Ads Top

غازی از ابو شجاع ابو وقار قسط نمبر59 Ghazi by Abu Shuja Abu Waqar

Ghazi

 by 

Abu Shuja Abu Waqar 

غازی از ابو شجاع ابو وقار قسط نمبر59  Ghazi by Abu Shuja Abu Waqar

غازی از ابو شجاع ابو وقار
 پیشکش محمد ابراہیم
59قسط نمبر
 Ghazi by Abu Shuja Abu Waqar 
Presented By Muhammad Ibraheim
 Episode 59
وہ مجھے کیسے بتاتا کہ جبیں سعیدہ اور جمشید پاکستانی مہاجر نہیں تھے بلکہ مالتی کوشلیا اور چمن لال بھارتی جاسوس تھے. اور ڈی ایم آئی کے یہ جاسوس برسوں کی سخت ٹریننگ کے بعد پاکستان جا رہے تھے. کہ راستے میں ہی غائب ہو گئے. میں نے کہا کرنل صاحب کھل کر اور صاف بات کیجئے.
کرنل نے بہت مجبور ہو کر کہا کہ مالتی کوشلیا اور چمن لال کل سے غائب ہیں. اور ان کا کوئی سراغ نہیں مل رہا.
میں نے کہا کہ میں ان میں سے کسی کو بھی نہیں جانتا. کرنل نے گھمبیر آواز میں کہا کہ مالتی تو مریم کی ٹیوٹر تھی. میں ہنس پڑا. کرنل صاحب لگتا ہے آپکو بہت بڑا مغالطہ ہوا ہے. مریم کی ٹیوٹر تو جبیں تھی اور وہ کل بھی اسے ٹیوشن دینے آئی تھی. کرنل آنند پھر خاموش ہو گیا. وہ بھی بھارتی فوج کا کرنل اور ملٹری اٹاچی تھا. میرے سامنے اپنی گھناؤنی سازش کے پردے اٹھاتے ہوئے خفت محسوس کر رہا تھا. کرنل نے سر جھکائے کہا کہ چلیں آپ کی بات مان لیتے ہیں کہ جبیں سعیدہ اور جمشید کل سے غائب ہیں. یقین جانیے کرنل کی یہ حالت دیکھ کر مجھے روحانی خوشی ہو رہی تھی. اپنی بساط کے مطابق میں نے 71ء کے بدلے 72ء میں ہی لینے شروع کر دئیے تھے. اور آج اسی بدلے کا ایک نیا سین میرے سامنے تھا. میں نے کہا کرنل صاحب میں ابھی تک کچھ نہیں سمجھا کبھی آپ مالتی بول رہے ہیں کبھی جبیں کھل کر بتائیں پرابلم کیا ہے. میں نے مزید کہا کہ مجھے مریم نے بتایا تھا کہ جبیں ایک مہاجر لڑکی ہے جو اپنی بیوہ ماں کے ساتھ پاکستان جانے کے لیے کھٹمنڈو آئی ہے کیا میں پوچھ سکتا ہوں کہ اک مہاجر لڑکی کے ساتھ آپ کا کیا واسطہ ہے. کیا اتنی مصیبتیں جھیل کر آنے والی فیملی کو آپ پاکستان جانے سے روکنا چاہتے ہیں. کیا آپ میں ضمیر نام کی کوئی چیز ہے بھی یا نہیں. میں کرنل پر برس پڑا اور کرنل کی حالت یہ تھی کہ شرم سے اسکی گردن جھکی جا رہی تھی. کرنل آنند کو میں نہ تو یہ بتانا چاہتا تھا کہ تینوں بھارتی جاسوسوں کو کس نے ہلاک کیا یا میں ان کے متعلق کچھ جانتا ہوں. اور نہ ہی انکی طرف سے بلکل مایوس کرنا چاہتا تھا. کیونکہ ایسی صورت میں بھارتی سفارت خانہ اپنے بھر پور وسائل کے ساتھ مجھ پر حملہ آور ہوتا. اب تک کھٹمنڈو میں تمام جارحانہ اقدام میں نے ہی کیے تھے. اللہ کی رحمت پر یقین کے علاوہ میرا کل سرمایہ میرے تین چینی ساتھی تھے. اور اب حالات ایسے موڑ پر آ چکے تھے کہ مجھے اپنے علاوہ مریم کی فیملی کی حفاظت بھی کرنی تھی. ایسی صورتحال میں ان بھارتیوں سے میرا مزید الجھنا ہم سب کے لیے خطرناک ہو سکتا تھا. کرنل کو میں امید و بیم کی حالت میں رکھنا چاہتا تھا. میں نے اسے دھیمے لہجے میں کہا کہ تم واقعی بہت سنجیدہ اور پریشان دکھائی دیتے ہو. سب سے پہلے تو میں تمہیں یہ یقین دلاتا کہ جن مسلم مہاجر یا بھارتیوں کی تمہیں تلاش ہے ان کے متعلق میں کچھ نہیں جانتا. انکی گمشدگی کا اگر تمہیں بھی علم نہیں تو اس کے کئی امکان ہو سکتے ہیں. یہ بھی ممکن ہے کہ تمہارے سفارت خانے کے کسی فرد نے تم سے کسی دشمنی کیوجہ سے انہیں غائب کیا ہو. یہ بھی ممکن ہے کہ تینوں کسی خاص مقصد کے تحت کھٹمنڈو سے کہیں چلے گئے ہوں. اور تیسرا امکان یہ بھی ہو سکتا کہ شک کی بنا پر کسی دوسرے پاکستانی گروپ نے انہیں اغوا کر لیا ہو.
 کرنل پوری توجہ سے میری باتیں سن رہا تھا کہنے لگا میرے ماتحتوں میں میجر باسو سے میری نہیں بنتی. اور میں نے ایک خفیہ روپوٹ میں اسکی ناقص کارکردگی کے متعلق تفصیلاً لکھا ہے اپنے سفارت خانے کے تمام افراد کو میں بخوبی جانتا ہوں وہ یہ کام کرنے کے اہل نہیں ہیں. پاکستانی نیٹ ورک کے متعلق ہماری پہلی ملاقات میں تم نے کہا تھا کہ ہم تو صرف ڈمی ہیں. کام تو دوسرے لوگ کرتے ہیں. تمہارا ان سے رابطہ ہے. بھگوان کے لیے ان تینوں کے متعلق ان سے پوچھو. میرا سفارت خانہ انکی رہائی کے لیے 20 لاکھ فوری ادا کرنے کے لیے تیار ہے. تمہیں میں یقین دلاتا ہوں. کہ ڈی ایم آئی تمہاری جرآت اور بہادری سے بہت متاثر ہے. اگر تم چاہو تو بھارت میں تم نے جو کچھ کیا اسے بھلا کر تمہیں بھارتی شہریت دینے کے علاوہ لاکھوں روپیہ اور ڈی ایم آئی میں اعلی عہدہ دیا جا سکتا ہے. ایسی صورت میں ہم تمہاری فیملی کو بھی بھارت بلوا سکتے ہیں. جہاں تم اک نئی اور خوشحال زندگی شروع کر سکتے ہو. اگر میری باتوں پر تمہیں یقین نہیں تو میں اسی ہوٹل کے فون سے تمہاری اپنے سفیر سے بات چیت کروا سکتا ہوں. اسکی گارنٹی پر تم ہمارے سفارت خانے چلو اور اگر کسی وجہ سے تم ہمارے سفارت خانے نہیں آنا چاہتے تو پھر سفیر کی کوٹھی میں ہی اس سے مل لو وہ تو سفارت خانے سے باہر ہی ہے. سفیر سے تمہاری بات چیت ہو جائے گی اور وہ تمہاری میزبانی پر فخر محسوس کرے گا. یہ اتنی بڑی آفر تھی کہ اگر میری جگہ کوئی سیاست دان ہوتا تو وہ اس سے آدھے پر ہی مان جاتا اور ملکی راز بخوشی انکو دے دیتا اور ان کا چمچہ بن کر رہنے میں فخر محسوس کرتا.
میں دل ہی دل میں کرنل کی اس فراخ دلانا آفر پر مسکرا رہا تھا. بھارتیوں کی میزبانی سے میں ڈی ایم آئی کی حراست کے دوران پوری طرح لطف اندوز ہو چکا تھا. جہاں تک سفیر کی رہائش گاہ کا تعلق تھا تو مجھے اچھی طرح علم تھا کہ کسی سفیر کی رہائش گاہ جہاں جھنڈا لگا ہو اسی ملک کا حصہ تصور کی جاتی ہے. کرنل شاید اس غلط فہمی میں مبتلا تھا کہ جیسے اس دور کے پاکستانی حکمران اور وزارت خارجہ کے سیکرٹری لیول کے افسران بھارت سے اچھے تعلقات قائم کرنے کی دھن میں دماغ اور سوچ سے عاری ہو چکے ہیں. ویسے ہی سارے پاکستانی بھی تھے میں نے کرنل سے کہا کہ یہ سب باتیں تو بعد کی ہیں پہلے ہمیں تمہارے تین گمشدہ لوگ تلاش کرنے ہیں. پاکستانی گروپس سے اگرچہ میرا ڈائریکٹ کوئی رابطہ نہیں ہے. لیکن میں پھر بھی پوری کوشش کروں گا کہ اگر ان کا تمہارے لوگوں کو گم کرنے میں ہاتھ ہے تو انہیں رہا کرواؤں. ایک امکان اور بھی ہے. کہ بنگلہ دیش اب اگرچہ ایک آزاد ملک ہے. لیکن وہ مجبوراً تمہاری بالا دستی کو قبول کرتا ہے. ورنہ وہ تو اپنے ہم وطنوں اور ہم مذہبوں کا نہ ہو سکے. تو تمہارا کیا بن سکیں گے. شاید یہ کارستانی انہی کی ہو غرض جب کرنل آنند مجھ سے رخصت ہوا تو میں اس کے ذہم میں کئی قسم کے شکوک و شبہات ڈال اور پیدا کر چکا تھا. یہ میری کامیابی تھی کیونکہ اس طرح بھارتی سفارت خانے کیطرف سے فوری کارروائی کرنے
میں مجھے مہلت مل چکی تھی. اور میں اس دوران اپنے ڈیفنس کو مزید مضبوط بنا سکتا تھا. اب میرا زیادہ وقت اپنے ہوٹل میں ہی گزرتا تھا. دوسرے پاکستانی گروپس کی تلاش میں میں نے بلا مقصد ہی دو روز کھٹمنڈو کی سڑکوں پر گاڑی گھمانی شروع کر دی. دو تین بار پاکستانی سفارت خانے بھی گیا. پہلے روز ہی میں نے دیکھا کہ ایک گاڑی مسلسل ہمارا پیچھا کر رہی ہے. اسی شام جب کرنل آنند کا فون آیا تو میں چھوٹتے ہی کہا کہ اس طرح تم میری نگرانی جاری رکھو گے تو میں انہیں تلاش کرنے کی کوشش ختم کر دوں گا. میں ہرگز پسند نہیں کرتا کہ کوئی ساے کیطرح میرے ساتھ چمٹا رہے
اگر آئندہ کسی نے میرا پیچھا کیا تو نہ وہ گاڑی سلامت رہے گی اور نہ پیچھا کرنے والا رہے گا. کرنل آنند پھنسا ہوا تھا اس نے صرف اتنا کہا کہ آئندہ ایسا نہیں ہو گا.
It will not repeated again.
اس کے بعد کسی گاڑی نے میرا پیچھا نہیں کیا میرا برین واش کرنے والے خود کلین واش ہو چکے تھے. اسی طرح چار پانچ روز گزر گئے. کرنل ہر شام مجھے فون کرتا اور مجھ سے روپوٹ لیتا. اسی دوران میں نے مہاجروں کی ایک فلائٹ بھی بھگتائی. کرنل آنند کا پیمانہ صبر سے لبریز ہو رہا تھا. ادھر میں بھی اس ناٹک کو مزید جاری نہ رکھ سکتا تھا. مجھے ایک ترکیب سوجھی میں نے محسن سے کہا کہ بنگلہ دیشی سفارت خانے سے بنگلہ دیش کے ایک دو اخبار منگوا لو یہ کام بڑی آسانی سے ہو گیا. ڈھاکہ سے چھپنے والا یہ اخبار ہماری واردات سے کئی روز پہلے کا تھا. میں چینی دوستوں کے ساتھ وہاں گیا جہاں لاشیں جلائی تھیں. کپڑوں اور گوشت کا تو نام و نشان تک نہ تھا بس بکھری ہوئی چند ہڈیاں تھیں. میں نے اخبار کو مڑوڑ کر ایسی جگہ پھنسا دیا کہ یہاں آنے والوں کی نظر پڑ سکے. یہ کام کر کے ہم فوری واپس لوٹ آئے. اگلی صبح میں نے کرنل آنند کو فون کیا کہ فوری مجھے ملے. 30 منٹ تک کرنل میرے پاس پہنچ گیا. میں نے اسے کہا کہ اس سلسلے میں ابھی تک مجھے کوئی کامیابی تو نہیں ہوئی مگر میرے انفارمر نے مجھے بتایا ہے کہ چین جانے والی سڑک پر تقریباً 50 کلومیٹر آگے ایک گہری کھائی میں تین کھوپڑیاں اور ہڈیاں پڑی ہوئی ہیں. انہوں نے بنگلہ دیشی گاڑی کو بھی کئی بار اس طرف جاتے دیکھا تھا. مجھے کچھ شک سا ہوا تو تمہیں بتا دیا. آگے تم جانو. کرنل نے مجھے اسکی صحیح لوکیشن پوچھی تو میں نے کہا کہ یہ تو میں نہیں جانتا مجھے صرف یہی معلوم ہوا ہے. کہ اسی سڑک پر 50 کلومیٹر کے سنگ میل سے ذرا آگے بائیں جانب والی گہری کھائی میں ہڈیاں وغیرہ پڑی ہوئی ہیں. اس کے ساتھ ہی میں نے یہ کہا کہ ایک اڑتی ہوئی خبر یہ بھی سنی ہے. کہ تین چار روز قبل جبیں اور اسکی والدہ کو گورکھ پور سے لکھنؤ جانے والی ٹرین میں دیکھا گیا ہے. اس خبر کا سورس بھی میں تمہیں نہیں بتا سکتا کیونکہ وہ بھی میرا انفارمر ہے.
اگلے روز شام کو کرنل آنند مجھے سے ملنے آیا اور اس نے بتایا کہ ہم نے ہڈیاں اور کھوپڑیاں وہاں سے اٹھا لائی ہیں اور ساتھ ایک پیر کا جوتا بھی ملا ہے اور جھاڑیوں میں پھنسا ہوا ایک بنگلہ دیشی اخبار بھی ملا ہے ہڈیوں کو ہم نے دہلی بھیج دیا ہے تاکہ لیبارٹری ٹیسٹ سے کچھ تو بات آگے بڑھے. کرنل آنند نے کئی بار کہا کہ وہ اپنے گروپ سے پوچھے کہ وہ انکی حراست میں تو نہیں ہیں. نامعلوم کرنل کو ان تینوں کے زندہ ہونے کا اتنا یقین کیوں تھا وہ سوچتا ہو گا کہ ڈی ایم آئی کے اتنے تربیت یافتہ جاسوس ایک ہی دن میں کیسے ہلاک ہو سکتے ہیں. وقتی طور پر تو کرنل سے میرا پیچھا چھوٹ گیا. مجھ پر مرکوز اسکی سوچ کو میں نے منتشر تو کر دیا تھا مگر مجھے معلوم تھا کہ سب عارضی تھا اور بہت جلد اسے صحیح واقعے کا علم ہو جانا تھا جس کے بعد وہ بھر پور تیاری کے ساتھ مجھ پر حملہ آور ہوتا. اور اپنی ناکامی اور خجالت کا بدلہ لینے کی کوشش کرتا. میں اگر اکیلا ہوتا تو اپنے چینی ساتھیوں کے ساتھ اسکا مقابلہ کرنے کی کوشش کرتا مگر مریم اور اسکے والدین کیوجہ سے میں نے اپنے مدافعتی حصار کو مضبوط کرنے کا فیصلہ کر لیا. میں نے ان کے کمروں کی ونڈو پر جالی لگوائی اور پھر آٹھ گورکھا ریٹائر فوجی بطور گارڈ رکھے جو بارہ بارہ گھنٹے ان کے کمروں کے باہر ڈیوٹی دینے لگے. دو گورکھا ہمارے کمروں کے باہر ہمارے کمروں کی کھڑکیوں کے نذدیک کسی کو پھڑکنے نہ دیتے تھے. اور دو ہمارے کمروں کے نذدیک کسی اجنبی کو جانے نہیں دیتے تھے ہوٹل انتظامیہ نے میرے اس بندوبست پر تھوڑا احتجاج بھی کیا لیکن میں نے کچھ ریزن بتا کر کچھ پیسے دے کر انکے منہ بند کر دئیے. مریم جب ریسٹورنٹ جاتی تو دو چینیوں کے علاوہ میں خود بھی ساتھ جاتا. میں نے اپنے ساتھ ایک کی بجائے دو پسٹل فالتو میگزین گولیاں اور گیس سلنڈر اور زہریلی سوئیوں کا ذبہ رکھنا شروع کر دیا تھا. ہم نے ہوٹل سے باہر جانا بھی بہت کم کر دیا تھا. اور ایک تبدیلی یہ بھی کی. کہ پاکستان جانے والے مہاجروں میں پیسے تقسیم کرنے کا کام میں نے محسن کے ذمے لگا دیا تھا. ایک روز میں شیر پنجاب ہوٹل گیا. حالات کی سنگینی کے پیش نظر میرا وہاں جانا بہت کم ہو گیا تھا. سردار نے جب میری اس بے مروتی کا شکوہ کیا تو میں نے اسے بتایا کہ بھارتی سفارت خانہ میری جان لینے کے درپے ہو گیا ہے. میں موت سے تو نہیں ڈرتا لیکن مریم اور اسکے والدین کی حفاظت کے لیے میرا زندہ رہنا ضروری ہے. سردار نے کچھ دیر سوچتے ہوئے کہا کہ بادشاہو تسی فکر کیوں کردے او میں چار گورکھیاں نوں جاننا واں بڑی بہادر تے جان تلی تے رکھ کر تواڈی حفاظت کرن دے تے میرے دو بھتیجے وہ اج کل ایتھے آے ہوے نے او مفت دا روٹیاں بیٹھ کر تور دنے تے اوی اپنے پنڈ وچ کرپان تے برچھی چلان دے بڑے ماہر نے او کل تواڈی حفاظت واسطے کل تواڈے ہوٹل پہنچ جان گے. میں نے اس کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ میں نے پہلے ہی اپنی حفاظت کا خاصا انتظام کر لیا ہے. اور اب مزید اس کی ضرورت نہی ہے. لیکن سردار جی جیڑی گل تے اڑ جاندے سی اوناں نوں منانا مشکل ہو جاندا سی تے اگلی صبح جب میں اٹھ کر نیچے لابی میں آیا تو چار گورکھا اور دو اسکے بھتیجے نیچے لابی میں بیٹھے میرا انتظار کر رہے تھے. میرے پاس اب تین چینی دوستوں کے علاوہ 14 افراد ہماری حفاظت کے لیے معمور تھے ان کو میں نے اس طرح ڈپلائی کیا کہ ہوٹل کی چار دیواری سے لے کر ہمارے کمروں تک پہنچنے کے لیے دشمن کو تین حصار توڑنے پڑتے تھے. ان سب کے لیے میں نے وسلز کا بندوبست کیا تاکہ ایمر جنسی کی صورت میں وسل بجا کر ہمیں اور ایک دوسرے کو آگاہ کر سکیں. زندگی اور موت تو اللہ کے ہاتھ میں ہے مگر ساتھ اسی نے اپنی جان کی حفاظت کرنے کا حکم بھی دیا ہے.
کرنل کے فون آنے یکلخت بند ہو گئے تھے. میں نے کئی بار فون کیا تو جواب ملتا کہ وہ سیٹ پر موجود نہیں ہیں. یہ اچانک خاموشی اور لا تعلقی کسی بڑے طوفان کی آمد کا پتہ دے رہی تھی. بھارت میں ہندوؤں کے ساتھ رہتے ہوئے میں انکی عادات واطوار سے اچھا خاصا جان چکا تھا. ہندو فطرتاً آمنے سامنے آ کر لڑنے سے ہمیشہ کتراتا ہے اور پیٹھ پیچھے وار کرنے کا دھنی ہے. ہم نے اپنا سارا اسلحہ چیک کیا بارودی اسلحہ کی ہمارے پاس کل ملا کر 200 سو سے کم گولیاں تھیں. گیس سلنڈر اور زہریلی سوئیاں بھی ستر اسی افراد کے لیے کافی تھیں مگر یہ صرف اسی صورت کار آمد تھیں جب آدمی ان کی رینج میں ہو. رائل اسٹین گن یا بندوق ہمارے پاس ایک بھی نہیں تھی. جس سے دشمن کو فاصلے پر روکا یا مارا جا سکے. میرے پاس جو بھی افرادی قوت اور اسلحہ تھا میں نے اپنی سوچ کے مطابق ان کو بہترین ڈپلائی کیا تھا اور میں اس پر مطمئن بھی تھا. ایک روز تقریباً 10 بجے مریم ریسٹورنٹ جانے کے لیے تیار ہو کر میرے پاس آ گئی. میں کپڑے تبدیل کر رہا تھا وہ کھڑکی کے پاس جا کر کھڑی ہو گئی. وہیں سے اس نے مجھے بتایا کہ ایک چھوٹی ٹورسٹ بس ہوٹل میں آئی ہے. اور کئی ٹوررسٹ بس سے اتر رہے ہیں. میں کھڑکی کے پاس آ گیا. ٹوررسٹ بھی بس سے اتر رہے تھے اور اپنا سامان بھی لے رہے تھے. اپنے قدوقامت اور شکل وشباہت سے سب انڈین لگتے تھے. سویلین لباس پہنے سب میں ایک قدرے مشترک تھی. ان سب کے بال فوجی کٹ میں تھے حالانکہ ان دنوں فلمی فیشن کٹ کا رواج تھا. میں انہیں بس سے اترتے ہوئے دیکھتا رہا یکلخت مجھے خطرے کا احساس ہوا اور میں کئی سیڑھیاں پھلانگتا ہوا ریسپشن پر جا پہنچا. میں نے ایک لمحہ ضائع کیے بغیر ریسپشن مینجر سے کہا کہ میرے فلور پر جتنے کمرے خالی ہیں سب میرے نام پر بک کر دو وہ حیران ہوا وہ کچھ مجھ سے پوچھنا چاہتا تھا مگر میں نے کہا کہ ابھی اور اسی وقت کرو. میں ہوٹل کا مستقل گاہک تھا اور مینجر میری اچھی یا بری شہرت سے واقف بھی تھا. اس نے فوری طور پر گاہکوں کے کوائف لکھنے والے 10 کارڈ میرے سامنے رکھ دئیے میں سب کارڈز پر سائن کر دئیے. اور اب صورتحال یہ ہو گئی کہ فرسٹ فلور کے 14 کمرے میری کسٹڈی میں آ چکے تھے اس فلور پر بس ایک کمرہ کسی یورپین نے لے رکھا تھا میں نے مینجر سے کہا کہ جب وہ کمرہ خالی کر کے جاے تو وہ بھی میرے نام بک کر دیا جائے. اتنی دیر میں ٹوررسٹ لابی میں آ گئے. تو ان کے لیڈر نے کمرے بک کرنے کے لیے کہا تو ریسپشن مینجر نے کہا کہ صرف گراؤند فلور پر کمرے خالی ہیں فرسٹ فلور پر کوئی کمرہ خالی نہیں ہے. یہ سن کر ان کا لیڈر جھگڑنے لگا اور اس نے کہا کہ ہم نے ٹیلیکس بھیجی تھی کہ ہمیں فرسٹ فلور پر کمرے چاہیے تو آپ نے وہاں سب کمرے دوسروں کو کیوں دے دیئے. مینجر نے ٹیلیکس نکالی اور اسے دکھاتے ہوئے کہا کہ ٹیلکس کے مطابق آپکی آمد گذشتہ شام متوقع تھی مگر آپ لوگ آج پہنچ رہے ہیں. ہم نے آج صبح تک آپ لوگوں کا انتظار کیا. مگر آپ لوگ ابھی پہنچ رہے ہو آپ کی آمد سے چند منٹ پہلے یہ فرسٹ فلور پر سب کمرے بک کروا لیے گئے ہیں. اس نے کہا کہ جن نئے مہمانوں نے یہ کمرے بک کرواے ہیں آپ انکو نیچے شفٹ کر دیں اور ہمیں لازماً فرسٹ فلور میں کمرے دلوائیں تو ریسیپشن مینجر نے کہا کہ یہ کسی مہمان نے بک کرواے بلکہ وہ صاحب جو سامنے صوفے پر بیٹھے ہیں جو ہمارے بہت پرانے کسٹمر بھی ہیں اور کافی عرصے سے یہاں رہ بھی رہے ہیں انہوں نے بک کرواے ہیں. ٹوررسٹ کا لیڈر سیدھا میرے پاس آیا. اور کہنے لگا کہ میں آپکا بہت مشکور ہوں گا اگر آپ فرسٹ فلور پر ہمیں کمرے دے دیں گے. اسکی انگریزی اور عمر سے میں نے اندازہ لگایا کہ یہ کیپٹن کے عہدے کا ہو گا میں نے کہا کیپٹن مجھے کوئی اعتراض نہی. میں نے یہ کمرے بھارتی سفارت خانے کے کرنل آنند اور میجر باسو کے کہنے پر انکے مہمانوں کے لیے بک کیے ہیں کرنل آنند سے تو میرا کئی روز سے رابطہ نہیں ہوا میجر باسو نے آج صبح مجھے فون کر کے کہا تھا. کہ آنے والے مہمانوں کی ٹیلکس ہوٹل نہ پہنچی ہو. اس لیے میں ذاتی طور پر کمرے بک کروا دوں. میں نے بڑے اطمینان سے مسکراتے ہوئے کہا. لیڈر نے کہا دراصل ہم کل شام پہنچنے والے تھے مگر ہماری گاڑی کا ریڈی ایٹر خراب ہو گیا. اسی لیے رات ہمیں راستے میں بسر کرنا پڑی. اور اب یہاں پہنچے ہیں
اینڈ تھینک یو ویری مچ ہم ہی کرنل آنند کے مہمان ہیں وہ ہمارے ساتھ ہی لکھنؤ کینٹ سے آے ہیں اور انہیں سفارت خانے چھوڑ کر ہم یہاں آے ہیں. ساری بات تو اپنے کمرے کی کھڑکی سے انکی فوجی کٹ دیکھ کر مجھے سمجھ آ گئی تھی. جو تھوڑا بہت شک تھا وہ اس لیڈر کی باتوں سے پورا ہو گیا. اور اب تو میں محض لطف اندوز ہونے کے لیے بات آگے بڑھا رہا تھا. میں نے کہا کہ پہلے کرنل یا میجر کو فون کر کے یہ بتا دو کہ آپ کے کہنے پر آپ کے دوست آصف نے کمرے بک کروا لیے ہیں. میں نے اسے بھارتی سفارت خانے کا نمبر دینا چاہا تو اس نے بتایا کہ اس کے پاس نمبر ہے وہ فون کرنے ریسیپشن کی طرف گیا تو میں نے اوپر دیکھا تو مریم فرسٹ فلور کے کریڈور میں کھڑی مجھے دیکھ رہی تھی. اس نے اپنا ہاتھ اوپر کر کے دکھایا کہ اس کے ہاتھ میں پسٹل ہے اس نے آنکھوں آنکھوں میں مجھے اشارہ کیا میں نے دائیں بائیں دیکھا تو چینی دوست نہایت مستعدی سے اپنی پاکٹس میں ہاتھ ڈالے کھڑے تھے ان کی جیبوں میں پسٹل تھے. میں نے بھی اپنی جیب میں رکھے پسٹل کی سیفٹی پن کو ہٹا دیا. دو تین منٹ لیڈر بات کرنے کے بعد واپس مڑا تو میں نے اس سے پوچھا کیا بات ہو گئی. کمرے تمہارے اور تمہارے دوستوں کے لیے تیار ہیں. لیڈر نے کہا کہ ہمیں ضرورت نہیں. یہ کہہ کر اپنے ساتھیوں کو واپس چلنے کا کہا. شرمندگی اور خفت اس کے چہرے سے عیاں تھی. لیکن اسکی آنکھوں سے شعلے بھی نکل رہے تھے. جب وہ لابی سے نکلنے لگے تو میں نے اونچی آواز میں کہا کہ آنند اور باسو کو میرا آداب کہنا.
Please pay my regards to anand and basso میرے یہ الفاط جلتی پر تیل کے مترادف تھے مگر وہ خاموشی سے واپس چلے گئے.
وہ بزدل اور ڈرپوک جو تھے ورنہ میرے جیسا پاکستانی ہوتا تو جواب گولی سے دیتا. اس گروپ کے واپس جانے کے بعد میں نے اپنے حفاظتی حصار کو دوبارہ چیک کیا. کرنل آنند اب ریگولر بھارتی فوج کے دس جوان اور افسروں کی کمک لایا تھا. ان لوگوں کے لیے مجھے قتل کرنا بہت معمولی بات تھی مگر وہ مجھے زندہ گرفتار کر کے بھارت لے جانا چاہتے تھے. جہاں پر وہ مجھ سے ایسا سلوک کرتے کہ میں دنیا کے لیے عبرت کا نشان بن جاتا. موت تو مصیبتوں سے چھٹکارا پانے کا نام ہے.
 65ءکی پاک بھارت جنگ کے دوران پاکستان کے چھٹے ٹینک سکوارڈن کے کرنل نذیر احمد سے بھارتیوں کا سلوک بار بار یاد آتا ہے. یہ ٹینک اسکواڈرن اپنی انفنٹری سے کٹ کر کھیتوں کے بیچوں بیچ آگے بڑھتا رہا اور جب سڑک پر پہنچا تو سنگ میل سے معلوم ہوا کہ امر تسر سے 5 میل دور ہے. اس اسکواڈرن کے پاس نہ تو فالتو تیل تھا اور نہ ہی انکا سپلائی لائن سے رابطہ ہو سکا. لا محالا بھارت فوج نے انہیں نرغے میں لے لیا. اسکواڈرن کے کچھ جوان تو کھیتوں میں چھپتے چھپاتے واپس بھاگ آئے. کرنل نذیر اور کچھ جوانوں کو بھارتی فون نے ٹینک سمیت گرفتار کر لیا. اور اسے دہلی لے جا کر اسی ٹینک کے اوپر رسیوں سے باندھ کر دہلی شہر میں گھمایا گیا بھارتیوں نے میرے ساتھ تو اس سے بھی بدتر سلوک کرنا تھا. اور شہر شہر میری ذلت رسوائی کرنی تھی. اسی لیے کرنل آنند بھارتی سینا کے 10 حاضر سروس جوانوں اور افسروں کو ساتھ لایا تھا اور انہیں انا پورنا ہوٹل میں میرے ہی فلور پر ٹھہرانا چاہتا تھا تاکہ موقع ملتے ہی مجھے زندہ گرفتار کروا کر بھارت بھیج سکے. اور اتفاقاً میں اس کی چال سمجھ گیا تھا اسی لیے آنے والے گروپ کو میں نے کرنل یا میجر باسو سے بات کرنے کو کہا تھا اب انکا ہوٹل میں ٹھہرنا بے سود تھا اور اسی لیے اب وہ بھارتی سفارت خانے چلے گئے. تھے. مریم بھی اس صورت حال سے اچھی طرح واقف تھی. اس لیے ہم سب نے فیصلہ کیا کہ کچھ عرصہ ہوٹل سے نکلنا بالکل بند کر دیا جائے. اور ہوٹل میں ہی قلعہ بند ہو کر رہا جاۓ جب یہ فیصلہ ہو گیا تو ہم چینی دوستوں کے ساتھ ریسٹورنٹ گئے وہاں سے دو چولہے فریزر اور دیگر سامان لے آے اپنے ہوٹل کے وسیع کچن میں ہمیں پکانے کے لیے چولہوں کی سہولت مل گئی فریزر ہم نے سٹور میں رکھ لیا اور مریم کی والدہ نے اپنے ریسٹورنٹ سے دو خانساموں کو بلوا کر چائنیز کھانے بنانے شروع کر دیئے. دن یوں ہی گزرتے جا رہے تھے اب مجھے مریم کے ساتھ رہنے کا زیادہ موقع مل رہا تھا. اور اب اس کی چھپی ہوئی خوبیاں بھی ظاہر ہو رہی تھیں. وہ وعدوں کی پابند جھوٹ سے نفرت کرنے والی انتہائی وفا شعار اور اپنے مرد کو اپنے اوپر فوقیت دینے والی لڑکی تھی. مدھم آواز میں بات کرتی. وہ صرف مشورہ دیتی اپنی بات منوانے کی ضد نہ کرتی. میرے چہرے کے اتر چڑھاؤ سے وہ میرے دل کی بات سمجھنے لگی تھی.
آئندہ ہم اپنے زندگی گزارنے کے پروگرام بناتے رہتے تھے. لیکن تقدیر ہمارے مستقبل اور سہانے خوابوں سے خنداں تھی. اور پھر وہ 18 مئی کا دن تھا. جب صبح ہی ریسٹورنٹ کے چوکیدار نے آ کر بتایا کہ وہ ٹرک جس پر ریسٹورنٹ کے لیے تازہ جھینگوں کا کنٹینر لدا ہوا تھا کھٹمنڈو سے ستر اسی کلومیٹر کے فاصلے پر وہ ٹرک ایکسل ٹوٹ جانے کیوجہ سے رکا ہوا ہے. اور جھینگوں کو تازہ رکھنے والی برف پانی بن کر ٹرک سے بہہ رہی ہے. مریم نے کہا کہ اسی طرح برف پگھلتی رہی تو جھینگے خراب ہو جائیں گے اس لیے اس نے مجھ سے ٹرک تک جانے کی اجازت مانگی. میں نے کوئی حرج نہ سمجھتے ہوئے اسکو جانے کی اجازت دے دی اور ساتھ اسکی حفاظت کے لیے دو چینی دوست اور دو گورکھے بھیج دئیے. جھینگوں کے لیے میں نے ہوٹل کی پک اپ بھی کراے پر لے لی. مریم کے ساتھ اسکی والدہ بھی گاڑی میں بیٹھ گئی تھی. یہ تینوں گاڑیاں تقریباً 10 بجے روانہ ہوئیں. اور میرے اندازے کے مطابق انہیں سہپہر تین بجے تک واپس آ جانا چاہیے تھا. اس روز میرا دل صبح سے ہی بے چین تھا. دل پر انجان سا بوجھ تھا 3بجے تک جب گاڑیاں واپس نہ آئیں تو میری بے چینی بڑھ گئی میں بار بار کمرے کی ونڈو سے باہر جھانکتا اور مایوس لوٹ آتا. یوں ہی 4 بج گئے.مجھ میں اب انتظار کی مزید تاب نہ تھی میں نے رکشہ لیا اور شیر پنجاب ہوٹل پہنچ کر سردار سے اسکی گاڑی لی اور اس سڑک پر تیزی کے ساتھ چل دیا جدھر مریم لوگ گئے تھے کھٹمنڈو چونکہ اونچے پہاڑوں میں گری ہوئی وادی میں واقع ہے اس لیے سورج 10 بجے تک دکھائی دیتا ہے اور شام 4 بجے چھپ جاتا ہے جلد ہی سڑک پہاڑی سلسلے میں داخل ہو گئی اور ساتھ ہی چڑھائی شروع ہو گئی جگہ جگہ تنگ اور خطرناک موڑ تھے میں پورا ایکسیلیٹر دباے اندھا دھند گاڑی چلاے جا رہا تھا. مجھے اگلے موڑ کے پاس اپنی وین اور پک اپ کھڑی نظر آ گئی لیکن مریم کی گاڑی وہاں نہیں تھی. خدشات نے یکدم سر ابھارا میں گاڑیوں تک پہنچا تو چند لوگ وہاں کھڑے ایک گہری کھائی میں دیکھ رہے تھے. میں نے دیکھا تو مریم کی گاڑی سینکڑوں فٹ گہری کھائی میں الٹی پڑی تھی مجھے کسی سے کچھ پوچھنے کی ضرورت محسوس نہ ہوئی. سب کچھ سمجھ آ چکا تھا. میں کھائی میں اترا اور گرتا پڑتا مریم کی گاڑی کے پاس پہنچ گیا دونوں چینی اور گورکھے گاڑی کو سیدھا کرنے کی کوشش کر رہے تھے. جنہوں نے مجھے دیکھ کر سر جھکا لیے گاڑی کے اندر مریم اور اسکی والدہ کے بے جان جسم پڑے ہوئے تھے. گاڑی کا اسٹئرنگ مریم کے سینے میں دھنسنے سے خون نکل کر اس کے چہرے اور کپڑوں کو لال کر رہا تھا یہی حالت اسکی والدہ کی تھی. مہرا دماغ بلکل معطل ہو چکا تھا بس ایک ہی دھن تھی کہ مریم کو اس موت کے پنجرے سے باہر نکالوں. میں نے جیب سے نوٹوں کی گڈی نکالی اور گورکھے کو دیتے ہوئے کہا کہ اوپر کھڑے لوگوں کو نیچے بلاؤ. گورکھے نے بلند آواز میں اوپر کھڑے لوگوں کو پکارا اور نوٹوں کی گڈی دکھائی. اوپر کھڑے پانچ چھے آدمی بھاگتے ہوئے نیچے آے اور سب نے مل کر گاڑی کو سیدھا کیا. گاڑی کی چھت آگے اور پیچھے والے حصے سے پیچک گئے تھے. سڑک سے یہاں تک پہنچتے ہوئے گاڑی نہ جانے کتنی بار الٹی سیدھی ہوئی ہو گی. بڑی مشکل سے ان لوگوں نے دروازہ کھولا. میں نے آہستکی سے مریم کے بے جان جسم کو باہر نکالا. مریم کے سارے چہرے پر خون جما ہوا تھا. مریم کو ہاتھوں میں اٹھائے میں آہستہ آہستہ اوپر چڑھتا گیا. سڑک پر پہنچ کر میں نے مریم کی باڈی کو گاڑی کی پچھلی سیٹ پر لٹا دیا. میرے ہاتھ کپڑے حتیٰ کے چہرہ تک مریم کے خون سے سرخ ہو گئے تھے مجھے اس وقت کسی اور کا کوئی خیال نہ تھا. میں نے گاڑی سٹارٹ کی اسی سپیڈ سے واپسی چلاتے ہوئے گاڑی فصیح کے کمپاؤنڈ میں لا کھڑی کی. کمپاؤنڈ میں بچے کھیل رہے تھے. میں گاڑی سے اترا تو خون سے لتھڑے میرے چہرے ہاتھوں اور کپڑوں کو دیکھ کر بچے روتے ہوئے بھاگ کھڑے ہوئے. گورکھا چوکیدار بھی بچوں کی چیخیں سن کر میری طرف آیا لیکن میری حالت دیکھ کر دور ہی کھڑا ہو گیا. اور اس نے اپنی کھکھڑی نکال لی. میری حالت یہ تھی کہ اس وقت دنیا کا کوئی ہتھیار بھی مجھے میرے ارادوں سے باز نہیں رکھ سکتا تھا. میں نے برآمدے میں لگی کال بل مسلسل بجانی شروع کر دی. اور جب فصیح گھر سے باہر آیا تو میرا ہاتھ گھنٹی سے ہٹا فصیح میری حالت دیکھ کر پریشان ہو گیا وہ سمجھا میں زخمی ہوں اس نے کہا آؤ تمہیں ڈاکٹر کے پاس لے کر چلتا ہوں. یہ کہہ کر وہ پلٹا تو میں نے اسے بازو سے پکڑ لیا اور کہا فصیح صاحب آپ میری اصلیت سے واقف ہو بڑی مصیبتوں کو میں نے ہنستے ہوئے جھیلا ہے. میں نے کبھی بھی کسی سے رحم کی بھیک نہیں مانگی مگر آج یہ زندہ لاش جو آپ کے سامنے کھڑی ہے آپ سے بھیک مانگتی ہے. مجھے مایوس نہ کیجئے. مریم مجھے ہمیشہ کے لیے چھوڑ کر چلی گئی ہے آپ کے سوا کوئی دکھائی نہیں دیتا جو مجھ لاوارث کی مدد کرے. پلیز مریم کے کفن دفن کا انتظام کر دیں. میں جلد از جلد اس زخموں سے چور لاش کو دفن کرنا چاہتا ہوں. تقریباً سبھی مہاجروں کو میرے اور مریم کے تعلق کا پتہ تھا اور فصیح بھی چنگ وا ریسٹورنٹ جاتا رہتا تھا فصیح ہے پوچھا کہ یہ سب کیاے ہوا میں نے کہا کہ کار ایکسیڈینٹ میں اس نے کہا کہ یہ اب میری ذمہ داری ہے تم بے فکر ہو جاؤ. میں ابھی سب انتظامات کراتا ہوں.وہ اندر خواتیں کو بتانے اور انتظام کرنے چلا گیا میں واپس گاڑی میں آیا اور مریم کا سر اپنی گود میں رکھ کر ناجانے اس سے کیا کہتا رہا. میں نے مریم کی پیشانی پر بوسہ دیا اور اتنی دیر میں فصیح کی آواز آئی اب بس بھی کرو ناجانے وہ کتنی دیر سے کھڑے تھے عورتیں چارپائی لے کر آئی تھیں میں نے مریم کو اٹھایا اور چارپائی پر لٹا دیا فصیح نے مجھے گلے لگایا اورحوصلہ دیا. اس نے مجھے اپنے کپڑے لا کر دیئے اور کہا کہ نہا کر کپڑے بدل لو تاکہ نماز جنازہ میں شریک ہو سکو. رات ساڑھے دس بجے دس بارہ آدمی دیوے کی روشنی میں مریم کو دفنا کر واپس لوٹے لاوارثوں کے جنازے اور کفن دفن ایسے ہی ہوا کرتے ہیں
جاری ہے.

Next Episode


No comments:

غازی از ابو شجاع ابو وقار قسط نمبر60 Ghazi by Abu Shuja Abu Waqar

Ghazi  by  Abu Shuja Abu Waqar  غازی از ابو شجاع ابو وقار  پیشکش محمد ابراہیم 60 آخری قسط نمبر  Ghazi by Abu Shuja Abu...

Powered by Blogger.