ﻧﺎﻭﻝ رکھیل از ریاض_عاقب_کوہلر قسط نمبر 23
”اسے کہتے ہیں ایک تیر سے کئی شکار کرنا ،سانپ کو مار کر لاٹھی نہ ٹوٹنے دینا ، آم کھا کر گھٹلیوں کے دام کھرے کرنااور لاٹھی والے کو بندوق دکھا کر بھینس چھین لینا ۔“اخلاق حسین نے مختلف کہاوتوں کو اپنی چال بازی کے ساتھ جوڑتے ہوئے قہقہہ لگایا۔
”کوئی شک نہیں شاہ جی کہ آپ تمام گینگز کے سربراہ بننے کے لائق ہیں ۔“نوشاد آفریدی نے اسے سراہا۔
”میں اکیلا نہیں خان صاحب ،تم میرا دایاں ہاتھ ہو ۔سچ کہوں تو تمھارے بن میں ادھورا ہی ہوں ۔“
”میری سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ تم کبیر دادا پر ایس پی کے قتل کا الزام کیسے دھرو گے ۔ یقین مانوایسی کہانی جوڑی ہے کہ کبیر دادا خود بھی اپنی ذات پر شک کرنا شروع کر دے گا ۔“
”اب بس شمیشر دادا کی آمدکا انتظار ہے ،دیکھنا کیسے اس کے دماغ میں کبیر دادا کی رکھیل کے بارے غلط فہمی بھرتا ہوں ۔اور کبیر دادا بھی اسی صورت میں اس کے مقابل ہو گا کہ شمشیر دادا اس کی رکھیل پر ہاتھ ڈالے ورنہ تو وہ ہر سزا قبول کر لے گا ۔“
نوشاد نے پوچھا ۔”شمشیر دادا کس وقت تک پہنچ جائے گا ؟“
”سمندری راستے سے آرہا ہے ،مزید گھنٹا ڈیڑھ لگے گا ۔“
”استقبال کے لیے چلنا ہے کہ نہیں ۔“
اخلاق حسین نے نفی میں سر ہلایا۔”نہیں ،شہاب قصوری کو سب کچھ سنبھالنے دو ۔ہم بعد میں ملاقات کر لیں گے ۔“
نوشاد ندیدے پن سے بولا۔”آج کی رات تو سپنوں کی تکمیل کی رات ہے ۔امید ہے کل تک وہ رکھیل اپنے بستر تک پہنچ جائے گی ۔“
”ویسے مجھے لگتا ہے پہلے نمبر کے حصول کی کوشش میں اپنے درمیان بھی جھگڑا ہونے والا ہے ۔“اخلاق حسین نے مکروہ لہجے میںہنسا ۔
”قرعہ اندازی شاہ جی ،پر چی ڈالیں گے ۔“نوشاد نے فوراََ جھگڑے کا حل پیش کیا ۔
”اس بارے تو تمھارا دماغ خوب کام کرتا ہے ۔“
”صحیح کہا ،اس اپسرا کے خواب جانے کب سے دیکھ رہا ہوں ۔“
”ویسے کبیر دادا کی موت پر بے چاری دکھی تو ہو گی ،پھر شمشیر دادا بھی تو اسے ادھ موا کر کے ہی چھوڑے گا ۔“اخلاق حسین نے دماغ میں بھری غلاظت اگلی ۔
نوشاد فخریہ لہجے میں بولا ۔”ایک بار خان کی محبت چکھ لی ،پھر کسی کبیر دادا کی یاد اس کے دل میں باقی نہیں رہے گی ۔اور جہاں تک شمشیر دادا کا تعلق ہے تو اتنی دور سے آرہا ہے ایسا انعام اس کا حق بنتا ہے ۔“
اخلاق حسین ہنسا ۔”کبیر دادا بھی تو خان ہی ہے ۔“
”کل تک ”ہے نہیں“۔” تھا “ہو جائے گا ۔“نوشاد نے دانت پیسے ۔
اخلاق حسین نے زوردار قہقہے کے ساتھ اس کی تائید کی تھی ۔
”ایک خوف میرے دماغ میں ا ب تک بقایا ہے ۔کہیںوہ بے غیرت ،شمشیر دادا کے سامنے گھٹنے نہ ٹیک دے اور اپنی رکھیل ایک رات کے لیے اس کے حوالے نہ کردے ۔“نوشاد نے اندیشہ ظاہر کیا ۔
اخلاق حسین اسے تسلی دیتا ہوا بولا ۔”یقینا تم کبیر دادا کی فطرت سے ناواقفیت کی بنا پر ایسا کہہ رہے ہو ۔ہزار مخالفت کے باوجود میں اس بات پر یقین رکھتا ہوں کہ کبیر دادا ایک غیرت مند شخص ہے ۔اور سب سے بڑھ کر وہ اس لڑکی کی محبت میں سرتاپا ڈوبا ہوا ہے۔اس لیے یہ خیال تو دل سے نکال دو کہ وہ شمشیر دادا کے ڈر کی وجہ سے اپنی چھمک چھلو اس کے حوالے کرنے پر تیار ہو گا ۔“
”کبیردادا کی موت ،اس کی چھمک چھلو کا اپنے قبضے میں آنا اور اگلے چند ماہ کے اندر تمام گینگز کی سرابراہی پر پیشگی مبارک باد۔“نوشاد آفریدی نے شراب کا جام ہوا میں بلند کر کے اخلاق حسین کی طرف بڑھا یا ۔سامنے سے اخلاق حسین نے بھی اپنا جام اس کے جام سے ٹکرا کر۔”خیر مبارک کہا ۔“اور دونوں نے گلاس کو ہونٹوں سے لگا لیا ۔
گلاس سے ایک لمبا گھونٹ لیتے ہوئے اخلاق حسین نے کہا ۔”ایک خاص بات کا خیال ضرورکرنا ۔“
”کیا ؟“نوشاد آفریدی نے سوالیہ نظریں اس کی جانب گھمائیں ۔اور اخلاق حسین اسے نئی ہدایات دینے لگا ۔نوشاد اس سے اتفاق کرنے کے انداز میں سر ہلاتا رہا ۔
٭٭٭
ساری رات وہ گپیں ہانکتے رہے ،تناوش کی بھولی بھالی معصوم باتیں ،شوخی بھری شرارتیں نازو ادا اور نخرے کبیر دادااس کی باتوں سے سیر ہی نہیں ہورہا تھا۔جانے کہاں کہاں کے قصے ،کیسے واقعات اسے یاد آرہے تھے ۔ صبح کی آذان سن کر وہ وضو کرنے غسل خانے کی طرف بڑھی ۔مگر جاتے ہوئے ۔”میری واپسی تک سونا نہیں ۔“کہہ کر گئی تھی ۔
نماز پڑھ کر وہ پھر اس کے قریب آگئی ۔
”ایک بات کہوں ،خفا تو نہیں ہوں گے ۔“ٹھنڈا ہاتھ اس کے گالوں پر پھیرتے ہوئے وہ پوچھنے لگی ۔
کبیر دادا نے منھ بناتے ہوئے کہا ۔”ہو بھی گیا تو تم نے کون سا خفا رہنے دینا ہے مس مصیبت کہیں کی ۔“
مترنم قہقہے سے کبیر دادا کی سماعتوں میں رس گھولتے ہوئے وہ مزید قریب ہوئی اور جھجکتے ہوئے کہنے لگی ۔
”اگر میں کہوں آپ نماز پڑھا کریں ۔“
”داڑھی رکھا کر کسی مسجد کی امامت سنبھالنے کے بارے تم کب کہنے والی ہو ۔“ مسکراہٹ کبیر دادا کے ہونٹوں کا ساتھ چھوڑ چکی تھی ۔
”خفا ہو گئے نا ۔“وہ اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگی ۔
”میرے اعمال کے بارے جانتی ہو نا ۔میں ایک گینگسٹر ہوں ،شرابی قاتل اور پتا نہیں کیا کیا ۔“
”نماز پھربھی معاف تو نہیں ہو جاتی کیوں کہ مسلمان بھی تو ہو۔“وہ بحث پر اتر آئی تھی۔
”تو جب آدمی جرم نہیں چھوڑ سکتا تو نماز کا فائدہ ۔“
”نماز پڑھنا ایک مستقل حکم ہے اورجرم ایک علاحدہ مسئلہ ۔کیا کسی عالم سے یہ سنا ہے کہ مجرم کی نماز قبول نہیں کی جاتی ۔زیادہ سے زیادہ نماز پر پہنچنے والا ثواب نہیں ملے گا فرض تو ذمہ سے ساقط ہو جائے گا نا ۔“
”کیا مجھے سونے کی اجازت دو گی یا میں دوسرے کمرے میں چلا جاﺅں ۔“اس نے ناگواری کے اظہار میں بخل سے کام نہیں لیا تھا ۔
”اچھا اس بارے سوچنا ضرور ۔باقی آپ کو سلانے کے لیے کنیز موجود ہے نا ۔“ مطمئن انداز میں کہتے ہوئے وہ دھیمی انداز میں گنگناتے ہوئے اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگی ۔وہ پتھر پر پہلی چوٹ لگا چکی تھی اب یہ پتھر کی سختی پر منحصر تھا کہ وہ کتنی چوٹیں سہ پاتا ہے ۔
٭٭٭
وہ کافی دیر سے جاگے تھے دوپہر کے کھانے کا وقت تھا مگر اس کے باوجود اس نے ناشتے کے لوازمات ہی منگوائے تھے ۔ان کے ناشتا کرنے دوران ہی پاشا دستک دے کر اندر آیا۔
”آئیں بھیا ناشتا کریں ۔“اسے دیکھتے ہی تناوش نے دعوت دی ۔
”ناشتاکیامیں کھانا بھی کھا چکا ہوں ،صرف چاے لوں گا۔“نشست سنبھالتے ہوئے اس نے تھرماس سے اپنے لیے چاے انڈیلی اور کبیردادا کی طرف متوجہ ہوا ۔”کافی دیر سے آپ کے جاگنے کا انتظار کر رہا تھا ۔“
”مجھے رات ہی کو پتا چل گیا تھا ۔“پاشا کے انداز ہی سے اس کی سمجھ میں آگیا تھا کہ وہ ایس پی کی موت کا بتانے لگا ہے ۔
”رات کو آپ کافی دیر سے لوٹے تھے ۔“
”ہاں ،دن کو کچھ کام رہ گئے تھے لگے ہاتھوں وہ بھی نمٹا دیے ۔باقی اسے میں نے قتل نہیں کیا ۔“
”جانتا ہوں ،میں عظیم وغیرہ سے تفصیلی گفتگو کر چکا ہوں ،مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کرنے والا کون ہے ؟“
”میری بلا سے کوئی بھی ہو ۔“کبیردادا نے بے پروائی سے کہا ۔
”شمشیر دادا تھوڑی دیر تک کراچی پہنچنے والا ہے ۔“پاشا کا انداز انکشاف کرنے والا تھا ۔
ایک دم تناوش کی آنکھوں میں دیو نما حبشی کی شبیہ نمودار ہوئی جسے وڈیو میں کبیردادا ، شمیشر دادا کے نام سے پکار رہا تھا ۔
”جانتا ہوں ،مگر بلانے والوں کے پاس کوئی واضح ثبوت موجود نہیں ہے ۔“
”دیکھ لیں ،آپ شمشیر دادا کی اکھڑ طبیعت سے تو واقف ہیں نا ،اگر انھوں نے پہلے ہی سے اس کے کان بھر دیے تو ....“
”تو کیا ہو گا ،دو تھپڑ ہی لگائے گا اور خون بہا ادا کرنے کا کہے گا اس کے علاوہ کیا ہو سکتا ہے ۔“کبیر دادا اس مسئلے کو کوئی اہمیت دینے پر تیار نہیں تھا ۔
پاشا معنی خیز لہجے میں بولا ۔”آپ اصل بات بھول گئے ہیں یا نظر انداز کرنے پر تلے ہیں ۔“
”کیا کہنا چاہتے ہو ۔“کبیردادا کی آنکھوں میں الجھن تھی ۔
”پیاری بہنا ،ایک پیالی کافی کی مل جائے گی ۔“پاشا ،تناوش کی طرف متوجہ ہوا جو بڑے غور سے ان کی باتیں سن رہی تھی ۔
”ابھی لائی بھیا ۔“وہ خوش دلی سے مسکراتے ہوئے اٹھ گئی ۔لیکن اس کے دماغ میں بے چینی ضرور دوڑ گئی تھی ۔اتنی بچی نہیں تھی کہ پاشا کے مقصد کو نہ پہنچتی۔
تناوش کے کمرے سے نکلتے ہی وہ کبیر دادا کو مخاطب ہوا ۔”اگر شمشیر دادا ،تمام کے سامنے آپ کی توہین کرتا ہے ،تھپڑ مارتا ہے پٹائی وغیرہ کرتا ہے ۔کیا آپ منھ کھولیں گے ؟“
کبیردادا کے ہونٹوں پر پھیکی مسکراہٹ نمودار ہوئی ۔”ممکن ہی نہیں ہے ۔وہ میرا استاد ہے ۔“
”ٹھیک ہے آپ کو پھینٹی لگا کر وہ چند کروڑ تاوان ادا کرنے کا حکم دیتا ہے ۔اس پر آپ کو کوئی اعتراض ہوگا؟“
”بالکل ہی نہیں ۔“کبیر دادا کا جوا ب ایک بار پھر نفی میں تھا ۔
”تو جن لوگوں نے اتنی بڑی سازش تیار کی ،دوسربراہوں کو قتل کرایا ۔کیا ان کا یہی منصوبہ ہوگا کہ شمشیر دادا آئے اور کبیر دادا کی پٹائی کر کے چلا جائے ۔جب کہ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ کبیر دادا کو شمشیر دادا کے تھپڑ کھانے میں کوئی بے عزتی یا توہین کا احساس نہیں ہوتا ۔“
کبیر دادا نے الجھن آمیز لہجے میں پوچھا ۔”میں تمھاری بات سمجھ نہیں پا رہا ۔“
”کیوںکہ آپ کے دماغ میں گڑیا بسی ہے ۔میرے اندیشے بالکل ٹھیک تھے ۔گڑیا کی محبت نے آپ کے دماغ کو کچھ سوچنے کے قابل ہی نہیں چھوڑا ۔“
کبیردادا بیزاری بھرے لہجے میں بولا۔”بکواس نہ کرو یار ۔“
”فصیح الدین کی موت کے ساتھ ہی میں نے اس سارے معاملے پر تحقیقات شروع کر دی تھیں ۔وہ واقعی بے قصور تھا ۔اس نے گڑیا کو اغواءنہیں کرایا تھا ۔اور جس نے بھی اغواءکرایا اس کا مقصد آپ کے ہاتھوں فاصی ہتھ چھٹ کو قتل کرانا تھا ۔گڑیا کو وہاں مخصوص نشہ دے کر پہنچایا گیا اور جس وقت فاصی وہاں پہنچا گڑیا اپنے حواسوں ہی میں نہیں تھی اس بے چارے نے سمجھا کہ ہمیشہ کی طرح کوئی لڑکی وہاں لائی گئی ہے ۔میں نے گڑیا سے پوری تفصیل پوچھی ہے ۔اور اس سے میں نے یہی نتیجہ اخذ کیا ہے کہ فصیح الدین کو پھانسا گیا ہے ۔اس کا انداز گڑیا کے ساتھ ایسا ہی تھا جیسے وہ اپنی مرضی سے وہاں گئی ہو ۔پھر آپ اسے قتل کر کے وہاں سے باہر نکل آئے اور جس آدمی نے آپ کو اطلاع دی تھی اسے بھی قتل کر کے وہیں پھینک دیا گیا تاکہ آپ پر الزام لگایا جاسکے ۔اب یہ سوال کہ اس معاملے میں فاصی ہی کو کیوں چنا گیا تو اس کا جواب یہ ہے کہ وہ شمشیر دادا کا رشتا دار ہے اور اس کی وجہ سے شمیشر دادا کو زیادہ غصہ آنا تھا ۔اب ایس پی کے قتل کو لے لیں تو اس میں بھی گڑیا کا نام کسی نہ کسی کے حوالے سے آگیا ہے ۔ایس پی نے گڑیا کی توہین کی کوشش کی اور اپنی عزت خراب کرا بیٹھا ۔لیکن منصوبہ بنانے والوں نے اس پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ایس پی ہی کو کھڈے لائن لگا دیا ۔“
”مان لیا تم ٹھیک کہہ رہے ہواورمیں یہ بھی جانتا ہوں کہ اس میں نوشاد آفریدی اور اخلاق حسین پیش پیش ہیں ۔لیکن وہ چاہتے کیا ہیں ؟“
پاشا نے اطمینان بھرے لہجے میں کہا ۔”آپ کی موت ۔“
”گویا وہ شمشیر دادا کے ہاتھوں مجھے مروانا چاہتے ہیں ۔“
”ہاں ۔“پاشا نے اثبات میں سر ہلایا۔
کبیردادا نے اعتماد بھرے لہجے میں کہا ۔”کم از کم اتنا مجھے یقین ہے کہ شمشیر دادا مجھے قتل نہیں کر سکتا ۔“
پاشا نے معنی خیز لہجے میں پوچھا ۔”اگر آپ شمشیر دادا کے ساتھ لڑنے پر آمادہ ہوجائیں تو کیا ایسا ہونا ناممکن ہو گا ؟“
”میں شمشیر دادا کے مقابل آنے کا سوچ بھی نہیں سکتا ۔“
”درست کہا ،لیکن اگر اس نے گڑیا کے ساتھ کچھ ایسا ویسا کرنا چاہا تو آپ خاموش بیٹھے رہیں گے ۔عورتوں کے بارے شمشیر دادا کی شہرت کتنی خراب ہے یہ بھی آپ جانتے ہوں گے ۔ اسی طرح یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ تمام گینگز کے سربراہ ابھی تک گڑیا کو آپ کی بیوی کا درجہ نہیں دیتے ۔اور اس کی وجہ ہے آپ کا شہا ب قصوری کے سامنے یہ اعتراف کرنا کہ آپ نے یہ نکاح نظریہ ضرورت کے تحت پڑھایا ہے ۔یعنی نکاح کا مقصد بس گڑیا کو ....“آگے کافقرہ پاشا ادا نہیں کر سکاتھا ۔
لمحہ بھر سوچ میں ڈوے رہنے کے بعد کبیردادا نے پر خیال لہجے میں تجزیہ کیا ۔”شمشیر دادا ،مجھے سزا دینے کے لیے اس سارے مسئلے کی جڑ ،یعنی تناوش کا مطالبہ کرے گا ۔ میں انکار کر دوں گا اور اس کے بعد دو جمع دو چار کی طرح ساری کہانی واضح ہے ۔“
پاشا نے کہا ۔”آپ حقیقت تک پہنچ گئے ہیں ۔“
”حل بتاﺅ ۔“کبیر دادا کے چہرے پر چھائی گھمبھیرتا اس کی پریشانی کا اعلان کر رہی تھی ۔
”بالکل آسان ہے ۔شمشیر دادا کی واپسی تک گڑیا کو منظر عام سے ہٹا دو ۔“
”تمھارا دماغ کچھ زیادہ ہی کام نہیں کرنے لگا ۔“کبیردادا کے چہرے پر موجود پریشانی خوشگوار مسکراہٹ میں تبدیل ہوگئی تھی ۔
”نوازش ۔“پاشا آداب کہنے کے انداز میں ماتھے کی طرف ہاتھ لے جانے لگا ۔
”کہاں بھیجیں ؟“
پاشا نے جواب دیا ۔”کہیں بھی ،دو تین محافظ ساتھ بھیج دیں ۔کسی ایسے مقام پر جہاں اسے ڈھونڈا نہ جا سکے ۔“
”میرا خیال ہے باقر اور رخسار کو ساتھ بھیج دیتا ہوں ۔باقر کا تعلق حیدر آباد سے ہے وہیں اس کے گھر دو تین دن رہ لے گی ۔“
”اگر گفتگو کا موضوع میں ہوں تو یقینا میرا جواب نہ میں ہوگا ۔“ٹرے میں کافی کی پیالیاں سجائے اندر آتی تناوش نے کبیردادا کے الفاظ سن لیے تھے اور جواب دینے میں ایک سیکنڈ کی بھی تاخیر نہیں کی تھی ۔
”جلدی جلدی اپنامختصر ساسامان بیگ میں ڈال کر تیار ہو جاﺅ ۔کوئی بحث تکرار نہیں سنوں گا ۔بس دو تین دن کی بات ہے پھر واپس آجانا۔“
تناوش کی آنکھوں میں نمی ابھری اور وہ منھ بسورتے ہوئے بولی ۔”میں نے رونا شروع کر دینا ہے ۔“
پاشا کافی کی پیالی اٹھا کر خواب گاہ سے باہر نکل گیا ،یقینا میاں بیوی تنہائی میں زیادہ کھل کر ایک دوسرے کو قائل کر سکتے تھے ۔
”قریب آﺅ ۔“کبیردادا نے اسے پاس بلایا۔
فوراََ اس کے ساتھ جڑکر بیٹھتے ہوئے تناوش نے سر اس کے کندھے پر رکھ دیا ۔”آپ کے بغیر میرا ایک پل بھی نہیں گزرتا،دو تین دن کیسے گزریں گے ۔“
”تمھارے بنا ہر لمحہ مجھ پر قیامت بن کر گزرتا ہے میری جان ،مگر کبھی کبھی مجبوری کی حالت میں ایسے فیصلے کرنا پڑ جاتے ہیں ۔بس اتنا جان لو کہ تمھارا جانا اتنا ہی ضروری ہے جتنا ہمارا رشتا باقی رہنا ۔اب نہ کوئی سوال ، نہ تکراراور نہ رونا دھونا ۔بس چپ چاپ مختصر ساسامان سمیٹو اگلے آدھے گھنٹے میں تم حیدر آباد جا رہی ہو ۔“
”کبیر ....“درد بھری سسکی تناوش کے منھ سے برآمد ہوئی ۔
”کبیر کی جان ،اگر تم نے ایک بھی آنسو بہایا تو خفا ہو جاﺅں گا ۔“
مگر آنسو اختیاری تو نہیں ہوتے کہ وہ روک لیتی ۔
کبیردادا نے اسے اپنے ساتھ بھینچتے ہوئے کہا ۔”اچھا پکا وعدہ رہا ،جب تم واپس آﺅ گی نا تو تمھارے ساتھ صبح کی نماز پڑھا کروں گا ۔“
تناوش کی رونی صورت پر حیرانی بھرا تبسم ابھرا ۔”پانچوں ۔“
کبیر دادا نے نفی میں سر ہلایا۔”جس جس نماز کے وقت تمھارے پاس ہوا بس وہ پڑھوں گا ۔“
”ٹھیک ہے ۔لیکن رات کو کال پر بھی بات کرو گے ۔“
وہ محبت بھرے لہجے میں بولا۔”ہاں ،ساری رات بات کروں گا ۔مجھے بھی تو نیند نہیں آئے گی اپنی دلھن کے بغیر ۔“
اور تناوش گفتگو کا سہارا لیے بغیر دل میں مچلتے جذبات کا اظہار کرنے لگی ۔اور جذبات کی شدت سے تو کبیردادا کا دل بھی بھرا تھا ۔محبت کرنے والوں کے لیے سب سے مشکل گھڑی دور جانے کی ہوتی ہے ۔چاہے وہ دوری عارضی ہو یا مستقل ۔
گھنٹا بھر بعد وہ ایک چھوٹے سے بیگ کے ساتھ کار کی عقبی نشست پر بیٹھ چکی تھی ۔ وہ کالج والی یونیفارم میں تھی ۔بیگ میں اس نے پرانے کپڑوں کے جوڑے ہی رکھے تھے ۔ کیوں کہ جس کو دکھانے کے لیے وہ سجنا چاہتی تھی جب وہ ہی پاس نہیں تھا تو سنورے کاکیا فائدہ ۔ کمرے سے نکلتے وقت جانے وہ کیا کیا پڑھ کر کبیردادا پر پھونکتی رہی تھی ۔ڈرائیونگ سیٹ پر باقر اور اس کے ساتھ رخسار بیٹھا تھا ۔دونوں مسلح تھے ۔وہ الہٰی بخش ڈرائیور والی سفید کار ساتھ لے جا رہے تھے ۔کوٹھی سے نکلنے تک کبیردادا ،تناوش کو دیکھتا رہا ۔اس کی بھی سوگوار نظریں کبیر دادا کے چہرے پر گڑی تھیں ۔
تناوش کو رخصت کر کے وہ ڈرائینگ روم میں آبیٹھا ۔پاشا اس کے ساتھ ہی تھا ۔اور پھر وہ وہیں بیٹھے گپ شپ کر رہے تھے جب شہاب قصوری کی گھنٹی آگئی ۔وہ کبیر دادا کو رات کی دعوت پر مع فیملی مدعو کر رہا تھا ۔اس کے کہنے کے مطاق وہ دعوت شمشیر دادا کی آمد پر دی جا رہی تھی۔
وہ خوش باشی سے بولا ۔”ضرور قصوری صاحب ،شام کو حاضر ہو جاﺅں گا ۔“
کبیر دادا کے بعد شہاب قصوری کی کال پاشا کو بھی وہیں بیٹھے ملی تھی ۔
پاشا کھانستا ہوا نحیف آواز میں بولا ۔”قصوری صاحب ،میں تو موسمی بخار کے قبضے میں ہوں شاید حاضر نہ ہو پاﺅں ۔اگر میری معذرت قبول کر لیں تو مہربانی ہو گی ۔“
”شمشیر دادا ،کسی خاص مقصد سے تشریف لا رہے تھے ،بہ ہر حال زیادہ ضرورت پڑی تو آپ کو بعد میں بلوا لیں گے ۔“
”شکریہ قصوری صاحب ،میں کوشش کروں گا کہ کل صبح شمشیر دادا سے ملاقات کا شرف حاصل کر لوں ۔“
اور قصوری نے رابطہ منقطع کر دیا ۔بات ختم ہوتے ہی کبیر دادا نے پوچھا ۔ ”بہانہ کیوں کر رہے ہو ۔“
”کیوں کہ مجھے آپ کی درگت بنتے دیکھنے کا کوئی شوق نہیں ہے ۔آپ نے چپ چاپ شمشیر دادا کے تھپڑ کھاتے رہنا ہے اور میں غصے میں اپنا آدھا خون خشک کر لوں گا ۔یہ بھی ممکن ہے کوئی اور بے وقوفی کر بیٹھوں ۔اور اس دیو کے سامنے آپ بھی آنکھ نہیں اٹھا سکتے میں تو شاید اس کے ایک تھپڑ ہی سے جان بر نہ ہو سکوں ۔“
کبیر دادا کھل کھلا کر ہنسا ۔”سمجھ دار ہو گئے ہو ۔“
٭٭٭
”سارے فساد کی جڑ وہی ہے دادا!....اسی کی وجہ سے کبیر دادانے یہ انتہائی قدم اٹھایا ۔ بلکہ اس کا نام لینے کی وجہ سے تو مجھے اور نوشاد آفریدی کو بھی کبیر دادا کے ہاتھوں بے عزت ہونا پڑا،اپنی رکھیل کو وہ اپنے سر پر چڑھاتا تو کوئی بات نہیں تھی ،اس نے تو ہمیں اس کا چاکر سمجھ لیا ہے۔“اخلاق حسین فصیح الدین اور ایس پی کے قتل پر روشنی ڈال کر ان حادثات کی وجہ پر روشنی ڈال رہا تھا ۔
”ہونہہ!....“نرم صوفے میں دھنسے سانڈ کی طرح پلے ہوئے شمشیر دادا نے ہنکارا بھرنے پر اکتفا کیا تھا ۔اس کے وجود سے تین سیٹر صوفہ بھی بھرا ہوانظر آرہا تھا ۔
”وہ لڑکی اس کے حواسوں پر چھائی ہوئی ہے ۔اور لگتا یہی ہے کہ جب تک وہ لڑکی موجود ہو گی کبیردادا کسی اور کام کے قابل نہیں رہے گا ۔“
”گویا اس مسئلے کا حل اس لڑکی کی موت ہے ۔“شمشیر دادا کی آواز بھی اس کے جثے کی طرح بھاری اور پر رعب تھی ۔
مارنا ضروری نہیں ہے دادا،بس کبیردادا سے اسے علاحدہ کردینا ہی کافی ہو گا ۔شکل و صورت کی اچھی ہے یقینا چند گھڑیاں آپ کو بھی لطف اندوز کرے گی ،اس کے بعد تمام گینگز کے بڑوں کا حق بنتا ہے کہ اس سے اپنی بے عزتی کا بدلہ لیں ۔کیوں کہ اسی کی وجہ سے ہمیں اتنی تکلیف ہوئی اور آپ کو بھی زحمت دینا پڑی۔
شمشیر دادا نخوت بھرے لہجے میں بولا ۔”کیا اس قابل ہے کہ شمشیر دادا اسے اپنی رفاقت کا شرف بخش سکے ۔“
اخلاق حسین نے موبائل فون کی سکرین پر تناوش کی تصویر سامنے لائی اور موبائل فون شمشیر دادا کی آنکھوں کے سامنے پکڑ لیا ۔تناوش کی یہ تصویر اس نے اپنے گھر تقریب کی رات بڑی ہوشیاری سے کھینچی تھی ۔تصویر میں وہ سرخ رنگ کا دوپٹا اوڑھے ترچھی آنکھوں سے کسی کو گھور رہی تھی ۔قیمتی موبائل کے طاقت ور کیمرے نے اس کے چہرے کی سرخی و سفیدی کو بھی اصل حالت میں قید کر لیا تھا ۔آنکھوں کی سیاہی اور ہونٹوں کی قدرتی گلابی رنگت نے شمشیر دادا کی آنکھوں میں ہوس کا آلاﺅ روشن کر دیا تھا ۔
”ہونہہ!....“اپنا بھینسے جیسا سر اوپر نیچے ہلاتے ہوئے وہ ہوس ناک لہجے میں بولا۔ ”اس کے ساتھ تو شاید ایک رات بھی کافی نہ ہو ۔“
اخلاق حسین کے چہرے پر خوشامدانہ مسکراہٹ نمودار ہوئی ۔”شاید ساری زندگی فخر کرتی رہے کہ دنیا کے طاقت ور انسان کی رفاقت میں اسے ایک دو راتیں گزارنے کا شرف حاصل ہوا ۔“
”کبیر کو تاکید کر دو کہ اسے ساتھ ہی لائے ۔“شمشیر دادا ،شہاب قصوری کی طرف متوجہ ہوا ۔
شہاب قصوری جلدی سے بولا ۔”بتا دیا ہے دادا ۔اور وہ آپ کو ملنے بھی آیا تھا ،میں نے کہہ دیا،دادا اسے رات کو تقریب ہی میں ملیں گے ۔“
شمشیر دادا بولا ۔”صحیح کہا ۔اورآج تواس کی اچھی خبر لوں گا ایک چھوکری کے لیے باﺅلا ہوتا پھر رہا ہے کنجر،اسی دن کے لیے اسے تربیت دی تھی کہ لڑکی کے پیچھے پڑ کر اپنے مقصد سے غافل ہو جائے،یہ لڑکیاں تو بس ایک دو رات ہی کے لیے برداشت کی جاسکتی ہیں ۔اور فصیح الدین کے قتل کے بدلے تو اسے کافی جرمانہ بھگتنا پڑے گا ۔“
خاموش بیٹھے نوشاد آفریدی نے لقمہ دیا ۔”دادا ،ہمیں اس لڑکی یا کبیر دادا سے کوئی غرض نہیں ،مگرکبیردادا اس کی وجہ سے ہمارے کام میں بھی رخنہ انداز ہو رہا ہے ۔آج ہم یک جا اور مضبوط ہیں ،اگر کبیر داداکو فوراََ لگام نہ ڈالی گئی تو سخت انتشار پھیل جائے گا ۔اور وہ سلطنت جس کی بنیاد آپ نے رکھی تھی منتشر اور ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گی ۔“
”فکر نہ کرو ،اس کے بعد رخنہ انداز نہیں ہو گا ۔اسے اور اس کی رکھیل کو ایسا سبق پڑھا کر جاﺅں گا کہ جو اتنی جلدی نہیں بھولا کرتا ۔“شمشیر دادا کی بات پر اخلاق حسین اور نوشاد آفریدی کے چہرے خوشی سے کھل اٹھے تھے ۔انھیں اپنی منزل بالکل قریب دکھائی دے رہی تھی ۔ شہاب قصوری البتہ کسی گہری سوچ میں ڈوبا دکھائی دے رہا تھا ۔
٭٭٭
”دادا نے ملنے سے انکار کر دیا ہے ۔“کبیر دادا ،پاشا کو مخاطب تھا ۔شہاب قصوری کی کوٹھی سے مڑ کر وہ سیدھا گھر ہی آیا تھا ۔
پاشا نے خیال ظاہر کیا ۔”وہ آپ پر سخت غصہ ہے اور ابھی ملنے میں یقینا اس کا غصہ ٹھنڈا ہونے کا اندیشہ تھا ۔ جب کہ وہ تمام کے سامنے آپ کو سرزنش کرنا چاہتا ہے ۔“
”چلو جتنا غصہ ہے اتارنے دو ،ٹھنڈا ہونے کے بعد میں انھیں اصل بات بتا دوں گا ۔ باقی مخالفین کی چال کا توڑ ہم یوں بھی کر چکے ہیں ۔“
”گڑیا کے بارے پوچھنے پر کیا جواب دو گے ؟“
”کر دوں گا کوئی بہانہ ۔“کبیر دادا کے لہجے میں اطمینان بھرا تھا ۔اگر تناوش محفوظ تھی تو اسے کوئی غم اور دکھ نہیں تھا ۔شمشیر دادا کے تھپڑ مکوں کا وہ یوں بھی عادی تھا ۔
”کاشف دادا سے بات ہوئی تھی ۔انھیں میں نے تفصیلاََ سارا قصہ بیان کیا ہے ۔ انھوں نے بھی گڑیا کو منظر سے ہٹانے کے فیصلے پر اطمینان کا اظہار کیا ہے ۔“
”ویسے تم ،تناوش میں کچھ زیادہ ہی دلچسپی نہیں لینے لگے ۔وہ پگلی بھی بھیا بھیا کرتی رہتی ہے ۔“
”سچ کہوں تو مجھے خود بھی معلوم نہیں ہے کہ ایسا کیوں ہے ۔زبردستی بہن بن گئی اور کوئی ایسا منتر پڑھ کر پھونکا کہ لگتا ہے ماں جائی ہے ۔راحت خالہ تو اسے دیکھ دیکھ کر جیتی ہے ۔اورامید یہی ہے دو تین ماہ کے اندر اس گھر میں آپ سے زیادہ اس کا حکم مانا جائے گا اور وہ بھی بغیر ناگواری اور کوفت ظاہر کیے ۔“
”وہ ایسی ہی ہے یار ۔“کبیر دادا کی آنکھوں میں تناوش کا معصوم چہرہ لہرانے لگا ۔ ”مجھ سے تو اب اس کے بغیر جینے کا تصور ہی نہیں کیا جاتا ۔تمھاری بے غیرتی کی وجہ سے جو دو راتیں مجھ پر قیامت بن کر گزریں وہ میں جانتا ہوں یا میرا خدا ۔اسے بے وفا ،خود غرض اور دھوکے باز سمجھنے کے باوجود وہ اتنی ہی پیاری ،اتنی ہی عزیز اور اتنی ہی اپنی لگ رہی تھی جتنا کہ پہلے تھی ۔وہ بھلی سی کہاوت ہے نا کہ کسی کے چلے جانے کے بعد اس کی اہمیت کا پتا چلتاہے یا مر جانے کے بعد ۔تو یہی میرے ساتھ بھی ہوا ۔“
پاشا ہنسا ۔”ویسے میری بہنا کہہ تو رہی تھی کہ میرے لیے خود کوئی لڑکی ڈھونڈے گی ۔ اب پتا نہیں کب اپنے کہے پر عمل کرتی ہے ۔“
کبیردادا نے معنی خیز لہجے میں پوچھا۔”رخسانہ بنتِ شہاب قصوری کا کیا ہوگا ۔بے چاری ہر تقریب میں تمھارے آگے پیچھے پھر رہی ہوتی ہے ۔“
”وہی جو فرحانہ بنت ِ شاہ جی کا ہوا ہے ۔اس نے تو اب تک ہمت نہیں ہاری ۔نوشاد آفریدی کے گھر تقریب میں بار بار آپ کے بارے پوچھ رہی تھی ۔آپ کی نسبت سے میں تو اسے کہتا بھی فرحانہ بھابی ہوں ۔“
کبیر دادا مظلومانہ لہجے میں بولا ۔”یقینا تم اپنی بہن کے ہاتھوں میرا قتل کرانا چاہتے ہو ۔“
اس کی بات پر پاشا کھل کھلا کر بولا ۔”ویسے دادا ،بڑی حیرانی ہوتی ہے جب وہ چھوٹی سی لڑکی کہتی ہے نا ،بات سنیں کبیر۔“
”جانتے ہو ،وہ پہلے دن سے کبیر کہہ رہی ہے ۔اور پہلے ہی دن سے اس کا رویہ ایسا ہے گویا ہم نے محبت کی شادی کی ہو ۔نہ تو میرے غصے کو کوئی اہمیت دیتی تھی اور نہ ڈانٹنے کو ۔البتہ چھوڑ دینے کی دھمکی پر اس کی قینچی کی طرح چلتی زبان ذرا تھم جاتی تھی۔“کبیر دادا کے ہونٹوں پر تناوش کی شوخیوں اور شرارتوں بھری یاد خوب صورت مسکان لے آئی تھی ۔”اور اس کی خدمت ۔ سچ کہوں تو اپنی ماں کے بعد یہ پہلی ہستی ہے جو میرے کام اتنی محبت اور خوش دلی سے کرتی ہے ۔ میرے کھانے، پینے ، پہننے ،سونے ،جاگنے ہر کام پر اس کی گہری نظر ہوتی ہے۔گو میرے پاس پہلے بھی ملازموں کی کمی نہیں تھی ۔مگر اس کی طرح خدمت درجن بھر ملازم بھی سر انجام نہیں دے سکتے ۔ ابھی جاکر میرے لباس دیکھو کس نفاست سے دھلے اور ترتیب سے لٹکے ہوئے ہیں ۔ جرابیں تک دھلی دھلائی خوشبو میں بسی ہوئی ملیں گی ۔اور جانتے ہو ٹائی باندھنا کبھی بھی مشکل یا دقت طلب نہیں ۔ایک ہی تو گرہ لگائی جاتی ہے ۔لیکن جب کوئی محبت سے تمھارے کالر سیدھے کر کے ٹائی کی گرہ لگائے ۔کالروں کو دہرا کرے اور ڈھیر ساری دعائیں پڑھ کر چھاتی اور چہرے پر پھونک مارے تو انسان خود کو دنیا کا خوش قسمت ترین انسان سمجھنے لگتا ہے ۔“
”دادا بس کریں یار ،مجھے معلوم ہوگیاہے کہ میری ساحرہ بہن نے آپ کو کسی قابل نہیں رکھا۔“
”وہ انمول ہے پاشا ۔نہ جانے وہ کون سی خوش قسمت گھڑی تھی جب اس گھر میں داخل ہوئی تھی ۔مجھے خواب گاہ سے بلا کر اعتماد بھرنے انداز میں معاہدہ کیا تھا ۔اور جو دعویٰ کر کے گئی تھی اس پر ایک سو ایک فیصد پورا اتری ۔“
پاشا نے گھڑی پر نگاہ دوڑاتے ہوئے کہا ۔”اچھا اب اٹھ جائیں تقریب میں جانے کی تیاری نہیں کرنا ۔“اور کبیر دادا سر ہلاتا ہوا کھڑا ہوگیا ۔
٭٭٭
تقریب کا اہتمام کوٹھی کی اندرونی عمارت کے داخلی دروازے سے ملحق بڑے ہال میں کیا گیا تھا ۔چونکہ یہ خصوصی تقریب تھی اس لیے اس میں مخصوص افراد ہی شامل ہوئے تھے ۔ تمام گینگز کے بڑے اور ان کے گھر والے ۔کبیر دادا کو اکیلا دیکھ کر شہاب قصوری نے حیرت سے پوچھا ۔
”بھابی نظر نہیں آ رہیں ۔“
”کوئی کام تھا ۔“مجمل جواب دے کر وہ آگے بڑھ گیا ۔شمشیر دادا کے علاوہ سارے پہنچ گئے تھے ۔فرحانہ اخلاق حسب عادت کبیر دادا کو دیکھتے ہی اس کے قریب پہنچ گئی ۔”آگئے ہیں آپ ۔“
”کیسی ہیں مس فرحانہ ۔“خوش دلی سے اس کے مصافحے والے ہاتھ کو تھامتے ہوئے اس نے کاشف کے ساتھ نشست سنبھال لی تھی ۔
فرحانہ نے کہا ۔”بالکل ٹھیک ہو ں کبیر صاحب ،آپ کی نئی نویلی دلھن نظر نہیں آرہی۔“
”کیوں کہ پرانی ہو گئی ہے نا ۔“کبیر دادا نے قہقہہ لگایا ۔کاشف راجپوت نے اس کا ساتھ دیا تھا ۔
فرحانہ معنی خیز لہجے میں کہنے لگی ۔”تو کوئی نئی ڈھونڈ لیں ۔“
کبیر دادا ترکی بہ ترکی بولا ۔”پہلے والی کے مقدموں سے تو فارغ ہو لوں ۔“
کاشف کم گو کبیر دادا کو یوں بولتے دیکھ کر حیران ہو گیا تھا۔ تناوش کا ساتھ اس میں بتدریج تبدیلیاں لا رہا تھا ۔
فرحانہ کھل کھلاتے ہوئے بولی ۔”جلدی ختم کریں یہ مقدمے بازیاں کوئی بڑی شدت سے آپ کی فرغت کا منتظر ہے ،یہ نہ ہو مایوس ہو جائے ۔“
کبیر دادا خوش دلی سے بولا ۔”کوشش کرتا ہوں ،آپ بھی دعا کریں ۔“
”اپنا تو دعاﺅں سے اعتبار ہی اٹھنے لگا ہے ۔“فرحانہ نے مایوس لہجے میں کہا ۔ ”بہ ہر حال پھر سے کوشش کر کے دیکھ لیتی ہوں ۔“
اسی وقت شمشیر دادا کی آمد ہوئی ۔ساڑھے چھے فٹ قد اور گینڈے کی طرح مضبوط جسم ،وہ ڈبلیو ،ڈبلیو ،ای کا کوئی ریسلر لگ رہا تھا ۔اسے دیکھتے ہی تمام کھڑے ہو گئے تھے ۔
سب سے بے نیاز وہ کبیر دادا کی طرف بڑھا ۔کبیردادا بھی جلدی سے ہاتھ ملانے کے لیے اس کے قریب پہنچا مگر یہ قربت اسے مہنگی پڑی تھی ۔شمشیر دادا کا ہاتھ گھوما ، چہرے پر پڑنے والے زوردار تھپڑ نے کبیردادا کو چند دو گز دور اچھال دیا تھا ۔
”بے غیرت ،کنجر !....کہاں ہے وہ رنڈی ؟“شمشیر دادا غصے میں دھاڑا ۔
”دادا ،میری بات تو سنیں ،صفائی کا موقع تو دیں مجھے ۔“کبیر دادا اچھل کر کھڑا ہوتے ہوئے پھر اس کے قریب ہوا ۔لیکن اگلے تھپڑ نے اسے دوبارہ پیچھے اچھال دیا تھا ۔
”دیتا ہوں موقع ،پہلے اس فاحشہ کو سامنے لاﺅ ۔“
”وہ میری بیوی ہے دادا ۔“کبیردادا نے اٹھتے ہوئے اعتراض کیا ۔
شمیشر دادا نے ایک ہاتھ اس کے گریبان میں ڈال کر اوپر اٹھا یا اور دور پھینکتے ہوئے بولا ۔”بیوی نہیں رکھیل بولو۔“
”وہ کراچی میں نہیں ہے دادا ،شہر سے باہر گئی ہے ۔“اس مرتبہ کبیر دادا اس کے نزدیک ہونے کے بجائے دور رک گیا تھا ۔
شمشیر دادا دھاڑا ۔”جب میں نے کہا تھا کہ اسے ساتھ لے کر آﺅ گے پھر کیوں کہیں بھیجا ہے ؟“
”کوئی مجبوری پیش آگئی تھی دادا ۔“شمشیر دادا کو اپنی جانب بڑھتے دیکھ کر کبیر داداالٹے قدموں پیچھے ہٹنے لگا ۔
”اسے فی الفور واپس بلاﺅ ۔“شمشیر دادا نے حکم دیا ۔
”معذرت خواہ ہوں دادا ،آپ نے جو سزا دینا ہے میں حاضر ہوں ،مگر وہ نہیں آ سکتی۔ کم از کم آپ کے سامنے تو بالکل بھی نہیں ۔“
”بکواس بند کرو ۔“شمشیر دادا نے جھپٹ کر اس کا گریبان پکڑا اور اسے پھر ایک ہی ہاتھ سے اسے سر سے بلند کر لیا ۔”اسے لاتے ہو یا توڑوں گردن ۔“
کبیر دادا پھنسی پھنسی آواز میں بولا ۔”توڑ دو دادا ،وہ نہیں آئے گی ۔“
الٹے ہاتھ کے دو تھپڑ اس کے چہرے پر جڑتے ہوئے شمشیر دادا نے اسے دو بارہ دور پھینک دیا ۔باچھوں سے رستا خون صاف کر کے کبیر دادا کھڑا ہو گیا ۔اسے معلوم تھا تھوڑی دیر تک شمشیر دادا کا حصہ ٹھنڈا ہو جانا تھا اور اس کے بعد اس نے فوراََ کبیر دادا کو معاف کر دینا تھا ۔
باقی تمام چپ چاپ کھڑے ان کا تماشا دیکھ رہے تھے ۔فرحانہ کا چہرہ غصے سے سرخ ہوا پڑا تھا ۔اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ شمشیر دادا کو کچا چبا ڈالتی ۔البتہ ،فصیح الدین کی بیوی رخشندہ، ایس پی کی بیوی سلطانہ اور بیٹی ہانیہ بڑے شوق سے کبیر دادا کی پٹائی کا منظر دیکھ رہی تھیں۔
”تو تم نے نہیں بلانا۔“شمشیر دادا کا غصہ سوا ہونے لگا ۔
”وہ یہیں پر ہے شمیشر دادا ۔“یہ آواز نوشادآفریدی کی تھی ۔”آپ کی اجازت ہو تو اسے بلا لیتے ہیں ۔“
”کہاں ہے ۔“شمیشر دادا نوشاد کی طرف مڑا ۔
”لے آﺅ اسے ۔“نوشاد آفریدی نے پکار کر کسی کو آواز دی ۔اسی وقت اندرونی کمرے سے ڈری سہمی تناوش برآمد ہوئی اس کے عقب میں دو مسلح افراد چل رہے تھے ۔کالج کی یونیفارم میں وہ چھوٹی سی لڑکی ہی نظر آرہی تھی ۔سر پر اوڑھے ہوئے دوپٹے میں اس کا پر کشش چہرہ یوں دمک رہا تھا جیسے چودھویں کے چاند کے گرد بادلوں نے گھیرا ڈالا ہو ۔کبیر دادا پر نگاہ پڑتے ہی اس کے بے چین چہرے پر جیسے سکون اتر آیا تھا ۔ہر قسم کا ڈر اور خوف اس کے دل سے نکل گیا تھا،مگر کبیر دادا تو گویا ”کاٹو تو بدن میں لہو نہیں ۔“کی زندہ مثال بنا کھڑا تھا ۔اس کے دماغ میں آندھی نہیں جھکڑ چل رہے تھے ۔اس کی ترکیب کامیاب نہیں ہوئی تھی ۔
جاری ہے

No comments: