Ads Top

حیا از فاخرہ وحید قسط نمبر 7 Haya By Fakhira Waheed Episode No

 حیا
  از 
فاخرہ وحید

 حیا  از فاخرہ وحید
 7قسط نمبر   
Haya By Fakhira Waheed 
Episode No 7



حمزہ حیا کو پارلر ڈراپ کر کے گھر آگیا تھا. فریحہ نے پارلر کی اونر کو پہلے ہی آگاہ کر دیا تھا. جب تک حیا کو گھرسے کوئی لینے نہ آئے وہ اسےجانے نہ دیں.
گھر میں بھی سب تیاریاں مکمل تھی. فریحہ نے سب کام لڑکوں میں بانٹ دیا تھا. کیٹرنگ کے لیے عنایا سے کہا گیا تھا.. عنایا اور سمایا دونوں بہنیں حمزہ کی ہی بارہ رکنی ٹیم کا حصہ تھی. عنایا نے چھ ماہ قبل کیٹرنگ کا بزنس شروع کیا تھا جبکہ سمایا سائیکالوجسٹ تھی. کئی اہم خفیہ مشنز میں وہ حمزہ کے ساتھ کام کر چکی تھیں.
شیری اور تراب کو مہمانوں کے استقبال اور ان کی نشستوں تک لے جانے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی. زویان کو فوٹو گرافر کے فرائض سرانجام دینے تھے.
ٹھیک سات بجے مہمانوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا. آدھے گھنٹے پہلے فریحہ حیا کو پارلر سے لے آئی تھی. حمزہ مہمانوں سے ملنے ملانے میں مصروف تھا جب علی اسے پکڑ کر اسٹیج پر لے گیا.
" کیا کر رہا ہے تو. " حمزہ اس اچانک آفت سے کنفیوز تھا. " حیا آرہی ہے. " علی نے سرگوشی کی.
" ہاں تو مجھے کیوں یہاں لے آیا ہے"

"مجرا کروانے. "علی کو اندازہ نہیں تھا کہ حمزہ شادی کے معاملات میں اتنا اناڑی ہو گا.
" یار تو حیا کو اسٹیج پر رسیو کرے گا. " علی نے وضاحت کی.
حمزہ نے آنکھیں سکیڑی.
" ایک دن میں بدل گئے ہو تم سب. مجھے تو کسی نے رسیو نہیں کیا تھا. "
" دیکھ یار. تو جان ہے اپنی. اور حیا ہماری جان کی جان ہے. تو اس کا اتنا بنتا." علی نے حمزہ کو چھیڑا.
"خدا کا خوف کرو تم. " حمزہ نے اسے جواباً گھورا.
"اچھا چل موڈ نہ خراب کر. کسی وقت تو خوش ہو جایا کر. " علی نے مصنوعی خفگی دکھائی. تبھی حمزہ کی نظر اینٹرینس سے آتی فریحہ اور اس کے ساتھ سر جھکائے چلتی حیا پر پڑی. سلور کرتی اور رائیل بلیو لہنگے میں وہ گریس فل لگ رہی تھی. حمزہ کو ایک منٹ کے لیے اپنا دل تھمتا محسوس ہوا.
" شی از پریٹی. " کسی نے حمزہ کے کان میں سرگوشی کی تھی.
" یس شی از" بے دھیانی میں حمزہ کے منہ سے نکلا. جب اسے زرا ہوش آیا تو اس نے مڑ کر کہنے والے کو دیکھا. وہ شیری تھا. جو اپنی ہنسی روکنے کی ناکام کوشش کر رہا تھا.
" ہولڈ دی ہینڈ آف دی برائڈ. " اس سے پہلے کہ حمزہ کچھ کہتا فریحہ کی آواز پر وہ پیچھے مڑا.

حیا نے بے تاثر چہرے سے حمزہ کو دیکھا. بلیو پینٹ کوٹ پہنے وہ جینٹل مین لگ رہا تھا. حمزہ نے اپنے ہونٹوں کو کھینچ کر خوبصورت مسکراہٹ حیا کی طرف اچھالی. اور ہاتھ آگے بڑھایا. حیا کا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا. وہ پھر اپنا دل باہر کھنچتا محسوس کر رہی تھی.
"کم آن بھابھی. " پیچھے سے شور سنائی دیا. اور حیا نے اپنا ہاتھ اپنی مرضی سے حمزہ کے ہاتھ میں تھما دیا.
"یاہووو.." ہر طرف ہوٹنگ اور تالیوں کی آواز تھی.
حیا اب حمزہ کے برابر کرسی پر بیٹھی تھی. دونوں کو اسٹیج پر چھوڑ کر سب لوگ اپنی اپنی نشستوں کی جانب بڑھے. مہمانوں سے ملنے ملانے کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوا. اب کہ وہ حیا کو اپنے مہمانوں سے متعارف کروا رہا تھا.
وہ اس کے کالج میں اس کے ساتھ پڑھتی تھی. اور اب انہوں نے اس دوستی کو خوبصورت رشتے میں بدل دیا تھا. یہ ہی کہانی وہ ہر مہمان کو سنا رہا تھا.
حیا کا دایاں ہاتھ اب بھی حمزہ کے ہاتھ میں تھا.
"اچھی لگ رہی ہو." حمزہ نے حیا کی طرف دیکھے بغیر سرگوشی کی.
حیا اس تعریف کی توقع نہیں کر رہی تھی. وہ اب پہلے کی طرح اسے اذیت دینے کی کوشش نہیں کرتا تھا. وہ بدل رہا تھا. اور یہ ہی بات حیا کو کھٹک رہی تھی.

"ایسا علی کہہ رہا تھا. " حمزہ نے حیا کو دیکھتے ہوئے بات مکمل کی. حیا نے آنکھیں گھمائی.
🌸🌸🌸🌸🌸🌸
"ایسی زبردست تصویریں کلک کر کے لایا ہوں. کہ بھائی کی تعریف کیے بغیر نہیں رہ سکو گے." زویان نے اپنی کرسی سنبھالتے ہوئے اپنی تعریف کی.
"دکھا. " شیری جو اس کے برابر والی نشست پر بیٹھا تھا آگے ہوا.
یہ حمزہ اور حیا کی تصویریں تھی. جس میں حمزہ حیا کا ہاتھ تھامے اس کی طرف دیکھ رہا تھا. یہ تصویریں ابھی رینڈملی زویان نے لی تھیں.

"استغفراللہ !" شیری نے کانوں کو ہاتھ لگایا.
"ایسی تصویریں دکھانے سے پہلے یہ بھی نہیں سوچا کہ بچے کے دماغ پر کیا اثر پڑے گا. " شیری نے خود کو بچہ کہا تھا.
" ہاں ابھی تھوڑی دیر تک فریحہ باجی تیرے لیے فیڈر بنا کر لائیں گی. " شیروان نے فریحہ کی طرف اشارہ کیا. فریحہ مسکرائی.
"فریحہ باجی اس سے پوچھیں زرا. سارا دن یہ سیل میں سر جھکائے کون سے بیان سنتا رہتا ہے. " شیروان اب کہاں رکنے والا تھا.
"ہاں اور یہ بھی پوچھیں کہ وہ لڑکی کون ہے جس کا نمبر اس نے چوہدری بشیر کے نام سے سیو کیا ہوا ہے." زویان نے جلتی پر تیل ڈالا.
شیری کا پول کھل گیا تھا. فریحہ اپنے سیل پر مصروف ان کی باتوں سے محفوظ ہو رہی تھی.
"استغفر اللہ. استغفر اللہ. اللہ معاف کرے." شیری نے با قاعدہ افسوس کیا.
"وہ میری بہنوں جیسی گرل فرینڈ ہے. " شیری نے انتہائی بے ہودہ رشتہ بتایا. سب لوگ ہنس کے لوٹ پوٹ ہو رہے تھے.
"شیری باز آجاؤ." فریحہ نے فون سائڈ پر رکھتے ہوئے اسے تنبیہ کی. شیری نے معصوم شکل بنائی.
"جس سے شادی کرنی ہو. اس کو بہن نہیں کہتے گدھے." شیروان نے شیری کی کھنچائی کی.
" تو آپکو کس نے کہا میں اس سے شادی کر رہا ہوں. " شیری نے نہایت مہذب طریقے سے شیروان کو تاڑا.
"شادی تو میں حمزہ سر کی پسند کی لڑکی سے کروں گا." شیری نے اسٹیج پر بیٹھے حمزہ کو دیکھا. وہ کسی مہمان سے باتیں کر رہا تھا.
"آآآآ.. سو سویٹ. " زویان اور شیروان نے ایک ساتھ کہا. شیری نے منہ بنایا.
"فریحہ بات سنو زرا. " تبھی وہاں علی نمودار ہوا. اس کے ساتھ عنایا اور سمایا بھی تھی. وہ دونوں وہیں میز کے گرد بیٹھ گئیں. فریحہ اٹھ کر چلی گئی تھی.
"بڑے بڑے لوگ آئے ہیں. " شیروان نے سمایا کو دیکھ کر ہاتھ ہوا میں بلند کیا.
" یہ بندی تو جا کر بھول ہی گئی. " زویان نے بھی شیروان کی حمایت کی.
"اتنے ماہ بعد تم لوگوں سے مل کر بہت اچھا لگ رہا ہے." سمایا ایموشنل ہو رہی تھی.
"شیری تو نے بتایا نہیں سمایا آگئ ہے. " زویان نے شیری سے اس کی بیسٹ فرینڈ کے بارے میں پوچھا.

"میں اس کا پی اے ہوں؟ " شیری کا لہجہ سخت تھا.
"بائی دی وے عنایا کہاں تھی تم. زویان تمہیں کب سے میسج کر رہا تھا. " شیری نے سب کا دھیان سمایا سے ہٹایا.
عنایا کے گال سرخ ہوئے.
"تجھے کس نے کہا میں اسے میسج کر رہا تھا. " زویان بگڑا.
"ابھی جب تو بیٹھا واٹس ایپ پر اسے میسج کر رہا تھا میں نے دیکھا. وہ جانو والا نمبر عنایا کا نہیں ہے؟ مجھے لگا." شیری نے کندھے اچکائے.
زویان کا دل چاہا زمین پھٹے اور وہ اس میں گڑ جائے.. عنایا کا حال بھی اس سے اچھا نہیں تھا. سب کی نظریں دونوں پر تھیں.
"شیری ی ی. وہ جانو نہیں جہانزیب تھا. " زویان نے چبا کر کہا.
" اچھا تصویر تو مجھے عنایا کی لگ رہی تھی. خیر انسان ہوں. ہو سکتا ہے میں نے غلط دیکھا ہو. " وہ اب بھی بضد تھا.
زویان نے سوچا نہیں تھا. ٹیبل سے اٹھنے سے پہلے ہی شیری اس سے اپنا بدلہ لے لے گا.

" خیر یور پرسنل میٹر. " شیری آگ لگا چکا تھا. اس نے پاس سے گزرتے ویٹر کو جوس ری فل کا اشارہ کیا.
تبھی سمایا کا فون بجا. وہ فون رسیو کرنے کے لیے کھڑی ہوئی بے دھیانی میں اس کا بازو ویٹر کے ہاتھ سے ٹکرایا اور جوس شیری کے ڈریس پر گر گیا.
"سوری. ایم سوری.." وہ شرمندہ تھی.
"واٹ سوری." شیری غصے سے کھڑا ہو گیا.
"اگر نظر نہیں آتا تو آنکھیں دکھاؤ کہیں. " شیری اپنے مزاج کے بر خلاف بی ہیو کر رہا تھا. اسے ایسے چیختے پہلے کسی نے نہیں دیکھا تھا.
"کیا ہو گیا ہے شیری. اس نے جان بوجھ کر نہیں گرایا." زویان اور شیروان بھی کھڑے ہو گئے تھے.
"لوگوں کو عادت ہے. سب کچھ کر کے انجان بن جانے کی" شیری نے سمایا کو دیکھتے ہوئے چبا کر کہا.
"شیری بس کر اب" شیروان آگے بڑھا.
"آئی ڈونٹ وانٹ ٹو ڈسکس دس شٹ. " وہ کپڑے جھاڑتا لان کراس کرکے اندر چلا گیا تھا.
شیری کے اس رویے پر سب حیران تھے. سمایا وہاں سے ہٹ کر اسٹیج پر چلی گئی.
"اسلام علیکم! " سمایا نے حیا سے ہاتھ ملایا. اور بیٹھتے ہوئے حیا کا ہاتھ اپنے ہونٹوں سے لگایا. حیا کے لیے یہ عجیب لیکن سویٹ جیسچر تھا.
اس چھوٹی سی لڑکی نے اپنی اس حرکت سے حیا کا دل موہ لیا تھا. گہری مسکراہٹ حیا کے چہرے پر پھیلی.
حمزہ کچھ دیر پہلے وہاں سے اٹھ کر گیا تھا. وہ وہاں پر سکون نہیں تھا. .

"میں سمایا. حمزہ سر کے ساتھ ہی کام کرتی ہوں. پچھلے چار ماہ سے میں ایک ورکشاپ کے سلسلے میں ترکی تھی. ابھی چند دن پہلے ہی واپس آئی ہوں." وہ اپنا تعارف کروا رہی تھی.
تھوڑی دیر میں ہی حیا اور سمایا میں اچھی خاصی دوستی ہو گئی تھی.
"ارے سمایا. واٹ آ پلیزنٹ سرپرائز. " حمزہ کو دیکھ کر سمایا کھڑی ہو گئی. حمزہ نے بڑے بھائی کی طرح اس کے سر پر ہاتھ رکھا.
"چلو کھانا کھا لو تم بھی. وہ تھرڈ ٹیبل پر شیری لوگ کھڑے ہیں." حمزہ نے ایک طرف اشارہ کیا.
"حمزہ بھائی میں یہیں ٹھیک ہوں. " شیری کے نام پر سمایا نے وہیں رک جانا مناسب سمجھا.

"اچھا یوں کرو. یہیں منگوا لو. حیا بھی تمہارے ساتھ کھا لے گی. " حمزہ نے مشورہ دیا جو حیا اور سمایا دونوں کو پسند آیا تھا. حمزہ نے ویٹر سے کہہ کر دو لوگوں کا کھانا اسٹیج پر منگوا دیا تھا. وہ خود جا کر علی کے ساتھ بیٹھ گیا. اسی ٹیبل پر فریحہ, شیری اور شیروان بیٹھے تھے.
" کیا بات ہے. اتنی خاموشی کیوں ہے. " حمزہ نے پلیٹ میں چاول ڈالتے ہوئے پوچھا.
علی نے شیری کی طرف اشارہ کیا. جو سر جھکائے خاموشی سے کھانا کھا رہا تھا.
حمزہ کچھ دیر پہلے ہوئے ہنگامے کے بارے میں جان چکا تھا. تبھی اس نے سمایا کو بھی فورس نہیں کیا تھا.
"شیری تم رات یہیں روکو گے؟ " حمزہ نے اسے مخاطب کیا.
" نہیں سر. شیروان اور زویان کے ساتھ جاؤں گا." اس کا موڈ خراب تھا.

"اچھا جانے سے پہلے مجھے مل کر جانا. " حمزہ نے اسے حکم دیا. وہ خاموش رہا.
گیارہ بج رہے تھے. جب لوگوں کے جانے کا سلسلہ شروع ہوا.
" ما شا اللہ یو گائز لک بیوٹیفل ٹو گیدر. "
" میڈ فار ایچ ادھر. "
" اللہ بری نظر سے بچائے. "
" پرفیکٹ کپل "

اور ایسے بہت سے الفاظ مہمانوں نے حمزہ اور حیا کی نظر کیے تھے.
🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸
سب مہمان جا چکے تھے. فریحہ کی نائٹ ڈیوٹی تھی. علی اسے لے کر گھر گیا تھا. زویان اور شیروان بھی نکلنے کا سوچ رہے تھے.
سمایا اور عنایا حمزہ کے کمرے میں حیا کے ساتھ بیٹھی گپیں لگا رہی تھیں. حیا اب کسی حد تک اس گھر کو لے کر مطمئن تھی. یہ کوئی جال نہیں تھا. گھر تھا. جہاں اس کو چاہنے والے لوگ تھے. اور ایک فیملی تھی. حمزہ کی فیملی.

وہ خوش گپیوں میں مصروف تھے جب عنایا کا فون بجا. دوسری طرف زویان تھا.
"بھابھی ہم چلتے ہیں زویان جاتا ہوا ہمیں چھوڑ دے گا." عنایا نے فون بند کرتے ہوئے اجازت چاہی.

"پھر کب آؤ گی. " حیا کو ان کے ساتھ اچھا لگ رہا تھا.
"دوستی کی ہے تو نبھانی تو پڑے گی. " سمایا نے حیا کو گلے لگایا.
تھوڑی دیر بعد وہ کمرے میں اکیلی تھی.
🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸
" حیا تمہیں ایک بات بتانی ہے. " حمزہ کمرے میں آیا. وہ اپنے اوپر سے یہ بوجھ جلد از جلد اتار دینا چاہتا تھا.
"زندگی اسی کا نام ہے حیا. ہمارے اپنے ہمیں چھوڑ کر چلے جاتے ہیں اور ہم کچھ نہیں کر پاتے. " وہ مناسب الفاظ ڈھونڈ رہا تھا. وہ سوالیہ نظرونں سے حمزہ کو دیکھ رہی تھی.
" مجھے سمجھ نہیں آرہا کیسے تمہیں بتاؤں. تم سٹرونگ ہو. لیکن خبر جان لیوا ہے. علی نے بتایا کہ تمہارے بابا تمہارے یوں غائب ہو جانے کا صدمہ برداشت نہیں کر سکے اور وہ اب اس دنیا میں نہیں رہے." آخری الفاظ اس نے دھیرے سے ادا کیے.

وہ تھوڑی دیر یوں ہی بت بنے کھڑی رہی. پھر حمزہ کو صرف اس کی چیخیں سنائی دی. وہ رو رہی تھی. چلا رہی تھی. اپنے آپ کو نوچ رہی تھی. حمزہ چاہ کر بھی آگے قدم نہیں بڑھا پا رہا تھا. وہ اسے اپنے بازؤوں میں سمیٹ لینا چاہتا تھا. لیکن اس کا جسم ساتھ نہیں دے رہا تھا. وہ اسے تسلی دینا چاہتا تھا. زبان سے الفاظ ادا نہیں ہو رہے تھے. کئی لمحے وہ یوں ہی کھڑا اسے چیختے چلاتے سنتا رہا. یہ اعصاب کی جنگ تھی.
"حیا. " حمزہ نے پوری قوت سے اس کا نام پکارا. وہ سیڑھیوں پر کھڑی تھی جب اس نے حمزہ کو اس کا نام پکارتے سنا. حمزہ صوفے پر پسینے میں شرابور بیٹھا تھا. وہ محض خواب تھا. حمزہ نے اپنا سر ہاتھوں میں گرا یا.
"پانی." حیا کی آواز پر حمزہ نے سر اٹھایا.
"بیٹھو مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے. " حیا کے ہاتھ سے گلاس لیتے ہوئے حمزہ نے کہا.
ایک سانس میں پانی اندر انڈیلتے حمزہ نے گلاس میں سے حیا کو دیکھا. اس کے چہرے پر تھکاوٹ تھی. حمزہ نے گلاس سامنے ٹیبل پر رکھا اور حیا کی طرف متوجہ ہوا.

"حیا! میں جانتا ہوں تمہارے لیے مشکل ہو گا. لیکن بہتری اسی میں ہے کہ تمہیں سچ پتا ہو. تمہارے بابا اب اس دنیا میں نہیں ہیں." حمزہ اس کے چہرے کے تاثرات دیکھنے کے لیے رکا. وہاں کچھ بھی نہیں تھا. وہ خاموش بیٹھی رہی.
"حیا کچھ تو کہو." جب اس نے کوئی ری ایکشن نہیں دیا تو حمزہ نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیا.
"مجھے پتا ہے ایک بیٹی کے لیے یہ تکلیف دہ ہے. پر موت کہاں دیکھ کر آتی ہے. "
حیا بس بت بنے بیٹھی رہی.
"حیا کچھ تو بولو." حمزہ جو اس کے رونے سے چیخنے چلانے سے ڈر رہا تھا. اب حیا کی خاموشی اسے چبھ رہی تھی. وہ بغیر کچھ کہے اٹھ کر سیڑھیاں چڑھتے حمزہ کے روم میں چلی گئی. حمزہ اسے جاتا دیکھتا رہا. دروازہ بند ہو گیا تھا. لیکن حمزہ نے نظریں نہیں ہٹائی تھیں.
رات کے دو بج رہے تھے جب وہ کمرے میں داخل ہوا. حیا صوفے سے ٹیک لگائے دونوں ٹانگوں کے گرد اپنے بازو باندھے فرش پر کسی ان دیکھی چیز کو گھور رہی تھی.
حمزہ اس کے ساتھ ہی فرش پر بیٹھ گیا. اس کے پاس تسلی دینے کو الفاظ نہیں تھے. وہ تو آج تک خود اپنے لوگوں کے چلے جانے کی جنگ لڑ رہا تھا.

کافی دیر دونوں یوں ہی خاموش بیٹھے رہے.
"حیا یوں چپ مت رہو. " حمزہ کو حیا کی خاموشی تکلیف دے رہی تھی.
حیا کے پاس کہنے کو کچھ نہیں تھا. ماں کے جانے کے بعد اس کا باپ ہی تو تھا. وہ بھی نہیں رہا تھا. بھائیوں نے تو کبھی مڑ کر پوچھا بھی نہیں تھا. اب وہ اکیلی تھی. اس کا کوئی بھی نہیں تھا. وہ رونا چاہتی تھی. چیخنا چاہتی تھی. کوئی کندھا میسر نہیں تھا. کوئی نہیں تھا جس کے گلے لگ کر وہ روتی.

جب کافی دیر حیا کچھ نہیں بولی. تو حمزہ نے اپنا بازو اس کے گرد لپیٹا. حیا سوچوں سے باہر نکل آئی. کوئی تھا اس کے پاس. اسے احساس ہوا.
ایک آنسو اس کی آنکھ سے گرا. اور اس کے بعد آنسوؤں کی لڑی لگ گئی. کمرے میں اب ہلکی سسکیاں سنائی دے رہیں تھی. حمزہ نے اسے چپ نہیں کروایا. وہ چاہتا تھا وہ اپنے دل کا سارا غبار آنسوؤں میں نکال دے. جب وہ رو رو کر تھک گئی تو اپنا سر اس نے حمزہ کے کندھے پر گرا دیا. حمزہ کی آنکھیں بند تھیں اور بند آنکھوں سے ہی اس نے اپنا بازو پھیلاتے ہوئے اسے اپنے اور قریب کر لیا تھا. اسے الفاظ کا چناؤ نہیں آتا تھا. لیکن وہ اپنے ایکشن سے اسے جتا دینا چاہتا تھا کہ وہ اکیلی نہیں ہے.
🌸🌸🌸🌸🌸🌸
شیری, عنایا, شیروان اور سمایا زویان کے ساتھ گھر جا رہے تھے. گاڑی میں انگلش سانگ لگا ہوا تھا.
And promise me this
You will wait for me only
Scared of the lonely arms

زویان کے ساتھ عنایا بیٹھی تھی. زویان کے پچھلی سیٹ پر سمایا شیروان اور اس کے ساتھ شیری بیٹھا تھا.
" یار کوئی مزے کا گانا لگا دو." شیری بور ہوتے ہوئے سیٹ پر نیچے کو کھسکا.
میرا دل یار کا دیوانہ. دیوانہ پیار کا پروانہ
جب انہوں نے شیری کی بات پر دھیان نہیں دیا تو اس نے اپنا سر لگایا. شیروان فیس بک سکرول کر رہا تھا جب شیری سیدھا ہو کر بیٹھا.
آتا ہے مجھکو. پیار میں جل جانا.
شیری نے ایک انگلی شیروان کی کنپٹی پر رکھتے ہوئے لکیر کھینچی.
"کیا کر رہا ہے تو. " شیروان نے اس کا ہاتھ جھٹکا.
"پیار کر رہا ہوں." شیری نے اس کو سیریس نہیں لیا اور دوبارہ گنگناتے ہوئےشیروان کے منہ پر ہاتھ پھیرا.

"کیا ہے." شیروان اب ہنستے ہوئے رویا.
سب اس دلچسپ سچویشن سے لطف اندوز ہو رہے تھے.
" رات ہے. تم ہو. اور میں ہوں. " شیری نے شیروان کا کالر پکڑ کر کھینچا.. پچھلے چند گھنٹے جو اس کا موڈ خراب رہا تھا وہ اس کی کسر پوری کر رہا تھا.
"زویان گاڑی روک. نیچے اتار مجھے. " شیروان اب زچ آگیا تھا. سب کا ہنس ہنس کے برا حال تھا.
"تجھے تو نہیں البتہ شیری ضرور آج رات یہیں سڑک پر گزارنے والا ہے. " زویان نے شیری کو اتار دینے کی دھمکی دی.
شیری نے منہ بنا کر زویان کو دیکھا.
"ویسے زویان کھانا لگنے کے بعد تم کہاں تھے. نظر نہیں آرہے تھے. " کچھ منٹ کی خاموشی کے بعد شیری نے کھڑکی سے باہر اندھیرے میں دیکھتے ہوئے زویان کو سنجیدگی سے پوچھا.
"وہیں تھا میں. پیچھے.. دوسرے.. دوسرے ٹیبل پر اپنے وہ. وہ حیات صاحب ہیں نا. ان کے ساتھ ہی کھڑا تھا بس. " زویان نے اٹکتے ہوئے کہا.
"اوہ اچھا. میں نے کچن میں کسی کے ہنسنے کی آواز سنی. کوئی لڑکی بھی تھی شاید.. ہو سکتا ہے میرا وہم ہو. " شیری نے اسے باور کروایا کہ وہ ان دونوں کو کچن میں کھانا کھاتے دیکھ چکا ہے.
زویان نے جھٹکے سے بریک لگائی. اور اپنے سر پر ہاتھ مارا. شیروان نے سیل جیب میں ڈالا. اب یہ گفتگو اس کے لیے دلچسپ تھی. سمایا خاموش کھڑکی سے باہر دیکھ رہی تھی.
"شیری ی ی ی.. میرے بھائی. " یہ عنایا تھی.
"جی بھائی کی بہن. " اب شیری کے مطلب کی بات ہونے والی تھی. وہ آگے کو جھکا.
"تم حمزہ سر کو کچھ مت بتانا پلیز." اس نے ریکویسٹ کی.
" ارے نہیں یار. کیا ہو گیا ہے. " اب گیم شیری کے ہاتھ میں تھی.
"بس اگرر. " شیری نے زویان کو ہاتھ ملتے ہوئے دیکھا.
"کیا. " زویان نے اسے گھورا.
"اگر زویان میری پسند کا گانا لگا دے. اور میرے اور شیروان کے بیچ میں نہ آئے تو." شیری نے شیروان کے بازو پر اپنی انگلیوں سے ٹرین چلائی.

"پیچھے دفع ہو. " شیروان ایک انچ پیچھے ہوا. سمایا نے اپنی ہنسی بمشکل روکی.
"شیری کم از کم لڑکیوں کا خیال کر لو. " زویان نے اسے روکنے کی کوشش کی.
"اممم. اچھا ایک منٹ." شیری نے اپنے فون پر حمزہ کا نمبر ملایا اور سیل کان پر لگایا.
"اچھا نہیں کہوں گا کچھ. تم جو مرضی کرو. " زویان نے فوراً شیری کا کہا ہوا گانا لگایا.
"کیا مطلب جو مرضی کرو. " شیروان نے احتجاج کیا.

یہ میرا دل یار کا دیوانہ. دیوانے پیار کا پروانہ.
شیری شیروان کے گال پر کس کرنے کے لیے آگے ہوا.
"ماما." شیروان تقریباً رو دینے کو تھا.

"کھسروں کے ساتھ ناچ ناچ کے تو خود بھی کھسرا بن گیا ہے. جا جا کر اپنا چیک اپ کروا. " شیروان اب ہاتھا پائی پر اتر آیا تھا.
سب ہنسی سے دہرے ہوئے جا رہے تھے.
عنایا اور سمایا کا گھر آگیا تھا. دونوں زویان کا شکریہ ادا کرتی گاڑی سے نیچے اتری.
"عنایا! گھر جا کر زویان تمہیں کال کرے گا. " شیری نے شیشہ نیچے کر کے عنایا کو آواز لگائی. وہ اندر چلی گئی تھی.
زویان نے اس وقت کو کوسا جب اس نے شیری کے ساتھ بیٹھ کر عنایا کو میسج کیا تھا.
شیروان موقع غنیمت پا کر آگے زویان کے ساتھ جا کر بیٹھ گیا تھا. شیری نے بیک سیٹ پر ٹانگیں لمبی کرتے انگڑائی لی. اسے نیند آرہی تھی.
"شیری. تو حمزہ سر کو مل کر نہیں آیا نا. انہوں نے تجھے کہا تھا. " شیروان نے فون پر مصروف شیری سے پوچھا.
"ہاں کل مل لوں گا. یاد نہیں رہا مجھے." شیری نے بہانہ بنایا.
"ویسے تجھے سمایا پر یوں چلانا نہیں چاہئیے تھا.. اسے برا لگا ہو گا. اتنے مہینوں بعد تو وہ آئی تھی." شیروان نے شیری کو اس کے سمایا کے ساتھ رویے پر سمجھانا چاہا.

"میں نے اسے نہیں بلایا تھا. میری طرف سے ساری زندگی وہیں رہتی." شیری نے بازو آنکھوں پر رکھ لیا تھا

No comments:

غازی از ابو شجاع ابو وقار قسط نمبر60 Ghazi by Abu Shuja Abu Waqar

Ghazi  by  Abu Shuja Abu Waqar  غازی از ابو شجاع ابو وقار  پیشکش محمد ابراہیم 60 آخری قسط نمبر  Ghazi by Abu Shuja Abu...

Powered by Blogger.