Ads Top

ﻧﺎﻭﻝ رکھیل از ریاض_عاقب_کوہلر قسط نمبر 16

ﻧﺎﻭﻝ  رکھیل

  از 

 ریاض_عاقب_کوہلر



#رکھیل
قسط نمبر16
#ریاض_عاقب_کوہلر
”چلیں بیٹھیں ،اس سے پہلے کہ وہ لوٹ آئیں ۔“تناوش نے شرارتی لہجے میں کہا اور کبیردادا فوراََ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا ۔
”کھانا کھالیا تھا ۔“اس کے کار موڑتے ہی وہ کھسک کر قریب ہوئی اور اس کے کندھے پر سر ٹیک دیا ۔اس کی خوشبو سے کار کی اندرونی فضا مہک اٹھی تھی ۔کبیردادا کھوئے کھوئے لہجے میں بولا ۔”ہاں ....ہاں کھالیا تھا ۔“
ایک لمحہ خاموش رہ کر وہ تیقن سے بولی ۔”میں جانتی ہوں آپ نے نہیں کھایا ۔“
اس نے بے ساختہ پوچھا ۔”تم کیسے کہہ سکتی ہو ؟“
”کیوں کہ مجھ سے بھی نہیں کھایا گیا ۔“وہ اپنی وارفتگی اور چاہت پہلے بھی نہیں چھپاتی تھی اور اب بھی بے باکی سے اظہار کر رہی تھی ۔مشکل تو کبیردادا کو پیش آرہی تھی جس کا رواں رواں اس کا متلاشی ہونے کے باوجود وہ اظہار نہیں کر پا رہا تھا ۔
”نہیں جی ،ایسی کوئی بات نہیں ،تم گھر جا کر راحت خالہ سے پوچھ لینا ۔“
”اچھا ٹھیک ہے ،لیکن مجھے ابھی کھانا کھانا ہے اور وہ بھی کسی ہوٹل میں ۔“
”اس وقت ۔“اس نے کلائی پر بندھی گھڑی پر نگاہ دوڑائی ،سوئیاں دو کا ہندسہ عبور کر گئی تھیں ۔
وہ ہٹ دھرمی سے بولی ۔”ہاں ابھی اور اسی وقت ۔کسی ہوٹل میں کھانا کھا کر مجھے ساحل سمندر پر لے جانا ،میں چاند کی روشنی میں آپ کے ساتھ گھوموں گی ۔“
”پاگل ہوئی ہو ۔“
”لے جانا ہے کہ نہیں ۔“اس نے لاڈ بھری ناراضی سے پوچھا ۔اور کبیردادا نے افسوس بھرے انداز میں سرہلاتے ہوئے کار ساحل کی جانب موڑ دی وہیں کسی ہوٹل میں وہ اسے کھانا بھی کھلا سکتا تھا ۔رات کے اس وقت بھی سڑکوں پر اچھی خاصی ٹریفک رواں تھی ۔تھوڑی دیر بعد وہ ایک بڑے ہوٹل کی پارکنگ میں کار روک رہا تھا ۔
ہوٹل کے ہال میںاس وقت بھی کافی گاہک نظر آرہے تھے ۔کونے کی میز کا انتخاب کر کے اس نے نشست سنبھالتے ہوئے منیو کارڈ اٹھالیا۔
”کیا کھاﺅ گی ؟“
وہ شوخی سے بولی ۔”کوئی ایسی چیز جو آپ اپنے ہاتھوں سے مجھے کھلا سکیں ۔“
”مستیاں نہ کرو یہ خواب گاہ نہیں ہوٹل کا ہال ہے ۔“
تناوش نے منھ بسورا۔”وہاں کون سا آپ مجھے گلے سے لگا کر رکھتے ہیں ۔“
کبیردادا کے ہونٹوں پر بے ساختہ مسکراہٹ نمودار ہوئی ۔”ناشکری کہیں کی ۔“
اور وہ قہقہہ لگا کر ہنس پڑی ۔
”اچھا بتا ﺅ نا کیا کھاﺅ گی ۔“
”کچھ بھی منگوا لو مگر اس کے بعد آئس کریم ضرور کھائیں گے ۔“
اور کبیردادا سر ہلا کر اپنی مرضی کا کھانا منگوانے لگا ۔تناوش کے ساتھ چند لمحے بتاتے ہی اسے بھی سخت قسم کی بھوک کا احساس ہو رہا تھا ۔بیرے کے کھانا لانے تک وہ اس سے دن کی کارگزاری سننے لگی ۔
”سویا رہا ہوں سارا دن کوئی کام ہی نہیں تھا ۔“کندھے اچکاتے ہوئے اس نے ایک اور جھوٹ بولا ۔
”اب مجھے جلائیں تو نا ں نا ۔“تناوش نے منھ بسورا اور کبیردادا کھل کھلا پڑا ۔
”اس میں جلنے کی کون سی بات ہے بھلا ۔“
”بس میں آپ سے نہیں بولتی ۔“مصنوعی انداز میں منھ پھلاتے ہوئے وہ ہاتھوں کے پیالے میں اپنا من موہنا چہرہ رکھ کر کبیردادا کو گھورنے لگی ۔کبیر دادا کی حالت غیر ہونے لگی تھی ۔ اس کا جی چاہا سب سے بے نیاز ہو کر اسے بانہوں میں بھر لے ۔وہ اتنی ہی معصوم ،بھولی بھالی اور پیاری لگ رہی تھی ۔اسی وقت بیرہ کھانے کی ٹرے اٹھائے نمودار ہوا ۔
”اتنا زیادہ کھانامیں کیسے کھاﺅں گی ۔“بیرے کو میز پر برتن سجاتے دیکھ کر وہ حیرت زدہ رہ گئی تھی ۔
”چلو ،میں بھی تمھارا ساتھ دے دوں گا ۔“کبیرادا نے اسے تسلی دی ۔اور پھر اسے خوب ڈٹ کر کھاتے دیکھ کر وہ معنی خیز لہجے میں بڑبڑائی ۔
”جھوٹا ۔“
”یہ جھوٹا کسے کہا ۔“کبیردادا نے اسے گھورا ۔
وہ کھل کھلائی ۔”جھوٹے کو ۔“
”کتنا منع کرتا ہوں کہ بد تمیزی نہ کیا کرو ۔“
وہ شرارت سے بولی ۔”یہ بد تمیزی نہیں ہے کبیر جی اظہارِ حقیقت ہے ۔“
”بد تمیز ۔“اس مرتبہ کبیردادا نے آئس کریم کا ادھ کھایا پیالہ اپنے سامنے سے ہٹا دیا ۔
”آئس کریم کھانا چھوڑا تو قسم سے اتنی زور زور سے رونا شروع کر دوں گی کہ پورا ہوٹل جمع ہو جائے گا ۔“وہ فوراََ دھمکی پر اتر آئی تھی ۔
اس نے دوبارہ پیالہ قریب کرتے ہوئے کہا ۔”پھر بکواس کیوں کرتی ہو ۔“
”کروں گی بکواس ۔کہوں گی ،کبیر ....کبیر ....کبیر....کبیر....آپ مجھے روک کر دکھائیں ۔“
”ایک تھپڑ سے ساری شوخی ہوا ہو جائے گی ۔“
”اب تو اکیلے میں کہہ رہی ہوں ،تھپڑ مارا تو سب کے سامنے بھی یہی کہوں گی ۔“
”کیا ....“
وہ بے ساختہ بولی ۔”کبیر۔“اور کبیردادا ہنس پڑا تھا ۔اسے ہنستے دیکھ کر ایک دم وہ شرما گئی تھی۔
”آپ میرا مذاق اڑا رہے ہیں ،ہے نا ۔“
”اچھا مذاق اڑانے والا بھی میں ہو گیا ۔“
”اچھا اب سارا کپ خود ہی تو خالی نہ کریں نا۔“اس کے سامنے پڑا کپ اٹھا کر تناوش نے اپنے کپ میں بچی ہوئی تھوڑی سی آئس کریم اس کے سامنے رکھ دی ۔
”اور منگوا لوں ۔“اسے یوں شوق سے آئس کریم کھاتا دیکھ کر کبیردادا نے بے ساختہ پوچھا ۔
”نہیں اب چلتے ہیں ۔“اپنا کپ خالی کرتے ہوئے وہ اٹھ کھڑی ہوئی ۔کبیردادا نے بیرے کو اشارہ کر کے بل منگوایا ۔بل کے مندرجات پر ایک نظر ڈال کر اس نے جیب سے ایک بڑا نوٹ نکالا۔”باقی تم رکھ لینا ۔“کہہ کر وہ تناوش کو ساتھ لیے چل پڑا ۔
”شکریہ سر ۔“بیرے کی ممنونیت بھری آواز پر اس نے سر ہلانے پر اکتفا کیا تھا ۔
” جب گرل فرینڈ ساتھ ہوتی ہے تو لڑکے بڑی بڑی بخشش کیوں دیتے ہیں ۔“
اس کی شوخ بات نے ایک بار پھر کبیردادا کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھیر دی تھی ۔”تو تم میری گرل فرینڈ ہو ۔“
”لڑکی بھی ہوں ،دوست بھی ہوں ،محبوبہ بھی ہوں اور بیوی بھی ۔اتنے رشتوں کے ہوتے ہوئے بھی مجھے نظر انداز کرتے رہتے ہیں آپ۔“اس نے منھ بسورا۔
”یہ محبوبہ اور دوست کب سے بن گئی ہو ۔“وہ کار کے نزدیک پہنچ گئے تھے جب کبیر نے یہ پوچھا ۔
”کیا نہیں ہوں ۔“کبیردادا کا ہاتھ پکڑ اس نے اپنی جانب متوجہ کیا ۔کارپارکنگ میں جلتی روشنی اس کے روشن چہرے کو جگ مگا رہی تھی ۔ کالی سیاہ آنکھیں کبیردادا پر جادو کرنے لگیں۔ وہ بے خود ہونے لگا تھا ۔دو تین لمحے یونھی اس کی آنکھوں میں دیکھنے کے بعد کبیردادا کے منھ سے پھنسے پھنسے الفاظ برآمد ہوئے ....”ہو نا ۔“
ایک خوب صورت مسکان اس کے لبوں پر ظاہرہوئی اور وہ مدھر لہجے میں بولی ۔ ”کبیر....“
کبیردادا مکمل ہپنا ٹائز ہو چکا تھا بے ساختہ بولا ۔”جی ۔“
نہ جانے اس کی آنکھوں میں کتنی چاہت امڈ آئی تھی ،تناوش نے فوراََشرما کر آنکھیں جھکا لیں ۔”چلیں ۔“
ایک دم جھری جھری لیتے ہوئے کبیردادا نے خود کواس منظر کے سحر سے نکالا اور کار کا دروازہ تناوش کے لیے کھول دیا ۔”بیٹھو ۔“
”وہ ناز بھرے انداز میں بیٹھ گئی ۔دروازہ بند کر کے کبیردادا گھوم کر ڈرائیونگ سیٹ پر آیا اور کار آگے بڑھا دی ۔
”ساحل پر جائیں گے ۔“اس نے فوراََ یاددہانی کرائی ۔
”ہونہہ۔“کبیردادا نے ہنکارا بھرا۔کار میں خاموشی چھا گئی تھی ۔کبیردادا اپنی بے خود ہوتی حالت پر خفت سی محسوس کر رہا تھا ۔خاموشی کو تناوش کی آواز نے توڑا،وہ پوچھ رہی تھی ....
”میرا کبیرکہنا آپ کو برا لگتا ہے ۔“
”اگر میرا جواب اثبات میں ہو تو ....“کبیردادا نے اس کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے خود پرمصنوعی سنجیدگی طاری کی ۔
”پھر میں جانو،شہزادہ ،سرتاج وغیرہ کہہ کر پکار لیا کروں گی ۔“اس نے بھی اپنا لہجہ سنجیدہ ہی رکھا تھا ،مگر الفاظ سے ٹپکتی شرارت نے کبیرداداکو ہنسا دیا ۔
”تم لا علاج ہو ....“
کار کی فضا تناوش کے قہقہے سے گونج اٹھی تھی ۔”بتایا نہیں ۔“
اس نے منھ بنایا۔”کبیر ہی ٹھیک ہے ۔“اس کے ساتھ ہی اس کی آنکھوں میں ایک منظر ابھرا کہ تناوش اسے” جانو ،میرے شہزادے ۔“کہہ کر مخاطب کر رہی ہے ۔اور یہ سنتے ہوئے پاشا اپنی کنپٹی پر پستول رکھ کر خود کشی کر رہا ہے ۔
وہ ہٹ دھرمی سے بولی ۔”میرا جو دل چاہے گا وہ کہوں گی ،بدلے میں آپ کچھ بھی کہہ سکتے ہیں ۔“
”میں مس مصیبت اور دماغ چوس کے علاوہ بھلا کیا کہہ سکتا ہوں ۔“اور تناوش اس کی بے بسی پر کھل کھلا دی ۔
”ساحل پراتنے ہوٹل کھلے ہیں یہاں بھی کھانا کھایا جا سکتا تھا ۔“سڑک کنارے ہوٹلز دیکھتے ہی وہ پوچھنے لگی ۔
”مقصد کھانا کھانا تھا نا وہ پورا ہو گیا ۔“وہ کار کو آگے لے گیا ۔ایک جگہ پر اس نے کار سڑک سے کچے پر اتار ی اور ایک مناسب جگہ پر پارک کر دی ۔
”ننگے پاﺅں چلیں گے ۔“پاﺅں سے چپل اتار کر وہ باہر نکل آئی ۔سر پر لیا دوپٹا اس نے مفلر کی طرح گلے میں لپیٹا اور اس کے گھنے سیاہ لمبے بال کالی گھٹا کی طرح اس کی کمر تک بکھر گئے ۔چاند کی روشنی میں اس کا حسن مزید نکھر آیا تھا ۔کبیردادا بھی جوتے اتار کر باہر نکل آیا ۔
وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر پانی کی طرف بڑھ گئی ،پاﺅں سے پانی ٹکراتے ہی اس نے شلوار کے پائینچے اوپر کر لیے تھے ۔ وہ کافی دور آگئے تھے ،وہاں دوسرے لوگ دکھائی نہیں دے رہے تھے اوراسی وجہ سے اس نے سر اور پنڈلیوں وغیرہ سے کپڑا ہٹانے میں کوئی قباحت نہیں سمجھی تھی۔
”آپ پہلے کبھی یہاں آئے ہیں ۔“وہ کبیردادا کی طرف متوجہ ہوئی ۔
”تمھیں اتنا فارغ دکھائی دیتا ہوں ۔“
”آج فارغ تھے ۔“
”اس سوال کا مقصد ۔“وہ چڑ گیا تھا ۔
وہ لاڈ سے بولی ۔”آپ سے یہ منوانا کہ میں آپ کو پیاری لگتی ہوں ۔“
وہ اس کی طرف مڑا اگلے ہی لمحے اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے اپنی جانب کھینچا ۔
”ہاں ....ہاں ....ہاں لگتی ہو پیاری ،بہت زیادہ اور بھی کچھ پوچھنا ہے تو ایک بار پوچھ لو ۔“چاندنی میں نہائے ہوئے تناوش کے سحر انگیز وجود کے سامنے کبیردادا نے ہتھیار ڈال دیے تھے ۔اسے اپنا مقام ،حیثیت اور شخصیت بھول چکی تھی ۔بس یاد رہا تھا تو دل کا واویلا جو تناوش کا نام جپ رہا تھا ۔
”چھوڑیں نا کوئی آ جائے گا ۔“ایک دم وہ شرما گئی،اس کی شوخی اور تیزی طراری کہیں کھو گئی تھی ۔
اسے تنگ کرنے کے لیے شایدکبیردادا مزید بھی پیش قدمی کرتا ،مگر اسی وقت وہ روشنی میں نہا گئے ۔کوئی گاڑی سڑک سے اتر کر اسی طرف آرہی تھی ۔تناوش تڑپ کر اس کی آغوش سے نکلی ۔تیز روشنی سے بچنے کے لیے انھوں نے چہروں کے سامنے ہاتھ پکڑ لیے تھے ۔وہ جو کوئی بھی تھا کافی بد تہذیب اور اجڈ لگ رہا تھا ۔آنے والی گاڑی ان کی کار کے ساتھ رک گئی ۔ تیز روشنی کے بجھتے ہی انھوں نے آنکھوں کے سامنے پکڑ ے ہاتھ ہٹائے روشنی کا اثر ختم ہوتے ہی انھیں کھلی چھت کی جیپ کا ہیولہ نظر آیا ۔اس میں چار آدمی سوار تھے ۔نیچے اترتے وقت وہ بے ہنگم قہقہے لگا رہے تھے ۔تناوش کا دل نا خوش گوار انداز میں دھڑک رہا تھا ۔ہیولوں کو اپنی جانب رخ کرتے دیکھ کر تناوش فوراََ گلے میں جھولتا دوپٹا سر پر لپیٹ کر چھاتی پر پھیلانے لگی ۔
”ارے رومانوی سین تو ختم ہو گیا ہے ۔ہیرو صاحب نے ہیروئین کو اپنے بازوﺅں کے گھیرے سے آزاد کر دیا ہے ۔“ایک واہیات آواز تناوش کے کانوں میں پڑی اور اس نے فوراََ کبیردادا کا ہاتھ پکڑ لیا گویا اس کا سہارا چاہ رہی تھی ۔وہ آوارہ گردوں کی کوئی ٹولی تھی جو اکیلے جوڑے کو دیکھ کر لوٹنے چلے آئے تھے ۔ایسے گروہ اکیلے آدمیوں کو لوٹنے کے ساتھ عورتوں کی عزت خراب کرنے میں بھی کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہیں کرتے ۔
”ڈر گئی ہو ۔“ آنے والوں سے بے نیازوہ چاہت بھرے لہجے میں پوچھ رہا تھا ۔کبیر دادا کو ایسے سڑک چھاپوں سے کیا خوف ہو سکتا تھا جس کی ساری زندگی ہی ایسے حالات کا سامنا کرتے گزری ہو ۔
وہ نڈر لہجے میں بولی ۔”نہیں ،آپ کی موجودی میں ذرا بھی ڈر نہیں لگتا ۔“
”اگر تم سے کچھ نہیں ہو پارہا تو اس بلبل کو ہمارے حوالے کر دو بھائی۔“وہ دور ہی سے اپنے اندر کی غلاظت کا اظہار کرتے آرہے تھے ۔
”اچھا ،سب سے پہلے کون سا سورما اپنا طاقت کا مظاہرہ کرے گا ۔“وہ چار پانچ قدم دور تھے جب کبیردادا کی اطمینان بھری آواز ابھری ۔
آگے والے دونوں آدمی ٹھٹک کر رکے ،اس کے ساتھ ہی انھوں نے گویا آنکھیں پھاڑ کر کبیردادا کی جانب دیکھا ۔”کک....کک....کبی....کبیردادا....“ہکلاتی اور پھنسی پھنسی آواز ان کے حلق سے برآمد ہوئی ۔اگلے ہی لمحے دونوں کا جسم رعشے والے مریض کی لرزنا شروع ہو گیا تھا ۔عقب میں آنے والوں کے کانوں میں بھی جب کبیردادا کی آواز پڑی وہ بھی ہکا بکا کھڑے رہ گئے تھے ۔ان کی آوازسنتے اور شکل دیکھتے ہی کبیردادا انھیں پہچان گیا تھا وہ اس کے اپنے ہی آدمی تھے ۔
”تو تم لوگ رات کو یہ کام بھی کرتے ہوئے ۔“ان کی طرف قدم بڑھاتے ہوئے کبیردادا پھنکارا ۔
”مم....ماف ....کردیں دادا....“آگے والے ہونٹوں پر یہ الفاظ تھے کہ کبیردادا کا ہاتھ گھوما ،چہرے پر پڑنے والے تھپڑ نے اسے ریت پر اچھال دیا تھا ۔اس نے اٹھنے کی کوشش نہیں کی تھی ۔اگلے منٹ میں باقی تینوں بھی بھرپور تھپڑ کھا کر اس کے ساتھ لیٹے نظر آرہے تھے ۔
”غلطی ہو گئی دادا ....معاف کر دیں دادا ....آئندہ ایسا نہیں کریں گے دادا ....“ ہر ایک کی زبان پر مختلف الفاظ رقصاں تھے ،مگر تمام کا مطلب معذرت کرنا ہی تھا ۔قریب ہو کر کبیردادا نے فٹ بال کو کک مارنے کے انداز میں ان پر چند ٹھوکریں برسائیں ۔وہ واویلا کرتے ہوئے لیٹے رہے اٹھنے کی جرات کسی نے نہیں کی تھی ۔
”نوید ،اڈے انچارج کو کال کر کے یہیں بلالو ،اس کی آمد تک کان پکڑ کر مرغا بنے رہو ۔میں ذرا آگے تک جا رہا ہوں واپسی پر اسے یہاں موجود ہونا چاہیے ۔اور اسے کال بھی مرغابنے بنے کرو گے ۔“
کبیردادا کی بات ختم ہوتے ہی انھوں نے اس سرعت سے مرغا بنتے ہوئے کان پکڑے تھے کہ تناوش کھل کھلا پڑی۔نوید نامی آدمی اسی ہیئت میں کان پکڑے اپنے اڈے کے انچارج کو کال کرنے لگا ۔کبیردادا تناوش کو لے کر ان سے دور ہٹنے لگا ۔
”یہ لوگ آپ سے اتنا ڈرتے کیوں ہیں،حالاں کہ اتنے پیارے اور نرم دل ہیں آپ ۔“وہ اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے بھول پن سے پوچھنے لگی ۔
وہ مسکرایا ۔”پاگل ،تم نے کبیردادا کا صرف ایک ہی روپ دیکھا ہے ۔“
”میں اپنے کبیر کے سارے روپ دیکھ چکی ہوں ۔“
”پھر بھی ڈر نہیں لگتا ۔“
وہ معصومیت سے بولی۔”بہت لگتا ہے ،آپ کے دور جانے کا ، بچھڑنے کا ،روٹھنے کا، کسی اور لڑکی طرف متوجہ ہونے کا اور مجھے دھتکار دینے کا ڈر ہر وقت میرے دل کو لرزاتا رہتا ہے۔“
وہ صاف گوئی سے بولا ۔”صحیح کہا ،جس دن سے تم میری زندگی میں آئی ہو میری یہی کوشش رہی ہے ،کاش میں اس میں کامیا ب ہو گیا ہوتا ۔“
”اللہ پاک نہ کرے ایسا ہو ۔مر جاﺅں گی اور پھر روتے رہیں گے آپ ۔“اس دھمکی سے کبیردادا پر منکشف ہوا کہ شاید پاشا کی کوششیں بے کار جائیں ۔اتنے خلوص بھرے لہجے میں کوئی جھوٹ نہیں بول سکتا تھا ۔اس کی آنکھوں میں نگی کی آمد کے بعد تناوش کے چہرے پر نمودار ہونے والے تاثرات نمودار ہوئے اور اسے بغیر کسی شک و شبے کے یقین ہو گیا کہ وہ ٹھیک کہہ رہی ہے۔اس کے باوجود وہ اسے سمجھانے سے باز نہیں آیا تھا۔
”تم کسی اور سے شادی کر کے گھریلو زندگی گزار سکتی ہو ،ایسی شرافت بھری زندگی جس کی تم حق دار بھی ہو ۔ایک شریف اور باکردار مرد ہر وہ خوشی ،ہر وہ سکون اور اطمینان تمھاری زندگی میں لے آئے گا جس کی تم حقداربھی ہو ،میرے ساتھ سوائے خواری اور کچھ بھی نہیں ملنے والا ۔“
”اگر آئندہ ایسا کچھ کہا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا ۔“اس نے زندگی میں پہلی بار اس انداز میں دھمکی دی تھی ۔
”کیا کہا ۔“کبیردادااس کی طرف متوجہ ہوا ۔
”وہی جو آپ نے سنا ۔“ہنس کر کہتے ہوئے وہ بھاگ پڑی۔وہ بھی اس کے بچپنے میں دلچسپی لیتے ہوئے اس کے پیچھے بھاگ پڑا۔تناوش کی رفتار کافی تیز تھی ،مگر وہ جتنی بھی تیز ہوتی کبیردادا کا مقابلہ تو نہیں کر سکتی تھی ۔اس نے جلدی ہی تناوش کو جالیا تھا ۔مگر اس سے پہلے کہ وہ اسے پکڑ تا تناوش ۔”ہائے ۔“کہتے ہوئے ریت پر لیٹ گئی ۔
”کیا ہوا ؟“کبیردادا پریشان ہو کر اس کے ساتھ بیٹھ گیا تھا ۔
”پاﺅں میں موچ آگئی ہے ،افف....بہت درد ہو رہا ہے ۔“ٹخنے پر زور دیتے ہوئے وہ کراہی ۔
”دکھاﺅ مجھے ۔“گھٹنے ساحل کی گیلی ریت پر ٹیکتے ہوئے وہ اس کا ٹخنہ سہلانے لگا۔
تناوش نے کراہتے ہوئے اس کے کندھے پر ماتھارکھ دیا تھا۔
”کس نے کہا تھا بھاگو۔“اس نے پریشانی بھرے لہجے میں اسے ڈانٹا ۔
”اب غصہ تو نہ کریں نا ،ہائے درد ہو رہا ہے ۔“وہ روہانسی ہونے لگی ۔
”اچھا ٹھیک ہو جائے گا ،روتے نہیں ہیں ۔“اس کی روتی آواز سن کر کبیردادا کے دل کو کچھ ہونے لگا تھا۔
وہ منھ بسورتے ہوئے کہنے لگی ۔”آپ کو تو بس ڈانٹنا ہی آتا ہے ۔“
”اچھا نہیں ڈانٹتا۔“وہ پیار بھرے انداز میں اسے پچکارنے لگا ۔
”میں نہیں بولتی آپ سے ،آپ کی وجہ سے میرے پاﺅں میں موچ آئی ہے ۔ہائے اللہ جی ،اب میں کیسے چلوں گی ۔“
”کچھ نہیں ہوتا اور اب اٹھو چل سکتی ہو یا نہیں ۔“کبیردادا نے بازو سے پکڑ کر اسے کھڑا کیا ۔
”نہیں چل سکتی ۔“وہ پاﺅں پر بالکل زور نہیں دے رہی تھی ۔
”کوئی بات نہیں ۔“کبیردادا نے اطمینان سے اسے بازوﺅں میں بھر کر اوپر اٹھا لیا ۔
ایک دم خوش ہوتے ہوئے اس نے کبیردادا کے گلے میں بانہیں ڈال کر سر اس کی چھاتی پر رکھ لیا ۔ کبیردادا کو وہ پھو ل کی طرح ہلکی لگی تھی ۔کبیردادا واپس چل پڑا ۔
”کیا میرا وزن بہت زیادہ ہے ۔“
”ہاں ۔“کبیردادا نے اثبات میں سر ہلایا۔”گلاب کے پھول سے تھوڑا سا زیادہ ہو گا ۔“وہ اس کی” ہاں “سن کر منھ پھلاتے ہوئے اسے ناراضی بھری نظروں سے گھورنے لگی تھی ،مگر اگلا فقرہ سن کر خوشی سے کھل اٹھی ۔
”ہائے اللہ جی !....یہ لڑکا بھی ،اکیلی لڑکی دیکھ کر کیسے پٹا رہا ہے ۔“
کبیردادا ترکی بہ ترکی بولا ۔”تم میری بیوی ہو محترمہ ۔“
وہ کہاں ہار ماننے والی تھی فوراََبولی ۔”اسی لیے تو میں بھی حیران ہوں کہ آپ بیوی پر کیوں ٹھرک جھاڑ رہے ہیں ۔“
کبیرداداکھسیاتے ہوئے بولا ۔”میں تمھیں یونھی تو دماغ چوس نہیں کہتا ۔“
وہ مصر ہوئی ۔”اچھا بتائیں نا ،کیا سچ میں میرا وزن بہت زیادہ ہے ۔“
”کہہ تو دیا ہے پھول کی طرح ہلکی لگ رہی ہو ۔“
”تو پھر پہلے اٹھاتے نا،مجھے موچ آنے کا بہانہ تو نہ کرنا پڑتا ۔“
”کیا ....یہ بہانہ ہے ۔“اس نے رکتے ہوئے تناوش کو گھورا ۔
اس نے آنکھیں بند کر کے نیچے والا ہونٹ اوپر والے ہونٹ پر چڑھایااور اوپر نیچے سر ہلا دیا۔اس عالم میں وہ کبیردادا کو ننھی بچی ہی لگی تھی ۔
”دل کرتا ہے نیچے پھینک دوں ۔“
وہ جلدی سے بولی ۔”سچ مچ چوٹ لگ جائے گی اور ہر وقت اٹھا کر پھرانا پڑے گا ۔“
”اچھا اترو نیچے ۔“کبیردادا نے بادل نخواستہ اسے نیچے اتارا وہ ہنستے ہوئے اس کے ساتھ لگتے ہوئے بولی۔
” اپنے موبائل سے میری تصویر ہی کھینچ لیتے کتنی پیاری لگ رہی ہوں ۔“
”اتنی خوب صورت بھی نہیں ہو ۔“کبیردادا نے اسے چڑایا ۔
”ٹھیک ہے نہیں کھنچواتی ۔“اس نے دور ہونے کی کوشش کی مگر کبیردادا نے فوراََ ایک ہاتھ اس کی کمر میں ڈال کر اسے قریب سمیٹ لیا ۔”مذاق کر رہا تھا دماغ چوس ۔“یہ کہہ کر وہ اپنے قیمتی موبائل فون سے دھڑا دھڑا اس کی تصویریں اتارنے لگا ۔پہلے پہل تو وہ مختلف پوز بناکر تصویریں کھنچواتی رہی پھر شرارتی لہجے میں بولی ۔
”اچھا اب بس کریں نا ،اتنی زیادہ تصویروں کی بھی اجازت نہیں دی ہے ۔“
”اجازت مانگی کس نے ہے ۔“کبیردادا نے کہا ۔
”بس دھونس جماتے رہنا ،یہ نہیں کہ چھوٹی سی بچی کا ذراسا مان ہی رکھ لیں ۔“
”اچھا جی، نہیں کھینچتا ۔اب چلیں ۔“وہ موبائل فون جیب میں ڈال کر اسے ساتھ لیے آگے بڑھ گیا ۔
تھوڑی دیر بعد وہ ان آدمیوں کے قریب پہنچ چکے تھے ۔چاروں آدمی مرغا ہی بنے ہوئے تھے ۔ایک پانچواں آدمی ان کے ساتھ کھڑا دکھائی دے رہاتھا ۔یقینا وہ اڈہ انچارج تھا ۔ اس نے وہاں پہنچنے میں ذرا سی بھی دیر نہیں لگائی تھی ۔
”صنوبر ،یہ تمام صبح سورج ابھرنے تک یونھی کان پکڑے رہیں گے اور تم یہیں کھڑے ہو کر ان کی نگرانی کرو گے ،اگر کسی نے بھی کان چھوڑے یا تم نے بیٹھنے کی کوشش کی تو ورثاءکو کفن دفن کی ہدایت کرنا نہ بھولنا۔“
”جی دادا!“اس نے ندامت سے سر جھکا لیا تھا ۔
”خیرتمھاری باقاعدہ کلاس تومیں کل لوں گا ۔“کبیردادا کا گھمبیر لہجہ مخالف کا پتا پانی کرنے کے لیے کافی تھا ۔”غنڈہ گردی اور بدمعاشی کے بھی کچھ اصول ضرور ہوتے ہیں ۔ان کے بارے اڈے پر آکر روشنی ڈالوں گا۔“
”غلطی ہو گئی دادا،معاف کردیں ۔“کان پکڑے نوید کی کراہتی ہوئی آواز بلند ہوئی۔ باقی بھی پکارنے لگے ۔”معاف کردیں دادا،ایک موقع دے دیں دادا۔“
”زندہ چھوڑ کر ،موقع ہی تو دے رہا ہوں ۔“
”آج انھیں معاف کر دیں ۔“خاموش کھڑی تناوش نے ایک دم کبیردادا کا ہاتھ تھام کر التجا کی ۔
”تم بیچ میں دخل نہ دو ۔“کبیردادا نے اس کی طرف سخت نظروں سے گھورا ۔
”میں کہہ رہی ہوں نا ں انھیں ایک اور موقع دے دیں ۔“وہ مصر رہی ۔
”اٹھو اور دفع ہو جاﺅ ۔“اس مرتبہ کبیردادا تناوش کا حکم نہیں ٹال سکا تھا ۔
وہ چاروں کھڑے ہو کر اپنی جیپ کی طرف بھاگ پڑے تھے ۔
”تم بھی ۔“کبیردادا نے صنوبر کو کہا اور وہ بھی ان کے پیچھے بھاگ پڑا ۔
ان کے غائب ہوتے ہی اس نے تناوش سے پوچھا ۔”اب چلیں یا صبح کی آذان یہیں سننا ہے ۔“
”چلیں ۔“کبیردادا کو محبت پاش نظروں سے گھورتی ہوئی وہ کار کی طرف بڑھ گئی ۔
٭٭٭
”یار ،تمھارے پاس کوئی اور موضوع نہیں ہے ۔“کاشف راجپوت نے سامنے بیٹھے پاشا کی بات سنتے ہی بیزاری ظاہر کی ۔
پاشا مصر ہوا ۔”دادا ،آپ میری بات تو مکمل ہونے دیں ۔“
”اچھا بولو۔“کاشف نے گویابادل نخواستہ کہا۔
” کبیردادا نے خود اعتراف کر لیا ہے ،اب تو آپ بھی مان جائیں ۔“
”اچھا مان لیا ،لیکن میں کر کیا سکتا ہوں ،جب کبیردادا خود اس مسئلے کو حل نہیں کر پارہا تو میں کیا کروں گا ۔“
”مجھے پکا یقین ہے کہ وہ کمینی ،کبیردادا کو جھوٹی محبت کے جال میں پھنسا رہی ہے ۔“
”تو وہ نہ پھنسے ۔“کاشف راجپوت نے منھ بنایا۔
”شکار کبھی پھنسنا نہیں چاہتا ،شکاری اپنی چالوں اور مہارت کو بروے کار لا کر شکار کو اپنے بس میں کرتا ہے ۔“
”چلو مان لیا وہ دوغلی ہے اور کبیردادا کو جھوٹی محبت کے جال میں پھانس رہی ہے ، کبیردادا نے بھی تمھیں کھلی چھوٹ دے دی ہے ۔لیکن اب کیا لائحہ عمل اپناﺅ گے ۔کیا وہ لڑکی تمھاری آفر کو قبول کرتے ہوئے ایک بڑی رقم کا مطالبہ کرے گی اور کبیردادا کی زندگی سے دفع ہو جائے گی یا کوٹھی بنگلے کار وغیرہ کے بدلے کبیر دادا کی زندگی سے نکلنے پر تیار ہو جائے گی ۔“
”ہاں ایسا ہی ہے ۔“پاشا نے اطمینان بھرے انداز میں سر ہلایا۔
”تو عمل کرو نا اپنے منصوبے پر، کبیردادا کی غیر موجودی میں گھر چلے جاﺅ اوراس سے اطمینان سے بات کر لو ۔لیکن یاد رکھنا ،اگر تمھارے تیئں وہ اتنی ہی چالاک اور تیز ہے تو آسانی سے کوئی آفر قبول نہیں کرے گی ۔“
”جانتا ہوں ،اسی لیے اسے موقع دوں گا کہ وہ ہنسی خوشی میری آفر قبول کر لے ۔ دوسری صورت میں ماں بیٹی کا عدم آباد کاٹکٹ کٹوا کر کبیردادا کو کہہ دوں گا کہ میری آفر قبول کر کے دونوں ماں بیٹی کہیں چلی گئی ہیں اور چونکہ ندامت کی وجہ سے وہ آپ کا سامنانہیں کر پا رہی تھی اس لیے وہ آپ کوملنے نہیں آ سکی ۔“
”یار ،کیوں غریب کی زندگی کے پیچھے پڑ ئے ہو ۔وہ معصوم ، بھولی بھالی اور گھریلو لڑکی ہے ۔ایسی لڑکیاں جس سے شادی کر لیں اس کی ساری خامیوں کو بغیر کسی کراہیت کے قبول کر لیتی ہیں ۔ان کا مقصد زندگی ہی شوہر کا آرام وسکون اور خدمت گزاری ہوتا ہے ۔یہ جو تمھیں اس کی مکاریاں اور چالاکیاں نظر آرہی ہیں نا ،یہ اس کی فطرت ہے ۔اس نے بھائی کی موت کا بدلہ لینے کے لیے کبیردادا کا ہاتھ تھاما۔اور جب ہر قدم پر معاشرے کی زیادتیوں کا شکار لڑکی کو تحفظ اور سہارا ملا تو وہ جی جان سے تحفظ فراہم کرنے والے کی خدمت میں جت گئی ۔اپنا سب کچھ اسی کو سمجھنے لگی ۔اور یقین مانو جب کوئی عورت خلوص دل سے کسی کا خیال رکھتی ہے ،اس کے کام کرتی ہے اور گھریلو زندگی کے ہر مرحلے میں مرد کو مصروف عمل نظر آتی ہے تب مرد کا دل بھی اس کی طرف کھنچتا ہے ۔وہ اسے پاﺅں کی جوتی نہیں سر کا تاج سمجھنے لگتا ہے اور یہی کبیردادا کے ساتھ ہوا ہے جسے تم اس معصوم لڑکی کی چالاکیاں سمجھنے لگے ۔رہنے دو بے چاری کو کبیردادا کے پاس ۔باقی گینگسٹرز نے بھی تو شادیاں کی ہوئی ہیں نا ۔تھوڑا عرصہ تو گزرنے دو، نئی نویلی دلھن کے نخرے شوہر ہنسی خوشی برداشت کر لیتا ہے ۔ وقت گزرنے کے ساتھ نئی جوانی کا بخار اترتا ہے مرد سنبھل جاتاہے اوراس کی پرجوش محبت میں ٹھہراﺅ آجاتا ہے ۔ “
”میں آپ سے بالکل متفق نہیں ہوں ،کیونکہ کوئی گھریلو لڑکی اتنی جلدی کبیردادا کو اپنے قابو میں نہیں کر سکتی ۔شادی کو ہفتہ نہیں ہو ا، اور کبیر داداکو اس کے علاوہ کچھ سوجھتا نہیں ۔ اگر شروعات میں یہ حالت ہے تو آگے چل کر جانے وہ کیا غضب ڈھائے۔“
”پاشا ،تمھارا سنکی اور خبطی پن جانے کب ختم ہو گا۔ایک بار جو خیال تمھارے دماغ میں بیٹھ جاتا ہے اسے نکالنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہو جاتا ہے ۔“
”ایسی کوئی بات نہیں دادا ،وہ ایسی ہی ہے ۔اور میں اسے بے نقاب کر کے رہوں گا۔“
”اگر کسی دن کبیردادا کو یہ معلوم ہو گیا کہ وہ خود اسے چھوڑ کر نہیں گئی تھی بلکہ پاشا نے اسے قتل کیا تھا ۔سوچو اس وقت کیا ہو گا ۔“
”کبیر دادا جانتے ہیں کہ وہ میرے لیے کیا حیثیت رکھتے ہیں ،باقی میں اس ڈائن کو ایک موقع دوں گا کہ کبیردادا کی جان چھوڑ دے ۔اگر اس نے میری بات نہ مانی تب میں انتہائی قدم اٹھاﺅں گا ۔“
”اچھا اسے قتل کرنے سے پہلے ایک بار پھر مجھ سے مشورہ کر لینا ۔“کاشف راجپوت نے گویابات ختم کرنے کا اعلان کیا ۔
”آپ وعدہ کریں کبیردادا کو یہ بات نہیں بتائیں گے ۔“
”پاشا ،تم صرف کبیرداداکے نہیں میرے لیے بھی چھوٹے بھائیوں جیسے ہو ۔میں کبھی نہیں چاہوں کا کہ کبیردادا تم سے متنفر ہو ۔باقی تم ایک بار کوشش کر کے دیکھ لو ،ہو سکتا ہے اس وقت تک میں کوئی مناسب حل سوچ لوں۔یقینا اس لڑکی کا قتل اس مسئلے کا حل نہیں ہے ۔جب کبیردادا کے دل میں اس کی محبت کا خیال بیٹھا ہوا ہے تو اس کی موت کبیردادا کو کوئی نقصان بھی پہنچا سکتی ہے ۔اور ایسے معاملوں انسان ساری زندگی نہیں سنبھل پاتا ۔شاید وہ خود کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا بیٹھے ۔اس لیے سوچ سمجھ کر قدم اٹھانا ہوگا۔“
”آپ مجھے ڈرا رہے ہیں ۔“پاشا حقیقتاََ پریشان نظر آنے لگا تھا۔
”ڈرا نہیں سمجھا رہا ہوں ۔“
”ٹھیک ہے دادا ،میں آپ کو بتا کر ہی یہ انتہائی قدم اٹھاﺅں گا ۔“پاشا نے کھڑے ہو کر الوداعی مصافحے کے لیے ہاتھ بڑھادیا ۔
٭٭٭
رات کو دیر تک جاگنے کی وجہ سے وہ صبح تاخیر سے جاگا تھا ۔تناوش بھی نماز پڑھ کر دوبارہ سو گئی تھی ۔دن کے بارہ بجے کبیردادا کی آنکھ کھلی تو اسے اپنے پہلو میں بے خبر سوتی دکھائی دی ۔نیند کی حالت میں اس کی معصومیت اور زیادہ اجاگر ہو گئی تھی ۔
”اٹھنا نہیں ہے ۔“کبیردادا نے اس کے گالوں کو تھپتھپایااور وہ جاگ گئی ۔
”نہیں ۔“وہ کروٹ بدل کر اس کے قریب ہوئی ۔
”بارہ بج رہے ہیں محترمہ۔“
”تو کیا ،ساری رات بھی تو آپ نے نہیں سونے دیا نا ۔“
”ویسے غلط بیانی اور الزام لگانے کاکوئی ڈپلوما کیا ہوا ہے یا قدرتی ہی ایسی ہو ۔“
”رات کو دو بجے جا کر مجھے بے آرام کرنے والا کون ہے ....آپ۔ کھانا کھلانے کے لیے ہوٹل پر لے جانے والا کون ہے ....آپ ۔ساحل سمندر پر مجھے گود میں اٹھا کر وقت ضائع کرنے والا کون ہے ....آپ۔گھر واپسی پر ........“وہ جلد بازی میں مزید کوئی راز افشا کرنے والی تھی ،کہ ایک دم چپ ہو گئی ۔
”کہو ناں خاموش کیوں ہو گئی ہو ۔“کبیردادا نے اسے چھیڑا ۔
وہ حیا آلود لہجے میں بولی ۔”رہنے دیں ۔“
”رہنے کیوں دیں بات تو مکمل کرو ۔“کبیردادا کو اسے چھیڑنے میں مزا آرہا تھا ۔
”تنگ نہ کریں نا ۔“اس نے ایسے انداز میں کہا کہ کبیردادا کو مانتے ہی بنی۔
”اچھا ،اب گپوں کا وقت نہیں ہے ،مجھے سچ میں دیر ہو گئی ہے ۔جلدی سے اٹھ کر کچھ کھانے کو لاﺅ ۔“اس کا سنجیدہ لہجہ سن کر وہ سرہلاتی ہوئے اٹھی ،مگر بستر چھوڑنے سے پہلے وہ اس کے چہرے پر جھک کر شرارت کرنا نہیں بھولی تھی ۔
ناشتا وغیرہ کر کے کبیردادا رخصت ہو گیا اور وہ کتابیں کھول کر بیٹھ گئی ۔ظہر کی آذان سن کر اس نے وضو کر کے نماز پڑھی اور پھر پڑھنے بیٹھ گئی ۔اسی وقت راحت خالہ دروازہ کھٹکھٹا کر اندر داخل ہوئی ۔
”بیٹی ،پاشا صاحب آپ کو ملنے آیا ہے ۔“
”پاشا صاحب؟“اس نے حیرانی سے دہرایا۔
”صاحب جی کا بہت چہیتا ہے بالکل ان کے چھوٹے بھائیوں کی طرح ہے ۔“ راحت خالہ نے مختصر الفاظ میں پاشا کا مکمل تعارف کرایا ۔
”اچھا ۔“کتابیں بند کر کے اس نے دوپٹا سر پر لپیٹا اور ڈرائینگ روم کی طرف بڑھ گئی ۔
”اسلام علیکم بھائی جان ۔“اس نے گردن میں ہلکا سا خم کرتے ہوئے صوفے پر بیٹھے خوش شکل جوان کو سلام کہا ۔
پاشا نے سر کے اشارے سے سلام کا جواب دیا مگر اس نے کھڑے ہونے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی ۔
دوسرے صوفے پر نشست سنبھال کر اس نے راحت خالہ کو چاے لانے کا کہا اور خوش گوار لہجے میں بولی ۔”بھیا،کیسے تشریف آوری ہوئی ۔“
”بس یونھی ۔“پاشا نے کندھے اچکائے ۔تناوش کو دیکھتے ہی وہ خود کونروس سا محسوس کرنے لگا تھا ۔نفاست سے دوپٹالپیٹے ہوئے وہ واقعی معصوم اور بھولی بھالی لگ رہی تھی ۔ رہی سہی کسر اس کے خلوص بھرے لہجے نے پوری کر دی تھی ۔
”اس دن تقریب میں آپ کو دیکھا تھا ،لیکن کبیر نے آپ کا تعارف ہی نہیں کرایا۔“ اس نے بے تکلفی سے کبیر دادا کا نام لیا۔ پاشا حیران رہ گیا تھا۔
”شاید انھوں نے ضروری نہ سمجھا ہو ۔“
”آج تو ان سے ضرور جھگڑا کروں گی، یہ بھلا کیا بات ہوئی کہ مجھے اپنے بھیا ہی سے متعارف نہ کرایا ۔“
”چلیں میں خود آگیا ہوں نا ۔“پاشا اس کے چہرے سے نگاہیں ہٹاکر ڈرائینگ روم میں لگی تصویروں کو گھورنے لگا ۔تناوش کے قریب آنے کے بعد اسے بات کرنا مشکل لگ رہا تھا ۔
”بہت اچھا کیا ۔روزانہ چکر لگا جایا کریں ،میرا کوئی بھائی نہیں ہے آپ کی آمد سے میری زندگی کا بہت بڑا خلا پر ہوجائے گا ۔“یہ کہتے ہوئے اسے اپنے مقتول بھائی شاہ نواز کی یاد آئی اور اس کی آواز گلو گیر ہو گئی ۔
”ضرور ۔“پاشا نے زبردستی کی مسکراہٹ ہونٹوں پر بکھیری ۔
”آپ نے شادی نہیں کی بھیا ۔“
”میں کبیردادا کو آزاد کرانے آیا ہوں اور یہ میری شادی کرانے پر تلی ہے ۔“پاشانے دل ہی دل میں کہا ،جبکہ ہونٹوں سے نکلا ۔”ابھی تک تو نہیں ہوئی ۔“
”ٹھیک ہے اپنے بھیا کے لیے میں خود دلھن ڈھونڈوں گی ۔“اس نے فوراََ مستقبل قریب کے منصوبے کا اعلان کیا ۔
اسی وقت راحت خالہ نے ان کے سامنے چاے کے برتن اور کھانے کے لوازمات لا کر رکھے ۔
”ٹھیک ہے خالہ ،بھیا کی چاے میں خود بنالوں گی ۔“راحت خالہ کو پیالی کو ہاتھ لگاتا دیکھ کر وہ جلدی سے اٹھ کر میز کے قریب آگئی ۔
راحت خالہ سر ہلاتی ہوئی واپس مڑ گئی ۔
”چینی کتنی بھیا ۔“پیالی میں گرم دودھ انڈیلتے ہوئے اس نے پوچھا ۔
”دو چمچ ۔“
چینی ملا کر اس نے پتی کا ساشے اندر ڈالا اور پیالی اس کی جانب کھسکا دی ۔
”شکریہ ۔“وہ کوشش کے باوجود بہن نہیں کہہ سکا تھا ۔
اپنے لیے چاے کی پیالی بنا کر وہ دوبارہ اپنی جگہ پر بیٹھ گئی ۔
”معذرت بھیا ،وقت تو کھانے کا تھا ،میں نے چاے منگوا لی ۔“
وہ دماغ میں تمہید کے الفاظ ڈھونڈ رہا تھا ۔اس کے مخاطب کرنے پر جلدی سے بولا۔”کوئی بات نہیں کھانا میں کھا کر آیا تھا ۔“
”اپنے بھیا کو بھی بتا دیں نا کہ جلدی کھانا کھا لیا کریں ،ناشتا کر کے گئے ہیں اور اب شام کو کھائیں گے ۔میری تو سنتے ہی نہیں ہیں ۔“وہ مسلسل باتیں کرتے ہوئے پاشا کو کچھ سوچنے کا موقع ہی نہیں دے رہی تھی ۔
وہ ہنسا ۔”میں نے کوئی ایسامشورہ دے کر بے عزت ہونا ہے کیا۔“
”آپ کو بھی ڈانٹے ہیں ۔“تناوش نے حیرانی سے آنکھیں پھیلائیں ۔
”نہیں ۔“پاشا نے نفی میں سر ہلایا۔”ٹھیک ٹھاک پٹائی کرتے ہیں ۔“
اس کی بات پر تناوش کی مترنم ہنسی سے ڈرائینگ روم گونج اٹھا تھا ۔”اس کا مطلب میں یونھی شاکی ہوں ۔ان کی تو فطرت ہی ایسی ہے ۔“
”اچھا میں ایک خاص مقصد سے حاضر ہوا تھا.... بہن ۔“بڑی مشکل سے بہن کا لفظ منھ سے نکالتے ہوئے اس نے مطلب کی بات کی طرف قدم بڑھائے ورنہ ہر گزرتے لمحے وہ اسے اچھی سے اچھی لگتی جارہی تھی ۔اسے سچ مچ لگنے لگا تھا کہ وہ کوئی ساحرہ ہے اور اگر اس نے جلدی مطلب کی بات نہ چھیڑی تو اسے مقصد سے ہٹا دے گی ۔اس کے ساتھ چند لمحے گزراکر وہ اس نتیجے پر پہنچا تھا کہ وہ کبیردادا کی زندگی کے لیے نہایت خطرناک تھی ۔
”حکم کریں بھیا ۔“وہ چاے کی خالی پیالی تپائی پر رکھتے ہوئے اس کی طرف متوجہ ہو گئی ۔
”پیشگی معذرت کرنا چاہوں گا کہ آپ کو یقینا میری باتوں سے تکلیف پہنچے گی ۔“
وہ پر خلوص لہجے میں بولی ۔”بڑے بھائی ،معذرت کا لفظ منھ سے نکال کر شرمندہ ہی کر سکتے ہیں ۔اسی طرح بڑے بھائی کا چھوٹی بہن کو آپ جنا ب کہنا بھی کچھ جچتا نہیں ہے ۔“
”شکریہ بہن،مگر کچھ حقائق ایسے ہوتے ہیں جن سے نظریں نہیں چرائی جا سکتیں ۔ کبیردادا نے میرے ذمہ یہ کام لگا کر مجھے مشکل میں ڈال دیا ہے ۔“
”آپ بے فکر ہو کر بات کریں بھیا ،ایسی کوئی بات نہیں ۔“تناوش کے ہونٹوں پر پھیکی مسکراہٹ ظاہر ہوئی ۔کسی انجانے اندیشے سے اس کا دل لرزنا شروع ہو گیا تھا ۔
”تمھاری یہاں آمد اورکبیردادا سے شادی کن حالات میں ہوئی، دادامجھے تفصیل سے بتلا چکے ہیں ۔ان کا مقصد تمھیں دلاور شیخ جیسے سڑک چھاپ سے نجات دلانا تھا ، اسی چکر میں کچھ بڑے لوگ دادا کے اس اقدام کے مخالف ہو گئے اورداداان کے شر سے نجات دلانے کے لیے تمھیں دوسرے دن گھر نہ بھیج سکے ۔سچ کہوں تو کبیرداداکا خمیر ہی ایسی مٹی سے اٹھا ہے جو پیار محبت کی آلودگی سے پاک ہے۔ ان کے نزدیک عورت کا صرف ایک ہی مصرف ہے اور اس مقصد کے لیے انھیں نئی ،کم عمر اور خوب صورت لڑکیوں کی کوئی کمی نہیں ہے۔یقین مانیں وہ تمھاری عادتوں اور حرکتوں سے سخت بیزاری اور کوفت محسوس کرتے ہیں ،مگر تمھارا دل ٹوٹنے کے خیال سے کچھ کہہ نہیں پاتے ۔آج ہی بتا رہے تھے کہ بعض اوقات ماحول کو دیکھ کر وہ مزاحیہ انداز میں تمھاری محبت کا اقرار کر چکے ہیں ،مگر وہ بس دل لگی کے طور پر تھا ۔تم ان کے جوتے اتارتی ہو ، انھیں اپنے ہاتھوں سے کھلاتی پلاتی ہو ،صبح ،شام رخصت کرتے وقت دعا پڑھ کر ان پر پھونکتی ہواور ایسی ہی چند اور حرکتوں سے وہ سخت نالاں ہیں ۔اور اسی وجہ سے دوسرا دن ہے وہ مجھ پر زور دے رہے ہیں کہ تمھیں رخصت کردوں ۔یہ بات انھوں نے خود اس لیے نہیں کی کہ تمھارا دل نہ ٹوٹ جائے ۔“یہ کہتے ہوئے پاشا نے مزاحیہ انداز اپنایا۔”حالانکہ میرے کہنے سے بھی توتمھارا دل ٹوٹے گا نا ۔خیر یہاں سے جانے کے لیے تمھیں جتنی دولت درکار ہو مجھ سے بے جھجک مانگ سکتی ہو۔باقی جہاں تک تمھاری حفاظت کا تعلق ہے تو انھوں نے مجھے چھوٹ دی ہے کہ تمھیں پاکستان کے کسی بھی شہر میں منتقل کر سکتا ہوں ۔وہاں پر اچھی رہائش گاہ اور کار وغیرہ خرید کر دینا بھی میری ذمہ داری ہے ۔ اس کے علاوہ بھی کوئی مطالبہ ہے توتم بے تکلفی سے اظہار کرسکتی ہو ،مگر اب مزید یہاں نہیں رہ سکتیں۔“
پاشا کے الفاظ نہیں پگھلا ہوا سیسہ تھے جو اس کے کانوں میں قطرہ قطرہ کر کے ٹپکایا جا رہا تھا ۔”اس کی بات ختم ہوتے ہی وہ بہ مشکل بولی ۔”آپ کو بھائی کہنے کے بعد کسی گستاخی کے اظہار پر مجھے شرمندگی ہو گی ۔“
”شکریہ ،مگر میں اظہارِ حقیقت سے تو پیچھے نہیں ہٹ سکتا نا ںاور سچ یہی ہے کہ کبیردادا تمھیں مزید برداشت نہیں کر سکتے ۔“
”اگر ایسا ہوتا تو وہ خود کہہ دیتے ،وہ تو تھوڑی دیر پہلے بہت پیار سے رخصت ہو کر گئے ہیں ۔“
”وجہ میں بتا چکا ہوں ۔بلکہ گزشتا رات وہ تمھیں گھر سے اٹھانے گئے تھے تو اس کی وجہ محبت نہیں تمھاری حفاظت کا خیال تھا ۔انھیں اڑتی اڑتی ہوئی اطلاع ملی تھی کہ کوئی تمھیں اغواءکرنے کی کوشش میں ہے پس وہ تمھیں گھر سے اٹھا لائے ۔اورتمھیں ڈر نہ لگے اس وجہ سے تمھاری تالیف قلب میں لگ گئے ۔بہ قول ان کے تم نے ویسے بھی ایک دو دن میں چلے جانا ہے۔“ پاشا کو کبیردادا کا رات کو تناوش کو لینے کے لیے جانا اور صبح کی آذان کے وقت لوٹنے کی بابت چوکیدار وغیرہ سے معلوم ہو گیا تھا ۔اسی معلومات کو اس نے اپنے حق میں استعمال کرنے میں دیر نہیں لگائی تھی۔
”اگر محبت نہیں ہے تو میری حفاظت کا اتنا خیال کیوں ۔“تناوش منمنائی ۔
” تمھیں کسی گینگسٹر کی انا کا بالکل بھی انداز نہیں ہے ۔اور گینگسٹر بھی ایسا،کہ زیر زمین حلقو ںمیں ان کے مخالف بھی دادا کے لاحقے کے ساتھ جن کا ذکر کرتے ہیں ۔ کیا خیال ہے ایک دفعہ جب انھوں نے تمھاری حفاظت کی ذمہ داری قبول کر لی ہے تو کسی زمینی طاقت کوتمھیں نقصان پہنچانے کی اجازت دیں گے؟ ۔تمھاری حفاظت کوئی محبت وغیرہ نہیںاس کی انااور نام کا معاملہ ہے ۔“
تناوش سسکی ۔”وہ ایسے نہیں ہیں ۔“
اچانک پاشا کے دماغ میں ایک ترکیب ابھری ۔وہ فوراََ بولا ۔”ثبوت دے سکتا ہوں۔“
”کیسا ثبوت ؟“اس نے بھرائی ہوئی آواز میں پوچھا ۔کبیردادا کا یوں کسی تیسرے کو درمیان میں لانے کے عمل نے اس کے دل کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا تھا ۔اگر وہ خود یہ الفاظ کہتا تو اسے اتنا دکھ نہ ہوتا ۔اور نہ وہ اس کے کہنے پر جانے پر تیار ہوتی مگر بھائی کہنے کے باوجود اس سے پاشا کی باتیں برداشت نہیں ہو پارہی تھیں ۔
”اچھا خاموشی سے سننا ،گو یہ کام میں دادا کی مرضی کے خلاف کر رہا ہوں مگر تمھیں یقین دلانے کے لیے شاید یہ ضروری ہے ۔“یہ کہتے ہوئے اس نے موبائل فون نکالا اور کبیردادا کا نمبر ملانے لگا ۔نمبر ملتے ہی پاشا نے سپیکر آن کر دیا تھا ۔
”جی پاشا صاحب!“کبیردادا کی پر رعب آواز ابھری ۔
”دادا،پوچھنا یہ تھا کہ مس تناوش جسے آپ اپنے لیے مصیت سمجھتے ہیں کو کتنی رقم دے سکتا ہوں ،میرا مطلب اگر بات پانچ دس کروڑ تک پہنچ جائے تو ؟“
”پیسوں کی میرے پاس کوئی کمی نہیں ،بس اس سے جان چھڑا دو یار۔“کبیردادا نے بہ ظاہر مزاحیہ انداز میں کہا تھا مگر تناوش کی سماعتوں میں ایک زوردار چھناکا ہوا، گویاتانبے کا برتن بلندی سے پختہ فرش پر گرا ہو ۔اسے یہ اندازہ نہیں تھا کہ کبیردادا کا یہ کہنا تناوش کی ذات پر اس کے اعتماد کا اظہار تھا کہ وہ کوئی بھی قیمت لے کر اسے نہیں چھوڑے گی ۔دوسرا وہ پاشا کو بھی یہ باور کرانا چاہتا تھا کہ وہ تناوش سے جان چھڑانا چاہتا ہے ۔حالاں کہ گزشتا شب اس کے دل سے تناوش کو علاحدہ کرنے کا خیال نکل چکا تھا ۔جبکہ پاشا نے تناوش کو مختلف انداز میں بات کر کے کبیردادا سے ایک ہی فقرہ اگلوا کر اپنی ساری بات کی تصدیق کروا دی تھی ۔
”شکریہ دادا ،بس یہی پوچھنا تھا امید ہے جلد ہی کوئی خوش خبری سناﺅں گا ۔“اس نے کبیردادا سے زیادہ بات چیت کی کوشش نہیں کی تھی کہ لمبی بات سے بھانڈا پھوٹ بھی سکتا تھا ۔
رابطہ منقطع کرتے ہی اس نے تناوش کی طرف دیکھا جس کا چہرہ دھواں دھواں ہو رہا تھا ۔آنکھوں میں نمی اور ہونٹ زخمی پرندے کی طرح پھڑپھڑا رہے تھے ۔ایک دم پاشا کے دل میں دکھ کی لہر اٹھی ۔اس کا دل چاہا کہ اس لڑکی کو حقیقت بتا دے ۔جس کی حالت مرنے والی ہو گئی تھی ، مگر پھر کبیردادا کو نجات دلانے کی خواہش اس کی رحم دلی پر غالب آگئی ۔
جاری ہے...

No comments:

غازی از ابو شجاع ابو وقار قسط نمبر60 Ghazi by Abu Shuja Abu Waqar

Ghazi  by  Abu Shuja Abu Waqar  غازی از ابو شجاع ابو وقار  پیشکش محمد ابراہیم 60 آخری قسط نمبر  Ghazi by Abu Shuja Abu...

Powered by Blogger.