے دروازے کے قریب ہی منتظر ملا تھا ۔
”سر،آپ کے منھ سے اس کی تعریف کل سن لوں گا اس وقت اجازت دیں ۔“
”ٹھیک ہے تم جاﺅ ۔“وہ دھڑکتے دل سے مخصوص کمرے کی طرف بڑ ھ گیا ۔اس کے دونوں محافظ چوکیدار کے ساتھ ہی رک گئے تھے ۔کمرے کا دروازہ کھولتے ہی اس کی نظر پر تعیش بیڈ کی طرف اٹھی جس پر وہ قتالہ عالم لیٹی تھی ۔آنکھوں میں خمار ،ہونٹوں پر مسکان ،مختصر پینٹی کوٹ سے چھلکتا سنگ مرمر سا شفاف بدن ۔ایک دفعہ تو لرز کر رہ گیا تھا ۔
”کیا بات ہے کشمالہ بیگم ،تم انعام کی حق دار ٹھہریں ۔اور تم بھی بے بی، کم از کم ایک سال تک تو تمھاری خدمات میرے حوالے ہی رہیں گی ۔“تناوش خمار آلود نظروں سے اسے گھورتی رہ گئی تھی ۔
”شاید کچھ زیادہ ہی چڑھا گئی ہو ۔“وہسکی کی دو خالی بوتلوں کو دیکھتے ہی وہ مسکرایا ۔ ”بہ ہر حال دس پندرہ منٹ تک سنبھل سکتی ہو تو ٹھیک ہے نہیں تو مدہوشی میں بھی قابل قبول ہو ۔“ اس کا گال تھپتھپاتا ہوا وہ غسل خانے میں گھس گیا ۔نہاتے ہوئے وہ بے ساختہ گنگنا رہا تھا ۔نہا کر وہ ہلکے پھلکے کپڑے پہن کر باہر نکلا ۔پر ہوس نظروں سے تناوش کے خوشنما بدن کو دیکھتے ہوئے اس نے گھنٹی بجائی ۔کوٹھی کی صفائی اور جھاڑ پونچھ کے لیے اس نے مستقل ملازمہ رکھی ہوئی تھی ۔وہی اسے رات کا کھانا اور صبح سویرے ناشتا وغیرہ پیش کرتی تھی۔اسے فصیح الدین کے پسندیدہ پکوان اور وہاں آنے کے اوقات وغیرہ کا اچھی طرح پتا تھا کہ برسوں سے وہاں نوکری کر رہی تھی ۔
گھنٹی کے جوا ب میں وہ چند منٹ بعد ہی گرما گرم کھانے کے ہمراہ اندر داخل ہوئی ۔ دیسی گھی میں تلے قیمہ بھرے کبا ب ، نمکین گوشت اور روسٹ دیسی مرغ اس رات کی مخصوص خوراک ہوتے ۔ میٹھے میں عمدہ قسم کی کھیر جس میں پسے ہوئے بادام ،پستہ ،اخروٹ وغیرہ شامل ہوتے تھے۔
کھانے کے برتن شیشے کی میز پرسجا کر ملازمہ الماری کی طرف بڑھی اوروہاں سے وہسکی کی سر بہ مہربوتل نکال کر اس کے سامنے رکھتے ہوئے وہ باہر نکل گئی ۔
”آجا ﺅ بے بی!“اس نے پیار بھرے انداز میں تناوش کو پکارا ۔مگر وہ ٹس سے مس نہ ہوئی ۔
”خفا ہو جانِ من ،اتنے نخرے کس لیے ۔“اس کی بکواس جاری رہی ۔تین چار دفعہ پکارنے کے بعد بھی جب وہ قریب نہ آئی تو وہ کندھے اچکاتے ہوئے کھانے کی طرف متوجہ ہو گیا۔کھانے کھاتے ہوئے بھی اس کی پر ہوس نگاہیں تناو ش پر گڑی رہیں۔کھانا کھا کر اس نے ملازمہ کو بلانے کے لیے گھنٹی بجائی ۔وہ دروازے ہی پرموجود تھی چراغ کے جن کی طرح فوراََ نمودار ہوئی ۔جب تک فصیح الدین رات کے شغل میں مصروف نہیں ہوتا تھا وہ یونھی دروازے پر موجود رہتی ۔وہ برتن سمیٹنے کو بڑھی ۔
”پہلے ایک گلاس میں خالص لیموں نچوڑ کر لے آﺅ ،ہماری خوب صورت مہمان کچھ زیادہ ہی چڑھا گئی ہے۔“
وہ ۔”جی صاحب ۔“کہہ کر واپس مڑ گئی ۔فصیح الدین جلدی جلدی اپنا گلاس ختم کرنے لگا ۔گو ہمیشہ اسے کوئی جلدی نہیں ہوا کرتی کہ اس کے پاس پوری رات کا وقت ہوتا تھا ۔ لیکن نہ جانے اس لڑکی میں ایسی کون سی کشش تھی کہ وہ جلد از جلد اس کے قریب جانا چاہتا تھا ۔
ملازمہ جلد ہی لیموں نچوڑ کر لے آئی ۔
”پلاﺅ اسے ۔“وہ بوتل سے آخری گلاس بھرنے لگا ۔
ملازمہ نے سہارا دے کر تناوش کو اٹھایا اور اس کے منھ سے گلاس لگا دیا ۔نچوڑے ہوئے لیموں پینے سے پہلے ہی اس کی آنکھوں میں ہوش مندی کی چمک ابھرنا شروع ہو گئی تھی ، شاید دوائی کا اثر ختم ہونا شروع ہو گیا تھا ۔کھٹے پانی نے اس کے دماغ پر چھائے ہوئے خمار کو کم کرنے میں اور بھی تیزی دکھائی تھی ۔ملازمہ کے برتن سمیٹ کر نکلنے تک اس کی حالت پہلے سے کافی بہتر ہو گئی تھی ۔اسے یوں لگ رہا تھا جیسے وہ گہرئی نیند میں ہو بار بار سر کو جھٹکتے ہوئے وہ نیند کو بھگانے کی کوشش میں لگ گئی ۔
فصٰح الدین آخری گلاس معدے میں انڈیل کر مستی سے لہراتا ہوا اس کی طرف بڑھا ۔ شراب کی بوتل سے زیادہ نشہ تو اسے دیکھ کر چڑھ رہا تھا ۔
اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے وہ ساتھ جڑکر بیٹھ گیا ۔”یقین نہیں آتا کوئی لڑکی اتنی بھی خوب صورت ہو سکتی ہے ۔تم آج تک کہاں چھپی تھیں ۔“
آہستہ آہستہ شعور کی طرف آتی تناوش کو اس کے ہاتھ کا لمس ناگوار محسوس ہوا ۔اس نے کمزوری سے اپنا ملائم ہاتھ اس کے ہاتھ سے چھڑانے کی کوشش کی ۔
”کیا ہوا جانِ من ،اتنا اعراض کس لیے ؟“فصیح الدین نے ایک دم اسے اپنی آغوش میں سمیٹا ۔
”چھوڑ و مجھے ۔“دونوں ہاتھ اس کے چھاتی پر رکھتے ہوئے اس نے فصٰح الدین کو دور دھکیلا اور اس کوشش میں ایک جانب گرپڑی ۔
”نشہ نہیں اترا میری جان ۔“فصیح الدین اس کی حالت سے لطف اندوز ہونے لگا ۔
دوائی کا اثرکافی حد تک اتر گیا تھا ۔وہ سیدھی ہو کر فصیح الدین کی طرف متوجہ ہوئی ۔
”مم....میں کہاں ہوں ۔“اس کے لہجے میں وحشت بھری تھی ۔
فصیح الدین نے قہقہہ لگایا۔”ارے اتنی جلدی بھول گئی ہو ،ابھی تو پارٹی شروع بھی نہیں ہوئی ۔“
”کک ....کون ہو تم ....میں یہاں کیسے ؟“وہ بے اختیار بیڈ کے دوسرے کونے کی طرف کھسکی اور اسی وقت اس کی نظر اپنے جسم پر پڑی ۔”کک....کپڑے ،میرے کپڑے ۔“وہ وحشت زدہ انداز میں سمٹ گئی ۔
”پہنے توہوئے ہیں ۔“فصیح الدین نے اس کے ناکافی لباس کی جانب اشارہ کیا۔وہ اس کی حالت سے لطف لے رہا تھا ۔کیوں کہ اس کے تئیں وہ نشے میں تھی ۔
اسی وقت تناوش کی نظر تکیے کے ساتھ پڑے اپنے لباس پر پڑی اس نے جھپٹ کر کپڑے اٹھالیے ۔
”جان من ،ابھی پہننے نہیں اتارنے کا وقت ہے ۔“فصیح الدین اسے پچکارتے ہوئے کپڑے اس کے ہاتھ سے لینے لگا ۔
”چھوڑو میرے کپڑے ،ذلیل کمینے ....کون ہو تم ....چھوڑو ۔“وہ مکمل ہوش میں آگئی تھی اور خود کو اس حالت میں دیکھ کر حواس باختہ ہو رہی تھی ۔
”ارے تم تو کاٹ کھانے کو دوڑ رہی ہو ....اور میرے پاس وقت تو کافی ہے مگر اتنا صبر نہیں ہے کہ تمھارے نشہ ختم ہونے کا انتظار کروں ۔“اس نے ایک دم آگے بڑھ کر اسے پکڑنے کی کوشش کی ،مگر اسے دھکا دے کر تناوش بیڈ سے نیچے اتر گئی ۔
”تم نے ضرور ورزش کروانی ہے جانِ من ۔“وہ بھی جارحانہ انداز میں بیڈ سے اتر گیاتھا۔
”خخ....خدا کے لیے مجھے چھوڑ دو ....تمھیں اللہ کا واسطہ ۔“تناوش گڑگڑانے لگی ۔
”پریشان کیوں ہوتی ہو جانِ من کوئی پہلی بار تو نہیں ہے کہ تمھیں ڈر لگے ۔تمھارا تو کاروبار ہی یہی ہے ۔“
تناوش ایک دم دروازے کی طرف دوڑی مگر فصیح الدین نے چھلانگ لگا کر اسے پکڑ لیا تھا ۔وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس کے محافظ وہ تماشا دیکھیں ۔اسے دھکا دے کر بیڈ پر گراتے ہوئے وہ اس کی طرف بڑھا ۔
”شاید تمھیں زبردستی ہی میں مزہ آتا ہے ۔“پرہوس لہجے میں کہتے ہوئے وہ اس کی طرف بڑھا۔
”خدا کے لیے چھوڑ دو۔“تناوش نے اس کے سامنے ہاتھ باندھ لیے تھے ۔اور پھر فصیح الدین کو بے نیازی سے اپنی جانب بڑھتا دیکھ کر وہ چلائی ....”بچاﺅ ....بچاﺅ....کوئی ہے۔“
”میں ہوں نا ۔“وہ اس کے چیخنے چلانے کی پروا کیے بغیر اس کی طرف بڑھتا گیا ۔
”کبیر ....کبیر آجاﺅ نا ۔“اس کے دل نے شدت سے کبیر دادا کو یاد کیا ۔”تم نے وعدہ کیا تھا نا میری حفاظت کا ،کہاں ہو آجاﺅ نا ،دیکھو میری خاطر نہیں اپنی انا اور زبان کی پاسداری کے لیے ہی آجاﺅ ....یااللہ پاک میرے کبیر کو میری حالت کی خبر تو دے دے ۔یااللہ اسے میری نجات کا وسیلہ بنا کر بھیج دے ۔یااللہ اسے بتا تو دے کہ اس کے دھتکارنے پر میں کس طرح بھیڑیوں کے چنگل میں پھنس گئی ہوں ۔“کہتے ہیں مشکل گھڑی میں اللہ پاک یاد آتا ہے اور پھر وہ شخص یاد آتا ہے جس سے انسان ہت محبت کرتا ہوا ۔وہ بھی اللہ پاک سے کبیر دادا کو وہاں لانے کی دعائیں مانگ رہی تھی ۔اور مناجات کے ساتھ اس کی حرکت بھی نہیں رکی تھی ۔وہ بیڈ کے دوسری جانب اتر گئی ۔
فصیح الدین بیڈ سے گھوم کر اس کی طرف بڑھا اور وہ بھاگ کردوسری جانب گھوم گئی ۔
وہ ہونٹوں پر زبان پھیرتا ہوا بولا ۔”افف....تمھارا تو پتا نہیں مگر مجھے چوہے بلی کے اس کھیل میں بڑا مزہ آرہا ہے ۔“
”تمھیں اللہ کا واسطہ ....سوہنڑیں رسول کا واسطہ ....مجھے جانے دو ۔“اس نے ایک مرتبہ پھر دہائی دی ۔یہ کہتے ہوئے وہ کوشش کر کے پھر دروازے کی جانب بھاگی ،فصیح الدین نے دو چھلانگوں میں اسے جا لیا تھا ۔
”ا ب پکڑی گئی ہو اور کھیل شروع۔“فصیح الدین نے اسے دونوں بازوﺅں سے پکڑا۔
”چھوڑو مجھے.... ذلیل کمینے ....بچاﺅ ....بچاﺅ ۔“مچل کر اس سے جان چھڑانے کے ساتھ وہ زبان سے چیخنا بھی شروع ہو گئی تھی ۔مگر فصیح الدین کا اس بھاگ دوڑ سے دل بھر چکا تھا ۔مچلتی حسینہ کو اپنی جانب کھینچتے ہوئے وہ مکروہ لہجے میں بولا۔
”اب بس بھی کرو نا جانِ من اتنی بے رخیاں بھی اچھی نہیں ہوتیں ۔“تناوش کے گڑگڑانے ،چیخنے چلانے اور اسے برا بھلا کہنے کی وہ مطلق پروا نہیں کر رہا تھا ۔
”خدا کے لیے چھوڑ دو ....مجھے جانے دو ....معافی دے دو ۔“تناوش نے دونوں ہاتھ اس کے سامنے باندھ دیے تھے ۔
”جان من ،تم چھوڑنے کی چیز تو نہیں ہو ....“اس نے پر ہوس لہجے میں کہتے ہوئے اسے اپنی جانب کھینچا ۔تناوش نے چیختے ہوئے آنکھیں بند کر لیں تھیں ،اس کی بد بختی اور بدنصیبی پر فصیح الدین کی ہوس کی مہر ثبت ہونے میں کوئی شبہ بقایا نہیں تھا ۔
٭٭٭
اس نے سارا دن گھر ہی پر گزارا تھا ۔راحت خالہ نے ناشتے اور دوپہر وغیرہ کے کھانے کی بابت پوچھا تھا مگر اس نے انکار کر دیا تھا ۔کمرے کی ابتر حالت دیکھ کر اس نے سامان سمیٹنے کی کوشش پر وہ غصے و بیزاری بھرے لہجے میں بولا ۔”راحت خالہ ،رہنے دو ۔“
”صاحب جی !....“اس نے کچھ کہنے کے لیے لب کھولنے چاہے ۔
”کہہ دیا نا ۔“قطع کلامی کرتے ہوئے اس نے راحت خالہ کو کمرے سے چلے جانے کا اشارہ کیا ۔اور وہ سر جھکاتے ہوئے باہر نکل گئی ۔
”نہیں ہے ضرورت ترتیب کی ،ایسے ہی رہے گا میرا کمرہ ،کسی کو ضرورت نہیں میرا خیال رکھنے کی ....نفرت کرتا ہوں میں تم سے ....سن رہی ہونا ،مجھے تم سے نفرت ہے ، بے حد نفرت ۔“موبائل سکرین پر اس کی فوٹو لاتے ہوئے وہ بے ربط باتیں منھ سے نکالتا رہا ۔
”اب تمھاری کال بالکل بھی وصول نہیں کروں گا ،تمھارے کپڑے بھی پھینک دو ں گا۔“ جینز کی پتلون اور پھول دار قمیص اس نے اپنے ساتھ بیڈ ہی رکھی ہوئی تھی ۔”تمھاری ساری تصاویر اپنے موبائل فون سے مٹادوں گا ....تم مجھے نہیں جانتیں ،میرا نام کبیر علی خان ہے اور لوگ مجھے کبیر دادا کہتے ہیں ....کبیر دادا کو کسی کی پروا نہیں ،کسی کی بھی نہیں ....تمھاری بھی نہیں ۔“ تناوش کی گنگناتی ہنسی اس کے کانوں میں گونجی ۔
”ہنس لو....مگر میں تمھیں بھلا کر دکھاﺅں گا ....کبیر دادا نے کبھی شکست تسلیم نہیں کی، کبیر دادا ہارنا نہیں جانتا ....اگر تم سمجھتی ہو کہ تمھارے دروازے پر محبت کی بھیک مانگنے آﺅں گا تو بھول ہے تمھاری ....کبیر دادا کو جھکنا نہیں آتا ....اور تم جیسی دو ٹکے کی چھوکری کے لیے میں اپنے مقام سے نیچے آنے کا میں سوچ بھی نہیں سکتا ۔میں تمھیں اپنی زندگی سے دفع کر چکا ہوں ۔ اگر تم نہ جاتیں تو ایک دو دن بعد تمھیں خود ٹھوکر لگا دیتا ....بس افسوس اس بات کا ہے کہ مجھے پہلے ہی یہ کام کر لینا چاہیے تھا۔“
اس کے کان میں تناوش کی سرگوشی گونجی ۔”لڑکی بھی ہوں ،دوست بھی ہوں ،محبوبہ بھی ہوں اور بیوی بھی ۔اتنے رشتوں کے ہوتے ہوئے بھی مجھے نظر انداز کرتے رہتے ہیں آپ۔“
”خاموش....بند کرو بکواس،نہیں ہو تم میری دوست اور تم جیسی لڑکی کو محبوبہ بناتی ہے میری جوتی ۔بڑی آئی کبیردادا کے دل میں جگہ بنانے ۔“موبائل آنکھوں سے دور کرتے ہوئے اس نے ایک طرف رکھا اور آنکھیں بند کر دیں ۔ہنستی مسکراتی تناوش جھٹ سے اس کی آنکھوں کے سامنے آدھمکی ۔وہ کچھ گنگنا رہی تھی ،شاید اسے سلانے کی کوشش کر رہی تھی ۔کبیر دادا کے سانس بوجھل ہونے لگے جانے کتنے گھنٹوں سے وہ سو نہیں سکا تھا ۔نیند میں وہ اس کے ساتھ اٹھکیلیاں کرتی رہی ۔ویسے ہی شوخی اور شرارت بھرے اندازمیں ،وہی محبت ،چاہت اور خلوص سے لبریز رویہ ،اسی طرح اپنا آپ اس پر نچھاور کرنے کے لیے تیار ،پہلے کی طرح اس کا خیال رکھنے والی ۔
آنکھ کھلنے پر اسے خوا ب گاہ میں اندھیرا چھایا نظر آیا ۔جاگتے ہی خواب کے خوب صورت مناظر اس کی آنکھوں میں گھوم گئے ۔
”کہاں چلی گئی ہو تناوش !....آ جاﺅ نا، میں ہار ا اور تم جیتیں ،بس کر دو اب برداشت ختم ہو گئی ہے ۔تم بن ،تم سے دور ،تمھارے علاوہ نہیں رہ سکتا ۔تم جو کہو گی وہی کروں گا ۔تم کہتی تھیں کہ تمھیں چندا ،گڑیا اور جانو کہوں ....آجاﺅ یہی کہوں گا ۔تم میری گود میں لیٹنا چاہتی تھیں ،قسم سے پوری رات گود میں لے کر بیٹھا رہوں گا ۔میرے ساتھ شاپنگ پر جانے کی خواہاں تھیں ،جب بھی کہو گی لے کر جاﺅں گا ۔میرے ہاتھ سے پہلا نوالہ کھانے کی خواہش تھی ،وعدہ کرتا ہوں پورا کھانا اپنے ہاتھ سے کھلاﺅں گا ۔میری شراب نوشی کی عادت بری لگتی تھی،آکر آزما لوتمھارے سامنے کبھی نہیں پیوں گا ،ساحل سمندر پر میرے بازوﺅ ں میں سما کر سیر کرنا چاہتیں تھیں ،میں بھی اب یہی چاہتا ہوں ،ایک موقع تودے دو تمھیں اٹھا کر میلوں چلوں گا ۔جب کہو گی کام پر نہیں جاﺅں گا، جب چاہو گی ہوٹل میں جا کرکھانا کھائیں گے ۔تم میرا اعتراف سننا چاہتیں تھیں ،ہر لمحہ اقرار کروں گا کہ تم دنیا کی خوب صورت ترین ،پیاری ترین گڑیا ہو ،نہ تم جیسی کوئی تھی اور نہ ہو گی ۔ آجاﺅ نا گڑیا بس ایک موقع دے دو میں ساری زیادتیوں کا ازالہ کردوں گا،تمھارے ساتھ بارش میں بھی بھیگوں گا دونوں مل کر چٹنی اور پکوڑے کھائیں گے ۔“پتا نہیں کون کون سے خیال اس کے دماغ میں آ رہے تھے ۔
چند لمحے کروٹیں بدلنے کے بعد اس نے بیڈ چھوڑ دیا ۔تھوڑی دیر بعد وہ ٹریک سوٹ پہن کر جم میں داخل ہورہا تھا ۔دس پندرہ منٹ رسی کود کر اس نے جسم کو گرم کیا اور پھر پنچنگ بیگ پر مکے برسانے لگا ۔پسینہ دھاروں کی صورت میں اس کے چہرے اور گردن پر بہہ رہا تھا ۔مسلسل آدھا گھنٹا پنچنگ بیگ کی پٹائی کرکے اس نے گلاﺅز اتارے اور گہرے سانس لیتا ہوا جم سے باہر نکل آیا ۔اچانک اس کا موبائل فون بجنے لگا ۔سکرین پر ابھرنے والا بغیر نام کا نمبر اس کا دل دھڑکا گیا تھا ۔اسے لگا تناوش کا فون ہے ۔دل ہی دل میں اپنا مقدمہ لڑنے کے لیے تیار ہو کر اس نے کال وصول کرنے والا بٹن دبا دیا ۔
”اسلام علیکم !....کیا میں کبیردادا سے مخاطب ہونے کی سعادت حاصل کر رہا ہوں۔“نامانوس سی آواز نے اس کے دل میں مایوسی بھر دی تھی ۔
”بولیں ۔“اس کے لہجے میں بیزاری تھی ۔
”دادا ،میں شکیل احمد بات کر رہا ہوں ۔آپ مجھے نہیں جانتے ،مگر میں آپ کا بہت بڑا معتقد ہوں ۔آپ ہمیشہ سے میرے ہیرو رہے ہیں ۔“
”شکریہ اور میں تھوڑا مصروف ہوں اس لیے اجازت چاہوں گا ۔“
”کال نہ کاٹنا دادا،بہت ضروری بات کرنا ہے ۔“
”بولو۔“اس نے کوفت زدہ انداز میں کہا ۔
”آپ کی بیوی کو فصیح الدین نے اغوا ءکر لیا ہے اور وہ اس وقت اس کے عیاشی کے اڈے پر ہے ۔“
”کیا ....“ایک دم اس کے خون کی گردش تیز ہو گئی تھی ۔”اور تم میری بیوی کو کیسے جانتے ہو ۔“
وہ تیز لہجے میں تفصیل بتاتا ہوابولا۔”جانتا ہوں دادا ،شاہ جی کے گھر میں ہونے والی تقریب میں میں نے بھابی کوسرخ رنگ کا دوپٹا لپیٹے ہوئے دیکھا تھا ۔بدقسمتی سے میں فصیح الدین صاحب کے عیاشی کے اڈے کا انچارج ہوں ۔اور ابھی تھوڑی دیر پہلے دو آدمی انھیں لے کر میرے پاس آئے تھے ۔وہ بے ہوش تھیں ۔انھیں دیکھتے ہی میں پہچان گیا ۔اور اب کوٹھی سے باہر نکل کر آپ کو کال کر رہاہوں ۔جلدی آئیں دادا،بھابی کی عزت خطرے میں ہے ۔فصیح الدین اس کے ساتھ اکیلے کمرے میں موجود ہے ، مجھ میں اتنی ہمت اور حوصلہ نہیں ہے کہ اس کا مقابلہ کر سکوں ۔“
”اگر یہ جھوٹ ہوا تو ....“
”دادا ،یہ تحقیقات کا وقت نہیں ہے ۔میں جانتا ہوں آپ ڈرنے والے نہیں ہیں۔ میری غلط بیانی سے شاید آپ کو اتنا نقصان نہ ہو لیکن میرے سچے ہونے پر ،جیسا کہ میں ہوں اگر آپ نے سرعت سے اقدام نہ کیا تو شاید ساری عمر پچھتا تے رہیں ۔“
”پتا بتاﺅ ۔“اس کے لہجے میں آگ کی سی تپش تھی ۔
شکیل نے فوراََ مطلوبہ کوٹھی کا پتا دہرا دیا ۔رابطہ منقطع کرتے ہوئے وہ باہر کی طرف بھاگا ۔
”عظیم ....عظیم گاڑیاں نکالو ۔“ملازموں کے کواٹرز کی طرف بھاگتے ہوئے وہ زور زور سے چلارہاتھا ۔اس کے محافظ جس حالت میں تھے کمروں سے نکل کر باہر بھاگتے چلے آئے ۔
”گاڑیاں نکالو ....وقت نہیں ہے ۔“وہ دھاڑا ۔اس کے ڈرائیور شہزاد نے سرعت سے گیراج میں کھڑی مرسڈیز باہر نکالی ۔اس کے ساتھ والی نشست پر جگہ سنبھالتے ہوئے وہ چلایا ۔”جلدی چلو اورنگ زیب کالونی میں جانا ہے ۔“شہزاد نے ہونٹ بھینچتے ہوئے کار بھگا دی۔ چوکیدار بھی کبیردادا کے چلانے کی آواز سن چکا تھا اس نے دروازہ کھولنے میں ایک لمحہ بھی نہیں لگایا تھا ۔
اس کے محافظ اورنگ زیب کالونی کا نام سن چکے تھے وہ فوراََ اپنی جیپیں نکالتے ہوئے پیچھے چل پڑے ۔
”تیز چلو ....کسی اشارے پر رکنے کی ضرورت نہیں بس چلتے جاﺅ۔“کبیردادا کے لہجے میں شامل غصہ اور بے صبری سے شہزادکا دل دہلا جارہا تھا ۔وہ پوری رفتار سے مرسڈیز کو بھگائے گیا ۔
ان کے عقب میں آنے والی جیپ میں امتیاز بڑے یقین سے دعوا کر رہا تھا ۔ ”میں قسم کھا سکتا ہوں کہ یہ نمازن کا معاملہ ہے ۔“
”یار تمھارے دماغ میں ہر وقت وہی گھسی ہوتی ہے ۔“بخش نے اسے جھڑکا ۔
”شرط لگا لو ۔“امتیاز نے اسے للکارنے میں دیر نہیں لگائی تھی ۔
”بھاڑ میں جاﺅ ۔“غصے بھرے لہجے میں کہتے ہوئے بخش نے چپ سادھ لی تھی ۔
شہزاد بڑی مہارت سے گاڑیوں کو اورٹیک کرتا ہوا مطلوبہ سمت میں روانہ تھا ۔
”شہزاد تیز چلو ....“گہرے سانس لیتا ہوا کبیر دادا نہایت غصے اور بے چینی میں دکھائی دیتا تھا ۔اسے اتنا پریشان شہزادنے پہلے کبھی نہیں دیکھا ۔
مسلسل بیس منٹ تیز رفتاری سے ڈرائیونگ کرتے ہوئے وہ اورنگ زیب کالونی کی کشادہ سڑک پر مڑے ۔وہاں رش کم تھا ۔شہزاد نے کار کی رفتار مزید بڑھا دی تھی ۔
”بلاک نمبر تین گلی نمبردومکان نمبر پچیس اے ۔“اس نے مکمل پتا دہرا دیا ۔
شہزاد نے بلاک نمبر تین کی گلی نمبر دو میں کار موڑدی ۔چوڑی گلی میں چوتھے نمبر پران کا مطلوبہ مکان تھا ۔اس نے جونھی ہی کار گیٹ کے سامنے جا کر روکی ،محافظوں کی جیپیں بھی اس کے پیچھے پہنچ گئی تھیں ۔
اسی وقت عظیم پچھلی جیب سے باہر نکل کر دوڑ کر اس کے قریب پہنچا ۔
وہ عظیم کی طرف متوجہ ہوا ۔”یہ کس کا مکان ہے ۔“
عظیم سرعت سے بولا ۔”فصیح الدین کا ۔“
”ہوشیار رہنا ۔“کہہ کر وہ داخلی دروازے کی طرف بڑھا ۔اسی وقت ذیلی کھڑکی کھول کر چوکیدار باہر نکل آیا تھا ۔
”جی صا ب....“اس نے پوچھنے کے لیے لب کھولے ،مگر اس کا فقرہ مکمل ہونے سے پہلے کبیر دادا کا بازو گھوم چکا تھا ۔کنپٹی پر لگنے والا مکا اسے سوال و جواب کی دنیا سے بہت دور لے گیا تھا ۔
کبیر دادا فوراََ اندر داخل ہوا ۔سیمنٹ کی روش پر اسے فصیح الدین کی کار کھڑی نظر آئی تھی اور اس کے ساتھ کرسیاں ڈال کر اس کے دونوں محافظ بیٹھے تھے ۔گاڑیوں کے رکنے کی آواز وہ سن چکے تھے اور اس وقت دروازے ہی کی جانب متوجہ تھے ۔کبیردادا کو دندناتے ہوئے اندر داخل ہوتا دیکھ کر وہ چہروں پر حیرانی بھرے تاثرات سجائے کھڑے ہو گئے تھے ۔
”کبیر دادا ،آپ یوں کیسے ایک دم ....“اس کے قریب پہنچنے پر ایک محافظ نے سوال کرنا چاہا ۔مگر کبیر دادا کے پاس اس وقت سوال جوا ب اور وضاحتوں کا وقت بالکل بھی نہیں تھا ۔ وہ ایک دم اچھلا ،ایک محافظ کی ٹھوڑی پر اس کا دایاں مکا اور دوسرے کی پسلیوں میں اس کا گھٹنا زور دار انداز میں لگا ۔وہ دونوں ۔”اوغ اور ہائے ....“ کی مختلف آوازیں نکالتے ہوئے ڈھیر ہو گئے تھے ۔وہ ان کا انجام دیکھنے کے لیے رکا نہیں تھا ۔امتیاز اور بخش اس کے پیچھے پیچھے چلتے آرہے تھے ۔ اندرونی عمارت میں داخل ہوتے ہی وہ ڈرائینگ روم سے گزر کر آگے بڑھا ۔شاید مطلوبہ کمرہ ڈھونڈنے میں اسے تھوڑی دیر لگ جاتی مگر اچانک ہی ایک کمرے کے اندر سے ....
”خدا کے لیے چھوڑ دو ....مجھے جانے دو ....معافی دے دو ۔“کی آواز ابھری ۔ تناوش کی آواز وہ کیسے نہ پہچانتا ۔اس کی نس نس میں بجلیاں بھر گئی تھیں۔ وہ دوڑتا ہوا دروازے کی طرف بڑھا ،اسی وقت اس کے کانوں میں تناوش کی چیخ گونجی اور دروازے کو پاﺅں کی ٹھوکر اسے کھولتا ہوا وہ اندر گھستا چلا گیا ۔اندر کے منظر نے اس کے غصے کو کئی گنا بڑھا دیا تھا ۔فصیح الدین چیختی چلاتی تناوش کو کھینچ کر گلے سے لگانے کی کوشش کر رہا تھا ۔تناوش اس وقت ناکافی لباس میں تھی ۔
دروازہ کھلنے کی آواز پر فصیح اس طرف متوجہ ہوا ۔کبیر دادا کو دیکھتے ہی اس نے تناوش کو چھوڑ دیا تھا ۔اندرونی منظر پر نگاہ ڈالتے ہی امتیاز پارٹی دروازہ بند کر کے باہر رک گئے تھے ۔وہ جانتے تھے کہ فصیح الدین جیسے تین چار پر بھی کبیر دادا بھاری تھا ۔اور کبیردادا کی بیوی کو ناکافی لباس میں دیکھ کر ان کا اندر داخل ہونا لازماََ معیو ب تھا۔
”کبیردادا تم ۔“
”اپنی موت کیوں نہیں کہتے ۔“ اس کے لہجے میں شامل تپش نے فصیح الدین کو لرزا دیا تھا ۔
”کیا ہوا اور یہ کیا بدتمیزی ہے ۔“ ابھی تک اس کی سمجھ میں کبیر دادا کی آمد نہیں آئی تھی۔
”تم نے بہت بری موت کا انتخاب کر لیاہے فصیح الدین ۔“دانت پیستے ہوئے کبیردادا کا بازور گھوما ،زوردار تھپڑ نے فصیح الدین کو دو گز دور فرش پر اچھال دیا تھا ۔
تڑپ کر اٹھتے ہوئے اس نے کبیر دادا پر حملہ کر دیا ۔آخراپنی عرفیت ،فاصی ہتھ چھٹ کا ثبوت تو اس نے دینا تھا ۔اور یہ کوشش اسے مہنگی پڑی تھی ۔اپنے سر کو چند انچ حرکت دے کر کبیر دادا نے اس کا وار ہوا میں اڑایااور اس سے پہلے کہ وہ اپنا ہاتھ پیچھے کھینچ پاتا ،اس کی کلائی پر گرفت جماتے ہوئے کبیردادا نے اسے کھینچ کر دیوار پر دے مارا ۔
اپنے دونوں ہاتھ سامنے ٹیک کر فاصی نے اپنا سر دیوار سے لگنے سے بچایا ،مگر اس سے پہلے کہ وہ پیچھے مڑ پاتا ،کبیردادا کی زور دار ٹھوکر اس کے کندھوں کے بیچ لگی ۔اس مرتبہ وہ اپنا سر دیوار سے لگنے سے نہیں بچا سکا تھا ۔اس کے ماتھے سے بے اختیار خون بہنے لگا۔
دھاڑ مارتے ہوئے وہ پیچھے مڑا اور ایک بار پھر کبیردادا کو چوٹ پہنچانے کی کوشش کی ، مگر کبیردادا اس وقت چھلاوا بنا ہوا تھا ۔اپنی جان حیات کی بے حرمتی اس سے کہاں ہضم ہو سکتی تھی۔فاصی کے حملے کو ناکام بناتے ہوئے کبیر دادا نے اس کا بازو پکڑ کر اپنی جانب کھینچا اور بازو کے سیدھا ہوتے ہی اس کی ہتھیلی کا اندرونی حصہ زور دار انداز میں فاصی کے کہنی کے جوڑ سے ٹکرایا ۔”کٹاک۔“کی آواز کے ساتھ فاصی کے منھ سے زور دار چیخ برآمد ہوئی ۔اس کا بازو کہنی کے جوڑ سے ٹوٹ گیا تھا ۔اس کی چیخ سے بے پروا کبیردادا نے اس کے دوسرے بازو کو پکڑ کر مروڑا ،وہ بے اختیار الٹا گھوم گیا تھا ۔اس کی پیٹھ پر دائیں لات ٹیکتے ہوئے کبیر دادا نے اس کے بازوکو پیچھے کھینچا ۔اس مرتبہ فاصی ہتھ چھٹ کے منہ سے پہلے سے بھی زوردار چیخ نکلی تھی ۔اس کے دوسرے بازو کا جوڑکندھے سے نکل گیا تھا ۔اس کا جسم درد اور تکلیف کی شدت سے مسلسل کانپ رہا تھا ۔کبیر دادا اس کی اذیت سے بے پروا اپنے کام میں لگا ہوا تھا اس کے کانوں میں تو بس اپنی تناوش کی چیخ اور گڑگڑانا ہی گونج رہا تھا ۔فاصی کو گردن سے پکڑ کر اس نے ایک ہی ہاتھ سے اوپر اٹھا لیا ۔اس کے دونوں بازو بے ہنگم انداز میں دائیں بائیں لٹک رہے تھے ۔
”ک....کک....کبیر....تت....تم نے اچھا نہیں کیا ۔“فاصی کے ہونٹوں سے خرخراتی آواز نکلی ۔
”جانتے ہو تم نے کس کو چھونے کی کوشش کی ہے ۔کبیردادا کی عزت کو ....فصیح الدین تم جینے کا حق تو اسی وقت کھو چکے تھے جب تم نے میری بیوی کے بارے غلط سوچا تھا ،لیکن تمھاری اتنی جرّات کہ اسے اس حال تک لے آئے، اسے بے لباس کردیا ۔“یہ کہتے ہی کبیر دادا نے دوسرے ہاتھ کی دو انگلیاں سیدھی کرکے اکڑاتے ہوئے ایک دم فصیح الدین کی آنکھوں میں گھسیڑ دی تھیں۔اس کے منہ سے خرخراتی ہوئی چیخ برآمد ہوئی اور کبیردادا نے اس کے گلے پر دباﺅ بڑھا دیا ۔ اس کے پاﺅں زورزور سے ہلنے لگے تھے ۔اور پھر وہ ساکت ہو گیا ۔چند لمحے پہلے ایک بے بس حوا زادی کی چیخوں اور آہ زاری سے لذت کشید کرنے والا عبرت ناک انجام سے دو چار ہوگیا تھا۔
اس کا سانس نکلتے ہی کبیردادا نے اسے گھما کر بیت الخلا کے دروازے کی طرف اچھالا ،وہ دروازہ کھولتا ہوا آدھا بیت الخلا کے اندر اور آدھا باہر پڑا رہ گیا تھا۔
اس کے مرتے ہی کبیردادا کے چہرے کے عضلات اعتدال پذیر ہونے لگے ۔اس نے سر گھما کر دیکھا تناوش کپڑے پہن چکی تھی ۔کبیردادا کو دیکھتے ہی ہر خوف اور ڈر اس کے دل سے رخصت ہو گیا تھا ۔اللہ پاک نے اس کی دعاﺅں کو شرف قبولیت بخش دیا تھا ۔
”کاش میں نے آپ کی آمد کے ساتھ آپ کے ساتھ کی دعا بھی مانگ لی ہوتی ۔“ تناوش کے دل میں حسرت جاگی ،کبیر دادا کو اپنی جانب متوجہ دیکھ کر اس نے سر جھکا لیا تھا ۔کبیر دادا کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ اس سے کیا بات کرے ۔بس اس کے اندر ایک شکوہ کرتی سوچ ابل رہی تھی ۔
”دیکھ لیا مجھ سے دور جانے کا انجام ،اکیلی لڑکی کے ساتھ یہ درندے ایسا سلوک کرتے ہیں ۔میرے لیے نہیں تو اپنی حفاظت کے لیے تو تم میرے ساتھ رہ سکتی تھیں ۔“
دوسری جانب تناوش کے دل میں شور بپا تھا ۔”دیکھ لیا خود سے دور کرنے کا انجام ، کیسے بے عزت اور خوار ہو رہی ہوں ۔ایک ظالم نے کتنا رلایا اور ستایا ہے ،اگر اپنی ملازمہ بنا کر ہی رکھ لیتے تو کوئی اپنا گندا ہاتھ تو میری جانب نہ بڑھاتا ۔
”چلو ....“وہ مختصراََ کہتا ہوا باہر کی جانب مڑگیا ۔اس کے سامنے آتے ہی وہ خود کو بے بس سا محسوس کر رہا تھا ۔اس کا ارادہ ایک دم اپنی ساس سے بات کرنے کا ہو گیا تھا ۔شاید وہ جہاں دیدہ عورت تناوش کی مشکلات کو سمجھتے ہوئے اسے کبیردادا کے ساتھ جانے پر مجبور کر دیتی ۔
تناوش سر پر دوپٹا ٹھیک کرتے ہوئے اس کے پیچھے چل پڑی ۔رہ رہ کر اس کے ہونٹ کبیر دادا سے بات کرنے کے لیے لرزتے مگر پھر وہ رک جاتی ۔کیا معلوم وہ اسے جھڑک دیتا یا دھتکار تے ہوئے دفع ہوجانے کا کہتا ۔ایک دفعہ وہ پاشا کی زبانی دھتکارے جانے کی اذیت سہہ چکی تھی اب وہی باتیں کبیر دادا کی زبانی سن کر یقینا وہ اپنے آنسو نہ روک پاتی ۔مگر اس کا یہ مطلب بھی نہیں تھا کہ وہ اس سے با ت نہیں کرنے والی تھی ۔دوسرے شہر جانے سے پہلے وہ ایک بار ضرور اس سے ملنے کا ارادہ کر چکی تھی ۔
امتیاز اوربخش باہر دروازے ہی پر کھڑے تھے ۔جبکہ باقر اور رخسار فصیح الدین کے بے ہوش پڑے محافظوں کے ساتھ کھڑے تھے ۔عظیم وہاں موجود ملازمہ سے کچھ پوچھ گچھ کر رہا تھا ۔کبیر دادا کو باہر نکلتے دیکھ کر وہ ملازمہ کو چھوڑ کر جلدی سے کبیر دادا کے پیچھے چل پڑا ۔
”ان کا کیا کرنا ہے دادا۔“باقر نے فصیح الدین کے محافظوں کی جانب اشارہ کیا ۔
”چھوڑ دو ۔“کبیر دادا رکے بغیر آگے بڑھ گیا ۔ڈرائیوروں نے گاڑیاں موڑ کر کھڑی کی ہوئی تھیں ۔عظیم نے آگے بڑھ کر عقبی نشست کا دروازہ کھول دیا ۔کبیردادا وہاں بیٹھے بغیر دوسری جانب گھوم گیا ۔یقینا اس نے تناوش کے لیے خالی دروازہ چھوڑا تھا ۔تناوش خاموشی سے اندر گھس کر سر جھکا کر بیٹھ گئی ۔کبیر دادا کے بیٹھتے ہی عظیم ڈرائیور کے ساتھ بیٹھا اور شہزاد نے کار آگے بڑھا دی ۔
”دیکھ لیا کیا کہا تھا ۔“امتیاز اپنے اندازے کی درستی پر بخش کو مخاطب تھا ۔
”یار ،پتا نہیں تمھیں کیسے اندازہ ہو جاتاہے ۔“بخش نے کھسیانے انداز میں سر ہلایا۔
امتیاز فلسفیا نہ لہجے میں بولا ۔”جگر ،کبیر دادا اتنا پریشان اور بد حواس اس سے پہلے میں نے کبھی نہیں دیکھا ۔اور انسان کی ایسی حالت تب ہی ہوتی ہے جب اس کی عزت پر بنی ہو ۔“
”ویسے یہ نمازن ہر وقت کسی نہ کسی کے ہاتھوں پھنسی رہتی ہے ۔“بخش بھی امتیاز کی تقلید میں تناوش کو نمازن کہنے لگا تھا ۔
”یہ بھی تو دیکھو کہ اسے جس نے بھی میلے ہاتھ سے چھونے کی کوشش کی وہ عبرت ناک انجام سے دو چار ہواہے ۔دلاور شیخ ،خاور شیخ اور ا ب فاصی ہتھ چھٹ جیسا آدمی بھی نہ بچ پایا۔“
بخش نے کہا ۔”ویسے فاصی کی موت پر کافی ہنگامہ کھڑا ہوگا ۔“
امتیاز ہنسا ۔”کبیردادا ،ایسے ہنگاموں کو پاﺅں کی ٹھوکر وں میں اڑا دیتا ہے ۔“
”صحیح کہا ۔“بخش نے اس کی تائید میں سر ہلادیا تھا ۔
کار کے آگے بڑھتے ہی عظیم نے پوچھا ۔”دادا کہاں جانا ہے ۔“
کبیردادا نے کہا ۔”تناوش کے گھر ۔“
تناوش کا دل دھک سے رہ گیا تھا ۔اس سے پہلے اس کے دل میں ذرا سی امید بقایا تھی کہ شاید اسے خوابوں کی جنت میں جانے کا موقع مل جائے ،مگر اس کی یہ خواہش شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکی تھی ۔
تمام اپنی اپنی سوچوں میں گم تھے ۔اس سے پہلے ہمیشہ تناوش نا محسوس انداز میں کھسکتے ہوئے کبیر دادا کے ساتھ لگ کر بیٹھ جایاکرتی تھی ،آج کبیردادا کا رواں رواں دستِ دعا بنا اس کی قربت کا متمنی تھا ۔مگر وہ سیٹ کے دوسرے کنارے سر جھکائے بیٹھی تھی ۔اس کے وجود سے اٹھتی ہوئی بھینی بھینی خوشبو کبیر دادا کے دل کی حسرتوں کو بڑھا رہی تھی ۔
تناوش کے گھر تک وہ خاموش بیٹھے رہے تھے ۔وہ کوشش کے باوجود اس سے کوئی بات نہیں کر سکا تھا ۔اورنہ وہ چاہتے ہوئے اپنے دل کا حال بیان کر سکی تھی ۔
تناوش کے گھر کے سامنے کار رکتے ہی وہ نیچے اترتے ہوئے بولا ۔”تم لوگ یہیں انتظار کرو۔“
اس کی دیکھا دیکھی تناوش بھی نیچے اتر گئی تھی ۔دروازے کے پٹ میں جھری دیکھتے ہوئے وہ دستک دینے کا ارادہ ترک کر کے دروازے کو دھکیلتا ہوا اندر گھس گیا ۔تناوش بھی اس کے پیچھے اندر داخل ہو گئی ۔مگر اسے کبیر دادا کے اپنے گھر میں داخل ہونے حیرانی ضرور ہو رہی تھی ۔
”شاید ،امی جان کو میری شکایت کرنے جا رہا ہو ۔“اس نے سوچا ،مگر اس کے ساتھ ہی اسے خیال آیا کہ۔” آخر کیا شکایت کرے گا ؟....میں کوئی اپنی مرضی سے تو وہاں نہیں گئی تھی۔ وہ مجھے اغواءکر کے لے گئے تھے ۔اس میں میرا تو کوئی قصور نہیں ۔“ذہن کے گھوڑے دوڑاتے وہ اس کے پیچھے چلتی رہی ۔بشریٰ کمرے ہی میں گھسی تھی ۔جونھی کبیردادا تناوش کو لیے گلا کھنکارتا ہوا اندر داخل ہوا ،پریشانی سے سر پکڑے بیٹھی بشریٰ خوشی سے چیختے ہوئے بیٹی کی طرف بڑھی ۔
”تم کہاں تھیں میری جان ۔“وہ ماں کے ساتھ لپٹ کر خاموشی سے آنسو بہانے لگی ۔ اتنا قریب آکر اس کا محبو ب پھر واپس لوٹنے والا تھا ۔
کبیردادا نے بھی بشریٰ کی بات کا جواب دینے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی ۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ تناوش کے اغواءکی بابت جان کر وہ پریشان ہوجائیں ۔
بشریٰ بیٹی کو تسلی بھرے چند الفاظ کہہ کر کبیر دادا کی طرف متوجہ ہوئی ۔
”تو اسے آپ لے گئے تھے ۔“کبیر دادا کی خاموشی کو اثبات جانتے ہوئے اس کی بات جاری رہی ۔”مگر کیوں ؟....آپ نے تو اسے دھتکار دیاتھا پھر ساتھ لے جانے کا خیال کیسے آیا ،جس لڑکی کو آپ گھر نہیں رکھ سکتے اس کے ساتھ عیاشی کرنے اور اس کی معصومیت سے فائدہ اٹھانے کی اجازت آ پ کو کس نے دی ہے ۔کیا اسی لیے ہماری مدد کی تھی کہ اس کے بعد ہمارا تماشا بنا دو ،آپ سے تو وہ دلاور شیخ ہی بہتر تھا جو میری بیٹی کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اپنانا چاہتا تھا....“
”ماں جی نہیں ....“تناوش نے تڑپ کر ماں کو روکنا چاہا ،جبکہ کبیر دادا ششدر کھڑا اس کی باتیں سن رہا تھا ۔وہ ساری باتیں اس کے سر سے کافی اوپر گزر رہی تھیں ۔
”تم خاموش رہو ۔“بیٹی کو جھڑک کر وہ کبیردادا کی طرف متوجہ ہوگئی ۔
” آپ بھرے مجمع میں نکاح پڑھوا کر میری چاند سی معصوم بیٹی کودلھن بنا کر لے گئے اور چار دن کسی گاہک کی طرح اسے نوچ کھسوٹ کر دھتکار دیا ۔کیا آپ کے آفر کیے ہوئے روپے میری بیٹی کے دکھ درد کا درمان ہو سکتے ہیں ۔جانتے ہو وہ معصوم دو دن سے کیسے تڑپ رہی ہے۔ کیسے گڑگڑا رہی ہے کہ آپ کے پاس جا کر منت کروں کہ میری بیٹی کو بیوی نہیں ملازمہ ہی بنا کر رکھ لو ،تنخواہ بھی نہیں لے گی ،کسی حق کا مطالبہ نہیں کرے گی بس اسے خود سے دور نہ کرو ۔کیا جواب دیتی اپنے جگر کے ٹکڑے کو ،کیسے بہلاتی ،کیسے تسلی دیتی ۔جبکہ کسی محبت کرنے والے کے دل کو تسلی تو اس کے محبوب کا ساتھ ہی دے سکتا ہے نا اور یہاں معاملہ ایک بڑے آدمی کا تھا جسے نہ تو لڑکیوں کی کمی ہے اور نہ کسی پر خلوص محبت سے کوئی غرض ۔“بشریٰ سانس لینے کو رکی اور پھر اس کی بات جاری رہی ۔
”اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ چند ٹکے دے کر میری بیٹی کے دکھوں کا مداوا کر دیں گے یا کوئی گاڑی بنگلہ دے کر ہماری جھولی خوشیوں سے بھر دیں گے تو یہ آپ کی غلط فہمی ہے ۔ہم غریب ضرور ہیں مگر کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتے ۔خاص کر حرام کی دولت کا ایک روپیا نہیں چاہیے ہمیں ....اور اب گزارش یہ ہے کہ میری بیٹی کا پیچھا چھوڑ دو اسے اپنے دکھوں اور غموں کے ساتھ رہنے دو ۔جتنی عیاشی کرنا تھی آپ نے کر لی ،میری بیٹی نے پورا پورا معاوضا ادا کر دیا ہے ۔امید ہے میری درخواست کو شرف قبولیت بخشتے ہوئے آئندہ آپ یہاں نظر نہیں آئیں گے ۔“
”امی جان !“تناوش دکھ بھرے لہجے میں چیخ پڑی تھی ۔
”بکواس بند کرو ،ورنہ اپنے ہاتھوں سے تمھارا گلا گھونٹ دوں گی ۔“بشریٰ کو سخت غصہ آیا ہوا تھا ۔”یہ بے حیائی اوربے غیرتی نہیں تو کیا ہے ،دو دن پہلے گھر سے نکالا ،آج دل چاہا تو پھر اٹھا کر لے گیا اور چند گھنٹوں بعد دوبارہ واپس چھوڑنے آگیا ۔کیا طوائف ہو تم یا اتنی بے غیرت ہو گئی ہو کہ جسے اپنی عزت حیا اور شرم کا کوئی پاس نہیں ہے ۔“
”مجھے بات کرنے کی اجازت ہے خالہ ۔“بشریٰ کے ہونٹوں کی حرکت رکتے ہی اس نے دھیمے لہجے میں پوچھا ۔
”آپ کو بات کرنے سے کون روک سکتا ہے صاحب جی !....باقی آپ نے جو فلسفہ بیان کرنا ہے وہ مجھے پہلے سے معلوم ہے ،ہر زور آور کا آخری فیصلہ یہی ہوتا ہے کہ، مستند ہے اس کا فرمایا ہوا۔“
”خالہ جان !....آپ مجھے الزام دیے جائیں گی یا اپنی بیٹی سے کچھ پوچھنے کی زحمت بھی کریں گی ۔آپ کو حرام کا ایک روپیا نہیں چاہیے اور آپ کی بیٹی میری تجوری سے کروڑوں روپے نکال کے لائی ہوئی ہے ۔آپ کو میری ملازمہ بن کر رہنے کا کہنے والی خود کوٹھی اور کار ملنے کی خوشی میں مجھے ٹھوکر مار کر آئی ہے ۔اسے عیش و آرام کی زندگی درکار تھی کبیر کا ساتھ نہیں ۔اور پھر اتنی جرّات بھی مفقود ہے کہ میرا سامنا کر سکے ۔اور جہاں تک آج اسے ساتھ لے جانے کی بات ہے تو یہ خود آپ کو بتا دے گی کہ اسے کیسے اغواءکیا گیا ۔ میں تو بس بروقت اس کی جان بچانے پہنچا تھا اور وہیں سے سیدھا یہاں لے آیا۔“
”آپ ٹھیک نہیں کہہ رہے ہیں ۔“آنکھوں میں حیرانی بھرے تناوش گلو گیر لہجے میں بولی۔ اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ کبیر دادا اس پر چوری جیسا گھٹیا الزام لگائے گا ۔ ”میں اللہ پاک کی قسم کھاتی ہوں میں نے آپ کی تجوری کو ایک بار بھی کھول کر نہیں دیکھا ۔اور میں نے اپنے کانوں سے سنا ہے جب آپ پاشا بھائی کو کہہ رہے تھے کہ کسی بھی قیمت پر مجھ سے آپ کی جان چھڑوا دیں ۔ اسی وجہ سے پاشا بھائی نے کوٹھی وغیرہ کی بات کی تھی لیکن میں نے منع کر دیا ۔ آپ ابھی پاشا بھائی سے تصدیق کر سکتے ہیں ۔“اس کی سیاہ آنکھیں آبشار بن گئی تھیں ۔ اس کا معصوم ، سیدھا اور سچا لہجہ ایسا نہیں تھا جو کبیر دادا کے دل پر اثر نہ کرتا ۔وہ الجھ گیا تھا ۔یہ ممکن ہی نہیں تھا کہ پاشا اس سے غلط بیانی کرتا یا اس کی تجوری سے پیسے نکالتا ،پھر وہ خود اپنے کانوں سے تناوش کے الفاظ سن چکا تھا ۔یہ ساری الجھن پاشا ہی دور کر سکتا تھا ۔یا تو تناوش ،عیش و آرام کی زندگی گزارنے کی خواہش کو ماں سے چھپا کر کوئی کھیل کھیل رہی تھی یا پاشا کوئی ڈنڈی مار رہا تھا ۔ تناوش کا لہجہ اور انداز ایسا نہیں تھا کہ وہ اسے جھوٹا سمجھ سکتا ۔پاشا سے اصل بات معلوم کرنے کی خواہش میں وہ تناوش کی بات کا جواب دیے بغیر ایک جھٹکے سے پیچھے مڑا اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا ہوا وہاں سے نکل گیا ۔
جاری ہے....

No comments: