ﻧﺎﻭﻝ سنائپر از ریاض_عاقب_کوہلر قسط نمبر74 Novel Snipper by Riaz Aqiz Koahler Episode
ﻧﺎﻭﻝ سنائپر
از
ریاض_عاقب_کوہلر
Novel Snipper
by
Riaz Aqiz Kohler
Episode 74
ﻧﺎﻭﻝ سنائپر
از
ریاض_عاقب_کوہلر
74 قسط نمبر
by
Riaz Aqiz Kohler
Episode 74
ﻧﺎﻭﻝ سنائپر
از
ریاض_عاقب_کوہلر
74 قسط نمبر
*_SECOND LAST_*
سنائپر
قسط نمبر 74
ریاض عاقب کوہلر
دو تین قد م لیتے ہی ٹھوکر لگی اور میں منھ کے بل گر گیا۔مجھے کچھ پتا نہیں چل رہا تھا کہ سازندے ساز بجا رہے ہیں یا نہیں ، رباب کے تاروں کو چھیڑا جا رہاہے یا نہیں ،طبلچی اور گھڑا بجانے والوں کے ہاتھ رکے ہوئے ہیں یا مصروف ہیں میرے کانوں میں تو بس اس کی درد سے لبریز آواز گونج رہی تھی ۔
دا شپہ نہ صبا کیگی خدایا لا پس اوگدے گی غمونہ دی او زہ یم
(اس رات کی صبح نہیں ہو رہی یا اللہ یہ اور بھی لمبی ہوتی جارہی ہے اور میرے ساتھ فقط غم ہیں )
پہ لپو لپو اوخکے مہِ پہ مخ باندے بہیگی غمونہ دے او زہ یم
( چہرے پرلگاتار آنسو بہہ رہے ہیں اور میرے ساتھ فقط غم ہیں )
اس کے الفاظ صرف معنوی طور پر درد انگیز نہیں تھے اس کی آواز سے ظاہر ہونے والی اذیت بھی دل کو محسوس ہو رہی تھی ۔میں زمین پر ہاتھ ٹیک کر اٹھا اور پھر دوڑ پڑا ۔پہلے والی چوٹ مجھے بھول چکی تھی۔بلکہ اس وقت میرے دماغ میں کچھ تھا تو وہ پلوشہ کی آواز کے متعلق تھا ۔کیا کسی کی آواز اس قدر مماثل ہو سکتی تھی ....؟
غمونہ دی غمونہ، داہجران تورے تیارے دی ،عجبہَ زندگی دا
(غم ہی غم اور ہجر کے کالے اندھیرے ہیں، عجیب زندگی ہے )
زہ تل خاورے پہ سر یم در پہ در یم اندیخنے دی، عجبہَ زندگی دا
(ہمیشہ سر میں خاک سجائے در بہ در پریشانیاں سمیٹتی ہوں عجیب زندگی ہے )
پہ خپو کے مہِ بیڑی دی، منزلونہ لرے کیگی غمونہ دی اوزہ یم
(پاﺅں میں بیڑیاںہیں ، منزلیں دورہوتی جا رہی ہیں اور میرے ساتھ فقط غم ہیں )
پہ لپو لپو اوخکے مہِ پہ مخ باندے بہیگی غمونہ دی او زہ یم
( چہرے پرلگاتار آنسو بہہ رہے ہیں اور میرے ساتھ فقط غم ہیں )
”وہ زندہ تھی تو کیسے ؟....اسے چھپنے کی کیا ضرورت آن پڑی ،اور جب خود مرضی سے چھپی تو اتنے درد بھرے انداز سے گانے کا کیا جواز....؟“اس کے الفاظ کو سنتا ہوا میں آگے بڑھتا گیا ۔
زندی یما دا وخت اودا حالاتوپہ زندانِ کے یو ازے پہ جڑا
(وقت اور حالات کے ہاتھوں قیدی بنا تنہا آہ بکا میں مصروف ہوں )
خبرو نہ یم پاتے دا اللہ پہ دے جہان کے یواز ے پہ جڑا
(دنیا میں بات کرنے کے بھی قابل نہیں رہا تنہا آہ وبکا میں مصروف ہوں)
ہڈوکی مہ اچیگی بدن غوخے ویلے کیگی ،غمونہ دے او زہ یم
(ہڈیاں خشک ہو رہی ہیں ، بدن کاگوشت گل سڑ رہاہے اور میرے ساتھ فقط غم ہیں )
دا لپو لپو اوخکے مہِ پہ مخ باندے بہ ہیگی غمونہ دے او زہ یم
( چہرے پرلگاتار آنسو بہہ رہے ہیں اور میرے ساتھ فقط غم ہیں )
کیا اسی وجہ سے قابل خان مجھ پر شادی میں شرکت پر زور دے رہا تھا ،یہاں تک کہ وہ احسان جتلانے کی گھٹیااور غیر اخلاقی حرکت سے بھی باز نہیں آیا تھا ۔اور ابھی میرے محفل سے اٹھنے پربھی اس نے میرے خصوصی آئیٹم کوسننے پر کتنا زور دیا تھا ۔یقینا وہ چاہتا تھا کہ مجھ تک پلوشہ کا درد پہنچ جائے .... اس کا دردو غم آواز کی صورت میں فضاﺅں کا سینہ چیر کر مجھے بے حال کرتا جا رہا تھا ....میں پنڈال میں داخل ہوا۔ ارد گرد کے علاقے سے بھی کافی لوگ اکٹھے ہوئے تھے ۔لوگوں کی بھیڑ کو چیرتے ہوئے میں آگے بڑھنے لگا ....اس کی درد بھری آواز گونج ری تھی ۔
داکورا مسافر یم دا ہر چہ یم دا خبرو،زمہ پہ حال خندیگی
(موت کے سفر پر رواں مسافراور ہربندے کی باتوں کا نشانہ ہوں تمام مجھ پر ہنستے ہیں )
قیمت مہِ کلہ شتا داتڑمو اخکو مسافرو، زمہ پہ حال خندیگی
(میرے بہتے اشک جو بے قیمت ہیں اور فقط ہنسی کا باعث بنتے ہیں )
پہ اوچو شونڈوگورامہ یاران رانہ بے لیگی غمونہ دے او زہ یم
(خشک لبوں سے یاروں کو جدا ہوتے دیکھ رہا ہوں ،اور میرے ساتھ فقط غم ہیں )
پہ لپو لپو اوخکے مہِ پہ مخ باندے بہیگی غمونہ دے او زہ یم
( چہرے پرلگاتار آنسو بہہ رہے ہیں اور میرے ساتھ فقط غم ہیں )
اس کی آواز بند ہو گئی تھی ،لوگوں نے تالیاں بجا کر اور نعرے بلند کر کے اس کے درد کو سراہنے لگے۔اس کی نوحہ خوانی اور بین سے لطف اندوز ہونے والے اس آواز کے پیچھے چھپی اذیت کو محسوس نہیں کر سکے تھے ۔یا اگر کی بھی تھی تو اسے کسی گلوگار کے کمال سے تشبیہ دے دی تھی ۔
لوگوں کی بھیڑ کو چیرتا ہوا میں آگے نکلا۔گلوکاروں کے بیٹھنے کے لیے زمین سے چار پانچ فٹ بلند سٹیج بنایا گیا تھا ۔سٹیج کے سامنے دائیں بائیں چارپائیاں پڑی تھیں جن پر مختلف قبیلوں کے سردار ،ملک وغیرہ براجمان تھے ۔سامنے کی طرف بھی چارپائیوں کی دو قطاریں بچھی تھیں اور اس کے بعد عام لوگ، جس کو جدھر جگہ ملی تھی کی بنیاد پر چاروں طرف موجود تھے ۔میں چونکہ خصوصی مہمان تھا اس لیے پہلے سامنے کی چارپائی پر بیٹھا ہوا تھا ۔البتہ ایک بار اٹھ کر جانے کے بعد مجھے آگے جانے کے لیے کافی زور لگانا پڑا تھا۔
وہ مجھے سٹیج پر نظر نہیں آرہی تھی ۔غور سے دیکھنے پر ایک پردہ لگا ہوا نظر آیا وہ اسی کے پیچھے موجود تھی ۔لوگ اس سے ایک اور گانے کی فرمائش کر رہے تھے اور میں تمام سے بے نیاز سٹیج کی طرف بڑھتا گیا چارپائیوں کی قطار سے گزر کر خالی جگہ پر پہنچتے ہی میں بھاگ کر سٹیج تک جاپہنچا ۔سٹیج پر موجود گلوکاراور سازندوں نے شاید مجھے گیت سنگیت کا ایسا شیدائی سمجھا تھا جو دو تین بول سن کر گلوکاروں کی طرف بھاگ پڑتے ہیں ۔شاید لوگ بھی کچھ ایسا ہی سمجھ رہے ہوں ،مگر اس وقت مجھے کسی کی بھی پروا نہیں تھی ۔میں اپنے حواس میں تھا ہی کہاں کہ کوئی سدھ بدھ ہوتی ۔
جونھی میں سٹیج پر چڑھا دائیں بائیں کھڑے انتظامیہ کے آدمیوں نے میرے قریب آنا چاہا ۔ سب سے پہلے قریب پہنچنے والے کی چھاتی پر میری زور دار لات پڑی اور اس کے ساتھ ہی میں نے کوٹ کی جیب سے گلاک نکال کر لہراتے ہوئے دھاڑا ....
”اگر کوئی قریب آیا تو جان سے جائے گا ....“یہ کہتے ہی میں پردے کے پیچھے گھستا چلا گیا ۔ باہر شور مچ گیا تھا ۔پتا نہیں لوگ کیا کہہ رہے تھے ۔کوئی چیخ چیخ کر لوگوں کو سب اچھا ہے کی تسلی دے رہا تھا۔میں تو پردے کے پیچھے موجود وجود کی طرف متوجہ تھا ۔سو فیصد وہی تھی ۔میری پلوشہ ،میری جانِ حیات مگر پہلے سے بہت بدلی ہوئی ۔وہ پہلے والی پلوشہ لگ ہی نہیں رہی تھی ۔صرف ایک چیز جو اس کے جسم پر پہلے سے بہتر نظر آرہی تھی وہ اس کے بال تھے جو اب کندھوں سے نیچے تک جھول رہے تھے ،مگر ان ریشمی بالوں کی بھی بری حالت تھی ،الجھے ہوئے ،روکھے اور بے رونق شایدان میں کئی ہفتوں سے کنگھی نہیں کی گئی تھی ۔ اس کے سرخ و سفید قندھاری اناروں کے مشابہ گال پچک کر اندر کو دھنس گئے تھے ۔موٹی آنکھوں کے گرد گہرے سیاہ حلقے دکھائی دے رہے تھے ۔اس کا گداز جسم ہڈیوں کا ڈھانچہ نظر آرہا تھا ۔ مجموعی طور پر اس نے ایسا حلیہ بنایا ہواتھا جیسا بھیک مانگنے والی عورتوں کا ہوتا ہے ۔یقینا اسے نہائے ہوئے بھی کئی ہفتے گزر گئے تھے ۔
مجھے دیکھتے ہی اس کے ہونٹ کپکپائے اور اس نے جلدی سے اپنی اوڑھنی چہرے پر لپیٹ لی۔ایک ادھیڑ عمر عورت نے اس کی پیٹھ کے پیچھے بیٹھ کر اسے سہارا دیا ہوا تھا ۔ویران آنکھوں میں نمودار ہونے والے پانی کو وہ روک تو نہیں سکی تھی ،البتہ چھپانے کے لیے اس نے چہرہ نیچے جھکا لیا تھا ۔
”بھائی صاحب !....آپ ........“کسی مرد نے مجھے واپس لے جانے کے لیے بازو سے پکڑنا چاہا تھا ۔میں ایک دم گھوما، اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے میرا بھرپور مکہ اس کی کنپٹی پر لگا ،وہ اچھل کر نیچے گرا اور ہاتھ پاﺅں ڈھیلے چھوڑ دیے ۔اس کے ساتھ ہی میں دھاڑا ....
”کہا نا اگر کوئی قریب آیا تو جان سے جائے گا ۔“
”ذیشان بھائی !....بات تو سنیں ۔“قابل خان اندر داخل ہوا ۔
”بکواس بند کرو قابل خان !....اور دور ہوجاﺅ میری نظروں سے ،میں تمھارا منحوس چہرہ نہیں دیکھنا چاہتا ۔“پلوشہ کی موت کی جھوٹی خبر اسی نے تو ہم تک پہنچائی تھی ....ہمیں حقیقت سے بے خبر رکھنے والا وہی تو تھا ....
” میری بات تو سن لو ....“ اس نے مجھے منانے کی کوشش کی ۔
”نہیں سننا تمھاری کوئی گھٹیا بات ۔“یہ کہتے ہی میں نے گھٹنوں کے بل پلوشہ کے ساتھ بیٹھتے ہوئے پستول جیب میں ڈالااوراس کے بازوﺅں سے تھام لیا ۔اس کا جسم ہولے ہولے لرز رہا تھا ۔
”میری طرف دیکھو۔“نہ جانے اس وقت میری آواز ،کن کیفیات کا مجموعہ بن گئی تھی ، غصہ ، درد ، پریشانی ،پشیمانی ،اذیت ،حیرانی ....پتا نہیں اور بھی کون کون سے احساس میرے لہجے میں شامل تھے۔
”م....مم....میں آپ کو نہیں جانتی ۔“ کوئل سی آواز میں وہ منمنا کر رہ گئی تھی ۔
”صحیح کہا ۔“میں بھرائی ہوئی آواز میں بولا ۔”اگر جانتی ہوتیں تو یقینا یوں نہ کرتیں ۔“
”مم....میں ........“اس نے کچھ کہنے کی کوشش کی ،میں نے دھاڑتے ہوئے قطع کلامی کرکے کہا ۔
”خاموش،تمھاری بکواس نہیں سننا چاہتا،چلو میرے ساتھ ۔“
وہ جھرجھری لیتے ہوئے کانپی اور اس کے ساتھ ہی اس نے دائیں بائیں پڑی دو بیساکھیاں پکڑلیں ۔میرا دل دھک سے رہ گیا تھا ۔”کیا وہ معذور ہو گئی تھی ؟“یقینا یہی بات تھی ورنہ اسے چھپنے کی ضرورت ہی کیوں پیش آتی ۔
اس سے پہلے کہ وہ بیساکھیوں کے سہارے اٹھنے کی کوشش کرتی ،میں نے دونوں بیساکھیاں اس کے ہاتھ سے چھین کر دور پھینک دیں ۔اگلے ہی لمحے وہ میرے مضبوط بازوﺅں میں تھی ۔وہ پہلے بھی مجھے پھول کی طرح لگا کرتی تھی ،اس وقت تو اس کے جسم پر گوشت کا نام و نشان ہی نہیں تھا ۔نرا ہڈیوں کا ڈھانچہ بنی ہوئی تھی ۔اس کے جسم سے اٹھتی ہوئی ناگوار بو بھی مجھے مشک و عنبر سے زیادہ بھینی بھینی لگ رہی تھی ۔اس کی ہڈیوں کی سختی ریشم و کم خواب سے بھی ملائم محسوس ہو رہی تھی ۔رومانہ جیسی پرکشش لڑکی کی بے تحاشا محبت بھی میرے دل سے اس کی چاہت دور نہیں کر سکی تھی ۔وہ آج بھی پہلے دن کی طرح میرے دل کے سنگھاسن پر براجمان تھی ،بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ پہلے سے کچھ زیادہ ہی محبوب ہو گئی تھی ۔
اسے سینے سے لپٹائے میں نے پنڈال کے عقبی رستے کی طرف قدم بڑھا دیے ۔ قابل خان وہیں کھڑا پشیمان نظروں سے مجھے گھورتا رہا ۔باقی لوگوں کو اس نے آرام سے بیٹھنے کا مشورہ دے دیا تھا ۔ میں پنڈال سے باہر نکلا میرا رخ بیٹھک کی جانب تھا ۔اپنے نحیف بازو میرے گلے میں ڈال کر وہ میرے کندھے پر سر ٹیکے آنسو بہا رہی تھی ۔میں خاموشی سے چلتا رہا ۔
ساﺅنڈ سسٹم پر خوشحال خان کی آواز ابھری وہ لوگوں کو آرام سے بیٹھنے کا مشورہ دے کر محفل جاری رہنے کا پیغام سنا رہا تھا ۔میں بس پلوشہ کے وجود کو محسوس کرتا ہوا بیٹھک کی طرف بڑھتا رہا ۔وہاں بیٹھک میں چند اور مہمانوں کا بھی بسیرا تھا ۔لیکن اندر داخل ہوتے ہی میں نے بیرونی دروازہ کنڈی کر دیا تھا ۔میں نہیں چاہتا تھا کہ کوئی ہماری تنہائی میں مخل ہو۔ ان مہمانوں کو قابل خان اور خوشحال خان خود ہی سنبھال لیتے ۔
کمرے میں داخل ہوتے ہی میں نے بڑے آرام سے پلوشہ کو ایک چارپائی پر لٹایا۔اس کا جسم اب تک ہولے ہولے لرز رہا تھا ۔میری چھاتی اس کے آنسوﺅں سے گیلی ہو گئی تھی ۔جانے وہ خوشی کے آنسو تھے یا اپنے معذوری پر دکھ کے اظہار کے لیے بہائے گئے تھے ۔
اس کے سر کی جانب بیٹھتے ہوئے میں نے اس کا سر اپنے زانو پر منتقل کیا اور صدیوں کی پیاسی نگاہوں کو اس کی دید سے سیراب کرنے لگا ۔اس کی آنکھیں بند تھیں ۔اور وہ بے آواز آنسو بہا رہی تھی ۔
میں نے اسے مخاطب کرنے کی کوشش نہیں تھی ، بس اسے محسوس کرتا رہا ۔میں اس وقت کی کیفیات کو بیان کرنے سے یقینا قاصر ہوں ۔ اس وقت خوش تھا ،اس سے سخت خفا تھا ،پریشان تھا ،اس کی معذوری کو دیکھ کر دکھی تھا یاشاید میرے دماغ میں ان سب سے ہٹ کر کچھ چل رہا تھا ۔
بہت سی دیر گزر گئی پھر اس کی کراہتی ہوئی آواز مجھے کہیں دور سے آتی محسوس ہوئی ۔ ”راجو! مجھے معاف کر دو، میں مجبور تھی ۔“
”کبھی نہیں ،زندگی بھر معاف نہیں کروں گا ۔تم اس قابل ہی نہیں ہو کہ معافی طلب بھی کر سکو۔“پتا نہیں میرے لہجے سے غصہ جھلک رہا تھا یا سخت ناراضی ....
وہ کراہی ۔”راجو ، اب میں آپ کے کسی کام نہیں آسکتی تھی ،نرا بوجھ ہی تو تھی ایسا بوجھ بہت جلد تھکا دیا کرتا ہے ۔“
”بکواس بند کرو ۔میں نے تمھیں جسمانی تسکین کے لیے نہیں اپنا یا تھا۔ نہ شوہر بیوی کا رشتا فقط جسمانی تعلقات تک محدود ہوتا ہے ۔کیا میرے ساتھ حادثہ پیش آجاتا تو میں تمھارے لیے بوجھ کی حیثیت اختیار کر لیتا ۔کیا تمھارا بوجھ قابل خان کو نہ تھکاتا؟....یا وہ مجھ سے زیادہ تمھیں چاہتا ہے ۔اتنا بے گانہ پن ،اتنی بے حسی ....جانتی ہو مجھ پر کیا بیتی ،کس طرح میں اپنی موت کا خواہاں رہا ۔امی جان اور عدیل کی کیا حالت ہے ۔ساری زندگی تم نے ان کا خیال رکھا تو کیا اب وہ بھی تمھارا خیال نہ رکھتے۔چلو میں تو بے حس،بے غیرت اور بے وفا ٹھہرا ۔مجھ پر تمھیں اعتبار نہیں تھا اپنی ماں پربھی اعتبار نہ کیا ۔“
اس مرتبہ کوئی جواب دیے بغیر وہ آنسو بہانے لگی ۔مجھ سے اس کے آنسو برداشت نہ ہوئے اگلے ہی لمحے میں اس کی پلکوں پر جھک گیا تھا ۔
”تم اپنے راجو کے پاس ہو گڑیا ،رونا کس بات کا ....دیکھو اس شب تاریک کی سحر ہو گئی ہے ۔ میں آگیا ہوں نااب تمھیں آنسو بہانے کی ضرورت نہیں ہے ۔پگلی میں ساری زندگی تمھارا خیال رکھ سکتا ہوں،۔تمھارا بوجھ ہے ہی کتنا کہ مجھے اٹھانے میں تکلیف ہو گی ۔پھول کا وزن تونہیں ہوتا ،خوشبو کب کسی پر گراں گزرتی ہے ،موسم بہار سے بھی بھلا آدمی تنگ پڑسکتا ہے ،آنکھیں بھی کبھی سرمے کے بوجھ سے تھکی ہیں ،خوشیوں نے کبھی کسی کی زندگی اجیرن کی ہے ،شب ِوصل کی طوالت بھی کسی کو محسوس ہوسکتی ہے، بتاﺅ میری جان بتاﺅ ۔کیا تمھیں میری محبت میں شبہ تھا یا میرے خلوص میں کوئی کمی نظر آئی تھی ۔“
کوئی جواب دیے بغیر اس نے اپنی بانہیں میرے گلے میں حمائل کیں اور جھجکتے ہوئے اپنے لرزتے لب میری پیشانی پر ٹیک دیے ۔ان لبوں کی حلاوت میری روح تک میں ثرائیت کر گئی تھی ۔کوئی بات کیے بغیر وہ اپنے جذبات کا اظہار کرتی رہی ۔
نہ جانے کس وقت گانے بجانے کی محفل اختتام پذیر ہوئی پھر دروازے پر دستک ہونے لگی اور ہوتی رہی مگر میں وہیں بیٹھا رہا ۔دستک دینے والے تھک کر لوٹ گئے تھے ۔صبح تک اس کا سر اپنے زانو پر رکھ کرمیں بیٹھا رہا اور آذان کی آواز سن کر غسل خانے کی طرف بڑھ گیا ۔نماز کے بعد ایک بار پھر دستک کی آواز سنائی دی میں نے آگے بڑھ کر دروازہ کھولا وہ قابل خان تھا ۔
”قابل خان ،میں تم سے بات نہیں کرنا چاہتا ۔“
دروازے پر کھڑے کھڑے اس نے لجاجت سے کہا ۔”ذیشان بھائی ،میری صرف ایک بات سن لیں ۔“
اسے کوئی جواب دیے بغیر میں خاموشی سے زمین کی طرف دیکھنے لگا ۔میری خاموشی سے شہ پا کر وہ گویا ہوا ۔
”یہ اس کا اپنا فیصلہ تھا ،اس نے مجھ سے قسم لی تھی کہ اگر میں نے اس کے بارے کسی سے بات کی تو وہ مجھے کبھی معاف نہیں کرے گی ۔میں نے اسے اپنی بہن کہا تھا اور چھوٹی بہن کی بات کو میں کیسے رد کرتا۔البتہ آپ تک تو میں نے بات پہنچا دی ہے نا ۔الفاظ میں نہ سہی مگر جو طریقہ بھی اپنایا ہے آپ تک اس کی خبر پہنچ گئی ہے نا ۔اب بھی ناراض ہو گے تو زیادتی کا ارتکاب کرو گے ۔“
”زنانہ کپڑوں کا ایک صاف جوڑا لے آﺅ۔ناشتا ہم تھوڑی دیر بعد کریں گے ۔“اس مرتبہ میں نے نارمل لہجے میں کہا ۔اس کی بات غلط نہیں تھی ۔سارا قصور پلوشہ ہی کا تھا وہ تو بس اس کا ساتھ دینے پر مجبور ہوا تھا ۔
میرا نارمل لہجہ سنتے ہی وہ خوشی سے بولا ۔”شکریہ ذیشان بھائی ۔میں بس ابھی کپڑے لاتا ہوں ۔“ میں اس کے انتظار میں وہیں دروازے پر ٹھہر گیا ۔اس کے گھر کی دیوار بیٹھک سے ملی ہوئی تھی ۔ دو تین منٹ بعد وہ کپڑوں کاایک نیا جوڑا لے کر آگیا ۔اس کے ہاتھ سے کپڑے لے کر میں نے دروازہ کنڈی کیا اور کمرے کی طرف بڑھ گیا ۔
وہ خاموش لیٹی چھت کو گھور رہی تھی ۔میں نے اسے بازﺅں میں بھر کر چارپائی سے اٹھالیا ۔اس نے کوئی سوال نہیں کیا تھا کہ میں اسے کہاں لے جا رہا ہوں ۔ وہ پہلے والی پلوشہ لگ ہی نہیں رہی تھی ۔
غسل خانے میں جاکر میں نے اسے اپنے ہاتھوں سے نہلایا ۔گرم پانی کا ڈرم رکھا ہوا تھا ۔ میں نے صابن کی پوری ٹکیہ ہی اس کے جسم پر رگڑ کر ختم کر دی تھی ۔وہ محجو ب اور شرمائی شرمائی سی خاموشی سے مفعول بنی رہی ۔نہلا کر میں اسے بڑے تولیے میں لپیٹ کر کمرے میں لے آیا نئے کپڑے پہنا کر میں نے اسے دوتین تکیوں سے ٹیک لگا کر بٹھایا اور اس کے بالوں میں خوب تیل چپیڑکر کنگھی کرنے لگا ۔ اس کے چہرے پر مجھے بے پایاں سکون پھیلا نظر آرہا تھا ۔کنگھی کرتے ہوئے میں ہولے ہولے گنگنانے لگا....
لٹ الجھی سلجھا جا رے بالم ،میں نہ لگاﺅں گی ہاتھ رے....
وہ بے ساختہ متبسم ہو کر مجھے دیکھنے لگی ۔
”ہنس کیوں رہی ہو ؟“اس کی ناک کی پھننگ کو میں نے ہولے سے مروڑا ۔
”یہ لٹ تو جلد ہی کٹنے والی ہے ۔“
”تم ہاتھ لگا کر تو دیکھو ....“کنگھی کر کے میں نے کوشش کی کہ اس کے بالوں کا جوڑا باندھ سکوں مگر مجھے طریقہ نہیں آتا تھا ۔وہ کھلکھلا دی تھی ۔اس کی ہنسی دیکھ کر مجھے لگا جیسے ہر جانب بہار نے ڈیرے ڈال لیے ہوں ۔
”اسی لیے تو کہتی ہوں کہ نہ بال ہوں گے اور نہ آپ کو اتنی تگ و دو کرنا پڑے گی ۔“
میں اطمینان سے بولا ۔”تمھاری زلفیں سنوارنے کے لیے کوئی ملازمہ رکھ لوں گا ۔“
”ایک بات مانیں گے ۔“وہ ایک دم سنجیدہ ہو گئی تھی ۔
میں شرارتی لہجے میں بولا ۔”اس قابل تو نہیں ہو کہ تمھاری کوئی بات مانی جائے لیکن سننے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔“
میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے اس نے امید بھرے لہجے میں کہا ۔”آپ دوسری شادی کر لیں ۔“
”ٹھیک ہے ۔“میں نے اطمینان بھرے انداز میں سر ہلادیا تھا ۔
”میں مذاق نہیں کر رہی ۔“
میں نے ایک دم دھماکا کیا ۔”میں نے دوسری شادی کر لی ہے ۔“
”کیا ....“اس کے چہرے پر حیرانی ابھری ۔”کب ،کس سے ؟“
”اسی سے جو تمھیں بالکل بھی اچھی نہیں لگتی تھی ۔“
”اس کے لیے دوبارہ کشمیر کی سرحد عبور کر لی ۔“وہ ایک لمحے میں رومانہ تک پہنچ گئی تھی ۔مجھے اس کے لہجے میں دکھ کی جھلک نظر آئی تھی ۔
”نہیں ۔“میں نے نفی میں سر ہلایا۔”مجھے لگتا ہے مجھے زبردستی ہی وہاں بھیجا گیا اور اس کا میری زندگی میں آنا قدرت نے طے کر دیا تھا ۔“
اس مرتبہ وہ خاموش رہی تھی ۔دو تین لمحے اس کے بولنے کا انتظار کرنے کے بعد میں اپنے آخری مشن کی تفصیلات اس کے سامنے بیان کرنے لگا ۔وہ خاموشی سے سنتی رہی ....آخر میں میں کہہ رہا تھا ۔”پلوشے کیا تمھیں نہیں لگتا کہ مجھے اس تک زبر دستی بھیجاگیا تھا۔تمھاری موت کا ڈراما ،جینیفر کے بار بار شادی کی آفر کرنے پر بھی میرا انکار کر دینا ،یوں انڈیا کی جانب میرا پھسل کر گرنا اور پھر بغیر کسی ارادے کے وہاں پہنچنا ۔اور اب دیکھو جیسے ہی اس سے شادی ہوئی تم بھی مجھے واپس مل گئی ہو ۔کیا یہ تمام باتیں ظاہر نہیں کرتیں کہ اس شادی میں میری مرضی سے زیادہ قدرت کی منشا شامل تھی ۔“
”راجو ،صفائیاں کیوں رہے ہیں میری جان ۔مجھے بالکل بھی برا نہیں لگا ۔“اس نے بے اختیار ہو کر میرا ہاتھ تھام لیا تھا ۔دورازے پر دستک ہوئی اور میں اس کے ہاتھ کو لبوں سے لگا کر دروازے کی طرف بڑھ گیا ۔قابل خان ناشتا لیے کھڑا تھا ۔میں نے ایک طرف ہو کر اسے اندر آنے کا رستا دیا ۔وہ خاموشی سے کمرے کی طرف بڑھ گیا ۔ناشتے کے برتن میز پر رکھ کر اس نے پلوشہ کے سر پر ہاتھ رکھا جو قابل خان کو دیکھتے ہی سر پر دوپٹا ٹھیک کرنے لگ گئی تھی ۔
”میری بہن کتنی پیاری لگ رہی ہے ۔“قابل خان شفقت بھرے لہجے میں بولا تھا ۔
وہ پھیکی مسکراہٹ سے بولی ۔”بھیا آپ نے میری ساتھ گہری چال چلی ہے ۔“
”نہیں کوئی چال بھی نہیں چلی ۔“قابل خان صاف مکر گیا تھا ۔”تم نے خود کہا تھا کہ ذیشان کا ذکر تمھارے سامنے نہ کروں اور نہ تمھارے بارے ذیشان کو کچھ بتاﺅں ۔پوچھ لو کیا اسے تمھارے بارے اطلاع دی ہے ۔“
”مجھ پر بار بار زور کیوں دے رہے تھے کہ ان گلوکاروں کی موجودی میں میں گانا سناﺅں ۔ یہاں تک کہ سکینہ کو بھی آپ نے مجھ پر دھونس جمانے کا کہا ۔“سکینہ قابل خان کی بیٹی کا نام تھا جو قریبا پلوشے کی ہم عمر ہی تھی ۔
قابل خان نے صفائی دیتے ہوئے کہا ۔”وہ تو تمھاری زبان سے یہ گیت سن کر مجھے بہت اچھا لگا تھا ،میں نے کہا دوسرے لوگ بھی سن لیں کہ میری بہن کتنا اچھا گاتی ہے ۔اب مجھے کیا معلوم تھا کہ ذیشان بھائی آپ کی آواز کو پہچان لے گا ۔“
”اچھا مذاق ہے ۔“پلوشہ نے اثبات میں سر ہلایا ۔لیکن اس کی آواز سے خفگی کا اظہار نہیں ہو رہا تھا ۔
”تم پاگل ہو ،یقین کرو اگر میں ایسا نہ کرتا تو شاید تم چند ماہ ہی مزید گزار پاتیں اس کے بعد سچ مچ سپوگمائے کے پہلو میں قبر کھودنا پڑ جاتی ۔“یہ کہتے ہی اس نے ایک بار پھر اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور یہ کہتے ہوئے باہر نکل گیا ۔کہ ....”ذیشان بھائی ،کھانے پینے کی طرف یہ بالکل ہی توجہ نہیں دیتی ہے ۔“
”فکر نہ کرو دوست ۔“اطمینان بھرے انداز میں کہتے ہوئے میں نے برتن اٹھا کر چارپائی پر رکھے اور خود اس کے ساتھ لگ کر بیٹھ گیا ۔وہ خاموشی سے میرے ہاتھ سے ناشتا کرنے لگی ۔
”امی جان کیسی ہیں ؟“وہ ناشتے کے بعد پوچھنے لگی ۔
”بڑے افسوس کی بات کہ اب وہ تمھاری امی نہیں رہیں ۔“
”کک....کیا ہوا؟“میری بات کا اس نے کوئی دوسرا مطلب لیا تھا ۔
میں اطمینان سے بولا ۔”مطلب یہ کہ اب وہ میری امی بن گئی ہیں ۔“
اس نے منھ بنایا ۔”تو ساس ماں کی جگہ ہی ہوتیں ہیں ۔“
”نہیں جی سچ والی امی جان بن گئی ہیں ۔انھوں نے ابوجان سے شادی کر لی ہے ۔“میں نے دھماکا کیا ۔
”م....مگر کیا ایسا ہو سکتا ہے ۔“اس کی حیرانی میں کئی گنا اضافہ ہو گیا تھا ۔
”بالکل ہو سکتا ہے ،مولوی صاحب سے مشورے کے بعد ہی یہ بابرکت کام سر انجام پایا ہے۔“
پلوشہ کے چہرے پر خوشی کے آثار نمودار ہوئے ۔”کتنی بڑی خوش خبری سنائی ہے راجو ۔“
میں نے حماقت کا ارتکاب کرتے ہوئے کہا ۔”اگر تم ہوتیں تو ضرور اس شادی میں رقص کرتیں ہیں نا ....“
اس کے ہونٹوں سے تیز سسکی برآمد ہوئی اور اس نے سر جھکا لیا تھا ۔اس کی آنکھوں سے نکلنے والوں آنسوﺅں نے مجھے بے چین کر دیا تھا ۔میں تڑپ کر آگے بڑھا اگلے ہی لمحے وہ میری آغوش میں تھی۔
”تم بالکل ٹھیک ہوجاﺅ گی ۔بھروسا رکھو میری جان میں تمھارا علاج کراﺅں گا ۔تم ایک بار پھر اپنے پاﺅں پر کھڑے ہو کر ویسی ہی بن جاﺅگی ۔“
”یہ ممکن نہیں ہے راجو ....ڈاکٹروں کی طرف سے صاف جواب سن کر ہی میں نے اتنا بڑا قدم اٹھایا تھا ۔جب ڈاکٹروں نے کہہ دیا کہ اب مجھے ساری زندگی وہیل چیئر یا بیساکھیوں کے سہارے زندگی گزارنا پڑے گی تبھی میں نے قابل بھائی کو کہا تھا کہ میری موت کی خبر آپ تک پہنچا دے ۔“
”پشاور کے ڈاکٹروں کی بات حرف آخر نہیں ہو سکتی چندا ،طب کی دنیا میں آئے روز کئی معجزات رونماہوتے ہیں ۔مجھے اپنے رب پر پورا بھروسا ہے کہ میری گڑیا بالکل ٹھیک ہوجائے گی ۔“ میں اسے آغوش میں بھر کر تسلیاں دیتا رہا ۔پھر اس کا ذہن بٹانے کے لیے میں اس کی کہانی سننے لگا ۔اس نے بھی کم و بیش وہی باتیں بتائیں جو اس سے پہلے مجھے سردار بتا چکا تھا ۔بس اتنا اضافہ کیا کہ جب اسے ہسپتال لے جایا گیا تو ڈاکٹروں نے اس کے باقی زخموں کا تو علاج کر دیا تھا لیکن ریڑھ کی ہڈی پر لگنے والی چوٹ کے بارے وہ تشویش میں مبتلا تھے ۔اور جب تمام ٹیسٹ وغیرہ کر لیے تو انھوں نے صاف جواب دے دیا تھا کہ پلوشہ کا ٹھیک ہونا ممکن نہیں تھا ۔وہ آپریشن کرکے اس کی ٹانگوں میں ہونے والی ہلکی سی حرکت کو بالکل ختم نہیں کرنا چاہتے تھے ۔انھوں نے کہا تھا کہ دوائیوں کے استعمال سے اس کی کمر کی تکلیف آہستہ آہستہ کم ہو جائے گی مگر وہ چل نہیں سکے گی ۔اس کے کمر سے نیچے کا حصہ بے کار ہو گیا تھا ۔ ٹانگوںمیں بس ذرا سا احساس بیدار تھا کہ جس کی وجہ سے وہ بہ مشکل زمین پر ٹانگیں لگا کر دو بیساکھیوں کی مدد سے تھوڑی بہت حرکت کر لیتی تھی۔قابل خان نے اس کی فطرتی ضروریات کی بجاآوری میں مدددینے کے لیے ایک عورت ملازمہ رکھ چھوڑی تھی ۔اس کا ارادہ یہی تھا کہ کبھی میرے سامنے نہیں جائے گی ۔ اور عدیل کے بڑا ہوے کا انتظار کرے گی جونھی وہ کسی قابل ہوا اسے وزیرستان میں بلا کر اسی کے پاس منتقل ہو جائے گی ۔
وہ بہ مشکل اپنی کہانی سنا کر فارغ ہوئی تھی کہ خوشحال خان وہاں پہنچ گیا ۔اس نے بھی قابل خان سے ملتی جلتی بات کر کے معذرت طلب کی تھی ۔
مزید کسی گلے شکوے کے بجائے میں نے اپنا مطمح نظر بیان کیا ۔”اچھا مجھے گھر تک جانے کے لیے کوئی کار وغیرہ کرائے پر مل جائے گی ؟“
خوش حال خان نے اثبات میں سر ہلا تے ہوئے کہا ۔”ٹانک تک قابل خان آپ کو اپنی کار میں چھوڑ آئے گا آگے جانے کے لیے وہاں سے کرایہ کی کار کا بندوبست کرنا پڑے گا کیوں کہ ہماری گاڑیوں کے کاغذات وغیرہ نہیں ہوتے ۔“
”میں ابھی جانا چاہوں گا ۔“مجھ سے مزید انتظار نہیں ہوپارہا تھا ۔
خوش حال خان سر ہلاتے ہوئے باہر نکل گیا ۔تھوڑی دیر بعد ہم قابل خان کی کار میں وانہ کا رخ کر رہے تھے ۔وانہ تک ہمیں شام ہو گئی تھی وہاں سے ٹانک تک پہنچتے ہوئے رات کے بارہ بج چکے تھے ۔میں عقبی نشست پر پلوشہ کا سر اپنی گود میں لیے بیٹھا تھا ۔اسے آرام پہنچانے کی غرض سے اس کی کمر کے نیچے میں نے نرم و ملائم کورین کمبل بچھا دیا تھا ۔
ٹانک سے تلہ گنگ کے لیے میں نے خصوصی کار کرائے پر لی اور قابل خان کو الوداع کہہ کر ہم چل پڑے ۔دوپہر دس بجے کے قریب ہم گھر کے سامنے اتر رہے تھے۔ ڈرائیور کو کرایہ ادا کر کے میں نے کمبل میں لپیٹ کر اس کے ہلکے پھلکے وجود کو اٹھایا اور گھر میں داخل ہو گیا ۔دسمبر کی آمد ہو چکی تھی ابو جان صحن میںچارپائی ڈال کر دھوپ سینک رہے تھے ۔امی جان اور پھوپھو دوسری چارپائی پر بیٹھی تھیں ۔امی جان اب اچھی خاصی پنجابی بول لیتی تھیں ۔روما بغیر چھت کے کھلے باورچی خانے میں گھسی چاے وغیرہ بنا رہی تھی ۔مجھے اندر داخل ہوتا دیکھ کر تمام میری جانب متوجہ ہوگئے تھے ۔ انھوں نے میرے بازوﺅں میں موجود پلوشہ کے وجود کو حیرانی سے دیکھا تھا ۔پلوشہ نے میری چھاتی میں سر چھپایا ہوا تھا ۔
قریب پہنچتے ہی میں نے کہا ۔”امی جان جگہ دیں ۔“پھوپھوجان اور امی جان نے فوراََ ہی چارپائی خالی کر دی تھی ۔
میں نے جھک کر آہستگی سے پلوشہ کو چارپائی پر لٹایا اس کا چہرہ نظر آتے ہی امی جان کے منھ سے زوردار چیخ نکلی ۔
”میری پلوشے ۔“وہ بے ساختہ اس سے لپٹ گئی تھی ۔روما بھی حیران ہو کرباورچی خانے سے نکل آئی تھی ۔وہ جذباتی ملاپ کافی دیر جاری رہا ۔پلوشہ کو دیکھ کر بھی مجھے روما کے چہرے پر پریشانی کے بجائے خوشی ہی نظر آئی تھی ۔بلا شک و شبہ وہ نہایت ہی مخلص لڑکی تھی ۔اسی اثناءمیں عدیل بھی آدھی چھٹی پر گھر پہنچ گیا تھا ۔اپنی باجی کو دیکھ کر وہ خوشی سے باﺅلہ ہوگیا تھا ۔ہمارے گھرانے کو ایک بار پھر بہت بڑی خوشی ملی تھی ۔
ظہر کی آذا ن سن کر ہمیں وقت کا گزرنے احساس ہوا ۔میں اور ابوجان مسجد کی طرف بڑھ گئے۔
٭٭٭
سہ پہر کو صحن میں سایہ اترتے ہی میں نے پلوشہ کو گود میں اٹھایا اور اسی کمرے لے جا کر سلا دیا جو جانے کب سے اپنے مکین کے لیے چشم بہ راہ تھا ۔
سیج کو دیکھ کر وہ ایک بار پھر رونے لگی تھی ۔
”پاگل نہیں بنتے گڑیا ۔“میں نے اسے ہلکے سے ڈانٹا۔
روما نے اس کے ساتھ بیٹھتے ہوئے اس کا ہاتھ تھاما۔اور پر خلوص لہجے میں بولی ۔”میری چھوٹی سی بہن بالکل ٹھیک ہو جائے گی ۔“
رات کو وہ مصر ہوئی کہ میں روما کے ساتھ جا کر سو جاﺅں ۔
میں اطمینان سے بولا ۔”ایک دن تمھارے ساتھ اور ایک دن اس کے ساتھ ۔“
وہ کراہی ۔”میں آپ کے کس کام کی ۔“
”گڑیا ،بکواس کی ضرورت نہیں ہے سمجھیں ۔“اسے ڈانٹ کر میں اس کے ساتھ لیٹ گیا ۔ رات بھر میں اس سے باتیں کرتا رہا تھا ۔صبح سویرے میں یونٹ جانے کے ارادے سے گھر سے نکل آیا تھا۔ سردار اور باقی دوستوں کو مل کر میں نے پلوشہ کی زندگی کی خبر دی تمام حیران رہ گئے تھے ۔تھوڑی دیر ان سے گپ شپ کر کے میں نے پلوشہ کی سک رپورٹ(فوجی کی فیملی وغیرہ کے علاج کے لیے بننے والا سرکاری فارم ) بنوائی اور واپسی کی راہ لی۔
رات کو میں روما کے ساتھ تھا ۔مگر گھنٹا بھر میرے ساتھ گزار کر وہ پلوشہ کے کمرے میں گھس گئی اور بقیہ رات اس کے ساتھ گزاری ۔ایک دن میں وہ پلوشہ کے بہت قریب آگئی تھی ۔پلوشہ ذرا چڑچڑی اور خفا خفا لگتی تھی۔ مگر روما بغیر ناک بھوں چڑھائے زبردستی اس کی خدمت میں لگی رہی ۔اب پلوشہ کو سنبھالنے والے کئی موجود تھے ۔قابل خان اس کے ساتھ جتنا بھی مخلص ہوتا اس کی ایسی خدمت نہیں کروا سکتا تھا ۔اس کی سگی ماں جو اس پر جان چھڑکتی تھی ،پھوپھوجان جسے اس نے پہلے ہی دن سے اپنی ساحرانہ شخصیت کے زیر اثر کر لیا تھا ،مخلص رومانہ جو اس کی زندگی کی خبر پاکر اتنا ہی خوش نظر آرہی تھی جیسے پلوشہ اس کی سگی بہن ہی تو ہو اور پھر میں خودکہ میرے لیے وہ سانس جتنا ہی اہم تھی ۔
اگلے دن میں نے اویس سے اس کی کار مانگی کیوں کہ اب مجھے پلوشہ کے ساتھ بار بارہسپتال جانا پڑتا ۔پلوشہ کے ساتھ امی جان اور پھوپھو بھی چل پڑی تھیں ۔روما نے بھی ساتھ چلنے کی خواہش کی مگر میں نے اسے منع کر دیا کہ گھر میں بھی کسی کی موجودی تو ضروری تھی ۔ایم ایچ راولپنڈی علاج کی جدید سہولیات سے مزین ہسپتال ہے ۔اگلے ایک دو ہفتے پلوشے کے مختلف ٹیسٹ ہوئے ۔مجھے کافی امید تھی لیکن جب ڈاکٹروں نے تمام رپوٹیں دیکھیں تو نفی میں سر ہلا کر ناکامی کا اظہا رکر دیا ۔میرے دل میں جیسے کوئی چیز ٹوٹ گئی تھی ۔کیا اب میں اپنی پلوشے کو کبھی چلتے ہوئے نہ دیکھ پاتا، کیا اب وہ ہمیشہ محتاجی کی زندگی گزارتی رہتی ،کیا چارپائی اس کا نصیب بن گئی تھی ۔
میرے چہرے پر چھائی مایوسی دیکھ کر اس نے سر جھکایا اور اس کی پیاری آنکھوں سے پانی کے قطرے ٹپکنے لگے ۔
میرا دل جیسے غم سے بھر گیا تھا ۔گھر جا کر میں نے اسے کمرے میں لٹایا ،لیکن میرے پاس اسے تسلی دینے کے لیے کوئی لفظ موجود نہیں تھا ۔روما ساتھ بیٹھ کر اس کی دل جوئی میں لگ گئی تھی ۔
میں دل گرفتہ سا گھر سے نکل آیا ۔اویس کے پاس جا کر میں اسے اپنا دکھ سنانے لگا ۔میں اپنی پلوشے کی حالت پر رو رہا تھا ۔باتوں باتوں میں وہ کہنے لگا ۔
”یار، ویسے ضروری تو نہیں کہ پاکستان میں علاج نہ ہو سکے تو باہر کے ڈاکٹر بھی ناکام ہو جائیں ۔“
اس کی بات سن کر ایک دم میرے دماغ میں جینیفر کی صورت ابھری اگلے ہی لمحے میں موبائل فون نکال کر اس کا نمبر ڈائل کر رہا تھا ۔اس وقت سہ پہر کے چار بج رہے تھے گویا امریکہ میں صبح سات بجے کا وقت ہونا تھا ۔
دوسری تیسری گھنٹی پر جینی کی نیند میں ڈوبی ہوئی آواز آئی ۔”ذی ،اتنا سویرے کیوں کال کی۔“
میں نے سب سے پہلے اس کے کانوں میں خوش خبری انڈیلی ۔”جینی ،جانتی ہو پلوشہ زندہ ہے ۔“
”کیا ،کیسے ،سچ ،مبارک ہو ۔“اس کی آواز سے غنودگی غائب ہو گئی تھی ۔
”ہاں جینی ،مگر اس کے ساتھ پیش آنے والے حادثے میں اس کی ریڑھ کی ہڈی میں گہری چوٹ لگی ہے اب وہ بیساکھیوں کے سہارے چلتی ہے ۔یہاں پاکستان میں ڈاکٹروں نے اس کے علاج سے جواب دے دیا ہے ۔“
اس نے مخلصانہ مشورہ دینے میں ایک لمحہ نہیں لگایا تھا ۔”ذی ،اسے امریکہ لے آﺅ ،مجھے امید ہے وہ ٹھیک ہو جائے گی ،بلکہ ایسا کرو تم فوراََ ہی اس کی رپورٹس کی تصاویر بنا کر مجھے” وٹس اپ“ کرو دو میں یہاں ماہرین سے مشورہ کرتی ہوں ۔“
میں بس دس منٹ میں تمام رپورٹوں کی تصاویر بھیج دیتا ہوں ۔“پرجوش انداز میں کہتے ہوئے میں نے رابطہ منقطع کیا اور گھر کی طرف بھاگ پڑا ۔اویس مجھ سے پوچھتا رہ گیا تھا کہ میں نے انگریزی میں کیا” گٹ مٹ“ کی ہے مگر میرے پاس اس کے سوال کا جواب دینے کا وقت نہیں تھا ۔
گھر جاتے ہی میں نے موبائل فون کے کیمرے سے تمام رپورٹس کی تصاویر بنائیں اور جینی کو بھیج دیں ۔اب مجھے اس کے جواب کا انتظار تھا ۔
جاری ہے

No comments: