ﻧﺎﻭﻝ سنائپر از ریاض_عاقب_کوہلر قسط نمبر 16
ﻧﺎﻭﻝ سنائپر
سنائپر
قسط نمبر 16
ریاض عاقب کوہلر
”لالا جی !....دو مہینے تو آپ کو بڑھانا ہوں گے ۔“میرے نشست سنبھالتے ہی صوفے میں دھنسے ہوئے ایک فرد نے سلسلہ کلام جوڑا ۔
”مکرم بھائی !....چھے ماہ کم تو نہیں ہوتے ۔“آدیت ورما نے کاروباری مسکراہٹ چہرے پر سجا لی تھی ۔اس کے لہجے سے ہویدا متانت اس کے اچھے کاروباری ہونے کی دلیل تھی ۔
”اچھا نہ آپ کا نہ ہمارا ۔سات ماہ کے اندر ہم مکمل ادائی کے ذمہ دار ہوں گے ۔“اس مرتبہ مکرم کے ساتھ بیٹھے ہوئے دوسرے آدمی نے زبان کھولی ۔
”ہونہہ!....“گہرا سانس لیتے ہوئے آدیت ورما نے کہا۔”چلو ،جیسے آ پ کی اِچھا ۔ “ (مرضی)اور ان دونوں کے چہرے پر مسکراہٹ دوڑ گئی تھی ۔
مکرم نے کہا۔”تو پھرلڑکوں کو لوڈنگ کا بتا دیں ۔“
آدیت ورما نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے اپنے سامنے ٹیبل پر پڑی گھنٹی کا بٹن دبایا۔چند سیکنڈز کے اندر ایک نوجوان اندر داخل ہوا ۔
”مہیت !....مکرم صاحب کا یہ کپڑا لوڈ کروا دو ۔“آدیت ورما نے میز پر پڑی ایک فہرست اٹھا کر مہیت نامی نوجوان کی طرف بڑھا دی ۔
مہیت نے ۔”جی لالاجی !....“کہہ کر اس کے ہاتھ سے کاغذ لیا اور دفتر سے باہر نکل گیا ۔
”جی بھائی !....“مہیت کے باہر نکلتے ہی آدیت ورما میری جانب متوجہ ہوا ۔
”لالا جی !....سنا ہے لٹھے کا بھاﺅ کافی نیچے آ گیا ہے ۔کیا یہ سچ ہے ؟“میں نے براہ راست اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے مخصوص کوڈ دہرایا۔
یہ الفاظ سنتے ہی ممجھے اس کی آنکھوں میں بے چینی کی لہر اٹھتی نظر آئی لیکن اس نے اپنے چہرے پر کوئی ایسا اثر ظاہر نہیں ہونے دیا تھا ۔میں دل ہی دل میں اس کے مضبوط اعصاب کا قائل ہو گیا تھا ۔
”ایسی افواہیں عموماََ سننے میں آتی رہتی ہیں ۔“اس نے متبسم ہو کر نرم لہجے میں جوابی کوڈ دہرایا۔
مکرم اور اس کا ساتھی بھی آدیت ورما کی بات پر مسکرا پڑے تھے ۔
”میں بس تصدیق کرنے ہی آیا تھا ۔“میں نے نادم انداز میں اگلا کوڈ بھی دہرا دیا تھا تاکہ شک کی گنجائش بھی ختم ہو جائے ۔
”ہاں ہم بھی لوگوں کی غلط فہمیاں دور کرنے کو تو بیٹھے ہیں ۔“آدیت ورما نے قہقہہ لگا کر کوڈ کا آخری حصہ دہرادیا۔
”شکریہ لالاجی !....“میں نے انکسارانہ لہجے میں جواب دیا ۔میں نے اپنی پہچان کرا دی تھی اس کے بعد میں آدیت ورما کی صوابدید پر تھا کہ کس طرح وہ مجھے ہدف سے متعلق معلومات پہنچاتا ہے اور کس طرح مجھے مطلو ب سامان میرے حوالے کرتا ہے ۔
”ویسے آپ کو کتنا لٹھا چاہیے تھا ؟“آدیت ورما نے مکرم وغیرہ کی وجہ سے سلسلہ کلام جاری رکھا کیونکہ اس کے علاوہ تو میرے وہاں بیٹھنے کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہتی تھی۔
”چھوٹا سا دکان دار ہو ں لالاجی !....اب کیا کہوں ۔“
”اچھا اس بارے بات کر لیتے ہیں ،پہلے میرا خیال ہے چاے پی لیں ۔“اس نے مرتبہ پھر سامنے پڑی گھنٹی بجا دی ۔
”آپ لوگ یقینا چاے لینا پسند کریں گے ۔“آدیت نے ان دونوں سے دریافت کیا ۔
”شکریہ لالا جی !....مکرم نے بہ مشکل صوفے سے اٹھتے ہوئے انکار میں سر ہلایا ۔اس کا ساتھی بھی اس کے ساتھ کھڑا ہو گیا تھا ۔”ہم اب اجازت چاہیں گے ۔“
آدیت نے بھی کھڑے ہو کر ان سے الوداعی مصافحہ کیا ۔اورگھنٹی کی آواز پر اندرآنے والے لڑکے کو دو چاے کا بتا کر وہ دوبارہ میری جانب متوجہ ہو گیا ۔
”آپ کا نام نہیں پوچھ سکا ہوں ؟“
”کرن مہتا۔“
”کہاں ٹھہرے ہو؟“اس نے میرا اصل نام جاننے کی خواہش نہیں کی تھی ۔
”ہنومان جی ہوٹل کمرہ نمبر ستائیس۔“
اس نے کاغذ پر ایک پتا لکھ کر میری طرف بڑھا دیا ۔”فی الحال یہاں پہنچو ۔یہ ایک چھوٹا سا کوارٹر ہے ۔“یہ کہتے ہوئے اس نے دراز سے ایک چابی بھی نکال کر مجھے دے دی ۔”جب تک مزید معلومات نہیں ملتیں آپ نے کہیں بھی نہیں جانا ۔کھانا آپ قریبی ہوٹل سے کھا لیاکرنا ۔“
”ٹھیک ہے سر !“میں نے اس کی عمر اور انڈیا میں گزارے ہوئے عرصے کو دیکھتے ہوئے مودّبانہ لہجے میں کہا ۔
اس نے دائیں ہاتھ کی شہادت کی انگلی تنبیہہ کے انداز میں اٹھا کر نفی میں سر ہلایا۔”فقط لالاجی۔“
”جی لالا جی !“میں نے فوراََ اثبات میں سر ہلادیا تھا ۔
”اب جاﺅ۔چاے پینا کوئی اتنا ضروری بھی نہیں ہے ۔“اس نے مجھے جانے کا اشارہ کیا ۔اور میں ہندوﺅں کے انداز میں نمستکار کہتے ہوئے وہاں سے باہرنکل آیا ۔میرے دل میں اس کی ذات کے بارے ہلکی سی کرید تو ضرور موجود تھی لیکن اپنے اندر میں اتنی جرّات مفقود پاتا تھا کہ اس سے کچھ دریافت کر سکوں ۔ وہ ایک خاموش مجاہد تھا جانے کتنے سال اس نے مادر وطن کے لیے قربان کر دیے تھے ۔اپنی جوانی کے بہترین دن یوں گزار دینا اتنا آسان نہیں ہوتا ۔اپنے علاقے ،گھر ،والدین ،بہن بھائیوں اور بیوی وغیرہ کے لیے اس کی حیثیت ایک مردے سے بڑھ کر نہیں تھی ۔سب بڑھ کر وہ اطمینان اور سکون سے اپنے ربّ کے سامنے سر نہیں جھکا سکتا تھا ۔اور گھر میں ایک ہندو بیوی کے ہوتے ہوئے شاید اسے چھپ کر بھی نماز پڑھنے کا وقت نہ ملتا ہو ۔اس جیسے کئی اور خاموش مجاہد بھی انڈیا میں موجود ہیں ۔جن کا مقصد زندگی ہی پاک وطن کے خلا ف سازشوں کو بے نقاب کرنا اوراپنے ازلی دشمن کے خلاف ایسی کارروائیاں جاری رکھنا ہوتا ہے جس سے دشمن کو سر اٹھانے کا موقع نہ مل سکے ۔عوام کو شاید پتا نہ ہو کہ ایسے خاموش مجاہدوں کی وجہ سے جانے کتنی بار پاکستان جنگ کا ایندھن بننے سے بچا ہے ۔اور کتنی بار ایسی سازشیں تکمیل سے پہلے ہی طشت از بام ہو گئیں کہ جن پر عمل درآمد کی صورت میں پاکستان مزید کئی ٹکڑوں میں بٹ چکا سکتا تھا۔بنگلہ دیش کے بارے بھی ان مجاہدوں نے بہت پہلے ساری سازش کا پتا چلا لیا تھا لیکن ہماری عیاش اور خود غرض قیادت نے اس بارے غور و غوص کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی تھی ۔بلکہ ہمارے کچھ سیاست دان تو خود ایسا ہونے دینا چاہتے تھے ۔ان کے نزدیک بنگلہ دیش کا علاحدہ ہوجاناہی مفیدتھا ۔بہ ہرحال یہ ایک لمبی بحث ہے اور اس کا میری کہانی سے کوئی تعلق بھی نہیں ہے ۔یوں بھی پاک آرمی کی اعلا قیادت کو سیاست میں حصہ لینے کی اجازت نہیں تو میرے جیسے عام سپاہی کی تو حیثیت ہی کیا ہے ۔
ہوٹل سے اپنا سامان سمیٹ کر میں حساب کتاب چکتا کر کے باہر نکل آیا ۔مجھے انتظار نہیں کرنا پڑا اور ہوٹل سے باہر نکلتے ہی مجھے ایک خالی رکشا مل گیا تھا ۔مطلوبہ پتا چونکہ آدیت ورما نے انگلش میں لکھا تھا اس لیے میں نے خود پڑھ کر رکشا ڈرائیور کو بتا دیا ۔
آدھے گھنٹے بعد میں مطلوبہ کوارٹر کے سامنے تھا ۔رکشے والے کو فارغ کر کے میں تالا کھول کر اندر داخل ہو گیا ۔دو کمرے،ان کے سامنے چھوٹا سا برآمدہ ، باورچی خانہ ،بیت الخلااور غسل خانے پر مشتمل وہ ایک ساتھ ستھرا کوارٹر تھا ۔ چھوٹا سا صحن جس میں بس دو چارپائیاں پہلو بہ پہلو آ سکتی تھیں ۔ برآمدے میں کھڑی انڈین ساخت کی نئی بائیک دیکھ کر مجھے خوشی ہوئی تھی ۔
بیرونی دروازہ کنڈی کر کے میں اندر گھس گیا ۔بائیک کا ہیلمٹ اور چابی مجھے کمرے کے اندر میز پر پڑا نظر آ گیا تھا ۔دونوں کمروں پر سرسری نظر ڈال کر میں نے ایک چارپائی کو اپنے سونے کے لیے پسند کیا اور بستر جھاڑ کر لیٹ گیا ۔نامعلوم کس وقت آدیت ورما مجھے اگلی پلاننگ سے آگاہ کرتا تھا ۔اس وقت تک راوی چین ہی لکھتا نظر آتاتھا۔
مجھے ہفتہ یونھی بے کار رہنا پڑا ۔اس دوران میں ایک قریبی ہوٹل پر جا کر دو وقت کھانا کھاتا اور بس اس کے بعد اسی کوارٹر میں رہتا ۔کیونکہ آدیت ورما نے مجھے فضول گھومنے سے منع کیا تھا ۔
وہ جمعہ کا دن تھا ۔گیارہ بجے کے قریب کسی نے کوارٹر کے دروازے پر دستک دی ۔میرا دل ے اختیار دھڑک اٹھا تھا ۔یوں بھی دشمن ملک رہنے والے کو ہر وقت پکڑے جانے ہی کا دھڑکا لگا رہتا ہے۔پسٹل نیفے میں اڑس کر میں نے دروازے کے قریب جا کر پوچھا ۔”کون ؟“
”میں ڈاکیہ ہوں جی ۔“
”ڈاکیہ ؟“میرے دماغ میں خطرے کی گھنٹی بجی ۔”میرے دروازے پر ڈاکیے کا کیا کام ؟“
حیرانی بھرے لہجے میں پوچھا گیا ۔”یہ کرن مہتا صاحب کا گھر نہیں ہے ؟“
”میں ہی کرن مہتا ہوں ۔“میں نے بادل نخواستہ دروازہ کھولتے ہوئے باہر جھانکا ۔اور باہر کھڑے اکیلے آدمی کو دیکھ کر مجھے کچھ اطمینان محسوس ہوا تھا۔
”آپ کے نام رجسٹری آئی ہے مہاراج!“اس نے ایک خاکی لفافہ میری جانب بڑھاتے ہوئے مودّبانہ لہجے میں کہا ۔لفافے کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھا ۔ اور اس نے خفیف انداز میں مسکراتے ہوئے دائیں آنکھ میچ لی ۔گویا وہ اپنا ہی آدمی تھا ۔
”دھنے واد ۔“(شکریہ )کہہ کر میں نے اس کے ہاتھ سے لفافہ لے لیا ۔
وہ اثبات میں سرہلاتا ہوامزید کوئی بات کیے بغیر رخصت ہو گیا ۔
درواہ کنڈی کرکے میں اپنے کمرے میں پہنچا اور لفافہ چاک کرکے اندر سے لکھا ہوا کاغذ برآمد کر لیا ۔
خط ہفتہ وار شائع ہونے والے کسی اردورسالے کے مدیر کی جانب سے لکھا گیا تھا ۔مضمون کچھ اس طرح تھا ۔
”آپ کا بھیجا گیا افسانہ قابل اشاعت تو ہے لیکن اس میں رسالے کے مزاج کو مدنظر رکھتے ہوئے کچھ کانٹ چھانٹ کی گئی ہے ۔خاص کر وہ سین تو بالکل ختم کرنا پڑا جس میں مرکزی کردار کو اپنے بیڈ کے نیچے کھدائی کرنے پر خزانہ ہاتھ لگتا ہے ۔محترم اب خزانوں کا دور نہیں ہے امید ہے آپ کو برا نہیں لگا ہوگا ۔ بہ ہر حال آپ کوشش جاری رکھیں امید ہے جلد ہی کچھ بہترکر پائیں گے ۔باقی جس ہفتے آپ کا افسانہ شائع ہوگا آپ کو بہ ذریعہ چھٹی اطلاع کر دی جائے گی ۔اور یاد رکھنا لکھائی کی مشق کے لیے کھلی فضا خاص کر پہاڑی علاقہ بہتر رہتا ہے۔“ آخر میں انگریزی محاورہ درج تھا ۔Practice makes a man perfect
ایک دفعہ تو وہ تحریر پڑھ کر میں چکرا گیا تھا کہ اس بے معنی تحریر کا مقصد کیا ہے ۔دوبارہ پڑھنے پر بیڈ کے نیچے کھدائی والے فقرے نے مجھے تحریک کی دعوت دی ۔اس کوارٹر میں ایک ہی بیڈ پڑا تھا ۔ دوسرے کمرے میں دو چارپائیاں رکھی ہوئی تھیں ۔اور اتفاق سے میں بیڈ ہی پر سورہا تھا ۔میں نے بیڈ ہٹا کر اس کے نیچے بچھی ہوئی پلاسٹک کی چٹائی بھی ہٹادی ۔کمرے کا فرش پختہ اینٹوں کا بنا ہوا تھا ۔لیکن بیڈ کے نیچے ڈیڑھ فٹ چوڑی اور چار فٹ لمبی جگہ کی اینٹیں واضح طور پر ایسی دکھائی دے رہی تھیں کہ کسی نے اکھیڑ کر دوبارہ لگائی ہوں ۔میں جلدی جلدی وہ اینٹیں ہٹانے لگا ۔دو تین اینٹیں ہٹاتے ہی مجھے اس کے نیچے مضبوط پلاسٹک کا بکس نظر آنے لگا تھا ۔جلد ہی میں نے اکھڑی ہوئی تمام اینٹیں اٹھا کر ایک جانب رکھ دی تھیں ۔نیچے موجود پلاسٹک بکس نکال کر میں نے بے تابی سے کھولا ۔اس میں ایک سنائپر رائفل اور سنائپرز کے کام آنے والا دوسرا سامان بھرا ہوا تھا ۔ لیکن وہاں روس کی ایجاد کردہ ڈریگنوو رائفل کے بجائے اسرائیلی ساخت کی گلیل سنائپر رائفل پڑی تھی ۔ خوش قسمتی سے گلیل کو بھی میں زیادہ نہیں تو تھوڑا بہت استعمال کر چکا تھا ۔کارگر رینج دونوں رائفلوں کا ہزار میٹر ہے ۔ ڈریگنوو سنائپر رائفل کی میگزین میں دس گولیاں پڑتی ہیں جبکہ غلیل کی میگزین میں بیس گولیوں کی گنجائش ہے البتہ گلیل، ڈریگنوو کے مقابلے میں وزن میں تھوڑی زیادہ ہے ،لیکن کارکرگی میں اس سے بہتر ہے ۔وزن میں زیادہ کا مطلب کوئی یہ نہ لے کہ گلیل کوئی بہت ہی وزنی رائفل ہے ۔گلیل کا مجموعی وزن ساڑھے چھے کلو گرام ہے ۔یقینا یہ کوئی اتنا وزن نہیں ہے کہ کسی سنائپر کو ساتھ پھرانے میں کوئی تکلیف محسوس ہو ۔امریکہ میں سنائپر کورس کے دوران مجھے گلیل سے دو تین مرتبہ فائر کرنے کا موقع ملا تھا۔البتہ ڈریگنوو رائفل سے میں فائر کی کافی مشق کر چکا تھا اور پاکستان سے آتے وقت مجھے یہی بتایا گیا تھا کہ انڈیا میں مجھے ڈریگنوو رائفل ملے گی ۔اس کے باوجودڈریگنوو کے بجائے گلیل کو پا کر مجھے خوشی محسوس ہوئی تھی ۔
یقینا تحریر میں موجود آخری فقرہ Practice makes a man perfect کا مطلب یہی تھا کہ مجھے مشق کی دعوت دی گئی تھی اور مشق کے لیے پہاڑی علاقہ تجویز کیا گیا تھا ۔رائفل کے ملتے ہی ساری تحریر ایک دم واضح ہو گئی تھی ۔سادہ الفاظ میں مجھے یہ بتایا گیا تھا کہ میں اگلے حکم تک گلیل رائفل کے ساتھ مشق کروں ۔اسی بکس میں گلیل کا ایمونیشن بھی پڑا تھا ۔دو سو گولیاں کا مطلب یہ تھا کہ میں ایک سو ننانوے گولیاں مشق کے لیے استعمال کر سکتا تھا ۔ہدف کے لیے مجھے یوں بھی ایک ہی گولی درکار تھی ۔رائفل کے پرزوں کے ساتھ موجود اعلا کوالٹی کا سائیلنسر یقینا مجھے چھپ کر مشق کرنے میں مدددینے کے لیے تھا۔ بلکہ سائیلنسر کے علاوہ تو مشق کرنا ناممکن ہو جاتا ۔
میں نے ایک بار رائفل کے پرزوں کو مکمل جوڑ کر اطمینان کر لیا تھا کہ رائفل صحیح کام کر رہی ہے اس کے بعددوبارہ پرزوں کو کھول کر ایک سفری بیگ میں ڈال لیا ۔
سب سے پہلے میں نے قریبی ہوٹل پر جا کر دن کا کھانا کھایا اور پھر کوارٹر پر واپس آ کر سفری بیگ کندھوں میں ڈال کر بائیک کو کوارٹر سے باہر لے آیا ۔چیک کرنے پر بائیک کی ٹینکی پٹرول سے بھری نظر آئی ۔بائیک کی حالت بتا رہی تھی کہ وہ میری آمد سے ایک دو دن ہی پہلے خریدی گئی ہے ۔
درمیانی رفتار سے موٹر سائیکل چلاتے ہوئے میں شہر کے مضافات میں موجود پہاڑی سلسلے کی جانب روانہ ہو گیا ۔گھنٹے بھر بعد ہی میں ایسی جگہ پہنچ گیا تھا جہاں میں بغیر کسی کی مداخلت کے مشق کر سکتا ۔ سائیلنسر کی موجودی نے یوں بھی فائر سے پیدا ہونے والی آواز سے بے فکر کر دیا تھا ۔دو اڑھائی گھنٹے کے اندر میں نے فائر کرتے ہوئے گلیل کی ٹیلی سکوپ سائیٹ کو اچھی طرح جانچ کر اپنے مطابق ڈھال لیا تھا ۔اس دوران میں نے پچاس راﺅنڈ فائر کیے تھے ۔آخری دس راﺅنڈ میں نے ہزار میٹر کے فاصلے پر فائر کیے تھے ۔نشانے کی درستی سے مطمئن ہو کر میں نے رائفل کو کھول کر سفری بیگ میں ڈالا اور واپسی کی راہ لی ۔اپنے کوارٹر میں پہنچ کر میں نے رائفل کی بیرل اور فائر سے گندے ہونے والے پرزوں کو اچھی طرح صاف کیا گرم ابلتا پانی بھی بیرل میں ڈالا تاکہ صفائی میں کوئی کمی نہ رہ جائے ۔یوں بھی جس ہتھیار کو فائر کے بعد صاف نہ کیا جائے وہ خراب ہوجاتا ہے ۔اور ایک سنائپر تو اپنے ہتھیار کی صفائی کے بارے بہت زیادہ حساس ہوتا ہے ۔
گلیل کو صاف کر کے میں نے ہلکا سا تیل کر واپس بیگ میں ڈال دیا ۔اب مجھے مزید مشق کی ضرورت نہیں تھی ۔اگلے چار دن تک پھر آدیت ورما کی جانب سے پھر خاموشی چھا گئی تھی ۔پانچویں دن میں اپنے مخصوص وقت پر دوپہر کے کھانے کے لیے کمرے سے نکلا ۔بیرونی دروازے کی کنڈی کھولنے سے پہلے میری نظر سفید رنگ کے لفافے پر پڑی جو یقینا کسی نے دروازے کے نیچے سے اندر دھکیلا تھا ۔
لفافہ اٹھا کر میں واپس پلٹ آیا ۔کمرے میں داخل ہوتے ہی میں نے بے صبری سے لفافہ کھولا ۔وہاں فقط چند الفاظ لکھے ہوئے تھے ۔
”ہوٹل اور کمرہ نمبر کے بارے آپ جانتے ہیں ۔“اتنا لکھ کرآنے والے کل کی تاریخ اور دن کے تین بجے کا وقت درج تھا ۔
اور وہاں پر میں صرف ایک ہوٹل سے واقف تھا جہاں میں نے اس شہر میں وارد ہونے کے ساتھ پہلی رات گزاری تھی ۔گویا مجھے ہنومان جی ہوٹل کمرہ نمبر ستائیس کا بتایا گیا تھا ۔یقینا آدیت ورما کا کوڈ ورڈز میں مجھ تک پیغام پہنچانے کا مقصد یہی تھا کہ اگر اس کی لکھی ہوئی چٹھی کسی اور کے ہاتھ لگ بھی جاتی تو وہ اس سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا تھا ۔بہ ہرحال یہ جاسوسوں کااپنا طریقہ کار تھا ۔اورمیں نے گو جاسوس بننے کی کوئی تربیت تو حاصل نہیں کی تھی اس کے باوجود اس بارے کافی کچھ جانتا تھا کہ کمانڈو ز کی زیر نگرانی میں بھی چند کورس کر چکا تھا ۔اسی طرح امریکہ میں بھی ہمیں دشمن سنائپرز کے طریقہ کار اور ان کی چالوں وغیرہ کے بارے کافی تفصیل سے بتایا گیا تھا ۔اسی طرح یہ بھی سکھایا گیا تھا کہ ایک سنائپر دشمن ملک میں جا کر خودکو کس طرح سے دشمن کی گرفت میں آنے سے بچا سکتا ہے یہ اسباق کسی بھی طرح جاسوسی پڑھائی سے کم نہیں تھے ۔یہی وجہ تھی کہ دونوں مرتبہ آدیت ورما کے خط پڑھتے ہوئے مجھے مطلب سمجھنے میں زیادہ دقّت کا سامنا نہیں کرنا پڑاتھا ۔
اگلے دن میں مطلوبہ وقت سے گھنٹا بھر پہلے ہنومان جی ہوٹل میں پہنچ گیا تھا ۔تین بجے تک کا وقت میں نے چاے پیتے اور ہال کی دیوار پر ٹنگی بڑی ایل سی ڈی پر چلتی فلم دیکھتے گزارا ۔تین بجنے سے پانچ منٹ رہتے تھے جب میں سیڑھیوں کے ذریعے ہوٹل کی دوسری منزل پر پہنچا ۔کمرہ نمبر ستائیس میں ایک رات گزار چکا تھا ۔اور مجھے یقین تھا کہ رقعے میں اسی کمرے کی بابت بتایا گیا تھا ۔اس کے باوجود دروازے پر دستک دیتے وقت میرے دل میں ہلکا سا دھڑکا موجود تھا ۔
”دروازہ کھلا ہے ،آجاﺅ ۔“دستک کے جواب میں مجھے فوراََ جواب موصول ہوا تھا ۔
اندر گھستے ہی میری نظر صوفے پر بیٹھے ہوئے ایک قبول صورت جوان پر پڑی ۔اس کی عمر کا اندازہ میں نے پینتیس ،چھتیس سال کے قریب لگایا تھا ۔اس کے سامنے پڑی ٹیبل پر دیسی شراب کی ایک بوتل اور دو گلاس رکھے ہوئے تھے ۔ایک گلاس آدھا بھرا ہوا جبکہ دوسرا بالکل خالی تھا ۔
”خوش آمدید۔“اس نے بیٹھے بیٹھے میری جانب مصافحے کے لیے ہاتھ بڑھایا۔
اسے ہاتھ ملا کر میں نے بھی اس کے سامنے کرسی سنبھال لی تھی ۔
وہ دوسرے گلاس میں بھی شراب انڈیلنے لگا ۔
”میں یہ نہیں پیتا ۔“
”میں بھی نہیں پیتا ۔“ہلکے سے مسکراتے ہوئے اس نے آدھے سے زیادہ گلاس بھر کر میرے سامنے رکھ دیا ۔”میرانام دھیراج ودھاوا ہے ۔“
”کرن مہتا ۔“ سمجھنے والے انداز میں سر ہلاتے ہوئے میں نے اپنا تعارف بھی کرادیا۔یقینا اس بات سے ہم دونوں واقف تھے کہ ہم دونوں کے بتائے گئے نام فرضی تھے ۔
”پرسوں سہ پہر کے چار بجے عوامی پارک میں رنجیت چوپڑہ کا جلسہ ہے ۔انتخابات میں پانچ چھے ماہ پڑے ہیں لیکن اس نے اپنی انتخابی مہم شروع کر دی ہے ۔حکومت کی طرف سے اسے کافی سپورٹ کیا جا رہا ہے ۔اس کی حفاظت کا بھی خاطر خواہ انتظام کیا گیا ہے ۔بلٹ پروف گاڑی اسے ملی ہوئی ہے ، چار پانچ محافظ ہر وقت اس کے ساتھ ہوتے ہیں ۔اس کا مکان بھی پولیس کے ساتھ خفیہ ایجنسی کے بندوں کے نرغے میں رہتا ہے ۔اور ایسا پاکستانی سرکار کی طرف سے اس کے مطالبے کے بعد کیا گیا ہے ۔ بلکہ سچ کہوں تو اس پر ہونے والے ایک ناکام حملے کے بعد اس کی حفاظت کو اتنی زیادہ اہمیت دی گئی ہے ۔ یہ بات شاید تمھارے لیے حیرانی کا باعث بنے کہ اس پر حملہ نہ تو کسی پاکستانی جاسوس نے کیااور نہ یہ کام پاکستان سے آئے ہوئے کسی سنائپر یا کمانڈو وغیرہ کا ہے ۔“
میں اس پر حملہ ہونے کی بات سے لاعلم تھا ۔لیکن اس کے ساتھ جو بات دھیراج کر رہا تھا وہ اور بھی حیران کرنے والی تھی ۔
”پھرحملہ آور کون تھا ؟“میں سوال پوچھے بنا نہیں رہ سکا تھا ۔
”یہ کام اس نے خود کروایا ہے ۔اور اسی وجہ سے اس کی حفاظت کو مزید بہتر بنا دیا گیا ہے ۔“
”ہونہہ!“میں گہرا سانس لے کر رہ گیا تھا ۔
”بہ ہر حال اب انتخاب میں کامیابی کے بعد تو اس کی پانچوں گھی اور سر کڑاہی میں ہو گا ۔یوں بھی ان انتخاب میں اس کی کامیابی ننانوے فیصد یقینی ہے ۔اس کے ساتھ یہ بات بھی آپ کے ذہن میں رہے کہ اگرپرسوں کا حملہ ناکام ہو گیا تو اس کے بعد اس کی حفاظت کو مزید بھی بہتر بنا دیا جائے گا ۔ بلکہ وہ خودبھی محتاط ہو کر قلعہ بند ہو جائے گا ۔“
”منصوبہ کیا ہے ؟“میں نے پوچھا ۔
”منصوبہ بنانا آپ کا کام ہے ۔تفصیلات پوچھ سکتے ہیں کوئی چیز چاہیے ہو تو بتا سکتے ہیں ۔“
”عوامی پارک کا نقشہ چاہیے ۔“
”یہ لو ۔“اس نے کوٹ کی اندرونی جیب سے ایک تہہ کیا ہوا کاغذ نکال کر میری طرف بڑھادیا۔
”پارک کے اطراف میں کوئی ایسی عمارت جہاں سے سٹیج نظر آ سکے ۔“
”نقشے میں پارک اور اس کے دائیں بائیں کے سارے علاقے کی تفصیلات نمبر ون نے خود باریک بینی سے درج کر دی ہیں ۔“
”نمبر ون ؟“میرے منہ سے نادانستگی میں نکلا ۔
”یہ جاننا آپ کے لیے ضروری نہیں ہے ۔“اس نے منہ بنا کر کہا ۔
”معذرت خواہ ہوں ۔“میں نے جلدی سے کہا ۔
”کوئی بات نہیں ۔“وہ خوش دلی سے ہنسا ۔”ویسے آپ اسے جانتے ہیں ۔“
اس کے کہنے کے مطابق تو آدیت ورما ہی نمبر ون تھا کیونکہ میں اس کے علاوہ وہاں کسی سے واقف نہیں تھا ۔
”روسٹرم پر کوئی بلٹ پروف شیشہ وغیرہ تو نہیں لگا ہوتا ۔“
”نہیں ۔“اس نے نفی میں سر ہلایا۔
میں نے اس کا دیا ہوا نقشہ کھول کر میز پر رکھا اور جائزہ لینے لگا ۔وہ نقشہ بڑی عرق ریزی اور مہارت سے بنایا گیا تھا ۔میں دل ہی دل میں نقشہ بنانے والے کی قابلیت کو سراہے بغیر نہیں رہ سکا تھا ۔ ہر وہ سوال جو اس نقشے کو دیکھ کر کسی کے دل میں پیدا ہو سکتا تھا اس کے بارے پہلے ہی سے حاشیے پر تفصیل درج کر دی گئی تھی ۔سٹیج بنانے کے لیے تین جگہوں کی نشان دہی کی گئی تھی کہ جہاں جہاں سٹیج بننے کا امکان تھا۔تینوں جگہوں کا درمیانی فاصلہ چند گز سے زیادہ نہیں تھا ۔یقینا آدیت ورما کو سنائپرز کے طرقہ کار سے اچھی طرح واقفیت تھی ۔میرے نقشہ پڑھنے کے دوران دھیراج دونوں گلاسوں کی شراب غسل خانے میں گرا کر آگیا تھا ۔گلاس ٹیبل پر رکھ کروہ خاموشی سے بیٹھ گیا ۔
نقشے کو بہ غور دیکھنے کے بعد میں نے دو تین چھوٹی چھوٹی باتیں پوچھیں ۔جس کا دھیراج نے تسلی بخش جواب دیا تھا ۔
”رائفل کا کیا کرنا ہے ؟“میں نے ایک اہم سوال پوچھا کیونکہ اگر اس رائفل کی وجہ سے کسی اپنے کے پھنسنے کا ذرا بھر بھی امکان ہوتا تو مجھے اس رائفل کو بھی سنبھالنا پڑتا ۔
وہ صاف گوئی سے بولا۔”یہ ایک قیمتی رائفل ہے اور اس کی خریداری پاک وطن کے خزانے کے پیسوں سے ہوئی ہے۔لیکن یہ آپ کی جان سے قیمتی نہیں ہے ۔“
اس کے کہنے کا صاف مطلب یہی تھا کہ اگر میں خود کو محفوظ رکھتے ہوئے اس رائفل کو بچا سکتاتھا تو ٹھیک ، ورنہ رائفل سے زیادہ اہمیت میری اپنی تھی ۔وہ میری اہمیت واضح نہ کرتا تب بھی میں اپنی اہمیت سے واقف تھا ۔میری تربیت پر پاک آرمی بہت زیادہ خرچ کر چکی تھی اور مجھے کوئی نقصان پہنچنے کی صورت میں خسارہ پاک آرمی ہی کو ہونا تھا ۔
”شکریہ ۔“کہہ کر میں نے اعلان کی کہ میرے پاس مزید سوالات موجود نہیں تھے ۔
”آپ کا بھی شکریہ ۔“اس مرتبہ اس نے کھڑے ہو کر مجھ سے الوداعی مصافحہ کیا ۔”اگر کسی چیز کی ضرورت ہو یا کچھ پوچھنا ہو تو پرسوں دوپہر تک میں یہیں ملوں گا ۔“اور میں اثبات میں سرہلاتا ہواوہاں سے باہر نکل آیا ۔
اگلے دن صبح سویرے ہی میں بائیک پر مطلوبہ پارک کی طرف بڑھ گیا ۔لیزر رینج فائینڈر(فاصلہ ناپنے کا آلہ)میں نے ایک لفافے میں ڈال کر اپنے پاس رکھ لیا تھا ۔پارک میں داخلے پر کوئی پابندی نہیں تھی لوگوں کی آمدورفت سے حوصلہ پا کر میں بھی اندر گھس گیا ۔پارک کی چاردیواری کی جگہ لوہے کا مضبوط جنگلہ لگا ہوا تھا جس کی بلندی پانچ فٹ کے قریب تھی ۔اور پھر جنگلے ساتھ لگے ہوئے درخت نظری دیکھ بھال کے لیے بہت بڑی رکاوٹ تھے ۔سٹیج بنانے کی جگہ پارک کے شرقی جانب تھی ۔ اس طرف جنگلے سے باہر کچھ دکانوں کی عقبی دیوار پڑتی تھی ۔اور دکانوں کی چھت پر لامحالہ سیکیورٹی نے موجود ہونا تھا ۔پارک کے مغربی جانب سڑک گزر رہی تھی اور سڑک عبور کر کے تین منزلہ شاپنگ پلازہ بنا ہوا تھا ۔
شمال اور جنوب کی جانب بھی سڑک گزر رہی تھی لیکن سڑک کے پار جو عمارتیں تھیں وہاں سے سٹیج کی جگہ کو دیکھنا ناممکن تھا ۔اب میرے پاس لے دے کے شاپنگ پلازہ کی چھت رہ گئی تھی ۔اس کے علاوہ میں پارک ہی کے کسی درخت پر مچان بنا سکتا تھا ۔لیکن ایک تو وہاں مچان بنانا ناممکن نہیں تو مشکل ترین ضرور تھا اور دوسرا میں چھپ کر بیٹھ بھی جاتا اور کامیابی سے اپنا کام بھی کر لیتا تب میرا بچنا جھوٹ تھا۔گویا پارک کے کسی درخت پر مچان بنانے سے بہتر تھا کہ میں خود کش دھماکا کر لیتا ۔کم از کم اس طرح رنجیت چوپڑہ کی موت تو یقینی ہو جاتی ۔شاپنگ پلازہ کی دائیں طرف سے ایک چوڑی سڑک گزر رہی تھی جبکہ بائیں جانب ایک زیر تعمیر عمارت تھی جس کی پہلی منزل بھی ابھی تک مکمل نہیں ہوئی تھی ۔لے دے کے وہاں فائر کے لیے مناسب جگہ شاپنگ پلازہ کی چھت تھی ۔اور میرے خیال کے مطابق وہاں سنتری ضرور تعینات کرنے تھے ۔پہلے تو میں نے شاپنگ پلازہ کے تین اطراف میں گھوم کر اچھی طرح جائزہ لیا۔پلازہ کی عقبی جانب ایک مارکیٹ تھی ۔دائیں جانب گزرنے والی سڑک کے کنارے ایک بڑا کچرہ دان بنا ہوا تھا جس کی عقبی دیوار پلازے ہی کی دیوار تھی ۔باہر سے اچھی طرح جائزہ لینے کے بعد میں اندر گھس گیا ۔داخلی دروازے پرواک تھرو گیٹ بنا ہوا تھا جس سے گزر کر لوگ اندر جا رہے تھے ۔لیکن مجھے اس گیٹ کو اس لیے کوئی خاص فائدہ نظر نہیں آیا کہ کافی لوگوں کے گزرنے پر وہ مخصوص سائرن بجا کر اعلان کر رہا تھا کہ متعلقہ افراد کے پاس لوہے یا دھات کی کوئی چیز موجود ہے لیکن اس کے قریب کرسیاں رکھے دو محافظ اس آوازپر کوئی دھیان نہیں دے رہے تھے ۔کیونکہ واک تھرو گیٹ کی سیٹی تو موبائل فون اور موٹر سائیکل کار کی چابی وغیرہ سے بھی بج اٹھتی ہے ۔البتہ کسی کے ہاتھ میں بیگ وغیرہ کی موجودی میں محافظ سرسری انداز میں چیک کر لیتے تھے ۔میں نے رینج فائینڈر کو اپنے کوٹ کے اندر سے بغل میں داب لیا اور جیبوں میں ہاتھ ڈال کربے دھڑک واک تھرو سے گزر گیا ۔موٹے کوٹ کر اندر کسی کو یہ اندازہ نہیں ہو سکتا تھا کہ میں نے اپنی بغل میں کوئی چیز پکڑی ہوئی ہے ۔
اوپر جانے کے چوڑی سیڑھیاں بنی ہوئی تھیں ۔جس پر لوگوں کی آمدورفت اچھی خاصی تھی ۔ آخری منزل پر پہنچ کر میں چھت پر جانے والی سیڑھیوں کی تلاش میں نظریں گھمانے لگا۔اور وہ کوئی ایسی چھپی ہوئی نہیں تھیں کہ میں تلاش نہ کر سکتا ۔چھت کی سیڑھیاں ایک کونے میں بنی ہوئی تھیں ۔ان کی بائیں جانب لکڑی کے بڑے بڑے ریک رکھے ہوئے تھے جو مختلف قسم کے سامان سے بھرے ہوئے تھے ۔ جبکہ دائیں جانب دیوار تھی ۔سیڑھیوں پر قدم رکھتے ہی بندہ دوسرے لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل ہو جاتا تھا ۔سیلز مین کو نگاہ میں رکھ کر میں سیڑھیوں کی جانب غیر محسوس انداز میں کھسکا اور جونھی وہ ایک گاہک کی فرمائش پوری کرنے کے لیے پیچھے کی طرف مڑا میں نے جھپاک سے سیڑھیوں پر قدم رکھ لیے ۔ سیڑھیوں کے اختتام پر لوہے کا ایک دروازہ تھا ۔جس کی کنڈی کے ساتھ حسب توقع ایک تالا جھول رہا تھا۔لیکن اس کا اندازہ مجھے پہلے سے تھا اور اس کا بندوبست بھی میں کر کے آیا تھا ۔جیب سے دو مڑی ہوئی تاریں نکال کر میں تالا کھولنے لگا ۔یوں بھی انھوں نے ایک واجبی سا تالا لٹکا رکھا تھا ۔تالا کھول کر میں نے آہستہ سے کنڈی کھولی اور چھت پر نکل آیا ۔چھت کے دائیں کونے پرپانی کی ایک بڑی ٹینکی بنی ہوئی تھی۔ اس کے ساتھ ہی تھوڑا بہت کاٹھ کباڑ بھی بکھرا پڑا تھا ۔وہاں سے قریباََ سار ا پارک نظر آ رہا تھا۔خصوصاََ وہ جگہ جہاں سٹیج بننا تھا ۔لیکن مصیت یہ تھی کہ کل یہاں پر دو تین بندوں کی موجودی لازمی تھی ۔ یوں بھی ایسی جگہ کو کوئی احمق ہی نظر انداز کر سکتا تھا ۔ایک خیال یہ بھی میرے ذہن میں آیا کہ شاید کل سیکورٹی کے پیش نظر یہ شاپنگ پلازہ ہی بند کر دیا جائے ۔
میں چھت کے کنارے سے سٹیج کے عقب میں موجود دیوار کا فاصلہ ناپا۔وہاں تک نو سو پندرہ میٹر فاصلہ بن رہاتھا ۔گویا اس لحاظ سے بھی وہ ایک مناسب جگہ تھی ۔
تھوڑی دیر سوچنے کے بعد ایک قابل عمل منصوبہ میرے ذہن میں آیا ۔گو خطرہ تو اس میں بھی موجود تھا ۔ایک سنائپر کی زندگی یوں بھی ہر دم خطرات میں گھری ہوتی ہے اس لیے کسی بھی خطرے کا سامنا کرنا سنائپر کے مشن کا لازمہ ہوتا ہے ۔
واپس پلازہ میں جا کر میں نے پلاسٹک کی پچاس فٹ لمبی ،پتلی لیکن مضبوط رسی خریدی اور ساتھ ایک مضبوط دھاگے کا گولہ بھی خرید لیا ۔دونوں چیزیں شاپنگ بیگ میں ڈال کر میں نے ہاتھ میں لٹکائیں اور سیلز مین کی نظروں سے بچ کردوبارہ چھت پر پہنچ گیا ۔
رسی کا ایک سرا پانی کے ٹینک کے ساتھ لگی لوہے کی سیڑھی سے باندھ کر میں نے دوسرا سرا دھاگے سے باندھا اور دھاگے کے ساتھ ایک چھوٹا سا پتھرباندھ کر میں نے نیچے کچرا دان میں پھینک دیا۔ رسی میں نے اس لیے نہیں لٹکائی تھی کہ وہ کسی کو بھی اپنی جانب متوجہ کر سکتی تھی جبکہ اتنے باریک دھاگے کا کسی کو نظر آنا آسان نہیں تھا ۔
یہ کام کر کے میں چھت سے نیچے اترآیا۔دوسری منزل پر مجھے عورتوں کے خوب صورت سلے سلائے سوٹ نظر آئے ۔اس وقت جانے کیوں میری آنکھوں میں رومانہ کا خوب صورت سراپا لہرا گیا ۔ بے اختیار میں نے اپنی پسند کے دو سوٹ ،ایک گرم اور قیمتی زنانہ سوئیٹراور سرخ و سبز رنگ کی کانچ کی چوڑیاں بھی خرید لیں ۔گہرے سرخ رنگ کی سوئیٹر جس پر سبز رنگ کے پھول بنے تھے ۔رومانہ نے لباس بھی اسی رنگ کا پہنا تھا ۔یقینا یہ دونوں رنگ اس کی سج دھج میں چار چاند لگا دیتے تھے ۔سر جھٹک کر میں نے ان فضول خیالات سے دامن چھڑانے کی کوشش کی ،لیکن یہ ایک بھونڈی کوشش ہی تھی ۔کسی کے نام پر خریداری کرنا اور اسے اپنی سوچوں سے دور بھی جھٹکنا ایک نرالا کام ہی توتھا ۔
پلازے کا داخلی اور خارجی دروازہ ساتھ ساتھ ہی تھا ۔خارجی دروازے پر خریداری کی رسید دکھا کر میں باہر آگیا ۔پارکنگ میں جا کر میںنے اپنی بائیک نکالی ،میرا رخ ہنومان جی ہوٹل کی طرف تھا ۔آدھے گھنٹے بعد میں وہاں پہنچ گیا تھا ۔دھیراج وردھا مجھے اپنے کمرے ہی میں ملا تھا۔
”جی جناب !....“میری دستک کے جواب میں دروازہ کھول کر اس نے اندر آنے کا رستا دیتے ہوئے عام سے لہجے میں پوچھا ۔
”مجھے اپنی تصویر والاپولیس کی اسپیشل برانچ کے انسپکٹرکا کارڈ شام تک چاہیے ۔ضروری نہیں کہ بالکل اصل ہو ۔ بناوٹی بھی چل جائے گا ۔“
”کوئی پرمسئلہ نہیں ۔آپ ذرا اپنے بالوں پر ہاتھ پھیرلیں ۔“دھیراج نے جیب سے اپنا موبائل نکال کر ہاتھ میں پکڑ لیا ۔
میں بالوں کو ہاتھ سے کنگھی کر کے اس کی کی طرف متوجہ ہو گیا ۔تصویر نکال کر اس نے پوچھا ۔
”کچھ اور ؟“
”دو عدد واکی ٹاکی سیٹ بھی چاہیں ۔“
”ٹھیک ہے ۔مزید کچھ ۔“
”نہیں ....یہ چیزیں لینے کے لیے میں کتنے بجے آ سکتا ہوں ؟“
”دو گھنٹے بعد آجانا ۔“
”شکریہ ۔“کہہ کر میں وہاں سے نکل آیا ۔اپنے کوارٹر پر جاکر میں نے کپڑوں کے سوٹ اور سوئیٹر کو الماری میں رکھا اوراپنے منصوے پر از سر نو غور کرنے لگا ۔اس منصوبے کو سوچتے سوچتے نہ جانے پھر کیسے رومانہ میرے خیالوں میں آ دھمکی ۔اور میں اس سادہ اوربھولی بھالی کشمیرن کے خیالوں میں کھو گیا ۔ ماہین کی بے وفائی کے بعد مجھے کسی ایسے ہی سہارے کی ضرورت تھی ۔اور میں جو پھوپی جان اور ابوجان کو سختی سے شادی کے بارے انکار کر آیا تھا اب پھر سے خود کو نئے رشتے پر آمادہ پا رہا تھا ۔خود رومانہ کے ساتھ بھی میرا رویہ کچھ زیادہ ہی خشک اور روکھا روکھا رہا تھا ۔لیکن جونھی اس کا ظاہری بدن میری آنکھوں سے اوجھل ہوا تھا ایک دم ہی اس کی شخصیت کا ساحرانہ پن مجھے اپنی گرفت میں لینے لگا تھا ۔
”جھوٹے اجنبی !....“اس کی شوخ آواز میرے کانوں میں پڑی اور میرے ہونٹوں پر مسکراہٹ دو ڑ گئی ۔
”پتا ہے اس کپڑے پر میں نے اپنے ہاتھوں سے بیل بوٹے کاڑھے ہیں ۔اپنا نام بھی لکھا ہے کھانا کھا کر اسے پھینک نہ دینا ۔شاید اسے دیکھ کر ہی کبھی میری یاد آجایا کرے ۔“میں اپنے سفری تھیلے سے کھانے والا کپڑا نکال کر دیکھنے لگا ۔
اچانک میرے ذہن میں خیال آیا کہ ضروری تو نہیں تھا کہ میری واپسی اسی رستے سے ہو ۔ شاید آدیت ورما نے میرے لیے کوئی دوسرا رستا چنا ہو ۔اور ان حالات میں کسی سینئر کے احکامات پر عمل نہ کرنا خود کو موت کے منہ میں دینے کے مترادف تھا ۔
”کیا رومانہ کی وجہ سے میں دوبارہ سرحد عبور کرنے کی جرّات کر سکو ںگا ؟“اپنی اس سوچ کا جواب نفی میں تھا ۔کیونکہ سرحد عبور کرنے کے لیے مجھے پاک آرمی کی اجازت درکار تھی ۔اور میرا کوئی بھی سینئر اس بات کی ہرگز اجازت نہ دیتا کہ میں ایک لڑکی خاطر انڈیا کی سرحد عبور کرتا ۔وہ میرے لیے کتنی ہی ضروری کیوں نہ ہوتی میرے سینئرز کے لیے ایک عام لڑکی ہی تھی ۔
”مگر وہ میرے لیے کب اتنی ضروری ہوئی ہے ۔“میں نے اپنی پاگل ہوتی سوچوں سے پوچھا۔اور جواب ڈھونڈنے کے لیے میرے دماغ نے ان لمحات کو میری نظروں کے سامنے لا پھینکا جو اس کی معیت میں گزرے تھے ۔
”کیا اس کے کندن بدن کی جھلک نے مجھے اس کی ذات میں دلچسپی لینے پر مجبور کیا ہے ؟“ میری آنکھوں کے سامنے وہ منظر لہرا گیا جب وہ اپنا پھٹا گریبان لیے میرے سامنے بے پرواہی سے کھڑی تھی ۔لیکن میرے دل نے اس سوال کو درخور اعتنا ءنہ جانا ۔یقینا یہ وجہ نہیں تھی ۔کیونکہ اسے اس حالت میں دیکھ کر نہ تو اس وقت میرے دماغ میں اس وقت کوئی غلط خیال آیا تھا اور نہ ابھی آ رہا تھا ۔
”پھر ؟“میری خود احتسابی جاری رہی ۔
”اپنا خیال رکھنا میرے اجنبی !........آپ کا، مجھے ناپسندیدہ اجنبی سمجھ کر بھی تم کہہ کر مخاطب کرنا ،اس آپ سے کئی گنا زیادہ عزیز ہے ....شاید میں آپ کی نفرت برداشت نہ کر پاﺅں........اور یاد رکھنا میرا نام رومانہ ہے ....رومانہ ہے ....رومانہ ہے ....“میں بے اختیار اٹھ بیٹھا ۔
”ہاں یاد ہے کہ تم رومانہ ہو ۔“میں خود کلامی کے انداز میں بڑبڑایا۔
ان خوشگوار یادوں سے پیچھا چھڑانے کے لیے میں اپنے منصوبے پر نظر ثانی کرنے لگا ۔ گھڑی پر نگاہ دوڑانے پر مجھے دو گھنٹے پورے ہو تے نظر آئے ۔میں کوارٹر سے باہر نکل آیا ۔تھوڑی دیر بعد میں ہنومان ہوٹل کے کمرہ نمبر ستائیس میں داخل ہورہا تھا ۔دھیراج نے میری مطلوبہ چیزیں میری طرف بڑھا دیں ۔دو واکی ٹاکی سیٹ اور میراتعلق پولیس کی اسپیشل برانچ سے ظاہر کرنے والا کارڈ۔اس پر میری تصویر بھی چسپاں تھی ۔کارڈ بنانے والے نے میرے کپڑوں والی تصویر کو وردی پہنا دی تھی جس کے کندھوں پر انسپکٹر رینک کے سٹار چمک رہے تھے ۔آج کل یوں بھی کمپیوٹر نے اس کام کو نہایت آسان کر دیا ہے ۔
”اب ایسا ہے کہ کل جونھی رنجیت چوپڑہ کی تقریر شروع ہوتی ہے آپ واکی ٹاکی کو آن کر کے عوامی پارک کے سامنے موجود پلازہ کے پاس پہنچ جانا ۔اور ........“میں اسے تفصیل سمجھانے لگا ۔
”ٹھیک ہے ۔“میرے بات ختم ہوتے ہی اس نے پر جوش انداز میں سر ہلادیا تھا ۔وہاں سے میں نے مارکیٹ جا کر پچاس ساٹھ فٹ مضبوط نائیلون کی رسی خریدی اور واپس کوارٹر پر پہنچ گیا ۔شام تک کا وقت میں نے کوارٹرمیں گزارا۔شام کی آذان سن کر میںنے نماز پڑھی اور اللہ پاک سے اپنے مشن کی کامیابی کے لیے دعا کی ۔اس کے بعد گلیل سنائپر رائفل اور دوسرے ضروری سامان کو سفری بیگ میں ڈال کر میں دوبارہ کوارٹر سے باہر نکل آیا ۔شاپنگ پلازہ رات کے نو بجے بند ہوتا تھا ۔سب سے پہلے میں نے پلازے کے دائیں کونے میں موجود کچرہ دان کے قریب جا کر موٹر سائیکل روکی اس جگہ پر تقریباََ اندھیرا چھایا ہوا تھا ۔مطلوبہ دھاگا ڈھونڈنے میں مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہوا تھا ۔دھاگے سے پکڑ کر میں نے پلاصٹک کی رسی نیچے کھینچ لی ۔رسی کا سرا مضبوطی سے سفری بیگ کے ساتھ باندھ کر میں نے بیگ کو کچرے دان میں رکھا اور اوپر بھی تھوڑا بہت کچرہ ڈال دیا ۔رات کے وقت یوں بھی کسی کی نظر اس طرف نہیں پڑنا تھی ۔
اس سے فارغ ہو کر میں نے اپنی موٹر سائیکل شاپنگ پلازہ کے سامنے بنی پارکنگ میں کھڑی کی اور اندر گھس گیا ۔صبح کے مقابلے میں رات کے اس وقت وہاں رش زیادہ تھا ۔مجھے چھت پر پہنچنے میں کوئی دقت نہیں ہوئی تھی ۔پہلی فرصت میں میں نے پلاسٹک کی رسی کی مدد سے اپنا بیگ اوپر کھینچا اور پلاسٹک کی رسی اور بیگ کاٹھ کباڑ کے ڈھیر میں چھپا کر شاپنگ پلازہ سے باہرنکل آیا ۔واکی ٹاکی میں نے اپنے پاس ہی رہنے دیا تھا ۔میرا اس دن کا کام ختم ہو گیا تھا ۔اگر اگلے دن شاپنگ پلازہ نے بند بھی ہونا تھا تو یقینا دوپہر کے بعد ہی ہوتا ۔ویسے امید یہی تھی کہ شاپنگ پلازہ بند نہ ہوتا کیونکہ رنجیت چوپڑہ کوئی صدر یاوزیر اعظم نہیں تھا کہ اس کی سیکورٹی اتنی زیادہ سخت رکھی جاتی ۔پلازے کی چھت پر دو تین سنتری چھوڑ کر انھوں نے پارک گھیرنے پر زیادہ توجہ دینا تھی ۔
٭٭٭
اگلے دن میں آٹھ بجے اپنے کوارٹر سے نکل آیا تھا ۔صبح ہی سے سٹیج بننا شروع ہو گیا تھا ۔اس کے ساتھ پارک کے داخلی دروازے پر بھی پولیس کے دو سپاہی تعینات کر دیے گئے تھے ۔گو وہ سپاہی آنے جانے والوں سے کوئی خاص تعرُّض نہیں کر رہے تھے اس کے باوجود میں نے پارک میں گھسنے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی ۔دوپہر کا کھانا شاپنگ پلازہ کے عقبی سمت میں موجود ہوٹل میں کھا کر میں نے اسی ہوٹل کی پارکنگ میں اپنی موٹر سائیکل کھڑی کر کے تین بجے کے قریب شاپنگ پلازہ میں گھس گیا ۔ایک سیلز مین سے چمڑے کے مضبوط دستانے خریدتے ہوئے میں نے سرسری انداز میں پلازے کے بند ہونے کے بارے پوچھ لیا تھا ۔
”نہیں سر!.... ہمیں تو ایسے کوئی احکام موصول نہیں ہوئے ۔“اس نے نفی میں سر ہلادیا۔
ساڑھے تین بجے مجھے پولیس کے دو سپاہی سیڑھیوں سے چھت پر چڑھتے دکھائی دیے ۔گویا میر ااندازہ درست تھا ۔چار بجے کے قریب لاﺅڈ سپیکر کی آواز وہاں آنے لگی تھی لیکن وہ رنجیت چوپڑہ نہیں تھا ۔کوئی دوسرا آدمی اس کی تعریف میں رطب اللسان تھا ۔سوا چار بجے وہ خود سٹیج پر پہنچا ۔اس کی آواز میں نے اس سے پہلے نہیں سنی تھی ۔لیکن اس کی باتوں سے اندازہ ہو گیا کہ وہی کمینہ ہے ۔بہت اچھا ساﺅنڈ سسٹم لگایا گیا تھا کہ اس کی آواز شاپنگ پلازہ کے اندر بھی نہایت واضح سنائی دے رہی تھی ۔اس کی تقریر شروع ہوتے ہی میں نے چھت کا رخ کیا ۔اس مرتبہ اوپر جاتے ہوئے میں نے سیلز مین کی نگاہوں سے بچنے کی کوشش نہیں کی تھی ۔
”جی سر !“مجھے سیڑھیوں کی طرف قدم بڑھاتے دیکھ کر سیلز مین نے شائستہ لہجے میں پوچھا ۔
”انسپکٹر ارجن سنگھ راٹھور۔“میں نے جیب سے سروس کارڈ نکال کر اس کی آنکھوں کے سامنے لہرایا اور اس کا جواب سنے بغیر سیڑھیاں چڑھنے لگا ۔
پولیس کے دونوں سپاہی اکٹھے کھڑے زور و شور سے کسی دوشیزہ کے لباس پر تبصرہ کر رہے تھے۔ میرے قدموں کی چاپ پر دونوں نے پیچھے مڑ کر دیکھا ۔
”یہاں پر تم دو آدمی ہو بس ؟“ان کے سوال کرنے سے پہلے میں نے سوال جڑ دیا ۔
”جی ہاں !....لیکن آپ کون ؟“ان میں سے ایک نے محتاط انداز میں میرا تعارف مانگا ۔
”اس کے سوال کو درخور اعتناءنہ جانتے ہوئے میں نے واکی ٹاکی نکال کر پکارنے لگا ۔
”انسپکٹر ارجن فار ایس پی سریش اوور!“
”سریش فار انسپکٹر ارجن سینڈ یور میسج اوور !“مجھے دھیراج کی واضح آواز سنائی دی ۔یہ دو چھوٹے چھوٹے فقرے ہی ان دونوں کو چوکنا کرنے کے لیے کافی تھے ۔
”سر !....اسپیشل برانچ کے آدمی اب تک نہیں پہنچے اور میں یہاں اکیلا ہوں اوور۔“
”سوری انسپکٹر ارجن !....میں نے تین آدمی بھجوا دیے ہیں شاید پندرہ بیس منٹ تک تمھارے پاس پہنچ جائیں اوور۔“
”ٹھیک ہے سر !....لیکن اب پلازے کے داخلی دروازے پر کس کو کھڑا کروں اوور؟“میں نے پریشانی بھرے انداز میں جواب دیا ۔
”کیا وہاں پولیس کا کوئی سپاہی موجود نہیں ہے اوور ؟“دھیراج میرے بتائے ہوئے الفاظ بہت خوب صورتی سے بول رہا تھا ۔
”یہاں چھت پر دو سپاہی ڈیوٹی پر موجود ہیں ۔اور نیچے پارک کے گیٹ پر بھی تین کے قریب سپاہی موجود ہیں ۔باقیوں نے سٹیج کو گھیرا ہوا ہے اوور۔“
”ایسا کرو دس پندرہ منٹوں کے لیے ان چھت والے سپاہیوں کو گیٹ پر کھڑا کردو ۔انھیں سمجھا دو کہ کسی کو بھی پلازے کے اندر داخل نہ ہونے دیں ۔اس دوران تم خود چھت پر ہی موجود رہنا اوور۔“
”ٹھیک ہے سر اوور اینڈ آل ۔“
دھیراج سے بات ختم کر کے میں ان دونوں سپاہیوں کی طرف متوجہ ہو گیا ۔گو دونوں نے ہماری بات چیت سن لی تھی اس کے باوجود میں نے دوبارہ سے اپنا تعارف کرانا ضروری سمجھا ۔
”ہیلو ،میں انسپکٹر ارجن سنگھ راٹھورفرام سپیشل برانچ !“میں نے مصافحے کے لیے ان کی طرف ہاتھ بڑھایا۔
”سر سپاہی سنیل داس!“میرا نام پوچھنے والے نے جلدی سے میرا مصافحے کے لیے بڑھا ہوا ہاتھ تھام کر اپنا نام بتایا ۔
”اور میں اریش گپتا سر !“دوسرے نے بھی مودّب انداز میں مجھے ہاتھ ملایا۔
”اچھا آپ لوگوں کے ذرا سے تعاون کی ضرورت تھی،گو یہ آپ لوگوں کی ڈیوٹی نہیں بنتی لیکن سرکار کا ملازم ہونے کے ناتے ہمارا کام تو ایک ہی ہے نا ۔“
”ٹھیک ہے سر !....ہم نے آپ کی تمام باتیں سن لی ہیں ۔آپ حکم کریں کرنا کیا ہے ؟“ اریش گپتا نے جلدی سے سر ہلایا۔
”نیچے داخلی دروازے پر اتنی دیر رکنا ہے کہ جب تک سپیشل برانچ کے بندے آپ کے پاس نہیں پہنچ جاتے ۔وہ ہیڈکواٹر سے نکل چکے ہیں ،بس دس پندرہ منٹ میں پہنچ جائیں گے ۔آپ کا کام بس اتنا ہے کہ کسی بھی آدمی کو پلازے کے اندر نہیں آنے دینا ۔البتہ باہر نکلنے پر کوئی پابندی نہیں ہے ۔“
”ٹھیک ہے سر !“دونوں نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے مجھے سیلوٹ کیا ۔
”ویسے آپ اپنے کسی سینئر سے اجازت لینا چاہتے ہیں بے شک پوچھ لیں ۔“میں انھیں کسی بھی قسم کے شک کا موقع نہیں دینا چاہتا تھا ۔
”نہیں سر !....ایسی کوئی بات نہیں ۔اگر کسی سینئر نے باز پرس کر بھی لی تو آپ یہیں موجود ہیں نا ۔“
”گڈ۔اور یاد رکھنا کسی کو بھی اندر نہ آنے دینا ۔“
”آپ بے فکر رہیں سر !“وہ دونوں سیڑھیوں کی طرف بڑھ گئے ۔
ان کے رخصت ہوتے ہی میں نے کسی بھی مداخلت سے بچنے کے لیے فی الفور چھت کے دروازے کی کنڈی باہر سے لگائی اور اپنے بیگ کی طرف بڑھ گیا ۔ سب سے پہلے میں نے بیگ سے نائیلون کی مضبوط رسی نکالی اور پانی کی ٹینکی کے ساتھ گڑی سیڑھی سے اس کا ایک سرا باندھ کر دوسرا سرا پلازے کی عقبی جانب لٹکا دیا ۔عقبی جانب دکانوں کی چھت پلازے کی دیوار سے متّصل تھی ۔رسی چھت سے سات آٹھ فٹ اوپر ہی ختم ہو گئی تھی لیکن میرے لیے اتنا ہی کافی تھا ۔
اپنے فرار کا رستا منتخب کرتے ہی میں نے جلدی جلدی گلیل رائفل کے پرزے جوڑے اس کی مزل پر سائیلنسر چڑھایااور ایک مناسب جگہ پر رائفل کی دوپائی منڈیر پر لگا دی ۔چھت کی منڈیر تین چار فٹ اٹھی ہوئی تھی اس لیے میں لیٹ کر فائر نہیں کر سکتا تھا ۔سٹیج کا فاصلہ ناپ کر میں نے ایلیوشن ڈرم کو مطلوبہ رینج کے مطابق گھمایااور ٹیلی سکوپ سائیٹ سے رنجیت چوپڑہ کے سر کا نشانہ لینے لگا ۔ہوا کی رفتار نہ ہونے کے برابر تھی اور سورج میری پشت پر تھا یہ میرے لیے ایک بہترین صورت حال تھی ۔
”میں بھارت ماتا کا ادنا سا سیوک ہوں ،ساری جنتا کا سیوک ہوں ........“ اس کی بکواس جاری تھی ۔اور میرے پاس اتنا وقت نہیں تھا کہ اسے بکواس کرنے کی زیادہ مہلت دیتا ۔
سانس روک کر میں نے ٹریگر دبا دیا ۔ایک ہلکی سی ۔”ٹھک۔“ہوئی اور وہ پیچھے کو گر گیا ۔ایک لمحہ کے لیے تو کسی کی سمجھ میں بھی نہین آیا تھا کہ کیا ہوا ہے ۔اس کے بعد کہرام مچ گیا تھا ۔ایک دم شور کی آواز اٹھی ۔میرے پاس وہ تماشا دیکھنے کا وقت نہیں تھا ۔
جاری ہے

No comments: