Ads Top

ﻧﺎﻭﻝ سنائپر از ریاض_عاقب_کوہلر قسط نمبر 17

ﻧﺎﻭﻝ  سنائپر 

 از 

 ریاض_عاقب_کوہلر



سنائپر
قسط نمبر 17
ریاض عاقب کوہلر

میں نے فوراََ نیچے بیٹھ کر رائفل کو کھولنے لگا ۔اس کام میں مجھے ایک منٹ سے زیادہ نہیں لگا تھا ۔رائفل کو بیگ میں رکھ کر میں بھاگتا ہوا پانی کی ٹینکی کے پاس پہنچا اور وہ بیگ نیچے کچرہ دان میں پھینک دیا ۔کچرہ دان کے ساتھ کھڑی چھوٹی سی وین میں دھیراج موجود تھا ۔میں خود جلدی سے پلازے کی عقبی جانب بڑھ گیا ۔چمڑے کے دستانے میں نے دوڑتے ہوئے ہاتھ میں دال لیے تھے ۔رسی کو پکڑ کر میں نے ہاتھ ہلکے سے ڈھیلے رکھے اور تین چار سیکنڈ میں میں پلزے کی عقی جانب موجود دکان کی چھت پر تھا ۔دو تین چھتوں سے گزر کر میں ایک گلی میں اتر ا اور تیز قدموں سے ہوٹک کی جانب چل پڑا ۔گلی میں لوگوں کی آمدورفت جاری تھی ۔مجھے چھت سے اترتے دیکھ کر ایک دو تین آدمیوں نے مجھے حیرانی بھری نظروں سے گھورا لیکن میں ان کی نظروں کی پروا کیے بغیر چلتا رہا ۔ہوٹل کی پارکنگ میں داخل ہوتے وقت مجھے پولیس کی دو تین جیپیں ہوٹل کے سامنے سے گزر کر پارک کی طرف جاتی دکھائی دیں ۔اسی وقت ایک ایمبولینس بھی سائرن بجاتی ہوئی وہاں سے گزری ۔میں نے موٹر سائیکل کا ہنڈل لاک کھول کر ہیلمٹ سر پر رکھا ۔اور اطمینان بھرے انداز میں موٹر سائیکل سٹارٹ کر کے وہاں سے باہر نکل آیا ۔کوارٹر پر پہنچتے ہی میں نے ٹی وی آن کر لی تھی ۔رنجیت چوپڑہ کی ہلاکت کی بریکنگنیوز بڑے زور شور سے چل رہی تھی ۔گولی اسے ماتھے میں لگی تھی ۔یوں بھی اس وقت کئی کیمرے اس کے چہرے کو فوکس کیے ہوئے تھے ۔گولی لگ کر پیچھے گرنے کا منظر نہایت صفائی سے فلم بند ہوا تھا۔نیچے گرتے ہی اس کا ہاتھ پاﺅں جھٹکتے ہوئے تڑپنا مجھے کافی سکون دے گیا تھا ۔اس کمینے کی وجہ سے جانے کتنے مظلوم اور بے قصور یونھی تڑپے تھے ۔ یہ منظر مختلف چینلز پر بار بار دکھایا جا رہا تھا ۔البتہ اس کی لاش کی فوٹو نہیں دکھائی جا رہی تھی ۔
ایک اینکر بڑے سخت الفاظ میں اس کارروائی کو کسی پاکستانی دہشت گرد سے منسوب کر رہا تھا اور یہ کوئی ایسا غلط بھی نہیں تھا ۔اس کی بات کا لبِّ لباب یہی تھا کہ پاکستانی حکومت نے رنجیت چوپڑہ پر خوامخواہ بم دھماکے میں ملوث ہونے کا الزام لگایا اور اب اس خود ساختہ الزام کو سچا ثابت کرنے کے لیے دہشت گردی کی یہ کارروائی عمل میں لائی گئی ۔
رات آٹھ بجے کی خبروں میں پولیس کی بے مثال کاکردگی پر روشنی ڈالی گئی ،انھیں وہ رسی وغیرہ مل گئی تھی ۔گلیل کا فائر شدہ کیس بھی انھیں مل گیا تھا ۔یقینا وہاں ڈیوٹی پر موجود دونوں سپاہی زیر عتاب آگئے ہوں گے ۔
اگلے دن کی خبروں میں دونوں سپاہیوں کی کہانی تک بھی کسی تیز طرار رپورٹر نے رسائی کرلی تھی ۔سپیشل برانچ کے انسپکٹر ارجن سنگھ راٹھورکی تلاش بڑی تندہی سے جاری تھی ۔میرا حلیہ بھی تفصیل سے بتایا جا رہا تھا ۔چھوٹی چھوٹی داڑھی ،درمیانہ قد کالے گھنے بال عمر بائیس سے پچیس سا ل کے درمیان ، سڈول جسم ،گندمی رنگت ،اٹھی ہوئی ستواں ناک باریک مونچھیں ۔چوڑی پیشانی وغیرہ وغیرہ ۔میرے پہنے ہوئے لباس کو بھی انھوں نے تفصیل سے یان کیا تھا ۔اپنے حلیے کا سن کر مجھے کافی دلچسپ لگا تھا ۔شام تک ہاتھ سے بنی ہوئی میری ایک تصویر بھی جاری کر دی گئی تھی ۔اور وہ تصویر قریباََ نوے فیصد مجھ سے مماثلت رکھتی تھی ۔میں نے دیر کیے بغیر سب سے پہلے تو اپنی داڑھی مونچھیں صاف کیں ۔اپنا لباس اتار کرایک شاپر میں ڈالا اور شام کو کھانے کے لیے جاتے وقت ان کپڑوں پر پٹرول چھڑک وہ ساتھ لے گیا۔رستے میں ایک کچرہ دان موجود تھا ۔دائیں بائیں دیکھ کر میں گلی کے خالی ہونے کا یقین کیا اور شاپر کو کچرہ دان میں پھینک کر تیلی دکھا دی ۔پٹرول نے آگ پکڑنے میں دیر نہیں لگائی تھی ۔میں تیزی سے ہوٹل کی جانب بڑھ گیا ۔
واپسی پر کوارٹر کا دروازہ کھولتے ہی مجھے ایک سفید لفافے میں بندایک خط زمین پر پڑا دکھائی دیا ۔دروازہ کنڈی کے کر کے میں نے اسے اٹھا لیا ۔
”شاباش آپ تو بہت اچھے قلم کار ہیں ۔اتنی مہارت سے کم لکھاری ہی قلم چلاتے ہوں گے ۔ بہ ہرحال فی الحال آرام کریں ۔افسانے کی اشاعت کے بارے آپ کو جلد ہی مطلع کر دیا جائے گا ۔“
اس خط کے بعد دس دن تک مجھے وہیں آرام کرنا پڑا ۔رنجیت چوپڑہ کی ہلاکت چند دن سے زیادہ خبروں میں نہیں ٹک پائی تھی ۔آج کی عوام ہر آن نئی خبروں کی متلاشی رہتی ہے ۔جلد ہی کئی قسم کی بریکنگ نیوز نے اس خبر کو نیچے دبا دیا تھا ۔ہفتہ بھر خبریں پڑھنے والے ایک دو لائن رنجیت کے قاتل کے بارے پڑھ دیتے بعد میں وہ بھی ختم ہوگیا ۔البتہ اس بارے دو تین خصوصی پروگرام ضرور چلائے گئے جس میں بیٹھے تبصرہ نگاروں نے پاکستان کے بارے خوب ہرزہ سرائی کی ۔
گیارہویں دن میں دھیراج ودھاوا کے سامنے ہنومان جی ہوٹل کے اسی کمرے میں موجود تھا۔سرسری لہجے میں میرے کام کی تعریف کرتے ہوئے اس نے مجھے تھوڑی سی رقم پکڑائی اور واپس جانے کا مژدہ سنایا۔واپس جانے کے لیے رستے کا انتخاب میری صواب دید پر چھوڑ دیا گیا تھا ۔اور یہ اجازت ملتے ہی میری آنکھوں کے سامنے رومانہ کا معصوم چہرہ گھوم گیا ۔
”جھوٹے اجنبی !....کیا اسی رستے سے واپس آﺅ گے ۔“اس کا معصومیت بھرا شوخ فقرہ میرے کانوں میں گونجا اور میرے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھر گئی ۔
”کسی چیز کی ضرورت ہو تو بتا سکتے ہو۔“دھیراج مجھ سے پوچھ رہا تھا ۔
”شکریہ ۔“اس سے الوداعی مصافحہ کر کے میں جانے کے ارادے سے کھڑا ہو گیا ۔
”ویسے اگر آپ مزید یہاں رہنا چاہتے ہیں تو ممانعت کوئی نہیں ہے ۔“میری معیت میں اس نے بھی نشست چھوڑ دی تھی ۔
”قید میں کون رہنا چاہتا ہے مہاراج !“میں مزاحیہ انداز اپناتے ہوئے آہستہ سے ہنسا ۔ وہ بھی مسکرا دیا تھا ۔
٭٭٭
واپسی کا رستا مجھے ازبر تھا۔کوارٹر کو تالا لگا کر میں نے چابی دھیراج کی بتائی ہوئی مخصوص جگہ پر رکھی اور بس اڈے کی جانب روانہ ہو گیا ۔جالندھر جانے والی بس مجھے بڑی آسانی سے مل گئی تھی ۔شام تک میں جالندھر پہنچ گیا تھا ۔رات کو ایک ہوٹل میں کمرہ لے کر میں نے آرام کیا اور اگلے دن صبح دمبہ جانے والی ویگن میں بیٹھ گیا ۔رات کو آٹھ نو بجے تک میں اوڑی شہر پہہنچ گیا تھا ۔انبالہ میں مجھے تقریباََ بیس دن لگ گئے تھے ۔فروری کا مہینا اختتام پذیر ہو گیا تھا ۔میں نے سپورٹس شوز ہی میں آگے جانے کا فیصلہ کیا کیونکہ اب برف تقریباََ ختم ہو چکی تھی ۔بس بلند و بالا چوٹیوں پریا ایسے کونوں کھدروں میں جہاں سورج کی روشنی نہیں پڑتی تھوڑی بہت برف نظر آ جاتی تھی ۔زیادہ تر رستے صاف تھے ۔اور پھر مجھے مسلسل چڑھائی بھی تو چڑھنا تھی ۔نیچے اترتے وقت تو آدمی آسانی سے اتر سکتا ہے چڑھائی چڑھنے کے لیے کافی زور لگتا ہے۔ اپنا سفری تھیلا پشت پر لٹکا کر میں چل پڑا ۔آتے وقت مجھے اس رستے پر سفر کرنا محسوس ہی نہیں ہواتھا لیکن واپسی کے لیے مسلسل چڑھائی چڑھنا بہت مشکل تھا ۔رومانہ کے گاﺅں سے اوڑی شہر تک مجھے پوری رات لگ گئی تھی ۔لیکن اب یقینا میں ایک رات میں نہیں پہنچ سکتا تھا ۔یہی سوچ کر میں نے قدموں کی رفتار ہلکی رکھی تھی ۔گو میرا دل چاہ رہا تھا کہ اڑ کر رومانہ کے پاس پہنچ جاﺅں ۔اس کے لیے خریدی ہوئی سوئیٹر اورکپڑوں کے دو سوٹ میرے سفری جھولے میں موجود تھے ۔مجھے یقین تھا کہ اپنے جھوٹے اجنبی کے یہ تحائف اسے پسندضرور آنے تھے ۔صبح ہونے کے قریب میں بہ مشکل اس جگہ تک پہنچا تھا جہان میں نے آتے وقت کھانا کھایا تھا ۔وہ جگہ دن گزارنے کے لیے بہتر ین تھی ۔کھانے کے لیے میرے پاس بسکٹ اور خشک میوہ موجود تھا ۔پیٹ بھر کر میں سونے کی کوشش کرنے لگا ۔اپنے جسم پر میں نے گرم چادر لپیٹ لی تھی ۔لیکن سردی کی وجہ سے مجھے نیند نہ آ سکی مجبوراََ میں گھٹنوں میں سر دے کر اونگنے لگا۔آگ میں نے جان بوجھ کر نہیں جلائی تھی کہ ہلکا سا خطرہ مول لینا بھی مجھے گوارا نہیں تھا ۔اگر وہاں میری موجودی کی ذرا سی بھنک بھی انڈین آرمی کو پڑ جاتی تو میرے لیے کافی مشکلا ت کھڑی ہو جاتیں ۔ گو مجھے خطروں کی اتنی پروا نہیں تھی لیکن ایسی صورت میں شاید میرا رومانہ سے ملنا بھی کٹھنائی میں پڑ جاتا جو مجھے کسی صورت گوارا نہیں تھا ۔دھوپ چڑھنے پر مجھے نیند آ گئی ۔
میری آنکھ ہلکی سی آواز سے کھلی ۔ وہ ایک لومڑ تھا میرے بدن میں حرکت ہوتے دیکھ کر وہ بھاگ کھڑا ہوا ۔سورج کا سفر جاری تھا ۔اندھیرا ہوتے ہی میں وہاں سے چل پڑا۔اس مرتبہ میرے سفر کا اختتام اسی جگہ پر ہوا جہاں میری رومانہ سے ملاقات ہوئی تھی ۔ان جھاڑیوں میں اب تک وہ مچان بنی ہوئی تھی ۔میں نے بے دھڑک ٹارچ روشن کر کے مچان کا جائزہ لیا کیونکہ اتنے گھنے جنگل میں اول تو ٹارچ کی روشنی کے دور سے دیکھے جانے کا خطرہ کم تھا ۔اگر کوئی دیکھ بھی لیتا تب بھی گاﺅں قریب تھا اور گاﺅں کے لوگوںکا وہاں آنا جانا لازماََ رہتا ہوگا ۔یوں بھی صبح صادق طلوع ہو چکی تھی ۔میں چادر اوڑھ کر مچان میں بیٹھ گیا ۔ سورج نکلنے تک میں سردی کی وجہ سے نہیں لیٹ سکا تھا اور سورج نکلنے کے بعد کسی کو دیکھنے کی چاہت میں آنکھیں بند نہیں کر پایا تھا ۔وقت تھا کہ گزرنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔انتظار ہمیشہ انشان کو کوفت میں مبتلا کر دیتا ہے ۔میں بھی بے چین ہونے ساتھ سخت بوریت محسوس کر رہا تھا ۔میرا دل کررہاتھا کہ بس جلدی سے رومانہ آ جائے اور پھر وہ آگئی ۔میرے کانوں میں ہلکی سی گھنگھناہٹ پڑی ۔رومانہ نے چند بکریوں کے گلے میں چھوٹی چھوٹی گھنٹیاں لٹکائی ہوئی تھیں ۔ان کے بجنے کی آواز سنتے ہی میرے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی تھی ۔پہلی بکری جس پر میری نظر پڑی وہ وہی تھی جس کا دودھ نکال کر رومانہ نے میرے لیے چاے بنائی تھی ۔میں پر اشتیاق نگاہوں سے اس جانب دیکھتا رہا ۔وہ جھاڑیوں کی اوٹ سے طلوع ہوئی ۔وہی لباس ،وہی حلیہ ،اس کے دائیں بائیں گھومتا سفید میمنا پہلے سے تھوڑا بڑا ہو گیا تھا ۔اس کا رخ اسی مچان کی طرف تھا ۔مجھے خاصی حیرانی ہوئی کہ وہ دائیں بائیں توجہ دیے بغیر یوں مچان کی طرف کیوں بڑھتی چلی آ رہی ہے ۔اسے اپنی طرف آتے دیکھ کر میں بھی مچان سے باہر نکل آیا ۔
رنجیت چوپڑہ کو قتل کرنے کے اگلے دن میں نے کلین شیو کروا لی تھی ۔لیکن اس بات کو بھی قریباََ دو ہفتے ہونے والے تھے ۔میری داڑھی اب قریباََ اتنی ہی ہو گئی تھی جتنی کہ پہلے تھی ۔
جھاڑیوں کے ہلنے پر وہ ٹھٹک کر رکی اس کی آنکھوں میں پراشتیاق حیرانی تھی ۔جونھی میں مچان سے نکل کر سیدھا کھڑا ہوا اس نے ہاتھ میں پکڑا ڈنڈا پھینکا اور اتنی تیزی سے میرے جانب بڑھی کہ مجھے سنبھلنے کا موقع ہی نہیں دیا ،اگلے لمحے وہ مجھ سے لپٹ چکی تھی ۔
”میرے اجنبی !“اس کی کومل آواز نے میرے کانوں میں رس انڈیلا۔”اتنی دیر کر دی ۔“ اس نے میری چھاتی پر سر رکھ دیا ۔
میں کوشش کے باوجود اپنی بانہوں کو اس کے گرد گھیرا ڈالنے سے روک نہیں سکا تھا ۔جانے کتنی دیر ہمیں اس حالت میں گزر گئی ۔میرا دل ہی سیر نہیں ہورہا تھا ۔یقینا یہی حالت اس کی تھی کہ وہ بھی علاحدہ ہونے کو تیار نہیں تھی ۔پہلے فقرے کے بعد اس نے اپنے ہونٹوں سے ایک لفظ بھی نہیں نکالا تھا میری زبان بھی گنگ تھی ۔
کافی دیر کے بعد اس کی سریلی آواز نے ایک بار پھر میرے کانوں میں جلترنگ بجائے ۔ ”مجھے یقین تھا کہ آپ اسی رستے سے لوٹیں گے ۔“
”یقین کی وجہ ؟“میں نے دایاںہاتھ اس کی ٹھوڑی کے نیچے رکھ کر اس کا چہرہ اوپر کیا ۔
اس نے پلکوں کی چلمن اٹھا کر اپنی ساحرانہ آنکھوں سے مجھے مسحور کرنے کی کامیاب کوشش کرتے ہو جواب دیا ۔”کیونکہ میں روزانہ خواب میں تمھیں لوٹتے دیکھا کرتی تھی ۔“
میں ہنسا ۔”اچھا خواب بھی دیکھتی ہو ۔“
”ہاں ....بہت زیادہ ....لیکن صرف اپنے اجنبی کے ۔“اس نے دوبارہ اپنا سر میری چھاتی پر دھر دیا شاید اس کا علاحدہ ہونے کا کوئی ارادہ نہیں تھا ۔
”کیوں تمھارے اجنبی میں ایسے کون سے سرخاب کے پر لگے ہیں ؟“میں نے اسے چھیڑا۔
”پتا نہیں ۔“وہ بھول پن سے بولی ۔
”اچھا پتا ہے میں تمھارے لیے تحفہ لے کر آیا ہوں ۔“
”صحیح کہا ۔آپ میرے لیے قدرت کا ایک عظٰم تحفہ ہی تو ہیں ۔“
”میں تمھارے لیے چوڑیاں لے کے آیا ہوں ۔“میں نے اس کے کان سے منہ لگا کر کہا ۔ یہ بات میں اپنا منہ اس کے کان سے لگائے بغیر بھی کہہ سکتا تھا ۔لیکن پھر میرے ہونٹوں کو وہ حلاوت تو نصیب نہ ہوتی جو اس طرح کہنے میں ہوئی تھی ۔
”سچ میں ۔“اس نے خوشی سے بھرپور آواز میں پوچھا ۔
”کیوں تم مجھے جھوٹا سمجھتی ہو ؟“
میری بات پر پورا جنگل گنگنا اٹھا تھا ۔یا شاید صرف وہ ہنسی تھی اور مجھے یونھی محسوس ہوا تھا ۔ 
”ٹھیک ہے ٹھیک ہے سمجھ میں آ گیا ،کہنے کی ضرورت نہیںہے ۔“اس کی معنی خیز ہنسی کے جواب میں میں جلدی سے بولا۔
”ویسے چوڑیاں دکھا کر آپ مجھے غلط بھی تو ثابت کر سکتے ہیں ۔“وہ شوخی بھرے لہجے میں بولی۔
”تم چھوڑو گی تو ایسا کر پاﺅں گا نا ۔“
”اتنا ہی تنگ ہو رہے ہو تو یہ لو ۔“مجھے اپنی گرفت سے آزاد کرتے ہوئے وہ منہ بنا کر پیچھے ہٹی۔
مجھے لگا کہ میں نے خود اپنے پاﺅں پر کلھاڑی مار دی ہے ۔لیکن پھر میں نے خود میں اتنی ہمت مفقود پائی کہ اسے دوبارہ تھام لوں ۔مچان میں پڑا سفری تھیلا اٹھا کر میں نے رومانہ کے لیے لائے ہوئے تحائف باہر نکال لیے ۔
کپڑوں کے دو جوڑے ،سوئیٹر اور چوڑیاں ۔تمام چیزیں دیکھتے ہی وہ خوشی سے کھل اٹھی تھی ۔
”ا ب بتاﺅ جھوٹا ہوں یا سچا ۔“
”جھوٹا ....“اس نے شوخ مسکراہٹ میرے جانب اچھالی ۔”کہا تھاکہ چوڑیاں لایا ہوں اور اس کے ساتھ کپڑے اور سوئیٹر بھی تو موجود ہیں نا ۔“
”پسند آئے ۔“
میری بات کا جواب دیے بغیر وہ ایک قمیص کو اپنے سامنے لٹکا کر پوچھنے لگی ۔”کیسے لگ رہی ہوں ۔“
میں بے اختیار بولا۔”تمھیں خوب صورت لگنے کے لیے کسی بیرونی سجاوت کی ضرورت نہیں ہے ۔“
”آپ کو کیسے پتا چلا کہ مجھے یہ دونوں رنگ بہت پسند ہیں ؟“ایک قمیص لپیٹ کر پتھر رکھتے ہوئے اس نے دوسری قمیص اپنے سامنے پھیلا لی ۔
”پتا نہیں ۔“میں نے نفی میں سرہلایا۔
”اچھا مجھے چوڑیاں پہناﺅ نا ۔“اس نے اپنی ریشمی کلائیاں میرے سامنے پکڑیں ۔اور میں اسے ساتھ لیے نیچے بیٹھ گیا ۔اس کے ملائم اور لچک دار ہاتھوں میں تمام چوڑیاں آسانی سے پھسل کر داخل ہو گئی تھیں ۔
چوڑیاں پہن کر اس نے اپنی دونوں کہنیاں گھٹنوں پر ٹیکیں اور کلائیاں نیچے لٹکا کر مسرت بھری نظروں سے چوڑیوں کو دیکھنے لگی ۔گاہے گاہے وہ اپنے شوخ نظر مجھ پر بھی ڈال لیتی ۔ہنسی اس کے ہونٹوں سے چپکی ہوئی تھی ۔
”ایک بات کہوں ۔“اسے کچھ بولتے نہ دیکھ کر میں نے اسے اپنی جانب متوجہ کیا ۔
”کب سے آپ کے کچھ کہنے کی منتظر ہوں ۔“چاہت بھرے لہجے میں کہہ کر وہ سوئیٹر پہننے لگی۔
”مجھے تمھارا نام بھی یاد ہے اور میں نے تمھارا کھانا باندھنے والا کپڑا بھی سنبھال کر رکھا ہوا ہے۔“
”ہا....ہا....ہا۔“اس نے قہقہہ لگایا ۔میں مبہوت ہو کر اسے دیکھنے لگا۔
وہ شرما کر نیچے دیکھتے ہوئے بولی ۔”پتا ہے میں روزانہ جنگل میں آتے ہی سب سے پہلے مچان میں جھانکتی تھی کہ کہیں آپ لوٹ ہی نہ آئے ہوں ۔“
مجھے اس کی بات پر ذرا بھی شبہ نہ ہوا کیونکہ آج بھی وہ سیدھا مچان ہی کی طرف آئی تھی ۔
”روما !....میں تم سے شادی کرنے کے لیے لوٹا ہوں ۔“میں زیادہ دیر اس خواہش کو اپنے دل میں نہیں دبا سکا تھا ۔
وہ کھسک کر قریب ہوئی اور میرے کندھے پر سر رکھ دیا ۔کچھ نہ کہتے ہوئے بھی اس نے خوب صورت طریقے سے اپنی رضامندی مجھ تک پہنچا دی تھی اور یقینا یہ طریقہ الفاظ سے کے استعمال سے زیادہ مجھے اچھا لگا تھا ۔
”روما !....پتا ہے میں ایک فوجی ہوں ۔انڈیا میں ایک ایسے دہشت گرد کو ٹھکانے لگانے گیا تھا جو پاکستا ن میں دو دفعہ بم دھماکے کروا کردرجنوں بے قصوراور معصوم لوگوں کی موت کی وجہ بنا تھا۔اور یاد رکھنا میری آنے والی زندگی میں بھی ایسے کئی مشن آئیں گے ۔کیا تمھیں ایسا آدمی قبول ہے جس کی جان ہمیشہ خطرے میں رہتی ہے ۔“
اس نے میرا ہاتھ پکڑ کر اپنے ہونٹوں سے لگاتے ہوئے کہا ۔”میں پہلے سے جانتی ہوں کہ آپ کیا ہیں ؟“
میں نے اپنے دونوں ہاتھوں کے درمیان میں اس کا ملائم ہاتھ تھاما۔یوں لگ رہا تھا میں نے گلاب کی بہت ساری پتیاں ہاتھ میں پکڑ لی ہوں ۔”اس کا مطلب ہے مجھے آج ہی تمھارے ابو جان سے بات کرنا پڑے گی ۔“
”نن....نہیں ....نہیں ۔“وہ ہکلاتے ہوئے بولی ۔”میں سہ پہر کو بکریاں گھر چھوڑ کر تمھارے لیے کھانا لے کر آﺅں گی ۔اور یہاں سے اکٹھے نکل چلیں گے ؟“
مجھے اس کی گھبراہٹ پر اچنبھا ہوا تھا ۔”کیسی بات کر رہی ہو روما !....تمھارے والد کی اجازت کے بغیر ایسا کرنا ٹھیک نہیں ہوگا ۔“میں نے اس کی گھنی سیاہ زلفوں کو دوپٹے کی قید سے آزاد کیا اور اپنی انگلیاں ان میں پھیرنے لگا ۔وہ گویا ریشم کے تار ہی تو تھے ۔ نرم،چمکیلے ،خوشبودار ۔
”اگر اس نے انکار کر دیا ؟“
”انکار کیوں کرے گا ....میں اس کی منت کر کے اسے منا لوں گا ۔اس کے پاﺅں پڑ جاﺅں گا اس کا ہر مطالبہ پورا کروں گا اور مجھے یقین ہے ایک سچا کشمیری پاک آرمی کے جوان کو اپنی بیٹی کا رشتا دینے سے انکار نہیں کر سکتا ۔“
”کیوں نہیں کر سکتا ۔آپ کچھ بھی تو نہیں جانتے میرے بھولے بھالے اجنبی !“اپنا ہاتھ میری گرفت سے چھڑاتے ہوئے وہ دونوں ہاتھوں کو اضطراری انداز میں مروڑنے لگی ۔
”اچھا میں وعدہ کرتا ہوں کہ اگر وہ کسی بھی صورت نہ مانے تو میں تمھیں یونھی لے جاﺅں گا ۔ لیکن ایک بار ان سے بات کرنا ضروری ہے ۔“
”آپ کی سمجھ میں میری بات کیوں نہیں آ رہی ،وہ نہیں مانیں گے ....نہیں مانیں گے .... نہیں مانیں گے ۔“روما کی آنکھوں میں نمی نمودار ہوئی ۔”اپنا اور میرا وقت برباد نہ کرو ۔بس طے ہو گیا کہ ہم شام کو جائیں گے اور پتا ہے جس دن آپ یہاں سے گزرے تھے اسی رات میں نے اپنی ضروری چیزیں باندھ کر رکھ دی تھیں ۔مجھے دیکھ کر آپ کی آنکھوں میں پیدا ہونے والی پسندیدگی مجھے پہلی نگاہ ہی میں نظر آ گئی تھی اور میں اچھی طرح جانتی تھی آپ ضرور لوٹیں گے بس مجھے یہ نہیں معلوم تھا کہ کب لوٹیں گے ؟“
”ایک امکان کو آپ کیوں یقین سمجھے بیٹھی ہیں ۔“میں بہ ضد ہوا ۔
”میں آپ کو اچھی لگتی ہوں نا ؟“اس نے رندھی ہوئی آواز میں پوچھا ۔
”پگلی !....میرا جواب تمھیں معلوم ہے ۔“میں نے اس کے چہرے کو ہاتھوں کے پیالے میں بھر لیا۔
”کیا میرے بغیر رہ لو گے ؟“اس نے حسرت بھری نگاہوں سے مجھے گھورا ۔
”یہ کہنا قبل از وقت ہوگا ۔یوں بھی میں ایسا موقع نہیں آنے دوں گا ۔اور کہہ تو دیا کہ وعدہ کرتا ہوں اگر آپ کے والدمحترم نہ مانے تو پھر موقع ملتے ہی میں تمھیں لے اڑوں گا ۔“
”اگر ہاں کرنا ابوجان کے بس میں نہ ہوتو پھر بھی اس سے ملنے پر اصرار کرو گے ۔“عجیب حسرت زدہ درد بھری آواز میں وہ پوچھ رہی تھی ۔
”روما !....تم کیوں اپنی گفتگو سے مجھے اذیت پہنچا رہی ہو اور تمھارے ابو جان کے بس میں بھلا کیوں نہیں ہوگا ۔“میں نے جھک کر اس کی پیشانی پر مہر محبت ثبت کی ۔
”اگر میں کسی اور کی ملکیت ہوں پھر ؟“اس کی آواز جیسے گہری کھائی سے ابھری تھی ۔
”کسی اور کی ملکیت ؟....یقینا میں تمھاری بات سمجھنے میں ناکام رہا ہوں ۔“
”میں شادی شدہ ہوں ،گزرے ستمبر میں میری شادی میرے چچا زاد اسفند یارسے ہو گئی ہے۔ شادی کے ہفتے بھر بعد وہ میرے دونوں بھائیوں کے ساتھ کمانے کے لیے چلا گیا اور اب وہ اگلے ماہ واپس لوٹ آئیں گے ۔“اس نے سسکتے ہوئے اپنی بات پوری کی ۔میرے کانوں میں جیسے کسی پگھلا ہوا سیسہ ڈال دیا تھا ۔میرے ہاتھ بے جان انداز میں اس کے ریشمی گالوں سے نیچے پھسلے ،میری بولتی بند ہو گئی تھی ۔
”مجھے معاف کر دو اجنبی !“وہ روتے ہوئے مجھ سے لپٹ گئی ۔”میں مجبور تھی ۔“
وہ کسی اور کی امانت تھی،کسی اور کی ماہین ۔اگر اسے وہ رشتا پسند نہیں تھا تو اسے پہلے انکار کر دینا چاہیے تھا ۔اور اب وہ مجھے انجانے میں ایک ایسے گناہ کی جانب گھسیٹنے والی تھی جس کا کوئی کفارہ بھی نہیں تھا۔اگر میں اسے یونھی ساتھ لے گیا ہوتا تو نکاح کرنے کے باوجود ہماری شادی نہیں ہو سکتی تھی ۔وہ کسی اور کی منکوحہ تھی ۔اس سے طلاق لیے بغیر بھلا وہ میرے آنگن میں کیسے روشنی پھیلا سکتی تھی ۔
میں جھرجھری لے کر ایک دم ہوش میں آیا اور اسے خود سے دور جھٹک دیا ۔”تم عورتیں ہوتی ہی قابلِ نفرت ہو،تمھاری جنس ہے ہی مکاری اور دھوکے کی علامت ۔کیا تم مجھے پہلے یہ بات نہیں بتا سکتی تھیں ۔اور اگر تمھیں اپنا چچا زاد پسند نہیں تھا تو اس سے شادی کے لیے کیوں حامی بھری ،کیوں نکاح کے وقت قبول کہا ،کیوں ڈولی میں بیٹھ کر اس کے گھر گئیں ،کیوں ....کیوں ....کیوں ۔“میرے ہونٹوں سے وحشت زدہ آواز برآمد ہوئی ۔
وہ جیسے کراہی ۔”کیونکہ اس وقت تک مجھے آپ نہیں ملے تھے ۔“
”اور جب مجھ سے بھی خوب صورت مل جائے گا پھر ؟“میں نے طنزیہ انداز میں کہتے ہوئے اسے مطعون کیا ۔
”اللہ پاک کی قسم وہ شکل و صورت کے لحاظ سے آپ سے خوب صورت ہے ۔“
”تم نے بہت برا کیا رومانہ !....بہت زیادہ ۔میں پہلے ہی عورت ذات کا ڈسا ہوا ہوں، تم نے بھی میرے گھاﺅ پر تیزاب انڈیل دیا ۔مجھے نفرت ہے تم سے اور....اور ہر عورت سے ۔“یہ کہتے ہی میں وہاں سے چل پڑا ۔اپنا تھیلا اٹھانا بھی مجھے یاد نہیں رہا تھا ۔
”اجنبی !....اجنبی ....میں مر جاﺅں گی ۔“وہ روتے ہوئے میرے پیچھے سے آکر لپٹ گئی تھی ۔”یوں خفا ہو کر نہ جاﺅ ....لوٹ آنے کا وعدہ کر کے جاﺅ ۔میں اس سے طلاق لے لوں گی ۔“
میں نے پیچھے مڑ کر اس کی گرفت سے خود کو چھڑایا اور اس کے ساتھ ہی میرا ہاتھ گھوما ۔ ”چٹاخ۔“کی آواز کے ساتھ اس کے پھول سے گال پر میرا تھپڑ پڑا ،وہ نیچے گر گئی تھی ۔مجھے یوں لگا وہ تھپڑ میرے دل پر پڑا ہوا ۔میں اندھا دھند بھاگ کھڑا ہوا۔مجھے یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ میرا رخ کس جانب ہے ۔میرے دماغ میں تو بس رومانہ کی باتیں ہتھوڑے کی طرح لگ رہی تھیں ۔
””میں شادی شدہ ہوں ،گزرے ستمبر میں میری شادی میرے چچا زاد سے ہو گئی ہے ۔میں شادی شدہ ہوں ....میں شادی شدہ ہوں ....میں شادی شدہ ہوں ۔“میں بھاگتا رہا ناہموارزمین پر، جھاڑیوں اور درختوں سے بھرئی ہوئی ڈھلوان پر،جا بہ جا بکھرے ہوئے پتھرو ں اور کنکروں پر ۔پتا نہیں مجھے بھاگتے ہوئے کتنا وقت بیت گیا تھا ۔شاید پوری صدی بیت گئی تھی یاشاید میں نے اسی وقت دوڑنا شروع کیا تھا ۔اچانک مجھے ٹھوکر لگی میں اوندھے منہ گرا اور نیچے لڑھکتا چلا گیا ۔وہ ڈھلان کافی نیچے جا رہی تھی ،لیکن مجھے ایک بڑی چٹان نے مزید نیچے جانے سے روکا اور میں وہیں اوندھے منہ لیٹ کر گہرے گہرے سانس لینے لگا ۔دوبارہ اٹھنے کی ہمت مجھ میں مفقود تھی ۔میں لیٹا رہا ،سوچتا رہا.... سوچتا رہا، یہاں تک کہ میرا سر درد سے پھٹنے لگا ۔کتنی آسانی سے اس نے مجھے بے وقوف بنایا تھا ۔یا شاید میں تھا ہی احمق ۔اگر احمق نہ ہوتا تو اتنی بڑی ٹھوکر کھانے کے بعد مجھے سنبھل جانا چاہیے تھا ۔امریکہ میںمجھے کیپٹن جینفر الو بناتی رہی تھی ۔پاکستان میں ماہین اور اب کشمیر میں میں رومانہ کے ہاتھوں گدھا بن چکا تھا ۔کافی دیر میں اسی حالت میں پڑا رہا ۔یہاں تک کہ میری مثبت سوچوں نے مجھے ان حالات کی طرف متوجہ کیا جو مجھے درپیش تھے ۔میں ابھی تک پاکستان کی سرحد عبور نہیں کر پایا تھا ۔زاد راہ کا تھیلا میں مچان میں بھول آیا تھا ۔مچان کی طرف لوٹ کر جانے میں مجھے اپنی موت نظر آ رہی تھی ۔میں آہستہ آہستہ اٹھ بیٹھا ۔سورج پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا ۔جس جگہ میں موجود تھا وہاں بہت اچھی دھوپ لگ رہی تھی ۔میں پتھر سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا ۔میرا سب کچھ اس تھیلے میں رہ گیا تھا ۔پستول ،ٹارچ ،خوراک ،چادر ہرچیز وہیں تھیلے میں تھی ۔پتا نہیں بے دھیانی میں میں کتنا فاصلہ طے کر چکا تھا ۔اگر میں سہ پہر کے بعد وہیں لوٹ جاتا تو شاید اپنا تھیلا واپس حاصل کر لیتا ۔”لیکن اگر روما شام تک وہیں بیٹھی رہی پھر ؟“
میری سوچوں میں جو سوال ابھر اس کا آسان جواب یہی تھا کہ اب میں واپس نہیں لوٹوں گا ۔
گھنٹا ڈیڑھ مزید وہیں گزارنے کے بعد میں چڑھائی چڑھنے لگا ۔ایک دو بکریوں کو دیکھ کر میں نے اپنے جانے کی سمت میںتھوڑی سی تبدیل کرنا ضروری سمجھاتھا ۔میں نہیں چاہتا تھا کہ میرا کسی اور سے ٹکراﺅ ہو ۔مگر مجھے اپنے مقصد میں کامیابی نہیں ہوئی تھی ۔وہ بھی ایک جوان عورت تھی اس کے ساتھ دس گیارہ سال کا ایک لڑکا بھی تھا ۔وہ دونوں ایک دم جھاڑیوں کی اوٹ سے نکل کر میرے سامنے آ گئے تھے۔ مجھے دیکھ کر وہ دونوں ٹھٹک کر رکے ۔مگر میں انھیں مخاطب کیے بغیر آگے بڑھ گیا ۔جھاڑیوں کی آڑ میسر آنے تک میں اپنی پشت پر کسی کی نظروں کو محسوس کرتا رہا ۔مطلوبہ بلندی پر پہنچ کر میں نے اس سڑک کی تلاش میں نظریں دوڑائیں جس پر چل کرمیں وہاں تک پہنچا تھا ۔اسی سڑک سے میں اپنی سمت درست رکھ سکتا تھا ۔مجھے وہ سڑک تلاش کرنے میں کوئی دقت نہیںہوئی تھی ۔میں اسی جانب چل پڑا۔اب مجھے اترائی کا مرحلہ درپیش تھا ۔میں احتیاط سے چلتے ہوئے جنگل سے باہر نکلا سامنے وسیع نالا تھا اس کو عبور کر کے میں مطلوبہ سڑک تک پہنچ جاتا ۔اس سڑک کے متوازی میں نے اسی نالے میں چلنا شروع کر دیا ۔مجھ سے رات ہونے کا انتظار بھی نہیں ہو سکا تھا ۔اندھیرا چھاتے ہی میں روڈ پر چڑھ گیا ۔چاند کی بارہ تاریخ تھی ۔اس لیے مجھے روشنی کی کوئی فکر نہیں تھی ۔انڈین پوسٹوں سے چھپتا چھپاتا ۔چڑھائیاں چڑھتا میں طلوع آفتاب سے ذرا پہلے اس جگہ پر پہنچ گیا تھا جہاں آتے وقت میرا انڈین پٹرول سے واسطہ پڑا تھا ۔ اس جگہ سے آگے سفر کرنا مناسب نہیں تھا ۔مجھے مسلسل جاگتے ہوئے اڑتالیس گھنٹے ہونے کو تھے ۔تھکن بھی کافی ہو رہی تھی ۔لیکن جس جگہ میں نے دن بھر چھپ کر رہنا تھا وہ علاقہ انڈین فوجیوں کی گزر گاہ تھا ۔ نسبتاََ پہاڑ کی جڑ کی طرف ہو کر میں جھاڑیو ں کے ایک گھنے جھنڈ میں گھس کر بیٹھ گیا ۔کچھ نہ کھائے ہوئے بھی چھتیس گھنٹے ہونے والے تھے ۔میں نے تو رومانہ کے پاس موجود کھانا کھانے کے لالچ میں گزشتہ صبح وہاں پہنچتے ہوئے بسکٹ وغیرہ کھانے سے احتراز برتا تھا۔بہ ہرحال بھوکا ہونے کا یہ فائدہ ضرور ہوا کہ نیند مجھ سے دور رہی ۔گو اس میں بھوک کے ساتھ ساتھ سردی کا بھی گہرا عمل دخل تھا ۔وہ میری زندگی کا ایک اذیت بھرا دن تھا ۔تھکن،نیند کی کمی ،بے پناہ بھوک اورسب سے بڑھ کر دماغی بے سکونی جس کی وجہ رومانہ کی یاد تھی ۔
وقت چاہے اچھا ہو یا برا گزر جاتا ہے ۔وہ دن بھی گزر گیا ۔رات نے ڈیرے ڈالے اندھیرا گہرا ہوا اور میں اپنی کمین گاہ سے نکل کر آگے بڑھ گیا ۔میری واپسی اسی رستے پر ہوئی تھی جس پر میں چل کر آیا تھا ۔چند گھرانوں کی آبادی عبور کر کے میں نے نالہ پار کیا ۔اس میں اب پہلے کی نسبت پانی کی مقدار تھوڑی زیادہ تھی ۔لیکن اتنی زیادہ نہیں تھی کہ مجھے پاﺅں گیلے کرنے پڑتے ۔جلد ہی میں اس جگہ پر پہنچ گیا جہاں بارودی سرنگی قطعہ مو جود تھا ۔اس قطعے کو پارکرنے کا رستا مجھے معلوم تھا لیکن اس سے پہلے میں نے پاکستانی سنتری کو آواز دینا ضروری سمجھا ۔کیونکہ اس قطعے میں قدم دھرتے وقت میں نے اس کی نظروں میں آ جانا تھا ۔اور یوں ایک آدمی کو یوں خاموشی سے پوسٹ کی جانب آتا دیکھ کر وہ فائر بھی کھول سکتا تھا ۔
”اسلام علیکم بھیا !“میں نے زوردار آواز میں پکارا ۔
”ایک تیز ٹارچ چمکی اور اس کے ساتھ ہی آواز آئی ۔”کون؟“
”قریب آ کر تعارف کرا دیتا ہوں ۔“میں نے دونوں ہاتھ سر سے بلند کر کے کہا ۔
اس نے مجھے خبردار کرتے ہوئے کہا ۔”حرکت نہ کرنا ،تم بارودی سرنگی قطعے کے کنارے کھڑے ہو ۔“
”رستا مجھے معلوم ہے بھائی !....بس آپ اپنی گولی ضائع نہ کرنا ۔“میں نے قدم آگے بڑھا دیے ۔اس نے ٹارچ بجھا دی۔ چاند کی روشنی ہی اتنی تیز تھی کہ ٹارچ جلانے کی کوئی خاص ضرورت نہیں تھی۔
ارودی سرنگی قطعہ پار کر کے میں اس کی جانب بڑھ گیا ۔میں اس سے دس گز دور ہوں گا کہ اس نے مجھے رکنے کو کہا ۔اس کے ساتھ ہی اس نے ٹارچ کی روشنی میرے چہرے پر ڈالی ۔
”ارے آپ ۔“اس کے منہ تحیّر آمیز آواز برآمد ہوئی ۔”آجائیں ۔“ٹارچ بجھا کر وہ خود بھی میری جانب بڑھا ۔
”کریم !....کون ہے یہ ؟“مورچے کی طرف سے ایک بھاری آواز سنائی دی ۔یقینا وہاں ایک اور آدمی موجود تھا ۔
”استاد جی !....یہ وہی ہے جسے ہم شہید سمجھے ہوئے تھے ۔“کریم قریب آ کر مجھ سے لپٹ گیا۔
اس کا استاد بھی مورچے سے باہر آ گیا ۔”کیا حال ہے بھائی جان !....“کریم کے بعد اس نے بھی مجھ سے معانقہ کرتے ہوئے پوچھا ۔
”اللہ پاک کا کرم ہے جی !“میں اطمینان بھرے انداز میں مسکرایا ۔
اس نے اسی وقت فیلڈ ٹیلی فون پر پوسٹ کے سینئر کو میرے پہنچے کی خبر سنائی ۔اگلے پانچ منٹ میں وہ سینئر وہیں تھا ۔وہ میجر مزمل تھا ۔جس دن میں گیا تھا اس دن بھی وہ اسی پوسٹ پر موجود تھا ۔استاد نے ایڑیاں جوڑ کر اسے سیلوٹ کیا ۔میں نے بھی اپنی ایڑیاں جوڑ لی تھیں ۔
”ذیشان !....صحیح نام لیا نا ؟“میجر صاحب نے آگے بڑھ کر مجھے چھاتی سے لگایا ۔اس کے چہرے سے ہویدا خوشی کے اثرات مجھے یہ باور کرانے کے لیے کافی تھے کہ پاک آرمی ایک خاندان کی مانند ہے اور کسی ایک کی کامیابی کو تمام اپنی کامیابی سمجھتے ہیں ۔اس میں آفیسرز اور نچلے رینک کی کوئی تخصیص نہیں ہے ۔
”جی سر !....میرا نام ذیشان ہی ہے ۔“
”یار !....ہم تو اس دن ڈر ہی گئے تھے ۔“میرے کندھے پر بے تکلفانہ انداز میں ہاتھ رکھ کر وہ مجھے پوسٹ کی سمت لے جانے لگا ۔”ویسے ہوا کیا تھا ؟“
”لمبی کہانی ہے سر !....اور مجھے مسلسل جاگتے ہوئے ساٹھ گھنٹے ہونے والے ہیں ۔“
”ہونہہ!....میرا خیال ہے سونے سے پہلے آپ کھانا کھانا ضرورپسند کریں گے؟“
”جی سر !“میں نے اثبات میں سر ہلادیا۔
اس نے ایک حوالدار کو بلا کر میرے لیے تازہ کھانا تیار کرنے کا حکم دیا اور ساتھ میرے سونے کے لیے جگہ تیار کھرنے کا بھی بتا دیا ۔حوالدار مجھے ساتھ لے کر اپنے کمرے میں آ گیا ۔برفانی علاقوں میں ٹن پیک سالن ملتا ہے ۔کک نے اٹھ کر فوری طور پر میرے لیے چکن کا سالن گرم کیا اور اور جلدی جلدی روٹیاں بنا کر میرے سامنے دھر دیں ۔تھوڑی دیر بعد خوب سیر ہو کر کھانا کھانے کے بعد میں سنو کے سلپنگ بیگ میں گم ہو گیا تھا ۔خوابوں کی دنیا میں روما میرا انتظار کر رہی تھی ۔
٭٭٭
یونٹ واپسی پر کمانڈنگ آفیسر نے مجھے خصوصی شاباش دی ۔میرے مشن کے کامیاب ہونے کی خبر وہ ٹی وی پر دیکھ چکا تھا ۔
”ویسے نو سو میٹر کے فاصلے سے ماتھے میں گولی مارنا ۔اچھی کاکردگی ہے ۔“کمانڈنگ آفیسر کے چہرے پر مجھے خوشی چھلکتی دکھائی دی ۔
”شکریہ سر !“
وہ ہنسا ۔”اب تم یقینا مہیناچھٹی مانگو گے ۔“
”نہیں سر !“میں نے نفی میں سر ہلایا۔”دس دن کافی ہیں ۔“
”ہا....ہا....ہا۔“اس نے خوش دلی سے قہقہہ لگایا ۔”تمھارا کمپنی آفیسر مہینا چھٹی کی اجازت لے چکا ہے بر خوردار!“
”پھر تو مجبوری ہے سر !“میں نے دس دن پر اصرار کرنا مناسب نہیں سمجھا تھا ۔یوں بھی فوجی آدمی کے لیے چھٹی کا حصول سب سے بڑی خوش خبری ہوتی ہے ۔اور سینئر کی جانب سے آفر کی ہوئی چھٹی کو ٹھوکر مارنے کا مطلب خود کو خوا مخواہ فضول سوالات کے حوالے کرنا تھا ۔اور میں نہیں چاہتا تھا کہ میری ذات زیر بحث لائی جائے ۔البتہ کلرک کے پاس میں باضابطہ طور پر طلاق نامہ جمع کروا چکا تھا ۔ میں نہیں چاہتا تھا کہ کسی بھی حادثے کا شکار ہونے کے بعد میرے لواحقین کو ملنے والی ساری رقم ماہین کے پاس چلی جاتی ۔(ہر فوجی کی قانونی وارث اس کی بیوی ہوتی ہے )
”کوشش کرو اسی مہینے میں نئی دلھن ڈھونڈ لو ۔“اس نے معنی خیز انداز میں کہا ۔یقینا میرا طلاق نامہ اس کے سامنے بھی پیش ہوا تھا ۔اور اسے معلوم تھا کہ میں بیوی کو طلاق دے چکا ہوں ۔لیکن اس بارے اس نے کچھ پوچھنے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی ۔
”پہلے والی سے مشکل سے جان چھڑائی ہے سر !“میں نے مزاحیہ انداز میں کہا ۔
”صحیح کہا۔“اس نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے مجھے جانے کا اشارہ کیا ۔اور میں سیلوٹ کر کے وہاں سے باہر نکل آیا ۔
دو دن گھر گزار کر میں تیسرے دن ابو جان سے اجازت لے کر استاد عمر دراز کو ملنے چل پڑا ۔ مجھے دیکھ کر استاد عمر دراز خوش ہو گئے تھے ۔ میں نے انھیں آخری مشن کی تفصیلات وغیرہ بتلائیں ۔وہ مجھ سے ہدف کا فاصلہ ،ہوا کی رفتار سورج کی سمت اور اس طرح کی دوسری تفصیلات بڑی باریک بینی سے معلوم کرنے لگے ۔یقینا انھیں سنائپنگ کا جنون تھا اور اس طرح کی کارروائی سے وہ بہت لطف اندوز ہوتے تھے ۔
”ذیشان بیٹا !....بلا شبہ تمھارا نشانہ اب مجھ سے بہتر ہو گیا ہے ۔“میری بات کے اختتام پر انھوں نے تعریفی لہجے میں کہا ۔
میں طنزیہ انداز میں ہنسا ۔”یہ خوش فہمی تو کبھی کبھی مجھے بھی ہو جاتی ہے ۔“
”یہ حقیقت ہے بیٹا !“اس نے آگے بڑھ کر میری پیٹھ تھپکی ۔
”ساٹھ ستر سال کے بوڑھے سے مقابلہ کرنا بھی تو زیادتی ہے نا سر !“
”میں اپنی جوانی کی بات کر رہا ہوں میاں !“
میں نے منہ بناتے ہوئے کہا ۔”یہ مبالغہ آرائی کچھ کم نہیں ہو سکتی ۔“
”اس میں مبالغہ آرائی کہاں سے آ گئی ۔“اس نے حیرانی سے پوچھا ۔
”ویسے میں چکن کے بجائے مونگ کی دال کھانا پسند کروں گا ۔“میں نے موضوع تبدیل کرنا مناسب سمجھا تھا ۔
اور میری بات پر استاد عمر دراز شفقت بھرے انداز میں مسکر ا پڑے تھے ۔
اگلے دوتین دن میں نے انھی کے ساتھ پشتو سیکھتے گزارے ۔اس کے علاوہ ہم نشانہ بازی اور مختلف سنائپررائفلز کے بارے بھی گفتگو کرتے رہتے ۔جدید رائفلز کے بارے میرا علم کافی وسیع تھا ۔استاد عمر دراز ان رائفلز کے بارے جاننے میں بہت دلچسپی رکھتے تھے ۔
وہاں سے واپسی پر پھر وہی خواب گاہ اور تلخ یادیں ۔اب تو ماہین مجھے بھول ہی چکی تھی ۔اس کی جگہ لینے کے لیے روما جو موجودتھی ۔وہ بھولی بھالی کشمیری چرواہن مجھے بہت اچھی لگنے لگی تھی ۔لیکن اس نے میرے ساتھ بہت غلط سلوک کیا تھا ۔اگر اس نے پہلی ملاقات میں اپنے شادی شدہ ہونے کی بات بتا دی ہوتی تو میں کبھی بھی اسے دل میں جگہ نہ دیتا ۔لیکن اس نے مجھے دھوکا دیا ۔اور وہ راز کھولا بھی تو اس وقت جب میں اس سے شادی کرنے کا تہیہ کر چکا تھا ۔اس کے آخری الفاظ ہر وقت میرے کانوں میں گونجتے رہتے ۔
”اجنبی !....میں مر جاﺅں گی ۔یوں خفا ہو کر نہ جاﺅ ....لوٹ آنے کا وعدہ کر کے جاﺅ ۔میں اس سے طلاق لے لوں گی ۔“
”ہونہہ!....طلاق لے لوں گی ۔“میں نے طنزیہ انداز میں ہنکارا بھرا ۔”طلاق لینا تھی تو شادی کیوں کی تھی ۔“
وہ سسکی ۔”کیونکہ پہلے مجھے تم نہیں ملے تھے ۔“
”اگر اتنا یوسف ثانی ہوتا تو ماہین میرے ساتھ یوں نہ کرتی ۔“میں نے تلخ ہوتے ہوئے سوچا اور کمرے سے باہر نکل آیا ۔صحن میں ابو جان چارپائی ڈالے پھوپھو جان سے باتیں کر رہے تھے ۔وہ چولھے کے ساتھ لکڑی کی چوکی پر بیٹھی غالباََ چاے بنا رہی تھیں۔میں بھی دوسری چارپائی پر بیٹھ کر ان کی باتیں سننے لگا ۔
” کوئی نئی تازی سناﺅ خوردار!“میرے بیٹھتے ہی ابوجان میری طرف متوجہ ہو گئے۔
”میرے پاس تو وہی گھسی پٹی فوجی باتیں ہی ہوں گی ابوجان!....“
”ہونہہ!....ویسے ملک شاہ جہان کی بیٹی نے بارہ جماعتیں پڑھ لی ہیں ۔تو کیا خیال ہے ؟“ ابوجان نے مسکراتے ہوئے پوچھا ۔
”خیال تو ٹھیک ہے لیکن شایدوہ انکار کر دے ۔“میں نے ان کی طرف جوابی مسکراہٹ اچھالی۔
”انکار کیوں کرے گا ۔“ابوجان ایک دم اٹھ بیٹھے ۔
میں نے قہقہہ لگایا۔”ساٹھ پینسٹھ سال کے بوڑھے کے لیے وہ کیسے اپنی بیس بائیس سال کی بیٹی کا رشتا دے گا ۔“
”دھت تیرے کی ۔“ابوجان ہنسے ۔پھوپھو نے بھی قہقہہ لگایا تھا ۔”میں تمھارے بارے بات کر رہا تھا ۔“
میں نے اطمینان سے کہا ۔”اور میں آپ کے بارے ۔“
”تم نہیں سدھرو گے ۔“ابوجان نے دوبارہ تکیے سے ٹیک لگالی ۔
”اچھا میں ذرا اویس سے ہو آﺅں ۔“میں گھر سے باہر آ گیا ۔اویس مجھے اپنے گھر ہی میں ملا تھا ۔ارم سے شادی کے بعد اس کی محبت اور بڑھ گئی تھی ۔اپنا فارغ وقت وہ گھر ہی میں گزارا کرتا تھا ۔ میں دل ہی دل میں دعا کرتا رہتا کہ ان کی محبت کو کسی کی نظر نہ لگے۔
ان کی بیٹھک میں بیٹھ کر ہم کافی دیر گپ شپ کرتے رہے ۔اس دوران اس کی بیوی وہیں چاے بنا کر لے آئی تھی ۔وہ مجھ سے پردہ نہیں کرتی تھی ۔
”اسلام علیکم ذیشان بھائی !“
”وعلیکم اسلام !....میری چھوٹی بہن کسی ہے ؟“میں نے خوش دلی سے جواب دیا ۔
”اللہ پاک کا فضل ہے۔“چاے کے کپ ہمارے سامنے رکھ کر وہ باہر نکل گئی ۔
”سنا ہے طاہر اس سے شادی کر رہا ہے ۔“ارم کے بیٹھک سے نکلتے ہی اویس نے گویا مجھ سے تصدیق چاہی ۔
”کس سے ۔“
”ماہین سے ۔“اویس کا انداز انکشاف کرنے والا تھا ۔
”اگر ایسا ہے تو بہت اچھا ہے ۔“میں بے پرواہی سے بولا۔
”شانی تمھیں وہ بہت پسند تھی نا ؟“اویس نے دکھی لہجے میں پوچھا ۔
”شکر ہے تم نے ماضی کا صیغہ استعمال کیا ۔“
”کیا مطلب ؟“اویس نے حیرانی سے پوچھا ۔
”مطلب یہ کہ وہ مجھے پسند تھی ۔ہے نہیں اور اللہ پاک کا شکر کہ میرے سامنے اس کی اصلیت کھل گئی ۔ورنہ بچہ ،بچی ہونے کے بعد یہ راز کھلتا تو خود سوچو میں نے کتنی بڑی مصیبت میں گرفتار ہو جانا تھا ۔“
”صحیح کہتے ہوئے ۔“وہ اپنا کپ اٹھا کر چاے پینے لگا ۔
ہفتے بھر بعد ہی اویس کی بات کی تصدیق ہو گئی تھی ۔ماہین کے باپ حشمت چاچا نے ہمارے گھر آ کر مجھ سے اجازت مانگی تھی ۔
”بیٹا !....اگر تمھیں برا نہ لگے تو طاہر کے گھر والے ماہین کا رشتا مانگ رہے ہیں ۔“
”حشمت چچا !....میرا آپ کی بیٹی سے کیا واسطہ؟اور پھر جو کچھ ان دونوں کے درمیان تعلق رہ چکا ہے اس کے بعد ان کی شادی کرنا بہت ضروری ہو جاتا ہے ۔“
”بیٹا !....میں آپ سے بہت شرمندہ ہوں ۔“چچا حشمت کے لہجے میں ندامت تھی ۔
”چچا جان !....آپ کا شرمندہ ہونا تب بنتا تھا جب وہ شادی سے پہلے ایسی کوئی حرکت کرتی۔ شادی کے بعد مرد و عورت اپنے عمل کے خود جواب دہ ہوتے ہیں ۔آپ میرے بڑے ہیں اور خدارا یوں ندامت ظاہر کر کے مجھے شرمندہ نہ کیا کریں ۔“
”جیتے رہو بیٹا !“چچا حشمت میرے سر پر ہاتھ پھیر کر واپس لوٹ گئے ۔
مہینا گزار کر میں نے یونٹ کی راہ لی ۔راﺅ تصور صاحب اور حوالدار فیاض واپس آ گئے تھے ۔ وہ دونوں وزیرستان میں بہ طور انسٹرکٹرز گئے تھے ۔البتہ سردار خان، اسدخٹک وغیرہ جو سنائپنگ کے لیے گئے تھے ان کی واپسی کا کوئی پتا نہیں تھا ۔
مجھے چھٹی سے واپس آئے ہفتہ ہونے کو تھا کہ ایک دن شام کے وقت مجھے حکم ملا کہ صبح میں نے پشتوزبان سیکھنے کی کلاس میں شامل ہونا ہے ۔
مجھے حیرانی تو کافی ہوئی مگر فوج کی زندگی میں اس سے بھی کئی گنا عجیب احکام ملتے رہتے ہیں۔
اگلے دن کلاس شروع ہونا تھی ۔اور حیرانی کی بات یہ تھی کہ پڑھانے والے دو تھے اور پڑھنے والا میں اکیلا ۔مجھے پڑھانے کے لیے اپنی یونٹ ہی کے دو پٹھانوں کا انتخاب ہوا تھا ۔کلاس کیا تھی بس پشتو زبان کا سیکھنا تھا جو پہلے بھی تھوڑی بہت جانتا تھا ۔سارا دن ہم پشتو میں گپیں کرتے رہے ۔اس دوران مجھے جس لفظ کی سمجھ نہ آتی میں ان دونوں سے پوچھ لیتا ۔یوں بھی مجھے پشتو کی گرائمر نہیں سیکھنا تھی ۔ 
اسی دن رات کو آٹھ بجے مجھے یونٹ سیکنڈ ان کمانڈ میجر وسیم کے دفتر حاضر ہونے کا حکم ملا ۔اس کے اردلی کو کہہ کر میں نے اندر جانے کی اجازت مانگی وہ میرا ہی منتظر تھا ۔
”آﺅ ذیشان!.... بیٹھو ۔“اس نے سامنے پڑی کرسی کی جانب اشارہ کیا ۔میں مودّبانہ انداز میں کرسی پر بیٹھ گیا ۔
”آج پشتو زبان سیکھنے کی کلاس اٹینڈ کی تھی ۔“اپنی گھومنے والی کرسی سے ٹیک لگا کر اس نے تمہید باندھی ۔
”جی سر !....“
”تم یہ بھی جانتے ہو گے کہ تمھارے کچھ ساتھ وزیرستان میں پاک آرمی کی مختلف کانوائیوں کے ساتھ چل رہے ہیں ۔“
”جی سر !“میں نے لگا بندھا جواب دہرایا۔
”تازہ ترین اطلاعات کے مطابق وہ اپنے کام کو کچھ خاص بہتر طریقے سے انجام نہیں دے پا رہے ۔اور اس کی وجہ ظاہر ہے ۔گاڑی پر بیٹھ کر پہلے سے چھپے ہوئے دشمن کے سنائپرز کا مقابلہ کرنا اتنا آسان نہیںہوتااور یہ بات ہائی کمانڈ کی نظر سے بھی اوجھل نہیں ہے ۔تم جانتے ہو گے کہ وزیرستان میں اپنی فوج قلعہ بند ہے ۔حرکت کرتے وقت یا کسی علاقے کی تلاشی لینے کے علاوہ کسی کو کیمپ سے باہر رہنے کی اجازت نہیں ہوتی ۔جبکہ دہشت گرد اطمینان سے دندناتے پھر رہے ہیں ۔اور ان کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمارے سنائپرز کو بھی کیمپ سے باہر جانا ہوگا ۔طالبان کے کئی دھڑے ہیں۔لیکن انھیں ہم بنیادی طور پر دو بڑے گروپوں میں بانٹ سکتے ہیں ۔پہلا گروپ اصل طالبان یا مجاہد ہیں ۔اور وہ امریکہ کے خلاف افغانستان میں برسرِ پیکا ر ہیں۔دوسرا گروپ جو کئی گروپوں کا مجموعہ ہے اس میں مقامی لوگ ہیں جو ایجنسیوں سے پیسے لے کر پاک آرمی پر حملے کرتے ہیں ،باہر کی کئی ایجنسیاں جیسے ،را،موساد ،فری میسن اور کے جی بی وغیرہ کے تربیت یافتہ دہشت گرد ہیں ،کچھ اپنے پنجاب کے علاقے سے خریدے گئے دہشت گرد ہیں۔ یہ سب ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے نہیں ہیں ۔لیکن ان کے کام تقریباََ ایک سے ہیں ۔پاک آرمی پر چھپ کر حملے کرنا ،سنائپنگ کرنا ،آرمی کے قافلوں کے رستے پرآئی ای ڈیز وغیرہ لگانااور ملک بھر میں دہشت گردی کی کارروائیاں کرنا ۔“وہ ایک لمحے کے لیے سانس لینے کو رکا اور پھر اس کی بات جاری رہی ۔
” سردار خان، اسدخٹک ،بشیر حیدر ،عصمت اللہ جان اور سہیل مروت کوجلد ہی کیمپ سے باہر رہنے کے احکام مل جائیں گے ۔یوں بھی وہ پانچوں پختون ہیں اس لیے انھیں پشتو کلاس کی ضرورت ہی نہیںہے۔ان سے سروس کارڈ وغیرہ بھی جمع ہو جائیں گے اور وہ مکمل طور پر سول کی طرح کام کریں گے ۔طریقہ وہی ہوگاجو سنائپرز کا خاصہ ہوتا ہے وہ جوڑیوں یعنی بڈی سسٹم میں کام کریں گے ۔ میر علی ،بکا خیل ،میرن شاہ، دتہ خیل ،غرلامئے ،اور اس سے ملحقہ علاقے ان کے دائرہ کار میں آئیں گے ۔ تمھیں ایک مہینے بعد وانہ ،شکئی ،شوال وادی اور انگور اڈے کی طرف جانا پڑے گا۔وہاں پر فوجی قافلوں پر بہت زیادہ حملے ہو رہے ہیں ۔اور اس طرف آپریشن کی تقریباََ شروعات ہے ۔ا ب تم یہ بھی سوچو گے کہ تمھیں پشتو سکھانے کی کیا ضرورت آن پڑی جبکہ وہاں دوسری زبانوں کے جاننے والے بھی موجود ہیں ۔“اس نے جو نکتہ اٹھایا تھا وہی بات میرے دماغ میں پیدا ہوئی تھی ۔چونکہ وہ خود ہی اس سوال کا جواب دینے والا تھا اس لیے میں خاموشی سے اس کی سنتا رہا ۔”اصل میں کمانڈنگ آفیسر نہیں چاہتا کہ تم پشتو نہ جاننے کی وجہ سے مار کھا جاﺅ ۔اور کوئی آدمی تمھارے سامنے ہی تمھارے خلاف منصوبہ بندی کرتا رہے اور تمھیں معلو م ہی نہ ہو ۔تم پر وہ بہت زیادہ انحصار کر رہے ہیں ۔تمھیں وہاں کافی عرصہ گزارنا پڑے گا کچھ اور ضروری باتیں بھی ہیں جو تمھیں بعد میں بتائی جائیں گی فی الحال ان پانچوں میں سے تم اپنی پسند کا ایک ساتھی چن لو اسے کل ہی واپس بلا لیا جائے گا ۔بلکہ میرا خیال ہے سردار ہی کو بلوا لوں ۔“آخری فقرہ انھوں نے مسکرا کر کہا تھا ۔
”جی سر !“میں نے اثبات میں سر ہلادیا۔
”کوئی سوال ؟“اس نے گویا اپنی بات ختم کرنے کا اعلان کیا ۔
”سوال جواب کے لیے مہینا پڑا ہے سر !“
”انتیس دن ۔“اس نے میری تصحیح کرتے ہوئے مجھے جانے کا اشارہ کیا ۔
اور میں ۔”اسلام علیکم سر !“کہتے ہوئے باہر آ گیا ۔

جاری ہے

No comments:

غازی از ابو شجاع ابو وقار قسط نمبر60 Ghazi by Abu Shuja Abu Waqar

Ghazi  by  Abu Shuja Abu Waqar  غازی از ابو شجاع ابو وقار  پیشکش محمد ابراہیم 60 آخری قسط نمبر  Ghazi by Abu Shuja Abu...

Powered by Blogger.