Ads Top

Aur Neel Behta Raha By Annyat Ullah Altamish Episode No. 73 ||اور_نیل_بہتا_رہا از عنایت اللہ التمش قسط نمبر 73


Aur Neel Behta Raha
 By
Annyat Ullah Altamish

اور نیل بہتا رہا
از
عنایت اللہ التمش

 Aur Neel Behta Raha  By  Annyat Ullah Altamish  اور نیل بہتا رہا از عنایت اللہ التمش

 #اورنیل_بہتارہا/عنایت اللہ التمش
#آخری_قسط_نمبر_73

#مصر فتح ہوگیا عریش سے اسکندریہ تک ہر چھوٹے بڑے قلعہ بند شہر پر اسلامی پرچم لہرا رہے تھے۔
فرعونوں کے دیس میں اذانیں گونجنے لگی۔ فرعونوں کو دنیا سے رخصت ہوئے صدیاں گزر گئیں تھیں لیکن رومیوں نے فرعونیت کو زندہ رکھا اور اپنے ہم مذہب اہل مصر کے دلوں میں اپنے خلاف نفرت کے بیج بوئے تھے۔
مدینہ میں خوشیاں منائیں گی امیر المؤمنین حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی امامت میں شکرانے کے نفل ادا کیے گئے سب سے زیادہ خوش امیرالمومنین تھے وہ تو ہر فتح پر سب سے زیادہ خوش ہوتے تھے کیونکہ ہر پیش قدمی اور جنگ انہی کے حکم سے ہوتی تھی، اور دل میں یہ خدشہ موجود رہتا تھا کہ کوئی حکم یا پلان غلط نہ ثابت ہو جس سے مجاہدین کو جانی نقصان اٹھانا پڑے، یہ بڑی ہی نازک ذمہ داری تھی جو فتح تک امیرالمومنین کو بے چین اور بے کل رکھتی تھی، لیکن مصر کی فتح کا ایک پہلو اور بھی تھا۔
اس طویل داستان میں یہ پہلو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے یاد دہانی کے لیے مختصر یوں ہے کہ عمرو بن عاص نے مصر کو سلطنت اسلامیہ میں شامل کرنے کا عہد کر لیا تھا اور یہ ان کی ایک ایسی خواہش بن گئی تھی کہ ان کے دل و دماغ پر غالب آ گئی تھی، لیکن انہوں نے ایسے وقت امیرالمومنین حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے مصر پر فوج کشی کی اجازت کی درخواست کی تھی جب مجاہدین کا ایک لشکر کسریٰ ایران کی بڑی طاقتور اور اپنے سے کئی گناہ زیادہ فوج کو فیصلہ کن شکست دینے کے لئے سردھڑ کی بازی لگائے ہوئے تھا، اور دوسرا لشکر اس وقت کی دوسری بڑی جنگی طاقت روم کی کثیر تعداد فوج کو شام سے بےدخل کر رہا تھا۔
یہ دو ایسے محاذ تھے جو سو فیصد توجہ یکسوئی اور غیرمعمولی قربانیوں کے طلب گار تھے، اس جنگی صورتحال میں تیسرا محاذ اور وہ بھی اتنی دور کھولنا بہت ہی خطرناک تھا، بزرگ صحابہ کرام عمرو بن عاص کی شدید مخالفت کر رہے تھے، حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ سب سے بڑھ کر مخالفت کرتے اور کہتے تھے کہ عمرو بن عاص خالد بن ولید کی طرح ایسے خطروں میں کود جاتے ہیں کہ پورے لشکر کو موت کے منہ میں ڈال دیتے ہیں، خود حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ مصر پر فوج کشی کے حق میں نہیں تھے اور انہوں نے جس طرح عمرو بن عاص کو اجازت دی تھی وہ اس سلسلے میں پہلے بیان ہو چکی ہے۔
یہ تھا وہ دوسرا پہلو جو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کو دوسری فتوحات کی نسبت زیادہ خوشی دے رہا تھا اور جو صحابہ کرام مصر پر حملے کے خلاف تھے وہ بھی خوشی سے پھولے نہیں سماتے تھے کہ عمرو بن عاص نے اپنی ضد حیران کن کامیابی سے پوری کر دکھائی ہے ورنہ وہ سب تو بہت ہی پریشان تھے کہ مصر کا محاذ سارے لشکر کو ہی نہ لے ڈوبے۔
اللہ نے اپنی راہ میں جہاد کرنے والے مجاہدین سے جو اسی کی ذات باری پر توکل رکھتے تھے، اپنا یہ وعدہ پورا کردیا کہ ہم نے تمہیں کفار کی زمین اور ان کے خزانوں کا مالک دیا، اور ہم نے تمہیں وہاں تک پہنچا دیا جہاں تک تم کبھی تصور میں بھی نہ پہنچے تھے۔
طکسم ہوشربا جیسا شہر اسکندریہ فتح ہو گیا۔
 پورا مصر سلطنت اسلامیہ میں شامل ہوگیا۔ بچی کھچی رومی فوج جہازوں پر سوار ہوئیں اور بحیرہ روم پار کر گئی۔
 *اور نیل بہتا رہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔*
مؤرخوں نے لکھا ہے کہ مصر کی فتح مسلمانوں کا معجزہ تھا توقع تھی کہ رومی بزنطیہ میں اکٹھے ہو کر اور نئی فوج تیار کر کے مصر پر جوابی حملہ کریں گے لیکن سکڑی ہوئی سلطنت روم کے نئے بادشاہ کونستانس نے حکم جاری کر دیا کہ مصر پر جوابی حملہ نہیں کیا جائے گا اس کی بجائے جو علاقے سلطنت میں رہ گئے ہیں انھیں ناقابل تسخیر بنایا جائے گا۔
مؤرخوں نے اس حکم کی دو وجوہات لکھی ہے، ایک یہ کہ رومی فوج کے جرنیل بھی کھسر پُھسر کرنے لگے تھے کہ مسلمانوں کے ہاتھ میں کوئی غیبی اور پراسرار طاقت ہے ورنہ ایسا ممکن ہی نہیں ہوسکتا کہ اتنے کم اور کمزور لشکر نے اتنی بڑی فوج کو کبھی شکست دی ہو ،اور وہ بھی ایسی فیصلہ کن شکست کے اتنے مستحکم قلعوں پر قبضہ کرکے پورا ملک فتح کر لیا ہو۔
رومی نہیں جانتے تھے کہ مسلمان جس قرآن میں یقین رکھتے ہیں اس میں اللہ نے فرمایا ہے کہ ایسا کئی بار ہوا ہے کہ چھوٹی جماعت بڑی جماعت پر غالب آئی ہے، اللہ ایمان والوں کو اسی طرح صلہ دیا کرتا ہے ،،،،،،،رومیوں کو معلوم نہیں تھا کہ مسلمانوں کے ہاتھ میں جو غریبی اور پراسرار طاقت ہے وہ اللہ پر ایمان ہے۔
بلا خوف تردید کہا جاسکتا ہے کہ جواں سال شاہ روم کونستانس اور اس کے جرنیلوں کے دلوں میں بھی شمع رسالت (صلی اللہ علیہ وسلم)کے پروانوں کی اگردہشت نہیں تو دھاگ ضرور بیٹھ گئی تھی، اس لیے انہوں نے مصر کو اپنی سلطنت کے نقشے سے مٹا دیا، یوں شکست تسلیم کرنے کی دوسری وجہ یہ تھی کہ انہوں نے یہ بھی سوچ لیا تھا کہ مصر پر جوابی حملہ کیا تو امکان یہی ہے کہ حملہ ناکام ہو جانے کی صورت میں مسلمان بحیرہ روم عبور کر کے آئیں گے اور رہی سہی سلطنت پر بھی ہاتھ صاف صاف کر جائیں گے، 
وہاں ایک خدشہ یہ بھی محسوس کیا جا رہا تھا کہ مسلمان مصر پر اپنا قبضہ مستحکم کرکے بزنطیہ پر حملہ کریں گے ،چنانچہ اس خدشے کے پیش نظر انہوں نے بزنطیہ اور دیگر شہروں کا دفاع مضبوط کرنا شروع کردیا تھا۔ فتح مصر کی ولولہ انگیز اور ایمان افروز داستان جہاد سنائی جاچکی ہے، اس کے بعد کی کچھ دلچسپ باتیں پیش کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے، ایک بات یہ کہ عمرو بن عاص کا بحیرہ روم عبور کرنے کا ارادہ تھا ہی نہیں جس کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ مسلمان ابھی جہاز رانی اور سمندری لڑائی کا تجربہ نہیں رکھتے تھے، پھر ایک وجہ یہ بھی تھی کہ مصر کے ساحل پر جتنے بھی بحری جہاز اور بڑی بادبانی کشتیاں موجود تھیں وہ سب مصر سے جانے والی رومی فوج اور دیگر شہری لے گئے تھے، عمرو بن عاص نے شمالی افریقہ آج کے لیبیا کی طرف رخ کر لیا۔
فتح مصر صرف رومیوں کی شکست نہیں تھی بلکہ یہ عالم صلیب کی بہت بڑی شکست تھی، اہل صلیب تو اسلام کا بھی نام و نشان مٹا دینا چاہتے تھے، لیکن اہل اسلام نے معجزہ کر دکھایا انہوں نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا تھا جس سے اہل صلیب کو یہ خیال آیا کہ ان کے اپنے لوگ سمجھنے لگے گے کہ اسلام اللہ کا سچا دین ہے اس لئے اللہ نے ان کی مدد کی ہے اور پھر یہ بات آنے والی نسلوں تک بھی پہنچے گی، اور یہ عیسائیت کے لیے کوئی اچھی بات نہیں ہوگی، چنانچہ عیسائی مورخوں نے تاریخی حقائق کو ہی مسخ کرڈالا حادثہ یہ ہوا کہ صدیوں بعد کے بعض مسلمان تاریخ نویسوں نے انہیں کے حوالوں سے فتح مصری کی وہ تاریخ پیش کی ہے جو مفروضوں پر اور مسخ شدہ واقعات پر مبنی ہے۔
ان عیسائی مؤرخوں میں الفریڈ بٹلر خاص طور پر قابل ذکر ہے، حوالے دے کر تاریخ مرتب کرنے والوں نے سب سے زیادہ اسی کے حوالے دئے، اور مستند بھی کہا ہے، لیکن بٹلر نے اسلام کے خلاف تعصب کے اظہار میں تاریخی حقائق کو بڑی بے رحمی سے مسخ کیا اور حقیقت پر پردہ ڈالنے کی بھرپور کوشش کی ہے ،اس نے فتح مصر خصوصا فتح اسکندریہ کو اس بیان کیا ہے جیسے رومیوں نے اسکندریہ پلیٹ پر رکھ کر عمرو بن عاص کو بصد عزت و احترام پیش کیا اور خود جہازوں میں بیٹھے اور بزنطیہ چلے گئے۔
 بٹلر جھوٹ یہ بول رہا ہے کہ مسلمان لڑے نہیں اور انہیں اسکندریہ بغیر لڑے مل گیا۔
ہٹلر کی کتاب ،،،،،"مصر میں عربی فتوحات"،،،،،،، کا عربی ترجمہ ایک عرب اسکالر استاد محمد فرید ابوعدید نے کیا ہے، اس کے صفحہ 288 پر بٹلر فتح اسکندریہ کو صرف اتنی سی تحریر پر ختم کردیتا ہے کہ رومیوں نے مسلمانوں سے شکست نہیں کھائی تھی اور برائے مصلحت ان کے آگے ہتھیار ڈال دئیے تھے۔
پھر بٹلر اپنے اس جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کے لیے لکھتا ہے۔۔۔۔ عمرو بن عاص اپنے لشکر کے ساتھ ابھی بابلیون میں ہی تھے۔ قیرس تسلیم و اطاعت کا تحریری عہد نامہ لیے بابلیون گیا اور یہ عہد نامہ عمرو کو پیش کرکے کہا کہ خدا نے مصر کی زمین تمہیں عطا کردی ہے اسکندریہ لے لو اور رومیوں پر تلوار نہ اٹھانا،،،،، اس طرح صلح نامہ تیار ہو گیا اور عربوں نے جاکر اسکندریہ پر قبضہ کر لیا۔
اگر آپ نے یہ داستان غور سے پڑھی ہے تو آپ کو یاد ہوگا کہ جن دنوں عمرو بن عاص بابلیون میں تھے ان دنوں قیرس مصر میں تھا ہی نہیں وہ بحیرہ روم کے پار کہیں جلاوطنی میں تھا، ہرقل کا بیٹا قسطنطین ابھی زندہ تھا اور وہ قیرس کو جلاوطنی سے واپس بلا رہا تھا ،پھر دیکھئے بٹلر اپنی دروغ گوئی کو کس طرح آگے بڑھاتا ہے اپنی اسی کتاب میں لکھتا ہے، قیرس صلح کا یہ معاہدہ اسکندریہ لے گیا اپنی فوج کے جرنیلوں کو معاہدہ دکھایا اور شہر کے لوگوں میں بھی اس کی تشہیر کر دیں کوئی بھی نہیں مان رہا تھا قیرس نے جرنیلوں سے تو منوا لیا لیکن شہر کے لوگ اس معاہدے کو اپنی ذلت کا باعث سمجھ کر قیرس کے خلاف بھڑک اٹھے،،،،،،، 
لوگ اس وقت تو بہت ہی غضبناک ہو گئے جب انہوں نے دیکھا کہ مسلمانوں کی ایک جماعت گھوڑوں پر سوار شہر میں آ گئی ہے اور ایسی بے نیازی سے چلی آ رہی ہے جیسے یہ شہر عربی مسلمانوں کا اپنا ہو، کچھ لوگ ان پر لعن طعن کرنے لگے اور بہت شور و غل باپا کیا لیکن یہ مسلمان گھوڑسوار ان کی طرف دیکھ بھی نہیں رہے تھے،،،،،،،، 
شہر کے لوگوں کو معلوم تھا کہ ان کے اسقف اعظم قیرس نے مسلمانوں کے ساتھ معاہدہ کر لیا ہے لیکن لوگوں کو یہ گمان نہیں تھا کہ مسلمان اس شاہانہ انداز سے شہر میں آجائیں گے، شہر کے ان بھڑکے بپھرے ہوئے لوگوں نے اس محل پر دھاوا بول دیا جس میں قیرس رہتا تھا وہ پیرس کو قتل کردینے کے نعرے لگا رہے تھے،،،،،،،، 
اس شور و غل پر قیرس باہر نکل آیا اس کی شخصیت کا ایک خاص تاثر تھا وہ خوش گفتار بھی تھا اور اس کا تعلق شاہی خاندان کے ساتھ تھا، اور وہ سب سے بڑا مذہبی پیشوا بھی تھا، اس لیے لوگ اس کے جاہ و جلال سے فوراً متاثر ہو جاتے تھے، وہ شور و غل سن کر باہر آیا تو لوگوں کا غیض و غضب دیکھ کر گھبرایا، اس نے تقریر شروع کردی، قوت استدلال سے تو وہ مالا مال تھا اس نے ایسی پر اثر تقریر کی کہ لوگ نہ صرف یہ کہ ٹھنڈے ہو گئے بلکہ ایک دوسرے کو کوسنے لگے کہ انہوں نے اپنے مقدس بطریق اسقف آعظم کی توہین کر دی ہے،،،،،،،،،،، 
لوگ واپس چلے گئے معاہدے کے مطابق مسلمانوں نے جو جزیہ عائد کیا تھا وہ رقم گھروں سے لے آئے اور قیرس کے حوالے کردیں، اس کے علاوہ انہوں نے خاصا زیادہ سونا اکٹھا کیا اور یہ رقم اور سونا ایک کشتی میں رکھا شہر کے اندر سے ایک نہر گزرتی تھی کشتی اس میں کھڑی تھی یہ کشتی جنوبی دروازے سے باہر نکلی قیرس خود ساتھ گیا اور یہ مال سپہ سالار عمرو بن عاص کے حوالے کیا اور اس طرح اسکندریہ کی فتح اختتام کو پہنچی۔
یہ ہے وہ جھوٹ جو اہل صلیب مؤرخوں نے تاریخ میں شامل کرکے اس حقیقت پر پردہ ڈالنے کی مذموم کوشش کی ہے کہ مصر کی فتح اور وہاں سے رومیوں کا انخلا مسلمانوں کے شجاعت اور ایمان کی قوت کا کرشمہ ہے۔
حقیقت اس داستان میں تفصیل سے بیان کر دی گئی ہے جو یہ کہ مصر بزور شمشیر فتح کیا گیا تھا اور جو معاہدہ ہوا تھا وہ رومیوں کے ہتھیار ڈالنے کے بعد ہوا تھا، اس میں اہل اسکندریہ پر جزیہ عائد کیا گیا تھا جو دو دینار فی کس تھا۔ یہ صرف بالغ اور صحتمند مردوں پر عائد ہوا تھا، عورتیں، بچے، بوڑھے ،معذور، بے روزگار ،فقیر، مساکین ،اور دوسروں کے محتاج جزیہ سے مستثنی تھے۔
 ایلفریڈ بٹلر اور اس کی ذہنیت والے دوسرے مؤرخوں نے قیرس کو بڑا ہی بھلا مذہبی پیشوا ظاہر کیا ہے کہ اس نے بڑی شرافت سے اسکندریہ مسلمانوں کو پیش کردیا تھا لیکن تاریخ نے قیرس کی اصل ذہنیت بے نقاب کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، یہ تو آپ نے اس داستان میں پڑھ لیا ہے کہ قیرس نے درپردہ ہرقل کی بیوہ مرتینا کے ساتھ ساز باز کر رکھی تھی، مرتینا کے ساتھ اسکے ناجائز مراسم تھے، وہ بزنطیہ سے مرتینا کے ساتھ یہ پلان بنا کر آیا تھا کہ مصر سے مسلمانوں کو نکال باہر کرے گا اور مرتینا کو مصر بلا کر اسے مصر کی ملکہ بنا دے گا، اور مرتینا اپنے بیٹے ہرقلیوناس کے ساتھ مصر میں خودمختاری کا اعلان کردے گی۔
مصر میں وہ آیا تو جہاں بہت سے مبلغ ساتھ لایا وہاں خفیہ طور پر ایسے آدمی بھی ساتھ لایا تھا جو زمین دوز اور پراسرار طریقوں سے بڑے اونچے درجوں کی شخصیتوں کو قتل میں مہارت رکھتے تھے، مصر میں اس نے ایک طرف مبلغوں کو شہروں اور دیہات میں پھیلا دیا تھا کہ وہ عیسائیوں کو مسلمانوں اور اسلام کے خلاف مشتعل کریں، دوسری طرف اس نے سپہ سالار عمرو بن عاص کو قتل کروانے کا کام پیشہ ور قاتلوں کے سپرد کردیا۔
 اس کا یہ مشن جس بری طرح ناکام ہوا وہ سنایا جاچکا ہے، اس کے مبلغ پادری بھی کوئی نمایاں کامیابی حاصل نہ کر سکے، قبطی عیسائی قیرس کو پسند نہیں کرتے تھے وہ تو خوش تھے کہ مصر رومیوں کے ہاتھ سے نکل رہا ہے ،قیرس دراصل ایک ہاری ہوئی جنگ لڑ رہا تھا، اس کا شاید اسے خود بھی احساس تھا، اس لیے وہ اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آیا تھا۔ اس نے ایک اور حربہ استعمال کیا اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ سب سے بڑا مذہبی پیشوا ہوتے ہوئے اسے مذہب کا کتنا کچھ پاس تھا۔
اس نے مصر میں آتے ہیں بہت سی تربیت یافتہ جوان سال اور بڑی ہی خوبصورت لڑکیاں اسکندریہ میں اپنے پاس اکٹھی کر رکھی تھیں اور ایک اور ہی ٹریننگ دینی شروع کردی تھی۔ ان سے وہ سالاروں اور مجاہدین کی اخلاقی تخریبکاری کروانا چاہتا تھا ،ساتھ یہ بھی کہ ہر لڑکی ایسا موقع پیدا کر کے ایک ایک سالار کو قتل کردے ، قیرس کی زیادہ دلچسپی عمرو بن عاص کے قتل میں تھی،،،،،،،،،،، اس کا یہ حربہ بھی ناکام ہوا جا رہا تھا۔
آج کے روم کے ایک تاریخ نویس مائیکل کڈ سکیپ اور مصری مبصر اور وقائع نگار آذر سطوت نے یہ واقعہ تفصیل سے لکھا ہے اور مستند مورخوں کے حوالے دیے ہیں۔
انہوں نے لکھا ہے کہ قیرس کو توقع نہیں تھی کہ مسلمان اسکندریہ اتنی جلدی فتح کرلیں گے، اسے غالبا یہ توقع بھی تھی کہ مسلمان اسکندریہ فتح کر ہی نہیں سکیں گے، وہ سوچ رہا تھا کہ ان لڑکیوں میں سے تین چار کو باہر نکال دے اور وہ کسی طرح سپہ سالار عمرو بن عاص اور دوسرے سالاروں تک پہنچے اور مظلومیت کی کیا کیا کہانیاں سنا کر ان سالاروں کی ہمدردیاں حاصل کریں۔
 یہ اسے یقین تھا کہ جو لڑکی جس سالار کے خیمے میں داخل ہوگی اسے وہ اپنے جال میں لے لے گی اور اپنا کام کر گزرے گی۔
قیرس سوچتا ہی رہ گیا اور مجاہدین اسلام اس طرح اسکندریہ کے اندر نظر آنے لگے جیسے زمین میں سے ابھرے ہوئے ہوں، قیرس کا یہ حربہ دھرا رہ گیا اور مجاہدین شہر میں داخل ہوگئے، اس وقت قرس اپنے محل میں تھا اسے اطلاع ملی کہ مسلمان شہر میں آگئے ہیں تو اس پر سکتہ طاری ہو گیا، وہ ذرا جلدی سنبھل گیا اور باہر نکلا ،عمرو بن عاص محل کی طرف گئے تو قیرس نے آگے بڑھ کر ان کا استقبال کیا۔
ان کے درمیان ضروری گفتگو ہوئی، رومی فوج کے انخلاء کے لئے مہلت کا عرصہ طے ہوا ،اس عرصے کے اندر اندر رومی فوج کو اسکندریہ سے نکل جانا تھا ،قیرس مہلت کے اس عرصے میں اسکندریہ میں رہ سکتا تھا۔ عمرو بن عاص نے اسے قید میں نہ ڈالا وہیں رہنے دیا جہاں وہ رہتا تھا اسے مراعات سے محروم نہ کیا۔
اس نے مسلمانوں کا ممنون ہونے کی بجائے اپنی زمین دوز تخریبی سرگرمیاں جاری رکھی، اس پر کوئی پابندی نہیں تھی اس نے چھ سات لڑکیاں منتخب کرلیں۔
 وہ خاصا بوڑھا ہو چکا تھا۔ یہ بھی ایک وجہ تھی کہ مسلمانوں نے اس پر ایسی پابندی عائد نہ کی کہ لڑکیاں اس کے پاس نہ آئے، وہ مذہبی پیشوا تو تھا ہی، اس پر ایسا شک تو کیا ہی نہ گیا کہ اس کے پاس یہ جو لڑکیاں آتی جاتی رہتی ہیں انہیں وہ کسی تخریب کاری کے لیے تیار کر رہا ہے۔
یہ دونوں تاریخ نویس لکھتے ہیں کہ مسلمانوں کا اپنا کردار ایسا تھا کہ ان لڑکیوں کی طرف انہوں نے کبھی اس خیال سے دیکھا ہی نہیں تھا کہ یہ بہت حسین اور دلنشین لڑکیاں ہیں، اور یہ ان کے رحم و کرم پر ہیں، کردار کی بلندی کے علاوہ سالاروں اور لشکر کے مجاہدین کو اتنی ہوش اور مہلت میسر نہیں تھی کہ وہ تفریح طبع کی بھی سوچتے وہ اتنے بڑے شہر کے ہر کونے کھدرے کو دیکھتے پھر رہے تھے کہ رومی فوجی تخریب کاری کے لیے کہیں چھپے نہ رہ جائیں ،یا شاہی خزانے کا مال کہیں چھپانا رہے ہو کہ جاتے ہوئے ساتھ لے جائیں گے۔
شہر میں افراتفری کا سا ساماں تھا رومی فوجیوں کو نہتا کر دیا گیا تھا اور وہ شہر سے نکل رہے تھے، بعض شہری بھی جا رہے تھے، شہر کا نظم و نسق اور امن و امان بھی معمول پر لانا تھا لوگ دیکھ رہے تھے کہ مسلمان لوٹ مار تو دور کی بات ہے کسی گھر کی طرف دیکھ ہی نہیں رہے، پھر بھی وہ اس اندیشے سے آزاد نہیں تھے کہ یہ مسلمان فاتحین جزیے کے علاوہ ان سے اور کچھ بھی جو چاہیں گے لے لیں گے، وہ اپنے مال و اموال اور جوان عورتوں کو محفوظ نہیں سمجھتے تھے۔
قیرس کو ابھی تک یہ توقع تھی کہ اس افراتفری اور نفسانفسی کی کیفیت سے فائدہ اٹھا کر ایسی تخریب کاری میں کامیاب ہوجائے گا کہ رومی فوجی اور شہری مجاہدین اسلام پر دھاوا بول دیں گے اور انہیں اسکندریہ سے نکالا جاسکے گا ،اس نے دو جرنیلوں کو اعتماد میں لے لیا تھا وہ لڑکیوں کو سالاروں کے قتل کے لئے تیار کر رہا تھا، اور انھیں یہ بھی بتا رہا تھا کہ دھوکے میں سالاروں کو شراب پلا کر مدہوش کر دیں۔ یہ ایک قدرتی حقیقت ہے کہ ایک حسین و جمیل لڑکی کسی بھی مرد کو شراب کے بغیر بھی مدہوش کر سکتی ہے۔
آخر چند ہی دنوں بعد شہر میں امن و سکون اور نظم و نسق کی کیفیت بحال ہوگی، کوئی ایک بھی لڑکی کسی سالار کو اپنے جال میں نہ لاسکی شہر کے لوگوں کو یقین ہوگیا کہ اب وہ محفوظ ہیں، مسلمانوں نے انہیں حسن اخلاق سے اور رویے سے یہ یقین دلایا تھا۔ قیرس مایوس ہوا جا رہا تھا اس کے فوجی شہر سے ہمیشہ کے لئے چلے گئے تھے۔ شہری جو جانا چاہتے تھے وہ بھی جا چکے تھے، شہر میں جو لوگ رہ گئے ان میں اکثریت قبطی عیسائیوں کی تھی ،قبطی بہت خوش تھے کہ رومی گئے، لیکن ابھی یہ خدشہ دل میں موجود تھا کہ مسلمان نہ جانے ان کے ساتھ کیا سلوک کریں گے ،مسلمانوں نے شہری حالات اور انتظامات معمول پر لاکر اعلان کردیا کہ اسلام قبول کرنے والوں کو کیا مراعات ملیں گی، اور کسی کے مذہب اور عبادت گاہوں میں دخل اندازی اور جبر نہیں ہوگا ،مختصر یہ کہ مذہبی آزادی کا اعلان کردیا گیا۔
اب قبطی عیسائی مسلمانوں کے محکوم ہوتے ہوئے اپنے آپ کو آزاد سمجھنے لگے ،انہوں نے ہرقل اور قیرس کے جور و استبداد میں زندگی گزاری تھی بلکہ انکی نسلیں رومیوں کی غلام چلی آ رہی تھیں، اب انہیں آزادی ملی تو انہوں نے اپنے اصل اسقف اعظم بنیامین کو جو پہلے ہی اسکندریہ میں موجود تھا کہا کہ وہ آزادی کا جشن منانا چاہتے ہیں، بنیامین نے انھیں کہا کہ وہ سپہ سالار سے اجازت لے دے گا۔
اس داستان میں بنیامین کا بڑا تفصیلی ذکر آیا ہے ،ہرقل نے بنیامین کی گرفتاری کا حکم دے دیا ،اور قیرس کو اپنی بنائی ہوئی عیسائیت کا اسقف اعظم بنا دیا تھا ،بنیامین صحرا میں جا روپوش ہوا اور برسوں گزر گئے تھے ،اب ہرقل اور اس کے بیٹے قسطنطین کی موت کے بعد قیرس بزنطیہ سے اسکندریہ واپس آیا تو اس نے بنیامین کو روپوشی سے واپس بلا لیا تھا، اور اسے کہا تھا کہ قبطی عیسائیوں کو مسلمانوں کے خلاف لڑنے کے لیے تیار کرے، بنیامین نے اسے کہا تھا کہ قبطی نہ رومیوں کا ساتھ دیں گے نہ مسلمانوں کا۔
 قبطی تو رومیوں کے خلاف بغاوت پر اترے ہوئے تھے، لیکن بنیامین نے انہیں روک دیا تھا۔ اب مسلمانوں نے اسکندریہ پر قبضہ کرلیا تو بنیامین قیرس سے الگ ہو گیا اور محل سے نکل کر ایک عام سے مکان میں رہتا تھا۔
بنیامین نے سپہ سالار عمرو بن عاص قبطی عیسائیوں کو جشن آزادی منانے کی اجازت دے دی، لوگ شام کے بعد رات تاریک ہوتے ہی گھروں سے نکل آئے اور ٹولیوں کی صورت میں باغوں اور سرسبز میدانوں میں جا کر ناچنے گانے اور شراب نوشی کرنے لگے، بڑا ہی پرلطف ہنگامہ تھا جو رات گزرنے کے ساتھ بڑھتا ہی جا رہا تھا۔
مورخ بلاذری نے اس جشن کے متعلق اتنا ہی لکھا ہے اس رات قبطی عیسائیوں سے اور شہر کے دیگر لوگوں نے ایسی رنگ رلیاں منائیں، جو رومی دور حکومت میں وہ بھول ہی گئے تھے۔ انہوں نے جذباتی اور جسمانی عیاشیوں کا ہر طریقہ اختیار کیا اور محفلیں ایسی جمائی کے نیک و بد کی تمیز بھی نظرانداز کردی۔
تین اور مؤرخوں نے بھی اس جشن کے متعلق کچھ ایسے ہی ایک ایک دو دو جملے لکھے ہیں، تفصیل رومی اور مصری تاریخ نویسوں نے لکھی ہے وہ لکھتے ہیں کہ جشن منانے والے اخلاقیات کی حدود پھلانگ گئے، اپنی پرائی بیویوں کی بھی تمیز اور پہچان ختم ہو گئی، یہ شراب نوشی کے کرشمے تھے ،مسلمان اس جشن میں شامل نہیں تھے وہ صرف یہ دیکھ رہے تھے کہ دنگا فساد نہ ہو امن وامان رہے۔
قیرس نے اس موقع سے یہ فائدہ اٹھایا کہ جن چھ لڑکیوں کو وہ شہر پر مسلمانوں کے قبضہ کے دن سے ایک خاص ٹریننگ دے رہا تھا، جشن کی شام بلایا، انہیں تازہ پھولوں کے ہار دیئے، لباس ایسا پہنایا جس میں وہ نیم عریاں تھیں، ہر ایک کو گلاب کا ایک ایک پھول دیا۔
کسی اور تاریخ نویس نے لکھا ہے کہ پھولوں پر کوئی ایسا تیز زہر ملا ہوا تھا جس کی بو یہ پھول سننے والے کے پھیپڑوں میں جا کر اسے کچھ ہی دیر بعد ہلاک کر ڈالتی، یا دماغ پر ایسا اثر کرتی تھی کہ دماغی توازن پاگلوں کی طرح بگڑ جاتا تھا۔
دوسرے دونوں مورخوں نے ان پھولوں کا ذکر نہیں کیا، انھوں نے لکھا ہے کہ قیرس نے ان لڑکیوں سے کہا کہ ایک لڑکی سپہ سالار عمرو بن عاص کے پاس اور باقی پانچ ایک ایک سالار کے پاس جائے انہیں جشن کے حوالے سے ہار پہنائے اور اپنا آپ اس طرح پیش کریے کہ وہ بد مست ہوکر انہیں قبول کرلے ،انہیں یہ پھول پیش کریں اور انھیں تھوڑی سی شراب پینے پر اکسائے شراب فوراً مل جائے گی ،گلاب کا یہ پھول شراب میں ڈبو کر شراب پلا دینا خواہ وہ ایک ہی گھاٹ پئے کام ہوجائے گا۔
لڑکیوں کو ٹریننگ دی جا چکی تھی اور وہ بہت ہی ذہین اور مکار لڑکیاں تھیں، سالار اس محل سے جس میں قیرس رہتا تھا کچھ دور کسی اور طرف رہتے تھے۔ لڑکیاں قیرد سے رخصت ہوکر چل پڑیں، راستے میں دو الگ ہوگئی کیونکہ ان کے شکار کسی اور طرف رہتے تھے، راستے میں لوگ جشن منا رہے تھے ناچتے گاتے ان پر دیوانگی طاری ہو گئی تھی، شراب اپنا رنگ دکھا رہی تھی۔
اس ٹولی نے دو لڑکیوں کو دیکھ لیا، وہ جواں سال اور کچھ نوجوان تھے، لڑکیوں کے لباس اور ہاتھوں میں ہار دیکھ کر وہ سمجھیں کہ یہ لڑکیاں جشن منانے نکلی ہیں، ان سب نے انہیں بازوؤں پر اٹھا اٹھا کر پیار سے اچھالنا شروع کر دیا، لڑکیاں انہیں بتا نہیں سکتی تھی کہ وہ کسی اور مشن پر جا رہی ہیں، وہ ہستے مسکراتے ان آدمیوں سے آزاد ہونے کی کوشش کر رہی تھیں، دو آدمیوں نے انہیں بازوؤں میں لے کر رقص میں شامل کرلیا۔
اتنے میں بنیامین کا ادھر سے گزر ہوا ایک لڑکی نے اسے دیکھ لیا وہ بنیامین کو جانتی تھی اور اسے یہ بھی معلوم تھا کہ بنیامین قیرس کے ساتھ اس لئے رہتا ہے کہ وہ بھی اسقف اعظم ہے، اور مسلمانوں کے خلاف دونوں کا مشن ایک ہے، لڑکی ایک آدمی کے بازوؤں سے نکل کر بنیامین کے پاس دوڑتی پہنچی اور اسے بتایا کہ ان دونوں کو کس کام کے لئے بھیجا گیا تھا اور لوگوں نے انہیں روک کر سارا کھیل بگاڑ دیا ہے۔
بنیامین چونک اٹھا، قیرس نے اسے اس راز میں شریک کیا ہی نہیں تھا، سالاروں کے قتل کی یہ سازش اسے بتائی ہی نہیں تھی، بنیامین نے دوسری لڑکی کو بھی بلا لیا اور اس سے پوچھا کہ باقی چار لڑکیاں کہاں ہیں؟،،،، ان دونوں نے اسے بتایا تو بنیامین انہیں اپنے ساتھ لیا اور اپنے گھر لے جا کر ایک کمرے میں بند کر دیا، باہر نکلا اور اس طرف دوڑ پڑا، جدھر چار لڑکیاں گئی تھیں، اسے معلوم تھا سالار کہاں کہاں رہتے ہیں۔
سارا شہر جاگ رہا تھا روشنی ہی روشنی تھی لیکن اس طرف اندھیرا تھا جہاں سالار رہتے تھے ،سنتری ٹہل رہے تھے بنیامین ہر سنتری سے پوچھا کہ ادھر تین چار لڑکیاں تو نہیں آئیں، ہر سنتری نے تقریبا ایک جیسا ہی جواب دیا کہ ادھر لڑکیوں کا کیا کام۔
بنیامین لڑکیوں کو ڈھونڈتا پھرا لیکن اسکندریہ کوئی چھوٹا سا شہر نہ تھا کہ وہ رات ہی رات لڑکیوں کو ڈھونڈ نکالتا، صبح تک اسے لڑکیاں نہ ملی، البتہ باغوں اور میدانوں میں اور جہاں جہاں رات جشن منایا گیا تھا وہاں کچھ آدمی کھلے آسمان تلے پڑے بے ہوشی کی نیند سوئے ہوئے تھے، رات وہ اتنی زیادہ پی گئے تھے کہ جہاں گرے صبح تک وہیں پڑے رہے۔ چار لڑکیوں کا وہاں نام و نشان نہ تھا ،بعد دوپہر چار مختلف گھروں سے لڑکیاں مل گئیں، جشن منانے والوں نے رات بھر انہیں اپنے ساتھ رکھا تھا انہیں اتنی زیادہ شراب پلائی گئی تھی کہ ہوش و حواس کھو بیٹھی تھیں، چار آدمی ایک ایک لڑکی کو اپنے گھروں میں لے گئے تھے کہ باہر خراب نہ ہوتی پھریں، 
بنیامین ان چاروں کو اپنے ساتھ لیا اور گھر لے گیا اوہ ساری رات پریشان رہا تھا کہ کوئی لڑکی کسی سالار کے پاس پہنچ ہی نہ گئی ہو، اور ایسا نہ ہو کہ کوئی سالار کسی لڑکی کے دھوکے میں آ کر مارا جائے، بنیامین نے ان سے پوچھا کہ وہ کہاں جا رہی تھیں؟،،،،،،، چاروں نے بنیامین کو قیرس کا قابل اعتماد دوست سمجھتے ہوئے اصل بات بتا دیں، وہ خوش تھا کہ کوئی لڑکی کسی سالار تک نہیں پہنچ سکی تھی۔
 عمرو بن عاص اور دیگر سالاروں کا ایمان ایسا کمزور تو نہیں تھا، ان میں سوائے ایک دو کے سب صحابہ کرام تھے، لیکن بنیامین کی اپنی سوچ تھی جس میں ہمدردی اور خلوص تھا، وہ ان سالاروں کا ممنون تھا کہ انہوں نے قبطی عیسائیوں کو رومیوں سے نجات دلائی تھی۔
 وہ لڑکیوں کو اپنے گھر چھوڑ کر قیرس کے پاس گیا اور اس پر برس پڑا۔
تم قتل کے سوا کچھ بھی نہیں جانتے۔۔۔۔ بنیامین نے کہا۔۔۔۔ تم نے ہزارہا قبطیوں کو قتل کروا دیا تھا ۔کیا تم نے سالاروں کو لڑکیوں کے ہاتھوں زہر دلوا دیا ہے؟ 
لڑکیاں کہاں ہیں؟،،،،، قیرس نے دبی دبی زبان میں پوچھا۔
میرے پاس۔۔۔۔ بنیامین نے جواب دیا ۔۔۔میں انہیں اپنے گھر چھوڑ آیا ہوں، جنگجو قوموں کے آدمی میدان میں اتر کر لڑا کرتے ہیں تمہاری طرح لڑکیوں سے دشمن کو نہیں مروایا کرتے، اگر میں ان لڑکیوں کو سپہ سالار کے پاس لے جاؤں اور وہ اسے بتائیں کہ تمہاری شازش کیا تھی تو جانتے ہو تم کس انجام کو پہنچو گے؟،،،،،،،قتل،،،،،، مسلمانوں کا سپہ سالار تمہیں زندہ نہیں چھوڑے گا لیکن میں تمھیں زندہ رکھنا چاہتا ہوں کہ اتنی بڑی شکست کی اذیت برداشت کرتے رہو اور گمنامی میں پڑے رہو ۔
یہ بنیامین کے کردار کی بلندی تھی کہ سپہ سالار عمرو بن عاص کو بتائے بغیر اس نے ان کا احسان چکا دیا تھا۔
فتح مصر کے بعد کی ایک اور دلچسپ بات سن لیں۔ اس داستان اور نیل بہتا رہا میں ایک واقعہ سنایا گیا ہے کہ عیسائیوں کا ایک فرقہ سال میں ایک خاص دن عید صلیب منایا کرتا تھا، اس دن ایک رسم ادا کی جاتی تھی جس میں ایک نوجوان لڑکی کو عروسی لباس اور بڑی قیمتی زیورات پہنا کر دریائے نیل میں پھینک دیا جاتا تھا اور لڑکی ڈوب کر مر جاتی تھی، اس لڑکی کو نیل کی دلہن کہا جاتا تھا، اس فرقہ کا عقیدہ یہ تھا کہ کسی سال نیل کی یہ قربانی نہ دی جائے تو اس کا بہاؤ رک جاتا ہے اور اس کے دونوں طرف کے کھیت خشک ہوجاتے ہیں اور فصل نہیں اگتی جس کا نتیجہ قحط ہوتا ہے۔
عیسائیت ایسی توہم پرستی بلکہ خرافات میں بالکل یقین نہیں رکھتی تھی، وہ کوئی ایسا فرقہ تھا جو خود کو عیسائی کہلاتا تھا، بنیامین بھی اس ظالمانہ رسم کے خلاف تھا اور قیرس بھی، رومیوں کے دور حکومت میں یہ رسم ممنوع تھی اور اسے قتل سمجھا جاتا تھا ،اس کے باوجود شہروں سے دور ہر سال یہ رسم ادا ہوتی تھی۔ بعض مؤرخ لکھتے ہیں کہ یہ رسم دراصل فرعونوں کے زمانے سے چلی آ رہی تھی اور فرعون اس میں یقین رکھتے تھے۔ عمر بن عاص نے مصر فتح کر لیا تو اس فرقے کا ایک وفد ان کے پاس آیا، چونکہ حکمران رومیوں نے نیل کی دلہن والی رسم کو جرم قرار دے رکھا تھا اس لئے وہ مصر کے فاتح سپہ سالار عمرو بن عاص جو اب امیر مصر بھی تھے کہ پاس یہ استدعا لے کرآئے کہ انھیں یہ رسم جاری رکھنے کی اجازت دی جائے، عید صلیب کو دو ماہ باقی تھے۔
عمرو بن عاص نے انہیں بتایا کہ دین اسلام توہم پرستی اور بت پرستی کو ختم کرنے کے لیے اللہ نے اتارا ہے، عبادت اسی ایک اللہ کی کی جاتی ہے جس کے حکم سے دریا بہہ رہے ہیں اور دریاؤں کی روانی کو کوئی روک نہیں سکتا ۔
عمرو بن عاص نے انہیں یہ بھی کہا کہ وہ عیسائی ھیں، لیکن یہ نہیں جانتے کہ عیسائیت میں بھی توہم پرستی گناہ ہے ،لیکن یہ رسم ان لوگوں کے دلوں میں اتنی گہری اتری ہوئی تھی کہ وہ اس کے خلاف کوئی بات کوئی دلیل تسلیم کرنے کو تیار ہی نہیں تھے۔
امیر مصر!،،،،،،، وفد کے ایک آدمی نے کہا۔۔۔ اگر آپ نے ہمیں یہ رسم ادا کرنے کی اجازت نہ دیں تو ہم یہاں سے نقل مکانی کر جائیں گے، کیونکہ نیل کو اس کی دلہن نہ دینے سے نیل اپنا بہاؤ روک دے گا، ہم قحط سالی برداشت نہیں کر سکیں گے، عید صلیب کو صرف دو مہینے باقی ہیں۔
عمرو بن عاص ایسا کر سکتے تھے کہ سختی سے حکم دیتے کہ وہ ایسی خرافات کی اجازت نہیں دے سکتے، لیکن انہوں نے بہتر یہ سمجھا کہ ان لوگوں کو کسی ایسے طریقے سے اس توہم پرستی سے ہٹایا جائے کہ ان کے جذبات کو ٹھیس بھی نہ پہنچے اور یہ راہ راست پر آجائے، انہوں نے ان لوگوں سے کہا کہ وہ اپنے امیرالمومنین سے پوچھ کر کوئی فیصلہ کریں گے، وہ دراصل ان لوگوں پر یہ تاثر قائم کرنا چاہتے تھے کہ اسلام میں کوئی بادشاہ نہیں ہوتا جو اپنا حکم چلاتا ہے اور زبردستی رعایا سے منواتا ہے۔
عمرو بن عاص نے اسی روز اس رسم کی تفصیل لکھوائی اور ایک پیغام امیرالمومنین حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے نام مدینہ بھیج دیا۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے پیغام پڑھا تو انہوں نے بھی یہی سوچا کہ ان بھٹکے ہوئے لوگوں کو کسی طریقے سے ہی قائل کیا جائے، انہوں نے پیغام کا جواب فوراً دیا اس پیغام کے ساتھ ایک الگ پیغام نیل کے نام تھا، قاصد نے اتنا طویل سفر اتنی جلدی طے کیا کہ عید صلیب سے کچھ دن پہلے مدینہ سے اسکندریہ پہنچ گیا۔
عمرو بن عاص نے اپنے نام پیغام پڑھا جس میں امیرالمومنین نے انہیں کچھ ہدایات لکھی تھی، پھر نیل کے نام پیغام پڑھا اور اس فرقے کے وفد کو بلوایا یہ لوگ اسکندریہ میں ہی رکے ہوئے تھے، اطلاع ملتے ہی آگئے، عمرو بن عاص نے انہیں حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کا نیل کے نام لکھا ہوا پیغام پڑھ کر سنایا، تحریر یوں تھی۔
اللہ کے بندے امیرالمومنین عمر (رضی اللہ تعالی عنہ) کی طرف سے مصر کے دریائے نیل کے نام!،،،،،،، امابعد اگر تو اپنی مرضی سے بہتا ہے تو نہ بہہ، رک جا ، اور اگر تیرے بہاؤ کو رواں دواں رکھنے والا اللہ وحدہٗ لا شریک ہے ،تو ہم اسی کے نام پر تجھ سے عرض کرتے ہیں کہ اسی کے حکم سے بہتا رہے، اپنی روانی میں ایک لمحے کی بھی رکاوٹ نہ آنے دے۔
 اس فرقے کے وفد کا ہر فرد مایوس نظر آنے لگا، لیکن عمرو بن عاص نے کہا کہ وہ خود یہ پیغام نیل کے سپرد کریں گے اور دیکھیں گے کہ نیل بہتا رہے گا یا رک جائے گا۔
عید صلیب اس مہینے کی بارہ تاریخ کو منائی جاتی تھی، اس صبح عمرو بن عاص خود دریائے نیل کے کنارے اس جگہ پہنچے جہاں انہوں نے وفد کو پہنچنے کے لئے کہا تھا، وفد کے علاوہ وہاں اور بھی بہت سے لوگ اکٹھے ہو گئے تھے، عمرو بن عاص نے نیل کے نام امیر المومنین کا پیغام بلند آواز سے پڑھ کر دریا میں پھینک دیا اور پھر لوگوں سے کہا کہ اگلے روز آکر دیکھیں کہ نیل بہہ رہا ہے یا رک گیا ہے۔ اگلے روز لوگوں کا ایک ہجوم دریا کے کنارے جا پہنچا، نیل بہہ رہا تھا اس کے بعد کئی روز جا کر دیکھتے رہے نیل بہ رہا تھا، اور پھر نیل بہتا رہا۔
یہاں ایک وضاحت ضروری معلوم ہوتی ہے بعض تاریخ نویسوں نے اس روایت کو غلط رنگ میں پیش کیا ہے انہوں نے لکھا ہے کہ دریا کا بہاؤ رک گیا تھا اور لوگ پریشان ہو گئے تھے کہ یہ اچھا شگون نہیں پھر انہوں نے لکھا کہ عمرو بن عاص نے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کا پیغام دریا میں پھینکا اور دریا بہنے لگا۔
بعض نے یوں لکھا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کا پیغام جب نیل میں پھینکا گیا تو اس وقت نیل بہہ رہا تھا اگلی صبح دیکھا گیا کہ رات ہی رات دریا کا پارٹ سولہ ہاتھ چوڑا ہو گیا۔
یہ دونوں روایات بالکل بے بنیاد ہے۔ اگر ہم انہیں صحیح مان لے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ عیسائیوں کے اس فرقے کی توہم پرستی صحیح اور جائز تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ عربوں کو اللہ نے غیر معمولی ذہانت اور باریک بینی کی صلاحیت عطا فرمائی تھی۔ عمرو بن عاص اور حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ ان لوگوں کو قائل کرنے کے لیے یہ طریقہ سوچا تھا، انہیں یقین تھا کہ ایسا ہو ہی نہیں سکتا کہ کسی دریا کا بہاؤ رک جائے ان کا یہ طریقہ کامیاب رہا اور یہ رسم جس میں ایک معصوم لڑکی کی جان چلی جاتی تھی ہمیشہ کے لئے ختم ہوگئی۔
مجاہدین عرب نے جب کسریٰ ایران کو شکست دے کر اس کے محلات پر قبضہ کیا تھا تو وہ اس کے آباؤ اجداد کی پوشاکیں اور وہاں کے خزانے دیکھ کر حیران رہ گئے تھے ۔
ایسی ہی ایک پوشاک امیرالمومنین حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کو بھیجی گئی تھی۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی آنکھیں حیرت سے جیسے ٹھہر ہی گئی تھیں، ان بے بہا خزانوں کے علاوہ وہاں اور کوئی خاص قابل ذکر چیز نہیں تھی، لیکن اسکندریہ شہر نے عرب کے فاتح مجاہدین کو مبہوت اور انگشت بدنداں کر دیا تھا۔
یہ شہر عجائبات کا خزانہ تھا اسے سکندر اعظم نے آباد کیا تھا۔ سکندر اعظم کا مقبرہ جو فن تعمیر کا ایک اعلیٰ نمونہ تھا اسکندریہ میں ہی ہے۔ اس شہر میں عبادت گاہیں اور مختلف مذاہب کے پیغمبروں کے مقبرے ہیں۔ جن میں بعض سنگ مرمر کے بنے ہوئے تھے۔ فرعونوں کی ملکہ مصر قلوپطرہ کی تعمیرات بھی اس وقت تک موجود تھیں۔
اتنے وسیع و عریض شہر میں ایک سے بڑھ کر ایک خوبصورت مینار تھا ،اگر ہم ان میں سے ہر ایک کو تفصیل سے بیان کرنے لگے تو ایک الگ کتاب بن جائے، لیکن یہاں اتنا ہی کہیں گے کہ یہ حیران کن حد تک خوبصورت باغات اور تعمیرات کا شہر تھا، ہم صرف ایک مینار کا ذکر کریں گے جو سکندر اعظم کے بعد ایک یونانی بادشاہ بطلیموس ثانی نے سمندر میں ایک چٹان پر تعمیر کروایا تھا، اس کے متعلق اتنا ہی کہہ دینا کافی ہونا چاہئے کے اس کا شمار دنیا کے سات عجائبات میں ہوتا رہا ہے، یہ سنگ مرمر سے زیادہ سفید پتھروں سے بنایا گیا تھا۔ دن کے وقت یہ پتھر چمکتے تھے رات کو اس مینار میں آگ جلا دی جاتی تھی، اس مینار کا مقصد بحری جہازوں کی رہنمائی تھا ۔
یہ مینار تین سو ہاتھ بلند تھا ،اور اس کی چار منزلیں تھیں ،پہلی منزل چوکور تھی، دوسری منزل کے آٹھ پہلو تھے، تیسری منزل گول تھی، اور چوتھی منزل بلکل کھلی ہوئی تھی جہاں جہازوں کی رہنمائی کے لیے آگ جلا دی جاتی تھی۔
آگ والی جگہ ایک بہت بڑا آئینہ نصب تھا کوئی بھی نہ جان سکا کہ یہ آئینہ کس دھات سے بنایا گیا تھا ،ایک خیال یہ ہے کہ یہ شفاف پتھر سے بنا تھا، یہ آئینہ سات ہاتھ لمبا اور اتنا ہی چوڑا تھا، دن کو دھوپ اس میں سے منعکس ہوتی تھی جس کی چمک دور دور تک نظر آتی تھی، اور رات کو اس کی روشنی منعکس ہوکر بہت دور تک پہنچتی اور جہازوں کی رہنمائی کرتی تھی۔
اس آئینے کے متعلق کچھ اور روایات بھی تاریخ میں ملتی ہیں جن میں ایک ہی قابل ذکر ہے ،وہ یہ کہ یونانیوں نے یہ آئینہ دشمن کے جہازوں کو جلانے کے لئے اس مینار پر نصب کیا تھا، اس کا استعمال یہ تھا کہ دور سے دشمن کا بحری بیڑہ نظر آتا تو اس آئینے کو اس زاویے پر کردیا جاتا تھا کہ سورج کی کرنیں مرکوز ہو کر دشمن کے جہازوں کے بادبانوں پر پڑتی اور بادبانوں کو آگ لگ جاتی تھی، معلوم نہیں یہ روایت کہاں تک صحیح ہے لیکن مصدقہ بعد یہی ہے کہ اس آئینے کی چمک سے جہازوں کی رہنمائی ہوتی تھی۔
ہم اس مینار کا انجام پیش کرتی ہیں، ایک وہ مجاہدین تھے جنہوں نے عجائبات زمانہ سے بھرپور ملک فتح کیا تھا ،اس کے متعلق عمرو بن عاص نے امیرالمومنین کو لکھا تھا کہ میں نے ایک ایسا شہر فتح کیا ہے جس کی تعریف نہیں کی جاسکتی، بس یہ کہہ سکتا ہوں کہ یہاں چار ہزار عمارتیں اور اتنے ہی حمام ہیں، اور چار سو شاہی رقص گاہیں ہیں۔
عمرو بن عاص نے اور ان کے بعد خلفاء راشدین کے زمانے میں مصر کے جتنے امیر مقرر ہوئے ان عمارات ،میناروں اور دیگر عجائبات کو بڑی صحیح حالت میں رکھا، لیکن چند سو برس بعد وہ خلفاء آگئے جن کی دلچسپی خزانوں کے ساتھ تھی اور ان کے انداز بادشاہوں جیسے تھے، ان میں ایک خلیفہ ولید بن عبدالمالک تھا۔
تاریخ میں یوں آیا ہے کہ رومی مسلمانوں سے مصر تو واپس نہ لے سکے لیکن مسلمانوں کی دشمنی نسل بعد نسل ان کے دلوں میں قائم رہی، رومیوں نے مسلمانوں کو بد نام کرنے کا یہ طریقہ اختیار کیا کہ ایک رومی خلیفہ ولید کے پاس گیا اور قبول اسلام کی خواہش ظاہر کی، اس نے یہ بھی بتایا کہ وہ شاہ روم کا خاص آدمی تھا لیکن بادشاہ اس سے ناراض ہو گیا اور اسے قتل کروانا چاہتا تھا لیکن وہ بھاگ آیا ہے۔
اس شخص نے خلیفہ ولید پر اپنا اعتماد اس طرح بیٹھا لیا کہ اسے مصر کے کچھ مدفون خزانوں کا علم ہے، ولید نے اسے اپنا مقرب بنا لیا ،اس شخص نے شام میں دو جگہوں کی نشاندہی کی، ولید نے وہاں جاکر کھدائی کروائی تو خزانے برآمد ہوئے، اس کے بعد اس نے ولید کو بتایا کہ اسکندریہ میں جہازوں کی رہنمائی کے لیے جو مینار کھڑا ہے اس کے نیچے سونے اور جواہرات کے بہت بڑے خزانے دفن ہیں۔
خلیفہ ولید فوراً اسکندریہ پہنچا اور اتنے قیمتی کار آمد اور خوبصورت مینار کو گرانے کے لئے ایک فوجی دستہ لگادیا، مینار گرتا رہا اور دیکھتے رہے کہ خزانہ کہاں سے برآمد ہوتا ہے، لیکن خزانہ ہوتا تو برآمد ہوتا، مینار مسمار کردیا گیا اور نیچے سے سمندری چٹان برآمد ہوئی ، اس رومی کو ڈھونڈنے لگے جس نے خزانے کا پتہ دیا تھا لیکن وہ غائب ہو گیا تھا۔ مینار دوبارہ تعمیر کیا گیا مگر عجیب بات یہ ہوئی کہ جب اس میں آئینہ نصب کیا گیا تو اس کی چمک ختم ہو چکی تھی اور اب یہ محض بیکار تھا اب وہاں اس مینار کی بنیادوں کے کچھ آثار ملتے ہیں۔
مصر آج بھی اپنے دامن میں مختلف تہذیبوں کے آثار لیے ہوئے ہے، جن میں فرعونوں کے احرام ابوالہول کا مجسمہ، اور کچھ دیگر تعمیرات قابل ذکر ہیں، لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ جن مجاہدین نے فرعونوں کا یہ ملک فتح کر کے سلطنت اسلامیہ میں شامل کیا تھا وہ ہے تو آج بھی عالم اسلام کا ایک ملک، لیکن اس ملک کے آج کے حکمرانوں نے امریکہ اور اسرائیل کی دوستی میں اللہ کے نام لیواؤں کی سرکوبی کے لئے فرعونیت رائج کر رکھی ہے۔
*~~~~~~~~۔~~~~*
رب کعبہ سے التجا ہے کہ ہم سب مسلمانوں کو یکجہتی، جہاد فی سبیل للہ میں قربانی پیش کرنے کا جزبہ و ناموس رسالت پر مر مٹنے کا شوق عطا فرمائے ۔ اور اپنى رحمتوں کے سائے میں رکھے، ظاہری، باطنی، روحانی اور جسمانی تکالیف سے محفوظ فرمائے۔
راحت جان، اطمینان قلب، رزق حلال اور صحت مند عمر عطا فرمائے، اور اپنے علاوہ کسی اور کا محتاج نہ کرے۔
آمين یارب العالمین بجاہ سید المرسلین علیہ افضل الصلاۃ والسلام والتحیۃ والتسلیم وعلٰی آلہ وصحبہ اجمعین وبارک وسلم تسلیما کثیرا

ان شا‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌ءاللہ بشرط زندگی صحت اور تندرستی پھر سے نئےناول کےساتھ حاضر ہونگا تب تک کےلیے اجازت دیجئیے 

No comments:

غازی از ابو شجاع ابو وقار قسط نمبر60 Ghazi by Abu Shuja Abu Waqar

Ghazi  by  Abu Shuja Abu Waqar  غازی از ابو شجاع ابو وقار  پیشکش محمد ابراہیم 60 آخری قسط نمبر  Ghazi by Abu Shuja Abu...

Powered by Blogger.