Ads Top

ﻧﺎﻭﻝ رکھیل از ریاض_عاقب_کوہلر قسط نمبر 17

ﻧﺎﻭﻝ  رکھیل

  از 

 ریاض_عاقب_کوہلر



#رکھیل
قسط نمبر17
#ریاض_عاقب_کوہلر
اضطرابی انداز میں ہاتھ مروڑتے ہوئے وہ کراہی۔”آپ اپنے بھیا کے ساتھ مل کر مجھے بے وقوف بنا رہے ہیں نا ۔“
”ایسا بالکل بھی نہیں ہے بہن ،اصل میں کبیرداداتمھاراسامنا نہیں کرنا چاہتا اسی وجہ سے اس نے مجھے درمیان میں ڈالا ہے ۔اور میںتم سے بھی یہ درخواست کروں گا کہ اگرتمھارے دل میں کبیردادا کی ذرا سی عزت موجود ہے تو ان کے سامنے آکر انھیں نادم کرنے کی کوشش نہ کرنا ۔گو اس کے بعد بھی وہ تمھیں یہاں رکھنے پر تیار نہیں ہوں گے ،مگر پھر بھی میں نے ان سے وعدہ کیا ہے کہ تم ان کے سامنے نہیںآﺅگی ۔اور امید ہے ایسے آدمی کی بات نہیں ٹالوگی جسے تم بھائی کی جگہ دے چکی ہو ۔“پاشا نے اس کے دل میں موجود بھائی کے جذبات کو اپنے مقصد کے لیے استعمال کرنا چاہا ۔
”میں کیا کروں ۔“وہ آنسوﺅں کو مزید نہیں روک پائی تھی ۔
”دیکھو بہن رونے دھونے سے کام نہیں بنے گا ۔بس یہ سوچیں کہ اب تمھیں کہاں جانا ہے ۔تاکہ میں اس شہر میں تمھاری رہائش کا بندوبست کر دوں ۔یہاں کبیردادا سے علاحدہ ہوتے ہی تمھیں خطرے گھیر لیں گے ۔“
”ان سے علاحدہ ہو کر زندہ کون رہنا چاہتا ہے ۔“اس نے سسکی بھری ۔
”بے وقوف نہ بنو ،بات زندگی موت کی نہیں ہے ۔تم نہیں جانتی کہ کراچی میں کس قسم کے درندے بھرے پڑے ہیں ۔وہ بھیڑیے تمھاری جان نہیں عزت کے دشمن ہیں ۔اور میں نہیں چاہتا کوئی تمھارے دوپٹے کی طرف میلا ہاتھ بڑھائے ۔یہی کچھ کبیردادا کی بھی خواہش ہے ۔ اس لیے گھر جا کر اپنی امی جان سے مشورہ کر لوتاکہ میں مطلوبہ شہر میں تمھاری رہائش کا بندوبست کر دوں ۔اور فکر نہ کرنا اس سے اچھا مکان لے کے دوں گا اور مستقبل کے لیے بھی مستقل آمدن کا کوئی بندوبست کروں گا ۔آخر تمھیں بہن کہا ہے ۔“
”کچھ بھی نہیں چاہیے مجھے ۔کچھ بھی نہیں ۔“وہ چہرہ ہاتھوں میں چھپا کر سسکنے لگی ۔
”بے وقوفوں کی سی بات نہ کرو پگلی ۔نہ تم کبیردادا کے لیے بنی ہو نہ وہ تمھارے لیے ۔ تم دونوں کا مزاج ،طبیعت ،عادات بالکل مختلف ہیں ۔اور پھر تم نمازی پرہیزی لڑکی ہو اور وہ ٹھہرے گینگسٹر جو شراب بھی پیتے ہیں ،لڑکیوں سے غلط تعلقات بھی رکھتے ہیں ،قاتل بھی ہیں تو ایسے میں نبھاہ کیسے ہو گا ۔یہ بات وہ بھی جانتے ہیں اور تمھیں بھی معلوم ہوگی ۔اس لیے یہ رونے دھونے کانہیں شکر کا مقام ہے ۔“
”کیا آپ ہمارے گھر کا اچھے داموں سودا کروا کر ہمیں اس کے بدلے دوسرے شہر میں گھر لے کے دے سکتے ہیں ۔“
”کہا نا پیسوں کی فکر نہ کرو ۔“پاشا کا دل خوشی سے دھڑکا اسے لگا وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہونے والا ہے ۔تناوش کا کانٹا بہت خوش اسلوبی سے نکل رہا تھا ۔
”نہیں بھیا ،امی جان کبھی بھی حرام کے پیسے کو قبول نہیں کریں گی ،بس آپ ہمارے گھر کا سودا کروا کر ہمیں دوسرے شہر میں منتقل کروا دیں ۔“
”ٹھیک ہے یہ بھی ہو جائے گا ۔“
”مجھے گھر تک چھوڑ دیں گے ۔“اس نے آنسو صاف کرتے ہوئے پوچھا ۔
”یہ کوئی کہنے کی بات ہے ۔“پاشا خوش دلی سے بولا۔
”اچھا میں اپنا سامان سمیٹتی ہوں ۔“وہ بوجھل قدموں سے خواب گاہ کی طرف بڑھ گئی۔ گھنٹا بھر پہلے وہ جانے کن خوش کن خیالوں میں گم تھی اور اب اس کا دل جیسے کند چھری سے کاٹا جا رہا تھا ۔کبیردادا کے بارے اس کے سارے اندازے غلط ثابت ہوئے تھے ۔اور حقیقت بس اتنی ہی تھی کہ اسے تناوش کے ان چھوئے اور پرکشش بدن کی طلب تھی ۔اسی وجہ سے اس نے تناوش کی مدد کی تھی اور اسی وجہ سے اس کی جھولی میں قرب کی چند راتیں ڈالی تھیں ۔خوب صورت عورتوں کے لیے مرد ذات یونھی نرم دل بن جاتی ہے اور وہ کبیردادا کی اس نرمی کومحبت اور چاہت سمجھ بیٹھی تھی ۔اپنے کپڑے اور کتابیں دو مختلف لفافوں میں ڈال کراس نے حسرت بھری نگاہ اس خواب گاہ پر ڈالی اورباہر نکل آئی ۔وہاں گزارے چند دن اس کی زندگی کا حاصل تھے ۔ ایک غریب بے توقیر لڑکی ایسی خواب گاہ اور کوٹھی خواب میں بھی نہیں دیکھ سکتی اور وہ عارضی طور پر سہی اس کی مالکن بننے کی لذت سے تو بہرہ مند ہو چکی تھی ۔کبیردادا کا لایا ہوا لباس اور الماری کی چابی اس نے وہیں چھوڑ دیاتھا۔
”دونوں شاپر ڈرائینگ روم میں رکھ کر وہ راحت خالہ سے الوداعی ملاقات کے لیے باورچی خانے میں گھس گئی ۔وہ سنک کے سامنے کھڑی برتن دھو رہی تھی ۔تناوش کے بار بار منع کرنے کے باوجود وہ کام کرنے سے باز نہیں آتی تھی ۔قریب جاتے ہی وہ ۔”خالہ ۔“ کہہ کر اس سے لپٹ کر سسک پڑی۔
”کیا ہوا خالہ کی جان ۔“راحت خالہ پریشان ہو گئی تھی ۔
”آپ ٹھیک کہتی تھیں خالہ ،وہ کسی سے محبت نہیں کر سکتے ۔جس مرد کو نت نئی حسینائیں دستیاب ہوں وہ میرے جیسی ایک پر کب قانع رہ سکتے ہیں ۔“
راحت خالہ نے گھبرا کر پوچھا ۔”کیا پھر کوئی کلموہی آ گئی ہے ۔“
وہ گلو گیر لہجے میں بولی ۔”نہیں خالہ ،انھوں نے پاشا بھائی کی زبانی مجھے یہاں سے نکلنے کا حکم سنا دیا ہے ۔ “
”کک....کیا ....ایسا کیسے ہو سکتا ہے ۔“راحت خالہ ہکلا گئی تھی ۔
”ایسا ہی ہوا ہے خالہ ۔بس دعاﺅں میں یاد رکھنا اور اگر مجھ سے کوئی غلطی یا گستاخی ہو گئی ہو تو بیٹی سمجھ کر معاف کردینا ۔“
”میری پیاری بیٹی ۔“راحت خالہ آنکھوں میں آنسو بھر کر اس کی پیشانی چومنے لگی ۔ تناوش ایک جھٹکے سے اس سے علاحدہ ہو کر باہر نکل گئی ۔پاشا ڈرائینگ روم میں اس کا منتظر بیٹھا تھا۔وہ اس کے ہمرا ڈرائینگ روم سے باہر نکل آئی ۔تھوڑی دیر بعد وہ کوٹھی سے نکل آئے تھے۔اس سے گھر کا پتا معلوم کر کے پاشا اس سمت چل پڑا ۔وہ بڑی مشکل سے آنسو روکے بیٹھی تھی ۔
”اچھا گھر جاتے ہی ماں سے مشورہ کرنا تاکہ کل پرسوں میں تمھیں یہاں سے کسی دوسرے شہر میں منتقل کردوں ۔کبیردادا کی تمھیں طلاق دینے کی خبر پھیلتے ہی تمھارے لیے خطرے کا آغاز ہو جائے گا ۔“
”کک....کیا وہ طلاق دیں گے ۔“اس کی آنکھیں دوبارہ بہنے لگی تھیں ۔”مجھے طلاق نہیں چاہیے ۔ٹھیک ہے میں ساری زندگی انھیں چہرہ نہیں دکھاﺅں گی مگر انھیں کہیں مجھے طلاق نہ دیں ۔میں بس ان کے نام ہی پر بقیہ عمر گزارنا چاہتی ہوں ۔“
”یہ نہ ہو میں تمھارے چہرے پر زور دار تھپڑ رسید کردوں ۔“پاشا نے پیاربھرے انداز میں اسے ڈانٹا ۔”بے وقوف یوں اپنی زندگی کن کے لیے برباد کر رہی ہو ،ان کے لیے جنھوں نے رات گزارنے کے لیے نئی لڑکی کو بلاوا بھیج دیا ہے ۔کل دوسری ہوگی اور پرسوں تیسری ۔ انھیں شاید تمھارا نام بھی دو تین دنوں میں بھول جائے ۔جن کی خواب گاہ روزانہ نت نئی لڑکیوں سے سجی رہے گی انھیں کوئی تناوش کیسے یاد رہ پائے گی ۔یاد رکھنا بہنا ،محبتیں اس ماحول میں پنپتی ہیں جب غم غلط کرنے کے لیے جذباتی سہارا نہ ملے ۔ان کی زندگی میں سیکڑوں لڑکیاں آ کر جا چکی ہیں اور ہزاروں چشم بہ راہ ہیں ۔آج بنت حوا نے خود کو کتنا سستا کردیا ہے تم اس کا اندازہ نہیں کر سکتیں۔بس خریدار کے پاس رقم ہونا چاہیے شکل و صورت کی کوئی قید نہیں ۔کبیردادا تو صورت کے لحاظ سے بھی امیر ہیں ۔تو ایسے شخص کے لیے اپنی زندگی برباد نہ کرو۔طلاق کے بعد چند ماہ تو عدت گزارنا پڑتی ہے اس کے بعد امید ہے تم سنبھل جاﺅ گی ۔کوئی ایسا ویسا لڑکا دیکھ کر شادی نہ کر لینا ،مجھے کال کر کے مشورہ ضرور لینا میں خود لڑکے کے خاندان اور کردار وغیرہ کی پڑتال کروں گا اور پھر تمھاری شادی کراﺅں گا ۔“
”بھیا ۔“وہ سسک پڑی ۔”میں انھیں کبھی معاف نہیں کروں گی، کبھی نہیں ۔“
پاشا نے ایک ہاتھ سے اسٹیرنگ ویل تھامتے ہوئے دوسرا ہاتھ اس کے سر پر رکھا ۔ ”پاگل نہیں بنتے ہیں بہنا ،یقین مانو تم تھوڑے عرصے بعد ہی اس بے وقوفی پر ہنسا کرو گی ۔“
ایک تلخی سی اس کے اندر سے ابھری ۔”اپنی اور ان کی حیثیت دیکھ کر تو اب بھی ہنسی آتی ہے ۔“
”کیا میں یہ یقین کر سکتا ہوں کہ تم ان سے رابطہ نہیں کرو گی ۔“پاشا نے یقین کرنا چاہا۔
اس نے سسکیاں بھرتے ہوئے کہا ۔”کبھی نہیں کروں گی ،کبھی بھی نہیں ۔اگر ان کی کال آئی تو بھی وصول نہیں کروں گی ۔“
”شاباش،اب ذرا اپنا موبائل فون ادھر کرو ۔“
”یہ لیں ۔“اس نے پرانا سا موبائل فون اس کی طرف بڑھادیا۔اس نے کبیردادا کا نمبر مٹا کر تمام بھیجے گئے اور وصول کیے ہوئے پیغامات اور کالیں وغیرہ مٹائیں اور اپنا نمبر محفوظ کر کے موبائل فون اس کی جانب بڑھادیا ۔
”میں نے کبیردادا کا نمبر مٹا دیا ہے اور اپنا نمبر محفوظ کر دیا ہے ۔اسی طرح میرے پاس بھی تمھارا نمبر آگیا ہے ۔اب کوئی بھی مسئلہ وغیرہ ہوتا ہے تو مجھے کال کردینا ۔“
وہ گھبرا کر بولی ۔”مم....مگر ان کا نمبر کیوں مٹا دیاہے ۔“
پاشا نے صفائی سے جھوٹ بولا۔”ایسا انھوں نے کہا تھا ۔وہ نہیں چاہتے تم ان سے رابطہ کر سکو ۔“تناوش سر جھکا کر خاموش ہو گئی ۔
اس کے گھر کے سامنے کار روک کر وہ بولا۔”دیکھو گھر جا کر رونا نہیں ،خالہ یونھی پریشان ہو جائیں گی ۔اور یاد سے ان سے مشورہ کر لینا ،میں بعد میں کال کر کے معلوم کر لوں گا ۔ اس کے علاوہ کسی چیز کی ضرورت ہو تو مجھے بتا دو ۔“
وہ اضطرابی انداز میں ہاتھ مروڑتے ہوئے بولی ۔”بھ....بھیاکیا ان کی تصویر مل سکتی ہے ۔“
پاشا نے افسوس بھرے انداز میں دائیں بائیں سر ہلایا۔وہ خفیف انداز میں سر جھکائے بیٹھی تھی ۔
”اچھا ٹھیک ہے کل ان کی تصویر بلکہ بہت ساری تصویریں دے دوں گا اور کچھ ؟“
”شکریہ بھائی ۔“وہ باہر نکل کر عقبی نشست پر پڑا اپنا سامان اٹھانے لگی ۔
٭٭٭
تناوش کو گھر چھوڑتے ہی اس نے دوبارہ کبیردادا کی رہائش گاہ کا رخ کیا اور خواب گاہ میں جاکر تصویر کے عقب میں چھپی تجوری کھول لی ۔ اس میں بھرے کروڑوں روپے ایک کالے لفافے میں ڈال کر وہ خوا ب گاہ سے باہر نکلا اوراوپری منزل پر موجود ایک بندکمرے کے دروازے پر جا کر رک گیا ۔وہ تالا کیا ہواکمرہ کافی عرصے تک اس کے استعمال میں رہ چکا تھا ۔اور یہاں سے جانے کے بعد بھی یہ کمرہ اسی کے نام پر مختص تھا ۔تالا کھول کر وہ اندرداخل ہوا اور کپڑوں کی الماری میں رقم چھپا کر باہر نکل آیا۔ کوٹھی سے نکلتے ہی وہ کبیردادا کو کال کرنے لگا۔وہ ساحل والے اڈے سے اٹھ کرگھر جانے کی تیاریوں میں تھا ۔
”دادا آپ تھوڑی دیر وہیں رک کر میرا نتظار کریں ایک بہت ضروری بات کرنا ہے۔“
”یار، یہ بات چیت بعد میں نہیں ہو سکتی ۔“کبیردادا کو تناوش کے پاس جانے کی جلدی تھی ۔گزشتا دو دن وہ مسلسل اپنے گھر جاتی رہی تھی اور آج وہ خوش قسمتی سے گھر پر موجود تھی ۔ کبیردادا جلد از جلد گھر جا کر اپنی آنکھوں کی پیاس بجھانا چاہتا تھا ۔
”دادا کہا نا بہت ضروری مسئلہ ہے ،ایک بہت بڑی خوش خبری سنانا چاہتا ہوں ۔“
”اچھا جلدی آﺅ ۔“وہ گویا بادل نخواستہ مان گیا تھا ۔
پاشا کووہاں پہنچنے میں گھنٹا لگا تھا ۔کبیردادا بیزاری اور کوفت کاروپ دھارے اس کا منتظر تھا ۔
نشست سنبھالتے ہی وہ چہکا ۔”مبارک ہو دادا ،کام ہو گیا ۔“
”کیا ،کون سا کام ؟“اس کی آنکھوں میں حیرانی سمٹ آئی تھی اور دل کسی اندیشے سے دھڑکنے لگا تھا ۔
”بھابی چلی گئی ہے اور وہ کل پرسوں تک وہ ماں سے مشورہ کر کے اس شہر کا نام بتا دے گی جہاں انھوں نے منتقل ہونا ہے ۔“
”یار میں مذاق کے موڈ میں نہیں ہوں ۔“کبیردادا نے بیزاری بھرے لہجے میں اسے جھڑکا ۔
پاشا اطمینان بھرے لہجے میں بولا ۔”میں بھی ۔“
”اچھا ٹھیک ہے اب میں جاسکتا ہوں ۔“کبیردادا نے نشست چھوڑی ۔
”میری بات مکمل نہیں ہوئی دادا ۔“
” بکو ۔“نہ جانے کیوں کبیردادا کو بے اطمینانی محسوس ہونے لگی تھی ۔
”یہ سچ ہے ،لیکن اس مکار نے فوراََ مجھے بھائی بنا کر جذباتی طور پر دھونس جمائی اور یہ وعدہ لے لیا کہ وہ آپ کا سامنا نہیں کرے گی ۔“
”کیسے نہیں کرے گی سامنا ۔“کبیردادا کی آواز میں شامل غصے نے پاشا جیسے نڈر کو بھی لرزا دیا تھا ۔
”دادا ،آپ اپنے کہے سے پھر رہے ہیں ۔“
”نہیں یہ طے ہوا تھا ۔اور میں نے کہا تھا کہ میں اس کی آنکھوں میں ندامت دیکھنا چاہتا ہوں ،میں خود کانوں سے سن کر یہ یقین کرنا چاہتا ہوں کہ وہ مجھے چھوڑکر جانے پر ہنسی خوشی راضی ہے ۔“
”اس کی مرضی میں آپ کو سنوا سکتا ہوں لیکن اس کے ساتھ آپ کو وعدہ کرنا پڑے گا کہ آپ اس سے بات نہیں کریں گے ۔“
”سناﺅ ۔“کبیردادا اپنی غیر ہوتی حالت پر مشکل سے قابو پائے ہوئے تھا ۔پاشا نے فوراََ تناوش کا نمبر ملا کر سپیکر آن کر دیا ۔
”اسلام علیکم بھیا ۔“کال وصول کرتے ہی اس کی مدھر آواز ابھری ۔ پاشا کو یوں بھیا کہنے پر کبیردادا کو کسی بڑی گڑ بڑ کا احساس ہوا تھا ۔
”وعلیکم اسلام بہنا ،کیا ماں جی سے مشورہ کرلیا ہے کہ کس شہر میں منتقل ہونا ہے ۔“
وہ دھیمے لہجے میں بولی ۔”ابھی تک نہیں کیا ۔“
”اچھا جلدی بات کرو ،کیونکہ تمھیں یہاں کافی خطرہ ہے اور میں جلد از جلد تمھیں کسی محفوظ جگہ پر منتقل کرنا چاہتا ہوں ۔باقی پریشان نہ ہونا تم نے جو کام بتایا ہے وہ ہو جائے گا ۔خواہ مخواہ نادم ہونے کی ضرورت نہیں ۔تم نے بڑا بھائی بنا لیا ہے تو بھائی بن کر دکھاﺅں گا ۔“پاشا نے اس کی کبیردادا کی تصویریں مانگنے والی بات کو ندامت سے جوڑ کر کبیردادا کی سوچوں کو من چاہا رخ دیا ۔
”شکریہ بھیا ۔“تناوش بھولے پن سے اس کی چال میں آگئی تھی ۔
”اور فکر نہ کرنا، جیسے ہی کبیردادا نے طلاق دی میں اسٹام پیپر پران کے دستخط کرا کر تمھارے حوالے کروں گا ۔اب یہ میری ذمہ داری ہے ۔“
”بھیا ....“تناوش یقینا کچھ الٹا سیدھا اگلنا چاہتی تھی۔پاشا نے فوراََ پیار بھرا انداز اپناتے ہوئے اسے جھڑکا۔
”اب بس ایک لفظ بھی نہ کہنا اس متعلق اور وعدہ کرتا ہوں کبیردادا تمھارے سامنے نہیں آئے گا ۔اپنا خیال رکھنا خدا حافظ ۔“اس نے تناوش کی بات سنے بغیر رابطہ منقطع کر دیا ۔ کبیردادا کاٹو تو بدن میں لہو نہیں کی زندہ مثال بنا بیٹھا تھا ۔ساری گفتگو سن کر اسے پاشا پر ذرا سا بھی شک نہیں ہوا تھا ۔
”دادا آپ پریشان نظر آرہے ہیں ۔“موبائل فون جیب میں ڈالتے ہوئے وہ مستفسر ہوا ۔
کبیردادا اسے جواب دیے بغیر میز کی چکنی سطح پر نظریں جمائے کسی غیر مرئی نقطے کو گھور رہا تھا ۔
”دادا آپ نے وعدہ کیا تھا کہ اگر وہ ہنسی خوشی جانا چاہے گی تو آپ نہیں روکیں گے ۔ اب آپ نے اپنے کانوں سے سن لیا ہے ۔اسے طلاق بھی چاہیے اور وہ آپ کا سامنا بھی نہیں کرنا چاہتی ۔“
”سامنا تو اسے کرنا پڑے گا ۔“کبیردادا نے جیسے خود کلامی کی تھی ۔موت سے آنکھیں ملانے والا ایک لڑکی کی بے وفائی پر اپنے شاگرد سے نگاہ نہیں ملا پا رہا تھا ۔
اسی وقت پاشا کے موبائل فون پر پیغام کی گھنٹی بجی ۔تناوش نے پیغام بھیجا تھا ،وہ پڑھنے لگا ....
”بھیا ،پلیز انھیں کہہ دیں نا کہ مجھے طلاق نہ دیں ۔بے شک ساری زندگی انھیں منھ نہیں دکھاﺅں گی ۔پلیز وہ آپ کی بات نہیں ٹالیں گے ۔“
’بے وقوف ہو تم ۔“اس نے فوراََ ہی جواب دے کر وہ پیغام مٹا دیا ۔
”بھیا ،پلیز اگر مجھے بعد میں لگا کہ طلاق لینا ضروری تھا تو میں اس وقت آپ کو کہہ کر طلاق لے لوں گی ،مگر فی الحال نہیں ۔پلیز انھیں کہیں نا کہ اگر انھوںنے مجھے طلاق دی تو مجھے کچھ ہو جائے گا ۔“
”اچھا ٹھیک ہے ۔“اس نے دوسرے میسج کا جواب لکھ کر بھیجا اور دوسرا پیغام بھی مٹا دیا۔
”اسی کے پیغام ہیں ۔“کبیردادا کو جانے کیسے اندازہ ہوا تھا ۔
”ہاں ۔“پاشا نے اثبات میں سر ہلایا۔”مگر ایسے نہیں جو آپ کو پڑھائے جا سکیں ۔ وہ بے چاری ڈری ہوئی ہے ۔مجھے بار بار وعدے یاد دلا رہی ہے ،منتیں کر رہی ہے ۔اور کیوں نہ کرے آپ کا خوف اب تک ہمارے دلوں سے نہیں نکل سکا وہ بے چاری تو چھوٹی سی لڑکی ہے۔“
”وہ چھوٹی سی لڑکی ،عملوں کی پوری ہے ۔“کبیردادا نے دانت پیسے ۔
”دادا اگر اسے نادم اور شرمندہ کر کے آپ کی انا کو تسکین مل سکتی ہے تو چلیں ابھی اس کے پاس چلتے ہیں ۔وہ ایک غریب بے سہارا لڑکی ہے ،زندگی میں سوائے محرومیوں ،حسرتوں اور پوری نہ ہونے والی خواہشوں کے اس نے کچھ نہیں دیکھا ۔پہلی بار اے سی میں سوئی ،پہلی بار فرج کا ٹھنڈا پانی چکھا ،ناشتے میں باسی روٹی کھانے والی، شہد ،جام ،انڈے ،مکھن وغیرہ سے لطف اندوز ہوئی ۔اتنا آرام دہ بستر دیکھا ۔پر تعیش خواب گاہ اور آرام دہ باتھ روم کی سہولت محسوس کی ۔ ملازموں کی سی زندگی گزارنے والی کو ملازموں پر حکم چلانے کا موقع ملا اور بے چاری اس زندگی کے حصول کی خواہش میں جی جان سے جت گئی ۔میرے سامنے بھی پہلے تو اس نے اپنی محبت وغیرہ کا ڈھنڈورا پیٹا ،لیکن جب میں نے اسی طرح کی کوٹھی ،کار اور منھ مانگی دولت دینے کا وعدہ کیا تو اپنے دعوے پر قائم نہ رہ سکی اور پھر آپ کا سامنا نہ کرنے کی شرط پر ہنسی خوشی طلاق لینے پر آمادہ ہو گئی ۔اب آپ اسے کس بات پر شرمندہ کریں گے ۔یہی پوچھیں گے کہ وہ جھوٹی محبت ظاہر کرتی رہی ۔وہ خاموشی سے سر جھکا لے گی اور آپ کی انا کو تسکین مل جائے ہے نا ۔“
کبیردادا خاموش بیٹھا رہا ۔
”دادا یقین مانیں اس طرح بس میں اس کی نظروں سے گرجاﺅں گا ۔کچھ بھی ہے اس کو میں نے بہن کہا ہے ۔اور یقین مانیں اس کی باتیں سن کر وہ مجھے دھوکا باز نہیں لگی ۔گو وہ آپ سے جھوٹی محبت جتاتی رہی ہے لیکن یہ بھی سچ ہے کہ وہ اس شادی کو قائم رکھنا چاہتی تھی ۔گو اس کے پش پردہ عیش و آرام کی زندگی کا حصول تھا ۔اب آپ کے بغیر اسے یہ زندگی مل رہی تھی تو اس نے آمادگی ظاہر کرنے میں دیر نہ لگائی ۔میں نے بھی اس سے سچ اگلوانے کے لیے بڑے وعدے اور قسمیں کھائیں کہ اسے آپ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا ۔“
کبیردادانے گہرا سانس لے کر پاشا کی باتوں کو ہضم کرنے کی کوشش کی مگر اس کے اندر عجیب قسم کی آگ سلگ رہی تھی ۔تناوش ایسے کیسے جا سکتی تھی ۔اب جبکہ وہ اس کی محبت پر اعتبار کر بیٹھا تھا تو اس نے ایک دم اس کے قدموں کے نیچے سے زمین کھینچ لی تھی ۔
”کیا سوچ رہے ہیں ۔“پاشا پھر اس کی سوچوں میں مخل ہوا ۔
چند لمحے سوچنے کے بعد وہ بولا۔”ٹھیک ہے ،اسے دوسرے شہر میں منتقل کرو ۔اس کے لیے بہت اچھی کوٹھی خریدنا ،کالے رنگ کی مرسڈیز لینا اور اتنی رقم دینا کہ اسے کسی سے مدد کی ضرورت باقی نہ رہے ۔“
پاشا مسکرایا ۔”رقم تو میرا خیال ہے اس نے حاصل کر لی ہے ،کیونکہ خواب سے نکلتے وقت دو تین کالے لفافے اس نے پکڑے ہوئے تھے ۔اور ایک لفافے میں مجھے بڑے نوٹوں کی گڈیوں کی جھلک بھی نظر آئی تھی ۔مزید گھر جا کر تسلی کر لینا ۔“
”دو اڑھائی کروڑ تو ہو گا ۔“کبیردادا کے ہونٹوں پر زخمی مسکراہٹ نمودار ہوئی ۔
”اچھا یہ حساب کتاب تو بعد میں کرتے رہیں گے ۔پہلے آپ وعدہ کریں کہ اسے تنگ نہیں کریں گے ،میرا مطلب اسے کال وغیرہ بھی نہیں کریں گے ۔“
”کہہ دیا نا ٹھیک ہے ۔“کبیردادا چڑ گیا تھا ۔
”اچھا آپ اپنا موبائل فون مجھے دیں ۔“پاشا نے اس کی طرف ہاتھ پھیلایا۔
کبیردادا نے میز پر پڑا موبائل فون اس کی طرف دھکیل دیا ۔پاشا نے فوراََ تناوش کا نمبر کالیں اور پیغامات وغیرہ مٹا کر موبائل فون واپس کبیردادا کی طرف بڑھا دیا ۔
”میں نے اپنی بہن کانمبر مٹا دیا ہے ۔اگر اس کا دل چاہا تو آپ کو کال کر لے گی ورنہ آپ اسے کال نہیں کرسکیں گے ۔“
”تمھارا دماغ درست ہے ۔“کبیردادا دھاڑا ۔
”پہلے میری پٹائی کر کے اپنے دل کی بھڑاس نکال لیں اس کے بعد جواب دوں گا ۔“
”اس کا نمبر تو نہیں مٹانا چاہیے تھا ۔“
”کرنا کیا ہے اس کے نمبر کا ۔اگر اسے ضرورت ہو گی تو خود ہی کال کر لے گی ۔شاید ندامت وغیرہ کے اظہار کے لیے کال کر بھی لے جو کافی مشکل دکھائی دے رہا ہے ۔البتہ آپ کو ہلکا ہونے کی اجازت میں ہرگزنہیں دوں گا ۔کبیردادا ایک چھوٹی سی چھوکری سے محبت کی بھیک مانگتا پھرے یہ مجھے گوارا نہیں ۔“
”تم بس بکواس کر سکتے ہو ۔“کبیر دادا نے اسے جھڑکا۔
”نصیحت سمجھیں ،مشورہ جانیں یا بکواس کہیں مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔آج میرے سر سے بہت بڑا بوجھ اتر گیا ہے ۔آپ کی صلاحیتوں کو زنگ لگانے والی ،آپ کو مقصد سے دور کرنے والی اور آپ کی کامیابی و ترقی کی راہ کا سب سے بڑا روڑا آج میں نے ہٹا دیا ہے ۔اور فکر نہ کرنا اسے بہن کہا ہے تو اس کے لیے کوٹھی کار وغیرہ کا بندوبست میں اپنے پیسوں سے کر لوں گا۔“
”چلنا چاہیے ۔“اس کی بات کا جواب دیے بغیر کبیردادا کھڑا ہو گیا ۔
”مہربانی فرما کر اس کے گھر کا رخ نہ کر لینا ۔“پاشا آخری لمحوں میں اسے نصیحت کرنے سے نہیں چوکا تھا ۔البتہ تناوش کو طلاق دینے کا ذکر اس نے جان بوجھ کر نہیں کیا تھا کہ وہ کبیردادا کو تھوڑا سا موقع دینا چاہتا تھا ۔یوں ایک دم اسے ڈسٹرب کرنا مناسب نہیں تھا ۔اپنی پہلی محبت کو وہ اتنی جلدی تو نہیں دل سے نہیں نکال سکتا تھا ۔
”بھاڑ میں جائے یا ر۔“کبیردادا غم و غصے میں کھولتا ہوادفتر سے باہر نکل گیا ۔
٭٭٭
گھر میں داخل ہوتے ہی وہ بھاں بھاں کرتی ہوئی ماں سے جا لپٹی ۔
”کیا ہوا میری شہزادی کو ۔“بشریٰ اسے ساتھ لپٹائے چارپائی پر بیٹھ گئی ۔مگر وہ جواب دیے بغیر سسکیاں بھرتی رہی ۔
اس کے ہاتھوں میں تھامے سامان کو دیکھتے ہی بشریٰ کو اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ کیوں رو رہی ہے ۔
”اچھا اتنا نہیں روتے ،میری شہزادی کے لیے رشتوں کی کوئی کمی ہے ،اتنے رشتے آئیں گے کہ حساب رکھنا مشکل ہو جائے گا ۔پھر میری گڑیا اپنی پسند کا شہزادہ چنے گی اور آرام سے بقیہ زندگی گزارے گی ۔
وہ چیخی ”مجھے ان کے علاوہ کوئی نہیں چاہیے ،کوئی بھی نہیں ،نہ شہزادہ نہ بادشا ہ یا وزیر ۔“
بشریٰ اسے سمجھانے لگی ۔”ہے نا پاگل ،ایک غنڈے موالی سے وفا اور محبت کی توقع رکھنا بے وقوفی ہی تو ہے ۔ شکر کرو اس نے اتنی آسانی سے تمھاری جان چھوڑ دی ۔“
”نہیں چھڑانا مجھے اپنی جان ،قید رہنا چاہتی ہوں ان کے پاس۔ آپ چلیں ان سے بات کریں کہ وہ مجھے طلاق نہ دیں ۔میں ان کی ملازمہ بن کر پڑی رہوں گی ،کوئی خواہش کوئی تمنا نہیں کروں گی ۔وہ جو مرضی آئے کرتے رہیں مگر مجھے خود سے دور نہ کریں ۔میں انھیں شراب پینے سے بھی منع نہیں کروں گی ۔چلیں نا ماں جی چلیں ان کے پاس وہ آپ کی بات نہیں ٹالیں گے۔“وہ سسکیاں بھرتے ہوئے گڑگرانے لگی ۔
”ایسا نہیں کہتے میری جان ،اسے محبت نہیں کہتے ۔اگر اس کی نظروں میں تمھاری ذرا سی بھی وقعت ہوتی تو تمھیں یوں کیوں دھتکارتا ۔اپنی رہی سہی عزت گنوانے سے کیا ملے گا۔ جب اسے تم سے محبت ہی نہیں ہے تو میری منت کس کام کی ۔یاد ہے نا کیا کہا تھا کہ ،ایسے با اختیار اور صاحبِ حیثیت لوگوں کے لیے ہم غریب مخمل میں ٹاٹ کے پیوند جتنی اہمیت رکھتے ہیں۔ اس نے بس تمھاری صورت دیکھ کر شادی کی حامی بھری تھی ۔اور صورت کے پجاری کا دل چند دنوں ہی میں سیر ہو جایا کرتا ہے ۔اب اسے کسی نئی صورت اور تازہ جوانی کی تلاش ہو گی تم اس کے لیے باسی ہو گئی ہو میری شہزادی ۔اس کے پاس دیکھنے والی آنکھ ہوتی تو اسے معلوم ہوتا نا کہ اس نے کس ہیرے کو ٹھوکر ماری ہے ۔“
”نہیں ہوں میں ہیرا ،ایک بے حیثیت پتھر سے بھی کم اوقات ہے میری ۔ان کی ملازمہ بننے کے لائق بھی نہیں ۔نہ دیتے بیوی کے حقوق اپنی خدمت تو کرنے دیتے ۔اس بہانے انھیں دیکھتی تو رہتی نا ۔“وہ سسکیاں بھر بھر روتی رہی ۔
بشریٰ خاتون کی آنکھیں بھی بیٹی غم میں بھر آئی تھیں ،مگر وہ رو کر اپنی بیٹی کے دکھ کو بڑھانا نہیں چاہتی تھی ۔وہ اسے تسلیاں دیتی رہی ،سنہرے مستقبل ،ان دیکھے شہزادے اور آرام دہ خوشگوار ازدواجی زندگی کے بارے باتیں کر کے اس کا ذہن بٹاتی رہی ۔گھنٹے ڈیڑھ میں اس کی حالت سنبھل گئی تھی ۔بشریٰ تھوڑی دیر اسے گود میں لیے بیٹھی رہی اور پھر اسے چارپائی پر لٹا کر باورچی خانے کی طرف بڑھ گئی ۔اس کے چاے بنانے سے پہلے موبائل فون کی گھنٹی بجی ۔تناوش ہڑبڑا کر موبائل فون کی طرف متوجہ ہوئی ۔پاشا کی کال نے اسے مایوس کر دیا تھا ۔کسی ان ہونی کی امید میں اس نے کال وصول کرنے کا بٹن دبا کر موبائل فون کان سے لگا لیا ۔گفتگو کے اختتام پر اس کی مایوسی دو چند ہو گئی تھی ۔
پھر اس سے صبر نہ ہو سکا اور وہ پاشا کو پیغام لکھنے لگی ۔
٭٭٭
کار سے اترتے ہی اس کی نظریں دروازے کی چوکھٹ کو دیکھنے لگیں جہاں ،سیاہ نشیلی آنکھوں میں محبت کی شمعیں روشن کیے ،خوب صورت ہونٹوں پر پیار بھری مسکان سجائے وہ اس کی منتظر کھڑی ہوتی تھی ۔
خواب گاہ میں داخل ہوتے ہی اس نے چاروں طرف نگاہیں دوڑائیں ۔شراب کی الماری کے تالے میں دھاگاپروئی چابی لگی ہوئی تھی ۔
”بس اتنا ہی خیال رکھنا تھا ۔اب شراب نوشی مجھے نقصان نہیں پہنچائے گی یا اب تمھارا مطمح نظر پورا ہوگیا ہے ۔“کبیردادا کے دماغ میں شکوہ کرتی سوچ ابھری اور وہ تجوری کی طرف بڑھ گیا ۔تالہ کھولتے ہی پاشا کی بات کی تصدیق ہو گئی تھی ۔پیسوں کے نام پر وہاں پھوڑی کوڑی بھی دکھائی نہ دی ۔البتہ اس کے ضروری کاغذات وغیرہ کو اس نے نہیں چھیڑا تھا ۔
”تو تمھیں دولت چاہیے تھی ،بہت ساری ۔“اس کے ہونٹوں پر زخمی مسکراہٹ نمودار ہوئی ۔”ضرور ملے گی اور بھی ملے گی مگر سکون نہیں ملے گا ،کبھی بھی نہیں ،یقینا تم مجھ سے بھی بڑی گنیگسٹر نکلیں کہ مجھے چاروں شانے چت کر دیا ۔“اس کے دماغ میں تناوش کا فقرہ گونجا۔
”کبیرکو دادا کہتے ہو تو مجھے دادی کہا کرو ۔“اس وقت اس کے فقرے پر ہنسنے والے کو آج محسوس ہو رہا تھا کہ وہ واقعی تناوش دادی ہی نکلی تھی ۔
وہ ڈریسنگ روم میں داخل ہوا ۔اس کی الماری خالی تھی صرف کبیردادا کادیا ہوا لباس وہ وہیں چھوڑ گئی تھی ۔
”اتنے پیسے لے گئی ہو اپنے پرانے لباس ہی چھوڑ جاتیں ۔“اس کی سوچیں شاکی ہوئیں۔
اپنے ترتیب سے لٹکے ہوئے سارے لباس اس نے الماری سے باہر نکال کر پھینک دیے ۔ دراز میں موجودخوشبو میں بسی جرابیں بھی نیچے قالین پر بکھیر دیں ۔”نہیں چاہیے تمھاری کوئی خدمت ۔“غصے میں کہتے ہوئے اس نے ڈریسنگ روم میں ترتیب سے رکھی تمام اشیاءبکھیر دی تھیں ۔”ہاتھ بھی نہ لگانا میری چیزوں کو دفع ہو جاﺅ ،بڑی آئی محبت جتانے والی ....تم جانتی نہیں میں کبیردادا ہوں ،دنیا مجھ سے ڈرتی ہے ۔اور تمھاری یہ جرّات کہ مجھے کبیر کہو ۔دوبارہ ایسا کہنے کی کوشش بھی کی تو گردن توڑ دوں گا تمھاری ۔“وہ ڈریسنگ روم سے باہر نکل آیا۔
”تمھارا کیا خیال ہے میرے ہاتھ نہیں ہیں ،اپنے بوٹ نہیں اتار سکوں گا ۔“میز پر بوٹ رکھ اس نے جھک کر باری باری دونوں جوتوں کے تسمے کھولے اور جوتے اتار کر بوٹ ریک کی طرف اچھالتا ہوا چلایا۔”کھول لیے ،کیا میرے ہاتھ گھِس گئے ہیں یا سانس چڑھ گیا ہے ۔ ٹائی بھی کھول لوں گا ۔“ٹائی کی گرہ ڈھیلی کر کے اتارتے ہوئے اس نے قالین پر پھینک دی ۔ کوٹ بھی اتار کر دور اچھال دیا ۔”بچہ نہیں ہوں ،سب کام کر سکتا ہوں ،بڑی آئی اپنی خدمت سے متاثر کرنے والی ،نہیں چاہیے تمھاری خدمت ،تمھاری کوئی ضرورت نہیں ہے۔نہ گھر میں کوئی جگہ ہے اور نہ میری زندگی میں ۔“
صوفے پر گرنے کے انداز میں بیٹھتے ہوئے اس نے آنکھیں بند کر لیں ۔
”کھانا نہیں کھاتے تو چاے کی پیالی پی لو ....تھکے ہوئے آئے ہو ۔“اس کے دماغ میں تناوش کی آواز گونجی ۔
”کہا ناکچھ نہیں چاہیے ۔“وہ اتنی زور سے دھاڑا تھا کہ راحت خالہ بھاگتی ہوئی وہاں پہنچ گئی ۔
”جی صاحب جی ۔“
منھ سے کچھ کہے بغیر اس نے ہاتھ کے اشارے سے واپس جانے کا کہا اور آنکھیں بند کر لیں ۔
”نہیں پیوں گا چاے ،کھانا بھی نہیں کھاﺅں گا ،ہفتہ ہفتہ جرابوں کا ایک ہی جوڑا پہنے رکھوں گا تین تین بوتلیں شراب کی بھی پیوں گا ۔تم کون ہوتی ہو مجھے روکنے ٹوکنے والی ۔ہاں بتاﺅ نا تم کون ہومجھے روکنے والی ۔کبیر دادا عورت کو پاﺅں کی جوتی سمجھتا ہے ،کئی آئیں اور کئی گئیں اگر تم خود دفع نہ ہوتیں تو کل پرسوں تمھیں بھی ٹھوکر مار کر بھیج دیتا ۔“وہ خود کلامی کے انداز میں بڑبڑاتا رہا ۔آنکھیں بند کرتے ہی وہ چھلانگ لگا کر پھر خیالوں میں آدھمکی ....اس کے بازو پر سر رکھ کر وہ اس کی چھاتی پر ملائم ہاتھ پھیر رہی تھی ۔
وہ پوچھنے لگا ۔”یہ تناوش بھلا کیسا نام ہے ؟“
اس کی مترنم ہنسی گونجی ۔”کبھی قرآن پڑھا ہوتو پتا چلے نا جناب کو بائیسویں پارے کی سورہ سبا میں میرا نام ذکر ہوا ہے ،پکڑے نہ جانا ،ہاتھ نہ آنا ،ناممکن الحصول ۔پتا نہیں آپ کے قابومیں کیسے آگئی ۔“
اس نے منھ بنایا۔”جی مجھے کسی کو قابو کرنے کا کوئی شوق نہیں ۔“
وہ وارفتگی سے بولی ۔”مگر مجھے تو آپ کے قابو میں آنے کا شوق ہے نا ۔“
”جھوٹی ،دورغ گو ،غلط بیاں دھوکے باز ....بکواس کرتی ہے ۔“وہ پھر غم وغصے میں بڑبڑاتا ہوا اٹھ بیٹھا۔اس کی نظر شراب کی الماری کی طرف اٹھی اور وہ اسی طرف بڑھ گیا ۔اکٹھی تین بوتلیں ہاتھ میں پکڑ کر وہ واپس صوفے پر آن بیٹھا ۔
”کسی میں اتنی جرّات نہیں کہ مجھے شراب نوشی سے روک سکے ۔جتنی مرضی ہو گی پیوں گا ۔بوتل کھول کر اس نے گلاس میں انڈیلنے کا تکلف کیے بغیر بوتل منھ سے لگا لی ۔تلخ سیال نے اس کی چھاتی میں آگ جیسی سلگا دی تھی ۔مگر وہ غٹا غٹ پیتا رہا ۔ایک بوتل خالی کر کے اس نے دوسری بوتل کھول لی ۔اور دوسری کے ختم ہونے پر تیسری کو ہونٹوں سے لگا لیا ۔ایک دم خالص شراب کی اتنی مقدار معدے میں انڈیلنے سے اس پر مدہوشی چھانے لگی ۔وہ چوتھی بوتل لینے کے لیے الماری کی طرف بڑھا ،لڑکھڑاتے قدموں نے اس کا ساتھ نہیں دیا تھا ۔وہ لہراتا ہوا قالین پر گرا ۔اس کا سر بڑی مشکل سے بیڈ سے ٹکرانے سے بچا تھا ۔ایک دو لمحہ اسی طرح پڑے رہنے کے بعد وہ سرجھٹکتا ہوا بیڈ کا کنارہ پکڑ کر اوپر اٹھا اور پھر اوندھے منھ ہی بیڈ پر لیٹ گیا ۔
” قریب نہ آنا ،مجھے کسی کی بھی ضرورت نہیں ،میں اپنا خیال رکھ سکتا ہوں ۔“اسے محسوس ہوا کہ وہ اس کے بالوں میں ہاتھ پھیر رہی ہے ۔”اپنے گندے ہاتھ میرے سر سے دور رکھو ،میں کہہ رہا ہوں دور رکھو اپنے ہاتھ ۔“وہ ایک ہاتھ سے اسے دور جھٹکنے لگا ۔وہ شاید جلدی سے پیچھے ہٹ گئی تھی تبھی تو وہ اس کا ہاتھ پکڑ نہیں سکا تھا ۔مگر جیسے ہی وہ اپنا ہاتھ پیچھے کرتا وہ دوبارہ اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگتی ،اس کی شوخ ،مترنم اور چنچل ہنسی کبیردادا کو غصہ دلانے لگی ۔مگر اس میں اسے دور ہٹانے کی سکت نہیں رہی تھی ۔”دور ہوجاﺅ ....پرے ہو جاااااﺅوو....“اس کی آواز نیند میں ڈوب گئی ۔
”بس اتنی ہی محبت تھی تمھاری ۔“اسے قیمتی کار سے اترتے دیکھ کر کبیردادا نے طعنہ دیا۔”دھوکے باز کہیں کی ،مطلبی خود غرض ۔میرے جذبات سے کھیلتے ہوئے تمھیں ذرا سا بھی احساس نہ ہوا ۔“
وہ گھبرائے بغیراستہزائیہ لہجے میں بولی ۔”لوگوں کی زندگیوں سے کھیلنے والا قاتل ، شرابی اور بدکردار شخص مجھے اخلاق سکھا رہا ہے واہ ۔“
وہ چلایا ۔”بکواس بند کرو ۔“
”ورنہ کیا کر لو گے ،مجھے بھی قتل کر دو گے ....لو چلاﺅ گولی ،ڈرتی نہیں ہوں تم سے ۔ جو کر سکتے ہو کرلو ۔“
”تمھارے جیسی گھٹیا عورت میں نے آج تک نہیں دیکھی ۔“
”تعریف کرنے کا شکریہ ۔“اس کی گنگناتی ہنسی نے کبیردادا کے کانوں میں رس انڈیلا ۔اتنا غصہ ہونے کے باوجود وہ اس کی ہنسی سے خود کو متاثر ہونے سے نہیں روک سکا تھا ۔
”تمھیں یہاں بھی تو عیاشی بھری زندگی مل سکتی تھی ،پھر تم نے دور جانے کا فیصلہ کیوں کیا ۔“اس مرتبہ اس کے لہجے میں غصے کے بجائے شکوے کا عنصر نمایاں تھا ۔
اس نے کندھے اچکائے ۔”کسی کی ملازمہ بن کر رہنا کون پسند کرتا ہے مسٹر کبیر۔“
”ملازمہ اور بیوی میں فرق ہوتا ہے ۔“
”نام کی حد تک ،کام دونوں کا ایک ہی ہوتا ہے اور جب آزادی کی زندگی میسر ہو تو کیا ضرورت ہے قید میں رہنے کی ۔“
”پلیز ....“وہ منتوں پر اتر آیا ۔
”ہاہاہا۔“اس نے طنزیہ قہقہہ لگایا۔”تم تو بہت بڑے دادا ہو،اتنی جلدی گھٹنے ٹیک دیے۔“ بے پروائی سے کہتے ہوئے وہ آگے بڑھ گئی اور کبیردادا حسرت بھری نظروں سے اسے گھورتا رہ گیا ۔
٭٭٭
”تھوڑا سا تو کھالو۔“ماں نے نوالہ اس کے ہونٹوں کی طرف بڑھایا۔
”دل نہیں چاہ رہا ماں جی ۔“اس نے ماں کا ہاتھ دور دھکیل دیا ۔
”ایسا نہیں کرتے میری جان ،زندگی کی خوشیاں کسی ایک ہی شخص سے تو نہیں جڑی ہوتیں ۔تمھیں اتنے خوب صورت ،وجیہہ اور پرکشش جوان ملیں گے کہ وہ غنڈہ تمھیں یاد بھی نہیں آئے گا ۔“
وہ سسکی ۔”بھولے گا تو یاد آئے گا نا ۔“
”کیا وہ اکیلا مرد ہے دنیا میں ۔“بشریٰ نے ہلکے سے ڈانٹا۔
”ابو جان بھی تو اکیلے مرد نہیں تھے ماں جی !پھرآپ نے بھرپور جوانی کیوں ضائع کر دی ۔“طنز کے بجائے اس کے لہجے میں شکوہ چھپا تھا ۔
”کیونکہ وہ مجھے چاہتے تھے ،اتنا جتنا آج تک کسی نے کسی کو بھی نہیں چاہا ہوگا ۔اتنی توجہ دیتے تھے کہ اتنی توجہ کوئی نہیں دے سکتا تھا ۔ایسے محبوب کا سوگ منانے کے لیے تومیری ایک زندگی بھی کم ہے ،اگر مجھے دس زندگیاں اور ملیں تو اپنے رفیق کی یاد میں گزار دوں ، مگر تم کس بل بوتے پر اپنے شوہر کا تقابل میرے شوہر سے کر رہی ہو یہ زیادتی ہے میری جان ،کیونکہ میرے شوہر کو تو مجھ سے موت نے چھینا ہے ۔اور تمھارے موالی نے ٹھوکر مار کر تمھیں اپنی زندگی سے دور کیا ہے ۔“
”وہ نادم ہیں ،اسی لیے تو میرا سامنا نہیں کرنا چاہتے ۔اور ....اورانھیں میری فکر ہے۔وہ چاہتے ہیں میں کسی محفوظ مقام پر اپنی زندگی گزاروں ،اسی وجہ سے انھوں نے پاشا بھائی کو کہا ہے کہ میرے حوالے بہت ساری دولت کر دے ،مجھے گاڑی بنگلہ خرید کر دے ۔میں نے تو آپ کی وجہ سے منع کر دیا کہ امی جان کو حرام کی دولت نہیں چاہیے ۔“
”سچ میں ،میری شہزادی اتنی سیانی ہو گئی ہے ۔“کھانے کے برتن ایک طرف کر کے اس نے تناوش کو اپنی گود میں گھسیٹ لیا ۔
”میں جھوٹ نہیں بولتی ماں جی ۔“
”اس کا مطلب میں یونھی سوچ رہی تھی کہ میری شہزادی عیش و آرام کی زندگی چھن جانے کی وجہ سے پریشان ہے ۔“
”میں ان کے ساتھ جھونپڑی میں بھی رہنے کو تیار ہوں ماں جی ،اور یقین مانیں میں انھیں گناہ کی زندگی سے نکالنے کا سوچے ہوئے تھی ۔آہستہ آہستہ شراب نوشی کی عادت ان سے چھڑا رہی تھی ،باقی کام بھی وہ ضرور چھوڑ دیتے ،مگر پھر انھوں نے مجھے چھوڑ دیا ۔“آخری جملے کہتے ہوئے اس کی آواز بھرا گئی تھی ۔
”شاید وہ تمھاری بہتری چاہتا ہے ،اسی لیے خود سے دور کر دیا ۔“بشریٰ نے اسے تسلی دی ۔
”مجھے نہیں چاہیے یہ بہتری ،میں انھیں کسی بھی چیز ،کسی بھی کام سے منع نہیں کروں گی بس اپنے ساتھ رکھ لیں ،خود سے دور نہ کریں ۔“
”بیٹی!.... پتا ہے محبت ایک بہت قیمتی اور اعلا جذبہ ہے ۔اور کسی کی محبت میں پاگل ہوجانا فطرتی معاملہ ہے ۔انسان کے بس سے باہر ہے کہ وہ کسی کی محبت کو اپنے دل نکال پھینکے ۔ لیکن محبت ہو جانے کے بعد اپنے افعال اور حرکات پر قابو پانا ضرور انسان کے بس میں ہوتا ہے ۔ تمھیں اس سے محبت ہے ہزار بار کرو،تمھیں وہ پیارا لگتا ہے ضرور لگا کرے ،مگر اپنے پاگل پن کو دل سے باہر نہ آنے دو بیٹی ۔خود کو اتنا نہ گراﺅ کہ پاتال میں جا گرو ۔اگر کسی کو تمھاری محبت کی پروا نہیں تو کیوں اپنی محبت کی ناقدری کرواتی ہو ،کیوں اپنے قیمتی جذبات کو سستا بنا کر پیش کرتی ہو ، کیوں اپنی ذات کی نفی کرنے پر تل گئی ہو ۔اس کی محبت کو بیشک دل سے نہ نکالو ،مگر وہ تمھیں اپنی زندگی سے دور کر رہا ہے تو دور ہوجاﺅ ۔محبت خوراک نہیں کہ بھیک میں مل جائے ،ہیرے ،جواہر نہیں کہ دولت سے خریدی جائے ،زمین جائیدادنہیں کہ ورثے میں حاصل ہو ،سلطنت ،حکومت نہیں کہ بزورِ بازو چھین لی جائے ۔یہ تو خود رو پودے کی طرح پنپنے والا جذبہ ہے جو بغیر محنت ، کھیتی باڑی اور پانی لگانے کے کسی بنجر زمین میں بھی اگ آتا ہے ۔ جیسے آپ کسی کی محبت کو دل سے نکال نہیں سکتیں ،یونھی کسی کے دل میں زبردستی محبت ڈالی بھی نہیں جا سکتی ۔بیٹی چھوڑ دو اس کے خیال ، اگر وہ تم سے دور خوش رہ سکتا ہے تو اس کی خوشی میں خوش رہو ۔یہی تو محبت کا فلسفہ ہے ۔“
”میں انھیں دور رہ کر دکھاﺅں گی ماں جی۔وہ ضرورپچھتائیں گے ،دیکھنا ایک دن انھیں میری یاد آئے گی ،جب وہ بکھریں گے اور انھیں سمیٹنے والا کوئی نہیں ہو گا ،جب وہ روئیں گے اور آنسو پونچھنے والا کوئی نہیں ہوگا ،جب وہ اکیلے ہوں گے اور ساتھ نبھانے والا کوئی نہیں ہو گا اور تب ....تب وہ میرے پاس آئیں گے اور میں ....میں انھیں سمیٹنے کے لیے اپنی آغوش وا کر دوں گی ،میں انھیں کوئی طعنہ نہیں دوں گی ماں جی ،کچھ بھی نہیں کہوں گی ۔گزرا وقت بالکل بھی یاد نہیں کراﺅں گی ۔بس کہہ دوں گی کہ میں تو کب سے منتظر تھی آپ نے خود ہی دیر کر دی ۔“نمکین پانی اس کے گالوں پر بہنے لگا ۔
”پھر وہی بے وقوفی ، ا ٹھو اور تھوڑا سا کھانا کھا لو۔“اسے گود سے اٹھا کر بشریٰ زبردستی اسے کھانا کھلانے لگی ۔طوعن و کرھن اسے چند نوالے نگلنے پڑے تھے ۔کھانے کے بعد بشریٰ اس کے لیے چاے بنا کر لے آئی تھی ۔چاے پیتے ہوئے وہ مستفسر ہوئی ۔
”ماں جی پاشا بھائی کہہ رہے تھے کہ یہاں ہماری جان کو خطرہ ہے ،کیونکہ میری وجہ سے کافی خطرناک لوگ ان کے خلاف ہو گئے تھے اور اب جب میں ان کی زندگی سے نکل گئی ہوں تو وہ خطر ناک لوگ مجھے نقصان پہنچا سکتے ہیں ۔اس لیے پاشا بھائی کہہ رہے تھے کہ ماں کے ساتھ مل کر سوچ لو کہ کس علاقے میں رہنا ہمیں پسند ہے وہ اس گھر کے بدلے ہمیں وہاں گھر بنا کر دے دیں گے ۔“
”میں نے بھی کچھ ایسا ہی سوچ رکھا ہے بیٹی ،صبح مولوی صاحب سے جا کر اس بارے مشورہ لوں گی ۔اور اب تو ہمارا گھر بھی اچھے داموں بک جائے گا ۔اتنا کام تو تمھارا کم بخت شوہر ہنسی خوشی کروا دے گا نا۔“
”ماں جی وہ بنگلہ لے کر دینے کو تیار ہے آپ ہاں تو کریں ۔“
”مجھے نہیں چاہیے حرام کی دولت ،بس ہمارا اپنا پیسہ کافی ہے ۔“
”پھر انھیں کوس کیوں رہی ہیں ۔“تناوش خفا ہونے لگی ۔کبیردادا کے خلاف وہ کچھ بھی تو نہیں سن سکتی تھی ۔
”تو اور کسے کوسوں ،اپنی شہزادی کی آنکھوں میں آنسو لانے والے کو دعائیں تو نہیں دے سکتی ۔“
”ماں جی ،میں نے انھیں معاف کر دیا ہے آپ بھی کر دیں ۔اور یاد رکھنا اگر انھیں کچھ ہو گیا تو آپ کی بیٹی بھی زندہ نہیں رہ پائے گی ۔“
بشریٰ بولی ۔”ٹھیک ہے ،لیکن اس شرط پر کہ تم کوئی بے وقوفی کی حرکت نہیں کرو گی ۔ نہ تو اسے ملنے کی کوشش کرو گی اور نہ کال پر بات کرنے کی ۔“
وہ مایوسی سے بولی ۔”پاشا بھائی نے ان کا موبائل فون نمبر میرے موبائل فون سے مٹا دیا ہے۔“
بشریٰ تحسین آمیز لہجے میں بولی ۔”بہت اچھا کیا ہے اس لڑکے نے ۔“
”اگر انھوں نے کال کی پھر میں بات کروں گی ۔“ایک عجیب سی حسرت اس کے لہجے میں ابل رہی تھی ۔
”ہاں ہاں کر لینا ۔“بشریٰ جان چھڑاتے ہوئے بولی ۔”اب آنکھیں بند کر کے سونے کی کوشش کرو ۔“وہ خود بھی لیٹ گئی ۔
تناوش آنکھیں بند کر کے بھی جاگتی رہی ۔گاہے گاہے وہ موبائل فون کی سکرین پر بھی نگاہ دوڑا لیتی ۔
”کیا پتا مجھے یاد کر رہے ہو ں،ہو سکتا ہے انھوں نے کھانا بھی نہ کھایا ہو ،شاید اپنے فیصلے پر پچھتا رہے ہوں ۔“دل کے کسی کونے میں اب بھی امید باقی تھی کہ کبیردادا کی کال آئے گی۔رات گئے گلی سے کوئی کار گزری اور وہ چارپائی سے اٹھ کر دروازے کی طرف دوڑ پڑی ،مگر کار رکے غیر آگے گزر گئی تھی ۔وہ گال بھگوتی واپس چارپائی پر لوٹ آئی ۔اس کی ماں گہری نیند میں تھی ورنہ اسے ضرور ڈانٹتی ۔
جاری ہے....

No comments:

غازی از ابو شجاع ابو وقار قسط نمبر60 Ghazi by Abu Shuja Abu Waqar

Ghazi  by  Abu Shuja Abu Waqar  غازی از ابو شجاع ابو وقار  پیشکش محمد ابراہیم 60 آخری قسط نمبر  Ghazi by Abu Shuja Abu...

Powered by Blogger.